یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
پاکستان کے الیکشن 2024 اور اس کے نتائج کے حوالے سے مزید جاننے کے لیے آپ بی بی سی کی الیکشن کوریج کا رُخ کر سکتے ہیں۔۔۔۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ لاہور میں اُن کی حکومت سازی کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ ن سمیت کسی سیاسی جماعت سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی ہے۔ ادھر پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیئر رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت قومی اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے عددی اکثریت حاصل کر چکی ہے اور اب پی ٹی آئی وفاق، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں حکومتیں بنائے گی۔
پاکستان کے الیکشن 2024 اور اس کے نتائج کے حوالے سے مزید جاننے کے لیے آپ بی بی سی کی الیکشن کوریج کا رُخ کر سکتے ہیں۔۔۔۔

پاکستان کے عام انتخابات 2024 میں پولنگ ختم ہوئے دو دن گزر چکے ہیں، مگر تاحال قومی اسمبلی کی سات نشستوں پر نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
اب تک کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق:
نوٹ: قومی اسمبلی کے حلقے این اے 168 میں الیکشن کمشن کے فارم 47 کے مطابق پاکستان مُسلم لیگ ن کے ملک محمد اقبال 124529 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں تاہم الیکشن کمشن کی ویب سائٹ پر دیے گئے گراف کے مطابق اس حلقے میں آزاد اُمیدوار کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہCourtesy JI
جماعتِ اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے جماعت کے مرکزی دفتر منصورہ سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر کراچی کو چوتھے نمبر کی پارٹی کے حوالے کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’آپ شہر پر ایک دفعہ پھر قاتلوں کو مسلط کر کے کراچی کے لوگوں اور پورے ملک کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ یہ زیادتی قبول نہیں ہے، دھونس دھاندلی کےاس عمل کو مسترد کرتے ہیں اور ہر قیمت پر اس کا مقابلہ کریں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی سے حکومت سازی کے حوالے سے ابتدائی بات ہوئی ہے اور کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
نجی چینل 'جیو نیوز' سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'زرداری صاحب اور شہباز صاحب کی ملاقات ہوئی ہے اور ابتدائی بات ہی ہوئی۔'
ان کے مطابق 'بات چیت کے مختلف مرحلے ہوں گے، پیپلز پارٹی بھی اپنی جماعت کے اندر مشاورت کرے گی اور ہم بھی کریں گے۔'
پاکستان تحریکِ انصاف سے بات چیت کے حوالے سے کیے گئے سوال پر مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ 'گوہر علی خان سے نہ کوئی رابطہ ہوا ہے اور نہ ایسا کوئی ارادہ ہے۔'
مریم اورنگزیب کہتی ہیں کہ نواز شریف صاحب نے تمام سیاسی جماعتوں کو بات چیت کے لیے مدعو کیا ہے اور حکومت سازی کے لیے دعوت دی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان بھر میں صارفین کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' تک رسائی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
انٹرنیٹ پر بندشوں کی نگرانی کرنے والے ادارے 'نیٹ بلاکس' نے تصدیق کی ہے کہ ملک بھر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو بندش کا سامنا ہے۔
'ایکس' کی بندش کا معاملہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان تحریک انصاف کے سنیئر رہنما بیرسٹر گوہر خان نے اتوار کو انتخابی نتائج نہ دینے والے ریٹرنگ افسران کے دفتروں کے باہر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے دو دن قبل 8 فروری کو پاکستان میں عام انتخابات کے دن ملک بھر میں موبائل فون سروس بند کر دی گئی تھی۔
پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری بیان میں اس بندش کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’اکیسویں صدی میں اس قسم کے بھونڈے فیصلوں سے ملک میں صرف عدم استحکام پیدا ہو گا اور کچھ نہیں۔‘
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی ترجمان سے ہم نے اس بارے میں بات کی ہے تاہم تاحال ان کی جانب سے اس بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ لاہور میں اُن کی حکومت سازی کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ ن سمیت کسی سیاسی جماعت سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی ہے۔
اتوار کو نجی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ 'ابھی تک پاکستان پیپلز پارٹی کی کوئی باضابطہ گفتگو نہ ن لیگ کے ساتھ، نہ پی ٹی آئی کے ساتھ اور نہ کسی اور سیاسی جماعت کے ساتھ ہوئی ہے۔'
بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ 'ہم انتظار کر رہے ہیں کہ پہلے تمام حلقوں کی گنتی پوری ہوجائے اور نتائج سامنے آجائیں۔'
انتخابات سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے بلاول بھٹو زرداری کو وزیراعظم کا امیدوار نامزد کیا تھا۔ اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 'اگر ہمیں یہ فیصلہ تبدیل کرنا ہے تو ہم ایک بار پھر سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کو بُلا کر سب مل کر اتفاق کے ساتھ یہ فیصلہ کریں گے۔'
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ ملک میں 'سیاسی اتفاق' قائم کرنے کی کوشش کی جائے کیونکہ ان کے نزدیک بغیر اتفاق قائم کیے کوئی بھی حکومت ڈلیور نہیں کرپائے گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ 'کچھ آزاد ہمارے رابطے میں ضرور ہیں لیکن پی ٹی آئی کے بلاک کے ساتھ ہمارا اب تک کوئی رابطہ نہیں ہوا۔'
’حق دو تحریک‘ کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان گوادر سے بلوچستان اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہوئے۔ حق دو تحریک کے اُمیدوار نے 2002 سے اس نشست پر مسلسل کامیابی حاصل کرنے والے بی این پی کے اُمیدوار حمل کلمتی کو شکست دی ہے۔
حق دو تحریک 2021 میں ساحلی ضلع گوادر میں عوام بالخصوص ماہی گیروں کو درپیش مسائل پر سخت موقف کے ساتھ معرض وجود میں آئی۔
ساحلی ضلع گوادر میں لوگوں کے حقوق کے لیےموثر جدوجہد کرنے پر حق دو تحریک کو مقبولیت حاصل ہوئی جس کے نتیجے میں نہ صرف حق دو تحریک کو گزشتہ سال ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں گوادر شہر سے زیادہ نشستیں ملیں بلکہ عام انتخابات میں گوادر سے حق دو تحریک امیدواروں مولانا ہدایت الرحمان اور واجہ حسین واڈیلہ کو زیادہ ووٹ ملے۔
حق دو تحریک کا کہنا ہے کہ گوادر اور کیچ سے بلوچستان اسمبلی کی نشست این اے 259 سے ان کے اُمیدوار حسین کے نتیجے کو مبینہ طور پر تبدیل کیا گیا جس کے خلاف گوادر شہر میں خواتین نے ایک بڑی احتجاجی ریلی بھی نکالی۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیئر رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت قومی اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے عددی اکثریت حاصل کر چکی ہے۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت کے حمایت یافتہ امیدوار قومی اسمبلی کی 170 نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں۔
خیال رہے پاکستان کے الیکشن کمیشن کی جانب سے اب تک قومی اسمبلی کی 250 نشستوں کے حتمی اور غیرسرکاری نتائج جاری کیے گئے ہیں۔
ان نتائج کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار قومی اسمبلی کی 94 نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں۔
بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت وفاق، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں حکومتیں بنائے گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ 'پاکستان تحریک انصاف کو حکومت بنانے دیں۔'
'ہمارے راستے میں کوئی رُکاوٹ نہ حائل کی جائے اور باقی نشستوں کے نتائج کا جلد از جلد اعلان کیا جائے۔'
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ ان کے حامی اور کارکنان اتوار کو ان ریڑنگ افسران کے دفاتر کے باہر پُرامن احتجاج کریں گے جنھوں نے انتخابات کے نتائج اب تک جاری نہیں کیے ہیں۔
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مبینہ طور پر انتخابی نتائج کو تبدیل کرنے کے خلاف احتجاج کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری ہے۔
کوئٹہ شہر کے ڈپٹی کمشنر، جو کہ ضلع کوئٹہ سے قومی اسمبلی کی تین اور بلوچستان اسمبلی کی 9 نشستوں کے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر ہیں، کے دفتر کے باہر دوسرے روز بھی سیاسی جماعتوں کے کارکنان احتجاج کے لیے جمع ہیں ۔
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرے میں جمعیت علما اسلام، نیشنل پارٹی، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے امیدوار اور کارکنان شریک ہیں۔
بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں 'حق دو تحریک' کے زیر اہتمام خواتین نے ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی جس کے شرکاء مختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوئے میرین ڈرائیو پر جمع ہوئے۔
حق دو تحریک کا الزام ہے کہ گوادر اور کیچ پر مشتمل قومی اسمبلی کی نشست این اے 259 سے نتائج کو تبدیل کرکے 'حق دو تحریک' کے امیدوار حسین واڈیلہ کی جگہ ان کے مخالف امیدوار کو جتوایا گیا ہے۔
نیشنل پارٹی کی جانب سے ضلع کیچ اور گوادر میں ڈسٹرکٹ ریٹرنگ آفیسرز کے دفاتر کے سامنے مظاہرہ کیا جارہا ہے جبکہ بلوچستان کی مختلف اہم شاہراہیں احتجاج کی وجہ سے بند ہیں۔
پاکستان کے صوبے بلوچستان میں صوبائی اسمبلی کی 51 میں سے 48 عام نشستوں کے حتمی غیر سرکاری انتخابی نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
انتخابی نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی 11 صوبائی نشستوں کے ساتھ صوبے میں سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر اُبھری ہے۔
بلوچستان میں پاکستان مسلم لیگ ن اور جمعیت علما اسلام بھی صوبائی اسمبلی کی نو، نو نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔
صوبے میں جیتنے والے آزاد امیدواروں کی تعداد چھ ہے جبکہ بلوچستان عوام پارٹی کو صوبائی اسمبلی کی چار نشستوں پر کامیابی ملی ہے۔
حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان میں صوبائی اسمبلی کی دو نشستیں جیت چکی ہے جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی ، جماعت اسلامی اور حق دو تحریک کو ایک، ایک نشست پر کامیابی ملی ہے۔
شمالی وزیرستان کے علاقے میرانشاہ میں فائرنگ سے نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ اورقومی اسمبلی کے حلقہ این اے 40 کے امیدوار محسن داوڑ زخمی ہو گئے ہیں۔
محسن داوڑ اور ان کے ساتھی شمالی وزیرستان میں انتخابی نتائج میں تاخیر کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔
مظاہرین پر فائرنگ سے محسن داوڑ سمیت سات افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کی رہنما بشریٰ گوہر نے بھی محسن داوڑ پر حملے کی مذمت کی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
الیکشن کمیشن پاکستان میں اب تک پندرہ نشستوں کے نتائج نہیں آ سکے۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ نشستیں بلوچستان کی ہیں جن کے نتائج اب تک سامنے نہیں آسکے ہیں۔
دیکھیے الیکشن کمیشن کے باہر سے ہماری نامہ نگار سحر بلوچ کی رپورٹ۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نو مئی کے واقعات سے متعلق راولپنڈی کے مختلفتھانوں میں درج ہونے والے 12 مقدمات میں سابق وزیر اعظم عمران خان، سابق وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے انھیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
ان مقدمات میں جی ایچ کیو حملہ کیس بھی شامل ہے۔
عدالت نے ملزمان کے وکلا کو ایک ایک لاکھ اور پانچ پانچ لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے یہ حکم ان مقدمات میں رہائی پانے والے ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پر ملنے والی ضمانتوں کو سامنے رکھتے ہوئے دیا ہے۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت سے ضمانتیں ملنے کے باوجود عمران خان اور شاہ محمود قریشی جیل سے باہر نہیں آ سکیں گے کیونکہ ان دونوں کو سائفر کے مقدمے میں دس دس سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کی بھیایک مقدمے میں ضمانت کی درخواست بھی منظور کرلی
ان مقدمات کی سماعت کے دوران عدالت نے جب پراسیکوٹر سے استفسار کیا کہ ان کے پاس ملزمان کے ان مقدمات میں ملوث ہونے کے کیا ثبوت ہیں تو پراسیکوٹر نے یہ کہہ کر عدالت سے اس مقدمے کی سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی کہ آئیندہ سماعت پر ثبوت پیش کر دیے جائیں گے۔
تاہم عمران خان کے وکیل وحید انجم نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ان مقدمات میں عمران خان کو اعانت مجرمانہ میں گرفتار کیا گیا لیکن جب نومئی کے واقعات ہوئے اس وقت تو انکے عمران پولیس کسٹڈی میں تھے جبکہ شاہ محمود قریشی تو اس وقت راولپنڈی میں موجود ہی نہیں تھے۔
انھوں نے کہا کہ استغاثہ کے پاس تو ایسا کوئی ثبوت بھی نہیں ہے جس میں وہ اپنے کارکنوں سے کہہ رہے ہوں کہ جاؤ جاکر فوجی تنصیبات پر حملے کرو۔عدالت نے ملزمان کےوکیل کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواستیں منظور کر لیں۔
عدالت نے شیخ رشید کی بھی ایک مقدمے میں ضمانت کی درخواست منظور کر لی۔
دوسری جانب عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی پر ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کے مقدمے میں فرد جرم عائد ہونا تھی لیکن احتساب عدالت کے جج محمد بشیر طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے چھٹی پر ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں انتخابی عمل کی نگرانی کرنے والی غیر سرکاری تنظیم فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے کہا ہے کہ عام انتخابات کے ابتدائی نتائج کی تیاری اور اعلان میں تاخیر سے انتخابات کے منظم انعقاد اور نتائج کی ساکھ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
سنیچر کے روز الیکشن 2024 سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن سے پہلے کچھ سیاسی جماعتوں کی جانب سے لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے کی شکایات اور شدت پسند تنظیموں کے حملوں کے باوجود کوئی بھی سیاسی جماعت انتخابی دوڑ سے پیچھے نہیں ہٹی۔
فافین نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ملک کی تاریخ کے سب سے بڑی انتخابی مشق کو معقول طریقے سے منظم کرنے کے لیے سراہا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ کمیشن کی جانب سے ابتدائی انتخابی نتائج کی تیاری اور اعلان میں تاخیر نے نتائج کی ساکھ پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
فافین کا کہنا ہے کہ سیکورٹی وجوہات سے قطع نظر نگراں حکومت کی جانب سے الیکشن کے دن موبائل سروسز کو معطل کرنے کی وجہ سے انتخابی نتائج کے انتظام کے عمل میں اصلاحات کے لیے کی جانے والی پارلیمانی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔

،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر کا عام انتخابات 2024 کے کامیاب انعقاد پر عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہنا ہے کہ قوم کو انتشار اور تقسیم کی سیاست سے آگے بڑھنے کے لیے مستحکم ہاتھوں اور ایک شفا بخش رابطے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف کا کہنا ہے کہ تمام جمہوری قوتوں کی نمائندہ متحد حکومت، پاکستان کی متنوع سیاست اور تکثیریت کو بہتر طریقے سے پیش کرے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ تقسیم اور انتشار 25 کروڑ آبادی والے ترقی پسند ملک کے لیے موزوں نہیں۔ آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ انتخابات جیت اور ہار کا مقابلہ نہیں بلکہ عوام کے مینڈیٹ کا تعین کرنے کی مشق ہے۔
انھوں نے کہا کہ سیاسی قیادت اور ان کے کارکنان کو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر حکومت اور عوام کی خدمت کرنے کی کوششیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ ہی جمہوریت کو فعال اور بامقصد بنانے کا واحد راستہ ہے۔
جنرل عاصم منیر کا کہنا ہے کہ پاکستان کے عوام نے آئین پاکستان پر اپنا مشترکہ اعتماد ظاہر کیا ہے، اب تمام سیاسی جماعتوں پر فرض ہے کہ وہ سیاسی پختگی اور اتحاد کے ساتھ اس کا جواب دیں۔
آرمی چیف نے امید ظاہر کی ہے کہ حالیہ انتخابات سیاسی اور معاشی استحکام لائیں گے اور پاکستان کے لیے امن اور خوشحالی کا مرکز ثابت ہوں گے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی کی جانب سے سوشل میڈیا پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے ان کی آواز میں ایک پیغام جاری کیا گیا ہے۔
اس پیغام میں اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کو یہ کہتے سنا جاسکتا ہے کہ ’آپ نے ووٹ دے کر حقیقی آزادی کی بنیاد رکھ دی ہے، میں آپ کو الیکشن 2024 جیتنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’لندن پلان آپ کے ووٹ کی وجہ سے فیل ہو گیا۔‘
عمران خان کے پیغام میں سابق وزیراعظم نواز شریف پر تنقید کی گئی اور کہا گیا کہ ان کی جانب سے ’تیس سیٹیں پیچھے ہوتے ہوئے بھی وکٹری سپیچ کی گئی۔‘
عمران خان نے دعویٰ کیا کہ ’دھاندلی شروع ہونے سے پہلے ہم نیشنل اسمبلی کی 150 سیٹوں پر جیت رہے تھے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس وقت ہم فارم 45 کے ڈیٹا کے مطابق قومی اسمبلی کی 170 سیٹوں پر جیت رہے ہیں۔‘
خیال رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ابھی تک حتمی نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا۔ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو برتری حاصل ہے۔
تحریک انصاف کی جانب سے دھاندلی کے ان الزامات کے تاحال باقاعدہ کوئی شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔
عمران خان نے اپنی پارٹی اور کارکنان کو ووٹ کی حفاظت کرنے کی ہدایت بھی ہے۔
ماضی میں تحریک انصاف کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ اے آئی کی مدد سے تیار کردہ عمران خان کے پیغام میں انھی کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔

پاکستان کے عام انتخابات 2024 میں پولنگ ختم ہونے کے 30 سے زیادہ گھنٹے گزرنے کے بعد بھی نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔
اب تک کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق:
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ کسی سیاسی جماعت سے قطع نظر پاکستان میں آئندہ بننے والی حکومت کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے اپنے بیان میں پاکستان میں انتخابات کا عمل مکمل ہونے کے بعد اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان میں بروقت انتخابی نتائج کو مکمل کیا جائے گا جو کہ پاکستانی عوام کی امنگوں کا عکاس ہو گا۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ مقامی اور بین الاقوامی مبصرین کی رائے تسلیم کرتے ہیں کہ حالیہ انتخابات میں اظہارے رائے اور لوگوں کے پُرامن اجتماع پر پابندیاں لگیں۔
انھوں نے انتخابات کے دوران پُرتشدد واقعات، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، صحافیوں پر حملوں، انٹرنیٹ و موبائل سروسز پر پابندیوں کی مذمت کی۔
امریکی محکمہ خارجہ نے انتخابی عمل کے دوران ریاستی مداخلت اور مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔