چلاس میں مسافر بس پر فائرنگ سے دو فوجی اہلکاروں سمیت آٹھ افراد ہلاک: ’فائرنگ اتنی شدید تھی کہ میں نے سوچا یہ میری زندگی کا آخری دن ہو گا‘

حکام کا کہنا ہے کہ چلاس کے علاقے ہڈور پڑی کے مقام پر گلگت سے راولپنڈی جانے والی بس پر نامعلوم افراد کی طرف سے فائرنگ کے باعث بس سامنے والے ٹرک سے ٹکرا گئی تھی۔ ڈپٹی کمشنر چلاس کے مطابق اس حادثے میں آٹھ افراد ہلاک جبکہ 26 زحمی ہوئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. رہنما پی ٹی آئی اسد قیصر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور

    اسد قیصر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق سپیکر قومی اسمبلی اور رہنما تحریک انصاف اسد قیصر کو خیبر پختونخوا کے شہر مردان کے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں نو مئی کے روز میڈیکل سٹور پر توڑ پھوڑ کے کیس کی سماعت کے بعد عدالت نے انھیں جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔

    دوران سماعت پولیس کی جانب سے اسد قیصر کا جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا کی گئی جسے عدالت نے مسترد کر دیا جس کے بعد مردان کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔

    اسد قیصر کے وکیل ندیم شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اسد قیصر کو کل رہائی ملنے کے بعد مردان میں درج کروائی گئی ایف آئی آر نمبر 832 میں دوبارہ گرفتار کیا گیا اور آج مجسٹریٹ نے چارج کرتے ہوئے ان کو جوڈیشل کر دیا ہے۔ ہم نے ان کی ضمانت کی درخواست دائر کر دی ہے امید ہے کل اس پر سماعت ہو گی۔‘

    یاد رہے کہ سنیچر کے روز مردان کی مقامی عدالت نے اسد قیصر کی ضمانت منظور کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ اگر اسد قیصر کسی اور مقدمہ میں ملوث نہ ہوں تو انھیں ضمانت پر رہا کردیا جائے۔

    جس کے بعد اسد قیصر کو گزشتہ روز ضمانت کے بعد مردان میں نو مئی کے توڑ پھوڑ کے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔

  2. رہنما پی ٹی آئی اسد قیصر گذشتہ روز رہائی ملنے کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر دوبارہ جیل میں

  3. چلاس کے قریب مسافر بس پر فائرنک میں آٹھ افراد ہلاک: ’فائرنگ اتنی شدید تھی کہ میں نے سوچا یہ میری زندگی کا آخری دن ہو گا‘

    چلاس کے قریب مسافر بس پر فائرنگ اور اس کے بعد ہونے والے حادثے کے باعث آٹھ افراد ہلاک اور 26 زخمی ہوئے ہیں۔

    ریجنل ہسپتال چلاس میں موجود مقامی صحافی فخرِ عالم قریشی نے زخمیوں اور اس واقعے کی عینی شاہدین سے بات کی ہے۔

    واقعے کے عینی شاہد محمد حسین نے صحافی فخرِ عالم کو بتایا کہ جب بس ہوڈور کے مقام پر پہنچی تو اچانک شدید فائرنگ شروع ہو گئی۔ مجھے خیال آیا کہ شاید چھت سے پتھر گر رہے ہیں ایسے میں میں گاڑی میں لیٹ گیا۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’بس بے قابو ہو کر بائیں سائیڈ سے آنے والے مال بردار ٹرک سے ٹکرا گئی۔ کافی دیر تک فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا جس کے بعد منظر تبدیل ہو گیا تھا۔

    ’سب مسافر خون میں لت پت تھے اور ٹرک کو آگ لگ چکی تھی۔‘

    محمد حسین نے بتایا کہ ’واقعے کے تقریباً 45 منٹ بعد ایک سرکاری گاڑی جائے وقوعہ پر پہنچی اور ساتھ ریسکیو اہلکار بھی موجود تھے جو ہمیں ہسپتال لے آئے۔‘

    عینی شاہد اور زخمیوں کی فہرست میں شامل نذیر نے بتایا کہ ’فائرنگ اتنی شدید تھی کہ اس وقت میں نے سوچا یہ زندگی کا آخری دن ہو گا۔

    ’اس کے بعد ہم گاڑی سے باہر آئے تو عجیب سماں تھا سب چلا رہے تھے۔‘

  4. اڈیالہ جیل میں سائفر کیس: ’صحافیوں کو دیکھ کر مقدمے کی دوبارہ سماعت‘

  5. بریکنگ, چلاس میں مسافر بس پر فائرنگ سے آٹھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی, عزیزاللہ خان، بی بی سی اردو

    سنیچر کی شام ساڑھے چھے بجے چلاس کے علاقے ہڈور پڑی کے سامنے گلگت سے راولپنڈی جانے والی بس پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے بس سامنے والے ٹرک سے جا ٹکرائی۔

    ڈپٹی کمشنر چلاس کیپٹن ریٹائرڈ عارف احمد نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس بس کے حادثے میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے ابھی تک پانچ کی شناخت ہوئی جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد 26 بنتی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر چلاس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں فوج کے دو جوان بھی شامل ہیں۔

    اس حادثے میں عبد القیوم ولد عبدالرؤف ساکن شداد کوٹ سندھ، نصیر حوالدار 23 بلوچ سندھ، کمال عباس ولد میرزا حسین ساکن نلتر، اورنگزیب ولد صوبیدار ساکن پالس کوہستان، میر عالم ولد داؤد ساکن ہنزہ شامل ہیں۔

    ڈی سی چلاس کیپٹن عارف کے مطابق یہ بس غذر کے علاقے گاگوچ سے راولپنڈی کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ ان کے مطابق اس بس کے مسافروں میں گُوپس سے تعلق رکھنے والے مفتی شیر زمان بھی شامل تھے، جو اس واقعے میں زخمی ہوئے ہیں۔

  6. ہر الیکشن میں کچھ لوگ یہ تاثر دیتے ہیں کہ ان کی حکومت آ رہی ہے: بلاول بھٹو

    BB

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ’ہر الیکشن میں کچھ لوگ یہ تاثر دیتے ہیں کہ ان کی حکومت آ رہی ہے، حکومت آنے کا تاثر دینے والوں کو عوام بہترین جواب دیں گے۔‘

    سنیچر کو کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ جن کو لاہور میں ٹماٹر، انڈے پڑ رہے ہیں ان کو سندھ نہیں اپنے گھر کی فکر ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’میاں صاحب ووٹ کو عزت دیں، ووٹ کی بےعزتی نہ کریں، ووٹ کو عزت دینے سے ہی جمہوریت اور ملک مضبوط ہو گا۔‘

    بلاول بھٹو نے مشورہ دیا کہ ’میاں صاحب انتظامیہ کے بجائے اپنے نظریہ اور منشور پر الیکشن لڑیں۔‘

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ’میاں صاحب کا جس طرح جلسہ کرایا گیا اس سے اچھا تاثر نہیں بنا، 2018 میں کہا گیا فلاں لیڈرفرشتہ ہے باقی سب گندے ہیں، سنہ 2023 میں کسی اور کو فرشتہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، پاکستان کی تاریخ میں جو سلیکٹڈ حکومتیں بنیں وہ ناکام رہیں، پاکستان میں نئی سیاست لانے کا وقت ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کچھ لوگوں کو ہواؤں کے رُخ اُن کی طرف ہونے کی غلط فہمی ہے۔ انھوں نے کہا کہ رائے ونڈ کی طرف سے کسی نہ کسی طریقے سے ہوا بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم عوام کا لاڈلہ بننے کی کوشش کر رہے ہیں، ہم سمجھتے ہیں ہواؤں کا رُخ عوام بناتے ہیں، جب عوام فیصلہ کر لے تو پھر سب کو عوام کا فیصلہ ماننا پڑتا ہے، ہماری تو یہ سٹریٹیجی ہے باقی ان کی مرضی ہے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ سندھ کے عوام پیپلزپارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    ان کے مطابق 8 فروری کو پیپلز پارٹی عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی اور بلوچستان میں حکومت بنا کر عوام کے مسائل حل کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’انشاء اللہ پیپلزپارٹی کی حکومت بنے گی، سب کو پتا ہے چمن میں احتجاج ہو رہا ہے، احتجاج کرنے والوں کے مسائل کا حل نکالنا چاہیے، چمن مظاہروں کا نقصان پورے پاکستان کو ہو گا۔‘

    بلاول بھٹو نے کہا کہ بینظیر بھٹو نے ہمیشہ لیول پلیئنگ فیلڈ کے لیے جدوجہد کی۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ شفاف انتخابات اور لیول پلیئنگ فیلڈ کی بات کی ہے، ہم نہ صرف اپنے لیے بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ کی بات کرتے ہیں۔

    پیپلز پارٹی جانتی ہے کہ سیاسی پچ پر کیسے کھیلا جاتا ہے، آصف زرداری نے صوبوں کو اختیارات دیے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ آصف زرداری نے 18 ویں ترمیم کے ذریعے بلوچستان کو حقوق دلوائے، دہشت گردی کا شکار علاقوں میں ترقی لے کر آئیں گے۔ انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں جیالے آج بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں، پاکستان کے نوجوان ان تمام مسائل کا سامنا مل کر کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اسٹیبلشمنٹ ایک حقیقت ہے، تصادم کی سیاست کے بجائے سب کو مفاہمت کی طرف جانا چاہیے، 18 ویں ترمیم سےعوام کوفائدہ ہوا ہے، 18 ویں ترمیم کو ختم کرنے کا مقصد اختیارات اسلام آباد کو دینا ہو گا۔‘

    بلاول بھٹو نے کہا کہ اسلام آباد میں بیٹھے لوگ خود کام کرنا چاہتے ہیں نہ کسی اور کو کام کرنے دیتے ہیں، ایسی حکومت بنانی پڑے گی جو 18 ویں ترمیم پر عمل کرے۔

  7. اٹھارویں ترمیم ادھوری ہے، اسے مکمل کریں گے: رہنما پاکستان مسلم لیگ ن

    Ahsen Iqbal

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماؤں احسن اقبال اور رانا ثنااللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم میں مزید اضافہ کریں گے اور اسے مزید مضبوط بنائیں گے مگر اس ترمیم سے کسی اختیار کو صوبوں سے واپس نہیں لیا جائے گا۔

    احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ ن سمجھتی ہے کہ اٹھارویں ترمیم ادھوری ہے، مسلم لیگ اس کو مکمل کرے گی اور اس کے روح کے مطابق عمل کرائے گی۔

    انھوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے مرکز سے اقتدار صوبوں تک منتقل ہوا مگر صوبوں سے یہ اختیار بلدیاتی اداروں کی طرف منتقل نہیں ہوا ہے۔

    رانا ثنااللہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی پتا نہیں کیوں اس حوالے سے پریشانی اور ابہام پیدا کرنا چاہتی ہے مگر ہم اٹھارویں ترمیم کے ذریعے دیے گئے اختیارات واپس نہیں لیں گے بلکہ عوام کو مزید اختیارات دیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ اگر بلاول بھٹو یہ سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ ن پر تنقید کر کے ووٹ ملیں گے تو پھر وہ پورا زور لگائیں۔ رانا ثنااللہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں ن لیگ مخالف ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے۔

  8. تحریک انصاف کے نئے منتخب ہونے والے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کون ہیں؟, اعظم خان بی بی سی اردو

    Gohar Ali Khan

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے انٹرا پارٹی الیکشن میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنے وکیل بیرسٹر گوہر علی خان کو پی ٹی آئی کے نگران چیئرمین کے لیے نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    گذشتہ چند روز سے تحریک انصاف کے چیئرمین کے عہدے سے متعلق ابہام موجود تھا کہ آیا وہ عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں یا نہیں اور اس حوالے سے آج پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر کی جانب سے کی گئی ایک پریس کانفرنس میں وضاحت کر دی گئی ہے۔

    انھوں نے اس بارے میں تفصیل سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی عمران خان سے گذشتہ روز جیل میں ملاقات ہوئی جہاں انھوں نے قانونی مشاورت کرتے ہوئے یہ سوال پوچھے کہ کیا وہ انٹراپارٹی الیکشن قانونی طور پر لڑ سکتے ہیں؟ اور اگر وہ اس میں حصہ لیں گے تو الیکشن کمیشن اس الیکشن کو کالعدم قرار دے گا یا نہیں؟

    بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ’اس بارے میں ہم عمران خان کے کیسز کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ عمران خان الیکشن میں حصہ تو لے سکتے ہیں اور لیکن اس سے الیکشن کو الیکشن کالعدم قرار دینے کا موقع مل سکتا ہے جو وہ نہیں چاہتے تھے۔‘

    اس لیے انھوں نے بیرسٹر گوہر علی خان کو نگران چیئرمین پی ٹی آئی نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    بیرسٹر گوہر نے اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا شکریہ ادا کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ عمران خان کے نگران کے طور پر کام کرتے رہیں گے جبکہ پارٹی کے اصل چیئرمین عمران خان ہی ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میرے پاس الفاظ نہیں ہیں عمران خان کا شکریہ ادا کرنے کے لیکن میں عمران کا نمائندہ، نامزد اور جانشین کے طور پر اس وقت تک رہوں گا جب تک عمران خان واپس نہیں آئیں گے۔ پی ٹی آئی کا نظریہ، جدوجہد وہی رہے گی۔‘

    نئے پارٹی چیئرمین کی نامزدگی کے اس اچانک فیصلے کے بعد یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ اس عہدے پر ’وائلڈ کارڈ انٹری‘ کرنے والے بیرسٹر گوہر علی خان ہیں کون؟

  9. ہم انٹرا پارٹی الیکشن کو مسترد کرتے ہیں، بلے کے لیے مزید خطرات بڑھیں گے: اکبر ایس بابر

    Akbar S Babar

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کیسا انتخاب تھا جس میں بانی اراکین کو شامل نہیں کیا گیا۔

    خیال رہے کہ اکبر ایس بابر تحریک انصاف کے بانی اراکین میں سے ہیں اور انھوں نے تحریک انصاف کو ملنے والی مبینہ فارن فنڈنگ کو الیکشن کمیشن کے سامنے چیلنج کیا تھا، جس پر کمیشن نے چھ سال بعد تحریک انصاف کے خلاف فیصلہ سنایا۔

    اکبر ایس بابر نے چند وکلا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ تحریک انصاف کے بانی اراکین میں سے ہیں مگر انھیں اور عمران خان کے کزن اور پارٹی کے بانی رکن سعیداللہ خان نیازی کو اس انتخاب میں حصہ نہیں لینے دیا گیا۔

    ان کے مطابق چند کنگلوں نے پارٹی کو ہائی جیک کیا ہے جو آج وہ ارب پتی ہیں۔

    اکبر ایس بابر نے کہا کہ آج جمہوریت کے نام پر فراڈ اور دھوکہ ہوا ہے کہ اہم عہدیداران بلا مقابلہ منتخب ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے آئین میں کیئرٹیکر کا لفظ نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ورکر اور میرٹ کو اہمیت نہیں دی گئی، جس سے پاکستان کی سیاست میں جمود رہے گا۔

    اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن نے ہر جماعت کے انٹرا پارٹی اور فنڈنگ کی سکروٹنی کی استدعا کی ہے۔

  10. عمران خان کے خط کا جواب: ’چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو اپنی آئینی ذمہ داریوں کا بخوبی ادراک ہے‘

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    ،تصویر کا ذریعہSUPREME COURT

    سابق وزیر اعظم عمران خان کے خط کے جواب میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے سیکریٹری کی طرف سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ انھیں ’اپنی آئینی ذمہ داریوں کا بخوبی ادراک ہے‘

    ایک پریس ریلیز میں چیف جسٹس کے سیکریٹری ڈاکٹر مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر ’نہ دباؤ ڈالا جاسکتا ہے اور نہ ہی وہ جانبداری کریں گے۔‘

    اس میں لکھا ہے کہ چیف جسٹس ’اپنے فرائض کی ادائیگی اور اپنے منصب کے حلف کی پاسداری کرتے رہیں گے۔‘

    یہ پریس ریلیز ایک دستاویز کے جواب میں جاری کی گئی ہے جس کے بارے میں سیکریٹری برائے چیف جسٹس کہتے ہیں کہ اسے ’تیار کرنے والے وکیل کا نام اور رابطے کی تفصیلات دستاویز میں ظاہر نہیں کی گئیں۔‘

    پریس ریلیز کے مطابق ’دستاویز بظاہر ایک سیاسی جماعت کی جانب سے بھیجی گئی ہے حالانکہ اس جماعت کی اچھی نمائندگی وکلا کرتے رہے ہیں۔۔۔ پچھلے دنوں سپریم کورٹ میں اس جماعت کے وکلا دو اہم مقدمات - فوجی عدالتوں اور انتخابات کے متعلق - میں پیروی کر کے انھیں تکمیل تک لے گئے۔‘

    چیف جسٹس کے سیکریٹری نے کہا کہ ’یہ امر حیران کن ہے کہ (ایک سربمہر لفافے میں) موصول ہونے سے پہلے ہی اس دستاویز کو میڈیا پر جاری کیا جاچکا تھا۔‘

    خیال رہے کہ 30 اکتوبر کو سابق وزیر اعظم عمران خان نے چیف جسٹس سے آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک خط لکھا تھا۔

    اس میں کہا گیا تھا کہ ’پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ افراد کو سیاسی انتقام اور جبری گمشدگیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘

    خط میں استدعا کی گئی کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں سمیت الیکشن کمیشن کو حکم دیا جائے کہ پی ٹی آئی کے اُمیدواروں کو الیکشن مہم کی اجازت دیں اور پیمرا کو حکم دیا جائے کہ وہ دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح پاکستان تحریک انصاف کی انتخابی مہم کی بھی میڈیا کوریج کرنے کی اجازت دی جائے۔

    سیکریٹری برائے چیف جسٹس نے لکھا ہے کہ یہ دستاویز ’انتظار پنجوتھا‘ نے کوریئر کی تھی۔ اس پر انتظار پنجوتھا نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’عمران خان کے خط کو سپریم کورٹ عملہ کے ذریعے چیف جسٹس تک پہنچانے کی کوشش کی گئی لیکن اس کو موصول کرنے سے انکار کے بعد یہی راستہ بتایا گیا کہ آپ بذریعہ ڈاک سے خط چیف جسٹس صاحب کو بھجوائیں، اور خط اسی طرح بھجوایا گیا۔

    اس میں لکھا ہے کہ ’تمام حقائق چیف جسٹس کے گوش گزار کرنے کا مقصد بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کو روکوانا تھا لیکن پریس ریلیز کے ذریعے دیے جانے والے جواب سے ایسی بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں رُک نہیں گئیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  11. پرویز الہی اور مونس الہی کے خلاف ایک ارب روپے سے زائد کا نیب ریفرنس دائر

    نیب نے لاہور کی احتساب عدالت میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی، ان کے بیٹے مونس الہی سمیت 12 ملزمان کے خلاف ایک ارب روپے سے زائد کا ریفرنس دائر کر دیا ہے۔

    نیب ریفرنس میں چوہدری پرویز الہی اور ان کے بیٹے مونس الہی کو مرکزی ملزم نامزد کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ملزمان قومی خزانے کو نقصان پہنچانے میں ملوث پائے گئے ہیں۔

    ریفرنس کے مطابق پرویز الہی اور مونس الہی نے غیر قانونی طور پر 116 ترقیاتی سکیمیں منظور کروائیں۔

    ریفرنس کے مطابق پرویز الہی اور مونس الہی نے من پسند ٹھیکے داروں کو کنٹریکٹ دلوا کر 75 کروڑ روپے سے زائد رقم رشوت اور کک بیکس کی مد میں لی۔

    نیب کے مطابق مونس الہی نے 10 لاکھ سے زائد یوروز اپنے غیر ملکی بینک اکاؤنٹ میں جمع کرائے ، پرویز الٰہی کے فیملی ممبرز نے 304 ملین سے زائد رقم اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں جمع کرائی۔

    نیب ریفرنس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزمان تفتیش میں قصوروار پائے گئے ہیں لہٰذا احتساب عدالت ٹرائل کر کے ملزمان کو سزا دے۔

    نیب کے مطابق سابق وزیراعلی پنجاب نے دیگر ملزمان سے آپس کی ملی بھگت سے مزکورہ 116 منصوبوں کے لیے سپلیمنٹری گرانٹ جاری کی۔ ٹھیکیداروں کو تعمیراتی منصوبے مکمل ہونے سے قبل ہی مکمل ادائیگی کر دی گئی جو غیرقانونی اقدام تھا۔

    نیب لاہور نے استدعا کی ہے کہ ملزمان تفتیش میں قصوروار پائے گئے ہیں احتساب عدالت ٹرائل کر کے ملزمان کو سزا دے۔

    واضح رہے کہ پرویز الہی اس وقت ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس اور پنجاب اسمبلی میں غیر قانونی تقرریوں کے الزامات سمیت متعدد مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

    انھیں ابتدائی طور پر اس سال یکم جون کو حراست میں لیا گیا تھا۔ پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ کو رہائی اور دوبارہ گرفتاریوں کے ایک طویل سلسلے کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد سے وہ حراست میں ہیں۔

  12. ’الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات کا نوٹس لے‘

    پاکستان پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے آج ہونے والے انٹرا پارٹی انتخابات کا نوٹس لے۔

    پیپلز پارٹی کے ترجمان فیصل کریم کنڈی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’نو منتخب چیئرمین پی ٹی آئی گوہر علی خان نے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا تھا۔ عمران حان کو اپنی جماعت سے کوئی نہیں ملا جو ایک جیالے کو چیئرمین بنایا۔‘

    فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ’آج کا الیکشن انٹرا پارٹی الیکشن کی تاریخ پر سوالیہ نشان ہے۔ پی ٹی آئی کا چیئرمین کہتے تھے کہ جو دو بار چیئرمین بنے گا تیسری بار ان کو اجازت نہیں ہو گی اور وہ خود اس عہدے پرایکسٹینشن پر تھے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’میں نے عجیب الیکشن دیکھا ہے۔ الیکشن کمیشن بتائے کہ کیا مفروروں کو بھی انتخاب لڑنے کی اجازت دے گا۔‘

    عجلت میں الیکشن کرانا پی ٹی آئی کے حق میں نہیں: احمد بلال محبوب

    دوسری جانب پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن پر پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’عمران خان اپنی جماعت میں اتنے پاپولر ہیں کہ وہ جن امیدواروں کی حمایت کرتے وہ منتخب ہو جاتے تو اس عجلت اور رازداری سے انتخابات کروانا تحریک انصاف کے حق میں نہیں اور لگتا ہے کہ یہ چیلینج ہو جائیں گے۔‘

    احمد بلال محبوب نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان میں سیاسی جماعتیں فری اینڈ فیئر انتخابات کی باتیں کرتی ہیں لیکن جب اپنی جماعت میں انتخاب کی بات آتی ہے تو سیاسی جماعتوں کے انٹرا پارٹی الیکشن میں شفافیت نظر نہیں آتی۔ جب یہ بات ہی پتہ نہیں چلی کہ انتخابات کیسے ہوئے ہیں تو ان کے نتائج کے بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ کتنے قابل اعتماد ہیں۔‘

    احمد بلال کے مطابق ’ ان انتخابات سے 1977 کی یاد تازہ ہو گئی ہے جب وزیر اعظم اور وزرا اعلی بلا مقابلہ منتخب ہو گئے ہیں اور ان کا جو حشر ہوا تھا وہ بھی سب کو معلوم ہے۔‘

    احمد بلال محبوب نے مزید کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ انٹرا پارٹی انتخابات اچھے طریقے سے ہوئے ہیں، عجلت میں الیکشن کرانا پی ٹی آئی کے حق میں نہیں انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن میں ووٹرز لسٹ نہیں دی گئی، اکبر ایس بابر کو مقابلہ کرنے کا پورا موقع دیا جانا چاہیے تھا۔‘

  13. انسداد دہشت گردی عدالت نے پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کر لی

    لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے تحریک انصاف کی کارکن صنم جاوید کی ضمانت بعد از گرفتاری دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کر لی ہے۔

    پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید کو نو مئی کو ہونے والے جلاؤ گھیراؤ اور پُرتشدد واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات پر گرفتار کیا گیا تھا۔

    عدالتی احکامات کے باوجود صنم جاوید کی رہائی کی صورت حال تاحال واضح نہیں ہو سکی۔

    اکتوبر میں صنم جاوید کو عدالت نے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا تاہم وہ جیسے ہی لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے باہر نکلیں تو پولیس اُن کے انتظار میں تھی اور انھیں ایک دوسرے مقدمے میں گرفتار کر کے دوبارہ جیل بھیج دیا گیا تھا۔

    ان کی وکیل خدیجہ صدیقی نے اکتوبر میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’صنم جاوید کو پہلے بھی کم از کم تین مرتبہ عدالت سے ضمانت ملنے کے باوجود دوبارہ کسی نہ کسی دوسرے مقدمے میں گرفتار کیا گیا۔‘

  14. نومنتخب پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر: ’چیف جسٹس اپنی گاڑیاں واپس نہ کریں بلکہ ہمیں انصاف دلوا دیں‘

    پاکستان تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن میں بلا مقابلہ نو منتخب چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ’میں جب تک (چیئرمین) ہوں اس وقت تک عمران خان کی نمائندگی کروں گا۔‘

    پشاور میں انٹرا پارٹی انتخابات کے بعد میڈیا سے بات چیت میں بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان تھے، آج بھی ہیں اور ’تاحیات چیئرمین رہیں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’سابق چیئرمین تحریک انصاف کا فیصلہ ہی ہمارا تھا اور رہے گا۔ یہ منصب میرے پاس ایک امانت کے طور پر ہے اور جب تک رہے گا جب تک عمران خان باہر نہیں آ جاتے۔‘

    ’پاکستان کی 175 سیاسی جماعتیں ہیں جو 1960 سے اپنے انٹرا الیکشن پارٹی کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کروا رہی ہیں لیکن آج تک کسی کے انتخابات اس طرح نہیں دیکھے گئے جیسے ہمارے دیکھے گئے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’آج بھی ہماری آدھی سے زیادہ قیادت کو قید کا سامنا ہے۔ میری چیف جسٹس سے گزارش ہے کہ اپنی گاڑیاں واپس نہ کریں بلکہ ہمیں انصاف دلوا دیں۔‘

    خیال رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسی کو دی گئی گاڑیوں کی نیلامی کے لیے رجسٹرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے سیکریٹری کابینہ اور چیف سیکرٹری پنجاب کو خط ارسال کیا تھا۔ اس میں ایک مرسیڈیز بینز سمیت دو لگژری گاڑیوں کی نیلامی کی ہدایت دی گئی تھی۔

    خط مزید میں کہا گیا ہے کہ آئینی عہدوں کے لیے لگژری گاڑیاں درآمد کرنا مناسب نہیں ہے جبکہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دونوں گاڑیاں استعمال نہیں کیں۔ اس میں لکھا ہے کہ ’گاڑیوں کی نیلامی سے حاصل رقم پبلک ٹرانسپورٹ پر خرچ کی جائے۔‘

    دریں اثنا بیرسٹر گوہر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ عمران خان کے جان نشین کی حیثیت سے ذمہ داری نبھاتے رہیں گے۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود سوائے تحریک انصاف کے کسی سیاسی جماعت کی فارن فنڈنگ پر کارروائی آگے نہیں بڑھائی گئی۔

  15. عمران خان کے خلاف سائفر کیس کی سماعت ملتوی: ’آپ پر آفیشل سیکرٹس کے ترمیمی قانون کی کوئی شق لاگو نہیں ہوگی‘, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اڈیالہ جیل

    اڈیالہ جیل میں جج ابواحسنات محمد ذوالقرنین کی خصوصی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف سائفر کیس کی سماعت بغیر کارروائی کے پیر (4 دسمبر) تک ملتوی کر دی ہے۔

    اگرچہ گذشتہ سماعت میں میڈیا کو کمرہ عدالت تک رسائی دینے کی اجازت دی گئی تھی تاہم صرف تین صحافیوں کو اڈیالہ جیل کے اندر جانے دیا گیا اور جب وہ اندر پہنچنے تب تک سماعت ختم ہوچکی تھی۔ اس سماعت کے دوران عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی حاضری لی گئی۔

    پراسیکیوشن اور پی ٹی آئی کے وکلا کے مطابق سماعت کے آغاز میں شاہ محمود قریشی نے عدالت سے صدر ڈاکٹر عارف علوی کو طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں بتایا جائے کہ ہمارا ٹرائل آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 یا 2023 کس قانون کے تحت کیا جا رہا ہے؟

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں کبھی بھی سکیورٹی خدشات نہیں رہے۔ اکیلا گاڑی میں آتا جاتا رہا۔ ہمارے پروڈکشن آرڈر پر جیل انتظامیہ نے حکم عدولی کی۔‘

    سابق وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’ہماری ضمانت پر انتطامیہ نے ریکارڈ پیش نہ کیا۔ ہمیں اس کیس میں ٹرائل کرنے کی کوشش جاری ہے جس کا نہ سر ہے نہ پاؤں۔

    ’آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے ترمیمی قانون سے صدر پاکستان بھی انکاری ہے۔ میری گزارش ہے کہ صدر پاکستان کو عدالت طلب کیا جائے۔ وہ عدالت میں حلف دے کر بتائیں انھوں نے یہ ترمیم منظور کی یا نہیں۔‘

    شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ ’میرے پاس جہانگیر ترین جیسے لوگ نہیں کہ بڑے وکیل کی خدمات حاصل کر سکوں۔ چیئرمین (عمران خان) مشہور شخص ہیں، بڑے نامور وکلا ان کے کیس کی پیروی کرنے کو تیار ہیں۔‘

    اس پر جج نے ریمارکس دیے کہ ’میڈیا اور پبلک آج موجود ہے۔ آپ کو سکیورٹی خدشات کی وجہ سے عدالت پیش نہیں کیا گیا۔ آپ اور چیئرمین پی ٹی آئی کا ٹرائل الگ نہیں ہو سکتا۔ یہ کیس انٹر لنکڈ ہے۔‘

    انھوں نے واضح کیا کہ ’آپ پر عارف علوی والے ترمیمی قانون کی کوئی شق لاگو نہیں ہوگی۔ آپ کا ٹرائل آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی شق نو اور پانچ کے تحت ہو گا۔ ہم میرٹ پر کارروائی کریں گے۔‘

    خیال رہے کہ سائفر گمشدگی کے مقدمے میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر سیکریٹ ایکٹ 1923 کی دفعہ پانچ اور نو کی خلاف ورزی کا الزام ہے، جو کہ سٹیٹ سیکرٹس کے بارے میں ہیں۔

    سماعت کے دوران عمران خان نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے بطور وزیراعظم اس معاملے کی انکوائری کا آرڈر دیا تھا اور اس میں جو لوگ ملوث ہیں ’وہ طاقتور ہیں۔ انھیں بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اللہ کے سوا مجھے کسی کا ڈر نہیں۔ ہمیں بکریوں کی طرح بند کر دیا گیا، نواز شریف کو وہاں سے یہاں لے آئے۔‘

    جیل میں عدالتی سماعت پر وکیل انتظار پنجوتھہ نے اعتراض کیا تو عدالت نے انھیں روک دیا۔

  16. بریکنگ, انٹرا پارٹی الیکشن میں بیرسٹر گوہر علی خان بلا مقابلہ تحریک انصاف کے چیئرمین منتخب

    بیرسٹر گوہر

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    چیف الیکشن کمشنر پی ٹی آئی نیاز اللہ نیازی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انٹرا پارٹی الیکشن میں عمران خان کے نامزد کردہ بیرسٹر گوہر علی خان کو بلا مقابلہ چیئرمین منتخب کیا گیا ہے۔

    نیاز اللہ نیازی نے مزید کہا ہے کہ بیرسٹر علی گوہر پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین منتخب ہوئے ہیں جبکہ عمرایوب مرکزی جنرل سیکرٹری کے عہدے پر منتخب ہوگئے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ یاسمین راشد پنجاب کی صوبائی صدر منتخب ہوئی ہیں جبکہ منیر احمد بلوچ بلوچستان کے صوبائی صدر ،علی امین گنڈا پور خیبرپختونخوا کے صوبائی صدراور حلیم عادل شیخ سندھ کے صوبائی صدر منتخب ہوگئے ۔

    نیاز اللہ نیازی کے مطابق یہ ایک پینل الیکشن تھا اور تمام امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوگئے ہیں۔

  17. پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات: بیرسٹر گوہر کا بلا مقابلہ چیئرمین منتخب ہونے کا امکان

    انٹرا پارٹی انتخابات

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پاکستان تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن آج پشاور میں ہو رہے ہیں جس کے لیے ووٹنگ کا عمل صبح 11 بجے شروع ہو گا۔

    ترجمان تحریک انصاف کی جانب سے جاری بیان کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین کا انتخاب دو دسمبر بروز ہفتہ دن 11 بجے بمقام رانو گھڑی نزد پشاور ٹول پلازہ تحصیل چمکنی ڈسٹرکٹ پشاور میں ہو گا۔

    اس انتخاب میں عمران خان کے وکیل اور پارٹی رہنما بیرسٹر گوہرعلی خان کے بلامقابلہ چیئرمین منتخب ہونے کا امکان ہے۔

    انٹرا پارٹی الیکشن کے دوران پی ٹی آئی کے چیئرمین، وائس چیئرمین، مرکزی صدر، جنرل سیکرٹری سمیت صوبائی قیادت کا چناؤ ہو گا۔

    تحریک انصاف کے انٹراپارٹی انتخابات کے لیے بانی چیئرمین عمران خان کے نامزد کردہ امیدوار برائے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے گذشتہ روز اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے تھے۔

    تحریک انصاف کے اعلامیے کے مطابق کاغذاتِ نامزدگی ریٹرننگ افسر سردار مصروف خان ایڈووکیٹ نے وصول کیے تھے۔

    سینئر مرکزی رہنما احمد اویس بیرسٹر گوہر علی خان کے تجویز کنندہ ہیں مرکزی سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن چیئرمین کے انتخاب کیلئے بیرسٹر گوہر علی خان کے تائید کنندہ ہیں۔

    بیرسٹر گوہر

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے گذشتہ سال کروائے گئے انٹرا پارٹی الیکشن کلعدشم قرار دی دیے تھے۔

    الیکشن کمیشن نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا تھا کہ اگر پی ٹی آئی 20 روز میں انتخابات نہیں کرواتی تو وہ اپنے انتخابی نشان یعنی بلے سے محروم ہو جائے گی اور ان کے امیدوارعام انتخابات میں اس نشان پر الیکشن نہیں لڑ سکیں گے۔

  18. حلقہ بندیوں پرایم کیو ایم پاکستان کے خدشات، چیف الیکشن کمیشن نے چار دسمبر کو ملاقات کی دعوت دے دی

    الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کے معاملے پر ایم کیو ایم کے اعتراٰضات اور تحفظات دور کرنے کے لیے چار دسمبر کوملاقات و مذاکرات کی دعوت دے دی ہے۔

    یاد رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے حتمی حلقہ بندیوں کے نوٹیفیکیشن کے بعد ایم کیو ایم نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کومسترد کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    جمعے کے روز پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کے کنوینیئر خالد مقبول صدیقی نے الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ ’اگر الیکشن کمیشن کا ادارہ ہی زبان و علاقے کی بنیاد پر زیادتیوں کا مرتکب ہوگا تو صاف و شفاف الیکشن کیسے ہوں گے؟‘

    ان الزامات کے سامنے آنے کے بعد ترجمان الیکشن کمیشن کی جانب سے بیان جاری کیا گیا جس کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں اجلاس چار دسمبر کو دن 10 بجے ہو گا جس میں سکندر سلطان راجہ ایم کیو ایم کے حلقہ بندیوں سے متعلق تحفظات دور کریں گے۔

    یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے 30 نومبر کو حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست کا اجرا کیا تھا۔

    ایم کیو ایم کے رہنما مصطفی کمال نے بھی ایم کیو ایم کے تحفظات بیان کرتے ہوئے پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا کہ ’الیکشن کمیشن پر ہمارا اعتماد اب متزلزل ہو رہا ہے، ایم کیو ایم نے 13 حلقوں پر اعتراضات جمع کرائے لیکن ان کے اعتراضات پر کوئی ایکشن نہیں ہوا، پیپلز پارٹی کے تمام اعتراضات پر من و عن عمل کیا گیا۔‘

  19. سماعت سے قبل اڈیالہ جیل کے باہر کے مناظر

    اڈیالہ جیل
    اڈیالہ جیل
    اڈیالہ جیل
    اڈیالہ جیل
    اڈیالہ جیل