عمران خان کی ہدایت پر خیبرپختونخوا میں مائنز اینڈ منرلز بِل پر بریفنگ ملتوی: یہ متنازع بل کیا ہے؟

خیبر پختونخوا اسمبلی کے جرگہ ہال میں گذشتہ روز اس بل کے بارے میں ایک بریفنگ کا انتظام کیا گیا تھا جس میں حکومت اور اپوزیشن کے اراکین موجود تھے لیکن اس اجلاس میں ایسی ہنگامہ آرائی شروع ہوئی کہ سپیکر کو یہ بریفنگ موخر کرنا پڑی۔ بریفنگ میں موجود صحافیوں نے بتایا کہ اس بل پر بریفنگ جب شروع ہوئی تو پی ٹی آئی کے رکن نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ یہ بل صوبے کے اختیارات کے خلاف ہے۔

خلاصہ

  • پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے یہ واضح کیا ہے کہ وہ ڈیل نہیں چاہتے ہیں اور نہ انھوں نے کسی کو ایسے مذاکرات کے اختیارات دیے ہیں کہ جس سے یہ تاثر جائے کہ وہ ڈیل چاہتے ہیں۔
  • پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر نے سمندر پار پاکستانیوں کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'دہشتگردوں کی دس نسلیں بھی بلوچستان اور پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے جو دل میں ہوتا ہے وہی بات ان کے زبان پر ہوتی ہے۔
  • بلوچستان ہائیکورٹ نے سماجی کارکن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی طرف سے دائر کردہ رہائی کی درخواست پر یہ فیصلہ سنایا ہے کہ وہ امن عامہ سے متعلق قانون میں گرفتاری کے بعد پہلے محکمہ داخلہ سے رجوع کریں۔
  • پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں بلوچستان کانسٹیبلری کے اہلکاروں پر حملے میں دیسی ساختہ ریموٹ کنٹرول بم استعمال کیا گیا ہے۔
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کا خیال ترک کرنا پڑے گا ورنہ امریکہ اسے روکنے کے لیے سخت اقدامات اٹھانے سے گریز نہیں کرے گا۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    16 اپریل کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. کوئٹہ میں فائرنگ سے ایک ہی خاندان کے چار افراد ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

    یہ واقعہ کوئٹہ شہر کے نواحی علاقے شہید خالق آباد پولیس سٹیشن کی حدود میں ایک گھر کے اندر پیش آیا۔ خالق آباد پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او راشد گجر نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں دو خواتین اور دو مرد شامل ہیں۔

    میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے خاندان کے سربراہ کو مبینہ طور پر چاروں افراد کی ہلاکت کے لیے ذمہ دار ٹہراتے ہوئے کہا کہ وہ نشے کا عادی تھا اور ان کا گھر والوں کے ساتھ لڑائی جھگڑا رہتا تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ خاندان کے سربراہ نواب خان نے منگل کے روز پسٹل سے گھر میں اپنی بیوی ، دو بیٹوں اور بہو پر فائرنگ کی جس سے ان کی بیوی ملالہ ، دو بیٹے محمد یوسف اور جمعہ خان موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ بہو رقیہ بی بی زخمی ہوئی۔

    ان کا کہنا تھا رقیہ بی بی کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے سول ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسی۔ رقیہ بی بی محمد یوسف کی بیوی تھی۔

    ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ ملزم واقعے کے بعد فرار ہوگیا جس کے گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔

  3. عمران خان کی ہدایت پر خیبرپختونخوا میں مائنز اینڈ منرلز بِل پر بریفنگ ملتوی: یہ متنازع بل کیا ہے؟, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    ،تصویر کا کیپشنخیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں مائنز اینڈ منرلز بِل پر بریفنگ کو 21 اپریل تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔

    خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں مائنز اینڈ منرلز بِل پر بریفنگ کو 21 اپریل تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ بیرسٹر گوہر علی خان نے آج کہا تھا کہ وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور متعلقہ سیاسی قیادت سے عمران خان کی ملاقات تک اس معاملے پر کوئی پیشرفت نہیں ہوسکتی۔

    خیبر پختونخوا میں مجوزہ مائنز اینڈ منرلز بل 2025 اسمبلی میں پیش کیے جانے سے پہلے ہی متنازع ہوگیا تھا۔ صوبائی حکومت میں شامل ارکان کا کہنا ہے کہ اس بل کے بارے میں فیصلہ اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کریں گے۔

    یہ بل ایک ہی وقت میں ملک کی تمام صوبائی اسمبلیوں میں پیش کیا جا رہا ہے۔ جب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی سے پوچھا گیا کہ یہ بل خیبر پختونخوا حکومت کو کس نے پیش کرنے کا مشورہ دیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کو ہی معلوم ہوگا کیونکہ وہی وفاق کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔

    خیبر پختونخوا اسمبلی کے جرگہ ہال میں گذشتہ روز اس بل کے بارے میں ایک بریفنگ کا انتظام کیا گیا تھا جس میں حکومت اور اپوزیشن کے اراکین موجود تھے لیکن اس اجلاس میں ایسی ہنگامہ آرائی شروع ہوئی کہ سپیکر کو یہ بریفنگ موخر کرنا پڑی۔

    بریفنگ میں موجود صحافیوں نے بتایا کہ اس بل پر بریفنگ جب شروع ہوئی تو پی ٹی آئی کے رکن نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ یہ بل صوبے کے اختیارات کے خلاف ہے۔

    اس کے بعد عوامی نینشل پارٹی کے رکن نثار باز نے نکتہ اٹھایا کہ اس بل کے ذریعے صوبے کا اختیار کسی نجی کمپنی کو دیا جا سکتا ہے جس پر پی ٹی آئی کے رکن مینا خان نے کہا کہ اے این پی نے بلوچستان میں اس بل کی حمایت کی ہے اور یہاں مخالفت کر رہی ہے۔

    باجوڑ سے منتخب پی ٹی آئی کے رکن انور زیب نے کہا کہ یہ بل کیسے اور کب آیا انھیں نہیں معلوم لیکن ان کا موقف ہے کہ اس بارے میں عمران خان کا جو فیصلہ ہوگا، وہی تسلیم کیا جائے گا۔ اس بریفنگ میں پی ٹی آئی کے کچھ اراکین نے کہا کہ یہ عمران خان کی منظوری کے بعد اسمبلی میں پیش کیا جانا چاہیے۔

    KPK

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    متنازع مائنز اینڈ منرلز بل کیا ہے؟

    اس بارے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور رکن صوبائی اسمبلی احمد کنڈی نے بی بی سی کو بتایا کہ مائنز اینڈ منرلز اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی اختیار میں آتا ہے لیکن اس بل میں جو زبان استعمال کی گئی ہے وہ واضح نہیں ہے اور اس میں بہت زیادہ ابہام پایا جاتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے سٹریٹجک منرلز کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کی وضاحت نہیں ہے کہ سٹریٹجک منرلز سے کیا مراد ہے۔ اسی طرح نیوکلیئر انرجی کے لیے جو منرلز استعمال ہوں گے، وہ اس میں مستثنی ہوں گے حالانکہ اس کے لیے ریڈیو ایکٹو منرلز کا ذکر ہونا چاہیے تھا اور وہ وفاق کے اختیار میں ہوتا ہے۔

    ان کے مطابق جو لائسنسنگ اتھارٹی قائم کی گئی ہے اس میں بیورکریٹک سٹرکچر زیادہ ہے، اس میں سیاسی نمائندگی نہیں ہے۔ احمد کنڈی سے جب پوچھا کہ بلوچستان میں اس بل کو منظور کر لیا گیا ہے جبکہ یہاں اس کی مخالفت ہو رہی ہے اس پر انھوں نے کہا کہ ہر صوبے کے اپنے ڈائنامکس ہیں۔

    ’یہاں خیبر پختونخوا میں معدنیات سے آمدن چند سالوں میں پانچ ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ اس بل میں وفاق کو نمائندگی دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ جو پالیسی وفاق کی جانب سے آئے گی اس پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

    اس بل میں تنظیم بنانے کا ذکر بھی ہے جس میں نجی کمپنی پچاس فیصد تک نمائندگی حاصل کر سکتی ہے اور اس بل کی زبان سے ایسا لگتا ہے کہ صوبائی حکومت اپنے اختیارات کم کر رہی ہے اور وفاق کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی صوبے کے بہت سے اختیارات وفاق کے پاس ہیں اور ’ان پر دیکھ لیں کیا مل رہا ہے۔‘ ان کا اشارہ صوبے سے گیس تیل کے علاوہ پن بجلی پر منافع اور دیگر ایسی معدنیات کی جانب تھا۔

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ اب ارکان نے یہ بل عمران خان کو بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے اور اس بارے میں عمران خان جو کہیں گے اس پر عمل درآمد ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ اس بل پر وضاحت درکار ہے۔

    تاہم انھوں نے بعض پہلوؤں کی حمایت کی جیسے ’ماضی میں اگر کوئی پرائیویٹ بندہ کوئی لیز حاصل کر لیتا تھا تو اس پر کام شروع نہیں کیا جاتا تھا اور لیز بند رہتی تھی۔ اب اس میں کہا گیا ہے کہ لیز پر کام تین ماہ کے اندر شروع کرنا ہوگا۔‘

    گلگت بلتستان میں اب تک مائنز اینڈ منرلز بل نہیں پہنچا لیکن اس بارے میں بحث وہاں بھی جاری ہے۔ اس بارے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما امجد حسین ایڈووکیٹ سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بل گلگت بلتستان میں نہیں آیا لیکن سرمایہ کاری کانفرنس میں وزیر اعظم شہباز شریف نے اس خطے کا حوالہ دیا تھا کہ وہاں ’اتنی معدنیات ہیں کہ پاکستان پر سارا قرضہ اتار جائے۔‘ اس پر مقامی سطح پر سخت رد عمل آیا ہے اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں کچھ نہیں ہو رہا۔

  4. حماس نے اسرائیل کی مشروط جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی: فلسطینی اہلکار

    اسرائیل، حماس، غزہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشناسرائیلی وزیراعظم نے کہا ہے کہ غزہ میں سپلائی روکنے کا مقصد اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی میں توسیع کے لیے حماس پر دباؤ بڑھانا ہے۔

    حماس کے بارے میں ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ اس نے اسرائیل کی طرف سے چھ ہفتوں کی مشروط جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔

    اسرائیل نے حماس پر ہیتھیار پھینکنے کی شرط عائد کی تھی۔ حماس اور اسرائیل کے درمیان ان مذاکرات سے واقف ایک سینیئر فلسطینی اہلکار نے کہا کہ حماس کی قید میں موجود آدھے یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے جنگ کے خاتمے یا اسرائیلی فوجیوں کے انخلا کا کوئی معاہدہ شامل نہیں ہے، جو کہ حماس کا اہم مطالبہ سمجھا جاتا ہے۔

    یہ پیشرفت ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب اسرائیل غزہ پر تابڑ توڑ حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

    دریں اثنا اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں انسانی صورتحال اب ممکنہ طور پر 18 مہینوں میں بدترین ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے اسرائیل کے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے کہ غزہ میں طویل عرصے تک کے لیے کافی خوراک موجود ہے۔

    اسرائیلی وزیراعظم نے کہا ہے کہ غزہ میں سپلائی روکنے کا مقصد اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی میں توسیع کے لیے حماس پر دباؤ بڑھانا ہے۔

    اسرائیل، فلسطین

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    حماس اور اسرائیل کے درمیان یکم مارچ کو جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہوا تھا۔

    یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے واشنگٹن ڈی سی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد جنگ بندی سے متعلق علاقائی ثالثوں کو ایک تازہ ترین تجویز پیش کی تھی۔

    اس کے بعد حماس کے ایک اعلی سطح کے مذاکرات کار خلیل الحیا نے قاہرہ میں مصر کے انٹیلیجنس حکام سے ملاقات کی تھی۔

    فلسطین کے سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اسرائیل کی تجویز میں جنگ کے خاتمے یا جنگ بندی یا اسرائیلی فوجیوں کے انخلا کے ذکر کے بغیر حماس کو مکمل طور غیرمسلح کرنے کی شرط شامل تھی۔ ان کے مطابق یہی وجہ تھی کہ حماس نے اس تجویز کو کلی طور پر مسترد کر دیا۔

    یہ پہلی دفعہ ایسا ہوا کہ اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کے لیے حماس کو غیر مسلح کرنے کی شرط عائد کی ہے جو کہ حماس کے لیے ’سرخ لکیر‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔

    یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس وقت حماس کی حراست میں اس وقت اسرائیل کے 59 یرغمالی ہیں جن میں سے صرف 24 زندہ ہیں۔

  5. دہشتگردوں کی دس نسلیں بھی بلوچستان اور پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں: آرمی چیف

    COAS

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    ،تصویر کا کیپشنجنرل عاصم منیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’آج بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے جذبات دیکھ کر بہت متاثر ہوا ہوں اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کے لیے ہمارے جذبات اس سے بھی زیادہ مضبوط ہیں۔‘

    پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر نے اوورسیز پاکستانیز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’دہشتگردوں کی دس نسلیں بھی بلوچستان اور پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔‘ انھوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کی تقدیر اور ہمارے ماتھے کا جھومر ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’جب تک اس ملک کے غیور عوام افوج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، آپ کی فوج ہر مشکل سے با آسانی نبرد آزما ہو سکتی ہے۔‘

    جنرل عاصم منیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’آج بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے جذبات دیکھ کر بہت متاثر ہوا ہوں اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کے لیے ہمارے جذبات اس سے بھی زیادہ مضبوط ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ آپ صرف پاکستان کے سفیر ہی نہیں، بلکہ پاکستان کی وہ روشنی ہیں جو پورے اقوام عالم پر پڑتی ہے۔

    عاصم منیر نے کہا کہ جو لوگ ’برین ڈرین‘ کا بیانیہ بناتے ہیں، وہ جان لیں کہ یہ ’برین ڈرین‘ نہیں بلکہ ’برین گین‘ ہے اور بیرون ملک پاکستانی اس کی عمدہ ترین مثال ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’آپ سب نے پاکستان کی کہانی اپنی اگلی نسل کو سنانی ہے، وہ کہانی جس کی بنیاد پر ہمارے آباؤ اجداد نے پاکستان حاصل کیا۔‘

    کیا پاکستان کے دشمنوں کا یہ خیال ہے کہ مٹھی بھر دہشتگرد پاکستان کی تقدیر کا فیصلہ کر سکتے ہیں؟

    آرمی چیف نے اوور سیز پاکستانیوں سے کہا ’آپ جس ملک میں بھی ہوں، یاد رکھیں کہ آپ کی میراث ایک اعلیٰ معاشرے، نظریے اور تہذیب سے ہے۔

  6. عمران خان کا طبی معائنہ اور ان کی اپنے بچوں سے بات بھی کرائی جائے: عدالت

    اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی دو درخواستیں منظورکرتے ہوئے ان کی اپنے بچوں سے بات کرانے اور ان کا میڈیکل چیک اپ کروانے کا حکم دے دیا ہے۔

    سپیشل جج سینٹرل ایف آئی اے اسلام آباد شاہ رخ ارجمند نے بانی پی ٹی آئی کی جانب سے دو متفرق درخواستوں پر سماعت کی اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    بانی پی ٹی آئی کی جانب سے عثمان ریاض گل اور ظہیر عباس عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل عثمان ریاض گل نے مؤقف اپنایا کہ عدالت نے پہلے بھی میڈیکل چیک اپ کے حوالے حکم جاری کیا۔

    وکیل عثمان ریاض گل نے مزید کہا کہ جیل ڈاکٹرز کی موجودگی میں ذاتی معالجین سے چیک اپ کروایا جائے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا۔

    وکیل ظہیر عباس نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی روشنی میں پہلے بھی چیک اپ ہو چکا ہے۔ وکیل عثمان گل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کا ذاتی معالجیں سے ماہانہ چیک اپ کروایا جائے۔

    عدالت نے وکلا کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    بعد ازاں جج شاہ رخ ارجمند نے محفوظ فیصلہ سنایا اور بانی پی ٹی آئی کی دونوں درخواستیں منظور کر لی ہیں۔

    اپنے حکم میں عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی بچوں سے بات اور میڈیکل چیک اپ کروانے کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ عدالت نے حکم پر عملدرآمد کی رپورٹ 28 اپریل کو جمع کروانے کی ہدایت بھی کی ہے۔

  7. آرمی چیف کے جو دل میں ہوتا ہے وہی بات ان کی زبان پر ہوتی ہے: وزیراعظم شہباز شریف

    وزیراعظم شہباز شریف نے سمندر پار پاکستانیوں کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے جو دل میں ہوتا ہے وہی بات ان کے زبان پر ہوتی ہے۔

    انھوں نے آرمی چیف سے متعلق مزید کہا کہ ’ان کے ہاتھوں میں پاکستان کا دفاع محفوظ ہے، پاکستان کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا اور جو کوئی میلی آنکھ سے دیکھے گا تو اس آنکھ کو پاکستانی پاوں تلے روند دیں گے۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ افواج پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف جو جہاد کیا اس کی مثال عصر حاضر میں نہیں ملتی۔ ان کے مطابق سنہ 2018 میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہوچکا تھا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ فاش غلطیوں کی وجہ سے چند سال بعد دہشت گردی دوبارہ سامنے آئی ہے، دہشت گردوں کو سوات اور دوسرے علاقوں میں لاکر بسایا گیا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ہارڈ سٹیٹ اور سافٹ سٹیٹ کے تقاضوں میں فرق ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ معاشی استحکام ٹیم ورک کا نتیجہ ہے، پاکستان معاشی طاقت بنے گا۔

  8. عمران خان نے کہا کہ ڈیل نہیں چاہتا، کسی کو مذاکرات کے اختیارات نہیں دیے ہیں: بیرسٹر گوہر

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنمائنز اینڈ منرلز ایکٹ سے متعلق بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اس حوالے سے جب تک وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور متعلقہ سیاسی قیادت کی عمران خان سے ملاقات نہیں ہو جاتی تو اس پر کوئی پیشرفت نہیں ہو سکتی ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے یہ واضح کیا ہے کہ وہ ڈیل نہیں چاہتے ہیں اور نہ انھوں نے کسی کو ایسے مذاکرات کے اختیارات دیے ہیں کہ جس سے یہ تاثر جائے کہ وہ ڈیل چاہتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ عمران خان نے یہ واضح کیا ہے کہ وہ اپنے تمام مقدمات کا سامنا آئین اور قانون کے مطابق کریں گے اور اس طریقے سے ہی وہ انصاف لیں گے۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان نے یہ وضاحت اس وجہ سے دی ہے کہ اس وقت یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ کوئی ڈائیلاگ ہو رہا ہے۔

    واضح رہے کہ 10 اپریل کو نجی ٹی وی چینل سما پر اینکرپرسن ندیم ملک کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اعظم سواتی نے عمران خان سے اڈیالہ جیل میں اپنی ایک ملاقات کی تفصیلات بیان کیں۔ اعظم سواتی نے کہا کہ انھوں نے عمران خان سے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی اجازت مانگی تو ’عمران خان نے کہا ملک کی خاطر اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ کریں۔‘ ایک سوال کے جواب انھوں نے کہا کہ ’آج (دس اپریل) سے بات چیت شروع کردی ہے، بات چیت سے متعلق میں پرامید ہوں۔‘

    اعظم سواتی نے کہا کہ ’عمران خان نے مجھ سے کہا کہ وہ مجھ سے ڈرتے ہیں، وہ بات نہیں کریں گے۔‘ اعظم سواتی کے مطابق اس کے بعد عمران خان نے ان سے یہ کہا کہ ’میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں کوئی انتقام نہیں لوں گا کیونکہ میرا ملک ڈوب رہا ہے۔‘

    اس ویڈیو پیغام کے بعد جب صحافیوں نے پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ اعظم سواتی اپنی حیثیت میں مذاکرات کی کوشش کر رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ہم آئین اور قانون کی بالادستی چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کو اغوا نہ کیا جائے، بنیادی حقوق یقینی بنائیں جائیں۔ ان کے مطابق ہم پتلی گلی سے نہیں نکلنا چاہتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ابہام پیدا کرنے کے لیے عمران خان سے ملاقات نہیں کروانے دی جاتی۔

    یاد رہے کہ عمران خان اس سے قبل بھی متعدد بار یہ بیانات دے چکے ہیں کہ وہ اپنی رہائی کے لیے اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گے اور اس وقت تک رہائی کی پیشکش قبول نہیں کریں گے جب تک ان کے سیاسی کارکنان کو رہا نہیں کیا جاتا۔

    دریں اثنا منگل کو مائنز اینڈ منرلز ایکٹ سے متعلق بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اس حوالے سے جب تک وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور متعلقہ سیاسی قیادت کی عمران خان سے ملاقات نہیں ہو جاتی تو اس پر کوئی پیشرفت نہیں ہو سکتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ عمران خان نے یہ واضح کیا ہے وہ وزیراعلی اور سیاسی قیادت کے مشورے کے بعد اس پر کوئی ہدایت دیں گے۔

    جیل انتظامیہ نے عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان کے خاندان کے افراد کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایڈووکیٹ نیازاللہ نیازی اس حوالے سے اب توہین عدالت کی درخواست دائر کریں گے۔

    بیرسٹر گوہر کے مطابق عدالتی حکم کے مطابق منگل اور جعمرات کو عمران خان سے ان کے خاندان کے افراد ملاقات کر سکتے ہیں جبکہ سیاسی قیادت کی ملاقات جمعرات کو ہو گی۔

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان نے ہدایات دی ہیں کہ خیبرپختونخوا کی حکومت ایک قرارداد کے ذریعے وفاقی حکومت سے افغان پناہ گزینوں کی واپسی میں مزید مہلت کے لیے وقت مانگے۔

  9. کرک کے قریب ٹرک اور ہائی ایس میں تصادم، دس مسافر ہلاک, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    ریسکیو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنکرک میں ریسکیو کے محکمے کا کہنا ہے کہ اس حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی پانچ ایمبولینسز اور ریکوری ویکل موقع پر پہنچی۔ ریسکیو ٹیم نے امدادی کاروائیاں کرتے ہوئے تمام افراد کو ہائی ایس سے نکالا۔

    کرک کے قریب ٹرک اور ہائی ایس گاڑی میں تصادم سے کم از کم دس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق مین ہائی وے لکی غونڈاکئی کرک کے قریب ٹرک اور ہائی ایس کے مابین تصادم ہوا۔

    کرک میں ریسکیو کے محکمے کا کہنا ہے کہ اس حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی پانچ ایمبولینسز اور ریکوری ویکل موقع پر پہنچی۔ ریسکیو ٹیم نے امدادی کاروائیاں کرتے ہوئے تمام افراد کو ہائی ایس سے نکالا۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق اب تک 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ آٹھ مسافر زخمی ہوئے ہیں، جنھیں طبی امداد فراہم کرکے ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ یہ ہائی ایس ڈی ائی خان سے پشاور جا رہی تھی۔

    ریسکیو اہلکاروں کے مطابق زخمیوں میں متعدد افراد کی حالت تشویشناک ہے۔

  10. عدالت کی ماہ رنگ بلوچ کو رہائی کے لیے محکمہ داخلہ سے رجوع کرنے کی ہدایت, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    ماہ رنگ بلوچ

    ،تصویر کا ذریعہBYC

    ،تصویر کا کیپشنبلوچستان ہائیکورٹ نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی 3 ایم پی او کے تحت گرفتاری کے خلاف درخواست نمٹاتے ہوئے درخواست دہندہ کو پہلے محکمہ داخلہ سے رجوع کرنے کا کہا ہے۔

    بلوچستان ہائیکورٹ نے سماجی کارکن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی طرف سے دائر کردہ رہائی کی درخواست پر یہ فیصلہ سنایا ہے کہ وہ امن عامہ سے متعلق قانون میں گرفتاری کے بعد پہلے محکمہ داخلہ سے رجوع کریں۔

    عدالت نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی 3 ایم پی او کے تحت گرفتاری کے خلاف درخواست نمٹاتے ہوئے درخواست دہندہ کو پہلے محکمہ داخلہ سے رجوع کرنے کا کہا ہے۔

    ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت بلوچ یکجہتی کونسل (بی وائی سی) کے متعدد رہنمائوں اور کارکنوں کے خلاف عید الفطر سے قبل اگرچہ کوئٹہ شہر کے مختلف تھانوں میں چھ سے زائد ایف آئی آر درج کی گئی ہیں لیکن ان کی سب سے پہلے گرفتاری محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے احکامات کے تحت 3 ایم پی او کے تحت کی گئی۔

    ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری کے خلاف ان کی بہن نادیہ بلوچ نے بلوچستان ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کی تھی جس میں ان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دینے اور ان کی رہائی کی استدعا کی گئی تھی۔

    بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد اعجاز سواتی اور جسٹس محمد عامر رانا پر مشتمل بینچ نے جمعہ کے روز درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    سماعت کے دوران ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن کی پیروی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر سینیٹر کامران مرتضٰی ایڈووکیٹ، علی احمد کرد ایڈووکیٹ اور ساجد ترین ایڈووکیٹ سمیت وکلا کی بڑی تعداد نے کی تھی۔

    منگل کے روز درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ہائیکورٹ کے فاضل بینچ نے اس درخواست کو نمٹا دیا ہے۔

    درخواست پر فیصلے کے حوالے سے نادیہ بلوچ کے وکیل عمران بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ ہائیکورٹ نے اس درخواست کو نمٹاتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے اس سلسلے میں مناسب فورم سے رجوع کیا جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے فورم محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان ہے جس کے احکامات کے تحت ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔

    انھوں نے بتایا چونکہ محکمہ داخلہ نے ڈاکٹر ماہ رنگ کی 3 ایم پی او کے تحت گرفتاری کے حوالے سے پہلے مناسب پروسیجر اختیار نہیں کیا تھا، جس کی وجہ سے ہم نے براہ راست ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی۔

    انھوں نے کہا کہ 3 ایم پی او کے تحت گرفتاری سے قبل محکمہ داخلہ کی جانب سے اس شخص کو نوٹس کرکے طلب کیا جاتا ہے جس کی گرفتاری مقصود ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ شخص نہیں جائے تو پھر 3 ایم پی او کے تحت اس کے گرفتاری کے احکامات جاری کیے جاتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ چونکہ عدالت نے مناسب فورم سے رجوع کرنے کا کہا ہے اس لیے ہم ڈاکٹر ماہ رنگ کی 3 ایم پی او کے تحت گرفتاری کے خلاف محکمہ داخلہ سے رجوع کریں گے اور اگر محکمہ داخلہ نے ان کی گرفتاری کو ایم پی او کے تحت برقرار رکھا تو اس کے بعد دوبارہ بلوچستان ہائیکورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔

  11. مستونگ حملے میں دیسی ساختہ ریموٹ کنٹرول بم استعمال کیا گیا: پولیس, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    Balochistan
    ،تصویر کا کیپشنڈپٹی کمشنر مستونگ راجہ اطہر عباس نے بتایا کہ دھماکے کا نشانہ بننے والے اہلکار ڈیوٹی دینے کے لیے کنڈ میسوری جارہے تھے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں بلوچستان کانسٹیبلری کے اہلکاروں پر حملے میں دیسی ساختہ ریموٹ کنٹرول بم استعمال کیا گیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر مستونگ راجہ اطہر عباس نے بتایا کہ دھماکے کا نشانہ بننے والے اہلکار ڈیوٹی دینے کے لیے کنڈ میسوری جارہے تھے۔

    مستونگ پولیس کے ڈی ایس پی یونس مگسی نے مستونگ ہسپتال میں میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ یہ اہلکار قلات سے لکپاس بلوچستان نیشنل پارٹی کے دھرنا کے حوالے سے ڈیوٹی دینے جا رہے تھے۔

    ڈی ایس پی مگسی کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد نے ایک موٹر سائیکل میں دھماکہ خیز مواد نصب کرکے اسے علاقے میں کھڑا کر دیا تھا۔

    Balochistan
    ،تصویر کا کیپشنتاحال کسی تنظیم نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ صبح ساڑھے نو بجے کے قریب جب اہلکاروں کو لے جانے والی بس شمس آباد کے قریب پہنچی تو نامعلوم ملزمان نے موٹر سائیکل میں نصب بم کو ریموٹ کنٹرول کی مدد سے اڑا دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں کو صبح ڈیوٹی کے لیے کنڈ میسوری بھیجا جاتا ہے اور شام کو واپس لایا جاتا ہے۔

    ڈی ایس پی مگسی کے مطابق اس حملے میں تین اہلکار ہلاک اور 18 زخمی ہوئے ہیں۔ اس سے قبل حکومتِ بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کا کہنا تھا کہ حملے میں زخمی افراد کی تعداد 16 تھی۔

    تاحال کسی تنظیم نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

    ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی خواتین رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی کے لیے 28 مارچ کو بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام لانگ مارچ شروع کیا گیا تھا۔

    لانگ مارچ کے شرکا کو خضدار سے کوئٹہ پہنچنا تھا لیکن حکومت نے ان کو ضلع مستونگ میں لکپاس پر روک دیا۔

    لانگ مارچ کے شرکا کو کوئٹہ جانے سے روکنے کے لیے نہ صرف کوئٹہ کراچی شاہراہ کو لکپاس ٹنل پر بند کیا گیا تھا بلکہ اس پر خندقیں کھودنے کے علاوہ دیگر رکاوٹیں بھی کھڑی کی گئی تھیں۔

    کوئٹہ کراچی ہائی وے کے علاوہ گردونواح کے علاقوں میں متبادل راستوں پر بھی رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔

    شاہراہوں اور دیگر راستوں پر پولیس، لیویز فورس اور دیگر سکیورٹی اداروں کی بھاری نفری تعینات ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف اضلاع سے بھی پولیس کی نفری طلب کی گئی تھی۔

    پولیس حکام کے مطابق منگل کے روز حملے کا نشانہ بننے والے اہلکاروں کو ریجنل ٹریننگ سینٹر قلات سے طلب کیا گیا تھا جن کا تعلق بلوچستان کے مختلف علاقوں سے تھا۔

    اگرچہ دھرنے کے شرکا کا کہنا ہے کہ پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری ان کو کوئٹہ پہنچنے سے روکنے کے لیے تعینات کی گئی ہے تاہم حکومتِ بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کا مقصد دھرنے کو سیکورٹی فراہم کرنا ہے۔

    بلوچستان
    ،تصویر کا کیپشنہسپتال میں زیرعلاج زخمی پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ہم صبح بس میں ڈیوٹی پر جارہے تھے کہ دھماکہ ہوا

    منگل کو بلوچستان کانسٹیبلری کے اہلکاروں پر حملے سے قبل 29 مارچ کو بی این پی کے دھرنا کیمپ کے قریب ایک خود کش دھماکہ ہوا تھا جس میں چھ افراد معمولی زخمی ہوئے تھے۔

    بی این پی کا دعویٰ ہے کہ خود کش حملہ آور کے پاس سردار اخترمینگل کی تصویر تھی اور وہ اختر مینگل کے دھرنے کے مقام پر پہنچنے سے قبل ان کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔

    تاہم دھرنے کی سکیورٹی پر معمور اہلکاروں کی نشاندہی کے باعث خودکش حملہ آور جلسہ گاہ میں داخل نہیں ہو سکا۔

    ضلع مستونگ بلوچستان کے ضلع کوئٹہ سے متصل ہے اور کوئٹہ شہر سے 20 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام دھرنا ضلع مستونگ میں لکپاس کے مقام پر دیا جا رہا ہے جو کہ کوئٹہ شہر سے اندازاً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    ضلع مستونگ کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے زیادہ متاثر ہیں۔

    سنہ 2000 کے بعد سے اس علاقے سے تواتر سے بدامنی کے سنگین واقعات پیش آتے رہے ہیں جن میں سے زیادہ تر کی ذمہ داری کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیموں کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہیں۔ تاہم بعض کارروائیوں کی ذمہ داری مذہبی شدت پسند تنظیمیں نے بھی قبول کی ہیں۔

    ستمبر 2023 میں مستونگ شہر میں 12ربیع الاوّل کے جلوس پر خود کش حملے کے نتیجے میں 40 سے زائد افراد مارے گئے تھے۔

    اس سے قبل 2018 کے عام انتخابات کی مہم کے دوران ضلع مستونگ کے علاقے درینگڑھ میں بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار نوابزادہ سراج رئیسانی کے انتخابی جلسے کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں سراج رئیسانی سمیت سو سے زائد ہلاک ہوئے تھے جبکہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے تھے۔

  12. ٹرمپ انتظامیہ کا ہارورڈ یونیورسٹی کی دو ارب ڈالرز کی فنڈنگ روکنے کا اعلان

    ہارورڈ یونیورسٹی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ ہارورڈ یونیورسٹی کو فیڈرل فنڈز میں سے دیے جانے والے دو ارب ڈالرز کے فنڈز منجمد کیے جا رہے ہیں۔

    اس سے قبل ہارورڈ یونیورسٹی نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے مہیا کی گئی مطالبات کی ایک فہرست مسترد کر دی تھی۔

    گذشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس کی جانب سے ہارورڈ یونیورسٹی کو مطالبات کی ایک فہرست بھیجی گئی تھی جس کے بارے میں وائٹ ہاؤس انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ان مطالبات کا مقصد یونیورسٹی کے کیمپس پر یہود مخالف رجحانات کی روک تھام ہے۔

    ان مطالبات میں یونیورسٹی کے انتظامی امور میں تبدیلی، نوکری پر رکھنے اور داخلے کے طریقہ میں تبدیلی شامل تھی۔

    پیر کو ہارورڈ کی جانب سے ان مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ان تبدیلیوں کے ذریعے وائٹ ہاؤس یونیورسٹی کی کمیونٹی کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔

    حکومت کی جانب سے کیے گئے مطالبات میں حکومت کو ایسے طالبعلموں کے بارے میں اطلاع دینا جو امریکی اقدار سے ’متضاد‘ سوچ رکھتے ہوں اور سب سے زیادہ یہود مخالفت کو ہوا دینے والے پروگراموں اور محکموں کے آڈٹ کے لیے حکومت سے منظور شدہ پارٹی کی خدمات حاصل کرنا شامل ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھیجے گئے خط میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ ایسے طلبا کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے جو گذشتہ دو برسوں کے دوران کیمپس پر ہونے والے مظاہروں کے دوران ’خلاف ورزی‘ کے مرتکب ہوئے ہیں۔

    پیر کے روز ہارورڈ یونیوسٹی کے صدر ایلن گاربر نے ایک خط میں لکھا تھا وائٹ ہاؤس نے دھمکی دی تھی کہ اگر یونیورسٹی مالی معاملات میں حکومت کے ساتھ اپنا تعلق قائم رکھنا چاہتی ہے تو اسے مطالبات ماننے پڑیں گے۔

    ایلن گاربر کا کہنا تھا کہ یونیوسٹی نے اپنے وکلا کے ذریعے حکومت کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ ان کے مطالبات نہیں مانے گی۔

    ’یونیورسٹی نہ اپنی آزادی اور نہ ہی اپنے آئینی حقوق سے دستبردار ہوگی۔‘

    وزارتِ تعلیم کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہارورڈ یونیوسٹی کے بیان سے استحقاق کی اس پریشان کن ذہنیت کی عکاسی ہوتی ہے جو ہمارے ملک کے سب سے معتبر یونیورسٹیوں اور کالجوں میں پائی جاتی ہے۔

  13. ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کا خیال ترک کرنا ہوگا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ ایران ایک امیر اور عظیم ملک بنے لیکن اسے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنصدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ ایران ایک امیر اور عظیم ملک بنے لیکن اسے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کا خیال ترک کرنا پڑے گا ورنہ امریکہ اسے روکنے کے لیے سخت اقدامات اٹھانے سے گری نہیں کرے گا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، پیر کے روز ایل سلواڈور کے صدر نائیب بوکیل سے ملاقات کے بعد اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا، ’میری خواہش ہے کہ ایران ایک امیر اور عظیم ملک بنے، لیکن صرف ایک چیز ہے، وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنا سکتے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے بہت نزدیک ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا ’وہ [اسے] حاصل نہیں کر پائیں گے، اگر ہمیں بہت سخت اقدامات لینے پڑے تو ہم وہ بھی لیں گے۔‘

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وہ یہ محض اپنے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے کر رہے ہیں۔

    ’یہ انتہا پسند لوگ ہیں۔ اور ان کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہیئیں۔‘

    اس دوران ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا اس کا مطلب ہے کہ امریکہ ایران کی جوہری تنصیبات پر بھی حملہ کر سکتا ہے؟ ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب دیا، ’بالکل اس کا یہی مطلب ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایران نے ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کی تو وہ کبھی ایک عظیم قوم نہیں بن پائیں گے۔

    خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے سنیچر کے روز عمان کے دارالحکومت مسقط میں امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کی پہلی نشست ہوئی تھی۔

    نشست کے بعد وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ 'بات چیت مثبت اور تعمیری' رہی ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کرنے والے وسطیٰ سٹیو وٹکوف نے ایران کو بتایا کہ 'انھیں ہدایات ملی ہیں کہ اگر ممکن ہو سکے تو مخالفین (ایران اور امریکہ) کے درمیان اختلافات کو بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جائے۔'

    امریکی حکام کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے لیے اگلا اجلاس اب سنیچر کو ہوگا۔

    دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ایرانی وفد کے سربراہ وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف کے درمیان ’بالواسطہ مذاکرات کے اختتام کے بعد عمانی وزیر خارجہ کی موجودگی میں چند منٹ بات چیت ہوئی۔‘

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ’ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور امریکی صدر کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف نے باہمی احترام پر مبنی تعمیری ماحول میں اپنی اپنی حکومتوں کے مؤقف اور دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔‘

  14. بلوچستان کے علاقے مستونگ میں دھماکہ، بلوچستان کانسٹیبلری کے تین اہلکار ہلاک

    بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ تمام زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ شدید زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کیا جا رہا ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہAbeeb/BBC

    ،تصویر کا کیپشنبلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ تمام زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ شدید زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کیا جا رہا ہے۔

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے مستونگ میں کنڈ مسوری کے قریب دھماکے کے نتیجے میں بلوچستان کانسٹیبلری کے تین اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند کے مطابق آئی ای ڈی دھماکے کا نشانہ آر ٹی سی قلات سے پولیس اہلکاروں کو لے جانے والا ٹرک تھا۔

    شاہد رند کا کہنا ہے کہ دھماکے میں بلوچستان کانسٹیبلری کے تین اہلکار ہلاک جبکہ 16 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

    ترجمان کے مطابق زخمیوں میں سے دو اہلکاروں کی حالت تشویشناک ہے۔

    شاہد رند کا کہنا ہے کہ تمام زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ شدید زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان کے مطابق اس واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ طلب کرلی گئی ہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے سکیورٹی اہلکار بلوچستان نیشنل پارٹی کے دھرنے کی حفاظت پر تعینات تھے۔

    خیال رہے کہ ضلع مستونگ کے علاقے لکپاس میں 28 مارچ سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی دیگرخواتین رہنماوں اور کارکنوں کی رہائی کے لیے دھرنا جاری ہے۔

    دھرنے کے شرکا ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی دیگرخواتین رہنماوں اور کارکنوں کی رہائی کے لیے کوئٹہ تک لانگ مارچ کرنا چاہتے تھے تاہم سرکاری حکام کی جانب سے شاہراہوں کی بندش کی وجہ سے لانگ مارچ کے شرکا کوئٹہ کی جانب نہیں جا سکے اور لکپاس پر دھرنا دے دیا جو کہ تاحال جاری ہے۔

  15. پوتن کے علاوہ بائیڈن اور زیلنسکی بھی یوکرین جنگ میں ہونے والی اموات کے ذمہ دار ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پر روس کے ساتھ جنگ شروع کرنے کا الزام لگایا ہے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پر روس کے ساتھ جنگ شروع کرنے کا الزام لگایا ہے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پر روس کے ساتھ جنگ شروع کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے علاوہ زیلنسکی بھی یوکرین جنگ کے نتیجے میں ہونے والی ’لاکھوں ہلاکتوں‘ کے برابر کے ذمہ دار ہیں۔

    وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا، ’آپ اپنے سے 20 گنا بڑے دشمن سے جنگ شروع نہیں کرتے اور پھر یہ امید لگانا کہ دوسرے آپ کو کچھ میزائل فراہم کریں گے۔‘ انھوں نے سابق صدر جو بائیڈن پر بھی اس تنازعے میں ہونے والی اموات کا الزام لگایا۔

    ٹرمپ کا بیان یوکرین کے شہر سومی پر روسی میزائل حملے میں دو بچوں سمیت 34 افراد کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس حملے میں 117 زخمی بھی ہوئے ہیں۔ یہ رواں سال روس کی جانب سے یوکرین کے کسی شہری علاقے پر کیا جانے والا سب سے بڑا حملہ ہے جس کی کیئو کے مغربی اتحادیوں نے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی حملے کو ایک غلطی قرار دیا تھا۔

    پیر کے روز امریکی صدر کا کہنا تھا کہ تین افراد کی وجہ سے لاکھوں لوگ مارے گئے ہیں۔

    ’آپ کہہ سکتے ہیں کہ سب سے پہلے نمبر پر پوتن آتے ہیں، دوسرے جو بائیڈن ہیں جنھیں بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں، اور تیسرے زیلنسکی۔‘

    ایک اندازے کے مطابق فروری 2022 میں روسی حملے کے بعد سے لاکھوں افراد تو نہیں لیکن ہزاروں افراد اس جنگ میں مارے جا چکے ہیں۔

  16. جعفر ایکسپریس حملے میں امریکی ساختہ ہتھیار استعمال ہوئے تھے: واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ

    واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال مئی میں پاکستانی حکام نے انھیں ان درجنوں ہتھیاروں تک رسائی دی تھی جو حکام کے بقول پکڑے گئے یا مارے گئے عسکریت پسندوں سے ملے تھے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنواشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال مئی میں پاکستانی حکام نے انھیں ان درجنوں ہتھیاروں تک رسائی دی تھی جو حکام کے بقول پکڑے گئے یا مارے گئے عسکریت پسندوں سے ملے تھے

    امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ 11 مارچ کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر ہونے والے حملے میں وہ ہتھیار استعمال ہوئے تھے جو افغانستان سے انخلا کے وقت امریکی افواج نے وہاں چھوڑے تھے۔

    یاد رہے کہ 11 مارچ کو کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر ٹرین جعفر ایکسپریس پر ضلع کچھی کے علاقے بولان میں ہونے والے حملے میں کم از کم 18 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 26 افراد مارے گئے تھے جبکہ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ، آئی ایس پی آر، کے مطابق سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 33 عسکریت پسند ہلاک ہوئے تھے۔

    واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جعفر ایکسپریس حملے کے بعد پاکستانی حکام نے مبینہ طور پر حملہ آوروں کی جانب سے استعمال کی گئی تین امریکی رائفلوں کے سیریل نمبرز انھیں فراہم کیے تھے۔

    اخبار کا دعویٰ ہے کہ جب انھوں نے فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ کے تحت امریکی سرکاری ریکارڈز تک رسائی حاصل کی تو معلوم ہوا کہ اُن میں سے کم از کم دو رائفلیں ماضی میں امریکہ کی جانب سے افغان فورسز کو فراہم کی گئی تھیں۔

    2018 میں کنکٹیکٹ میں کولٹ کی فیکٹری میں تیار ہونے والی ایم فور اے ون (M4A1) کاربائن رائفل جس کا سیریل نمبر W1004340 ہے مبینہ طور پر جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد حملہ آوروں کے قبضے سے ملی تھی۔

    ،تصویر کا ذریعہThe Washington Post

    ،تصویر کا کیپشن2018 میں کنکٹیکٹ میں کولٹ کی فیکٹری میں تیار ہونے والی ایم فور اے ون (M4A1) کاربائن رائفل جس کا سیریل نمبر W1004340 ہے مبینہ طور پر جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد حملہ آوروں کے قبضے سے ملی تھی۔

    اخبار کا دعویٰ ہے کہ سنہ 2018 میں کنکٹیکٹ میں کولٹ کی فیکٹری میں تیار ہونے والی ایم فور اے ون (M4A1) کاربائن رائفل جس کا سیریل نمبر W1004340 ہے مبینہ طور پر جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد ہلاک ہونے والے حملہ آوروں کے قبضے سے ملی تھی۔

    اخبار کا دعویٰ ہے کہ یہ رائفل اربوں ڈالر مالیت کے ان ہتھیاروں میں شامل ہے جو امریکی فوج کے افغانستان سے انخلا کے بعد پیچھے رہ گئے تھے۔

    واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال مئی میں پاکستانی حکام نے انھیں ان درجنوں ہتھیاروں تک رسائی دی تھی جو حکام کے بقول مختلف کارروائیوں کے دوران پکڑے گئے یا مارے گئے عسکریت پسندوں سے ملے تھے۔

    اخبار کا دعویٰ ہے کہ مہینوں کی تحقیقات کے بعد، امریکی فوج اور پینٹاگون نے واشنگٹن پوسٹ کو تصدیق کی کہ صحافیوں کو دکھائے گئے ہتھیاروں میں سے 63 ہتھیار ایسے ہیں جو امریکی حکومت کی جانب سے افغان فورسز کو فراہم کیے گئے تھے۔

    یاد رہے کہ رواں سال جنوری میں پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ 2021 میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد پیچھے رہ جانے والے ہتھیار پاکستان اور اس کے شہریوں کے تحفظ اور سلامتی کے لیے گہری تشویش کا باعث ہیں۔

    اپریل میں بی بی سی پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، ایک سابق افغان اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ طالبان نے 2021 میں افغانستان پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے بعد تقریبا 10 لاکھ ہتھیاروں اور فوجی ساز و سامان کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

    ان ہتھیاروں کے ذخیرے میں امریکی ساختہ اسلحہ، جیسا کہ ایم 4 اور ایم 16 رائفلز کے ساتھ ساتھ افغانستان کے قبضے میں موجود دیگر پرانے ہتھیار بھی شامل تھے۔

    ان میں سے زیادہ تر ہتھیار پچھلی افغان حکومت کو فراہم کیے گئے تھے۔

    ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ طالبان نے گذشتہ سال کے اواخر میں دوحہ میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی کمیٹی کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ کم از کم آدھے ہتھیار و آلات اب ’لاپتہ‘ ہیں۔

    ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ افغانستان میں طالبان کی جانب سے حاصل کیے گئے پانچ لاکھ ہتھیار یا تو ضائع ہو چکے ہیں، فروخت کیے جا چکے ہیں اور یا دوسرے گروہوں کو سمگل کیے جا چکے ہیں۔ جبکہ اقوام متحدہ کا خیال ہے کہ ان میں سے کچھ ہتھیار القاعدہ سے وابستہ گروہوں کے ہاتھوں میں چلے گئے ہیں۔

  17. ’10 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے عوض جنگ بندی معاہدے پر مذاکرات کی تجویز‘: حماس کا مشاورت کے بعد جواب دینے کا وعدہ

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنغزہ کی وزارت صحت کے مطابق، گذشتہ ماہ فوجی آپریشن کے دوبارہ آغاز سے اب تک 1500 سے زائد فلسطینی اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

    حماس کا کہنا ہے کہ وہ ثالثوں کی جانب سے موصول ہونے والے نئے غزہ جنگ بندی معاہدے کا بغور جائزہ لے رہی ہے اور ’ضروری مشاورت‘ کے بعد جلد اس تجویز کا جواب دے گی۔

    حماس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مستقبل کے کسی بھی معاہدے کے لیے ’مستقل جنگ بندی‘ اور غزہ سے اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا ضروری ہے۔

    قاہرہ نیوز چینل نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’مصر نے اسرائیلی جنگ بندی کی تجویز حماس تک پہنچا دی ہے اور اب اس کے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔‘ ذرائع کا کہنا ہے کہ قاہرہ کو غزہ میں عارضی جنگ بندی کی تجویز موصول ہوئی ہے، جس سے مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

    حماس کے رہنما طاہر النونو کا کہنا ہے کہ حماس قیدیوں کے تبادلے کے کسی ’سنجیدہ معاہدے‘ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ کے خاتمے کی یقین دہانی کے بدلے میں تمام یرغمالیوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہے۔

    دوسری جانب، فلسطینی اور مصری ذرائع نے پیر کے روز بتایا کہ غزہ میں جنگ بندی اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات کا تازہ ترین دور بغیر کسی واضح پیش رفت کے ختم ہو گیا۔

    قاہرہ میں مصری اور قطری ثالثوں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے بعد طاہر النونو کا کہنا تھا کہ حماس کے ہتھیار ڈالنے کے معاملے پر کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ مسئلہ یرغمالیوں کی تعداد کا نہیں بلکہ اس بات کا ہے کہ اسرائیل اپنے وعدوں سے مکر رہا ہے اور جنگ کے معاہدے پر عمل درآمد کو روک رہا ہے، اور جنگ حاری رکھے ہوئے ہے۔

    ایک اسرائیلی نیوز ویب سائٹ يديعوت احرنوٹ نے پیر کے روز خبر دی تھی کہ حماس کو جنگ بندی کی ایک نئی تجویز پیش کی گئی ہے۔ جنگ بندی کی اس نئی تجویز کے مطابق، حماس کی جانب سے دس زندہ قیدیوں کی رہائی کے بدلے امریکہ ضمانت دے گا کہ اسرائیل جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر مذاکرات میں شامل ہوگا۔

    ایک مصری ذریعے نے روئٹرز کو بتایا کہ حماس نے تازہ ترین تجویز کا جواب دینے کے لیے مزید وقت کی درخواست کی ہے۔ انھوں نے وضاحت کی کہ حماس کو رہا کیے جانے والے یرغمالیوں کی تعداد بڑھانے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن وہ اس بات کی ضمانت چاہتی ہے کہ اسرائیل جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات شروع کرے گا جو جنگ کے خاتمے کا سبب بنے۔

    جنوری میں شروع ہونے والی چھ ہفتے کی جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے دوران سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کے بدلے حماس نے 33 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا تھا۔ مارچ میں شروع ہونے والے جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد نہیں ہو سکا اور اسرائیل کی جانب سے ایک بار پھر فلسطینی علاقوں پر حملے شروع کر دیے گئے۔

    غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، گذشتہ ماہ فوجی آپریشن کے دوبارہ آغاز سے اب تک 1500 سے زائد فلسطینی اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

    اب بھی 59 اسرائیلی یرغمالی حماس کی قید میں ہیں جن میں سے 24 کے بارے میں اسرائیل کا خیال ہے کہ وہ اب بھی زندہ ہیں۔

    یورپی یونین کا فلسطینیوں کے لیے 1.6 ارب یورو کے امدادی پیکج کا اعلان

    پیر کے روز، یورپی یونین نے فلسطینیوں کے لیے 1.6 ارب یورو کے نئے تین سالہ مالی امدادی پیکج کا اعلان کیا۔

    یورپی یونین کے ٰ نمائندہ برائے خارجہ امور اور سکیورٹی پالیسی کایا کالس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک پیغام میں کہا ہے یہ سپورٹ پیکج 2027 تک چلے گا تاکہ مغربی کنارے اور غزہ میں استحکام حاصل کرنے میں مدد دی جاسکے۔

    کیلاس نے کہا،’اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، لیکن اب جو کچھ ہو رہا ہے وہ متناسب دفاع سے بالاتر ہے۔‘

  18. بی این پی کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ جاری: ہارڈ سٹیٹ پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے گرفتار رہنماؤں اور کارکنوں کو رہا کرنے کا مطالبہ, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    BNP

    ،تصویر کا ذریعہBNP

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس نے قومی سلامتی کانفرنس میں بلوچستان کے مسئلہ کے حل کے لیے منعقدہ حالیہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے فیصلوں بالخصوص ہارڈ سٹیٹ پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی گرفتار خواتین رہنماؤں اور کارکنوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    آل پارٹیز کانفرنس پیر کو کوئٹہ سے متصل کوئٹہ کراچی ہائی وے پر لکپاس کے مقام پر منعقد ہوئی جہاں بلوچستان نیشنل پارٹی 28 مارچ سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی خواتین رہنمائوں اور گرفتاریوں کے خلاف دھرنا دیے ہوئے ہے۔

    آل پارٹیز کانفرنس میں جن دیگر جماعتوں کے رہنمائوں نے شرکت کی ان میں جمیعت العلما اسلام، نیشنل پارٹی، تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی، پشتون تحفظ موومنٹ، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ، وحدت المسلیمین، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی (بلوچ گروپ)، جمہوری وطن پارٹی کے رہنمائوں کے علاوہ مرکزی انجمن تاجران کے عہدیداروں اور قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔

    سردار اخترمینگل، مولانا عبدالغفور حیدری، سردار کمال خان ببنگلزئی، اصغرخان اچکزئی، میر اسراراللہ زہری، داؤد شاہ کاکڑ اور عبدالمتین اخوندزادہ کے علاوہ دیگر جماعتوں کے رہنمائوں نے خطاب بھی کیا۔

    کانفرنس کے بعد لکپاس ڈیکلریشن کے نام سے جو اعلامیہ جاری کیا گیا اس میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ، گل زادی بلوچ، بیبرگ بلوچ اور صبغت اللہ کی مبینہ غیر قانونی گرفتاری، بلوچستان کی وفاقی آئینی حیثیت کو ایک نوآبادی میں تبدیل کرنے کے عمل کی مذمت کی گئی اور تمام گرفتار افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

    اعلامیہ میں کہا گیا کہ ’دھرنے میں شریک سیاسی جماعتیں ’بلوچستان کی وفاقی وحدت کی حیثیت سے بحالی، خفیہ اداروں کی مداخلت، سیاسی جمہوری جدوجہد کرنے والی جماعتوں اور بی این پی کی پرامن لانگ مارچ کو روکنے، سردار اختر مینگل سمیت سیاسی قائدین کو خودکش حملہ آوروں کے رحم و کرم پر لکپاس کے مقام پر روکنے کے عمل کو انتہائی تشویش اور غم و غصہ کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔‘

    اعلامیہ میں کہا گیا کہ ’سیاسی و جمہوری جماعتیں بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے آئینی اور غیر متشددانہ جدوجہد کی نہ صرف حمایت کرتی ہیں بلکہ ریاست اور ریاستی اداروں کی جارحانہ پالیسی کو وفاق کے لیے تباہ کن سمجھتی ہیں۔‘

    دھرنے میں شریک سیاسی جماعتون نے بلوچستان کے مسئلہ کے حل کے لیے منعقدہ حالیہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے فیصلوں بالخصوص ہارڈ سٹیٹ پالیسی کو ملک میں مزید انتشار اور اضطراب کا باعث قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ریاست ایسے سخت گیر پالیسیوں سے نہ صرف اجتناب کرے بلکہ آئین پر مکمل عملداری کویقینی بناتے ہوئے بلوچستان کے مسئلہ کو حل کرے۔

    کانفرنس میں متعدد قراردادیں منظور کی گئیں جس میں دوران لانگ مارچ و دھرنا بی این پی کے کارکنوں کو ہراساں کرنے، گرفتار کرنے اور وڈھ میں پرامن احتجاج کرنے کے دوران عنایت اللہ لہڑی کی فورس کے ہاتھوں مبینہ ہلاکت اور دیگر کارکنوں کو زخمی کرنے کی مذمت کی گئی اور ملوث اہلکاروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

    کانفرنس میں ملک بھر میں سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں بشمول عمران خان، علی وزیر، ڈاکٹر یاسمین سمیت پی ٹی آئی، بی این پی اور سندھ میں کینال تحریک میں گرفتار کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔

    ایک اور قرار داد میں بلوچستان کے قدرتی وسائل سے متعلق مبینہ جاری قابضانہ رحجانات قانون سازی اور معاہدات بشمول مائنز اینڈ منرل ایکٹ 2025 کی فوری تنسیخِ، پی پی ایل معاہدے کے خاتمے اور ریکوڈک معاہدے میں بلوچستان کے 50 فیصد حصہ داری کے حق کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

    کانفرنس میں چمن میں دو سال سے جاری دھرنے کی مکمل حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ چمن سے جیونی، تفتان سے مند اور ماشکیل سے پنجگور تک سرحدی تجارت کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔

  19. اسرائیلی حملوں کے بعد غزہ کے ہسپتالوں کی حالت ناقابلِ بیان ہے: عالمی ادارہ صحت

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے جاری ہونے والے ایک تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’غزہ کے ہسپتالوں کی حالت ’بیان سے باہر‘ ہے کیونکہ اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں ایک بڑی تنصیب کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کی ترجمان ڈاکٹر مارگریٹ ہیرس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وہ ہسپتالوں اور طبی عملے پر ’حملوں کے بعد حملے‘ دیکھ رہی ہیں اور اسرائیل کی جانب سے علاقے کی ناکہ بندی کی وجہ سے طبی سامان کی فراہمی انتہائی کم ہے۔‘

    اتوار کے روز غزہ شہر کے الاہلی ہسپتال کے عملے نے کہا کہ ’اسرائیلی حملے میں ان کی لیبارٹری تباہ ہو گئی ہے اور ہسپتال کے ایمرجنسی روم کو شدید نقصان پہنچا ہے۔‘ انھوں نے براہ راست کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی لیکن کہا کہ دیکھ بھال میں خلل کی وجہ سے ایک بچے کی موت ہوئی۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ’انھوں نے حماس کی جانب سے حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیے جانے والے ’کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر‘ کو نشانہ بنایا۔‘

    یہ ہسپتال چرچ آف انگلینڈ کے زیر انتظام چلایا جاتا ہے جس کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ’وہ اس حملے پر فلسطینیوں کے ساتھ ’دکھ اور غم‘ میں شریک ہیں اور اسرائیل سے اپنے دعوے کی حمایت میں ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔‘

    غزہ میں جنگ بندی اس وقت ختم ہوئی جب اسرائیل نے چار ہفتے قبل اپنی فضائی اور زمینی مہم دوبارہ شروع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’فوجی دباؤ حماس کو ان یرغمالیوں کو رہا کرنے پر مجبور کرے گا جو اب بھی اُن کی قید میں ہیں۔‘

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عالمی ادارہِ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس نے کہا کہ ’اقوام متحدہ کے ادارے کو الاہلی کے ڈائریکٹر نے بتایا ہے کہ ایمرجنسی روم، لیبارٹری، ایمرجنسی روم کی ایکسرے مشینیں اور فارمیسی تباہ ہو گئی ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ہسپتال کو 50 مریضوں کو دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کرنے پر مجبور ہونا پڑا لیکن 40 مریضوں کی تشویشناک حالت کی وجہ سے انھیں منتقل نہیں کیا جا سکا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہسپتالوں کو بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ صحت کی دیکھ بھال پر حملے بند ہونے چاہئیں۔ ایک بار پھر ہم دہراتے ہیں کہ مریضوں، طبی کارکنوں اور ہسپتالوں کو تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔‘

    اسرائیلی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ’حملہ ایک ایسی عمارت پر کیا گیا تھا جسے حماس نے دہشت گردی کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے طور پر استعمال کیا تھا اور جہاں کوئی طبی سرگرمی جاری نہیں تھیں۔‘

    تاہم اسرائیل کی جانب سے ہسپتال پر حملے کے بعد حماس کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ’ہم اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’وحشیانہ جرم‘ قرار دیتے ہیں۔ انھوں نے اسرائیل کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ وہ اس تنصیب کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے تھے۔‘

  20. فلسطین میں ظلم و ستم پر عالمی برادری کی خاموشی افسوسناک ہے، حق خودارادیت کی جدوجہد کرنے والوں کی آواز کو بارود سے دبایا نہیں جاسکتا: اعظم نذیر تارڑ

    پاکستان کے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کا کہنا ہے کہ ’غزہ میں اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کررہا ہے۔‘

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ’اسرائیل نے فلسطین پر جنگ مسلط کرکے جدید تاریخ میں ظلم و ستم کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اسرائیل امدادی سرگرمیوں کی راہ میں بھی رکاوٹ بن گیا ہے اور اسرائیلی حملوں سے ہسپتال، ایمبولینسیں، امدادی اداروں کے رضاکار، پناہ گاہیں تک محفوظ نہیں اس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔‘

    وفاقی وزیر قانون نے مزید کہا کہ ’اسرائیل کے اس وحشیانہ اقدام کے خلاف اور فلسطین میں ظلم و ستم پر عالمی برادری کی خاموشی افسوسناک ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’حکومت پاکستان روزاول سے مسئلہ فلسطین پر اپنا ایک نقطہ نظر رکھتی ہے اور ہم آج بھی سمجھتے ہیں کہ دنیا بھر میں آج بھی جہاں جہاں لوگ اپنے حق خودارادیت کی جدوجہد میں مصروف ہیں ان کی آواز آپ ڈائیلاگ سے تو روک سکتے ہیں لیکن بارود سے ان کی آواز کو نہیں دبایا جاسکتا چاہے وہ فلسطین ہو یا کشمیر ہو۔‘

    وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ ’حکومت پاکستان اور عوام سمجھتے ہیں کہ اس ظلم کو فی الفور رکنا چاہیے اور فلسطین کے مظلوم عوام کو نہ صرف اس مشکل گھڑی میں اقوام عالم کی بھرپور مدد کی ضروررت ہے بلکہ اس مسئلے کے حل کے لیے بھی سب کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہے تاکہ ظلم کی یہ داستان دوبارہ نہ دہرائی جاسکے۔‘