پی ٹی آئی کے سابق رکن قومی اسمبلی علی نواز اعوان استحکام پاکستان پارٹی میں شامل
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق رکن قومی اسمبلی علی نواز اعوان نے استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے۔
لائیو کوریج
پی ٹی آئی کے سابق رکن قومی اسمبلی علی نواز اعوان استحکام پاکستان پارٹی میں شامل
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق رکن قومی اسمبلی علی نواز اعوان نے استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں استحکام پارٹی نے ’استحکام پاکستان پارٹی کو ایک اور بڑی کامیابی۔ سابق وفاقی وزیر علی نواز اعوان کی پیٹرن انچیف استحکام پاکستان پارٹی جہانگیر خان ترین اور صدر عبدالعلیم خان سے ملاقات اور استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت۔
’اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری جنرل عون چوہدری اور سینئر رہنما نعمان لنگڑیال بھی موجود تھے۔‘
علی نواز اعوان 14 اکتوبر 2018 کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں حلقہ این اے 53 سے پی ٹی آئی کے امیدوار کے طور پر پاکستان کی قومی اسمبلی کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ انھیں سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنی وفاقی کابینہ میں شامل کیا تھا اور کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے امور میں معاون خصوصی کے عہدے پر فائز کیا تھا۔
سموگ کے باعث پنجاب میں ایک ہفتے تک ماسک کا استعمال لازم

،تصویر کا ذریعہAFP
پنجاب کی نگران حکومت نے صوبے میں سموگ سے متاثرہ تمام اضلاع میں تمام شہریوں کے لیے فیس ماسک کا استعمال لازم قرار دیا ہے۔
ایک حالیہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ احکامات آئندہ ایک ہفتے کے لیے جاری کیے گئے ہیں۔ پنجاب انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صحت کو ترجیح دینا ’ہماری اجتماعی اور اولین ذمہ داری ہے۔‘
صوبے کے محکمہِ صحت کی جانب سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’صوبہ پنجاب کے سموگ سے متاثرہ اضلاع میں فضائی آلودگی میں ہونے والے اضافے کے پیشِ نظر ہر عُمر کے افراد کو صحت سے متعلق مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کے تدارک کے طور پر یہ فیصلے کیا گیا ہے کہ ایک ہفتے کے لیے گھروں سے باہر جانے سے قبل فیس ماسک کا استعمال کریں۔‘
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت کے ان احکامات کا اطلاق جن اضلاع پر ہوگا اُن میں لاہور ڈویژن (ضلع لاہور، ننکانہ صاحب، شیخوپورہ، قصور) اور گجوانوالہ ڈویژن میں (گجوانوالہ، گُجرات، ناروال، حافظ آباد، اور منڈی بہاوالدین) شامل ہیں۔
پنجاب حکومت کی جانب سے ماسک کے استعمال سے متعلق پابندی کا اطلاق 20 نومبر 2023 سے 26 نومبر 2023 تک ہوگا۔
چکوال کے مدرسے میں بچوں سے ریپ کے الزام میں دو اساتذہ گرفتار: ’کیس دبانے والوں کو بھی شامل تفتیش کریں گے‘
کیچ میں بم کے ایک دھماکے میں کم از کم تین افراد ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کے ایران سے متصل ضلع کیچ میں بم کے ایک دھماکے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
تربت میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکہ سڑک کنارے نصب دھماکہ خیز مواد پھٹنے کی وجہ ہوا۔
انتظامیہ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ نامعلوم افراد نے ضلع کے علاقے بالگتر میں سڑک کنارے دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا جو کہ اس وقت زور دار دھماکے سے پھٹ گیا جب ایک گاڑی وہاں سے گزررہی تھی ۔
دھماکے میں کار میں سوار تین افراد ہلاک ہوگئے جن میں سے دو آپس میں قریبی رشتہ دار ہیں ۔
اہلکار کے مطابق دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق بالگتر سے تھا جبکہ دھماکے کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔
ایران سے متصل ضلع کیچ کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے زیادہ متائثر ہیں ۔
ضلع میں پہلے بھی کمی و بیشی کے ساتھ اس نوعیت کے بد امنی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں حکومتی اقدامات کے نتیجے ان واقعات میں کمی آئی ہے
کرپشن ہوتی ہے تو پھر نو مئی جیسے واقعات ہوتے ہیں: مریم اورنگزیب
مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب نے کہا ہے ماضی میں ن لیگ کی قیادت کو بدترین انتقام کا نشانہ بنایا گیا تاہم آج عدالتیں اس بات پر قانون کی مہر لگا کر تصدیق کر رہی ہیں کہ کسی قسم کی کرپشن نہیں ہوئی تھی۔
لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ کہ 2018 میں آر ٹی ایس بٹھا کر انھیں (عمران خان کو) مسلط کیا گیا اور اس کا خمیازہ پاکستان کے عوام نے بھگتا ہے۔ پانچ چھ سال نظام انصاف اور اپوزیشن کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔ آج کے نوجوانوں کو اس حوالے سے مکمل آگاہی ہونا چاہیے۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف کے دور میں لوگ جج کے کمرے سے منہ چھپا کر باہر آتے تھے۔ کرپشن ہوتی ہے تو پھر نو مئی جیسے واقعات ہوتے ہیں۔
سندھ بھر میں آج میڈیکل، ڈینٹل کالجز اور جامعات کے داخلہ ٹیسٹ کا انعقاد
سندھ بھر کے میڈیکل، ڈینٹل کالجز اور جامعات کا داخلہ ٹیسٹ آج ایک مرتبہ پھر ہو رہا ہے۔ امیدواروں کے امتحانی مراکز میں داخلے کا وقت صبح 7 سے 9 بجے تک تھا جب کہ امتحان کا دورانیہ صبح ساڑھے 10بجے سےدوپہر 2 بجے تک ہے۔
ایم بی بی ایس کی 3600 اور بی ڈی ایس کی1190نشستوں کے لیے ہونے والے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ میں 41 ہزار امیدوار امتحان دیں گے، ٹیسٹ میں کراچی سے 15 ہزار اور جامشورو سے 13ہزار امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔
نواب شاہ سے 4ہزار اور لاڑکانہ سے 9 ہزارامیدوار ٹیسٹ میں شریک ہو رہے ہیں، ٹیسٹ کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق امتحانی مراکز میں موبائل فون سمیت الیکٹرانک ڈیوائسز لانے والےکا پرچہ منسوخ کر دیا جائےگا، والدین اور رشتہ داروں کو بھی امتحانی مراکز کے احاطے اور اس کے آس پاس جانے کی اجازت نہیں ہے۔
بریکنگ, اعتماد ہے الیکشن کمیشن ملک میں صاف، شفاف انتخابات یقینی بنائے گا، آصف زرداری
پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان آٹھ فروری 2024کو ملک بھر میں ہونے والے عام انتخابات کے صاف، شفاف انعقاد کو یقینی بنائے گا۔
اپنے ایک بیان میں سابق صدر مملکت نے کہا کہ ملک شفاف انتخابات کی طرف جا رہا ہے اور پیپلز پارٹی اس کے لیے پوری طرح تیار ہے، پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو ہر طرح کے ماحول میں الیکشن لڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ آٹھ فروری کو پیپلز پارٹی ملک کی اکثریتی پارٹی بن کر سامنے آئے گی، ملک کا ماحول اس وقت انتخابات کے لیے سازگار ہے اور الیکشن وقت پر ہونے چاہیے۔
آصف زرداری نے کہا کہ مھجے الیکشن کمیشن آف پاکستان پر پورا اعتماد ہے کہ وہ ملک میں صاف، شفاف الیکشن کروائے گا۔
خیال رہے کہ سابق صدر کی جانب سے یہ بیان برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ سے ان کی ملاقات کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔
اس ملاقات کے دوران آصف علی زرداری نے شاہ چارلس کے جنم دن کے حوالے سے اظہار مسرت کا پیغام دیا تھا اور ڈیوڈ کیمرون کے وزیرخارجہ بننے پر بھی نیک تمناؤں کا اظہار کیا تھا۔
آصف زرداری نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کے لیے برطانیہ سے مصالحتی کردار ادا کرنے پر زور دیا تھا جب کہ ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر بھی بات چیت ہوئی۔
سابق صدر اور برطانوی ہائی کمشنر کے درمیان ملاقات کے موقع پر سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم بھی موجود تھے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہSocial media
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنھوں نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا ان کا چہرہ بھی سامنے آ گیا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ نہ ہی وہ ووٹ کی عزت کرتے ہیں اور نہ ہی انھیں خدمت کرنا آتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ بطور وزیر خارجہ وہ معیشت کو نہیں دیکھ سکتے تھے۔ بلاول نے کہا کہ ’جب جیالا وزیراعظم ہو گا، جب جیالا وزیر خارجہ ہو گا تو پھر میں صحیح طریقے سے خدمت کر سکوں گا۔‘
مسلم لیگ ن کا نام لیے بغیر انھوں نے کہا کہ ’وہ حکومت میں آ کر صرف اور صرف اشرافیہ کا سوچتے ہیں، صرف امیروں کا سوچتے ہیں جبکہ ہم پسماندہ طبقے اور عام آدمی کے لیے سوچتے ہیں۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ میں اپنی 16 ماہ کی کارکردگی پر انتخابات لڑ سکتا ہوں جبکہ وہ اپنی 16 ماہ کی کارکردگی پر شرمندہ ہیں۔
بلاول بھٹو نے بغیر نام لیے مسلم لیگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ مہنگائی لیگ بن چکی ہے، وہ گڈ گورننس کرنا نہیں جانتی۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ ان کی جماعت کو کبھی بھی لیول پلیئنگ فلیڈ نہیں ملی مگر پھر بھی وہ انتخابات جیتی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر آج بھی کوئی وزیراعظم بننا چاہتا ہے تو ہم مقابلہ کر کے دکھائیں گے۔
انھوں نے سنہ 1988 اور 2008 کے عام انتخـابات کا خاص طور پر حوالہ دیا۔ یاد رہے کہ سنہ 1988 میں بلاول بھٹو کی والدہ بے نظیر بھٹو 35 برس کی عمر میں پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہوئی تھیں۔
بے نظیر بھٹو کے خلاف نواز شریف کی جماعت سمیت متعدد سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایک انتخابی اتحاد ’آئی جے آئی‘ تشکیل دیا گیا تھا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ سنہ 2024 کے الیکشن میں کسی بھی آئی جے آئی کا حصہ نہیں بنیں گے اور وہ نفرت اور تقسیم کی سیاست کو دفن کرنا چاہتے ہیں۔
وزیر داخلہ سرفراز بگٹی والی کمیٹی قابل قبول نہیں: وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز, محمد کاظم، بی بی اردو، کوئٹہ

بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے نگراں وفاقی وزیر داخلہ میر سرفرازبگٹی کی سربراہی میں لاپتہ افراد کے بارے میں کمیٹی کے قیام کو مسترد کر دیا ہے۔
سنیچر کو کوئٹہ پریس کلب کے باہر ایک مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ حکومت لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنانے میں مخلص نہیں ہے اوربین الاقوامی برادری کو دھوکہ دینے کے لیے ہرحکومت ایک کمیشن بناتی ہے۔
ان کے مطابق ’ہرحکومت آکرایک کمیشن یا کمیٹی بناتی ہے جس کا مقصد بین الاقوامی برادری کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سنجیدہ ہیں-
ان کے مطابق اسی طرح کی ایک کمیٹی نگراں حکومت نے بنائی ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل وفاقی حکومت نے نگراں وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کی قیادت میں بلوچستان میں لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنائی تھی۔
نصراللہ بلوچ نے کہا کہ ’لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کمیٹی ایک ایسے شخص کی سربراہی میں بنائی گئی ہے جس نے ہمیشہ جبر کی بات کی ہے اور بلوچستان میں جو ظلم و جبر ہو رہا ہے انھوں نے اس کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔
ان کے مطابق یہ ایک ایسے متنازع شخص سے کیسے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کسی مثبت پیش رفت کی توقع رکھ سکتے ہیں-‘
انھوں نے الزام عائد کیا کہ 'نگراں حکومت کے آتے ہی نہ صرف جبری گمشدگی کے واقعات بلکہ ایسے لوگوں کو جعلی مقابلوں میں ہلاک کرنے کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔‘
نصراللہ بلوچ نے کہا کہ اگر حکومت لاپتہ افراد کی بازیابی میں مخلص ہے تو وہ سنہ 2010 اور گذشتہ حکومت میں سردار اخترمینگل کی سربراہی میں بننے والے کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کرائے-‘
ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کی تنظیم لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔
بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید
بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ یہاں آپ کو پاکستان کی تازہ ترین اپ ڈیٹس ملیں گی۔ اگر آپ 18 نومبر یا اس سے پہلے کی خبروں کو پڑھنا چاہیں تو یہاں کلک کریں
