یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
18 اپریل کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے ملک اور یوکرین کے درمیان معدنیات سے متعلق معاہدہ آئندہ جمعرات یعنی 24 اپریل کو ہوگا۔ اٹلی کی وزیراعظم جورجا میلونی سے ملاقات کے موقع پر امریکی صدر نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے بارے میں کہا کہ ’میں ان سے خوش نہیں ہوں۔‘
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
18 اپریل کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے ملک اور یوکرین کے درمیان معدنیات سے متعلق معاہدہ آئندہ جمعرات یعنی 24 اپریل کو ہوگا۔
جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا کہ اس معاہدے پر کہاں دستخط ہوں گے تو اس کے جواب کے لیے صدر ٹرمپ نے اپنے وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کو جواب کا موقع دیا، جنھوں نے کہا کہ اس معاہدے کی تفصیلات سے متعلق ابھی کام ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ زیادہ تر اسی طرح کا ہے جس پر ہم نے پہلے اتفاق کیا تھا۔
اس ڈیل کے ابتدائی مسودے کے مطابق جنگ زدہ یوکرین کی تعمیر نو کے لیے ایک سرمایہ کاری فنڈ قائم کیا جائے گا۔ اس فنڈ کے لیے معدنیات سے حاصل ہونے والی رقم سے یوکرین 50 فیصد حصہ ڈالے گا، جسے یوکرین کی ترقی، خوشحالی، فلاح و بہبود، سلامتی اور تحفظ پر خرچ کیا جائے گا۔
اس فنڈ میں امریکہ زیادہ حصہ ڈالے گا اور وہ اس سے یوکرین کی تعمیر نو کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پہلے اس معاہدے پر فروری میں دستخط ہونے تھے جبکہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی امریکہ کے دورے پر گئے ہوئے تھے۔ اس دورے کے دوران صدر ٹرمپ اور صدر زیلنسکی کے درمیان سخت جملوں کے تبادلے کے بعد یہ ممکن نہیں ہو سکا تھا۔
جب امریکہ نے یوکرین کی مدد بند کرنے کا اعلان کیا تو یوکرین کے صدر نے سوشل میڈیا پر اس معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے اپنی رضامندی ظاہر کر دی۔
اٹلی کی وزیراعظم جورجا میلونی سے ملاقات میں صدر ٹرمپ نے اپنے پرانے مؤقف کے برعکس یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ سے متعلق کہا ہے کہ وہ اس کا ذمہ دار یوکرین کے صدر کو نہیں سمجھتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ سنہ 2022 میں وہ صدر ہوتے تو یہ جنگ نہ ہوتی۔
امریکی صدر نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے بارے میں کہا کہ ’میں ان سے خوش نہیں ہوں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’میں انھیں مؤرد الزام نہیں ٹھہرا رہا مگر میں یہ ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ انھوں نے کوئی عظیم کارنامہ سرانجام نہیں دیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
اٹلی کی وزیراعظم جورجا میلونی اس وقت امریکہ کے دورے پر ہیں، جہاں ان کی ملاقات صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہونی ہے۔ جب ان سے ایک صحافی نے پوچھا کہ وہ واشنٹگن میں کیوں ہیں تو ان کا جواب تھا کہ وہ مغرب کے اتحاد پر یقین رکھتی ہیں۔
اس پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’انھیں صدر پر یقین ہے‘، جس پر انھوں نے ہاں میں جواب دیا۔ جورجا نے کہا کہ ہمیں ایک ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے اور یہی وجہ ہے کہ میں یہاں واشنگٹن میں موجود ہوں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور اٹلی کے تعلقات بہت اچھے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں میں ٹریڈ ڈیل کے سو فیصد امکانات موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک شفاف ڈیل ہوگی۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ٹیرف سے امریکہ نے بہت پیسہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہا اب دیگر ممالک امریکہ کا (ناجائز) فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے ’کیونکہ اب ہمارے پاس حقیقی صدر ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ اگر دیگر ممالک ڈیل کے لیے میز پر نہیں آئیں گے تو پھر ہم خود ان کے لیے ڈیل بنائیں گے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ کوئی بھی صدر ابھی تک چین سے دس سینٹس بھی نہیں سکا ہے جبکہ میں نے 700 بلین سے زیادہ چین سے لیے ڈالر لیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ بہت اچھی رستے پر چل نکلا ہے اور وہ ملک کو ایسا بنانا چاہتے ہیں کہ جو پہلے کبھی کوئی نہیں بنا سکا۔
راولپنڈی پولیس نے سابق وزیراعظم عمران خان کی بہنوں اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو حراست میں لے لیا ہے۔
جمعرات کی سہ پہر یہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ پولیس نے اڈیالہ جیل جانے والے راستے کنٹینرز لگا کر بند کر دیے اور پولیس نے تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی بہنوں سمیت پارٹی کے وفد کو واپس جانے کا مشورہ دیا اور کہا کہ آپ کی آج ملاقات نہیں کروائی جائے گی۔
عمران خان کی تینوں بہنوں کو اڈیالہ جیل جانے کے لیے داہگل کے مقام پر پولیس ناکے پر روکا گیا تھا۔
پی ٹی آئی کی جانب تصدیق کی گئی ہے کہ عمران خان کی تینوں بہنوں کے علاوہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بچھر، سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا اور عمران خان کے فوکل پرسن قاسم نیازی بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے گئے تھے جنہیں پولیس نے حراست میں لیا ہے۔
اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا مستقل چیف جسٹس تعینات نہیں کر رہے۔
انھوں نے یہ بات جمعرات کواسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے تبادلے اور سینیارٹی سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے دوران بتائی۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ ان درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے۔
دوران سماعت جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے تینوں ججز کو نوٹس جاری کیا گیا تھا، ان کا وکیل کون ہے؟
اس موقع پر اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے موقف اختیار کیا کہ مجھے تینوں ججز کی جانب سے پیغام ملا ہے۔ جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس خادم سمرو اور جسٹس محمد آصف سپریم کورٹ میں کوئی وکیل نہیں کر رہے، تینوں ججز نے کہا ہے کہ آئینی بینچ جو بھی فیصلہ کرے گا انہیں قبول ہوگا۔
دوران سماعت اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا مستقل چیف جسٹس نہیں لگا رہے، جوڈیشل کمیشن کے ایجنڈے میں اسلام آباد ہائیکورٹ چیف جسٹس کا معاملہ نہیں، مستقل چیف جسٹس کی تقرری کیلئے چودہ روز قبل کمیشن کو آگاہ کیا جاتا ہے، فی الحال اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی تقرر نہیں ہو رہا۔
دو مئی کے جوڈیشل کمیشن اجلاس میں پشاور اور بلوچستان ہائیکورٹس کے چیف جسٹسز کا معاملہ زیر غور ہوگا۔ دوران سماعت وکیل فیصل صدیقی نے موقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست واپس لینے کی میں نے کوئی استدعا نہیں کی، میری ہدایت کے بغیر درخواست واپسی کی تحریری استدا کی گئی ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ بار ایسوسی ایشن کی مجلس عاملہ نے درخواست واپس لینے کی قرارداد پاس کی ہے۔ متاثرہ ججز نے خود الگ سے درخواست دائر کر رکھی ہے۔
بار ایسوسی ایشن قرارداد کے مطابق ایسوسی ایشن کی درخواست مجلس عاملہ کی اجازت کے بغیر دائر کی گئی تھی۔ وکیل فیصل صدیقی نے موقف اپنایا کہ میرے بیان کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ بار خود درخواست واپس لے رہا ہے تو کوئی کیا کر سکتا ہے۔
عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست واپس لیے جانے کی بنیاد پر خارج کردی۔
دوران سماعت جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا کسی صوبائی حکومت نے بھی کوئی تحریری جواب جمع کرایا ہے؟
اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے موقف اپنایا کہ ہم اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کی آئینی درخواست کی حمایت کرتے ہیں۔
جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے کوئی جواب بھی جمع کرایا؟ جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے ابھی جواب جمع کروانا ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ٹھیک ہے آپ جواب جمع کرا دیں۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ آج صرف یہ دیکھا کہ تمام فریقین کو نوٹس موصول ہوگئے، ہم فیصلہ کرنے میں زیادہ وقت نہیں لیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز کے وکیل منیر ملک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو سننا چاہتے ہیں، ہم باقائدہ سماعت منگل سے شروع کریں گے۔
وکیل منیر اے ملک نے کہا کیا کہ وفاقی حکومت نے تحریری جواب جمع کرایا ہے، وفاقی حکومت نے اپنے جواب میں ٹرانسفر ہونے والے ججز کی آمادگی کا بیان جمع نہیں کرایا، اس معاملے پر چیف جسٹس پاکستان اور متعلقہ چیف جسٹسز سمیت صدر کی آمادگی کا بیان بھی جمع نہیں کرایا گیا۔
اس موقع پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ سارا پراسیس سب کی رضامندی سے ہوا ہے، یہ معاملہ متنازع نہیں ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے اگر متنازعہ معاملہ نہیں تو آپ کو آمادگی کے بیانات جمع کرانے چاہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا جی ہم وہ جمع کرا دیں گے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ شروع کہاں سے ہوا۔
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 22 اپریل تک ملتوی کر دی۔
سماعت کے بعد تحریری حکم نامہ لکھواتے ہوئے عدالت نے کہا کہ تمام ایڈووکیٹ جنرلز متعلقہ ہائیکورٹس سے مشاورت کرکے تحریری جواب جمع کرائیں، تحریری جوابات میں سنیارٹی لسٹ بھی فراہم کی جائے، اٹارنی جنرل نے بتایا اسلام آباد ہائی کورٹ کے تینوں ججوں نے پیغام بھیجا کہ وہ وکیل نہیں کرتا چاہتے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے تینوں ججوں نے بذریعہ اٹارنی جنرل بتایا آئینی بینچ جو بھی فیصلہ کرے قبول ہوگا۔
سپریم کورٹ میں نو مئی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نے کہا کہ ٹرائل متعلقہ ہائی کورٹ اور انتظامی جج کا معاملہ ہے، سپریم کورٹ ٹرائل کی مانیٹرنگ نہیں کرے گی۔ انھوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ سازش کے الزام پر کسی فرد کو جیل میں نہ رکھیں۔
جمعرات کو 9 مئی کے کیس میں تحریک انصاف کے رہنما شیخ امتیاز کے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ چار ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کے فیصلے میں ملزمان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نو مئی ملزمان کی ضمانت منسوخی سے متعلق پنجاب حکومت کی اپیلوں پر سماعت کی۔
دوران سماعت وکیل لطیف کھوسہ پیش ہوئے اور چار ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کے حکم پر اعتراض کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ چار ماہ میں ٹرائل مکمل ہوا ہو۔
چیف جسٹس یحیٰ افریدی نے ریمارکس دیے کہ ایسا مت کہیں، قانون انسداد دہشت گردی عدالت میں روزانہ مقدمات کی سماعت کا کہتا ہے۔
وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ عدالت کے چار ماہ کے حکم سے ٹرائل اپ سیٹ ہوگا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ٹرائل متعلقہ ہائی کورٹ اور انتظامی جج کا معاملہ ہے، سپریم کورٹ ٹرائل کی مانیٹرنگ نہیں کرے گی۔
وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ نو مئی واقعات پر پانچ سو مقدمات درج کیے گئے ہیں، پنجاب حکومت کے مطابق چوبیس ہزار ملزمان مفرور ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ چار ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کے فیصلے میں ملزمان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔
اعجاز چوہدری کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ سینیٹر اعجاز چوہدری کے خلاف کیا شواہد ہیں؟
سپیشل پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ اعجاز چوہدری کی ویڈیو موجود ہے جس میں وہ لوگوں کو اکسا رہے ہیں۔ ڈ
ی ایس پی لاہور پولیس ڈاکٹر جاوید نے اعجاز چودری کے خلاف پیمرا کا ریکارڈعدالت میں پیش کیا۔
سینیٹر اعجاز چوہدری کے وکیل نے موقف اپنایا کہ جو شواہد دیے گئے ہیں وہ ٹی وی انٹرویو ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بے شک انٹرویو ہے، آپ کا موکل نوجوانوں کو اکسا رہے تھے۔
جسٹس شفیع صدیقی نے ریمارکس دیے کہ ایک انٹرویو سترہ مئی اور ایک آڈیو دس مئی کی ہے۔
بینچ میں موجود جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیے کہ اکسانے کا کیس ہے تو نو مئی کے دن یا اس سے پہلے کا کوئی ثبوت دکھائیں۔
عدالت نے پولیس کو مزید شواہد پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔
شیخ امتیاز کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ سازش کے الزام پر کسی فرد کو جیل میں نہ رکھیں۔
جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیے کہ سازش، اعانت، للکار کے لیے ٹھوس شواہد ہونے چاہیے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا شیخ امتیاز کی اکسانے کی کوئی ویڈیو موجود ہے؟
سپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقارنقوی نے جواب دیا کہ پیمرا سمیت تمام ریکارڈ موجود ہے، ویڈیو کا فرانزک بھی کروایا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ ویڈیو نہیں آڈیو ہے۔ ملزم کی ضمانت کو نہ چھیڑیں، ملزم کا وائس میچنگ کا ٹیسٹ کروا لیں، ٹرائل کورٹ چار ماہ میں ٹرائل مکمل کرے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ اور پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما علی امین گنڈاپور نے اپنی جماعت کو مشورہ دیا ہے کہ ایسی تنقید نہ کی جائے جس سے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو نقصان پہنچے۔
جمعرات کے روز لاہور ہائی کورٹ بار میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’میں ایک بات تحریکِ انصاف کو کہنا چاہتا ہوں کہ کوئی بھی ایسی تنقید مت کرو جس سے تمھارے مقصد، تمھارے لیڈر کو نقصان پہنچے۔‘
انھوں نے اپنی جماعت کو مشورہ دیا کہ وہ متحد ہو کر اپنے مخالفین سے ٹکرا جائیں۔ ’جیسے پشتو میں کہتے ہیں ’یا تو اپنا سر تڑوا لوں گا یا چٹان کو توڑ دوں گا۔‘
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ پہلے ذولفقار علی بھٹو کو لانے کے لیے پاکستان کو توڑا گیا اور پھر اسی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ حال ہی میں بھٹو کو ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا۔ ’اگر بھٹو ایوارڈ کے حقدار تھے تو ان کو پھانسی دینے والوں کو کیا سزا دی گئی یا دی جائے گی، یہ اعلان بھی اس ملک میں ہونا چاہیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ اور فیصلہ سازوں کو لیڈر نہیں کو غلام چاہیئے۔
وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ’2024 کے الیکشن میں ہونے والی دھاندلی اس بات کا ثبوت ہے کہ تمھیں الیکٹڈ نہیں سلیکٹڈ لوگ چاہیئیں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا ’عمران خان صرف اس لیے جیل میں ہے کیوں کہ ان سے نظام کو خطرہ ہے کیوں کہ وہ قانون اور آئین کی بالادستی چاہتا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سب کے باوجود عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کی خاطر مذاکرات کرنے کو تیار ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے تصدیق کی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کی دوسری نشست سنیچر کے روز اٹلی کے دارالحکومت روم میں ہوگی۔
بدھ کے روز ایرانی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں غریب آبادی کا کہنا تھا کہ ملاقات کے مقام سے قطع نظر، عمانی وزیر خارجہ مذاکرات کے سہولت کار اور ثالث ہیں۔
خیال رہے کہ اس حوالے سے پہلی نشست گذشتہ ہفتے سنیچر کے روز مسقط میں ہوئی تھی جہاں ایرانی وفد کی قیادت وزیرِ خارجہ عباس عراقچی جبکہ امریکی وفد کی قیادت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف نے کی تھی۔
پہلی میٹنگ کے بعد وائٹ ہاؤس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’بات چیت مثبت اور تعمیری‘ رہی۔
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے لیے ہونے والی دوسری ملاقات کے مقام کے بارے میں مختلف بیانات اور رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے غریب آبادی کا کہنا تھا کہ ہمیں اس بات پر وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے کہ مذاکرات کب اور کہاں ہوں گے۔
ایرانی وزیر کا کہنا تھا کہ اس نشست میں آئندہ کی بات چیت کے لیے فریم ورک اور ایجنڈے کے تعین پر توجہ دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے اعتماد پیدا کرنے اور ایران پر عائد پابندیوں کے معاملے پر بات کرنے جا رہے ہیں تو یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ ان پبندیوں کو ہٹانے کے لیے کونسے اقدامات اٹھانے ضروری ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سٹیو وٹکوف کے گذشتہ روز کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے غریب آبادی کا کہنا تھا کہ ایران جوہری افزودگی کے معاملے کو مذاکرات میں سودے بازی کے طور پر استعمال نہیں کرے گا۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کو ان مذاکرات میں شامل کرنے کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر آئی اے ای اے کو مذاکرات میں شامل کرنا بہت جلد بازی ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بات چیت آگے بڑھتی ہے تو ایجنسی کو لازمی طور پر مدعو کیا جائے گا۔
کئی سال بعد اس بات چیت کا مقصد ایران کے متنازع جوہری منصوبے پر نئے معاہدے پر اتفاق کرنا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور عالمی طاقتوں کے بیچ سابقہ معاہدے کو 2018 میں ختم کر دیا تھا اور اس پر اقتصادی پابندیاں بحال کر دی تھیں۔
ٹرمپ نے بات چیت میں ناکامی کی صورت میں فوجی کارروائی کی دھمکی بھی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیٹویا کے وزیر داخلہ رچرڈز کوزلووسکس نے کہا ہے کہ بیلاروس میں پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد میں ممکنہ آمد سے ان کے ملک کی سرحد پر خطرات پیدا ہو جائیں گے۔
انھوں نے بیلاروسی رہنما الیگزینڈر لوکاشینکو کی طرف سے 150,000 پاکستانی کارکنوں کو ملک میں مدعو کرنے کی حالیہ تجویز پر اپنا ردعمل دیا ہے۔
رچرڈز کوزلووسکس نے کہا کہ اگرچہ یہ صرف ایک تجویز تھی مگر بالٹک ریاستوں اور پولینڈ کو اب بھی چوکنا رہنا چاہیے کیونکہ بیلاروس اور روس پاکستانیوں کو مغربی پڑوسیوں کے خلاف اپنی ہائبرڈ جنگ میں استعمال کر سکتے ہیں۔
انھوں نے یاد دلایا کہ بیلاروس کے ساتھ سرحد پر ’لاتگیل‘ کے علاقے میں مضبوط سرحدی حفاظتی اقدامات موجود ہیں اور مشرقی لیٹویا میں سرحد پر انفراسٹرکچر کی تعمیر جاری ہے۔
تاہم، انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ ان کے ملک کی سرحدوں پر ممکنہ بڑھتے ہوئے نقل مکانی کے دباؤ کے لیے ایک بار پھر فوج اور اتحادیوں کے سامنے آنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں بدھ کے روز 8,600 روپے فی تولہ کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد اس کی قیمت نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
آل پاکستان صرافہ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق، مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 348,000 روپے فی تولہ کی تاریخی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 7,373 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 298,353 روپے ہو گئی ہے۔
صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق یہ اضافہ بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں میں تیزی اور سرمایہ کاروں کی محفوظ سرمایہ کاری کی جانب بڑھتی دلچسپی کے باعث ہوا۔
اس نمایاں اضافے کی وجہ عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال اور بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں ہیں، جنھوں نے مقامی اور بین الاقوامی دونوں مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 86 ڈالر فی اونس اضافے کے ساتھ 3,310 ڈالر فی اونس ہو گئی، جو کہ اب تک کی سب سے بلند سطح ہے۔
گولڈ شعبے کے تجزیہ کار احسن الیاس نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ سونے کی قیمتوں میں حالیہ تیزی کئی عالمی عوامل کی وجہ سے ہے، جن میں طویل تجارتی جنگ، امریکہ کی جارحانہ ٹیکس پالیسی، کرنسیوں کی قدر میں کمی، اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال شامل ہیں۔ تجزیہ کار کے مطابق دنیا بھر کے مرکزی بینک سونے کے ذخائر میں اضافہ کر رہے ہیں تاکہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور کمزور کرنسیوں کے خلاف تحفظ حاصل کیا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہCourtesy Zulqarnain
وفاقی حکومت نے ججز سنیارٹی سے متعلق دائر درخواستوں میں اپنا جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا ہے۔ سپریم کورٹ کا آئینی بینچ اس مقمدے کی سماعت جمعرات یعنی 17 اپریل کو کرے گی۔
وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے تبادلے سمیت دیگر ججز کی تعیناتی کی تمام درخواستیں خارج کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ججز کا تبادلہ آئین کے مطابق کیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت کے جواب میں کہا گیا ہے کہ ججز کو تبادلے کے بعد نیا حلف لینا ضروری نہیں، آرٹیکل 200 کے تحت تبادلے کا مطلب نئی تعیناتی نہیں ہوتا۔
حکومت کے مطابق ججز کا تبادلہ عارضی ہونے کی دلیل قابل قبول نہیں ہے، آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ ججز کا تبادلہ عارضی ہو گا۔ سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ ججز کے تبادلے سے عدلیہ میں شفافیت آئے گی نہ کہ عدالتی آزادی متاثر ہو گی۔
جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دو ججز تعینات کیے تین آسامیاں چھوڑ دیں۔
وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ وزارت قانون نے 28 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز تبادلے کی سمری بھیجی، ججز تبادلے کے لیے صدر کا اختیار محدود جبکہ اصل اختیار چیف جسٹس پاکستان کا ہے۔
حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ ججز تبادلے میں متعلقہ جج اور ہائی کورٹس کے چیف جسٹس اصل با اختیار ہیں لہٰذا اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز سمیت دیگر تمام ججز کی تعیناتی کے خلاف درخواستیں خارج کی جائیں۔
دریں اثنا اس مقدمے میں درخواست گزار اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اپنی درخواست واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPunjab Police
رحیم یار خان پولیس کی زیر حراست حوالات میں قیدی کی ہلاکت کے مقدمے میں پنجاب کے شہر صادق آباد کی مقامی عدالت نے پولیس اہلکار کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔
واضح رہے کہ سب انسپکٹر اسلم اور دیگر اہلکاروں پر تھانہ کوٹ سبزل میں دوران حراست ملزم کی ہلاکت کا الزام ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج صادق آباد اقتدار علی خان نے سب انسپکٹر کو 25 سال عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ عدالتی حکم کے بعد ملزم سب انسپکٹر کو ڈسٹرکٹ جیل منتقل کر دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہPunjab Police
پنجاب پولیس نے کچہ کے علاقے میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دو ڈاکو ہلاک کرنے اور دو کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے دونوں عمرانی گینگ کے خطرناک ڈاکو تھے۔
پولیس کے مطابق کچہ جمال می جاری آپریشن کے دوران ہلاک ڈاکوؤں میں عبد الرحمان عرف بگا اور بہادر سیدانی شامل ہیں۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق دوران آپریشن دو ڈاکو اعجاز عرف منڈا اور بادشاہ شدید زخمی ہوئے ہیں۔ ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے ڈاکو سابقہ ریکارڈ یافتہ اور پولیس کو جرائم کی سنگین وارداتوں میں مطلوب تھے۔
ترجمان نے مزید کہا ہے کہ ہلاک ڈاکو پولیس کو قتل، ڈکیتی، راہزنی و اغوا برائے تاوان جیسے متعدد سنگین مقدمات میں مطلوب تھے۔
پنجاب پولیس کے ترجمان نے کہا ہے کہ کچہ کے ڈاکوؤں کی سرکوبی کے لیے پولیس کی پیش قدمی جاری ہے۔
ڈی پی اور راجن پور نے کہا ہے کہ کچہ جمال میں ایک جامع حکمت عملی کے تحت آپریشن کیا جا رہا ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی دیگر خواتین رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی کے لیے 20 روز سے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت پرامن جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔
بدھ کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ اپنی تحریک ختم نہیں کر رہے بلکہ آج سے عوامی رابطہ مہم اور صوبے بھر میں ضلعی سطح پر احتجاج کا آغاز کیا جائے گا۔
اختر مینگل کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں مستونگ، قلات، خضدار، سوراب میں احتجاجی جلسے کیے جائیں گے جبکہ دوسرے مرحلے میں تربت، گوادر اور مکران میں احتجاجی جلسے ہوں گے۔
بی این پی کے سربراہ کے مطابق، تیسرے مرحلے میں نصیر آباد، جعفرآباد، ڈیرہ مراد جمالی اور دیگر علاقوں میں احتجاجی جلسے منعقد کیے جائیں گئے۔
انھوں نے ریاست پر بی این پی کے پرامن لانگ مارچ میں رکاوٹیں ڈالنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ باقی سب کو احتجاج کا حق ہے مگر ہمیں نہیں۔
’کشمیر کیلئے احتجاج کی اجازت ہے مگر ہمیں اجازت نہیں۔‘
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی خواتین رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی کے لیے 28 مارچ کو بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام وڈھ سے لانگ مارچ شروع کیا گیا تھا۔
لانگ مارچ کے شرکا کو خضدار سے کوئٹہ پہنچنا تھا لیکن حکومت نے ان کو ضلع مستونگ میں لکپاس پر روک دیا۔ جس کے بعد مظاہرین نے لکپاس کے مقام پر ہی دھرنا دے دیا تھا۔
بدھ کے روز دھرنا کے مقام پر نواب شاہوانی ، سردار علی محمد قلندرانی اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سردار اختر مینگل نے کہا کہ احتجاج کے دوسرے مرحلے میں 18 اپریل سے 12 مئی تک بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی ریلیوں کا اعلان کیا۔
انھوں نے کہا کہ سرکار کی جانب سے رکاوٹوں کے برعکس بلوچستان کے عوام نے لانگ مارچ کے شرکا کو خوش آمدید کہا اور اس میں شرکت کی جس پر ہم ان کے مشکور ہیں۔ 28 مارچ کو ہمیں کوئٹہ پہنچنا تھا لیکن دونوں اطراف سے راستوں کو بند کرکے ہمیں کوئٹہ جبکہ کوئٹہ آنے والے ہمارے ساتھیوں کو یہاں نہیں آنے دیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ بڑے شہروں میں دھرنے ہوتے ہیں لیکن ایسے بیابان میں جہاں کوئی سہولت نہیں اور اس کے ساتھ منڈلاتے خطرات میں جو دھرنا دیا گیا تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں مختلف حیلوں اور بہانوں سے کوئٹہ شہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہاں کشمیر اور اس نوعیت کے دیگر معاملات پر احتجاج کی اجازت ہے لیکن ان کے بقول یہ بلوچستان کی شومئی قسمت ہے کہ اس میں اس کے اپنے اور یہاں کے لوگوں کے مسائل پر احتجاج کی اجازت نہیں۔‘
سردار اختر مینگل نے کہا کہ ’جو حکومتی وفود آئے انھوں نے ہمارے مطالبے کے حوالے سے اپنی بے بسی کا اظہار کیا جس کی وجہ سے ہمیں 20 روز تک اس بیابان میں دھرنا دینا پڑا۔ یہاں آل پارٹیز کانفرنس بلائی گئی جس میں بعض سیاسی رہنماؤں نے بھی ہمیں یہ مشورہ دیا کہ دھرنا ختم کریں لیکن یہ ان کی سوچ تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ گذشتہ روز ہم نے پارٹی کی مرکزی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جس میں عوام کی مشکلات کو پیش نظر رکھ کر ہم نے اس دھرنے کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ملک کا اسٹیبلشمنٹ اور ادارے کبھی یہ نہیں چاہتے کہ بلوچستان کے مسائل پر امن طور پر حل ہوں کیونکہ بلوچستان کے مسائل کو برقرار رکھنے سے انھی کو فائدہ مل رہا ہے۔
اختر مینگل نے کہا کہ ’یہاں ایسی کوئی حکومت نہیں جس سے لوگ امیدیں وابستہ کریں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اگر ہمیں کوئٹہ جانے کے لیے نہیں چھوڑا گیا تو ہم اپنا احتجاج دوسری شکل میں جاری رکھیں گے‘ ۔
انھوں نے احتجاج کے دوسرے مرحلے کے لیے 18 اپریل سے 12 مئی تک بلوچستان بھر میں احتجاجی ریلیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’18اپریل کو پارٹی کی مرکزی کابینہ کا اجلاس بھی ہوگا جس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ ہم نے کس طرح کا احتجاج کرنا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ان کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے دس ارب روپے ملے تھے جو کہ حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل ہیں اور اگر ان میں کوئی کمی بیشی ہے تو اس کے حوالے سے حکومت تحقیقات کرے اور اپنی مرضی سے جو جے آئی ٹی چاہے بنائے۔
سردار اختر مینگل نے کہا کہ اگر ان پر بدعنوانی کا الزامات ہوتے تو حکومت 2006 میں گرفتاری کے بعد انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ان کو پیش نہیں کرتے بلکہ انھیں انسداد بدعنوانی کی عدالت میں پیش کرتے۔

رمضان کے مہینے میں شروع ہونے کی وجہ سے دھرنے کے شرکا نے عید بھی دھرنے کے مقام پر منائی۔ جہاں یہ دھرنا ایک ویران علاقے میں تھا وہاں بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب سے یہ دعوی کیا گیا کہ سرکاری حکام نے کوئٹہ کراچی ہائی وے پر دھرنے کے قریب ہوٹلوں کو دھرنے کے شرکا کو کھانے پینے کی اشیا کی فراہمی سے بھی منع کیا تاہم سرکاری حکام نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔
دیگر مشکلات کے علاوہ دھرنے کے مقام سے چند سو فٹ کے فاصلے پر 29 مارچ کو ایک خود کش دھماکہ بھی ہوا جبکہ 15 مارچ کو بلوچستان کانسٹیبلری کے ان اہلکاروں کو بھی بم حملے کا نشانہ بنایا گیا جن کو سرکاری حکام نے دھرنے کی مناسبت سے وہاں تعینات کیا تھا۔
اس بم حملے میں بلوچستان کانسٹیبلری کے تین اہلکار ہلاک جبکہ 18زخمی ہوئے ہیں۔ شاہراہوں کی بندش سے عام لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لکپاس پر دھرنے کے یہ شرکا ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی کی دیگر خواتین رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ لے کر نکلے تھے لیکن حکومت کی جانب ان تمام راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں جہاں سے دھرنے کے شرکا کے کوئٹہ پہنچنے کا امکان تھا۔
کوئٹہ اور مستونگ کے درمیان کوئٹہ کراچی ہائی وے پر لکپاس ٹنل کو مکمل طور پر بند کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ کنٹینرز کھڑی کرنے کے علاوہ شاہراہ پر بڑے گھڑے بھی کھودے گئے تھے۔ مین شاہراہ کو بند کرنے کے علاوہ کوئٹہ اور مستونگ کے درمیان دو دیگر متبادل راستے بھی 28 مارچ سے 6 اپریل تک بند رہے کیونکہ وہاں بھی سکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری کے علاوہ گڑھوں کے علاوہ دیگر رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔
ان رکاوٹوں کی وجہ سے کوئٹہ کراچی ہائی وے اور کوئٹہ تفتان شاہراہ پر گاڑیوں کی آمد ورفت کئی روز تک مکمل طور پر معطل رہی۔ تاہم 6 اپریل کے بعد متبادل راستوں سے گاڑیوں کی آمدورفت بحال ہوگئی لیکن لکپاس ٹنل سے شاہراہ 16 اپریل تک بند رہی جس سے عام لوگوں بالخصوص مال بردار گاڑیوں کے عملے کو شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہونے سے جہاں تاجروں کو کروڑوں روپے نقصان کا سامنا کرنا پڑا وہیں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کوئٹہ چیمبر آف کامرس کے صدر محمد ایوب مریانی کا کہنا تھا کہ شاہراہوں کی بندش سے خوراک کی اشیا اور ادویات کی بھی قلت پیدا ہوگئی۔
دھرنے کے شرکا کو کوئٹہ کی جانب مارچ کی اجازت نہ دینے کے خلاف 7 اپریل کو ضلع خضدار کے علاقے وڈھ میں شاہراہ کو بند کرنے والے مظاہرین پر فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔
بی این پی کی جانب سے فائرنگ کا الزام سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر عائد کیا گیا لیکن ڈپٹی کمشنر خضدار یاسر دشتی نے اس الزام کو مسترد کیا۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب سے لوگوں کی مشکلات کے لیے حکومت کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا گیا کہ شاہراؤں کو دھرنے کے شرکا نے نہیں بلکہ حکومت نے بند کیا تاہم اس کے برعکس ان مشکلات کے لیے حکومت نے دھرنے کے شرکا کو ذمہ دار ٹھہرایا۔
حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ دھرنے کی وجہ سے صرف لکپاس ٹنل کو لوگوں کے تحفظ کے پیش نظر بند کیا گیا۔ تاہم دوسرے متبادل راستوں سے ٹریفک کی آمد ورفت بحال تھی۔
ان کا کہنا تھا پر امن احتجاج کرنا ہر سیاسی جماعت کا حق ہے لیکن اس نے کہاں احتجاج کرنا ہے اس بات کا آئینی اور قانونی اختیار حکومت اور انتظامیہ کا ہے۔
انھوں نے کہا چونکہ بی این پی اس حوالے سے حکومت اور انتظامیہ کا اختیار تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھی اور وہ ریڈ زون میں دھرنا دینے پر بضد تھی اس لیے دھرنے کے شرکا کو لکپاس پر روک دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے زیرانتظام کشمیرمیں محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ منگل کا روز اس موسم کا اب تک کا سب سے گرم ترین دن تھا۔
پیر کے روز وادی میں درجہ حرارت 20 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی کم تھا۔ تاہم منگل کو یہ اچانک بڑھ کر 30 ڈگری سے بھی اوپر جا پہنچا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اپریل کے وسط میں اس سال درجہ حرارت معمول سے 10 ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔
محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر مختار احمد کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر رونما ہو رہی موسمیاتی تبدیلیوں نے ہمالیائی سلسلے کو بھی متاثر کیا ہے۔
’چونکہ کشمیر ہمالیائی سلسلے میں ہی واقع ہے، یہاں اس سال تشویشناک حد تک کم برفباری اور بارشیں ہوئیں۔‘
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے انڈین حکومت کشمیر کے علاقے گلمرگ میں قومی سرمائی کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد کرتی آئی ہے۔ لیکن اس سال جنوری اور فروری میں ان کھیلوں کو کم برفباری کی وجہ سے ملتوی کرنا پڑا تھا۔
مختار احمد نے پیش گوئی ہے کہ اس سال موسمِ گرما میں درجہ حرارت 36 ڈگری سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محکمہ موسمیات نے بدھ کے روز گرمی کی لہر سے متعلق اورنج الرٹ جاری کیا ہے اور لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ دھوپ میں زیادہ دیر تک رہنے سے گریز کریں اور زیادہ پانی پیئیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
علم ارضیات کے ماہر ڈاکٹر شکیل رومشو کہتے ہیں کہ ان موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہمالیائی چوٹیوں پر موجود گلیشئیرز کے پگھلنے کا خطرہ پہلے سے بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے، ’اس کی وجہ سے مستقبل میں پانی کی قلت کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔‘
ڈاکٹر شکیل کا کہنا ہے کہ کشمیر کوئی صنعتی خطہ نہیں ہے اور پورے انڈیا کے مقابلے میں یہاں فضائی آلودگی کی شرح سب سے کم ہے۔
’پوری دنیا میں کلائمیٹ چینج کا جو بحران ہے اس میں ہمارا [کشمیر کا] حصہ نہ ہونے کے برابر ہے لیکن اس کا سب سے زیادہ نقصان ہمیں اُٹھانا پڑ رہا ہے۔ ہمارے آبی ذخائر سوکھ رہے ہیں جس سے ہماری بجلی کی پیداوار متاثر ہوسکتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
گاڑیاں بنانے والی جاپانی کمپنی ہنڈا کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ میں فروخت کی جانے والی سوک ہائبرڈ ماڈل کی پروڈکشن جاپان سے امریکہ منتقل کر رہا ہے۔
کمپنی کے ایک ترجمان کے مطابق جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو کے نزدیک واقع یوری فیکٹری میں اس ماڈل کی پروڈکشن جون یا جولائی کے آخر تک بند کر دی جائے گی۔
امریکہ نے گاڑی بنانے والی ان تمام کمپنیوں پر 25 فیصد محصولات عائد کردی ہیں جو اپنی گاڑیاں امریکہ کے باہر بنا کر انھیں امریکہ میں فروخت کرتی ہیں۔ ہنڈا گاڑیوں کی بھی امریکہ برآمد پر یہ ٹیرف عائد ہے۔
دوسری جانب جاپان کے وزیر یوسے اکازاوا واشنگٹن پہنچ رہے ہیں۔ انھیں جاپان کی حکومت نے ٹرمپ انتظامیہ سے اپنے ملک پر عائد ٹیرف کم کرنے پر راضی کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
گذشتہ ہفتے ٹرمپ اور جاپانی وزیر اعظم شیگیرو ایشیبا نے محصولات پر مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا- تاہم جاپانی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ان کا ملک نہ کوئی بڑی رعایت دے گا اور نہ ہی کسی معاہدے کے لیے جلد بازی کرے گا۔
منگل کے روز جاپان کے چیف کیبiنٹ سیکرٹری یوشیماسا حیاشی نے صحافیوں کو بتایا کہ جاپان امریکہ سے ٹیرف کے اقدامات پر نظرثانی کرنے پر زور دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جاپان کی حکومت جلد از جلد نتائج پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے امریکہ کے قریبی اتحادی جاپان پر عائد 24 فیصد ٹیرف کو 90 روز کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔ تاہم گاڑیاں بنانے والی جاپانی کمپنیوں بشمول ٹویوٹا، ہنڈا اور نسان کو امریکہ گاڑی برآمد کرنے پر 25 فیصد محصولات کا سامنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کی گئی محصولات کے خلاف چین ایک متحدہ محاذ قائم کرنے کی اپنی کوششوں میں تیزی لا رہا ہے۔
چین کے دفترِ خارجہ کے ترجمان لن جیان کا پریس بریفنگ کے دوران کہنا تھا کہ بیرونی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر، چین ایک دوسرے کو مکا دکھانے کے بجائے ہاتھ ملانے، رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بجائے دیواریں گرانے، اور رابطے توڑنے کے بجائے جوڑنے پر اصرار کرے گا۔
امریکہ نے چینی مصنوعات کی درآمد پر 145 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے جبکہ جواب میں چین نے بھی امریکی مصنوعات پر محصولات بڑھا کر 125 فیصد کر دیا ہے۔
چین کے صدر شی جنپنگ اس وقت جنوب مشرقی ایشیا کے سفر پر ہیں۔ اس دوران وہ ویتنام، ملیشیا اور کمبوڈیا کا دورہ کریں گے۔ ان کے دورے کا مقصد چین کے کلیدی تجارتی شراکت داروں سے رابطے مضبوط کرنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی وفاقی حکومت نے ریئل سٹیٹ شعبے میں پراپرٹی کی پہلی مرتبہ فروخت پر عائد تین فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ایکسائز ڈیوٹی موجودہ مالی سال کے بجٹ میں عائد کی گئی تھی جس کا اطلاق جولائی 2024 سے ہوا تھا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ترجمان نجیب میمن نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعظم ٹاسک فورس نے تین فیصد ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی سفارش کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اصولی طور پر اس ڈیوٹی کو ختم کرنے کا فیصلہ ہو گیا ہے تاہم اس کا اطلاق وزیر خزانہ اور وفاقی کابینہ کی جانب سے منظوری کے بعد ہو گا۔
گذشتہ دو تین سالوں سے ٹیکس اور اس کی شرح میں اضافے کے بعد سے پاکستان میں ریئل سٹیٹ کے شعبے کی سرگرمیاں متاثر ہوئی تھیں اور اس میں نئی سرمایہ کاری بھی بہت کم ہو گئی تھی۔
حکومت کی جانب سے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے خاتمے کے اثرات پر بات کرتے ہوئے ریئل سٹیٹ شعبے کے تجزیہ کار محمد احسن ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ اس فیصلے کے بعد تھوڑی سی امید پیدا ہوئی ہے کہ پراپرٹی کے شعبے میں کچھ سرگرمی بڑھے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ابھی بھی دیگر ٹیکسوں کی وجہ سے اس شعبے میں زیادہ اور نئی سرمایہ کاری کا زیادہ امکان نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ریئل سٹیٹ شعبے میں آنے والی بہتری کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی مریض آئی سی یو سے وارڈ میں منتقل ہو گیا ہو۔
احسن نے کہا کہ ابھی بھی ریئل سٹیٹ کے شعبے میں ٹرانزیکشن اور دوسرے ٹیکس اس کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
انھوں نے ایف بی آر کی جانب سے بجٹ میں ایکسائز ڈیوٹی نافذ کرنے کے اقدام کو غلط قرار دیتے ہوئَے کہا کہ اس کی وجہ سے ریئل سٹیٹ شعبے میں معاشی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔
احسن کا مزید کہنا ہے کہ اسی طرح باقی ٹیکسوں کا سٹرکچر بھی ریئل سٹیٹ پر منفی اثر ڈال رہا ہے اور تعمیراتی شعبے سے منسلک دوسری صنعتیں بھی اس سے متاثر ہوئی ہیں۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں سرمایہ ملک سے باہر گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ اور سعودی عرب سول نیوکلیئر توانائی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کرنے کے قریب ہیں۔
اس بات کا اعلان امریکہ کے سیکرٹری توانائی کرس رائٹ نے ریاض میں کیا۔
رائٹ مشرقِ وسطیٰ کے سرکاری دورے پر ہیں۔ کرس رائٹ اس دورے میں متحدہ عرب امارات اور قطر کے علاوہ خطے کے دیگر ممالک کا بھی سفر کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان اس بارے میں بات چیت جاری ہے کہ کمرشل بنیادوں پر سعودی عرب میں جوہری توانائی کی صنعت کے قیام کے لیے کس طرح تعاون کیا جا سکتا ہے۔
سعودی عرب ہمیشہ سے سویلین جوہری ٹیکنالوجی کے حصول کی اپنی خواہش کا برملا اظہار کرتا آیا ہے اور وژن 2030 کے تحت جوہری توانائی سمیت قابل تجدید اور صاف توانائی کے ذرائع پر انحصار بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
سعودی شوریٰ کونسل کی اقتصادی اور توانائی کمیٹی کے سابق رکن ڈاکٹر فہد بن جمعہ کا کہنا ہے کہ جس معاہدے کا حوالہ کرس رائٹ نے دیا ہے، اس کا تعلق ’وژن 2030‘ کے تحت جوہری توانائی کے حصول سے ہے۔
سویلین ایٹمی معاہدے کے لیے ضروری ’123 معاہدہ‘ کیا ہے؟
امریکی وزیر توانائی کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ سول نیوکلیئر توانائی کے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے ’123 معاہدہ‘ ضروری ہے۔
’123 معاہدے‘ سے مراد امریکی اٹامک انرجی ایکٹ 1954 کی دفعہ 123 ہے، جو امریکی حکومت اور کمپنیوں کو سویلین استعمال کے لیے جوہری توانائی کے شعبے میں غیر ملکی اداروں سے تعاون کے لیے ضروری ہے۔ اس قانون کا مقصد جوہری عدم پھیلاؤ اور جوہری توانائی کے پرامن استعمال کو یقینی بنانا ہے۔
آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ امریکہ 2012 سے جوہری تعاون کے لیے 123 معاہدے کے حوالے سے سعودی عرب کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ تاہم ایسوسی ایشن کے مطابق سعودی عرب ایسے انتظامات کو مسترد کرتا آیا ہے جس کے تحت اسے جوہری ایندھن پیدا کرنے کی صلاحیت کو ترک کرنا پڑتا۔
خلیجی جوہری ماہر نور عید کے مطابق سعودی عرب کے 123 معاہدے پر دستخط کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا امریکہ سعودی عرب سے یورینیم کی افزودگی اور ری پروسیسنگ کو ترک کرنے کا مطالبہ کرتا ہے یا نہیں۔
خلیجی جوہری ماہر کا کہنا ہے کہ انھیں حیرانگی نہیں ہوگی اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ ایک ایسے معاہدے کے لیے راضی ہوجائیں جس کے تحت سعودی عرب یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت حاصل کر سکے۔ خیال رہے کہ سعودی عرب پہلے ہی چین کی مدد سے یورینیم کی کان کنی کر رہا ہے۔
امریکہ اور سعودی عرب کے مابین جوہری معاہدے پر بات چیت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔
اگر ایران ایٹمی ہتھیار بنا لیتا ہے تو اس سے خطے میں اسلحے کی ایک نئی دور شروع ہو سکتی ہے۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ اگر ایران نے ایٹمی ہتھیار بنائے تو ان کا ملک بھی اس کی پیروی کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حماس کا کہنا ہے کہ ایک اسرائیلی حملے کے بعد اس کا اپنے اُس عسکری گروپ سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے جس کی قید میں امریکی-اسرائیلی یرغمالی موجود ہے۔
حماس کی جانب سے حالیہ دنوں میں جاری کی جانے والی ویڈیوز میں 21 سالہ سپاہی ایڈن ایڈن الیگزینڈر میں دیکھا گیا ہے۔
ایڈن الیگزینڈر تل ابیب میں پیدا ہوئے اور ان کی پرورش نیو جرسی میں ہوئی۔ جب 7 اکتوبر کو حملہ ہوا تو وہ غزہ کی سرحد پر ایک خصوصی انفنٹری یونٹ میں خدمات انجام دے رہے تھے۔
چند روز قبل حماس کی جانب سے جاری ویڈیو میں ایڈن الیگزینڈر نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپنی رہائی کے لیے مذاکرات کا مطالبہ کیا تھا۔
اسرائیل کی جانب سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ایڈن الیگزینڈر کو مجوزہ 45 روزہ جنگ بندی کے پہلے روز رہا کیا جائے۔ تاہم حماس نے جنگ بندی کی اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔
حماس کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ اس کا اپنے عسکری گروپ سے رابطہ کب منقطع ہوا ہے۔
اسرائیل کہتا آیا ہے کہ وہ ان علاقوں پر حملے سے اجتناب کرتا ہے جن کے بارے میں اس کا خیال ہوتا ہے کہ وہاں یرغمالیوں کو رکھا گیا ہے۔
حماس کے ترجمان ابو عبیداللہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اب بھی گروپ سے رابطہ بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سات اکتوبر 2023 کے حملے کے دوران حماس کی جانب سے یرغمال بنائے گئے 251 افراد میں سے 59 اب بھی غزہ میں موجود ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں سے صرف 24 یرغمالی زندہ ہیں۔
ایڈن الیگزینڈر زندہ بچ جانے والے واحد امریکی یرغمالی ہیں۔
منگل کے روز حماس نے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں یرغمالیوں کے اہل خانہ کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اسرائیل نے غزہ پر فوجی حملے جاری رکھے تو یرغمالی تابوتوں میں واپس لوٹیں گے۔