یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
22 جولائی کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
خیبرپختونخوا اسمبلی میں سینیٹ انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف نے 6 اور اپوزیشن جماعتوں نے 5 نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
22 جولائی کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA
ایک مقامی صحافی فخر عالم نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سیلابی ریلہ اتنی شدت سے آیا ہے کہ لوگوں کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں مل سکا اور جو گاڑیاں اس وقت سیلابی ریلے کی زد میں آئی ہیں وہ پانی میں بہہ گئی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ سیلاب کی اطلاع ملنے کے بعد جب وہاں وہ گئے تھے تو ہر طرف چیخ و پکار تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’سیاح پریشانی کے عالم میں پکار رہے تھے۔ کوئی اپنے خاندان کو ڈھونڈ رہا تھا تو کوئی اپنے عزیز و اقارب کی تلاش میں تھے۔‘
’مقامی افراد جن کے گھر سیلاب کے زد میں آچکے تھے وہ کھلے آسمان تلے مدد کے منتظر تھے۔ مقامی لوگوں سے پوچھا تو بتایا گیا کہ لمحوں میں یہ سب کچھ ہوا ہے کئی مقامی افراد نے بھاگ کر جان بچائی ہے۔‘
ان کے بقول انھیں لوگوں نے بتایا کہ ’اچانک آنے والے سیلابی ریلوں نے جگہ جگہ سیاحوں کو اپنے حصار میں لیا جس باعث جو بغیر فیملی کے تھے وہ بھاگ گئے جو سیاح فیملی کے ساتھ تھے وہ بچوں کی وجہ سے بھاگ نہ سکے۔‘
مقامی عینی شاہد ابوبکر کے بقول شاہراہ بابوسر تقریباً دس سے پندرہ کلو میٹر مکمل بلاک ہے اور متاثرہ علاقے میںں تقریباً تیس سے چالیس سیاح لاپتہ ہیں۔
گلگت بلتستان کے ضلع چالاس میں سیاحتی مقام پر سیلابی ریلے سے ابتک کم از کم چار لاشوں کو نکالا جاچکا ہے جس میں ایک خاتون اور tتین مرد شامل ہیں جبکہ ریسیکو 1122 اور گلگت بلتستان حکومت کے مطابق کم از کم پندرہ کے قریب زخمی ہیں اور تیس سے زائد لاپتہ ہیں۔
حکام کے مطابق لاہتہ افراد میں سیاحوں کے علاوہ مقامی لوگ بھی شامل ہیں۔
ریسیکو 1122 ضلع چالاس کے ترجمان پختون ولی کے مطابق یہ واقعہ سوموار کی شام تقریبا چار بجے پیش آیا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ ’بابو سر ٹاپ کے مقام پر جہاں پر سیاح تفریح کررہے تھے اور گاڑیاں پارک تھیں اچانک دونوں اطراف سے دائیں اور بائیں سے سیلابی ریلہ آیا۔ اس سیلابی ریلی کی وجہ قریب ہی واقع نالے اور اس کے اطراف میں تیز بارش تھی۔‘
پختون ولی کے مطابق ’بارش کے بعد اچانک بہت تیزی سے سیلابی ریلا نکلا اور اطراف میں پھیل گیا۔ یہ اپنے ساتھ گاڑیوں اور مقامی لوگوں کو ساتھ بہا کر لے گیا تھا۔‘
پختون ولی کا کہنا تھا کہ امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں تھیں۔ جنھوں نے فوری طور پر ریسیکو آپریش شروع کیا تاہم رات کا اندھیرا گھیرا ہونے کے بعد اب ریسیکو آپریشن صبح روشنی کی پہلی کرن کے پھیلتی ہی شروع کردیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’سیلابی ریلہ ابھی بھی جاری ہے اور اس میں پانی کم ہورہا ہے۔ تاہم اس میں بھاری ملبہ بھی آرہا ہے۔‘
گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کا کہنا تھا کہ ابھی تک ہمارے اندازوں کے مطابق سیلابی ریلہ میں پندرہ گاڑیاں بہہ گئی ہیں۔
ساہیوال سے تعلق رکھنے والے سیاحوں کی ایک گاڑی کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ بابو سر ٹاپ پر ٹریفک کو بند کردیا گیا ہے جبکہ شاہراہ قراقرم پر بھی ٹریفک بند ہے۔‘
انھوں نے بیاتا کہ اگرچہ ’کوشش کی جارہی ہے کہ ٹریفک کو جلد کھولا جاسکے۔ تاہم سیاح اور مسافر ابھی بابو سر ٹاپ والے روڈ پر سفر نہ کرئیں اور شاہراہ قراقرم پر بھی سفر میں احتیاط کریں۔‘

،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA
پاکستان کے زیر انتظام شمالی علاقے گلگت بلتستان اور شاہراہ بابوسر پر سیلابی ریلوں کی زد میں آکر کم از کم 15 گاڑیاں دب یا بہہ گئی ہیں۔ واقعات میں کم از دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ متعدد افراد لاپتہ ہیں۔
بابو سر میں سیلاب سے ہونے والی جانی و مالی نقصانات پر وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ہدایت کی ہے۔
انھوں نے ہدایت کی کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق چلاس ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلوں سے زخمی ہونے والے سیاحوں کی طبی امداد جاری ہے۔ لاپتہ سیاحوں کی تلاش جاری ہے۔
انھوں نے بتایا کہ’سیلابی ریلوں میں دب جانے اور بہہ جانے والی گاڑیوں کی تعداد 15 سے زائد ہے۔ ساہیوال کی ایک گاڑی میں سوار سیاحوں کو محفوظ مقام منتقل کیا جا چکا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ دو لاشوں کی شناخت لودھران، بہاولپور کی دو خواتین کے طور پر ہوئی ہے۔‘ فیض اللہ فراق کے مطابق ’ضلع غذر ،بلتستان اور دیگر علاقوں میں بھی متاثرین سیلاب کی بحالی کے لیے اقدامات تیز کیے جا رہے ہیں۔ ‘
انھوں نے مزید بتایا کہ سیلابی ریلوں سے دیامر کی حدود میں 20 مقامات پر شاہراہ بابوسر و ریشم بند ہے۔ اور سیلابی ریلوں سے شاہراہ بابوسر کی 8 کلومیٹر سے زائد کا ایریا تباہ ہو گیا ہے۔ سینکڑوں سیاحوں کو ریسکیو کیا جاچکا ہے۔ جبکہ سیلاب کے متاثرین اور لاپتہ افراد سمیت پھنسے ہوئے سیاحوں کو ریسکیو کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔‘
حکام نے سیاحوں کو خبردار کیا ہے کہ بابوسر روڈ جھلکنڈ کے مقام پر لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے بند ہے۔ سیاحوں اور مسافروں سے کہا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خیبرپختونخوا اسمبلی میں سینیٹ انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف نے 6 اور اپوزیشن جماعتوں نے 5 نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی۔
خیبر پختونخوا میں سینیٹ کی 11 نشستوں پرووٹ ڈالے گئے اور اسمبلی کے تمام 145 اراکین نے ووٹ کاسٹ کیا۔
غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجے کے مطابق 7 جنرل نشستوں میں سے 4 نشستوں پر پی ٹی آئی کامیاب قرار پائی، پی ٹی آئی کے مرادسعید، فیصل جاوید، مرزا آفریدی اور نورالحق قادری جنرل نشستوں پرجیتے۔
غیرسرکاری نتیجے کے تحت اپوزیشن جماعتیں 3 جنرل نشستوں پرکامیاب ہوئیں، ن لیگ کے نیاز احمد، پیپلزپارٹی کے طلحہ محمود اور جےیوآئی کے عطاء الحق جنرل نشستوں جیتے۔
غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے امیدوار مراد سعید جنرل نشست پرجیت گئے، انھیں 26 ووٹ ملے، فیصل جاوید کو 22 اور نورالحق قادری کو 21 ووٹ ملے، مرزا آفریدی کو 21 ووٹ ملے۔
خواتین کی 2 نشستوں میں سے ایک پر پی ٹی آئی کی روبینہ ناز اور دوسری پر پیپلزپارٹی کی روبینہ خالد کامیاب ہوئیں۔
غیر حتمی نتیجے کے مطابق خواتین کی نشست پر پی ٹی آئی کی امیدوار روبینہ ناز کو 89 ووٹ ملے۔ ٹیکنوکریٹس کی نشستوں میں سے ایک پر پی ٹی آئی کے اعظم سواتی اور دوسری پر جےیو آئی کے دلاورخان جیت گئے۔
بنگلہ دیشی حکام کے مطابق ڈھاکہ کے اترا دیاباری علاقے میں واقع مائلسٹون سکول کی عمارت پر بنگلہ دیشی فضائیہ کا تربیتی طیارہ گر کر تباہ ہونے کے بعد کم از کم 20 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہیں، جن میں اکثریت بچوں کی ہے۔
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت میں معاون خصوصی ڈاکٹر محمد سید الرحمان نے کہا کہ اترا کے مائلسٹون سکول اینڈ کالج میں فضائیہ کے تربیتی طیارے کے حادثے کے 17 متاثرین بچے تھے۔
انھوں نے کہا کہ ان میں سے سات کی لاشوں کی شناخت نہیں ہو سکی۔ ’ان کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کی ضرورت ہوگی۔‘
ڈاکٹر رحمان نے پیر کی رات ساڑھے آٹھ بجے کے قریب ڈھاکہ میں نیشنل برن اینڈ پلاسٹک سرجری انسٹی ٹیوٹ میں بریفنگ دی۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ زخمیوں میں سے 88 اس وقت ہسپتال میں داخل ہیں۔
ڈاکٹر رحمان نے بتایا کہ ان میں سے 25 کی حالت تشویشناک ہے۔

،تصویر کا ذریعہDrik/Getty Images

،تصویر کا ذریعہDrik/Getty Images

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
بنگلہ دیش کی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے فضائیہ کے لڑاکا طیارے کے اچانک گرنے سے متعلق بیان جاری کیا ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیشی فضائیہ کے ایک لڑاکا طیارہ میں ایف ٹی 7 بی جی آئی معمول کی تربیتی پرواز کو پیر کو دوپہر 1:06 منٹ پر ڈھاکہ کے کرمیٹولہ میں واقع ایئر فورس بیس ’اے کے خنداکر‘ سے ٹیک آف کرنے کے بعد ایک مکینیکل خرابی کا سامنا کرنا پڑا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کے بعد تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔
آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ حادثے اور بڑے نقصان سے بچنے کے لیے طیارے کے پائلٹ فلائٹ لیفٹیننٹ محمد توقیر اسلام نے طیارے کو گنجان آباد علاقے سے کم آبادی والے علاقے میں لے جانے کی ہر ممکن کوشش کی۔
’بدقسمتی سے، طیارہ دیاباری، ڈھاکہ میں میل سٹون سکول اینڈ کالج کی دو منزلہ عمارت سے ٹکرا گیا۔‘
خیال رہے کہ حادثے میں پائلٹ سمیت 19 افراد ہلاک اور 164 زخمی ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
بنگلہ دیشی ایئر فورس کا تربیتی طیارہ گِرنے سے کم از کم 16 افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس کے معاون خصوصی پروفیسر سید الرحمان نے ان اعداد و شمار کی تصدیق کی ہے۔
حادثے میں کم از کم 73 افراد کو جھلسنے کی چوٹیں آئی ہیں جنھیں ہسپتال داخل کیا گیا ہے۔
بنگلہ دیش کی حکومت نے اس حادثے کے بعد منگل کو یوم سوگ کا اعلان کیا ہے۔ ادھر بنگلہ دیشی حکومت کے قانونی مشیر پروفیسر آصف کا کہنا ہے کہ اس حادثے کی تحقیقات کی جائیں گی۔
بنگلہ دیشی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ایئر فورس کا طیارہ ایف سیون بے جے آئی نے پیر کی دوپہر ایک بج کر چھ منٹ پر اڑان بھری تھی مگر یہ فوراً بے قابو ہو گیا اور سکول کی عمارت سے ٹکرایا۔
’میری آنکھوں کے سامنا طیارہ سکول کی عمارت سے جا ٹکرایا‘
اطلاعات کے مطابق یہ تربیتی طیارہ ڈھاکہ میں مائلسٹون سکول اور کالج کیمپس پر گِرا ہے۔ وہاں ایک طالب علم سمودرا نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے جہاز سکول کی عمارت سے جا ٹکرایا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا امتحان چل رہا تھا۔ میں امتحانی مرکز کے باہر کھڑا تھا۔ پھر میں نے دیکھا کہ طیارے میں آگ لگی ہوئی تھی اور یہ عمارت سے جا ٹکرایا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ واقعے میں ان کا قریبی دوست بھی ہلاک ہوا ہے۔
اساتذہ اور طلبہ کا کہنا ہے کہ طیارہ کیمپس سے اس وقت ٹکرایا جب سکول کی چھٹیاں چل رہی تھیں۔ ہلاکتوں اور زخمیوں میں کئی طلبہ کے والدین بھی شامل ہیں۔
سمودرا نے کہا کہ ’سکول گیٹ کے اندر کئی والدین تھے اور بچے بریک کی وجہ سے باہر نکل رہے تھے۔‘
اسلام آباد ہائی کورٹ نے امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی، صحت اور وطن واپسی سے متعلق درخواستوں کی سماعت میں وفاقی حکومت کی جانب سے جواب جمع نہ کروانے پر وفاقی کابینہ کو توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں حکومت کی جانب سے رپورٹ پیش نہ کرنے پر نوٹس جاری کیا۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ عدالتی چھٹیاں ختم ہونے کے بعد پہلے ورکنگ ڈے پر کیس کی آئندہ سماعت ہو گی۔
جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وطن واپسی اور ان کی امریکہ میں چلنے والے مقدمے میں وفاقی حکومت کو فریق بنانے سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔
گذشتہ سماعت کے دوران عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے کہا تھا کہ وہ وفاقی حکومت سے ان وجوہات کا تحریری جواب لے کر آئیں کہ انھوں نے کس بنیاد پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے امریکی عدالت میں چلنے والے مقدمے میں فریق یا عدالتی معاون بننے سے معذوری ظاہر کی ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اس درخواست کی سماعت کے دوران یہ موقف اپنایا تھا کہ انھیں وفاقی حکومت کی جانب سے ہدایات ملی ہیں کہ حکومت پاکستان عافیہ صدیقی کے خلاف امریکی عدالت میں چلنے والے مقدمے میں نہ تو فریق بنا چاہتی ہے اور نہ ہی عدالتی معاون کے طور پر پیش ہونا چاہتی ہے۔
پیر کو اس درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ حکومت نے ان کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔
انھوں نے کہا ’میری چھٹیاں آج سے شروع ہونی تھی لیکن چونکہ کاز لسٹ جاری نہیں ہوئی تھی اس لیے عافیہ صدیقی سے متعلق درخواست اور دیگر کیسز کی سماعت آج کے لیے مقرر کی تھی۔‘
جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ انھوں نے اپنے پرسنل سیکریٹری سے کہا کہ چیف جسٹس سے رابطہ کریں لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اس ضمن میں 30 سکینڈ کے لیے بھی دستیاب نہیں تھے۔
انھوں نے کہا کہ ماضی میں مخصوص کیسز کے لیے ججز کا روسٹر استعمال ہوچکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر عافیہ صدیقی سے متعلق کوئی درخواست سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے تو پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ میں وفاقی حکومت سے جو جواب مانگا ہے اس کا جواب تو جمع کروائے۔
درخواست گزار عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی کے وکیل عمران شفیق کا کہنا تھا کہ اگر حکومت اس ضمن میں عدالتی حکم پر کوئی سٹے بھی لینا چاہتی تو ابھی بینچ بھی بن جانا تھا۔
جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ بھر ایڈمنسٹریٹیو پاور کو جوڈیشل پاور کے لیے استعمال کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ میں انصاف کو شکست کا سامنا نہیں کرنے دوں گا اور ہائی کورٹ کی عزت بحال رکھنے کے لیے اپنی جوڈیشل پاور استعمال کروں گا۔
عدالت نے وفاقی کابینہ کے ہر رکن کو توہین عدالت میں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے عدالتی چھٹیاں ختم ہونے کے بعد پہلے ورکنگ ڈے میں اس درحواست کی سماعت ہوگی۔ دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس مقرر کرنے اور کازلسٹ جاری نہ ہونے سے متعلق نیا معاملہ سامنے آگیا ہے اور گذشتہ روز جاری ہونے والے ججز ڈیوٹی روسٹر کے مطابق جسٹس سردار اعجاز اسحاق کا نام شامل نہیں تھا۔
درخواست گزار کی جانب سے وکیل عمران شفیق عدالت نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اپیل اس لیے نہیں لگوائی کہ یہ سپریم کورٹ میں بھی اپنی مرضی کے بینچ کے انتظار میں ہیں، ابھی جسٹس منصور کا بینچ چل رہا ہے۔
جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آج شوکاز نوٹس جاری کروں گا تو حکومت کہے گی کہ روسٹر نہ ہونے کے باوجود کارروائی کی جس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ گذشتہ سماعت پر عدالت کے جوڈیشیل آرڈر کے بعد روسٹر کی ضرورت باقی نہیں رہتی، قانون آپ کو سماعت سے نہیں روکتا۔
انھوں نے کہا کہ چیف جسٹس کے پاس ایسا کوئی انتظامی اختیار نہیں جس کے تحت ہائیکورٹ کے جج کے عدالتی حکم کو غیر موثر کیا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی میں سینیٹ کی 11 نشستوں کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، سینیٹ نشستوں کے لیے پولنگ کا عمل شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔
صوبے میں سینیٹ کی جن 11 نشستوں کے لیے الیکشن ہو رہے ہیں ان میں سات جنرل نشستیں جبکہ چار مخصوص نشستیں شامل ہیں۔ مخصوص نشستوں میں دو خواتین اور دو ٹیکنوکریٹ کی ہیں۔
صوبے میں برسرِ اقتدار پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے چار جنرل نشستوں جبکہ حزبِ اختلاف نے تین نشستوں کے لیے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ خواتین اور ٹیکنوکریٹ نشستوں کے لیے دونوں طرف سے دو دو امیدوار سامنے لائے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency via Getty Images
پیر کے روز پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے خلاف درج شراب و اسلحہ برآمدگی کیس کی سماعت اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں ہوئی۔
مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن چشتی نے کی۔
دورانِ سماعت جج کا کہنا تھا کہ بار بار کیس کال کرنے پر بھی کوئی عدالت میں پیش نہیں ہوا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈا پور کو 342 کا بیان ریکارڈ کروانے کے لیے ڈھائی بجے تک کا آخری موقع دیا جاتا ہے۔
عدالت کا مزید کہنا تھا کہ اگر ڈھائی بجے تک علی امین گنڈا پور اور ان کے وکیل پیش نہیں ہوتے تو اس کیس میں ان کا 342 کے بیان کا حق ختم کردیا جائے گا۔ سماعت میں ڈھائی بجے تک کا وقفہ ہے۔
342 کا بیان ہوتا کیا ہے؟
فوجداری مقدمات میں ملزم کو کچھ بنیادی حقوق دیے گئے ہیں۔ جن میں سے سب سے اہم اسے براہ راست صفائی کا موقع فراہم کرنا ہے۔
یہ بیان اگرچہ کسی بھی وقت ریکارڈ کرایا جا سکتا ہے مگرعام طورپرجب ملزم کے وکلا استغاثہ کی طرف سے پیش کیے گئے تمام ثبوتوں اور گواہان پر جرح مکمل کر لیتے ہیں تو پھرعدالت ملزم کا ایک بیان ریکارڈ کرتی ہے، جسے ضابطہ فوجداری میں 342 کا بیان کہا جاتا ہے۔
اس بیان میں ملزم جج کو براہ راست بتاتا ہے کہ وہ کیسے قائم کیے مقدمے میں بے گناہ ہے اور اس پر مقدمہ قائم کرنے کی پیچھے کیا محرکات ہو سکتے ہیں۔ ملزم کو آزادی ہوتی ہے کہ وہ بغیر حلف لیے جو بھی کہنا چاہے عدالت کے سامنے کہہ دے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پاکستان کے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اگلے 48 گھنٹوں میں مون سون کی شدت میں کمی آنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے پیش گوئی ہے کہ پیر کے روز سے شروع ہونے والے مون سون بارشوں کے نئے سلسلے کے نتیجے میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر، خیبرپختونخوا، اسلام آباد، بالائی پنجاب، خطہ پوٹھوہار، گلگت بلتستان اور شمال مشرقی/جنوبی بلوچستان میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔
مون سون کا یہ سلسلہ 25 جولائی تک جاری رہے گا۔ تاہم محکمے کا کہنا ہے کہ اگلے 48 گھنٹوں میں مون سون کی شدت میں کمی آنے کی امید ہے۔
دریاؤں میں سیلاب کی صورتحال کے بارے میں محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ 21 سے 23 جولائی تک دریائے چناب اور دریائے جہلم اور ان سے ملحقہ نالوں میں پانی کے درمیانے سے اونچے درجے کا بہاؤ متوقع ہے۔ اس کے علاوہ ریائے راوی سے ملحقہ نالوں میں پانی کے درمیانے سے اونچے درجے کا بہاؤ متوقع ہے
محکمہ موسمیات کے مطابق، 22 سے 24 جولائی کے دوران دریائے ستلج میں جی ایس والا اور دریائے کابل کی معاون ندیوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا بھی امکان ہے۔

جنوبی شام کے بدو قبائل نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ اقلیتی دروز فرقے کے ساتھ جنگ بندی معاہدے پر قائم ہیں لیکن انھوں نے خبردار کیا ہے کہ لڑائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے ۔
ایک ہفتے تک مسلح بدو قبائل، اقلیتی دروز فرقے کے جنگجوؤں اور حکومتی فورسز کے درمیان جاری رہنے والی جھڑپوں کے بعد بالآخر مسلح بدو سویدا شہر سے نکل کر آس پاس کے دیہاتوں کی طرف واپس چلے گئے ہیں۔
برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق، ان ہلاکت خیز فرقہ وارانہ جھڑپوں میں 1100 سے زائد افراد مارے گئے ہیں۔
المزرعہ قصبہ اب حکومتی فورسز کے کنٹرول میں ہے۔ پچھلے ہفتے تک یہاں بدو جنگجو قابض تھے۔
قصبے کے قریب ایک چوکی پر تعینات ہتھیاروں سے لیس درجنوں سرکاری سکیورٹی اہلکار بدو جنگجوؤں کو سویدا شہر واپس آنے سے روک رہے ہیں۔
وہاں سینکڑوں بدو جنگجو جمع ہو گئے تھے جو سویدا میں موجود اپنے زخمیوں اور یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بدو جنگجوؤں کا کہنا تھا کہ اگر ان کے ساتھیوں کو رہا نہ کیا گیا تو وہ زبردستی دوبارہ شہر میں داخل ہو جائیں گے۔
ایک قبائلی شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے وہی کیا جو حکومت نے انھیں کرنے کا کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے معاہدے پر قائم ہیں اور سویدا شہر سے 35 کلومیٹر دور ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا، ’ہمارے یرغمالی اور زخمی ان کے پاس ہیں، اور وہ ان میں سے کسی کو بھی ہمارے حوالے کرنے سے انکاری ہیں... اگر وہ معاہدے کی پاسداری نہیں کریں گے تو ہم دوبارہ [سویدا] میں داخل ہو جائیں گے، چاہے سویدا ہمارا قبرستان ہی بن جائے۔‘
دریں اثنا، شام کی وزارت داخلہ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری پیغام میں کہا ہے کہ حکومت کی ثالثی کی کوششوں کے بعد ’صوبے میں زیر حراست بدو خاندانوں کو آنے والے چند گھنٹوں میں رہا کر دیا جائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہHindustan Times via Getty Images
بمبئی ہائی کورٹ نے 2006 ممبئی لوکل ٹرین دھماکہ کیس میں سزا پانے والے تمام 12 ملزمان کو بری کر دیا ہے۔
11 جولائی 2006 کو ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں 11 منٹ کے وقفے سے سات دھماکے ہوئے تھے۔ ٹرینوں کے فرسٹ کلاس ڈبوں میں رکھے گئے پریشر ککر بموں کے پھٹنے سے 189 افراد ہلاک اور 824 زخمی ہوئے تھے۔
اس مقدمے میں مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائمز ایکٹ (MCOCA) کے تحت قائم خصوصی عدالت نے ستمبر 2015 میں 12 افراد کو مجرم قرار دیا تھا۔ لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق، خصوصی عدالت نے پانچ مجرمان کو سزائے موت جبکہ دیگر سات کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
خصوصی عدالت کے فیصلے کے تقریباً ایک دہائی بعد، بمبئی ہائی کورٹ نے اس مقدمے میں سزا پانے والے تمام 12 افراد کو بری کر دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
غزہ میں حماس کے زیرِ انتظام سول ڈیفنس ادارے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے اتوار کے روز امداد کے منتظر 93 افراد مارے گئے ہیں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں شمالی غزہ میں اقوام متحدہ کی امدادی لاریوں کے منتظر 80 افراد مارے گئے ہیں جبکہ رفح میں ایک امدادی مرکز کے نزدیک فائرنگ سے نو افراد اور خان یونس میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
دوسری جانب، اسرائیلی فوج کا کہنا ہے شمالی غزہ میں اس نے ’فوری خطرے‘ کے پیشِ نظر ’انتباہی گولیاں چلائی‘ تھیں۔ انھوں نے اس واقعے میں مارے جانے والے افراد کی تعداد سے اختلاف کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے امداد کے منتظر افراد کے خلاف طاقت کے استعمال کو ’مکمل طور پر ناقابل قبول‘ قرار دیا ہے۔
عالمی ادارہ خوراک کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے غزہ میں داخل ہونے کے بعد 25 ٹرکوں پر مشتمل اس کے امدادی قافلہ کو بھوک سے متاثرہ افراد کے ایک ہجوم نے گھیر لیا تھا جن پر گولیاں چلائی گئی۔

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں ڈبلیو ایف پی کا کہنا ہے نے کہا کہ بڑھتی غذائی قلت کے ساتھ 90 ہزار خواتین اور بچوں کو علاج کی فوری ضرورت ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ غزہ میں ہر تین میں سے تقریباً ایک شخص کو کئی دنوں تک بھوکا رہنا پڑ رہا ہے۔
مئی کے اواخر سے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر خوراک کے متلاشی فلسطینیوں کے مارے جانے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ وزارت کے مطابق، سنیچر کے روز جنوبی غزہ میں امداد کی تقسیم کے دو مقامات کے قریب اسرائیلی فائرنگ سے کم از کم 32 افراد ہلاک ہو گئے۔
ان میں سے بیشتر واقعات متنازع امریکی اور اسرائیل کی حمایت یافتہ غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) کی طرف سے چلائے جانے والے امدادی مراکز کے قریب پیش آئے ہیں، کچھ واقعات اقوام متحدہ کی طرف امداد کی تقسیم کے مراکز کے قریب پیش آئے ہیں۔
سنیچر کے روز حماس کے زیرِ انتظام وزارت صحت نے خبردار کیا تھا کہ غزہ میں خوراک کی شدید قلت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اتوار کے روز وزارت نے کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ’قحط کی وجہ سے‘ 18 اموات ریکارڈ ہوئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں سینیٹ کی 11 نشستوں کے لیے انتخاب آج ہو گا۔
اتوار کے روز گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے مخصوص نشستوں پر کامیاب 25 اراکینِ اسمبلی سے حلف لیا تھا جس کے بعد صوبائی اسمبلی کا ایوان مکمل ہو گیا ہے اور سینیٹ الیکشن کے لیے الیکٹورل کالج پورا ہو گیا۔
یاد رہے کہ اتوار کے روز سپیکر بابر سلیم سواتی نے صوبائی اسمبلی کا اجلاس کورم پورا نہ ہونے پر 24 جولائی تک ملتوی کر دیا تھا جس کے باعث مخصوص نشستوں پر کامیاب 25 ارکان حلف نہیں اٹھا سکے تھے۔ بعد ازاں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے رجوع کیے جانے پر پشاور ہائی کورٹ نے حلف برداری کیلئے گورنر کو نامزد کیا تھا۔
تاہم وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے گورنر کی جانب سے مخصوص نشستوں پر کامیاب اراکین کا حلف لیے جانے کے خلاف پٹیشن دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، وزیرِ اعلی کا کہنا ہے کہ صوبائی اسمبلی کے سپیکر نے حلف لینے سے انکار نہیں کیا، محض کورم مکمل نہ ہونے پر اجلاس ملتوی ہوا ہے۔
صوبے میں سینیٹ کی 11 نشستوں میں سے سات جنرل نشستیں جبکہ خواتین اور ٹیکنوکریٹ کی دو دو نشستیں ہیں۔ صوبے میں برسرِ اقتدار پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے چار جنرل نشستوں جبکہ حزبِ اختلاف نے تین نشستوں کے لیے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ خواتین اور ٹیکنوکریٹ نشستوں کے لیے دونوں طرف سے دو دو امیدوار سامنے لائے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے پانچ ناراض ارکان نے بھی آزاد حیثیت میں سینیٹ الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم مقامی میڈیا کے مطابق، ان میں سے چار انتخابات سے دستبردار ہو گئے ہیں۔
پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے ایکس ہینڈل سے جاری بیان کے مطابق پی ٹی آئی کے رکن وقاص اورکزئی جنھوں نے سینیٹ الینکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا، وہ انتخابات سے دستبردار ہو گئے ہیں۔
پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ وقاص اورکزئی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے ملاقات کے دوران سینیٹ الیکشن سے دستبرداری کا اعلان کیا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی فوج نے مرکزی غزہ کے ایک گنجان آباد علاقے کے لیے انخلا کے احکامات جاری کیے ہیں۔ اسرائیل نے حماس کے خلاف 21 ماہ کی جنگ کے دوران اس علاقے میں تاحال زمینی حملہ شروع نہیں کیے ہیں۔
اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے اتوار کو کہا کہ غزہ کے دیر البلاح شہر میں پناہ لینے والے رہائشیوں اور نقل مکانی کرنے والے فلسطینیوں کو فوری طور پر انخلا کر کے بحیرۂ روم کے ساحل پر المواسی کی طرف جانا چاہیے۔
انخلا کا مطالبہ متوقع حملے کی نشاندہی ہو سکتا ہے۔ اس حکم نے لاکھوں فلسطینیوں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی یرغمالیوں کے خاندانوں میں بھی شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔
آئی ڈی ایف نے اس علاقے میں فضائی حملے کیے ہیں لیکن ابھی تک زمینی فوجیں تعینات نہیں کیں۔
اتوار کو اسرائیلی فوج نے آسمان سے پمفلٹ گرائے جن میں دیر البلاح کے جنوب مغرب میں کئی اضلاع کے لوگوں کو اپنے گھر چھوڑ کر مزید جنوب کی طرف جانے کا حکم دیا گیا۔
فوج نے کہا کہ ’(اسرائیلی) دفاعی افواج دشمن کی صلاحیتوں اور دہشت گرد انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کے لیے بڑی طاقت سے کام جاری رکھے ہوئے ہیں‘۔ اور مزید کہا کہ اس نے جنگ کے دوران ان اضلاع میں ابھی تک داخلہ نہیں لیا۔
دیر البلاح کے متاثرہ علاقے نقل مکانی کرنے والے لوگوں سے بھرے ہوئے ہیں جو خیموں میں رہتے ہیں۔
اسرائیلی ذرائع نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ فوج کی جانب سے ان اضلاع میں داخل نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ انھیں شبہ ہے کہ حماس وہاں یرغمالیوں کو رکھے ہوئے ہے۔
غزہ میں قید باقی 50 یرغمالیوں میں سے کم از کم 20 کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اب بھی زندہ ہیں۔
غزہ کی پٹی کی 20 لاکھ سے زائد آبادی کا بیشتر حصہ اسرائیل کی حماس کے ساتھ جنگ کے دوران کم از کم ایک بار نقل مکانی کر چکا ہے۔ انخلا کے کئی مطالبات نے علاقے کے بڑے حصوں کو متاثر کیا ہے۔
انخلا کے نئے احکامات اس وقت آئے جب غزہ شہر کے شفا ہسپتال کے طبی حکام نے کہا کہ اتوار کی صبح اقوام متحدہ کے امدادی ٹرکوں کی منتظر بھیڑ پر اسرائیلی فائرنگ سے 40 سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔
جنوب میں ہسپتالوں نے بتایا کہ وہاں بھی امدادی مقامات پر لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ بی بی سی نے اسرائیلی فوج سے رابطہ کیا ہے تاکہ اس کا جواب معلوم کیا جا سکے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں شہری بھوک سے مر رہے ہیں اور اس نے ضروری اشیا کی فوری آمد کا مطالبہ کیا ہے۔
لیکن مئی کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی حمایت یافتہ غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) کے آپریشن شروع ہونے کے بعد سے تقریباً روزانہ فلسطینیوں کے امداد کی تلاش میں ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر کو اسرائیلی فورسز نے گولی ماری۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ تقسیم کا نیا نظام امداد کو حماس تک جانے سے روکتا ہے۔
اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں ہونے والے حملوں کے جواب میں غزہ میں جنگ شروع کی۔ حماس کے حملے میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک اور 251 دیگر کو یرغمال بنایا گیا۔
حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اس کے بعد سے غزہ میں 58,895 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ وزارت کے اعداد و شمار کو اقوام متحدہ اور دیگر نے ہلاکتوں کے بارے میں سب سے قابل اعتماد اعداد و شمار کے طور پر تسلیم کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے جنوبی وزیرستان سے سات پولیس اہلکار لاپتہ ہوگئے ہیں۔
جنوبی وزیرستان کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ارشد خان نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ تین پولیس اہلکار تھانہ لدھا کی حدود میں پیڑولنگ کے دوران لاپتہ ہوئے جبکہ تھانہ سروکئی کی حدود تانگہ چگملائی سے بھی چار پولیس اہلکار لاپتہ ہوئے ہیں۔
ڈی پی او ارشد خان کے مطابق، لاپتہ اہلکاروں کے بارے میں تاحال کچھ معلوم نہیں ہو سکا ہے تاہم پولیس ان کی تلاش میں علاقے میں کوششیں کر رہی ہے۔
اس بارے میں فی الحال مزید تفصیلات میسر نہیں۔

،تصویر کا ذریعہIslamabad District Administration
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مسلسل بارشوں کے بعد راول ڈیم میں پانی کی سطح 1,748 فٹ تک پہنچ گئی جس کے بعد اتوار کے روز ڈیم کے سپل ویز کھول دیے گئے۔
گذشتہ روز سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی نے کے ڈپٹی کمشنر آفس کے حوالے سے خبر دی تھی کہ سپل ویز کھولنے کا فیصلہ ڈیم کے پانی کی سطح کو ریگولیٹ کیا جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق، ڈیم کے آس پاس کے نشیبی علاقوں کے مکینوں بالخصوص کورنگ نالہ کے ساتھ رہنے والوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور ندی نالوں اور واٹر چینلز کے قریب غیر ضروری نقل و حرکت نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب، پاکستان کے صوبے پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے قائم ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ 20 سے 25 جولائی کے دوران پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارشوں اور آندھی کی پیشگوئی ہے۔
محکمے کے ترجمان کے مطابق راولپنڈی، مری گلیات، اٹک، چکوال، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، گجرات، جہلم اور گجرانوالہ میں بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، نارووال، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، سرگودھا اور میانوالی میں بھی بارشیں متوقع ہیں۔ ایسی ہی پیش گوئی ڈیرہ غازی خان، بہاولپور، بہاولنگر اور ملتان کے کے حوالے سے بھی کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے ڈی جی عرفان علی کاٹھیا کے مطابق ’مون سون بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں و ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ہے۔‘