سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کا سیاست اور پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان

سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے سینیٹ کی نشست چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے ’خراب صحت کے باعث‘ سیاست اور پاکستان تحریک انصاف سے کنارہ کشی اختیار کرنے کی تصدیق کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ پاکستان کی سیاسی، معاشی ، سماجی خبروں کی تازہ ترین صورتحال جاننے کے لیے آپ اس لنک پر کلک کریں ۔

  2. ’یہ نہیں ہوسکتا کہ میڈیا کے ادارے مرضی سے لوگوں کو نوکریوں سے نکال دیں‘, محمد کاظم/بی بی سی اردو، کوئٹہ

    مرتضی سولنگی

    میڈیا کے اداروں سے صحافیوں اور کارکنوں کی جبری برطرفی کے خلاف کوئٹہ میں ہونے والے مظاہرے میں وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کے علاوہ بلوچستان کے وزیر اطلاعات جان محمد اچکزئی نے بھی شرکت کی۔

    یہ مظاہرہ بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام کوئٹہ میں نجی ٹی وی چینلوں اور اخبارات سے متعدد صحافیوں اور کارکنوں کو نکالنے کے خلاف پریس کلب کے باہر کیا گیا-

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مرتضٰی سولنگی نے کہا کہ صحافیوں اور کارکنوں کی برطرفی کے معاملے کو دیکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیمرا کو کہا جائے گا کہ وہ یہ دیکھے کہ اس حوالے سے میڈیا کے اداروں نے لائسنس کی خلاف ورزی تو نہیں کی-

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وفاقی حکومت میڈیا کے اداروں کی جتنی مدد کر سکتی ہے، وہ کرے گی لیکن یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ وہ لوگوں کو مرضی سے نکالیں اور مرضی سے رکھیں۔

    بلوچستان کے وزیر اطلاعات جان محمد اچکزئی نے برطرف کیئے جانے والے صحافیوں اور کارکنوں کی بحالی کے لیے حکومت ہر ممکن اقدام کرے گی۔

    بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر عرفان سعید نے نکالے جانے والے صحافیوں اور کارکنوں کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔

  3. ’ن لیگ نے تاحال کسی پارٹی امیدوار کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ نہیں کیا‘

    سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ’پاکستان مسلم لیگ (ن) نے8 فروری 2024 کو عام انتخابات میں پارٹی امیدواروں کے ٹکٹ کا ابھی فیصلہ نہیں کیا۔ کسی ضلع یا کسی حلقے میں کسی کو ابھی پارٹی ٹکٹ نہیں دیا گیا۔‘

    وہ کہتی ہیں کہ ’پارلیمانی بورڈ کے اجلاس جاری ہیں۔ جب یہ عمل مکمل ہوجائے گا تو پارٹی قائد جناب محمد نوازشریف اور صدر محمد شہبازشریف کی منظوری سے پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے والے امیدواروں کا باضابطہ اعلان کیاجائے گا۔ اِن شاءللہ۔ میڈیا سے گزارش ہے کہ غیرمصدقہ اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبریں نہ دے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  4. سابق وزیرخزانہ شوکت ترین کا سیاست اور پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان

    شوکت ترین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے سیاست اور پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    پاکستان کے مقامی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے سیاست کے ساتھ ساتھ پاکستان تحریک انصاف سے بھی علیحدگی کا اعلان کیا۔

    شوکت ترین نے سینیٹ کی نشست بھی چھوڑنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

    سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ اہل خانہ اور دوستوں سے مشاورت کے بعد سیاست چھوڑ رہا ہوں۔

    ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو سال مالی اور صحت کے لحاظ سے بہت مشکل رہے، دو تین مرتبہ کووڈ ہوا تو اسی لیے اہلخانہ اور دوستوں کے مشورے سے پی ٹی آئی اور سینیٹ رکنیت دونوں چھوڑ رہا ہوں۔

    شوکت ترین نے کہا کہ میں نے پوری کوشش کی کہ ملک کے لیے جو بھی کرسکتا ہوں وہ کروں لیکن اس وقت صحت اجازت نہیں دے رہی۔

    اپنے ایک بیان میں شوکت ترین نے کہا کہ 1997 میں مسلم لیگ(ن) کی درخواست پر حبیب بینک میں تبدیلی کے لیے سٹی بینک اور لاکھوں ڈالر کا پیکج چھوڑا تھا اور معیشت کو سنبھالنے میں مختلف سیاسی جماعتوں کی مدد کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ 2008 سے 2010 تک پیپلز پارٹی کے وزیر خزانہ کی حیثیت سے ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے اور معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد کی جبکہ 19 سال کے بعد متفقہ این ایف سی ایوارڈ بھی حاصل کیا۔

    واضح رہے کہ ماضی میں پیپلز پارٹی کا حصہ رہنے والے شوکت ترین نے پاکستان تحریک انصاف کے برسراقتدار آنے کے بعد اس میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔

    ماضی میں بھی وزیر خزانہ کی ذمے داریاں نبھانے والے شوکت ترین کو ایک مرتبہ پھر یہ منصب سونپا گیا اور وہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں وزیر خزانہ مقرر کیا گیا تھا۔

  5. بریکنگ, صرف حکومت نہیں لیں گے بلکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی بھی کرنا چاہتے ہیں: نواز شریف

    نواز شریف

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا ہے ہمارا مطالبہ حکومت بنانا نہیں بلکہ ہم اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور ظلم پر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی چاہتے ہیں۔

    پاکستان مسلم لیگ ن کے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کئی زخم ایسے ہوتے ہیں جو کبھی بھرتے نہیں لیکن ہم نے کبھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔

    ان کا کہنا تھا ہمیں جیلوں میں ڈالا گیا، سزائیں دی گئیں، مجھے، میرے بھائی، میرے بھتیجے اور دیگر رہنماؤں کو جیلوں میں ڈالا گیا، آپ نے ظلم ڈھایا، اس کے ازالے کے لیے کتنے سال لگ گئے، جھوٹے مقدمے بنانے سے ملک کا نقصان ہوا جنھوں نے بوگس مقدمے بنائے کوئی ان سے پوچھے گا؟

    قائد مسلم لیگ ن کا کہنا تھا جسٹس شوکت صدیقی کو جنرل فیض حمید نے کہا کہ نواز شریف جیل سے باہر آیا تو دو سال کی محنت ضائع ہوجائے گی، ثاقب نثار کی آڈیو ٹیپ میں کہا گیا انھیں اندر رکھنا ہے، عمران خان کو لانا ہے،چور چور کہنے والے خود سب سے بڑے چور ہیں، ہمارا مطالبہ حکومت بنانا نہیں، ہم دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی چاہتے ہیں۔

    نواز شریف نے پاکستان تحریک انصاف کے سابق چیئرمین عمران خان کا نام لیے بغیر کہا کہ حال ہی میں ایک کھلنڈرے کو حکومت میں لایا گیا، اس کھلنڈرے کو نہ معیشت کا پتا تھا نہ ہی یہ کہ کیا کرنا ہے، ریاست مدینہ میں کیا ہوتا تھا اور کیا سکھاتی تھی اس کا پتا ہی نہیں تھا، سیاست کو چمکانے کے لیے اس نے ریاست مدینہ کا نام استعمال کیا، یہ قصے اور کہانیاں تھیں تو انھیں چاہیے تھا کہ چپ رہتے۔

    نواز شریف نے کہا کہ 190 ملین پاؤنڈ والا کیس تاریخ کا سب سے بڑا کیس ہے، اس سکینڈل کا سب سے بڑا ثبوت بند لفافےکی کابینہ سے منظوری ہے، اتنی بڑی ہیرا پھیری اور ڈاکہ مارا گیا۔

    نواز شریف نے کہا آج کیوں ڈالر اتنا مہنگا ہو گیا، روپیہ مٹی میں مل گیا، تم عوام کے 60 ارب روپے کھا جاؤ گے تو مہنگائی کیسے رکے گی۔ اس کا احتساب ہو نا چاہیے، انہوں نے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑیاں ماری ہیں، ملک کی خدمت کرنے والوں کو جیلوں میں ڈال دیا، تمہیں جیل میں ڈالوں گا، تمھارا یہ حشر کر دوں گا کہنے والے آج خود کدھر ہیں۔

    ان کا کہنا تھا ہماری کوشش ہے کہ پاکستان کو اس گرداب سے باہر نکالا جائے، ملک کے لیے کچھ کرنے کی نیت لے کرمیدان میں آئے ہیں، سیاست کے میدان میں جوش و جذبے کے ساتھ ایک پروگرام لے کر آئے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  6. پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی: 1500 پوائنٹس اضافے کے بعد پہلی بار انڈیکس 66000 پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز زبردست تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا جب اس کے انڈیکس میں 1505 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    سرمایہ کاروں کی جانب سے خریداری کے رجحان کی وجہ انڈیکس میں جمعے کے روز 65000 اور 66000 پوائنٹس کی سطح کو ایک دن میں عبور کر لیا۔

    گذشتہ روز سٹاک مارکیٹ کا انڈیکس 64658 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا جو جمعے کے روز 1505 پوائنٹس اضافے کے بعد 66223 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں اکتوبر کے مہینے کے وسط سے تیزی کا رجحان جاری ہے جب اس کا انڈیکس 50000 پوائنٹس کی سطح پر موجود تھا جس ڈیڑھ مہینے ک عرصے میں 66000 پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق جعمے کے روز تیزی کے رجحان کی وجہ سے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کے ایجنڈے میں پاکستان کو شامل کرنے کی خبر تھی جس کے مطابق گیارہ جنوری 2024 میں ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کے ایجنڈے میں پاکستان کے لیے ستر کروڑ ڈالر کی قسط جاری کرنے کی منظوری دی جائے گی۔

  7. الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دینے کی استدعا پر تحریک انصاف کو نوٹس جاری کر دیا

    الیکشن کمیشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    الیکشن کمیشن نے جمعے کو تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف درخواستوں پر جماعت کو نوٹس جاری کیا ہے اور آئندہ سماعت 12 دسمبر تک ملتوی کر دی ہے۔ سابق پی ٹی آئی رکن اکبر ایس بابر کی جانب سے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دینے کی استدعا مسترد کی گئی ہے۔

    اس انٹرا پارٹی الیکشن میں عمران خان کے نامزد کردہ بیرسٹر گوہر خان کو بلا مقابلہ منتخب کیا تھا۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف درخواستوں پر الیکشن کمیشن میں سماعت کی۔

    انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف 14 درخواست گزار الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔ درخواست گزار اکبر ایس بابر کے وکیل علی حسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس الیکشن میں قوائد و ضوابط کی پیروی نہیں کی گئی۔

    وکیل راجہ طاہر نواز نے استدعا کی کہ پورا انتخابی عمل جعلی تھا لہذا اسے کالعدم قرار دیا جائے۔

    الیکشن کمیشن نے اکبر ایس بابر سمیت دیگر کی انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف درخواستوں پر پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کر دیا اور مزید سماعت 12 دسمبر تک ملتوی کی۔

    سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ بھی ہوا۔

  8. افغان مہاجرین کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکنے کا سلسلہ ترک کر کے باوقار راستہ اختیار کرنا ہو گا: عمران خان

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے نگران حکومت کی پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں خصوصاً افغان مہاجرین کی واپسی کی پالیسی سے متعلق جیل سے خصوصی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے مابین دیرپا تعلقات میں ایک مستقل دراڑ کا اندیشہ ہے۔

    عمران خان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شائع بیان میں کہا گیا ہے کہ ’قوموں کے لیے اپنے ہمسائے بدلنا ممکن نہیں ہوتا۔ وقت کے بہاؤ کے ساتھ انہیں ایک دوسرے کی ضرورت پڑتی رہتی ہے۔

    ’ہمسایوں کے ساتھ گہرے بااعتماد تعلقات پاکستان کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہیں۔‘

    خیال رہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے گذشتہ روز پشاور کے دورے کے دوران کہا کہ غیر قانونی مقیم غیر ملکی پاکستان کی سلامتی اور معیشت کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں، ایسے غیر قانونی غیر ملکیوں کو باعزت طریقے سے ان کے ملکوں میں واپس بھیجا جا رہا ہے۔

    اب تک پاکستان چھوڑنے والے غیر قانونی افغان باشندوں کی تعداد 4 لاکھ 14 ہزار 452 تک پہنچ چکی ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک اور ہمسایہ ہے۔ دونوں ممالک کے عوام صدیوں پر محیط برادرانہ تعلقات میں بندھے ہوئے ہیں۔

    ’قوموں کے لیے اپنے ہمسائے بدلنا ممکن نہیں ہوتا۔ وقت کے بہاؤ کے ساتھ انھیں ایک دوسرے کی ضرورت پڑتی رہتی ہے۔‘

    تحریک انصاف کے بانی چیئرمین نے مزید کہا کہ ’پاکستان نے 40 برس تک افغان مہاجرین کی خدمت کی ہے۔ محض ناقص حکمتِ عملی کے باعث برسوں پر محیط مہمان نوازی کے اثرات ضائع کئے جارہے ہیں۔

    ’250 ملین نفوس پر مشتمل قوم پر 1.5 ملین مہاجرین کچھ زیادہ بوجھ نہیں۔ اپنی دھرتی سے نکالے جانے/پناہ کی تلاش میں پاکستان آنے والے مہاجرین کا بڑا حصہ غریب ترین افراد پر مشتمل ہے۔‘

    عمران خان نے مزید کہا کہ ’پورے معاملے کو تہذیب، شائستگی اور حکمت سے نہ نمٹائے جانے کی وجہ سے پوری افغان قوم میں منفی جذبات جنم لیں گے۔

    ’ناقص حکمتِ عملی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بدمزگی ان کی نفسیات کا حصہ بنے گی اور دونوں ممالک کے مابین دیرپا تعلقات میں ایک مستقل دراڑ کا اندیشہ ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’افغان مہاجرین کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکنے کا سلسلہ ترک کر کے پورے معاملے کو حکمت و دانش سے دیکھنے اور ان کی عزت نفس کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ایک آبرو مندانہ راستہ اختیار کرنا ہو گا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  9. گذشتہ 24 گھنٹوں کی اہم خبروں کا خلاصہ

    یہاں آپ کے لیے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان کی سیاسی، معاشی اورسماجی اور دیگر اہم خبروں کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

    • بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اور بلوچستان عوامی پارٹی کے سابق صدر میر عبدالقدوس بزنجو نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔
    • ملکی زرمبادلہ ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران 28.57 کروڑ ڈالر کی کمی ہوئی جس کے بعد ملکی زرمبادلہ ذخائر 12 ارب 10 کروڑ ڈالر رہ گئے ہیں۔
    • سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کے مقدمے پر صدارتی ریفرنس سماعت کے لیے مقرر کیا ہے۔
    • اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزاؤں کے خلاف اپیل پر سماعت کے دوراننواز شریف نے حسین نواز کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے دستاویزات سے اظہار لاتعلقی کر دیا ہے۔
    • انسدادِ دہشتگردی عدالت اسلام آباد نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے سربراہ منظور پشتین کو سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
    • آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ غیر قانونی مقیم غیر ملکی پاکستان کی سلامتی اور معیشت کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں، ایسے غیر قانونی غیر ملکیوں کو باعزت طریقے سے ان کے ملکوں میں واپس بھیجا جا رہا ہے۔
  10. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ یہاں آپ کے لیے پاکستان کے حوالے سے آج کی تمام اہم خبریں شامل کی جائیں گی۔ گذشتہ روز پیش آنے والے واقعات اور خبروں کے لیے یہاں کلک کریں