کم عمر ڈرائیورز کے ہاتھوں ٹریفک حادثات میں بڑھتی اموات: ’ایسے واقعات کو روکنا ہے تو ملزمان کو بھی ویسی ہی سزا دی جائے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
’اس ڈرائیور کو بھی سڑک پر اسی جگہ بٹھا کر گاڑی سے ٹکر ماری جائے جس نے میری بیٹی، داماد اور نواسی کو ٹکر ماری۔‘
راولپنڈی کے رہائشی محمد فاروق کے لیے اس برس عید خوشی نہیں بلکہ وہ غم لے کر آئی جسے بھلانا ان کے لیے ممکن نہیں۔
یہ غم انھیں اپنی بیٹی کی ناگہانی موت کی شکل میں ملا جو عید سے چند دن قبل اسلام آباد ہائی وے پر ایک ایسی گاڑی کی ٹکر سے ماری گئیں جو ایک کم عمر ڈرائیور چلا رہا تھا اور اس واقعے میں ان کی نواسی اور داماد شدید زخمی بھی ہوئے۔
محمد فاروق نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ آٹھ برس سے دبئی میں مقیم ان کی بیٹی بختاور اور داماد شعیب عید منانے کے لیے پاکستان آئے تھے اور حادثے کے دن اسلام آباد میں ایک عزیز سے ملنے جا رہے تھے۔
’گھر میں گاڑی موجود تھی لیکن ان دونوں نے موٹر سائیکل پر جانے کو ترجیح دی کیونکہ آئی ایٹ سیکٹر گھر سے تین سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔‘
واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے محمد فاروق کا کہنا تھا کہ ’دونوں میاں بیوی اسلام آباد ایکسپریس وے پر ایک سڑک کے کنارے کھڑے ہوکر موبائل پر (عزیز کے) گھر کی گوگل لوکیشن ڈال رہے تھے اور اسی دوران فیض آباد سے زیرو پوائنٹ کی طرف جانے والی تیز رفتار گاڑی نے انھیں ٹکر مار دی جس کی وجہ سے میری بیٹی بختاور فاروق موقع پر ہی ہلاک ہوگئی، جبکہ داماد محمد شعیب اور دو سال کی نواسی عزا شعیب شدید زخمی ہوگئے۔‘
فاروق مغل کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جس گاڑی نے ان کی بیٹی اور داماد کو ٹکر ماری وہ دوسری گاڑیوں کے ساتھ ریس لگا رہی تھی، جبکہ اس گاڑی کو چلانے والا ایک کم عمر نوجوان تھا۔
فاروق مغل کہتے ہیں کہ ان کی تین بیٹیاں تھیں، جن میں سے بختاور نہ صرف اپنی فیملی کو مالی طور پر سپورٹ کرتی تھیں بلکہ وہ اپنی دوسری بہنوں کی تعلیم اور خاندان کے دیگر افراد کی ضرورتوں کا بھی خیال رکھتی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ ان کا ’جو نقصان ہونا تھا وہ ہو چکا اور اگر مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنا ہے تو ایسے جرم کے مرتکب افراد کو بھی ویسی ہی سزا دی جائے تاکہ ان کے والدین کو بھی احساس ہو کہ اگر ان کے بچے قانون کی خلاف ورزی کریں گے تو ان کو بھی ویسے ہی کرب سے گزرنا پڑے گا جس سے متاثرہ خاندان گزر رہا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
واضح رہے کہ پاکستان میں ٹریفک حادثے میں اگر کسی کی موت ہو جائے اور ملزم کے پاس ڈرائیونگ لائسنس بھی موجود ہو تب بھی ڈرائیور پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 320 کا اطلاق ہوتا ہے جو ایک قابلِ ضمانت جُرم ہے۔
تاہم اگر ایسے ثبوت سامنے آ جائیں جس سے معلوم ہوتا ہو کہ ڈرائیور نے جان بوجھ کر کسی ٹکر ماری تو ایسی صورت میں مقدمے میں قتل اور اقدام قتل کی دفعات کا بھی اضافہ کر دیا جاتا ہے۔
مقدمے کے تفتیشی افسر کیا کہتے ہیں؟
اس مقدمے کے تفتیشی افسر محمد مطلوب نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس واقعے میں ملوث ملزم (ڈرائیور) کی عمر 14 سے 15 سال کے درمیان ہے اور وہ 10ویں جماعت کا طالبعلم ہے۔
انھوں نے کہا کہ پولیس اس واقعے کی تحقیقات کر رہی تھی اور اس ضمن میں ایکسپریس وے پر نصب کیمروں کی مدد اس گاڑی کو بھی تلاش کر لیا گیا تھا۔
تاہم تفتیشی افسر کے مطابق اس عرصے کے دوران ملزم کے والد اس گاڑی کو لے کر تھانہ آئی نائن پہنچ گئے جسے ان کا نوعمر بیٹا چلا رہا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پولیس نے اس واقعے کا مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے جبکہ کم عمر ملزم نے اسلام اباد کی مقامی عدالت سے عبوری ضمانت حاصل کرلی ہے اور اس عبوری ضمانت پر آئندہ سماعت 14 اپریل کو ہوگی۔
تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کی اب تک ہونے والی تفتیش کے مطابق کم عمر ملزم قصور وار پایا گیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس واقعے سے متعلق درج ہونے والے مقدمے میں ملزم پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 322 بھی لگائی گئی ہے جو کہ کم عمر بچے کے گاڑی چلانے سے متعلق ہے۔
تعزیرات پاکستان کی یہ دفعہ ناقابل ضمانت ہے اور جرم ثابت ہونے پر اس کی سزا 10 سال قید ہے۔
تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست اسلام آباد کی مقامی عدالت نے عبوری طور پر منظور کی ہے اور وہ آئندہ سماعت پر عدالت سے ملزم کی عبوری ضمانت کو منسوخ کرنے کی استدعا کریں گے۔
تفیشی افسر کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ جُووینائل کورٹ میں اس لیے نہیں گیا کیونکہ اس عدالت میں صرف ان ہی بچوں کا معاملہ لے کر جایا جاتا ہے جن کی عمریں 12 سال یا اس سے کم ہوں۔
اسلام آباد میں کم عمر ڈرائیورز کے خلاف کارروائی
دوسری جانب وفاقی دارالحکومت کی ٹریفک پولیس گذشتہ دو ہفتوں سے گاڑی چلانے والے کم عمر بچوں کے خلاف نہ صرف قانونی کارروائیاں کر رہی ہے بلکہ ان کے والدین کو ٹریفک آفس طلب کر کے ان کی کاؤنسلنگ بھی کی جا رہی ہے۔
ایس ایس پی ٹریفک کیپٹن ریٹائرڈ ذیشان حیدر کا کہنا ہے کہ قانون کے تقاضے پورے کرنے کے بعد متعدد کم عمر بچوں کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔ تاہم جووینائل کورٹ نے ان بچوں کی ضمانتیں منظور کرلی ہیں۔
بی بی سی بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ عید کی چھٹیوں کے دوران صرف ٹریفک پولیس نے 519 گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے خلاف نہ صرف کارروائی کی بلکہ ان میں سے متعدد گاڑیوں کو تھانوں میں بند بھی کروایا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ اس عرصے کے دوران ان 24 بچوں اور دیگر افرد کے خلاف بھی کارروائیاں کی گئیں جن کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہیں تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ایس ایس پی ٹریفک کے مطابق اس عرصے کے دوران جن افراد کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہیں تھے انھیں اسلام آباد ٹریفک پولیس کی جانب سے لرنرز لائسنس بھی جاری کیے گئے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ون ویلنگ اور کم عمر بچوں کے گاڑیاں چلانے کی وجہ سے ٹریفک حادثات رونما ہوتے ہیں۔
’ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ ایسے جرم کا ارتکاب کرنے والے یا تو زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے اور یا پھر عمر بھر کے لیے مغدور ہوگئے۔‘
انھوں نے کہا کہ ٹریفک پولیس باقاعدگی سے کم عمر بچوں کو ڈرائیونگ نہ کرنے دینے اور انھیں گاڑیاں نہ دینے کے حوالے سے ٹریفک ایڈوائزری جاری کرتی رہتی ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے کی طرف جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عید کی چھٹیوں کے دوران 1700 سے زائد بائیکرز کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی جبکہ 500 موٹر سائیکلز مختلف تھانہ جات میں بند کیے گئے۔
بیان کے مطابق عیدالفطر کی چھٹیوں کے دوران 25 لاکھ گاڑیاں اسلام آباد میں داخل ہوئیں جبکہ ساڑھے آٹھ لاکھ سے زائد گاڑیوں اور موٹر سائیکل سواروں نے اسلام آباد کے مختلف تفریحی مقامات کا رخ کیا۔












