یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
انڈیا کے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ دہلی میں وفات پا گئے
جمعرات کے روز طبعیت کی خرابی کے بعد انھیں دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) میں داخل کرایا گیا تھا۔ من موہن سنگھ سنہ 2004 سے 2014 تک دو بار انڈیا کے وزیر اعظم رہے۔
خلاصہ
- طالبان حکومت کا پاکستان پر افغانستان میں ’بمباری‘ کا الزام: ’حملہ بین الاقوامی اصولوں کی منافی، کارروائی کا جواب دیا جائے گا،‘ افغان وزارت دفاع
- پاکستان میں 25 افراد کو فوجی عدالتوں کی جانب سے سزا سُنائے جانے پر یورپی یونین کے بعد امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے تشویش کا اظہار
- ’یورپی یونین سے تعاون جاری رکھیں گے‘: فوجی عدالتوں کے معاملے پر تنقید کے بعد پاکستانی دفتر خارجہ کا ردعمل
- ’مذاکرات کے عمل کو معنی خیز بنانے کے لیے میری ملاقات میری نامزد کردہ مذاکراتی ٹیم سے کروائی جائے تاکہ مجھے معاملات کا صحیح علم ہو سکے: عمران خان
لائیو کوریج
انڈیا کے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ دہلی میں وفات پا گئے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ 92 برس کی عمر میں دہلی میں وفات پا گئے۔ جمعرات کے روز طبعیت کی خرابی کے بعد انھیں دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) میں داخل کرایا گیا تھا۔
من موہن سنگھ دو بار انڈیا کے وزیر اعظم رہے۔ وہ 2004 سے 2014 تک ملک کے وزیر اعظم رہے۔
تاہم اس سے قبل جب پی وی نرسمہا راؤ ملک کے وزیر اعظم تھے تو من موہن سنگھ 1991 سے 1996 تک ملک کے وزیر خزانہ بھی رہے۔
ڈیل کے نتیجے میں بنی گالہ منتقل کرنے کی پیشکش کی گئی: عمران خان کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں ’ڈیل‘ کے نتیجے میں اڈیالہ جیل سے بنی گالہ میں واقع ان کے گھر میں نظربند کرنے کی پیشکش کی گئی تھی تاہم انھوں نے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا۔
جمعرات کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ کیس کی سماعت کے موقع پر عمران خان نے وکیلوں اور صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ ’مجھے پیغام ملا ہے کہ ہم سے ڈیل کریں، ہم آپ کی پارٹی کو سیاسی سپیس دیں گے لیکن آپ کو نظر بند کرکے بنی گالہ منتقل کردیں گے۔‘
’میں نے جواب دیا کہ پہلے باقی سیاسی قیدیوں کو رہا کریں۔ میں جیل میں رہ لوں گا لیکن کوِئی ڈیل قبول نہیں کروں گا۔ نظر بندی یا خیبرپختونخوا کے کسی جیل میں نہیں جاؤں گا۔‘
عمران خان کی گفتگو ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی ہے اور اس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ انھیں ’ڈیل‘ کی پیشکش کس نے کی ہے۔
فوجی عدالتوں میں ’اپنی مرضی کے ٹرائل‘ کیے گئے: عمران خان کا الزام
اس موقع پر عمران خان نے 9 مئی کے واقعات پر فوجی عدالتوں کی جانب سے سزاؤں پر بھی تبصرہ کیا۔ ان کی سوشل میڈیا پوسٹ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں میں 9 مئی سے متعلق ’اپنی مرضی کے ٹرائل کیے گئے۔‘
خیال رہے جمعرات کو پاکستانی فوج کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں نے نو مئی کو پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران عسکری تنصیبات پر حملوں میں ملوث مزید 60 ملزمان پر جرم ثابت ہونے کے بعد انھیں دو سے 10 سال تک قید با مشقت کی سزائیں سنا دی ہیں۔
عمران خان نے فوجی عدالتوں کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر یہ مقدمات کھلی عدالت میں چلائے جاتے تو 9 مئی کی ویڈیو فوٹیج دینی پڑتی۔‘
’فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے سے شہریوں کے بنیادی حقوق صلب ہوئے اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی شدید سبکی ہوئی۔‘
واضح رہے پاکستان میں فوجی عدالتوں کی جانب سے سزا سنائے جانے پر یورپی یونین، امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل میں شفافیت کا فقدان ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’خفیہ اداروں کا اصل کام سرحدوں کا تحفظ اور دہشتگردی سے بچاؤ ہے‘
پاکستان نے تصدیق کردی ہے کہ اس کی جانب سے ’پاکستانی شہریوں کی سلامتی کو لاحق خطرات کی بنیاد پر پاکستان افغانستان سرحد سے متصل علاقوں‘ میں عسکریت پسندوں کے خلاف انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیا ہے۔
واضح رہے کہ بدھ کو افغانستان کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ پاکستان کی فوج نے افغان صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں 'فضائی حدود' کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک پناہ گزین کیمپ پر بمباری کی جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔
عمران خان کی سوشل میڈیا پوسٹ کے مطابق اڈیالہ جیل میں سابق وزیرِ اعظم نے افغانستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’افغانستان پر دو دفعہ بمباری کی گئی۔ پہلے دعویٰ کیا گیا تھا کہ مہاجرین کو زبردستی واپس بھیجنے سے دہشتگردی کم ہوگی مگر اس طریقہ کار سے نفرت مزید بڑھی جو علاقائی امن و امان کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔‘
انھوں نے پاکستان کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’خفیہ اداروں کا اصل کام سرحدوں کا تحفظ اور دہشتگردی سے بچاؤ ہے۔ اگر وہ سیاسی انجینیئرنگ یا تحریکِ انصاف کو توڑنے میں ہی لگے رہیں گے تو سرحدوں کا تحفظ کون کرے گا؟ اپنی پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیں۔‘
رچرڈ گرنیل کے بیانات پر پاکستان کا جواب: ’ایک شخص کے بیان پر رائے نہیں دیں گے، امریکی حکام سے بات چیت جاری رہے گی‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد مشیر رچرڈ گرنیل کے عمران خان سے متعلق بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ کسی ایک شخص کے بیانات پر کوئی رائے نہیں‘ دے سکتے۔
جمعرات کو دفترِ خارجہ میں ایک بریفنگ کے دوران ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ باہمی عزت و مفادات کی بنیاد پر مثبت تعلقات کا خواہاں ہے۔ امید کرتے ہیں کہ امریکہ بھی اس بات کا خیال رکھے گا۔
منگل کو نیوز میکس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں رچرڈ گرنیل کا کہنا تھا کہ ’میں چاہوں گا کہ عمران خان جیل سے رہا کر دیے جائیں، ان پر ویسے ہی الزامات ہیں جیسے ڈونلڈ ٹرمپ پر لگائے گئےتھے۔ پاکستان میں حکومت کرنے والی سیاسی پارٹی نے ان پر کرپشن کے جھوٹے الزامات لگا کر انھیں جیل میں بند کر رکھا ہے۔‘
رچرڈ گرنیل کے بیان کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر دفترِ خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’کسی ایک شخص کے بیانات پر میں کوئی رائے نہیں دے سکتی۔ امریکی حکام کے ساتھ بات چیت جاری رکھیں گے۔‘
عمران خان پر بھی ویسے ہی الزامات ہیں جیسے ٹرمپ پر لگائے گئے، میں چاہوں گا انھیں رہا کر دیا جائے: رچرڈ گرینل

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد مشیر رچرڈ گرینل سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ’میں چاہوں گا کہ عمران حان جیل سے رہا کر دیے جائیں۔ ان پر ویسے ہیں الزامات ہیں جیسے ڈونلڈ ٹرمپ پر لگائے گئے۔ پاکستان میں حکومت کرنے والی سیاسی پارٹی نے ان پر کرپشن کے جھوٹے الزامات لگا کر انھیں جیل میں بند کر رکھا ہے۔‘
پاکستان کے میزائل پروگرام پر امریکہ کے خدشات کے حوالے سے منگل کے روز امریکہ میں نیوز میکس کو دیے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا آنے والی انتظامیہ میں ٹرمپ کے نامزد سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو جس امور پر کام کریں گے، یہ ان کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی ملک کے پاس نیوکلیئر ہتھیاروں کی صلاحیت اس بات کا تعین کرتی ہے کہ ہم ان سے کیسے نمٹیں گے اور پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جن کے پاس نیوکلیئر ہتھیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے پچھلے دورِ صدارت میں جب عمران خان وہاں کے حکمران تھے تو ہمارے پاکستان کے ساتھ زیادہ بہتر تعلقات تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’کیونکہ عمران خان ایک سیاستدان نہیں بلکہ ایک کرکٹر تھے اور وہ ایسی زبان میں بات کرتے تھے جو زیادہ قابلِ فہم تھی اور ٹرمپ کے ان کے ساتھ بہترین تعلقات تھے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میرا ماننا ہے کہ ایسے لوگ جو سیاستدان نہ ہوں، جن میں کامن سینس ہو اور جو کاروباری صلاحیتیں رکھتے ہوں وہ زیادہ بہتر کام کرتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں چاہوں گا کہ عمران حان جیل سے رہا کر دیے جائیں۔ وہ فی الحال جیل میں قید ہیں اور ان پر ویسے ہیں الزامات ہیں جیسے ڈونلڈ ٹرمپ پر لگائے گئے۔ پاکستان میں حکومت کرنے والی سیاسی پارٹی نے ان پر کرپشن کے جھوٹے الزامات لگا کر انھیں جیل میں بند کر رکھا ہے۔‘
میزبان نے ان سے سوال کیا کہ ’کیا آپ عمران خان کے متعلق جو آگاہی پھیلا رہے ہیں (مثلاً ایکس وغیرہ پر)، اس کے نتیجے میں وہ رہا ہو سکتے ہیں؟انھوں نے اس سوال کا براہِ راست جواب نہیں دیا اور کہا کہ ’پاکستان کو ان امور کی فہرست میں شامل کر لیں جس پر صدر جو بائیڈن اور قومی سلامتی کے مشیر جیک سالیوان آخری 45 دنوں میں پیش رفت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ پچھلے چار سال میں انھوں نے اس پر کچھ نہیں کیا۔‘
’چار سال تک انھوں نے جن مسائل پر کوئی بات نہیں کی اب وہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انھیں ان سب کی پرواہ ہے، وہ ان کے بارے میں عجیب و غریب بیانات دے رہے ہیں اور پاکستان بھی ان مسائل میں شامل ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہx.com
رچرڈ گرینل کون ہیں؟
گرینل ایک امریکی سفارت کار ہیں اور انھیں ڈونلڈ ٹرمپ کے کافی نزدیک سمجھا جاتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران گرینل نے نیشنل انٹیلی جنس کے قائم مقام ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
وہ نیشنل انٹیلی جنس کی تاریخ کے پہلے ہم جنس پرست ڈائریکٹر تھے۔ گرینل دنیا بھر میں ایل جی بی ٹی حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہے ہیں۔
نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر بننے سے قبل 2018 میں گرینل کو جرمنی میں امریکہ کے سفیر کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔ انھوں نے 2019 سے 2021 تک سربیا اور کوسوو امن مذاکرات میں امریکی صدر کے خصوصی ایلچی کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
جارج ڈبلیو بش کے دورِ حکومت میں گرینل اقوام متحدہ میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان رہے۔ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ووٹنگ ممبر تھے۔
گرینل کی ویب سائٹ فکس کیلیفورنیا کے مطابق ایرانی حکومت کی جانب سے ’ہم جنس پرستی کو فروغ دینے‘ کے الزام میں ان کا نام پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے۔
گرینل کو امریکہ کی قومی سلامتی کا سب سے بڑا اعزاز نیشنل سکیورٹی میڈل ملا تھا۔ انھیں کوسوو اور سربیا سے ملک کا اعلیٰ ترین میڈل آف آنر ملا ہے۔
روئٹرز کے مطابق پانچ نومبر کے امریکی صدارتی الیکشن میں ٹرمپ کی جیت کے بعد یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ رچرڈ گرینل کو وزیر خارجہ کا عہدہ مل سکتا ہے تاہم یہ عہدہ امریکی سینیٹر مارکو روبیو کو ملا ہے۔
یوکرین جنگ کے خصوصی ایلچی کے عہدے کے لیے ان کے نام پر غور کیا گیا تھا تاہم یہ عہدہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کیتھ کیلوگ کو ملا۔
بشارالاسد کے حامیوں کے حملے میں 14 سکیورٹی اہلکار ہلاک، شام کے مختلف شہروں میں کرفیو، جھڑپوں کی اطلاعات

،تصویر کا ذریعہReuters
شام میں باغیوں کی زیر قیادت انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ملک کے مغرب میں معزول صدر بشار الاسد کی وفادار فورسز کی جانب سے گھات لگا کر کیے گئے حملے میں وزارت داخلہ کے 14 اہلکار ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ لڑائی منگل کو بحیرہ روم کی بندرگاہ طرطوس کے قریب ہوئی۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز پر اس وقت گھات لگا کر حملہ کیا گیا جب انھوں نے ایک ایسے سابق افسر کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جو معزول صدر بشار الاسد کے دور میں اہم عہدوں پر فائز تھا اور دارالحکومت دمشق کے قریب واقع سیدنایا جیل کے حوالے سے بھی اس پر الزامات عائد ہیں۔
یاد رہے شام میں دو ہفتے قبل باغی گروہ ہیت تحریر الشام نے اشد حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور حکومت کی باگ ڈور تب سے باغیوں کے ہاتھ میں ہے۔
برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس (ایس او ایچ آر) کا کہنا ہے کہ جھڑپوں میں تین عسکریت پسند بھی مارے گئے۔
ایس او ایچ آر کے مطابق بعد میں وزارتِ داخلہ کے زیِر انتظام سیکورٹی فورسز نے وہاں کمک بھیجی۔
مختلف شہروں کرفیو نافذ
شام کے مختلف علاقوں میں گذشتہ روز کرسمس کی تقریبات منانے کے بعد مظاہروں، جھڑپوں اور ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں۔
باغیوں کے زیرِ قیادت انتظامیہ نے مظاہرے پھوٹنے کے بعد حمص، بنیاس اور جبلہ میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔
بی بی سی عربی کے مطابق کرسمس کے اجتماع کے بعد، شام کے مختلف علاقوں میں مشتعل مظاہرے پھوٹ پڑے جس کی وجہ ایک وائرل ویڈیو کلپ بنا جس میں حلب میں علوی فرقے سے تعلق رکھنے والی مذہبی عبادت گاہ پر حملہ دکھایا گیا تھا۔
باغیوں کے زیرِانتظام شام کی وزارت داخلہ کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک پرانی ویڈیو ہے جو نومبر کے آخر میں حلب پر باغیوں کے حملے سے متعلقہ ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس میں دکھایا گیا تشدد نامعلوم گروہوں کی جانب سے کیا گیا ہے۔
ایس او ایچ آر کا کہنا ہے کہ حمص میں ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔
طرطوس اور لاذقیہ کے شہروں اور اسد کے آبائی شہر قردہہ سمیت کئی دیگر علاقوں میں بھی مظاہروں کی اطلاعات ہیں۔
یاد رہے شام میں علوی برادری ایک اقلیتی فرقہ ہے جس سے اسد خاندان اور سابقہ حکومت کی سیاسی اور فوجی اشرافیہ کا تعلق تھا۔
باغیوں کی قیادت میں شام کے شمال مشرق سے شروع ہونے والے حملوں نے اسد خاندان کے 50 سال سے زائد عرصے سے قائم اقتدار کا خاتمہ کرتے ہوئے اسد اور ان کے خاندان کو روس فرار ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔
باغی رہنماؤں نے ملک پر قبضے کے بعد شام میں بہت سی مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے حقوق اور آزادیوں کے تحفظ کا وعدہ کیا ہے۔
یاد رہے ہیت تحریر الشام کو اقوام متحدہ، امریکہ، یورپی یونین، برطانیہ اور دیگر نے دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کر رکھا ہے۔
منگل کے روز ملک بھر میں کرسمس ٹری کو جلانے کے بعد مظاہرے پھوٹ پڑے جس میں اقلیتوں کے تحفظ کے لیے نئے باغی حکام سے تازہ مطالبات کیے گئے ہیں۔
بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں آل پارٹیز اتحاد کا احتجاجی دھرنا گیارویں روز بھی جاری رہا, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

،تصویر کا ذریعہBehram Baloch
بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں احتجاجی دھرنا بدھ کو گیارہویں روز بھی جاری رہا۔
یہ احتجاجی دھرنا شہر میں میرین ڈرائیو پر آل پارٹیز اتحاد گوادر کا ہے۔ گوادر سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی بہرام بلوچ نے بتایا کہ آل پارٹیز اتحاد کی جانب سے گوادر کے عوام کو درپیش اہم مسائل کے حوالے سے یہ دھرنا دیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس دھرنے کو دس روز گزر گئے لیکن تا حال ان مظاہرین کے مطالبات کو تسلیم کرنے کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔
گوادر میں آل پارٹیز کے زیر اہتمام گوادر میں احتجاجی دھرنے کی بازگشت گذشتہ روز بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بھی سنائی دی تھی۔
گوادر سے تعلق رکھنے والے رکن بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان اور نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی رحمت صالح بلوچ نے حکومت پر زور دیا تھا کہ آل پارٹیز اتحاد گوادر کے ساتھ مزاکرت کرکے گوادر کے لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

،تصویر کا ذریعہBehram Baloch
گوادر میں احتجاجی دھرنے کے مطالبات کیا ہیں؟
آل پارٹیز اتحاد گوادر کے کنوینر عبدالغفور ہوت نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ احتجاج گوادر کے دیرینہ مسائل کے حوالے سے دیا جا رہا ہے لیکن ابھی تک حکومت کی جانب سے کسی نے ہم سے مذاکرات کے لیے رابطے کی زحمت نہیں کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ مسائل ایسے نہیں ہیں کہ جن کو حل نہ کیا جا سکتا ہو لیکن حکومت کی مبینہ عدم توجہی کی وجہ سے لوگ مشکلات سے دوچار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گوادر میں سیلاب سے متائثرین کے لیے جن فنڈز کا اعلان کیا گیا وہ متاثرین کو دیے جائیں تا کہ ان کے نقصانات کا کسی حد تک ازالہ ہو۔
انھوں نے بتایا کہ اگر حکومت یہاں کے لوگوں کو کوئی روزگار نہیں دے سکتی تو کم از کم سرحد سے ان کو جو روزگار دستیاب ہے اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالے۔
انھوں نے بتایا کہ گوادر میں بجلی نہیں ہے اور 24 گھنٹے میں صرف چار گھنٹے تک بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق گوادر کے لوگ چاہتے ہیں کہ انھیں 24 گھنٹے بجلی فراہم کی جائے۔

،تصویر کا ذریعہBehram Baloch
ان کا کہنا تھا کہ گوادر کی سمندری حدود میں ٹرالرز کے ذریعے غیرقانونی ماہی گیری بھی بڑا مسئلہ ہے جو کہ گوادر کے ماہی گیروں سے ان کے معاش اور روزگار چھیننے کے مترادف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گوادر کے لوگ چاہتے ہیں کہ غیر قانونی ماہی گیری پر پابندی عائد کی جائے۔
عبدالغفور ہوت نے کہا کہ جب تک حکومت گوادر کے لوگوں کے ان مطالبات کو تسلیم نہیں کرتی تو اس وقت تک یہ احتجاجی دھرنا جاری رہے گا۔’
صحافی بہرام بلوچ نے بتایا کہ آل پارٹیز اتحاد کی طرف سے متعدد مطالبات پیش کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اتحاد کے اہم مطالبات میں سے ایک یہ ہے کہ گوادر میں سیلاب سے جو نقصانات ہوئے ان کا فوری ازالہ کیا جائے۔
انھوں نے بتایا کہ دیگر مطالبات میں ماہی گیروں کے لیے رہائشی سکیم، پانی اور بجلی کے مسائل کے حل سے متعلق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گوادر کے لوگو ں کے معاش اور روزگار کا بڑا انحصار ایرانی سرحد سے وابستہ کاروبار پر ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اس تناظر میں دھرنے کے مطالبات میں یہ بھی شامل ہے کہ ایرانی سرحد پر واقع کراسنگ پوائنٹ کُنٹانی پور سے تیل کا جو کاروبار ہوتا ہے اس کے حوالے سے ٹوکن سسٹم کا خاتمہ کیا جائے۔
قزاقستان میں مسافر طیارہ گِر کر تباہ، 38 ہلاک، متعدد زخمی

،تصویر کا ذریعہReuters
قزاقستان میں مقامی حکام کا کہنا ہے کہ آذربائیجان ایئرلائنز کا ایک مسافر طیارہ گِر کر تباہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں درجنوں ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ قزاقستان کے حکام کے مطابق اس مسافر طیارے پر 69 لوگ سوار تھے۔ حکام کے مطابق ان میں سے 38 لوگ ہلاک جبکہ باقی زندہ بچ گئے ہیں۔
اس سے قبل مقامی حکام نے بتایا تھا کہ اس حادثے سے متعلق ابتدائی رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ طیارے پر عملے سمیت 67 افراد سوار تھے جن میں سے 25 افراد زندہ بچے ہیں۔ زندہ بچ جانے والے 25 میں سے 22 افراد کو نزدیکی ہسپتال شفٹ کیا گیا ہے۔ کچھ اندازوں کے مطابق اس جہاز پر کل 72 مسافر تھے اور زندہ بچ جانے والوں کی تعداد 28 سے 32 کے درمیان بنتی ہے۔
حکام نے بتایا کہ آذربائیجان ایئر لائنز کے طیارے کو ’اکتاؤ‘ شہر کے قریب گرتے ہی آگ لگ گئی تاہم ایمرجنسی سروس نے اس آگ پر قابو پا لیا۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ حادثے کی وجہ کیا ہے۔

آذربائیجان ایئر لائن کی پرواز J2-8243 دارالحکومت باکو سے روس کے شہر گروزنی جا رہی تھی، تاہم دھند کی وجہ سے اِس کا رخ موڑ دیا گیا تھا۔ جب اس طیارے نے قزاقستان کے شہر اکاتو کے قریب ہنگامی لینڈنگ کی کوشش کی تو آگ بھڑک اٹھی۔ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طیارہ جب تیز رفتاری سے زمین کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے تو لینڈنگ کے وقت اس میں آگ بھڑک اٹھی۔
ایئرلائن کی انتظامیہ کے مطابق طیارے نے اکاتو سے تقریباً تین کلومیٹر کے فاصلے پر ہنگامی لینڈنگ کی۔
فلائیٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ راڈار 24 کے مطابق اس پرواز نے بدھ کی صبح آٹھ بج کر 55 منٹ پرواز بھری اور اسے 11 بج کر 28 منٹ پر حادثہ پیش آیا۔

،تصویر کا ذریعہMinistry of Emergencies for the Republic of Kazakhstan
خبررساں ادارے روئٹرز کی جانب سے تصدیق شدہ ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے طیارہ زمین کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے جبکہ اس کا لینڈنگ گیئر نیچے کی طرف ہے۔ طیارہ لینڈ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس دوران آگ کا بگولہ زمین سے اٹھتا ہے۔
حکام کے مطابق طیارے پر 62 مسافروں کے علاوہ عملے کے پانچ اراکین سوار تھے۔ طیارے پر سوار بیشتر مسافروں کا تعلق آذربائیجان سے ہے۔
غیر تصدیق شدہ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس حادثے کے نیتجے میں زخمی ہونے والے مسافر ملبے سے رینگتے ہوئے باہر آ رہے ہیں۔ کچھ کے جسموں پر واضح زخم بھی دکھائی دے رہے ہیں۔
راستوں کی بندش کے خلاف پاڑہ چنار میں دھرنا جاری: ’لوگ محصور ہو چکے، کسی کو اس بات کا احساس نہیں کہ لاکھوں زندگیاں داؤ پر لگی ہیں‘, محمد زبیر، صحافی

،تصویر کا ذریعہAli Afzal
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع کرم میں راستوں کی بندش کے خلاف پاڑہ چنار سمیت احتجاج ملک کے مختلف حصوں میں جاری ہے۔ پاڑہ چنار میں مین کچہری روڈ پر پریس کلب کے سامنے دھرنا چھٹے روز میں داخل ہو چکا ہے۔
پاڑہ چنار تحصیل چیرمین آغا مزمل کا کہنا ہے کہ ’پاڑہ چنار محصور ہے ہم نہ تو پاکستان جاسکتے ہیں اور نہ افغانستان۔ لوگ محصور ہوچکے ہیں۔ کسی کو بھی اس بات کا احساس نہیں ہورہا کہ لاکھوں زندگیوں کو اس وقت شدید مُشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’علاقے میں اس حالیہ کشیدگی کے بعد سے اب تقریباً 78 روز ہو چکے ہیں اور پاڑہ چنار کا رابطہ مُلک سے کٹا ہوا ہے۔ اگر کوئی کسی مجبوری کے تحت سفر کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے تو مارا جاتا ہے۔ ہم نے ابھی احتجاجاً اپنے دو افراد کی تدفیق نہیں کی ہے۔ یہ لوگ سفر کرتے ہوئے مارے گے تھے۔‘
آغا مزمل کا کہنا تھا کہ ’اب یہ جو احتجاج شروع ہوا ہے یہ اس معاملے کے حل تک جاری رہے گا۔ حکومت کی جانب سے ایک گرینڈ جرگہ آیا ہوا ہے۔ اس سے بات چیت چل رہی ہے ان سے بھی ہمارا یہ ہی مطالبہ ہے کہ ہر صورت میں راستوں کو کھولا جائے اور انھیں آمدورفت کے لیے محفوظ بنایا جائے۔ اگر پاڑہ چنار کے راستے نہیں کھلیں گے تو پھر اب ہم پورے ملک میں خاموش نہیں بیٹھیں گے اور پورے ملک میں احتجاج ہوگا۔‘
آغا مزمل کا کہنا تھا کہ ’ہم نے حکومت کو بتا دیا ہے کہ آئندہ 72 گھنٹوں میں اگر پاڑہ چنار کے راستے نہیں کھلیں گے تو پھر ملک بھر کے ہائی ویز، موٹر ویز، ایئر پورٹ، ٹرین ٹریک سب کچھ بند کردیا جائے گا۔ اس وقت ملک کے مختلف علاقوں میں پاڑہ چنار کے لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے پر امن احتجاج ہورہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ہماراپیغام بڑا واضح ہے کہ اگر پارہ چنار کے راستے نہیں کھلیں گے تو پھر پاکستان بھر کے راستے بھی بند کردیئے جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہAli Afzal
تاہم اس سے قبل مجلس وحدت المسلمیں کے ممبر قومی اسمبلی انجیئر حمید حسین کا دعوی تھا کہ اس وقت پورے ملک میں لوگ پاڑہ چنار کے لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے سڑکوں پر ہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی ہدایت پر کابینہ ڈویژن کا ہیلی کاپٹر پاڑا چنار میں ادویات کی فراہمی، مریضوں کی منتقلی اور دیگر امدادی سرگرمیوں کے لئے مختص کر دیا گیا ہے۔
بدھ کے روز وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مُلک سطح پر قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے نے وزیراعظم کی ہدایت پر پاڑا چنار کے بچوں، خواتین اور بزرگ افراد کی طبی ضروریات کو پورا کرنے کے حوالے سے ریلیف آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPM Office
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر 500 کلو گرام ادویات لے کر پہلا ہیلی کاپٹر بدھ کے روز پاڑا چنار پہنچا۔ پاڑا چنار سے واپسی پر اسی ہیلی کاپٹر میں 4 مریضوں کو علاج معالجے کے لیے اسلام آباد مُنتقل کیا گیا۔
وزیراعظم پاکستان کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ ’دکھ اور مصیبت کی اس گھڑی میں پاڑا چنار اور خیبر پختونخواہ کے عوام کی ساتھ کھڑے ہیں۔‘
افغانستان کا پاکستان پر سرحد پار فضائی بمباری کا الزام: ’حملہ بین الاقوامی اصولوں کے منافی، جواب دیا جائے گا،‘ افغان وزارت دفاع

،تصویر کا ذریعہMinistry of Afghan Defense
،تصویر کا کیپشنوزارتِ دفاع کے ترجمان عنایت الله خوارزمی نے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں سے بیشتر کا تعلق وزیرستان سے تعلق رکھنے والے پناہ گزینوں سے تھا افغانستان کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ پاکستانی فوج کی صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں کی گئی بمباری کے نتیجے میں کئی افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ یا پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے ایسے کسی بھی حملے کی فی الحال نہ تو تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی تردید۔
افغانستان کی وزارت دفاع کے آفیشلایکس اکاؤنٹ سے اس مبینہ حملے سے متعلق تین ٹویٹس کی گئی ہیں جنھیں ملک کی وزارت دفاع کے ترجمان عنایت الله خوارزمی اور طالبان حکومت کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے ری ٹویٹ بھی کیا گیا ہے۔
افغان وزارت دفاع کے بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں سے بیشتر کا تعلق وزیرستان سے تعلق رکھنے والے پناہ گزینوں سے تھا، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔
بیان میں مزید کہا ہے کہ ’افغانستان اس حملے کی مذمت کرتا ہے اور اس کو صریح جارحیت اور بین الاقوامی اصولوں کے منافی سمجھتا ہے۔ پاکستان کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس طرح کے اقدام مسئلے کا حل نہیں۔‘
وزارت دفاع نے مزید کہا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کے دفاع کو ناقابل تنسیخ حق سمجھتا ہے اور اس ’بزدلانہ کارروائی کا جواب دیا جائے گا۔‘
یاد رہے کہ رواں برس مارچ میں افغان طالبان نے کہا تھا کہ پاکستانی طیاروں نے افغانستان کی حدود میں پکتیکا اور خوست کے علاقوں میں بمباری کی جس کے بعد پاکستانی دفتر خارجہ نے بتایا کہ اس آپریشن میں حافظ گل بہادر گروپ سے تعلق رکھنے والے دہشتگرد ہدف تھے۔
اس حملے کے بعد افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کے فضائی حملے میں پانچ خواتین اور تین بچے ہلاک ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان کا موقف ہے کہ شدت پسندی کی لہر میں اضافے کی وجہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے افغانستان کی سرزمین کا استعمال ہے جسے روکنے میں افغان حکومت ناکام رہی ہے اور سرحد پار سے شدت پسند پاکستان کی سکیورٹی فورسز، چینی اور پاکستانی شہریوں کے خلاف حملے کرتے ہیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق انھوں نے بارہا افغانستان کو ثبوت دیے مگر طالبان حکومت پاکستان کے تحفظات دور نہ کر سکی اور نتیجتاً یہ گروہ زیادہ آزادی سے افغانستان سے پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
جولائی 2024 میں بی بی سی اُردو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کہہ چکے ہیں کہ ’پاکستان افغانستان میں طالبان کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اگر مستقبل میں ’آپریشن عزمِ استحکام کے تحت اگر ضرورت محسوس ہوئی تو افغانستان میں موجود تحریکِ طالبان پاکستان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔‘
’مذاکرات کے عمل کو معنی خیز بنانے کے لیے میری ملاقات میری نامزد کردہ مذاکراتی ٹیم سے کروائی جائے تا کہ مجھے معاملات کا صحیح علم ہو سکے: عمران خان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے عمل کو معنی خیز بنانے کے لیے اہم ہے کہ میری ملاقات میری نامزد کردہ مذاکراتی ٹیم سے کروائی جائے تا کہ مجھے معاملات کا صحیح علم ہو سکے۔
ایکس پر سابق وزیر اعظم عمران خان کے اکاؤنٹ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ ’پارٹی کی مذاکراتی کمیٹی کی کاوشیں اچھی بات ہیں۔‘
عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’مذاکرات کے عمل کو معنی خیز بنانے کے لیے اہم ہے کہ میری ملاقات میری نامزد کردہ مذاکراتی ٹیم سے کروائی جائے تا کہ مجھے معاملات کا صحیح علم ہو سکے، میں نے صاحبزادہ حامد رضا کو تحریک انصاف کے مذاکراتی عمل کا ترجمان نامزد کیا ہے۔‘
بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ’حکومت اگر نتیجہ خیز مذاکرات چاہتی ہے تو ہمارے دو مطالبات ہیں، پہلا یہ کہ انڈر ٹرائل سیاسی قیدیوں کی رہائی اور دوسرا 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر سینئیر ترین ججز پر مشتمل جوڈیشل کمیشن کا قیام۔‘
واضح رہے کہ ماضی بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان جو اڈیالہ جیل میں قید ہیں کا ایکس پر اکاؤنٹ اُن کی سوشل میڈیا ٹیم چلاتی ہے اور اس پر سامنے آنے والے عمران خان کے بیانات اُن کے وکلا کی اُن سے جیل میں ہونے والی ملاقات کے بعد اُن کی سوشل میڈیا ٹیم تک وکلا کی جانب سے پہنچائے جاتے ہیں۔
عمران خان ایکس پر اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہمارے ان دو مطالبات پر عمل درآمد کی صورت میں ہم سول نافرمانی کی تحریک کو مؤخر کر دیں گے لیکن مجھے خدشہ ہے کہ حکومت ہمارے 9 مئی اور 26 نومبر کی تحقیقات کے مطالبے کو پس پشت ڈالنے کی کوشش کرے گی لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پیغام میں اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ملٹری کورٹس کے غیر آئینی فیصلوں کو مسترد کرتا ہوں، ان فیصلوں کی وجہ سے پاکستان کی بین الاقوامی دنیا میں بدنامی بھی ہو رہی ہے اور ایسے غیر انسانی عمل سے ملک کو معاشی پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔‘
عمران خان نے موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اب تو عدلیہ نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ملک میں سیاسی انجینئرنگ ہو رہی ہے جس کا صاف مطلب ہے کہ تحریک انصاف کو کچلا جا رہا ہے اور تحریک انصاف کو دباتے دباتے حقیقت میں جمہوریت، عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔‘
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’کوئی ملک بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاری کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا اور سرمایہ کاری کبھی قانون کی حکمرانی کے بغیر آ ہی نہیں سکتی۔ لوگ پاکستان سے باہر سرمایہ منتقل کر رہے ہیں کیونکہ یہاں نہ تو عدلیہ آزاد ہے اور نہ ہی قانون کا کوئی احترام ہے۔‘
بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ’26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ کے مکمل طور پر ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے ہیں۔ آئینی بینچ کا قیام اور اسکے فیصلے سپریم کورٹ کو شرمندہ کرنے کے مترادف ہیں۔‘
’یورپی یونین سے تعاون جاری رکھیں گے‘: فوجی عدالتوں کے معاملے پر پاکستانی دفتر خارجہ کا ردعمل

،تصویر کا ذریعہRADIO PAKISTAN
یورپی یونین، امریکہ اور برطانیہ نے پاکستان میں فوجی عدالتوں کی جانب سے نو مئی کے پُرتشدد احتجاج پر سزائیں دیے جانے پر تشویش ظاہر کی تھی جس پر اب پاکستانی دفتر خارجہ نے ردعمل دیا ہے اور کہا ہے کہ ملک میں عدالتی نظرثانی اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان کا کہنا ہے کہ ’پاکستان انسانی حقوق کے حوالے سے تمام بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے۔‘
اس کا کہنا ہے کہ پاکستان کا قانونی نظام انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے جس میں شہری اور سیاسی حقوق کے عالمی معاہدے بھی شامل ہیں۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ ملک کا قانونی نظام ’اعلیٰ عدالتوں کے ذریعے عدالتی نظرثانی کا طریقہ کار فراہم کرتا ہے اور پاکستان جمہوریت، انسانی حقوق کے اصولوں کو فروغ دینے کے لیے مثبت بات چیت پر یقین رکھتا ہے۔‘
’پاکستان جی ایس پی پلس سکیم اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدوں کے تحت ذمہ داریوں کے لیے پُرعزم ہے۔
’(ہم) بلا امتیاز اور دہرے معیار کے بغیر بین الاقوامی شراکت داروں بشمول یورپی یونین کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔‘
فوجی عدالتوں کے فیصلے پر یورپی یونین، امریکہ اور برطانیہ کو تشویش کیوں؟
خیال رہے کہ پاکستان میں 25 افراد کو فوجی عدالتوں کی جانب سے سزا سنائے جانے پر امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل میں شفافیت کا فقدان ہوتا ہے۔
برطانیہ کے دفتر خارجہ کے ایک ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق برطانوی حکومت ملک میں ہونے والی قانونی کارروائیوں پر پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرتی ہے تاہم فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل میں شفافیت اور آزادانہ جانچ پڑتال کا فقدان ہوتا ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ فوجی عدالتوں میں کارروائی سے منصفانہ ٹرائل کے حق کو نقصان پہنچاتا ہے۔
’ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں نبھائے۔‘
دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں میں عدالتی آزادی اور شفافیت کی ضمانت کا فقدان ہوتا ہے۔
’امریکہ پاکستانی حکام سے مطالبہ کرتا ہے پاکستان کے آئین میں درج منصفانہ ٹرائل کے حق کا احترام کیا جائے۔‘
فوجی عدالتیں کیا ہیں اور ان میں عام شہریوں کے خلاف مقدمات کی کارروائی کیسے ہوتی ہے؟
اس سے قبل یورپی یونین کی جانب سے پاکستان میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے کورٹ مارشل پر تشویش ظاہر کی گئی تھی۔ یورپی یونین کا کہنا تھا کہ یہ اقدام منصفانہ ٹرائل کے اصولوں کے منافی ہے۔
یورپی یونین کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے (آئی سی سی پی آر) کا دستخط کنندہ ہے اور فوجی عدالتوں کے فیصلے اس معاہدے کے تحت پاکستان پر لاگو ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔
خیال رہے کہ 21 دسمبر کو پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا بیان سامنے آیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ فوجی عدالتوں نے پہلے مرحلے میں نو مئی کے پُرتشدد مظاہروں میں ملوث 25 ملزمان کا کورٹ مارشل مکمل کر کے انھیں دو سے 10 سال تک قید با مشقت کی سزائیں سنائی ہیں۔
آئی سی سی نے چیمپئنز ٹرافی کے شیڈول کا اعلان کر دیا
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستان کی میزبانی میں ہائبرڈ ماڈل کے تحت ہونے والی چیمپئنز ٹرافی 2025 کے شیڈول کا اعلان کر دیا ہے۔
جاری کردہ شیڈول کے مطابق چمپئینز ٹرافی 2025 کے میچز کا انعقاد پاکستان اور متحدہ عرب امارات میں ہو گا، ایونٹ کا آغاز 19 فروری سے کراچی میں ہو گا جبکہ اختتام نو مارچ کو ہو گا۔
آئی سی سی کے شیڈول کے مطابق افتتاحی میچ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان 19 فروری کو کراچی میں ہو گا، روایتی حریف پاکستان اور انڈیا کی کرکٹ ٹیمیں 23 فروری کو دبئی کے میدان میں آمنے سامنے ہوں گی۔
آئی سی سی کے شیڈول کے مطابق پہلا سیمی فائنل چار مارچ کو متحدہ عرب امارات میں اور دوسرا سیمی فائنل پانچ مارچ کو لاہور میں ہو گا۔
انٹر نیشنل کرکٹ کونسل کے مطابق پانچ مارچ پہلے سیمی فائنل اور چھ مارچ کو دوسرے سیمی فائنل کے لیے بطور ریزرو دن مختص کیا گیا ہے۔
آئی سی سی شیڈول کے مطابق انڈیا کے فائنل میں نہ پہنچنے کی صورت میں فائنل نو مارچ کو لاہور میں ہو گا، 10 مارچ فائنل کے لیے ریزرو دن کے طور پر مختص کیا گیا ہے۔
طے شدہ ہائبرڈ ماڈل کے تحت پاکستان بھی انڈیا میں ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں اپنے میچز نیوٹرل وینیو پر کھیلے گا۔
یاد رہے کہ دو روز قبل پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو نیوٹرل وینیو کے طور پر چن لیا تھا جہاں انڈیا کے چیمپئینز ٹرافی 2025 کے میچز ہوں گے۔
آئی سی سی نے گذشتہ ہفتے پاکستان میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی 2025 سے 2027 تک تمام ایونٹ ہائبرڈ ماڈل کے تحت کرانے کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ 2028 کا ویمنز ٹی20 ورلڈکپ بھی ہائبرڈ ماڈل کے تحت پاکستان میں ہو گا۔
کرم میں بیرون ملک سے آئے دو افراد کا قتل: ’بہت تھک گیا ہوں اب ڈر لگتا ہے اپنے گھر آنا چاہتا ہوں‘, بلال احمد، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

،تصویر کا ذریعہAdnan Hussain
’یہ کیسا انصاف ہے کہ والدین اپنی اولاد کو بیس پچس سال پالیں اور کوئی چند لمحوں میں اس کی جان لے لے، اس بے دردی سے قصائی بھی گائے کو نہیں کاٹتا۔‘
یہ کہنا تھا خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں قتل ہونے والے وسیم عباس کے بہنوئی جاوید حسین کا۔
وسیم عباس حسین اور ان کے ماموں زاد اسحاق حسین کو اتوار کی رات لوئر کرم کے علاقے اوچت میں قتل کرکے ذبح کیا گیا جس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر جاری کی گئی۔ دونوں مقتول بیرون ملک سے آئے تھے۔
وسیم حسین اور اسحاق حسین کی نماز جنازہ منگل کو ان کے آبائی گاؤں زیڑان میں ادا کی گئی۔ اس سے قبل لواحقین اور پاڑہ چنار کی عوام نے پریس کلب کے سامنے اس قتل کے خلاف احتجاج بھی کیا۔ مظاہرین نے حکومت سے ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس کے مطابق لوئر کرم کے علاقے اوچت میں مسلح افراد نے اتوار کی رات دونوں افراد کو گولی مار کر قتل کیا اور ان کے سر قلم کر دیے تھے۔
ڈپٹی کمشنر کرم جاوید اللہ محسود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعے انتہائی دلخراش ہے۔ انھوں نے کہا وہاں انتظامیہ اور سیکورٹی فورسز کو مقامی افراد کی جانب سے رکاوٹ کا سامنا ہے کیونکہ مقامی لوگ ایسے شرپسند افراد کی مدد کرنا نہیں چھوڑ رہے مگر جلد ہی حکومت اور سکیورٹی ادارے ان کے ساتھ سختی سے نمٹیں گے اور ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا جائے گا۔ وسیم حسین میٹرک کے بعد محنت مزدوری کے لیے عراق چلے گئے تھے۔ ان کے والد گاؤں میں مزدوری کرتے ہیں۔
ان کے بہنوئی جاوید حسین کا کہنا تھا کہ دو ماہ قبل وسیم اپنے گردے کی پتھری کا علاج کروانے وطن واپس آئے تھے۔علاج کی غرض سے گزشتہ دو ماہ سے ان کا پشاور اور ٹل آنا جانا لگا تھا اور ان کی کوشش تھی کہ کسی طرح انھیں کوئی موقع مل جائے اور وہ اپنے گھر جا سکیں۔
جاوید حسین کے مطابق قتل سے ایک دن قبل اپنے بہنوئی سے فون پر بات کرتے ہوئے وسیم کا کہنا تھا ’بہت تھک گیا ہوں اب ڈر لگتا ہے اپنے گھر آنا چاہتا ہوں۔‘
جاوید حسین کے مطابق وسیم ایک دن پہلے ٹل پہنچے تھے تاکہ حکومت کی جانب سے شروع کی گئی ائیر لفٹ سروس میں انھیں کوئی موقع مل جائے اور وہ اپنے آبائی گھر جا سکیں۔ ان کے ساتھ ان کے ماموں زاد بھائی اسحاق حسین بھی تھے۔
وسیم کے ایک بھائی اور چار بہنیں ہیں۔ ان کا بھائی سیکورٹی فورس میں اہلکار ہے۔
وسیم کے بہنوئی جاوید حسین کے مطابق ’وسیم کی ماں اور بہنوں کا براُ حال ہے گھر میں سب ماتم کر رہے ہیں۔‘
رکن قومی اسمبلی و پارلیمانی لیڈر ایم ڈبلیو ایم حمید حسین اور طوری بنگش قبائل کے سربراہ جلال حسین بنگش نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہےکہ قاتلوں کو پکڑ کر سنگین سزا دی جائے۔
انھوں نے کہا کہ امن و امان کے لیے پچھلے 15 دنوں سے کوششیں جاری ہیں اور عین وقت پر اس طرح واقعہ ہونا افسوناک ہے۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ اس قسم واقعات سے بچنے اور پاڑہ چنار کے لوگوں کو بحرانی کیفیت سے بچانے کے لیے حکومت مسئلے کو غیر ضروری طول دینے کی بجائے مرکزی شاہراہ کھول کر محفوظ بنائیں۔
یاد رہے کہ رواں برس اکتوبر میں ضلع کرم میں مسافر گاڑیوں کے قافلے پر حملہ کیا گیا تھا جس میں متعدد ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ اس واقعے کے تقریباً 78 روز کے بعد بھی پشاور کرم مرکزی شاہراہ سمیت آمد و رفت کے راستے بند ہیں۔
پاکستان کے اداروں پر لگائی گئی پابندیاں بلاجواز ہیں، جوہری پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا: وزیر اعظم شہباز شریف

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکہ کی جانب سے پاکستان کے ڈیفنس اداروں پر لگائی گئی پابندیوں کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے جوہری پروگرام کا واحد مقصد پاکستان کا دفاع ہے اور اس پر کسی طرح کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
منگل کی دوپہر وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کے بعد کیبنٹ ممبران سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’نیشنل ڈیفنس کمپلیس اور دیگر پاکستانی اداروں پر جو پابندیاں لگائی گئی ہیں اُن کا کوئی جواز نہیں ہے۔ پاکستان قطعی طور پر کوئی ایسا ارادہ نہیں رکھتا جہاں ہمارا نیوکلیئر سسٹم جارحانہ ہو۔ ہمارا جوہری سسٹم مکمل طور پر دفاعی ہے جس کا واحد مقصد پاکستان کا دفاع ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام کسی سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ ملک کے 24 کروڑ عوام کا ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں گا اور پاکستان کا اس پر مکمل اتفاق ہے۔‘
یاد رہے کہ گذشتہ دنوں امریکہ میں بائیڈن انتظامیہ نے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں سے لیس طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل پروگرام سے مبینہ طور پر منسلک چار اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں، جن میں اس میزائل پروگرام کی نگرانی کرنے والا سرکاری پاکستانی ادارہ نیشنل ڈویلپمنٹ کمپلیکس (این ڈی سی) بھی شامل ہے۔
نئی پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر جو بائیڈن کے قومی سلامتی کے نائب مشیر جان فائنر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے لانگ رینج میزائل سسٹم اور ایسے دیگر ہتھیار بنا لیے ہیں جو ’اسے بڑی راکٹ موٹرز کے (ذریعے) تجربات کرنے کی صلاحیت دیتے ہیں۔‘
ان کا مزید دعویٰ تھا کہ ’اگر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو پاکستان کے پاس جنوبی ایشیا سے باہر بھی اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت آ جائے گی، اس میں امریکہ بھی شامل ہے اور اس چیز سے پاکستان کے ارادوں پر حقیقی سوالات اُٹھتے ہیں۔‘
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان میں شدت پسندوں اور عسکریت پسندوں کی بڑھتی کارروائیوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان میں دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے، جب تک ہم مکمل طور پر اس کا خاتمہ نہیں کر لیتے تب تک ہماری محنت کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچ پائیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صوبوں کے ساتھ مل کر اس کا بھرپور مقابلہ کیا جا رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’خیبرپختونخوا میں جو فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ہیں وہ انتہائی افسوسناک ہے، دونوں گروپ مسلح ہیں اور اس لڑائی میں دونوں اطراف سے کئی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ کاش صوبائی حکومت وفاق پر چڑھائی میں لگائی جانے والی تمام کاوشیں شدت پسندی کا سر کچلنے کے لیے استعمال کرتی، تو شاید نقصان اتنا زیادہ نہ ہوتا۔‘
تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ایک مذاکراتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جس کا آئندہ اجلاس جنوری کے پہلے ہفتے میں ہوا۔
’قومی مفاد کا تقاضہ یہی ہے کہ ہم اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات کے تابع کریں۔ ہمارا یہی ہدف ہونا چاہیے۔ اور اگر یہی ہدف رکھ کر مذاکرات کیے جائیں تو یہ کامیاب ہوں گے اور ملک ترقی کرے گا۔‘
یو اے ای کی جانب سے پاکستانیوں کے ویزے پر مکمل پابندی نہیں: وزارتِ سمندر پار پاکستانی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی جانب سے پاکستانیوں کے ویزے کے اجرا پر مکمل پابندی نہیں۔
سوموار کے روز سینیٹر ذیشان خانزادہ کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پاکستانیوں کا اجلاس ہوا جس میں یو اے ای کی جانب سے پاکستانیوں کے ویزوں پر غیر اعلانیہ پابندیوں کا مسئلہ اٹھایا گیا۔
سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت کے سیکرٹری ڈاکٹر ارشد محمود کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور بتایا کہ یو اے ای کی جانب سے پاکستانیوں کے لیے ویزوں پر پابندیوں کا مطلب ویزے کے اجرا سے مکمل انکار نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک دبئی کا سوال ہے، وہاں کوئی پابندیاں عائد نہیں۔
انھوں نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ہنر مند ورکرز پر کوئی پابندی نہیں تاہم غیر ہنرمند ورکرز کی مانگ میں کمی آئی ہے۔
ان کا مزید کا کہنا تھا کہ پاکستان کو چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ ہنر مند ورکرز بیرونِ ملک بھجوائے جائیں۔ ان کے مطابق رواں سال سات لاکھ پاکستانی بیرونِ ملک جا چکے ہیں۔
قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر ذیشان خانزادہ نے تجویز دی کہ کمیٹی کے اگلے اجلاس میں اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کو مدعو کیا جائے تاکہ بیرون ملک نوکری کی غرض سے جانے والے افراد کے ڈیٹا کے مناسب چیک اور بیلنس کو یقینی بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل مقامی میڈیا میں ایسی خبریں سامنے آئی تھیں کہ یو اے ای کی جانب سے پاکستانیوں کے ویزے پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
امریکہ اور برطانیہ کا پاکستان میں فوجی عدالتوں سے عام شہریوں کو سزا سنائے جانے پر اظہارِ تشویش

پاکستان میں 25 افراد کو فوجی عدالتوں کی جانب سے سزا سنائے جانے پر امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل میں شفافیت کا فقدان ہوتا ہے۔
برطانیہ کے دفتر خارجہ کے ایک ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق برطانوی حکومت ملک میں ہونے والی قانونی کارروائیوں پر پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرتی ہے تاہم فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل میں شفافیت اور آزادانہ جانچ پڑتال کا فقدان ہوتا ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ فوجی عدالتوں میں کارروائی سے منصفانہ ٹرائل کے حق کو نقصان پہنچاتا ہے۔
’ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں نبھائے۔‘
دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں میں عدالتی آزادی اور شفافیت کی ضمانت کا فقدان ہوتا ہے۔
’امریکہ پاکستانی حکام سے مطالبہ کرتا ہے پاکستان کے آئین میں درج منصفانہ ٹرائل کے حق کا احترام کیا جائے۔‘
اس سے قبل یورپی یونین کی جانب سے پاکستان میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے کورٹ مارشل پر تشویش ظاہر کی گئی تھی۔ یورپی یونین کا کہنا تھا کہ یہ اقدام منصفانہ ٹرائل کے اصولوں کے منافی ہے۔
یورپی یونین کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے (آئی سی سی پی آر) کا دستخط کنندہ ہے اور فوجی عدالتوں کے فیصلے اس معاہدے کے تحت پاکستان پر لاگو ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔
خیال رہے کہ 21 دسمبر کو پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا بیان سامنے آیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ فوجی عدالتوں نے پہلے مرحلے میں نو مئی کے پُرتشدد مظاہروں میں ملوث 25 ملزمان کا کورٹ مارشل مکمل کر کے انھیں دو سے 10 سال تک قید با مشقت کی سزائیں سنائی ہیں۔
اسرائیل کا ایران میں حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کو ہلاک کرنے کا اعتراف

،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشناسماعیل ہنیہ اسرائیل کی جانب سے پہلی مرتبہ اعتراف کیا گیا ہے کہ اس نے ہی ایران میں حماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ہنیہ کو ہلاک کیا تھا۔
اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے یہ اعتراف ایک تقریر کے دوران کیا جس میں انھوں نے ایرانی حمایت یافتہ حوثی رہنماؤں کو بھی اسی انداز میں نشانہ بنانے کا ارادہ ظاہر کیا۔
رواں سال جولائی میں اسماعیل ہنیہ نئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے ایران کے دارالحکومت تہران میں موجود تھے جب انھیں ایک فضائی حملے میں نشانہ بنیا گیا۔ حماس اور ایرانی حکام نے فوری طور پر اس حملے کا الزام اسرائیل پر عائد کیا تھا تاہم اسرائیلی وزیر دفاع کے حالیہ بیان سے قبل اسرائیل کی جانب سے اس کی نہ تو کبھی تردید کی گئی تھی نہ تصدیق۔
اپنی تقریر کے دوران کاٹز کا کہنا تھا کہ اسرائیل حوثیوں پر ’سخت حملہ‘ کرے گا اور اس کی قیادت کا ’سر قلم‘ کر دے گا۔
انھوں نے حزب اللہ اور حماس کے رواں سال مارے جانے والے رہنماؤں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’جیسے ہم نے تہران، غزہ اور لبنان میں ہنیہ، [یحییٰ] سنوار، اور [حسن] نصر اللہ کے ساتھ کیا تھا، ہم حدیدہ اور صنعا میں بھی ایسا ہی کریں گے۔‘ حدیدہ اور صنعا حوثی جنگجوؤں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
اپنی موت سے قبل اسماعیل ہنیہ ایک فلسطینی سیاست دان اور فلسطینی گروپ حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ رہے۔ وہ دسویں فلسطینی حکومت کے وزیراعظم بھی تھے۔
ان کے سخت بیانات کے باوجود سیاسی مبصرین و تجزیہ کار عام طور پر غزہ سے تعلق رکھنے والے سخت گیر رہنماؤں محمد دیف اور یحییٰ سنوار کے مقابلے میں انھیں اعتدال پسند شخص کے طور پر دیکھتے تھے۔
سنہ 1989 میں اسرائیل نے تین سال کے لیے انھیں قید کیا تھا اور پھر حماس کے متعدد رہنماؤں کے ساتھ لبنان-اسرائیلی سرحد پر مرج الظہور میں جلاوطن کر دیا گيا تھا جہاں انھوں نے 1992 میں ایک پورا سال جلاوطنی میں گزارا۔
وہ قطر میں رہائش پذیر تھے اور طویل عرصے سے غزہ کی پٹی کا دورہ نہیں کر سکے تھے۔
62 سالہ اسماعیل ہنیہ کو سنہ 2017 میں خالد مشعل کی جگہ حماس کے سیاسی شعبے کا سربراہ منتخب کیا گیا تھا۔ پارلیمانی انتخابات میں حماس کی حیرت انگیز کامیابی کے بعد فلسطینی اتھارٹی میں جب انھوں نے حکومت کی صدارت سنبھالی تھی تو ان کا نام اور ان کا عرفی نام (ابو العبد) سنہ 2006 سے ہی دنیا کو معلوم تھا۔
خیبرپختونخوا حکومت کا پاڑہ چنار روڈ کی حفاظت کے لیے سپیشل پولیس فورس بنانے کا فیصلہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خیبر پختونخوا حکومت کا کہنا ہے کہ پاڑہ چنار روڈ کو محفوظ بنانے کے لیے سپیشل پولیس فورس بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سوموار کے روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس کو بتایا گیا کہ گذشتہ روز کرم کے مسئلے پر صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا جس میں پاڑہ چنار روڈ کو محفوظ بنانے کے لیے سپیشل پولیس فورس کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس فورس میں مجموعی طور پر 399 اہلکار بھرتی کیے جائیں گے۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے دفتر سے جاری اعلامیے کے مطابق کابینہ کو بتایا گیا کہ پاڑہ چنار سڑک کو محفوظ بنانے کے لیے ابتدائی طور پر عارضی چیک پوسٹیں قائم کی جائیں گی جنھیں بعد میں مستقل کر دیا جائے گا۔
اجلاس کو بتایا گیا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان معاہدہ طے ہونے کے بعد سڑک کھولی جائے گی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بند کرنے کے لیے ایف آئی اے کا سیل بھی قائم کیا جائے گا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبائی ایپکس کمیٹی نے یکم فروری تک تمام غیر قانونی ہتھیار ضبط کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ قانونی ہتھیاروں کے لائسنس کے اجرا کے لیے محکمہ داخلہ میں خصوصی ڈیسک قائم کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔
کابینہ کو بتایا گیا کہ یکم فروری تک علاقے میں مسلح گروپوں کی جانب سے قائم مورچوں کو بھی مسمار کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔
بریفنگ میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں ادویات کی کمی دور کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اب تک تقریباً دس ٹن ادویات پہنچائی گئی ہیں جبکہ علاقے میں رعایتی نرخوں پر گندم بھی فراہم کی جارہی ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ کرم میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کے ازالے کے لیے ادائیگیاں کی جاچکی ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ کرم کا مسئلہ دہشتگردی کا نہیں بلکہ دو گروپوں کے درمیان تنازعہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ علاقے میں غیر قانونی بھاری ہتھیاروں کی بھر مار ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے واضح کیا کہ حکومت کی کسی بھی مسلح گروپ کو غیر قانونی بھاری ہتھیار رکھنے کی اجازت دینے کی پالیسی نہیں ہے۔
ان کے مطابق صوبائی حکومت مذاکرات اور جرگوں کے ذریعے مسئلے کا پرامن حل نکالنے کی کوشش کر رہی ہے۔
علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ تیراہ اور جانی خیل میں آپریشن کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
خیال رہے کہ رواں برس خیبر پختونخوا کے ضلع کُرم میں فرقہ وارنہ فسادات میں ناصرف 200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں بلکہ نہ ختم ہونے والی کشیدگی کے باعث کُرم کے صدر مقام پاڑہ چنار جانے والی رابطہ سڑکیں بند ہیں۔
حکومت نے اپوزیشن مذاکراتی کمیٹی کی عمران خان سے ملاقات کروانے پر رضامندی ظاہر کی ہے: اسد قیصر

،تصویر کا ذریعہNational Assembly of Pakistan
سوموار کے روز حکومت اور حزبِ اختلاف کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان ہونے والے پہلے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے سابق سپیکر قومی اسمبلی اور پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے ساتھ ہماری ملاقات کروائی جائے۔
’وہ ہمارے لیڈر ہیں، ان ہی کی ہدایت کی روشنی میں ہم آگے بڑھیں گے۔‘
اسد قیصر کا کہنا تھا کہ حکومت نے ہمارا مطالبہ مان لیا ہے اور کہا ہے کہ ہماری ملاقات کروائی جائے گی۔ ’دیکھتے ہیں کہ یہ ملاقات کب کروائی جاتی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی اجلاس میں اپوزیشن نے اپنا نقطہ نظر سامنے رکھا ہے جس میں عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی، سپریم کورٹ کے سینیئر ججز کی سربراہی میں جودیشل کمیشن کا قیام اور پنجاب میں پی ٹی آئی کے پارلیمینٹیرینز اور کارکنوں کy ساتھ روا سلوک شامل ہے۔
سابق سپیکر کا کہنا تھا کہ آج حزبِ اختلاف کی کمیٹی کے کچھ ممبرز دستیاب نہیں تھے۔ ان کے مطابق عمر ایوب کی پشاور ہائی کورٹ میں پیشی تھی، جبکہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور صوبائی کابینہ کی میٹنگ اور کرم کی صورتحال پر ہونے والے اجلاس میں مصروفیت ہیں جب کہ حامد خان ڈھاکہ میں ہیں اور سلمان اکرم راجہ بھی دستیاب نہیں تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ دو جنوری کو ہونے والے اجلاس میں اپوزیشن کمیٹی اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرے گی۔ اسد قیصر کے مطابق دو جنوری کے بعد مذاکراتی کمیٹیوں کے مسلسل اجلاس ہوں گے۔
اس سے قبل مذاکراتی کمیٹیوں کے اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ کا اعلان کرتے ہوئے سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا تھا، ’دونوں مذاکراتی کمیٹیوں نے خیر سگالی کا اظہار کرتے ہوئے اج کے اجلاس کو نہایت مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔ انھوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ پارلیمنٹ مسائل حل کرنے کا اہم فورم ہے اور مذاکراتی عمل کو جاری رہنا چاہیے۔‘
