پیپلز پارٹی کا سپریم کورٹ سے بھٹو ریفرنس کی سماعت براہ راست نشر کرنے کا مطالبہ، آرمی چیف دورۂ امریکہ کے لیے روانہ

سینیئر رہنما پاکستان پیپلز پارٹی فیصل کریم کنڈی نے سپریم کورٹ سے ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کی سماعت براہِ راست نشر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب آرمی چیف جنرل عاصم منیر منصب سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے دورۂ امریکہ پر روانہ ہو چکے ہیں جبکہ الیکشن کمشین کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کا کوئی بھی شیڈول ابھی تک جاری نہیں کیا گیا سوشل میڈیا پر گردش کرنیوالا شیڈول جعلی ہے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ پاکستان کے حوالے سے آج کی تازہ ترین خبروں کے لیے اب آپ اس لنک پر کلک کریں

  2. آرمی چیف جنرل عاصم منیر منصب سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے دورۂ امریکہ پر روانہ

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آرمی چیف جنرل عاصم منیر دورہ امریکہ کے دوران اعلیٰ سیاسی اور عسکری حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔‘

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ جنرل عاصم منیر کا بطور آرمی چیف امریکہ کا یہ پہلا دورہ ہے۔

  3. ’سپریم کورٹ سے یہ اپیل اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کی سماعت بھی براہ راست نشر کی جائے‘ فیصل کریم کُنڈی

    بھٹو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سینیئر رہنما پاکستان پیپلز پارٹی فیصل کریم کُنڈی نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ’پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو اُس وقت کے ڈکٹیٹر نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت 4 اپریل 1979 کو پھانسی دلوائی تھی۔‘

    بیان میں فیصل کریم کُنڈی کا کہنا تھا کہ ’پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی سابق وزیرِ اعظم جنھوں نے پاکستان کو آئین دیا پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا مسلم سربراہی کانفرنس کی، اور جو ذولفقار علی بھٹو نے پوری دنیا میں کردار ادا کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’آصف علی زرداری جب پاکستان کے صدر تھے تو انھوں نے 4 اپریل 2010 کو صدارتی ریفرنس بھیجا کہ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا ہے اس کاٹرائل ہونا چاہیے، سالوں کی جدوجہد کہ بعد اب سپریم کورٹ نے کیس لگایا ہے اور منگل کو ذوالفقار علی بھٹو کا کیس پاکستان کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سنا جائے گا۔‘

    انھوں نے کہا ’پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی درخواست دی ہے کہ انھیں بھی اس کیس میں پارٹی بنایا جائے، مزید یہ کہ منگل کو پیپلزپارٹی اپنے وکلا کے ساتھ سپریم کورٹ میں ہوں گے تا کہ دنیا کو بتایا جائے ذوالفقار علی بھٹو کا قتل کیسے ہوا۔‘

    فیصل کریم کُنڈی نے اپنے بیان میں سپریم کورٹ سے یہ اپیل اور مطالبہ بھی کیا کہ ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کا ٹرائل لائیو دکھایا جائے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’اس سے پہلے بھی ایک کیس لائیو دکھایا گیا تھا تو ہمارا مطالبہ ہے ذوالفقار علی بھٹو کے کیس کو بھی لائیو نشر کیا جائے۔‘

  4. بلوچستان کے ضلع خضدار میں بم دھماکہ، ایس ایچ او سی ٹی ڈی ہلاک, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی اردو کوئٹہ

    صوبہ بلوچستان کے ضلع خضدار میں سٹی پولیس کے ایس ایچ او عبداللہ پندرانی نے فون پر بتایا کہ یہ واقعہ خضدار شہر میں سلطان ابراہیم روڈ پر پیش آیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ایس ایچ او سی ٹی ڈی مراد بخش ایک کار میں سلطان ابراہیم روڈ سے گزر رہے تھے کہ وہاں ایک زور دار دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایس ایچ او سی ٹی ڈی ہلاک ہو گئے، ان کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے مقامی ہسپتال منتقل کر دی گئی ہے۔‘

    عبداللہ پندرانی نے بتایا کہ دھماکے کی نوعیت کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    نگراں وزیر اعلیٰ بلوچستان علی مردان ڈومکی نے خضدار میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے کی مذمت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ملوث عناصر کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    واضح رہے کہ رواں سال خضدار میں سی ٹی ڈی کے آفسران کو نشانہ بنانے کا یہ دوسرا واقعہ ہے، اس سے قبل اسی سال اپریل میں شربت خان عمرانی نامی سنئیر اہلکار کو بھی بم دھماکے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

    خضدار بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب مغرب میں اندازاً ساڑھے تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ماضی میں بھی خضدار میں بم دھماکوں اور اس نوعیت کے دیگر واقعات پیش آتے رہے ہیں تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں ایسے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے۔

  5. سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا الیکشن شیڈول جعلی ہے: ترجمان الیکشن کمشن, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو

    الیکشن کمشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    الیکشن کمشین کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا پر وقتاً فوقتاً الیکشن کے حوالے سے جھوٹے بیانات جاری ہو رہے ہیں۔‘

    ترجمان الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جنگ اخبار کے صفحہ 10 پر بیان گمراہ کن ہے، کمیشن میں دائر درخواستوں پر کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔‘

    بیان میں مزد کہا گیا ہے کہ ’ترجمان الیکشن کمیشن کے علاوہ الیکشن کمیشن سے منشوب کیے جانے والے کسی بھی بیان پر توجہ نہ دی جاۓ، اور نہ ہی ایسے بیانات کو الیکشن کمیشن کا پالیسی بیان سمجھا جائے، الیکشن کمیشن سوشل میڈیا اور اخبارات پر سامنے آنے والے بیانات کی پرُ زور انداز میں تردید کرتا ہے۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’الیکشن کمیشن نے الیکشن کا کوئی بھی شیڈول ابھی تک جاری نہیں کیا ہے، سوشل میڈیا پر گردش کرنیوالا شیڈول جعلی ہے۔‘

  6. ہنزہ کی روایتی جیولری جو چند سہیلیاں قیمتی پتھر تراش کر بناتی ہیں

  7. تلسی میگھواڑ: پاکستان کی ’پہلی ہندو لڑکی‘ جو کھیلوں کی دنیا میں اپنا نام بنا رہی ہے

  8. بریکنگ, نواز شریف نے 22 میں سے 11سال جلاوطنی کاٹی، آج بھی رینگ رینگ کر انصاف مل رہا ہے، مریم نواز

    Maryam

    ،تصویر کا ذریعہ@PMLN

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے کہا ہے کہ نوازشریف کا سیاسی سفر آسان نہیں تھا انھوں نے 22 سال میں سے 11سال جلاوطنی کاٹی، کونسی ایسی جیل ہے جس میں نوازشریف نہ رہے ہو۔

    سنیچر کو پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر جلال پور جٹاں میں مسلم لیگ (ن) کے یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مخالفین کہتے تھے نوازشریف کی سیاست ختم ہو چکی، کہا گیا کہ نوازشریف تاریخ کا حصہ بن گیا ہے اور وہ کبھی واپس نہیں آئےگا، سازش کرنے والوں نے دیکھا نوازشریف کس عزت کےساتھ وطن واپس آئے۔ انھوں نے کہا کہ 21 اکتوبر کو پورا ملک نوازشریف کے استقبال کے لیے امڈ آیا تھا، 21 اکتوبر کو سڑکیں چھوٹی پڑ گئی تھیں۔

    مریم نواز نے کہا اپنے خطاب میں کہا کہ نوازشریف آج بھی عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو کہتے ہیں نوازشریف کو عدالت سے فیور مل رہی ہے انھیں شرم آنی چاہیے، سب دیکھ رہے ہیں کہ نوازشریف کو رینگ رینگ کر انصاف مل رہا ہے، نوازشریف کے خلاف پاناما کے نام پر جھوٹ بولا گیا۔

    انھوں نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کو چور کہنے والا آج خود جیل میں بیٹھا ہے۔انھوں نے کہا کہ جلسوں میں نواز شریف پر چوری کا الزام لگانے والا کبھی معاملہ عدالت نہیں لے گیا، نواز شریف پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں لگا جو شخص صرف ایک بار وزیراعظم بنا آج اس کی چوری کے چرچے ہیں، چوری کا حساب مانگا گیا تو ٹانگ پر پلاسٹر چڑھا لیا۔

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ 60 ارب کی ڈکیتی کرنے والا ایکسرسائز مشین اور دیسی مرغی کا مطالبہ کر رہا ہے، جیل میں اس کو سہولت دو مگر یہ سہولت تمام قیدیوں کو ملنی چاہیے۔

  9. جن سے دو تہائی اکثریت مانگ رہے ہیں چوتھی بار آ کر بھی میاں صاحب نے ان ہی سے پنگا لینا ہے: بلاول بھٹو

    bilawal

    ،تصویر کا ذریعہPPP

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے لوئر دیر کے علاقے تیمر گرہ میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو تین مرتبہ ناکام ہوئے وہ چوتھی مرتبہ کیا تیر مار لے گا۔

    بلاول کا کہنا تھا کہ آج کل سیاست پرانی نفرت اور سیاسی انتقام کی بنیادوں پر کی جا رہی ہے۔ ایک جماعت چاہتی ہے کہ وہ الیکشن جیت کر اپنا سیاسی انتقام لے تو دوسری جماعت بھی کچھ ایسا ہی چاہتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالوں اور رہنماؤں نے جتنے ظلم برداشت کیے ہم نے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا۔ ہم ہمیشہ عوام کی خدمت کے لیے سیاست کرتے ہیں۔‘

    بلاول نے کہا کہ ’عمران خان نے نئے پاکستان کا وعدہ کر کے حکومت میں آ کر ویسے ہی کام چلایا جیسے چلتا آ رہا ہے۔ خان صاحب نے اپنے سیاسی انتقام میں وہ موقع ضائع کر دیا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’دوسرا جو رائیونڈ کا وزیرِ اعظم ہے وہ تین بار تو وزیرِ اعظم بن چکا ہے اور اب کوشش میں ہے کہ اسے تیسری بار سیلیکٹ کیا جائے۔

    ’عوام کا حق ہے کہ وہ یہ پوچھے کہ جو شخص پہلی بار، دوسری بار، تیسری بار فیل ہوا وہ چوتھی بار کون سا تیر مارے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’90 میں بھی جب یہ آئی جی آئی کے ذریعے اقتدار میں لایا گیا تھا تو وہی پرانی سیاست کی تھی اور جنھوں نے سیلیکٹ کیا تھا انھی سے لڑ پڑا، تو نقصان کس کا ہوا، اس ملک کا ہوا، عوام کا ہوا۔ لیکن لانے والے بھول گئے۔

    ’دوسری بار جب میاں صاحب کو دو تہائی اکثریت دلوائی گئی تو عوام کو ترقی دلوانے کی بجائے اور میرے عوام کو روزگار دلوانے کی بجائے میاں صاحب انھی لوگوں سے ٹکرایا جنھوں نے اسے دو تہائی اکثریت دلوایا تھا۔ پھر گھر جانا پڑا اور دس سال کا آرام کرنا پڑا۔‘

    بلاول نے کہا کہ ’ہم نے بھی سوچا تھا کہ وہ تیسری بار کچھ اور بنے گا، لیکن وہی ایکشن ری پلے ہو گیا۔ تیسری بار انھیں لوگوں سے لڑ پڑا جنھوں نے کرم کیا تھا۔

    ’ہمیں ابھی سے معلوم ہے کہ اگر میاں صاحب آئے گا تو کیا ہو گا، وہی روایتی سیاست ہو گی جو اسے پہلے تین بار کر چکے ہیں، وہ چوتھی بھگتنا پڑے گا۔‘

    بلاول نے کہا کہ ’وہی لوگ جن سے میاں صاحب دو تہائی اکثریت مانگ رہے ہیں، وہ تو کہہ رہے ہیں کہ کہاں سے دیں لیکن اگر دے بھی دیں تو پھر میاں صاحب نے وہی کرنا ہے، ان ہی سے پنگا لینا ہے جو انھیں لے کر آئے۔‘

  10. ہم نے کہا کہ کارگل لڑائی نہیں ہونی چاہیے تھی کیا اس لیے نکالا گیا؟ ملک کو اس حال پر پہنچانے والوں کا محاسبہ ہونا چاہیے: نواز شریف

    نواز شریف

    ،تصویر کا ذریعہScreen grab

    مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ قوم نے چار سال میں بہت مشکل دور دیکھا ہے، کچھ کرداروں نے بھاگتے دوڑتے پاکستان کو ٹھپ کر کے رکھ دیا۔ ملک کو اس حال پر پہنچانے والوں کا محاسبہ ہونا چاہیے۔

    لاہور میں پارٹی ٹکٹ کے امیدواروں کے اجلاس سے خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ ’اپنے کسی دوست اور ساتھی کو بھولا نہیں ہمیشہ یاد رکھا، آج بھی دعا ہے کہ اللہ اس قوم کو مشکلات سے نکالے۔ دنیا بھی اعتراف کر رہی تھی کہ پاکستان تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، یہ ایک خواب تھا جو ادھورا رہ گیا۔‘

    ان کے مطابق ’اُس وقت سے ہماری معیشت نیچے جا رہی ہے، ہماری اقتصادی ترقی بھی رک گئی، جی ڈی پی ریٹ بھی نیچے گر گیا۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہمارے دور میں معیشت بہتر اور ترقی عروج پر تھی اور ہمارے دور میں ہر لحاظ سے معاشرہ آگے بڑھ رہا تھا۔ لیکن کچھ کردار ایسے آئے جنھوں نے دوڑتے پاکستان کو ٹھپ کر کے رکھ دیا۔ جن لوگوں نے ملک کو اس حال پر پہنچایا ان کا محاسبہ ہونا چاہیے۔‘

    نواز شریف کے مطابق ’2019 سے معیشت بےانتظامی کا شکار ہوئی، 2022 میں جب شہباز شریف نے اقتدار سنبھالا تو ہر شعبے میں بہت زیادہ گراوٹ ہو چکی تھی، اس وقت اگر یہ ملک نہ سنبھالتے تو ملک ڈیفالٹ ہو چکا ہوتا۔‘

    ’مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اس ملک کی باگ ڈور کیسے ایک اناڑی کے سپرد کر دی گئی، اچھے بھلے لوگوں سے اچھی بھلی حکومت لے کر ایک اناڑی کے ہاتھوں میں دے دی گئی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’لوگوں نے ہمیشہ ہمیں کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیا اور ہر مرتبہ ہمیں نکال دیا گیا، کیوں نکال دیا گیا؟ کم از کم ہمیں پتا لگنا چاہیے کہ 1993 میں ہمیں کیوں نکالا گیا؟ اس وقت ہم نے معاملات کو صحیح طرح سنبھالا اور ہم نے کہا تھا کہ کارگل میں لڑائی نہیں ہونی چاہیے، کیا اس لیے ہمیں نکال دیا گیا تھا؟ آج وقت ثابت کر رہا ہے کہ ہم صحیح تھے۔‘

    نواز شریف نے کہا کہ ’ہمارے دور میں انڈیا کے دو وزرائے اعظم واجپائی اور مودی پاکستان تشریف لائے، اس سے پہلے کبھی کوئی آیا تھا؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ کے ہمسائے آپ سے ناراض ہوں یا آپ ان سے ناراض ہوں اور آپ دنیا میں کوئی مقام حاصل کر لیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اپنے معاملات کو انڈیا، افغانستان اور ایران کے ساتھ بھی مضبوط کرنا ہے، چین کے ساتھ بھی مزید بہتر اور مضبوط کرنا ہے، ہمارے پیچھے تو سی پیک کو بھی سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی۔‘

  11. سراج الدین حقانی: طالبان رہنما کے مبینہ ’پاکستانی پاسپورٹ‘ پر انکوائری، معاملہ ہے کیا؟

  12. ’ن لیگ نے تاحال کسی پارٹی امیدوار کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ نہیں کیا‘

    مریم اورنگزیب

    ،تصویر کا ذریعہTwitter

    سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ’پاکستان مسلم لیگ (ن) نے8 فروری 2024 کو عام انتخابات میں پارٹی امیدواروں کے ٹکٹ کا ابھی فیصلہ نہیں کیا۔ کسی ضلع یا کسی حلقے میں کسی کو ابھی پارٹی ٹکٹ نہیں دیا گیا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    وہ کہتی ہیں کہ ’پارلیمانی بورڈ کے اجلاس جاری ہیں۔ جب یہ عمل مکمل ہوجائے گا تو پارٹی قائد جناب محمد نوازشریف اور صدر محمد شہبازشریف کی منظوری سے پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے والے امیدواروں کا باضابطہ اعلان کیاجائے گا۔ اِن شاءللہ۔ میڈیا سے گزارش ہے کہ غیرمصدقہ اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبریں نہ دے۔

  13. گذشتہ 24 گھنٹوں کی اہم خبروں کا خلاصہ

    یہاں آپ کے لیے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان کی سیاسی، معاشی اورسماجی اور دیگر اہم خبروں کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

    • سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے سیاست اور پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت ترین نے سیاست کے ساتھ ساتھ سینیٹ کی نشست بھی چھوڑنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
    • پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز نے پارٹی کے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہمارا مطالبہ حکومت بنانا نہیں بلکہ ہم اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور ظلم پر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی چاہتے ہیں۔‘
    • سابق وزیر اعظم عمران خان نے نگران حکومت کی پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں خصوصاً افغان مہاجرین کی واپسی کی پالیسی سے متعلق جیل سے خصوصی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان مہاجرین کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکنے کا سلسلہ ترک کر کے باوقار راستہ اختیار کرنا ہو گا۔ اس سے دونوں ممالک کے مابین دیرپا تعلقات میں ایک مستقل دراڑ کا اندیشہ ہے۔
    • الیکشن کمیشن نے جمعے کو تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف درخواستوں پر جماعت کو نوٹس جاری کیا ہے اور آئندہ سماعت 12 دسمبر تک ملتوی کر دی ہے۔