پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ’ہر الیکشن میں کچھ لوگ یہ تاثر دیتے ہیں کہ ان کی حکومت آ رہی ہے، حکومت آنے کا تاثر دینے والوں کو عوام بہترین جواب دیں گے۔‘
سنیچر کو کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ جن کو لاہور میں ٹماٹر، انڈے پڑ رہے ہیں ان کو سندھ نہیں اپنے گھر کی فکر ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’میاں صاحب ووٹ کو عزت دیں، ووٹ کی بےعزتی نہ کریں، ووٹ کو عزت دینے سے ہی جمہوریت اور ملک مضبوط ہو گا۔‘
بلاول بھٹو نے مشورہ دیا کہ ’میاں صاحب انتظامیہ کے بجائے اپنے نظریہ اور منشور پر الیکشن لڑیں۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’میاں صاحب کا جس طرح جلسہ کرایا گیا اس سے اچھا تاثر نہیں بنا، 2018 میں کہا گیا فلاں لیڈرفرشتہ ہے باقی سب گندے ہیں، سنہ 2023 میں کسی اور کو فرشتہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، پاکستان کی تاریخ میں جو سلیکٹڈ حکومتیں بنیں وہ ناکام رہیں، پاکستان میں نئی سیاست لانے کا وقت ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کچھ لوگوں کو ہواؤں کے رُخ اُن کی طرف ہونے کی غلط فہمی ہے۔ انھوں نے کہا کہ رائے ونڈ کی طرف سے کسی نہ کسی طریقے سے ہوا بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم عوام کا لاڈلہ بننے کی کوشش کر رہے ہیں، ہم سمجھتے ہیں ہواؤں کا رُخ عوام بناتے ہیں، جب عوام فیصلہ کر لے تو پھر سب کو عوام کا فیصلہ ماننا پڑتا ہے، ہماری تو یہ سٹریٹیجی ہے باقی ان کی مرضی ہے۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ سندھ کے عوام پیپلزپارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ان کے مطابق 8 فروری کو پیپلز پارٹی عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی اور بلوچستان میں حکومت بنا کر عوام کے مسائل حل کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’انشاء اللہ پیپلزپارٹی کی حکومت بنے گی، سب کو پتا ہے چمن میں احتجاج ہو رہا ہے، احتجاج کرنے والوں کے مسائل کا حل نکالنا چاہیے، چمن مظاہروں کا نقصان پورے پاکستان کو ہو گا۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ بینظیر بھٹو نے ہمیشہ لیول پلیئنگ فیلڈ کے لیے جدوجہد کی۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ شفاف انتخابات اور لیول پلیئنگ فیلڈ کی بات کی ہے، ہم نہ صرف اپنے لیے بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ کی بات کرتے ہیں۔
پیپلز پارٹی جانتی ہے کہ سیاسی پچ پر کیسے کھیلا جاتا ہے، آصف زرداری نے صوبوں کو اختیارات دیے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ آصف زرداری نے 18 ویں ترمیم کے ذریعے بلوچستان کو حقوق دلوائے، دہشت گردی کا شکار علاقوں میں ترقی لے کر آئیں گے۔ انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں جیالے آج بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں، پاکستان کے نوجوان ان تمام مسائل کا سامنا مل کر کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’اسٹیبلشمنٹ ایک حقیقت ہے، تصادم کی سیاست کے بجائے سب کو مفاہمت کی طرف جانا چاہیے، 18 ویں ترمیم سےعوام کوفائدہ ہوا ہے، 18 ویں ترمیم کو ختم کرنے کا مقصد اختیارات اسلام آباد کو دینا ہو گا۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ اسلام آباد میں بیٹھے لوگ خود کام کرنا چاہتے ہیں نہ کسی اور کو کام کرنے دیتے ہیں، ایسی حکومت بنانی پڑے گی جو 18 ویں ترمیم پر عمل کرے۔