کبھی لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملا، تیر کی حکومت بنا کر دکھائیں گے: بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنھوں نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا ان کا چہرہ بھی سامنے آ گیا۔ ان کے مطابق اب ایک بار پھر ’جنگ کا میدان سجنے والا ہے، الیکشن کا میدان سجنے والا ہے۔‘

لائیو کوریج

  1. ’سہون شریف ہو یا برطانوی سفارتخانہ شیما کرمانی بہت باہمت رہی، افسوس کہ ایک بھی پاکستانی ان کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا‘

  2. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ پاکستان کے حوالے سے تازہ ترین خبروں کے بارے میں جاننے کے لیے اب یہاں کلک کیجیے

  3. نواز شریف مجھے کیوں نکالا کا بیانیہ لندن بھول آئے ہیں: رہنما پیپلز پارٹی ندیم افضل چن

    ٰندیم افضل چن

    ،تصویر کا ذریعہTWITTER

    پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’نواز شریف مجھے کیوں نکالا کا بیانیہ لندن بھول آئے ہیں اور احسن اقبال، سعد رفیق اور رانا ثنااللہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کو ڈھونڈیں۔‘

    انھوں نے لیگی رہنماؤں کی پریس کانفرنس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی مقبولیت سے پردیسی بابو پریشان ہیں۔

    ندیم افضل کے مطابق ’سعد رفیق پی آئی اے کو ہتھیانے کے لیے نواز شریف کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔‘

    رانا ثنااللہ کے دعوے کی نفی کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کو پنجاب سے 25 نشستیں بھی نہیں ملیں گی۔ ندیم افضل چن کے مطابق ’وفاق اور پنجاب میں شریفوں کی حکومتیں ہونے کے باوجود لیگیوں کی ضمانتیں ضبط ہوئیں۔‘

  4. وزیر داخلہ سرفراز بگٹی والی کمیٹی قابل قبول نہیں: وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز, محمد کاظم بی بی اردو، کوئٹہ

    Baloch

    بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے نگراں وفاقی وزیر داخلہ میر سرفرازبگٹی کی سربراہی میں لاپتہ افراد کے بارے میں کمیٹی کے قیام کو مسترد کر دیا ہے۔

    سنیچر کو کوئٹہ پریس کلب کے باہر ایک مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ حکومت لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنانے میں مخلص نہیں ہے اوربین الاقوامی برادری کو دھوکہ دینے کے لیے ہرحکومت ایک کمیشن بناتی ہے۔

    ان کے مطابق ’ہرحکومت آکرایک کمیشن یا کمیٹی بناتی ہے جس کا مقصد بین الاقوامی برادری کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سنجیدہ ہیں-

    ان کے مطابق اسی طرح کی ایک کمیٹی نگراں حکومت نے بنائی ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل وفاقی حکومت نے نگراں وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کی قیادت میں بلوچستان میں لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنائی تھی۔

    نصراللہ بلوچ نے کہا کہ ’لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کمیٹی ایک ایسے شخص کی سربراہی میں بنائی گئی ہے جس نے ہمیشہ جبر کی بات کی ہے اور بلوچستان میں جو ظلم و جبر ہو رہا ہے انھوں نے اس کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔

    ان کے مطابق یہ ایک ایسے متنازع شخص سے کیسے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کسی مثبت پیش رفت کی توقع رکھ سکتے ہیں-‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ 'نگراں حکومت کے آتے ہی نہ صرف جبری گمشدگی کے واقعات بلکہ ایسے لوگوں کو جعلی مقابلوں میں ہلاک کرنے کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔‘

    نصراللہ بلوچ نے کہا کہ اگر حکومت لاپتہ افراد کی بازیابی میں مخلص ہے تو وہ سنہ 2010 اور گذشتہ حکومت میں سردار اخترمینگل کی سربراہی میں بننے والے کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کرائے-‘

    ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کی تنظیم لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔

  5. کبھی لیول پلئینگ فلیڈ نہیں ملی، تیر کی حکومت بنا کر دکھائیں گے: بلاول بھٹو

    PPP

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان پیلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کو کبھی بھی لیول پلیئنگ فلیڈ نہیں ملی مگر پھر بھی وہ انتخابات جیتی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر آج بھی کوئی وزیراعظم بننا چاہتا ہے تو ہم مقابلہ کر کے دکھائیں گے۔

    انھوں نے سنہ 1988 اور 2008 کے عام انتخـابات کا خاص طور پر حوالہ دیا۔ یاد رہے کہ سنہ 1988 میں بلاول بھٹو کی والدہ بے نظیر بھٹو 35 برس کی عمر میں پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہوئی تھیں۔

    بے نظیر بھٹو کے خلاف نواز شریف کی جماعت سمیت متعدد سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایک انتخابی اتحاد ’آئی جے آئی‘ تشکیل دیا گیا تھا۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ سنہ 2024 کے الیکشن میں کسی بھی آئی جے آئی کا حصہ نہیں بنیں گے اور وہ نفرت اور تقسیم کی سیاست کو دفن کرنا چاہتے ہیں۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ سنہ 2008 کے عام انتخابات سے چند دن قبل ان کی والدہ کو قتل کر دیا گیا مگر پھر بھی ان کی جماعت انتخابات جیتنے میں کامیاب ہوئی اور پاکستان کے عوام کا اعتماد لے کر اقتدار میں آئی۔

    واضح رہے کہ سنہ 27 دسمبر 2007 کو بے نظیر بھٹو کو اس وقت قتل کر دیا گیا تھا جب وہ راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرنے کے بعد واپس جا رہی تھیں۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ اب ایک بار پھر ’جنگ کا میدان سجنے والا ہے، الیکشن کا میدان سجنے والا ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کے عوام اور 70 فیصد نوجوان پرانے سیاستدانوں سے تنگ آ چکے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم تیر کے نشان پر جیتیں گے اور اقتدار میں آکر اس ملک کی خدمت کریں گے۔‘

  6. جنھوں نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا ان کا چہرہ بھی سامنے آ گیا: بلاول بھٹو

    BB

    ،تصویر کا ذریعہPPP

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنھوں نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا ان کا چہرہ بھی سامنے آ گیا۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ نہ ہی وہ ووٹ کی عزت کرتے ہیں اور نہ ہی انھیں خدمت کرنا آتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ بطور وزیر خارجہ وہ معیشت کو نہیں دیکھ سکتے تھے۔ بلاول نے کہا کہ ’جب جیالا وزیراعظم ہو گا، جب جیالا وزیر خارجہ ہو گا تو پھر میں صحیح طریقے سے خدمت کر سکوں گا۔‘

    مسلم لیگ ن کا نام لیے بغیر انھوں نے کہا کہ ’وہ حکومت میں آ کر صرف اور صرف اشرافیہ کا سوچتے ہیں، صرف امیروں کا سوچتے ہیں جبکہ ہم پسماندہ طبقے اور عام آدمی کے لیے سوچتے ہیں۔‘

    بلاول بھٹو نے کہا کہ میں اپنی 16 ماہ کی کارکردگی پر انتخابات لڑ سکتا ہوں جبکہ وہ اپنی 16 ماہ کی کارکردگی پر شرمندہ ہیں۔

    بلاول بھٹو نے بغیر نام لیے مسلم لیگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ مہنگائی لیگ بن چکی ہے، وہ گڈ گورننس کرنا نہیں جانتی۔‘

  7. گوہر ایوب خان: ایک طرحدار سیاستدان کی رخصتی

  8. شہباز شریف، فواد حسن اور احد چیمہ سمیت آشیانہ اقبال ریفرنس میں تمام ملزمان بری

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    احتساب عدالت آشیانہ اقبال ریفرنس میں سابق وزیراعظم شہباز شریف سمیت تمام ملزمان کو بری کردیا۔

    لاہور کی احتساب عدالت کے جج ملک علی ذوالقرنین نے آشیانہ اقبال کیس پر فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر دس ملزمان کو ریفرنس سے بری کر دیا۔

    شہباز شریف سمیت دیگر ملزمان کے خلاف آشیانہ اقبال ریفرنس سنہ 2018 میں دائر کیا گیا تھا۔

    عدالت نے اس ریفرنس میں جن تمام ملزمان کو بری کیا ان میں شہباز شریف کے علاوہ اس وقت نگران وفاقی وزیر فواد حسن فواد بھی شامل ہیں۔

    دیگر بری ہونے والے ملزمان میں احد چیمہ، شاہد شفیق، بلال قدوائی، امتیاز حیدر، اسرار سعید اور عارف بٹ شامل ہیں۔

    واضح رہےکہ آشیانہ اقبال ریفرنس میں نیب نے کہا تھا کہ 16 ہزار غریب شہریوں نے اس میں 61 کروڑ روپے جمع کرائے تھے، کمپنیوں کی نااہلی کی وجہ سے حکومت کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا تھا، عدالت نے اس ریفرنس میں دس ملزمان پر فرد جرم عائد کی تھی۔

  9. کیا ہم لاڈلے اس لیے ہو گئے کہ ہمارے اوپر جھوٹے مقدمات ختم ہو رہے ہیں: رانا ثنااللہ

    رانا ثنااللہ

    ،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

    سابق وفاقی وزیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ہم بالکل اس حق میں ہیں کہ تمام سیاسی جماعتوں کو الیکشن میں حصہ لینے کا حق ملنا چاہیے۔

    ماڈل ٹاؤن لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے باقی سیاسی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کیا ہم لاڈلے اس لیے ہو گئے کہ ہمارے اوپرجھوٹے مقدمات ختم ہورہے ہیں؟ کیا ہمارے خلاف بنائے گئے جھوٹے مقدمات قائم رہنے چاہئیں، تنقید کا ہم برا نہیں مانتے، لیکن تنقید ایک دائرے میں ہونی چاہیے۔

    واضح رہے کہ جمعے کو مردان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ ’اگر ایک بار پھر الیکشن نہیں سیلیکشن ہوئی تو نقصان پاکستان کے عوام اٹھائیں گے۔‘

    مسلم لیگ کو مہنگائی لیگ کہتے ہوئے انھوں نے تنقید کی کہ اس وقت الیکٹیبلز کی پرانی سیاست کی جا رہی ہے۔

    رانا ثنااللہ نے کہا کہ ’الیکٹیبلز ہونا کوئی گالی یا برائی نہیں ہے۔ امید ہے عوام مسلم لیگ ن کو مینڈیٹ دیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ حکومت ملی تو ملک کو سنہ 2017 والے ٹریک پر لے کرجائیں گے، ہم چاہتے ہیں کہ تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ہونی چاہیے۔ ہم وننگ پوزیشن میں ہیں، ہمیں دکھائی دے رہا ہے بلکہ سب کو ہی دکھائی دے رہا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ نوازشریف کے خلاف جھوٹے کیسز کی اپیلوں کی سماعت ہونی چاہیے، اور وہ سرخرو ہو کر کیسز سے بری ہوں گے۔ اگر نوازشریف کے کیسز کا فیصلہ نہ آیا یا رکاوٹ بنتی ہے تو سب سن لیں کہ ن لیگ کا نوازشریف کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ اٹل ہے۔

    سابق وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نے کہا کہ جیسے ہی انتخابات کا شیڈول جاری ہوگا انتخابی مہم شروع کردیں گے۔ اگلے ہفتے سے نواز شریف پارلیمان بورڈ کی میٹنگ کی صدارت کریں گے اور پنجاب کے ہر ڈویژن میں نواز شریف شرکت کریں گے۔

    رانا ثنا اللہ کہتے ہیں کہ بھرپور انداز سے پنجاب میں پارٹی کی الیکشن کمپین شروع کریں گے، ہمارے جائزے کے مطابق ہمارے مطابق ہم پنجاب سے 120 سے 125 تک سیٹیں حاصل کریں گے۔

    رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ سادہ اکثریت سے حکومت بنانے جارہے ہیں، ہم نے الیکشن مہم کو منظم اور متحرک طریقے سے چلانا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو ملک پر مسلط کرنے کے لیے نوازشریف کی حکومت کو ختم کیا گیا، لیکن اب ن لیگ جنوبی پنجاب میں 46 میں سے 35 حلقوں میں جیتنے کی پوزیشن میں ہے۔

  10. فوجی عدالتوں پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہیں کی: نگران وزیراعلیٰ سندھ

    ٰوزیراعلیٰ

    ،تصویر کا ذریعہTWITTER

    سندھ کے نگران وزیراعلیٰ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نے ان خبروں کی تردید کی ہے، جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ صوبائی حکومت نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل روکنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ سے اسے کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی۔

    بی بی سی کے نامہ نگار اعظم خان سے بات کرتے ہوئے نگران وزیراعلیٰ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نے کہا کہ ’سندھ حکومت عام شہریوں کے فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے کے حق میں نہیں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہماری پوزیشن بہت واضح ہے کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف کسی بھی قسم کی اپیل دائر نہیں کریں گے۔‘

    خیال رہے کہ اس سے قبل بی بی سی اردو سمیت بعض میڈیا میں یہ خبریں شائع ہوئیں کہ سندھ حکومت نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کو کالعدم قرار دینے کے سپریم کورٹ کے 23 اکتوبر کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی ہے۔

    سندھ کے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اپیل دائر کی نہ انھوں نے کوئی ایسی ہدایت دی ہے۔

    واضح رہے کہ 23 اکتوبر 2023 کو سپریم کورٹ نے عام شہریوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ عام شہریوں کے مقدمات کو فوجی عدالتوں میں نہیں چلایا جا سکتا۔

    سپریم کورٹ نے نو اور دس مئی کے واقعات میں گرفتار ہونے والے تمام ملزمان کے مقدمات فوجی عدالتوں سے فوجداری عدالتوں میں بھیجنے کا حکم دیا تھا۔ جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے چار ایک کی اکثریت سے سویلین کے خلاف ٹرائل فوجی عدالتوں میں چلانے کے خلاف دائر درخواستوں پر یہ فیصلہ سُنایا تھا۔

  11. نگراں حکومت غیر جانبدار رہے گی،آزادانہ اور شفاف انتخابات یقینی بنائیں گے،نگران وزیراعظم انوار کاکڑ

    انوار الحق کاکڑ

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کےعزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نگران حکومت آئندہ عام انتخابات میں مکمل طور پر غیر جانبدار رہے گی، ملک کی معیشت اب مستحکم ہو چکی ہے۔

    خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق نگران وزیر اعظم نے یہ بات نجی ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں کی ہے۔

    نگران وزیراعظم نے کسی مخصوص سیاسی جماعت کی حمایت کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتیں عام طور پر اپنے ووٹروں کو مختلف طریقوں سے اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور ایسے الزامات ان جماعتوں کا سیاسی بیانیہ ہو سکتا ہے۔

    وزیر اعظم نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ ان کی کابینہ کے ایک رکن فواد حسن فواد کی کسی مخصوص سیاسی جماعت سے وابستگی ہے۔ وہ کابینہ کے بہترین رکن اور قابل سابق بیوروکریٹ ہیں، وہ اپنی بہترین صلاحیتوں کے باعث ہر حکمران جماعت کا پسندیدہ انتخاب بنتے تھے۔

    فواد حسن فواد بھی نجکاری کے عمل میں اچھا کام کر رہے ہیں اور امید ہے کہ نگران حکومت کے خاتمے سے قبل یہ عمل مکمل ہو جائے گا۔

    پی ٹی آئی چیئرمین کے آئندہ الیکشن میں حصہ لینے کے حوالے سے سوال پر انھوں نے کہا کہ یہ عدالتی نتائج پر منحصر ہے، اگر عدالتوں نے انہیں الیکشن لڑنے سے روک دیا تو نگراں حکومت عدالتی احکامات پر عمل کرنے کی پابند ہوگی۔

    غیر قانونی تارکین وطن کی پاکستان سے بے دخلی کے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم نے اس حوالے سے کسی بیرونی دبائو کے تاثر کو مسترد کر دیا اور کہا کہ افغان باشندے ہمارے دشمن نہیں ہیں۔پاکستان نے افغان شہریوں کے ملک میں رہنے پر پابندی نہیں لگائی لیکن شرط یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو مناسب قانونی دستاویزات کے ساتھ رجسٹر کروائیں۔

  12. آرمی چیف کی علما سے ملاقات: ’ریاست کے علاوہ کسی بھی ادارے یا گروہ کو طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں دی جا سکتی‘

    آئی ایس پی آر

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے علما کے وفد سے ملاقات میں کہا ہے کہ ریاست کے علاوہ کسی بھی ادارے یا گروہ کا طاقت کا استعمال ناقابل قبول ہے۔

    فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے علمائے کرام و مشائخ نے ملاقات کی ہے، جس میں تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علمائے کرام و مشائخ شامل تھے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق علما نے متفقہ طور پر انتہا پسندی، دہشت گردی، فرقہ واریت کی مذمت کی اور ملک میں رواداری، امن و استحکام کے لیے سکیورٹی فورسز کی کوششوں کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق علما نے کہا کہ اسلام امن اور ہم آہنگی کا مذہب ہے، بعض عناصر کی طرف سے مذہب کی مسخ شدہ تشریحات صرف ان کے ذاتی مفادات کے لیے ہیں، جن کا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    آرمی چیف نے کہا کہ معاشرے میں خاص طور پر اقلیتوں اور دیگر کمزور طبقوں کے خلاف عدم برداشت اور انتہا پسند رویوں کی کوئی جگہ موجود نہیں ہے۔

    آرمی چیف نے گمراہ کن پروپیگنڈے کے خاتمے کے لیے مذہبی علما کے ’پیغام پاکستان‘ فتوے کو سراہا اور آرمی چیف نے گمراہ کن پروپیگنڈے کی تشہیر، تدارک، اندرونی اختلافات کو دور کرنے پر زور دیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق علما نے حکومت کی جانب سے غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکیوں کی وطن واپسی کی حمایت کی اور افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی پر پاکستان کے موقف اور تحفظات کی مکمل حمایت کی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فورم نے غزہ میں جنگ اور نہتے فلسطینیوں پر مظالم پر بھی غم و غصے کا اظہار کیا، غزہ میں جاری مظالم کو انسانیت کے خلاف جرائم قرار دیا۔

    اس موقع پر آرمی چیف نے کہا کہ ریاست کے علاوہ کسی بھی ادارے یا گروہ کا طاقت کا استعمال ناقابل قبول ہے، پاکستان کسی مذہبی، صوبائی، قبائلی، لسانی، نسلی تفریق کے تمام پاکستانیوں کا ہے۔

  13. سابق وزیر خارجہ گوہر ایوب خان وفات پا گئے

    گوہر ایوب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے سابق وزیر خارجہ گوہر ایوب وفات پا گئے ہیں۔ ان کے بیٹے عمر ایوب خان نے ان کی وفات کی تصدیق کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے والد مختصر علالت کے بعد جمعے کو وفات پا گئے ہیں۔ عمر ایوب خـان سابق وفاقی وزیر اور تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل ہیں۔

    گوہر ایوب خان کی نمازہ جنازہ سنیچر کو دن تین بجے ہری پور میں ان کے آبائی گاؤں ریحانہ میں ادا کی جائے گی۔ ریحانہ میں گوہر ایوب کے والد، والدہ اور دیگر رشتہ دار مدفون ہیں۔

    گوہر ایوب خان پاکستان کے پہلے فیلڈ مارشل ایوب خان کے بیٹے ہیں۔ گوہر ایوب خان قومی اسمبلی کے سپیکر بھی رہ چکے ہیں۔

    گوہر ایوب 15 جنوری 1937 کو (اب صوبہ خیبر پختونخوا کے) ضلع ہری پور کے گاؤں ’ریحانہ‘ میں پیدا ہوئے۔

    وہ پہلے چوٹی کے مشنری سکول ’آرمی برن ہال کالج‘ بھیجے گئے پھر راولپنڈی کے انتہائی مہنگے اور حکمراں طبقے کے لیے مخصوص نجی سکول ’سینٹ میریز اکیڈمی‘ میں زیر تعلیم رہے۔

    سنہ 1957 میں گوہر ایوب پاکستانی فوج میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد برطانیہ کی ’رائل ملٹری اکیڈمی سینڈ ہرسٹ‘ میں زیر تربیت رہے اور پھر فوج میں 'کیپٹن‘ (کپتان) کے عہدے پر فائز رہے۔

    فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے اپنے سسر جنرل حبیب اللہ خان کے ساتھ تجارتی ادارے بھی قائم کیے اور پھر سنہ 1977 میں پہلی بار اور پھر مجموعی طور پر پانچ مرتبہ قومی اسمبلی کے رُکن منتخب ہوئے۔

    چار نومبر 1990 سے 17 اکتوبر 1993 تک وہ نواز شریف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ کی جانب سے قومی اسمبلی کے سپیکر رہے۔ 25 فروری 1997 سے سات اگست 1998 تک وہ پاکستان کے وزیر خارجہ رہے پھر نواز شریف حکومت میں کئی اور وزارتوں پر بھی فائز رہے۔