انتخابات میں شکست: امیر جماعت اسلامی سراج الحق عہدے سے مستعفی، جہانگیر ترین کا سیاست چھوڑنے کا اعلان
سراج الحق نے جماعت اسلامی کے امیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انھوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’محنت اور کوشش کے باوجود کامیابی نہین دلا سکا، الیکشن میں شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے جماعت اسلامی کی امارت سے استعفی دے دیا ہے۔‘ دوسری جانب استحکام پاکستان پارٹی کے چیئرمین جہانگیر ترین نے بھی عام انتخابات 2024 میں شکست کے بعد پارٹی اور سیاست چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔
لائیو کوریج
اس صفحے کو مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
جنرل باجوہ کے کہنے پر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی: مولانا فضل الرحمان
الیکشن کے بعد حکومت سازی: پیپلز پارٹی کا سیاسی جماعتوں سے بات چیت کے لیے کمیٹیاں بنانے کا فیصلہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس آج منگل کو بھی جاری رہے گا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ پیر کو پاکستان پیپلز پارٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ حکومت سازی کے حوالے سے دیگر سیاسی جماعتوں سے بات چیت کے لیے کمیٹیاں بنائی جائیں گی۔
پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں اراکین نے ملک کی سیاسی اور معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور عام انتخابات کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔
خیال رہے پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں شریف نے 9 فروری کو اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کو حکومت سازی کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان، جمعیت علما اسلام اور دیگر سیاسی جماعتوں سے بات چیت کرنے کا ٹاسک سونپا تھا۔
پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے درمیان پہلی باضابطہ ملاقات اسلام آباد میں ہو چکی ہے۔ دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کے مرکزی رہنما بھی پاکستان مسلم لیگ ن کے قائدین سے ملاقات کر چکے ہیں۔
بریکنگ, الیکشن کمیشن نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کو مسترد کر دیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
الیکشن کمیشن نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ کمیشن اکا دکا واقعات سے انکار نہیں کرتا لیکن تدارک کے لیے متعلقہ فورمز موجود ہیں، الیکشن کمیشن کی جانب سے شکایات پر فوری فیصلے کیے جارہے ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مشکلات اور مسائل کے باوجود آٹھ فروری کو انتخابی عمل پر امن اور منظم رکھنے میں کامیاب رہے، انتخابات ایک بہت بڑا آپریشن تھا جسے کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا، الیکشن منیجمنٹ سسٹم (ای ایم ایس) نے ریٹرننگ افسران (آر اوز) کے دفاتر میں تسلی بخش کام کیا۔
اعلامیے کے مطابق موبائل سروس کی بندش سے پریزائیڈنگ افسران الیکٹرانک ڈیٹا بھیجنے سے قاصر رہے، معمول کی کوارڈینیشن اور نقل و حمل کو موبائل سروسز کی بندش نے بری طرح متاثر کیا۔
اس میں مزید بتایا گیا کہ 2018 میں انتخابات کا پہلا نتیجہ اگلے روز صبح چار بجے موصول ہوا تھا، اس مرتبہ پہلا نتیجہ رات دو بجے موصول ہوا، کچھ حلقوں کے علاوہ انتخابات کے نتائج ڈیڑھ دن میں مکمل کیے گئے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ 2018 کے انتخابات میں نتائج کی تکمیل میں تین روز لگے تھے، کچھ حلقوں میں نتائج کی تاخیر سے کسی مخصوص سیاسی جماعت کو فائدہ یا نقصان نہیں پہنچا ہے۔
جی ڈی اے کا 16 فروری کو حیدرآباد بائی پاس پر دھرنے کا اعلان
گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) نے انتخابی نتائج کے خلاف 16 فروری کو حیدرآباد بائی پاس پر دھرنے کا اعلان کردیا ہے۔
کراچی میں جی ڈی اے اجلاس کے بعد پیر پگارا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عزت اور انصاف نہ ملا تو ہم پر امن احتجاج کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ایسے الیکشن مسترد کرتے ہیں، یہ ریاست مخالف انتخابات تھے۔
انھوں نے کہا کہ ’مجھے کہا گیا کہ زرداری کے ساتھ الائنس کر لو، سیٹیں مل جائیں گے مگر میں نے کہا کہ جی ڈی اے ختم نہیں کر سکتا۔‘
پیر پگارا نے الزام لگایا کہ پورا سندھ زرداری کو دینا تھا، ہم اینٹی سٹیٹ لوگ نہیں ہیں، یہ ریٹرننگ افسران کا کام نہیں ہے بلکہ کسی اور کا کام ہے۔
عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی پر بلوچستان میں چار جماعتی اتحاد کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف نہ صرف بلوچستان کے مختلف علاقوں میں احتجاج کا سلسلہ چوتھے روز بھی جاری رہا بلکہ چار جماعتی اتحاد کی جانب سے کوئٹہ میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے باہر مستقل احتجاجی کیمپ بھی قائم کیا گیا۔
نیشنل پارٹی ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ، بلوچستان نیشنل پارٹی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی پر مشتمل چار جماعتی اتحاد کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ جو کہ ضلع کوئٹہ سے قومی اسمبلی کی تین اور بلوچستان اسمبلی کی نو نشستوں کے ڈی آر او بھی ہیں کے دفتر کے مین گیٹ کے سامنے احتجاجی کیمپ قائم کیا گیا ہے۔
اس کیمپ کی وجہ سے ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں لوگوں کی آمدورفت بھی معطل ہو گئی ہے۔
اس احتجاجی کیمپ میں خواتین کے لیے الگ جگہ بنایا گیا ہے جس میں خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد شریک ہے ۔
نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات اسلم بلوچ نے بتایا کہ جن نشستوں پر مبینہ دھاندلی ہوئی ہے ان پر حقیقی معنوں میں جیتنے والے امیدواروں کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن جب تک جاری نہیں کیا جاتا ہے اس وقت تک ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے دفتر کے باہر یہ احتجاج جاری رہے گا۔
چار جماعتی اتحاد کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی کے خلاف منگل کو بلوچستان بھر میں شٹرڈاؤن کال کی ہڑتال کی کال دے دی گئی ہے ۔
اسلم بلوچ نے بتایا کہ شٹرڈاؤن ہڑتال کی کال کے بعد احتجاج کے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ دوسری جانب بلوچستان کے دیگر علاقوں میں احتجاجی کیمپوں کے علاوہ مختلف مقامات پر ہائی ویز بھی بند رہیں۔
ہائی ویز کی بندش کی وجہ سے لوگوں کو شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
تحریک انصاف کے کارکنوں نے بھی منگل کے روز کوئٹہ کے نواحی علاقے بلیلی میں مبینہ دھاندلی کے خلاف کوئٹہ کو شمالی علاقوں سے جوڑنے والی شاہراہ پر دھرنا دیا۔
عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی غیر جمہوری اور غیر اخلاقی کوششوں کی بھرپور مزاحمت کریں گے، پی ٹی آئی کور کمیٹی کا اعلامیہ
پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے کہا ہے کہ عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر پاکستان کو مجرموں کے حوالے کرنے کی غیر جمہوری، غیر قانونی، غیر سیاسی اور غیر اخلاقی کوششوں کی ہر سطح پر بھرپور مزاحمت کریں گے۔
پیر کی شب پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ آٹھ فروری کو اپنے ووٹ کے ذریعے پاکستان کے عوام نے اپنی سیاسی و جمہوری پختگی کا سکّہ منوایا ہے اور بانی عمران خان کو حب الوطنی کا بےمثال سرٹیفکیٹ دیتے ہوئے ان کی جماعت کو واضح اکثریت سے نوازا ہے۔
پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ عوام کے مینڈیٹ کی کھلی توہین کرتے ہوئے مسترد شدہ گروہوں کے مابین اقتدار کی شرمناک بندر بانٹ عوام کی رائے اور فیصلے کو جوتے کی نوک پر رکھنے کے مترادف ہے۔ جمہوریت کے بہیمانہ قتل اور عوام کے ووٹ کی حرمت پامال کرنے والوں کا پارلیمان کے اندر اور باہر ہر جگہ پر تعاقب کریں گے۔
پی ٹی آئی کی کور کمیٹی میں مرکز، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں حکومت سازی کی حکمتِ عملی کے لیے خصوصی کمیٹیاں بھی قائم کی گئی ہیں۔ کمیٹیوں کی سفارشات اور حکمتِ عملی کی روشنی میں اہم حکومتی و پارلیمانی عہدوں کیلئے نامزدگیوں کا عمل جلد مکمل کرنے پر اتفاق بھی کیا گیا ہے۔
’یہ الیکشن پاکستان کرکٹ کے میچز جیسا ہے، آپ کو معلوم نہیں، اس سے کیا توقع کریں‘
جہانگیر ترین کے فیصلے سے دلی دکھ ہوا، وہ ہمیشہ ہم سب کے سرپرست اعلیٰ رہیں گے: علیم خان
استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما علیم خان نے کہا ہے کہ جہانگیر خان ترین صاحب کے فیصلے سے دلی دُکھ ہوا۔ وہ ہمیشہ آئی پی پی اور ہم سب کے سرپرست اعلیٰ رہیں گے۔
اُن کا کسی بھی حکومت میں ہونا اُس حکومت کے لیے اعزاز کی بات ہے۔
علیم خان کے مطابق سیاست سے ہٹ کر وہ انسانیت کا درد رکھنے والی شخصیت ہیں۔ بطورچھوٹا بھائی اور آئی پی پی صدر کی حیثیت سے انھیں اور اُن کی فلاحی سرگرمیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, انتخابات میں شکست: امیر جماعت اسلامی سراج الحق اپنے عہدے سے مستعفی
سراج الحق نے جماعت اسلامی کے امیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ترجمان جماعت اسلامی قیصر شریف نے ان کے استعفے کی تصدیق کرتے ہوئے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کو بتایا کہ سراج الحق نے عام انتخـابات میں شکست کی بھی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تاہم قیصر شریف کے مطابق 17 فروری کو جماعت اسلامی کی مرکزی شوریٰ کا اجلاس ہو گا جس میں یہ فیصلہ کیا جائے کہ سراج الحق کا استعفیٰ قبول کیا جائے یا نہیں۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
جہانگیر ترین کا ایک ہی پیغام، محنت کر حسد نہ کر
استحکام پاکستان پارٹی کے چیئرمین جہانگیر ترین نے عام انتخابات 2024 میں شکست کے بعد پارٹی اور سیاست چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔
اس سے قبل وہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ وابستہ رہے اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے قریبی ساتھیوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔
بی بی سی نے دسمبر 2017 میں جہانگیر ترین سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی تھی۔ جہانگیر ترین کے سیاسی سفر سے متعلق پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔
بریکنگ, انتخابات میں شکست کے بعد جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی، سیاست چھوڑنے کا اعلان
عام انتخابات 2024 میں شکست کے بعد استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ جہانگیر ترین نے اپنے عہدے اور سیاست سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اپنے ایک ٹویٹ میں جہانگیر ترین نے اپنے مخالف امیدوارن کو کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ بحیثیت عام شہری ملک کی خدمت جاری رکھیں گے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
36 گھنٹوں میں انتخابات کے نتائج مرتب ہوئے: نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ

،تصویر کا ذریعہScreengrab
نگراں وزیراعظم انوارالحق نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنہ 2024 کے عام انتخابات کا اعلان 36 گھنٹوں میں کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق سنہ 2018 کے عام انتخابات کے نتائج مرتب ہونے میں 66 گھنٹے کا وقت لگا تھا۔
ان کے مطابق چیلنجز کے باوجود پرامن انتخابات کا انعقاد ہوا۔
نگراں وزیراعظم نے کہا کہ ’پہلے دو ڈھائی گھنٹوں میں یہ تاثر بنایا گیا میڈیا کے ذریعے کہ دھاندلی ہو گئی ہے، نتائج تبدیل ہو گئے ہیں اور انقلاب کا رستہ روک دیا گیا ہے۔‘
ان کے مطابق ’ہو سکتا ہے کہ خلاف ورزیاں ہوئی ہوں گی مگر اس کے لیے فورم موجود ہیں، قومی اسمبلی نے یہ پروسیجر طے کیے تھے۔ کیا یہ کور کمانڈر کانفرنس میں یہ پروسیجر بنائے گئے تھے؟‘
موبائل نیٹ بند کرنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں نگراں وزیراعظم نے کہا کہ انتخابات کے نتائج مرتب کے عمل میں تاخیر کو برداشت کیا جا سکتا ہے مگر دہشتگردی کی کارروائیوں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کی سہولت میسر رہی ہے۔
نگراں وزیراعظم نے کہا کہ فری اینڈ فیئر انتخابات ایک ’سبجیکٹو‘ اصطلاح ہے۔
شہباز شریف کو وزیراعظم بنانے کا بیان خواجہ آصف کی ذاتی رائے ہے: مریم اورنگزیب
پاکستان مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ’شہباز شریف کو وزیراعظم بنانے کا بیان خواجہ آصف کی ذاتی رائے ہے۔‘
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ پاور شیئرنگ سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔
اپنے ایک ٹویٹ میں بھی انھوں نے کہا کہ حکومت سازی سے متعلق مشاورت چل رہی ہے مگر دو یا تین سال کی پاور شیئرنگ سرے سے ایجنڈے کا حصہ ہی نہیں ہے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, پنجاب میں سادہ اکثریت حاصل ہو گئی ہے، وزیراعظم کے لیے متفقہ امیدوار کا اعلان اتحادیوں کی مشاورت سے کیا جائے گا: لیگی رہنما عطا تارڑ
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں ہماری تعداد مکمل ہو گئی ہے اور ہم نے سادہ اکثریت حاصل کر لی ہے۔
عطا تارڑ کے مطابق ’چھ مزید نو منتخب ارکان اسمبلی نے ہماری جماعت میں شمولیت اختیار کر لی ہے اور چار مزید بھی شمولیت اختیار کرنے جا رہے ہیں۔‘
عطا تارڑ نے کہا کہ ’وفاق میں پی پی پی اور ایم کیو ایم سے بات چیت جاری ہے۔ متفقہ امیدوار کا اعلان اتحادیوں کی مشاورت سے کیا جائے گا۔‘
غیر جانبدار اور شفاف انتخابات ہوئے ہیں۔ انھوں نے تحریک انصاف سے کہا کہ ’آپ خیبر پختونخوا میں جشن منائیں اور ہمیں پنجاب میں جشن منانے دیں۔ ورنہ یہ ملک آگے نہیں چلے سکے گا۔‘
تحریک انصاف کا حافظ نعیم الرحمان کی صوبائی نشست چھوڑنے کے فیصلے کا خیر مقدم

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے جماعتِ اسلامی کے کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کی پریس کانفرنس کا خیر مقدم کیا ہے، جس میں انھوں نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ تحریک انصاف کے امیدوار سے ہار گئے ہیں مگر انھیں الیکشن کمیشن نے کامیاب امیدوار قرار دیا ہے۔
تحریک انصاف نے کہا ہے کہ انتخابی نتائج میں ’مجرمانہ ردوبدل اور الیکشن کمیشن کے مکروہ کردار کا پردہ چاک‘ کرنے پر حافظ نعیم الرحمان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
تحریک انصاف نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور کمیشن اراکین سے فوراً مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
عدالتِ عظمیٰ مداخلت کرے اور عوامی مینڈیٹ کو بلڈوز کرنے والوں کو حکومت میں آنے سے روکے: ترجمان تحریک انصاف
پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ مداخلت کرتے ہوئے عوامی مینڈیٹ کو بلڈوز کرنے والوں کو ملک پر مسلط ہونے سے روکے۔
ترجمان کے مطابق انتخابی عمل مکمل ہونے کے چار روز بعد بھی نتائج میں غیرقانونی ردوبدل کی مکروہ کوششیں پاکستان کو عدم استحکام کی دلدل میں دھکیلنے اور معیشت کو موت کے گھاٹ اتارنے کا منصوبہ ہے۔
ترجمان تحریک انصاف کے مطابق آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا ناگزیر جمہوری اور دستوری رستہ تھا، جسے الیکشن کمیشن اپنی مجرمانہ نااہلی اور مکروہ ایجنڈے کی بھینٹ چڑھا رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق عوام کی جانب سے واضح فیصلے کے بعد نہایت ’کمپرومائزڈ‘ ریٹرننگ افسران کے ذریعے اکثریت کو زبردستی اقلیّت میں بدل کر جمہوریت کا قتل کیا جارہا ہے اور پورے انتخابی عمل کی ساکھ اور حیثیت خاک میں ملائی جا رہی ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانبداریت اور انتخابی عمل میں اس کی مجرمانہ مداخلت کے باعث پوری دنیا انتخابات کو سنگین شکوک و شبہات کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔
تحریک انصاف کے مطابق سپریم کورٹ انتظامی افسران کی بطور ریٹرننگ افسران تعیناتی سمیت الیکشن کمیشن کے حقیقی عزائم کے حوالے سے تحریک انصاف کے خدشات اور تحفظات کو سنجیدگی سے لیتی تو کمیشن کو عوامی مینڈیٹ کے کھلواڑ کی جرات نہ ہوتی۔
آزاد امیدواروں کی ’سرپرائز انٹری‘ اور جوڑ توڑ: ن لیگ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے پاس کیا آپشنز موجود ہیں؟
8 فروری رات دس بجے کے بعد بہت کچھ بدلا گیا ہے: سلمان اکرم راجا
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور لاہور سے قومی اسمبلی کی نشست این اے 128 سے انتخابات میں حصہ لینے والے سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ 8 فروری کی رات دس بجے کے بعد بہت کچھ بدل گیا ہے۔
الیکشن کمیشن میں مبینہ دھاندلی کے خلاف درخواست دینے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جو چیز واضح ہے وہ یہ ہے کہ ’آر او صاحبان کے دفاتر میں دھاندلی ہوئی اور کروانے والے پولیس والے تھے۔‘
ایک سوال کے جواب میں ان کہنا تھا کہ باقی دھاندلی میں کون کون ملوث ہے اس بات کے ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہیں۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ یہ بات بہت واضح ہے کہ ’انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے، یہ بھی پتا ہے کیسے ہوئی ہے۔‘
ان کے مطابق ’پولیس والوں نے امیدواروں کو باہر نکال کر دستاویزات بنائیں۔‘
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن میں اپنی استدعا لے کر آئے ہیں۔ ہر قانونی راستے کو اپنائیں گے۔‘
ان کے مطابق انتخابات والے دن انٹرنیٹ اور فون سروسز کو بند کر کے اس جھگڑے کو پیدا کیا گیا ہے۔ سلمان اکرم راجا نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’دھاندلی کو صرف ریاست ختم کرا سکتی ہے۔‘
