نواز شریف العزیزیہ سٹیل ملز کیس میں بھی بری: ’الیکشن لڑنے میں حائل تمام رکاوٹیں دور‘

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز کیس میں بری کر دیا ہے۔ آج سنائے گئے فیصلے کے مطابق نواز شریف کی اس ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل منظور کر لی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا کیوں سنائی گئی اور اس فیصلے کو ’عدالتی قتل‘ کیوں قرار دیا جاتا ہے؟

  2. سازش کے تحت جھوٹے مقدمات بنائے گئے، جو جو ذمہ دار ہے اس کا حساب لینا چاہیے: نواز شریف

    سابق وزیراعظم نواز شریف کا پارلیمانی بورڈ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان پر جان بوجھ کر کھوکھلے مقدمات بنائے گئے جس سے وہ ذاتی طور پر ہی نہیں بلکہ ملک کا بھی نقصان ہوا ہے۔

    نواز شریف کے مطابق وہ ذاتی طور پر کسی کو معاف کرنے کا اختیار نہیں رکھتے اور جو جو ذمہ دار ہے اس سے اس سب کا حساب لینا چاہیے۔

    ان کے مطابق ’آٹھ فروری کو سب سے بڑی جے آئی ٹی اور سب سے بڑی عدالت بھی بنے گی، وہ سب سے بڑا فیصلہ دے گی۔‘

    سابق وزیراعظم کے مطابق ’ہم پر یہ مقدمات جان بوجھ کر بنائے گئے اور ان مقدمات کا کھوکلا پن سب کے سامنے آگیا ہے۔‘

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ پانامہ میں کُچھ نہیں ملا تو اقامہ میں نکال لیا کیونکہ مقصد بس مُجھے سزا دینا تھا۔

    پاکستان کے 25 کروڑ عوام کے نمائندے کو دھکے دے کر اقتدار سے نکالا گیا۔

  3. ’میری دشمنی میں مُلک کو کیوں نشانہ بنایا، میرے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کے لیے نیب پر دباؤ ڈالا گیا‘: نواز شریف

  4. ’قصوری صاحب آرام سے بیٹھیں آپ کو بھی سنیں گے‘ بھٹو کی پھانسی پر ریفرنس کی سماعت کا احوال

  5. ’بالاچ بلوچ پر لگائے جانے والے الزامات واپس لیے جائیں‘ لانگ مارچ کے شرکا کا مطالبہ, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی کوئٹہ

    کوئٹہ

    تربت سے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ پہنچنے والے لانگ مارچ کے شرکا نے کوئٹہ شہر میں مارچ کو سریاب کے علاقے کیچی بیگ تک جاری رکھا۔

    لانگ مارچ کے شرکا پیر کی شب کوئٹہ پہنچے تھے۔ انھوں نے صبح سریاب سے لانگ مارچ کا آغاز کیا اور کیچی بیگ کے علاقے پہنچ کر دھرنا دیا۔ مارچ میں شریک تربت سول سوسائٹی کے کنوینر گلزار دوست بلوچ نے بتایا کہ بدھ کو کیچی بیگ سے شہر کی جانب مارچ کو جاری رکھا جائے گا اور مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

    یہ لانگ مارچ تربت میں بالاچ بلوچ نامی نوجوان کے مبینہ ماورائے عدالت قتل کے واقعے کے بعد شروع کیا گیا تھا۔ بالاچ بلوچ کے قتل کا الزام سی ٹی ڈی پر عائد کیا گیا تھا۔

    بالاچ بلوچ کے قتل کے حوالے سے نہ صرف سی ٹی ڈی کے چار اہلکاروں پر سی ٹی ڈی کا مقدمہ درج کیا گیا بلکہ بلوچستان ہائیکورٹ نے چاروں اہلکاروں کو معطل کرنے کا بھی حکم دیا۔

    اہم مطالبات تسلیم ہونے کے باوجود مارچ کو جاری رکھنے کے سوال پر گلزار دوست نے بتایا کہ لانگ مارچ کے مطالبات میں صرف یہ دو مطالبات شامل نہیں بلکہ دیگر مطالبات بھی ہیں۔

    انھوں نے دیگر مطالبات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کو مبینہ جعلی مقابلوں میں ہلاک کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے، بالاچ بلوچ پر سی ٹی ڈی نے جو الزامات لگائے تھے ان کو واپس لیا جائے، سی ٹی ڈی کو ختم کیا جائے، بلوچستان سے لوگوں کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے اور کسی پر کوئی الزام ہے تو ان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے اور اب تک جتنے بھی لوگ جبری طور پر لاپتہ ہیں ان کو عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

    واضح رہے کہ سی ٹی ڈی نے بالاچ بلوچ پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ ان کا تعلق کالعدم تنظیم سے تھا اور انھیں ان کے دیگر ساتھیوں کی نشاندہی کے لے جایا جارہا تھا کہ تربت کے علاقے پسنی روڈ پر سی ٹی ڈی کے اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں وہ اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے۔

  6. چین پاکستان کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر نظر ثانی پر رضامند, تنویر ملک ، صحافی

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چینی حکومت پاکستان کی جانب سے موجودہ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) میں ترمیم کرنے، یوآن میں تجارتی فنانس فراہم کرنے اور صنعت کی نقل مکانی میں مدد کے لیے قرضوں کی پیشکش پر غور کر رہی ہے۔

    وفاقی وزارتِ تجارت کے اعلامیے کے مطابق چین کی جانب سے یہ پیش کش پاکستان کے عبوری وزیر تجارت گوہر اعجاز کے دورائے چین کے دوران دی گئی ہے۔ ایف ٹی اے کی مجوزہ نظرثانی کا مقصد پاکستانی مصنوعات کو چین، آسیان معاہدے سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ترجیحات کو بڑھانا ہے۔

    پاکستان نے چین پر بھی زور دیا ہے کہ وہ چینی کمپنیوں کو پاکستان میں خصوصی اقتصادی زونز (SEZ) یا ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز (EPZ) میں منتقل کرنے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے سرمایہ کاری کے لیے پانچ بلین یوآن کی رقم مختص کرے۔

    مزید یہ کہ امریکی ڈالر پر انحصار کو کم کرنے کے لیے فوری تجارتی مالیات کے لیے پانچ بلین یوآن دستیاب ہوں گے۔

  7. سٹیٹ بینک کا شرح سود 22 فیصد برقرار رکھنے کا فیصلہ, تنویر ملک، صحافی

    گیس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں شرح سود 22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق شرح سود 22 فیصد پر رکھنے کا فیصلہ زریّ مانیٹری پالیسی کے اجلاس میں کیا گیا۔ موجودہ شرح کو برقرار رکھنے کی وجہ ملک میں گیس کی قیمتوں میں اضافہ بتایا گیا، جس کی وجہ سے نومبر کے مہینے میں مہنگائی کی شرح بڑھی جو زریّ کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کی توقعات کے برعکس رہی۔ مرکزی بینک کے مطابق گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کی موجودہ صورتِ حال پر اثر پڑ سکتا ہے تاہم بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی اور زرعی پیداوار میں اضافے سے اس کے اثرات کو زائل کیا جا سکتا ہے۔

    سٹیٹ بینک نے توقع کا اظہار کیا کہ مہنگائی کی شرح میں کمی ہو گی اور آئندہ مالی سال میں اس کا پانچ سے سات فیصد شرح کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔

  8. ’تحریک جہاد پاکستان‘: ڈیرہ اسماعیل خان میں 23 فوجیوں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیم کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

  9. تحریک انصاف کی خاتون رہنما خدیجہ شاہ کو کوئٹہ پولیس نے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کردیا, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی کوئٹہ

    تحریک انصاف کی خاتون رہنما خدیجہ شاہ کو کوئٹہ میں پولیس نے آج (منگل) انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کر دیا، جس کے بعد عدالت نے خدیجہ شاہ کو تین روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

    منگل کے روز جب خدیجہ شاہ کو عدالت میں پیش کیا گیا تو اس موقع پر اُن کی جانب سے پیروی کے لیے ایڈوکیٹ سیدّ اقبال شاہ بھی کورٹ روم میں موجود تھے۔

    اقبال شاہ ایڈوکیٹ نے بتایا کہ 9 مئی کے واقعات کے حوالے سے بجلی گھر تھانہ کوئٹہ میں جو مقدمہ درج کیا گیا تھا اس میں خدیجہ شاہ کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

    اقبال شاہ کا کہنا تھا کہ خدیجہ شاہ پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر لوگوں کو ریاستی اداروں کے خلاف اکساتی رہی ہیں۔

    خدیجہ شاہ کو پولیس نے گزشتہ روز لاہور سے گرفتار کر کے کوئٹہ پہنچایا گیا تھا۔ خدیجہ شاہ کو منگل کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کوئٹہ ون میں پیش کیا گیا اور پولیس کی جانب سے عدالت سے 14روزہ ریمانڈ کی درخواست کی گئی۔

    اقبال شاہ ایڈووکیٹ نے 14روزہ ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ خدیجہ شاہ کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے ہیں اس لیے ریمانڈ کا جواز نہیں بنتا۔

    خدیجہ شاہ کو سخت سیکورٹی میں سیشن کورٹ لائی گئی۔

  10. ’الیکشن لڑنے میں حائل تمام رکاوٹیں دور‘

    سابق وزیرِ قانون اعظم نذیر ٹارڑ نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میاں نواز شریف سے متعلق اب کوئی بھی مقدمے ایسا نہیں ہے کہ جو اب انھیں آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے سے روک سکے۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی عدالتوں کی جانب سے جن جن مقدمات میں اُنھیں مجرم قرار دیا گیا تھا اب وہ ان میں بری ہو چُکے ہیں جس کی بنیاد پر اب وہ آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اپنے کاغزاتِ نامزدگی جمع کروا سکتے ہیں۔‘

  11. ’ایک وزیر اعظم کو نااہل قرار دینے کے لیے بنائے گئے جھوٹے مقدمات اپنے انجام کو پہنچ رہے ہیں‘: شہباز شریف

    پاکستان مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف نے العزیزیہ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’ایک وزیر اعظم کو نااہل قرار دینے کے لیے بنائے گئے جھوٹے مقدمات آخر کار اپنے انجام کو پہنچ رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ گذشتہ سات سال کے دوران پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا نقصان بھی ہوا۔ ’نواز شریف کی قیادت میں پاکستان ایک بار پھر خوشحال ہو گا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما مونس الٰہی نے کہا کہ ’لاڈلے میاں نواز شریف کو بری کر دیا گیا۔ انصاف صرف نواز شریف کے لیے ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ لاڈلا نہ کہو۔ چلیں ہم لاڈلا کہنا بند کر دیتے ہیں، آپ سابق وزیر اعظم عمران خان کا ٹرائل بھی لائیو دکھا دیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

    صحافی سرل المیڈا نے بھی فیصلے پر اپنا ردِ عمل دیا۔ اُنھوں نے ایکس پر لکھا ’انصاف کی حالت۔۔۔ ذوالفقار علی بھٹو کے لیے انصاف، نواز شریف کے لیے انصاف، عمران کے لیے جیل۔۔۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 3

  12. ہر ملک چاہتا ہے پاکستان میں کمزور حکمران ہو، ان کا فوج سے زیادہ قریبی تعلق ہوتا ہے: زلفی بخاری

  13. سابق وزیراعظم نواز شریف العزیزیہ سٹیل ملز کیس میں بری، مگر یہ ریفرنس کیا تھا؟

    نواز شریف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں ملنے والی سزا کے خلاف نواز شریف کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے انھیں بری کرنے کا حکم دیا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے اس کیس پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد منگل کی دوپہر اس کیس میں فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج شام سنا دیا گیا۔

    یاد رہے کہ ہائیکورٹ کے اسی دو رکنی بینچ نے نواز شریف کو گذشتہ ماہ 29 نومبر کو ایون فیلڈ ریفرنس میں بھی بری کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

    24 دسمبر 2018 کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید، دس سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے پر فائز ہونے پر پابندی، ان کے نام تمام جائیداد ضبط کرنے اور ساتھ ساتھ تقریباً ڈیڑھ ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

    احتساب عدالت کے اس فیصلے کے خلاف سابق وزیر اعظم نے رواں برس اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ جس پر چند سماعتوں کے بعد عدالت نے آج ان کی بریت کا فیصلہ دیا ہے۔

    نواز شریف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    العزیزیہ ریفرنس کیا تھا؟

    اس مقدمے کی تفصیلات میں جائیں تو احتساب عدالت میں پیش کردہ دستاویزات کے مطابق العزیزیہ سٹیل ملز نواز شریف کے والد میاں محمد شریف نے 2001 میں سعودی عرب میں قائم کی تھی جس کے انتظامی امور نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز چلا رہے تھے۔ احتساب عدالت میں شریف خاندان کی جانب سے دیے گئے دلائل میں کہا گیا تھا کہ سٹیل مل لگانے کے لیے کچھ سرمایہ سعودی حکومت سے لیا گیا تھا۔

    البتہ نیب کے وکلا کا کہنا تھا کہ شریف خاندان کے اس ضمن میں کیے گئے دعوے کسی بھی دستاویزی ثبوت سے بغیر ہیں اور یہ علم نہیں کہ اس مل کو لگانے کے لیے رقم کہاں سے آئی۔ اس وقت نیب کا دعویٰ تھا کہ شریف خاندان نے پاکستان سے غیر قانونی طور پر رقم حاصل کر کے اس مل کے لیے سرمایا لگایا۔

    عدالت کو حسین نواز نے بتایا تھا کہ انھیں اپنے دادا سے پچاس لاکھ ڈالر سے اوپر کی رقم دی گئی تھی جس کی مدد سے انھوں نے العزیزیہ سٹیل ملز قائم کی تھی۔ اُن کے مطابق اس مل کے لیے زیادہ تر سرمایہ قطر کے شاہی خاندان کی جانب سے محمد شریف کی درخواست پر دیا گیا تھا۔

    اس ریفرنس کی تفتیش کرنے کے لیے قائم ہونے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے احتساب عدالت کے سامنے یہ دعویٰ کیا تھا کہ العزیزیہ سٹیل ملز کے اصل مالک نواز شریف خود ہیں۔

    نیب حکام کا نواز شریف کے خلاف دعوی تھا کہ انھوں نے حسین نواز کی کمپنیوں سے بڑا منافع حاصل کیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اصل مالک وہ ہیں، نہ کہ ان کے بیٹے۔

    واضح رہے کہ اس ریفرنس کی سماعتوں کے دوران نیب اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے کوئی دستاویزی ثبوت فراہم کرنے سے قاصر رہی تھی تاہم احتساب عدالت نے نواز شریف کو اس کیس میں سزا سنا دی تھی۔

  14. العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس نیب نے نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے دباؤ پر بنایا گیا تھا: سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر

    عرفان قادر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے نجی ٹی وی چینل جیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’نواز شریف کو جو نا اہل کیا گیا تھا وہ بھی غلط فیصلہ تھا۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ ہماری عدالتوں اور ججوں کے لیے بھی لمحہِ فکریہ ہے۔‘

    عرفان قادر کا کہنا تھا کہ ’نیب کی جانب سے بھی کہا گیا کہ یہ کیسز بنتے ہی نہیں تھے، یہ کیس بنانے کے لیے تو نیب پر سپریم کورٹ نے دباؤ ڈالا تھا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’عدالتی نظام کی تشکیلِ نو کی اس وقت سخت ضرورت ہے، گزشتہ کُچھ عرصہ کے دوران سپریم کورٹ کی جانب سے کیے جانے والے فیصلوں اور دیگر معاملات کو ری وزٹ یعنی نظر ثانی کی ضوررت ہے۔‘

    سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ کا پاناما کیس کا فیصلہ بھی غلط تھا، اور یہ وہ فیصلہ اور معاملات ہیں کہ جن پر بات کی جانی چاہیے اور خود اسی ادارے کو ان پر نظر ثانی کرنے اور آئندہ کے لیے کوئی موثر حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔

  15. بریکنگ, اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ سٹیل ملز کیس میں نواز شریف کو بری کر دیا

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے العزیزیہ سٹیل ملز کے فیصلے کے خلاف سابق وزیر اعظم نواز شریف کی درخواست پر فیصلہ سُناتے ہوئے اُنھیں بری کر دیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاورق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب پر مشتمل دو رکنی بینچ اس اپیل کی سماعت کر رہا تھا۔

    فیصلے کے مطابق نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیل منظور کی گئی ہے۔

    نومبر کے اواخر میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں بھی نواز شریف کی اپیل پر انھیں بری کیا تھا۔ نیب نے فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی بریت کے خلاف اپیل واپس لے لی تھی اور اسی بنیاد پر عدالت نے نیب کی اپیل خارج کر دی تھی۔

  16. بریکنگ, اسلام آباد ہائی کورٹ: العزیزیہ سٹیل ملز کے فیصلے کے خلاف نواز شریف کی اپیل پر فیصلہ محفوظ

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے العزیزیہ سٹیل ملز کے فیصلے کے خلاف سابق وزیر اعظم نواز شریف کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

  17. ’مقدمے کو دوبارہ احتساب عدالت میں بھیجنے کی بجائے اس اپیل کو میرٹ پر سن کر فیصلہ کریں گے‘ عدالت

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت جاری ہے۔

    عدالت نے نیب کے پراسیکوٹر سے استفسار کیا، کیا العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں آپ کے پاس ثبوت ہیں کہ اپیل کندہ یعنی نواز شریف نے سرمایہ کاری کی اور اس کے کوئی ثبوت ہیں؟

    جس کے جواب میں نیب کے پراسیکوٹر کا کہنا تھا کہ براہ راست تو ان کے پاس شواہد نہیں ہیں، لیکن مختلف مالیاتی اداروں نے تصدیق کی تھی کہ نواز شریف کے مختلف بینکوں میں اکاونٹس ہے۔

    نیب پراسیکیوٹر کا مزید کہنا تھا کہ ’فرد جرم عائد کرتے ہوئے عدالت نے ملزمان معلوم ذرائع لکھے، نواز شریف پر کرپشن اور کرپٹ پریکٹس کے الزام کے تحت فرد جرم عائد کی گئی، ایس ای سی پی، بنک اور ایف بی آر کے گواہ عدالت میں پیش ہوئے۔‘

    جس پر چیف جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر اس کیس میں العزیزیہ اور ہل میٹل کے الزامات ہیں، العزیزیہ میں پہلے بتائیں کتنے پیسے بھیجے کیسے بھیجے کب فیکٹری لگی؟

    عدالت کے اس سوال کے جواب میں نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ’یہ وائٹ کالر کرائم کا کیس ہے، پاکستان میں موجود شواہد اکٹھے کئے ہیں اور بیرون ملک شواہد کے حصول کے لیے ایم ایل اے لکھے گئے۔‘

    جس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ آپ (نیب پراسیکیوٹر) یہ بتائیں وہ کون سے شواہد ہیں جن سے آپ ان کا تعلق کیس سے جوڑ رہے ہیں، جائیدادوں کی مالیت سے متعلق کوئی دستاویز تو ہوگا؟ آپ بتائیے العزیزیہ کب لگائی گئی اور اس کا نواز شریف کے ساتھ کیا تعلق ہے؟

    نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ثبوت میں دستاویز ان کی اپنی ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کس کے حوالے سے دستاویز ہے؟ آپ نے پچھلی سماعت پر کہا تھا کہ جج کے حوالے سے تعصب کا معاملہ موجود ہے۔

    نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ جج کی برطرفی کے بعد اس فیصلے پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔

    چیف جسٹس نے اس پر کہا کہ ہم نے جج ارشد ملک سے متعلق درخواست پر گزشتہ سماعت پر کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا تھا۔

    اس پر نیب کی جانب سے یہ استدعا کی گئی کہ ’العزیزیہ ریفرنس کو ریمانڈ بیک کردیا جائے۔‘

    چیف جسٹس اور نواز شریف کے وکیل کے درمیان اس دوران مکالمہ ہوا جس میں چیف جسٹس نے کہا کہ ’یہ تو آپ نے کہا تھا کہ آپ اس درخواست پر مزید کارروائی نہیں چاہتے۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’نیب وکیل کی بات درست ہے کہ سپریم کورٹ کے ارشد ملک کیس کے فیصلے میں آبزرویشنز کافی مضبوط ہیں، وہ درخواست اگر نہ بھی ہوتی، تب بھی اگر وہ فیصلہ ہمارے سامنے آجاتا تو ہم اس کو ملحوظ خاطر رکھتے۔

    جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کو دوبارہ احتساب عدالت میں بھیجنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس اپیل کو میرٹ پر سن کر فیصلہ کریں گے۔

    نیب کے پراسیکوٹر کا کہنا تھا کہ حسین نواز کے پاس پیسے نہیں تھے اور نواز شریف نے کرپٹ پریکٹسز سے یہ پیسے حسین نواز کو بھیجے جس پر عدالت نے نیب پراسیکوٹر سے سوال کیا کہ کیا آپ کے پاس کرپٹ پریکٹسز کے شواہد موجود ہیں؟

    جس پر پراسیکوٹر کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر ریفرنس دائر ہوا جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ محض مفروضوں کی بنیاد پر کسی کو سزا نہیں دی جاسکتی انھوں نے کہا کہ سورس ڈکومینٹس عدالتوں میں قابل قبول نہیں ہوتے۔

  18. ’ایسے کونسے حالات تھے کہ جن کی وجہ سے عدالت نے قرار دیا کہ ثبوت فراہم کرنا ملزم کی ذمہ داری ہے‘ عدالت کا استفسار

    نواز شریف

    ،تصویر کا ذریعہPML-N

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کا آغاز

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاورق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب پر مشتمل دو رکنی بینچ اس اپیل کی سماعت کر رہا ہے۔

    سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ ایسے کونسے حالات تھے کہ جن کی وجہ سے عدالت نے قرار دیا کہ ان جائیدادوں کے ثبوت فراہم کرنا ملزم کی ذمہ داری ہے جس پر نواز شریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ ٹرائل کورٹ میں بھی اٹھایا گیا تھا لیکن پراسیکیوشن کی طرف سے ان تمام ریفرنس میں کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا صرف سورس ڈکومینٹس پر انحصار کیا جس کی تصدیق کرنے کے لیے بھی کوئی عدالت میں نہیں آیا۔

    امجد پرویز کی کہنا تھا کہ ’پانامہ کے فیصلے میں بھی یہ لکھا ہوا ہے جب تک کسی کے خلاف ناقابل تردید شواہد موجود نہ ہوں اس وقت تک کسی کو سزا نہیں دی جاسکتی، تمام شواہد پیش کرانازیر کفالت بچوں کا ریکارڈ پیش کرنا اور ان جائیدادوں کے ساتھ سابق وزیر اعظم کا تعلق ثابت کرنا یہ پراسیکوشن کی ذمہ داری ہے۔‘

    سابق وزیر اعظم کے اس کیس کی سماعت کرنے والے بینچ میں شامل جسلاس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ یہ جو سی ایم ایز دائر کی گئی تھیں ان میں کیا تھا؟

    عدالت کے اس سوال پر سابق وزیر اعظم کے وکیل امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ’سی ایم ایز کو ریکارڈ پر رکھا ہی نہیں گیا، سی ایم ایز کے ساتھ منسلک دستاویز کو ریکارڈ پر رکھا گیا، ان سی ایم ایز میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ نواز شریف کی ملکیت تھی، بلکہ یہ لکھا گیا تھا کہ نواز شریف کا تعلق نہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اصول ہے کہ کسی ایک مقدمے کے ثبوت کو کسی دوسرے مقدمے میں نہیں پڑھا جا سکتا، خاص طور پر جب دونوں مقدمات کی نوعیت الگ الگ ہو، حسین نواز کے کیپیٹل ٹاک کے انٹرویو پر بھی انحصار کیا گیا، حالانکہ اس انٹرویو میں بھی حسین نواز کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کا تعلق نہیں۔‘

    نواز شریف کے وکیل کے دلائل مکمل ہوگئے ہیں اور استغاثہ کے وکیل نعیم طارق دلائل دے رہے ہیں۔

  19. ’حملہ آوروں نے گاڑی تھانے کی عمارت سے ٹکرائی، ساتھ موجود سکول کو بھی نقصان پہنچا‘, عزیز اللہ خان/بی بی سی اردو، پشاور

    درابن

    ،تصویر کا ذریعہRESCUE 1122

    درابن کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کا یہ حملہ رات قریب ڈھائی، تین بجے ہوا جب سب سو رہے تھے اور پھر اچانک زوردار دھماکے کے ساتھ فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں۔

    ایک شخص نے بتایا کہ ’ہمیں خوف اور گھبراہٹ میں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا ہوگیا ہے۔‘

    ایک مقامی شہری گوہر نے بی بی سی کو بتایا کہ فائرنگ اتنی شدید تھی کہ انھیں ایسا محسوس ہوا کہ یہ ان کے گھر کے قریب ہو رہی ہے حالانکہ وہ اس مقام سے کافی دور رہتے ہیں۔

    فائرنگ کا یہ سلسلہ صبح تک جاری رہا جس کی وجہ سے بچے سکولوں اور کالجوں میں بھی نہیں جا سکے۔

    گوہر نے بتایا کہ خوف کے مارے بھی لوگ کم ہی گھروں سے باہر نکل رہے تھے اور ایک ایسا پیغام بھی سامنے آگیا تھا کہ لوگ گھروں میں رہیں۔

    واقعے کے بعد درابن کلاں میں تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں۔ پرنسپل ڈگری کالج درابن ملک شکیل نے بتایا کہ آج کالج اورسکول بند کر دیے گئے ہیں، کل سے کھل جائیں گے جبکہ آج سکولوں میں جاری ماہانہ ٹیسٹ بھی نہیں ہو سکے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف ہے۔ ’لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ گھروں میں رہیں۔‘

    حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریکِ جہاد پاکستان نے قبول کی ہے۔ سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں تنظیم کے ترجمان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ حملہ ’مولوی حسن گنڈہ پور نے کیا ہے جہاں ان کے ساتھ حملہ آور تھانے کے اندر داخل ہو گئے تھے۔‘

    ’سکول کی عمارت کو بھی دھماکے سے شدید نقصان پہنچا‘

    خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے مغرب کی طرف شاہراہ بلوچستان کے علاقے کی ژوب کی جانب جاتی ہے۔ اس شاہراہ پر کوئی 65 کلومیٹر دور درابن کلاں واقع ہے۔

    یہ نیم قبائلی علاقہ درازندہ کے قریب واقع ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ جس تھانے پر حملہ ہوا ہے یہ شاہراہ کے قریب ہے۔

    مقامی لوگوں کے مطابق حملہ آوروں نے تھانے کی عقبی طرف سے عمارت کے ساتھ گاڑی ٹکرائی تھی۔

    اس تھانے میں سامنے کی طرف کے حصے میں پولیس تعینات ہے جبکہ عقبی طرف کے کمروں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار ہوتے ہیں۔

    تھانے میں فورسز کے اہلکار گذشتہ چند ماہ سے تعینات ہیں۔ اس سے پہلے یہ اہلکار کالج کے ایک حصے میں تعینات تھے۔ تھانے کی عمارت کے کچھ حصے اب بھی زیر تعمیر ہیں۔

    اس تھانے کے ساتھ واقع سکول کی عمارت کو بھی دھماکے سے شدید نقصان پہنچا ہے۔ ماضی میں اس شاہراہ سے بلوچستان اور پھر بلوچستان سے ایران اور یورپی ممالک تک راستہ تھا، اس لیے قیام پاکستان کے کافی عرصہ بعد تک درابن کے قریب درازندہ موڑ پر ایک سنگ میل موجود تھا جس پر لکھا ہوا تھا کہ ’لندن 9600 کلومیٹر دور‘ اور یہ سنگ میل چند سال پہلے سڑکوں اور دکانوں کی تعمیر کی وجہ سے ضائع ہو گیا تھا۔

    اس تھانے پر اور یہاں موجود پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر یہ کوئی پہلا حملہ نہیں ہے۔

    گورنمنٹ ڈگری کالج درابن کی عمارت پر سال 2015 میں خود کش حملہ ہوا تھا جس کے بعد سے اس کالج کی عمارت انتہائی بوسیدہ ہو چکی ہے۔ کالج کا ایڈمن بلاک مکمل طور پر تباہ ہوگیا تھا۔

    درابن کے قریب تحصیل کلاچی میں بھی تھانوں پر اور سکیورٹی اہلکاروں پر کچھ عرصے کے دوران متعدد حملے ہوئے ہیں جس کے بعد وہاں سرچ آپریشنز بھی کیے گئے ہیں۔

  20. بریکنگ, درابن میں سکیورٹی فورسز پر خودکش حملے میں 23 فوجیوں کی ہلاکت: آئی ایس پی آر

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن میں سکیورٹی فورسز پر ایک خودکش حملے میں 23 فوجیوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق 12 دسمبر کی صبح ’چھ دہشتگردوں‘ نے درابن میں سکیورٹی فورسز کی پوسٹ پر حملہ کیا، ان کے اندر داخلے کی کوشش کو ناکام بنایا گیا جس کے بعد ’دہشتگردوں نے بارود سے بھری گاڑی عمارت کی دیوار سے ٹکرائی اور خودکش کش دھماکہ کیا۔‘

    آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’دھماکوں کے نتیجے میں عمارت گِر گئی اور اس سے 23 فوجی اہلکاروں ہلاک ہوگئے جبکہ جوابی کارروائی میں تمام چھ دہشتگرد ہلاک ہوئے۔‘

    دریں اثنا آئی ایس پی آر کے مطابق 12 دسمبر کو ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کے متعدد آپریشنز کے دوران مجموعی طور پر 27 دہشتگرد ہلاک ہوئے ہیں۔

    دوسری طرف درازندہ میں ’دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلیجنس آپریشن کیا گیا جس دوران 17 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ کلاچی میں دوسرے انٹیلیجنس آپریشن میں چار دہشتگرد ہلاک ہوئے ہیں۔ جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں دو فوجی اہلکار شہید ہوئے۔‘

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ’دہشتگردوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا۔‘