یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ پاکستان کی تازہ خبروں کے حوالے سے جاننے کے لیے آپ یہاں کلک کیجئے
پاکستان کے سابق وزیر خارجہ گوہر ایوب وفات پا گئے ہیں۔ ان کے بیٹے عمر ایوب خان نے ان کی وفات کی تصدیق کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے والد مختصر علالت کے بعد جمعے کو وفات پا گئے ہیں۔
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ پاکستان کی تازہ خبروں کے حوالے سے جاننے کے لیے آپ یہاں کلک کیجئے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے سابق وزیر خارجہ گوہر ایوب وفات پا گئے ہیں۔ ان کے بیٹے عمر ایوب خان نے ان کی وفات کی تصدیق کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے والد مختصر علالت کے بعد جمعے کو وفات پا گئے ہیں۔ عمر ایوب خـان سابق وفاقی وزیر اور تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل ہیں۔
گوہر ایوب خان کی نمازہ جنازہ سنیچر کو دن تین بجے ہری پور میں ان کے آبائی گاؤں ریحانہ میں ادا کی جائے گی۔ ریحانہ میں گوہر ایوب کے والد، والدہ اور دیگر رشتہ دار مدفون ہیں۔
گوہر ایوب خان پاکستان کے پہلے فیلڈ مارشل ایوب خان کے بیٹے ہیں۔ گوہر ایوب خان قومی اسمبلی کے سپیکر بھی رہ چکے ہیں۔
گوہر ایوب 15 جنوری 1937 کو (اب صوبہ خیبر پختونخوا کے) ضلع ہری پور کے گاؤں ’ریحانہ‘ میں پیدا ہوئے۔
وہ پہلے چوٹی کے مشنری سکول ’آرمی برن ہال کالج‘ بھیجے گئے پھر راولپنڈی کے انتہائی مہنگے اور حکمراں طبقے کے لیے مخصوص نجی سکول ’سینٹ میریز اکیڈمی‘ میں زیر تعلیم رہے۔
سنہ 1957 میں گوہر ایوب پاکستانی فوج میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد برطانیہ کی ’رائل ملٹری اکیڈمی سینڈ ہرسٹ‘ میں زیر تربیت رہے اور پھر فوج میں 'کیپٹن‘ (کپتان) کے عہدے پر فائز رہے۔
فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے اپنے سسر جنرل حبیب اللہ خان کے ساتھ تجارتی ادارے بھی قائم کیے اور پھر سنہ 1977 میں پہلی بار اور پھر مجموعی طور پر پانچ مرتبہ قومی اسمبلی کے رُکن منتخب ہوئے۔
چار نومبر 1990 سے 17 اکتوبر 1993 تک وہ نواز شریف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ کی جانب سے قومی اسمبلی کے سپیکر رہے۔ 25 فروری 1997 سے سات اگست 1998 تک وہ پاکستان کے وزیر خارجہ رہے پھر نواز شریف حکومت میں کئی اور وزارتوں پر بھی فائز رہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستان کے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے علما کے وفد سے ملاقات میں کہا ہے کہ ریاست کے علاوہ کسی بھی ادارے یا گروہ کا طاقت کا استعمال ناقابل قبول ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے علمائے کرام و مشائخ نے ملاقات کی ہے، جس میں تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علمائے کرام و مشائخ شامل تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق علما نے متفقہ طور پر انتہا پسندی، دہشت گردی، فرقہ واریت کی مذمت کی اور ملک میں رواداری، امن و استحکام کے لیے سکیورٹی فورسز کی کوششوں کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق علما نے کہا کہ اسلام امن اور ہم آہنگی کا مذہب ہے، بعض عناصر کی طرف سے مذہب کی مسخ شدہ تشریحات صرف ان کے ذاتی مفادات کے لیے ہیں، جن کا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آرمی چیف نے کہا کہ معاشرے میں خاص طور پر اقلیتوں اور دیگر کمزور طبقوں کے خلاف عدم برداشت اور انتہا پسند رویوں کی کوئی جگہ موجود نہیں ہے۔
آرمی چیف نے گمراہ کن پروپیگنڈے کے خاتمے کے لیے مذہبی علما کے ’پیغام پاکستان‘ فتوے کو سراہا اور آرمی چیف نے گمراہ کن پروپیگنڈے کی تشہیر، تدارک، اندرونی اختلافات کو دور کرنے پر زور دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق علما نے حکومت کی جانب سے غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکیوں کی وطن واپسی کی حمایت کی اور افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی پر پاکستان کے موقف اور تحفظات کی مکمل حمایت کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فورم نے غزہ میں جنگ اور نہتے فلسطینیوں پر مظالم پر بھی غم و غصے کا اظہار کیا، غزہ میں جاری مظالم کو انسانیت کے خلاف جرائم قرار دیا۔
اس موقع پر آرمی چیف نے کہا کہ ریاست کے علاوہ کسی بھی ادارے یا گروہ کا طاقت کا استعمال ناقابل قبول ہے، پاکستان کسی مذہبی، صوبائی، قبائلی، لسانی، نسلی تفریق کے تمام پاکستانیوں کا ہے۔

عام شہریوں کے فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے سے متعلق پاکستان کی وفاقی حکومت نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کر دی ہے۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے 23 اکتوبر کو عام شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو کالعدم قرار دیا تھا۔
حکومت نے سپریم کورٹ سے اس فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔ وفاقی حکومت نے اٹارنی جنرل کے توسط سے انٹرا کورٹ اپیل دائر کی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ اپیل پر فیصلے تک پانچ رکنی لارجر بینچ کے فیصلے پر حکم امتناع دیا جائے۔

بلوچستان کے نگراں وزیراطلاعات جان محمد اچکزئی نے کہا ہے کہ افغانستان میں پاکستان دشمن سرگرمیوں کی منصوبوں، وہاں پاکستان کو مطلوب دہشتگردوں اور ان کی پناہ گاہوں کی مکمل ثبوت افغان حکومت کو فراہم کیے گئے ہیں۔
جمعہ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ ڈوزیئر یعنی دستاویزی ثبوت حال ہی میں افغان حکومت کے اسلام آباد کا دورہ کرنے والے وفد کے حوالے کیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک ہمسایہ ملک کی حیثیت افغانستان کو اس کا مثبت جواب دیتے ہوئے پاکستان کو مطلوب دہشت گردوں کو کرنا چائیے تھا، لیکن تاحال افغان حکومت سے اس کا مثبت جواب نہیں دیا گیا ہے-‘
ان کا کہنا تھا کہ 'مثبت جواب دینے کی بجائے افغانستان میں موجود بااثر شرپسند عناصر نے اس پر جلتی پرتیل ڈالنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے تحت پاکستان میں حساس نوعیت کے معاملات میں ایسی شر انگیزی اور دہشت گردی کی جائے، جس کا الزام پاکستانی اداروں پر لگایا جاسکے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مردان میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ایک بار پھر الیکشن نہیں سیلیکشن ہوتی ہے تو پھر اس کا نقصان پاکستان کے عوام اٹھائیں گے۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’پاکستان کے عوام نے اس سے قبل بھی سیلیکٹڈ راج کو بھگتا ہے اور آگے جا کر پاکستان کے عوام سیلیکٹڈ راج کو قبول نہیں کریں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ انھیں معلوم ہے کہ ’جو لوگ پرانی سیاست کر رہے ہیں وہ بھی الیکٹیبلز کی تلاش میں ہیں۔
بلاول کے مطابق ’کسی زمانے میں یہ سیاست چلتی تھی اور شاید ان الیکٹیبلز کی اب بھی اہمیت تو ہو گی مگر جس دن یہ مہنگائی لیگ میں شامل ہوئے پھر وہ الیکٹیبلز نہیں رہیں گے۔
ان کے مطابق ’یہ زمینی حقائق ہیں۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’پاکستان کے عوام کی اپنی سوچ، شعور اور حق ہے۔
انھوں نے کہا کہ ادھر ادھر نہیں دیکھنا ماضی میں جو ہوا ہے، سو ہوا ہے، اب ساتھ مل کر جدوجہد کرنی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’جیالا وزیراعظم بھی ہوگا، جیالا وزیراعلیٰ بھی ہو گا۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف 190 ملین پونڈ کے مقدمے کی سماعت ہوئی ہے۔
احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے چئیرمین پی ٹی آئی کے جسمانی ریمانڈ کی نیب کی استدعا مسترد کرتے ہوئے نیب کی تفتیشی ٹیم کو صرف جیل میں 21 نومبر تک تفتیش کرنے کی اجازت دی ہے۔

،تصویر کا ذریعہSocial Media
جمعے کو صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے فیشن ڈیزائنر خدیجہ شاہ کو 30 دن کے لیے نظر بند کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
ان کی نظر بندی سے متعلق ڈپٹی کمشنر لاہور کی طرف سے خدیجہ شاہ کی نظر بندی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفیکشن کے مطابق ’خدیجہ شاہ نو مئی کو پُرتشدد کارروائیوں میں شریک رہیں۔ خدیجہ شاہ کے خلاف مواد کا جائزہ لیا گیا ہے۔ خدیجہ شاہ دوبارہ امن و امان کی صورتحال خراب کر سکتی ہیں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے خدیجہ شاہ کو 30 دن کے لیے نظر بند کیا جاتا ہے۔‘
خیال رہے کہ خدیجہ شاہ کی 9 مئی کے واقعات سے متعلق آخری کیس میں ان کی ضمانت بدھ کو ہوئی تھی۔ فیشن ڈیزائنر خدیجہ شاہ اس وقت جیل میں ہیں اور اب وہ مزید 30 دن کے لیے قید میں ہی رہیں گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق خدیجہ شاہ کو ایس پی کینٹ اور ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس برانچ کی سفارش پر نظر بند کیا گیا ہے۔
خدیجہ شاہ کی قانونی ٹیم نے کہا ہے کہ نظر بندی کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔
اس سے قبل لاہور کے کور کمانڈر ہاؤس اور عسکری ٹاور پر حملہ کرنے سے متعلق مقدمات میں خدیجہ شاہ کی ضمانت ہوئی تھی۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے بھی ان کو اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز پیغامات پوسٹ کرنے پر گرفتار کیا تھا۔ اس میں بھی ان کی ضمانت منظور ہوئی تھی۔
سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ضمانت کے لیے دائر اپیلیں 22 نومبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دی ہیں۔
چیف جسٹس فائز عیسی نے چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیلوں پر جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بینچ تشکیل دے دیا ہے۔ بینچ میں جسٹس یحیٰی آفریدی، جسٹس عائشہ ملک بھی شامل ہیں۔
عمران خان نے سائفر کیس میں ضمانت کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی اور اس کے ساتھ سائفر کیس میں فرد جرم کی کارروائی بھی چیلنج کی تھی۔
عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سائفر کے مقدمے کے فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کی تھیں۔
رجسٹرار آفس نے چیئرمین تحریک انصاف لیگل ٹیم کو نوٹس جاری کردیا۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ کہہ کر عمران خان کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی تھی کہ ایسے شواہد سامنے آئے ہیں کہ ملزم عمران خان نے سائفر کو اپنے سیاسی مقاصد کرلیے استعمال کیا ہے۔
وزارت دفاع نے فوجی عدالتوں میں سویلنز کا ٹرائل روکنے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔
اپیل میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے جن درخواستوں پر فیصلہ دیا وہ ناقابل سماعت تھیں۔ آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی دفعات کالعدم ہونے سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔
واضح رہے کہ 23 اکتوبر 2023 کو سپریم کورٹ نے عام شہریوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ عام شہریوں کے مقدمات کو فوجی عدالتوں میں نہیں چلایا جا سکتا۔
سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں آرمی تنصیبات پر حملوں کے ملزمان کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہ کرنے کو فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
وزارت دفاع نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی کالعدم قراردی گئی دفعات بھی بحال کرنے کی استدعا کر دی۔
وزارت دفاع نے اپیلوں پر حتمی فیصلے تک فوجی عدالتوں میں ٹرائل روکنے کے خلاف حکم امتناع کی بھی استدعا کر دی۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 23 اکتوبر کو اپنے فیصلے میں نو اور دس مئی کے واقعات میں گرفتار ہونے والے تمام ملزمان کے مقدمات فوجی عدالتوں سے فوجداری عدالتوں میں بھیجنے کا حکم دیا تھا۔
جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے چار ایک کی اکثریت سے سویلین کے خلاف ٹرائل فوجی عدالتوں میں چلانے کے خلاف دائر درخواستوں پر یہ فیصلہ سُنایا تھا۔
عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل کیسز میں عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت جج محمد بشیر نے کی تو دوران سماعت بشری بی بی اور ان کے وکیل لطیف کھوسہ بھی عدالت پیش نہ ہوئے۔
پی ٹی آئی وکیل انتظار پنجوتھہ عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کے استفقار پر بتایا کہ سماعت جیل میں ہی رکھ لیں ،پٹشنر بھی وہیں ہیں۔
عدالت نے ان کی استدعا منظور کر لی۔ بشری بی بی کے وکیل کی استدعا پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے کیس کے ساتھ بشری بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت جیل میں دن گیارہ بجے ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/ IMRAN KHAN
اسلام آباد ہائیکورٹ نے 190 ملین پاؤنڈز سکینڈل کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت بحالی کی درخواست غیرموثر ہونے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی ٹرائل کورٹ سے عدم حاضری دانستہ نہیں تھی۔ نیب نے جب گرفتاری ڈال دی تو پھر ضمانت بحالی کی درخواست غیرموثر ہو جاتی ہے۔
تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا ہے کہ یہ عدالت اِس درخواست میں ملزم عمران خان کی گرفتاری کی قانونی حیثیت کا جائزہ نہیں لے سکتی۔
190 ملین پاؤنڈز سکینڈل کیس میں عمران خان کی ضمانت بحالی کی درخواست غیرموثر ہونے کا فیصلہ چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے۔
تحریری فیصلے میں یہ بھی لکھا ہے کہ ٹرائل کورٹ کا درخواست ضمانت مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی عدالت سے استدعا کی گئی ۔
فیصلے کے مطابق 10 اگست کو چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست ضمانت مسترد ہوئی اور نیب نے جب گرفتاری ڈال دی۔
فیصلے کے مطابق عمران خان درخواست ضمانت بعد از گرفتاری متعلقہ عدالت میں دائر کر سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بینچ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی 2 نیب کیسز میں ضمانت بحال کرنے کی درخواستوں پر دلائل سننے کے بعد دو روز قبل سماعت میں محفوظ فیصلہ سنایا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم کورٹ نے 15 نومبر کو فیض آباد دھرنا کیس پر ہونے والی سماعت کے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ اس کیس میں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کا نتیجہ قوم کو نو مئی کے واقعات کی صورت میں دیکھنا پڑا ہے۔
15 نومبر کو ہونے والی سماعت کا تحریری فیصلہ آج جاری کیا گیا ہے۔ اس حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ 6 فروری 2019کو دیا تھا جس میں ماضی کے پر تشدد واقعات کا حوالہ دے کر مستقبل کے لیے وارننگ دی گئی تھی۔
تحریری حکمنامے کے مطابق تقریباً پانچ سال گزرنے کے باوجود متعدد حکومتوں نے فیض آباد دھرنا کیس فیصلے پر عملدرآمد نہ کیا جبکہ اس فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستیں دائر ہوئی جنھیں سماعت کے لیے مقرر نہ کیا گیا۔
تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ نظرثانی درخواستیں سماعت کے لیے مقرر نہ ہونے کے سبب عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ ہوا اور اس فیصلے کے تناظر میں نہ کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور نہ ہی پر تشدد احتجاج پر کسی کا احتساب ہوا نتیجتا قوم کو 9مئی کے واقعات دیکھنے پڑے۔
بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ اگر آپ 16 نومبر یا اس سے پہلے کی خبریں جاننا چاہیں تو اس لنک پر کلک کریں