پاکستان کے راستے ایران داخل ہونے کی کوشش کرنے والے بنگلہ دیش کے 33 شہری گرفتار

پاکستان کی فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے ایسے 33 بنگلہ دیشی باشندوں کو گرفتار کیا ہے جو پاکستان، ایران کی سرحد کو عبور کر کے پاکستان سے ایران داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

خلاصہ

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین مذہب کے مقدمات کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ معطل کر دیا
  • گلگت بلتستان کے 80 فیصد علاقے میں سیلابی ریلے آ چکے ہیں، کم از کم 15 لاپتہ سیاحوں کی تلاش کا کام جاری ہے: حکومت
  • حالیہ مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں 143 افراد ہلاک جبکہ 488 زخمی ہوئے ہیں: پنجاب حکومت
  • امداد اور خوراک حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ایک ہزار سے زائد فلسطینی اسرائیلی حملوں میں مارے جا چکے ہیں: اقوام متحدہ
  • غزہ میں خوراک کی کمی کے باعث بڑے پیمانے پر انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں: امدادی ادارے

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    25 جولائی کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. غزہ میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ غذائی قلت کا شکار ہے: اقوام متحدہ, ایفا والش اور پولاں کولا، بی بی سی نیوز

    Gaza

    اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزین ایجنسی (انروا) کا کہنا ہے کہ غزہ میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ غذائی قلت کا شکار ہے اور ہر روز ان کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں انروا کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے ایک ساتھی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’غزہ کے لوگ نہ مرے ہیں اور نہ ہی زندہ، وہ چلتی پھرتی لاشیں ہیں۔‘

    100 سے زائد بین الاقوامی امدادی تنظیموں اور انسانی حقوق کے گروپوں نے بھی بڑے پیمانے پر قحط کی وارننگ دی ہے جبکہ حکومتوں سے کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔

    اسرائیل، جو غزہ میں تمام رسد کے داخلے کو کنٹرول کرتا ہے، کا کہنا ہے کہ وہاں کوئی محاصرہ نہیں ہے اور وہ حماس کو غذائی قلت کے کسی بھی معاملے کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔

    تاہم اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں امداد کی سطح ’انتہائی کم‘ ہے اور علاقے میں بھوک کا بحران ’اتنا سنگین کبھی نہیں تھا‘۔

    آج اپنے بیان میں انروا کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے کہا کہ ’100 سے زائد افراد بھوک کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت بچوں کی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری ٹیموں کو جو بچے ملے ہیں وہ لاغر، کمزور ہیں اور اگر ان کا فوری علاج نہ کیا گیا تو ان کی ہلاکت کا خطرہ ہے،‘ اور اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ ’انسانی امداد کے شراکت داروں کو غزہ میں بلا روک ٹوک اور بلا تعطل امداد پہنچانے کی اجازت دے۔‘

    گذشتہ روز عالمی صحت تنظیم (ڈبلیو ایچ او) نے کہا کہ غزہ کی آبادی کا ایک بڑا حصہ بھوک کا شکار ہے۔

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہTahani Shehada

    ڈبلیو ایچ او کے سربراہ تیدروس ادھانوم گیبرائسس نے کہا تھا کہ ’میں نہیں جانتا کہ آپ اسے سوائے بڑے پیمانے پر قحط کے اور کیا کہیں گے، اور یہ صورتحال انسانوں کی پیدا کردہ ہے۔

    غزہ کے شمالی علاقے میں 40 سالہ ہانا المدہون نے بتایا کہ مقامی مارکیٹوں میں کھانا اور دیگر سامان دستیاب نہیں۔

    انھوں نے بی بی سی کو واٹس ایپ پر بتایا کہ ’اگر یہ موجود ہو تو وہ اتنی مہنگی قیمتوں پر ہوتا ہے کہ کوئی عام شخص انہیں خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا‘۔

    انھوں نے کہا کہ آٹا مہنگا اور مشکل سے ملتا ہے، اور لوگ اسے خریدنے کے لیے ’سونا اور ذاتی سامان‘ بیچ دیتے ہیں۔

    تین بچوں کی ماں نے کہا کہ ’ہر نیا دن ایک نیا چیلنج لے کر آتا ہے‘ کیونکہ لوگ ’کھانے کی چیزیں‘ تلاش کرتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’اپنی آنکھوں سے میں نے بچوں کو کچرے کے ڈھیر میں کھانے کے ٹکڑے تلاش کرتے ہوئے دیکھا ہے‘۔

    غزہ میں ایک امدادی کارکن طہانی شہادہ نے کہا کہ لوگ ’ایک، ایک گھنٹے کے لیے بقا کی کوششیں کر رہے ہیں‘۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’سادہ چیزیں جیسے کھانا پکانا اور نہانا پرُتعیش چیزیں بن چکی ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ میرا ایک 8 ماہ کا بچہ ہے، وہ نہیں جانتا کہ تازہ پھل کا کیا ذائقہ ہوتا ہے۔‘

    اسرائیل نے مارچ کے اوائل میں ایک دو ماہ کے جنگ بندی کے بعد غزہ کو امداد کی فراہمی روک دی تھی، جزوی طور پر اس محاصرے کو تقریباً دو ماہ بعد نرم کیا گیا تھا، لیکن خوراک، ایندھن اور دوا کی کمی شدت اختیار کر گئی ہے۔

    اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ مل کر غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) کے ذریعے امداد کا نیا نظام قائم کیا۔

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے مطابق گذشتہ دو ماہ میں اسرائیلی فوج کے ظالمانہ حملوں میں امداد کے متلاشی ایک ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

    اس کے مطابق ان میں سے کم از کم 766 افراد جی ایچ ایف کے چار تقسیم مراکز کے قریب مارے گئے، جو امریکی نجی سکیورٹی کنٹریکٹرز کے ذریعے چلائے جاتے ہیں اور اسرائیلی فوجی علاقے میں واقع ہیں۔

    اس کے علاوہ مزید 288 افراد اقوام متحدہ اور دیگر امدادی قافلوں کے قریب مارے گئے۔

    Najah

    غزہ کے ایک ہسپتال میں پناہ گزین 19 سالہ بیوہ نجاح نے کہا کہ وہ خوفزدہ ہیں کہ اگر امدادی مرکز گئی تو ’گولی مار دی جائے گی‘۔

    نجاح نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں امید کرتی ہوں کہ وہ ہمیں کچھ کھانے اور پینے کے لیے لائیں، ہم بھوک سے مر رہے ہیں، ہمارے پاس کھانے یا پینے کے لیے کچھ نہیں ہے، ہم خیموں میں رہتے ہیں، ہم ختم ہو چکے ہیں۔

    غزہ میں ایک برطانوی طبی فلاحی ادارے کے ساتھ کام کرنے والی ڈاکٹر عاصیل نے کہا کہ غزہ قحط کے قریب نہیں بلکہ حقیقت میں ’قحط کا شکار ہو چکا ہے‘۔

    انھوں نے کہا کہ ’میرے شوہر ایک بار (امدادی مرکز) گئے اور دوبارہ گئے، اور پھر انھیں گولی مار دی گئی اور بس۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ہمیں بھوک سے مرنا ہے تو مر جائیں، امداد کا راستہ موت کا راستہ ہے۔‘

    غزہ میں ایک مارکیٹ کے تاجر ابو علا نے کہا کہ وہ اور ان کے بچے ’ہر رات بھوکے سوتے ہیں‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم زندہ نہیں ہیں، ہم مر چکے ہیں، ہم پوری دنیا سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ ہماری مدد کریں۔‘

    دیئرالبلح سے بی بی سی کو فون کرنے والی 8 ماہ کی حاملہ ولا فتحی نے بتایا کہ غزہ کے لوگ ’ایک ایسی آفت اور قحط جھیل رہے ہیں جس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا‘۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں دعا گو ہوں کہ میرا بچہ میرے پیٹ میں ہی رہے اور ان مشکل حالات میں وہ دنیا میں نہ آئے۔‘

  3. پاکستان میں سونے کی قیمت 5,900 روپے فی تولہ کمی کے بعد 359000 روپے فی تولہ ہو گئی, تنویر ملک، صحافی

    Gold

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں جمعرات کے روز مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں 5,900 روپے فی تولہ کی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

    آل پاکستان صرافہ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت کم ہو کر 3,59,000 روپے ہو گئی ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 5,058 روپے کی کمی ہوئی، جس کے بعد یہ 3,07,784 روپے پر آ گئی ہے۔

    ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان میں سونے کی قیمت میں کمی کی وجہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اس کی قیمت میں کمی رہی۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 61 ڈالر کم ہو کر 3,363 ڈالر فی اونس پر آ گئی ہے۔

    بدھ کے روز سونے کی فی تولہ قیمت میں 3700 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

  4. پاکستان وائٹ واش سے بچ گیا، سیریز کا فاتح بنگلہ دیش تیسرا ٹی 20 میچ ہار گیا

    Pakistan Bangladesh

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ڈھاکہ کے شیر بنگلہ سٹیڈیم میں پاکستان نے تیسرے ٹی 20 میچ میں بنگلہ دیش کو 74 رنز سے شکست دے دی۔ پاکستان کو مسلسل ابتدائی دو میچز میں ہرا کر تین میچز کی سیریز پہلے ہی بنگلہ دیش اپنے نام کر چکا ہے۔

    پاکستانی بلے بازوں نے سابقہ دو میچوں کے برعکس بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور بنگلہ دیش کو جیت کے لیے 179 رنز کا ہدف دیا۔ بنگلہ دیش کی ٹیم 17ویں اوور میں 104 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

    شاہینوں نے بنگال ٹائیگرز کو شروع سے ہی دباؤ میں رکھا۔ پہلے بیٹنگ میں پاور پلے کا بہترین استعمال کرتے ہوئے میزبان ٹیم کو بڑا ہدف دیا اور پھر جب بنگلہ دیش نے بیٹنگ شروع کی تو پاکستانی بولرز نے 25 رنز پر نصف ٹیم کو پویلین بھیج دیا تھا۔

    میزبان ٹیم کے نو بلے باز ڈبل فگرز میں بھی داخل نہ ہو سکے۔ محمد سیف اللہ 35 رنز ناٹ آؤٹ کے ساتھ ٹاپ سکورر رہے جبکہ اننگ کا دوسرا بڑا اسکور محمد نعیم نے 10 رنز بنائے۔

    پاکستان کی جانب سے سب سے کامیاب بولر سلمان مرزا رہے۔ انھوں نے 19 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں۔ محمد نواز نے 1.4 اوور میں صرف 4 رنزکے عوض دو وکٹیں حاصل کیں۔ فہیم اشرف نے 13 رنز دے کر دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ اس کے علاوہ احمد دانیال، سلمان آغا اور حسین طلعت کے ہاتھ ایک ایک وکٹ آئی۔

    صاحبزادہ فرحان 41 گیندوں پر 63 رنز کی اننگز کھیل کر نمایاں رہے اور میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔ حسن نواز نے بھی 17 گیندوں پر 33 رنز بنائے۔

  5. انڈیا اور برطانیہ کے درمیان چھ بلین پاؤنڈ کے تجارتی معاہدے پر دستخط

    India, UK

    انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے وزیر اعظم سر کیئر سٹامر کے ساتھ کئی بلین پاؤنڈ کی برآمدات میں اضافے کے لیے ایک آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

    معاہدے کے تحت برطانوی کاریں اور ’وہسکی‘ سستے داموں انڈیا کو فروخت کی جائیں گی جبکہ انڈیا سے ٹیکسٹائل اور جیولری کی مصنوعات برطانیہ کو ارزاں نرخوں پر برآمد کی جائیں گی۔

    دونوں ممالک کو اس معاہدے تک پہنچنے میں تین سال کا عرصہ لگا اور یہ غیر قانونی نقل مکانی سے نمٹنے کے لیے انڈیا اور برطانیہ کے درمیان ایک نئے معاہدے کی تجدید بھی کرتا ہے۔

    مخالفین نے متنبہ کیا تھا کہ سماجی تحفظ کی توسیع کی شرائط کی وجہ سے یہ معاہدہ برطانوی کارکنوں پر تلوار بن کر گر سکتا ہے، لیکن برطانیہ کے وزیر تجارت جوناتھن رینالڈس نے کہا کہ یہ ’مکمل طور پر غلط‘ بات ہے اور برطانیہ میں عارضی طور پر تعینات ہونے والے انڈین کارکنوں سے بھی وہی معاہدہ کیا جائے گا جو پہلے ہی بہت سے دوسرے ممالک سے آنے والوں سے کیا گیا ہے۔

    برطانیہ کے وزیر اعظم کی ملکی رہائش گاہ پر دستخط کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے سر کیئر سٹامر نے کہا کہ برطانیہ اور انڈیا کا معاہدہ ’برطانیہ کی بریگزٹ کے بعد سب سے بڑا اور اقتصادی لحاظ سے اہم‘ تجارتی معاہدہ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ معاہدہ اب ہر لحاظ سے ایک حتمی معاہدہ ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’برطانیہ کئی سالوں سے اس طرح کے معاہدے پر مذاکرات کر رہا تھا، لیکن یہ حکومت ہی ہے جس نے یہ کر دکھایا اور اس کے ساتھ ہم ایک بہت طاقتور پیغام دے رہے ہیں کہ برطانیہ کاروبار کے لیے کھلا ہے اور اس سے پہلے ہی بہت بڑا اعتماد پیدا ہو رہا ہے۔‘

    سر کیئر سٹامر نے کہا کہ اس معاہدے سے ملک بھر میں 2,200 سے زیادہ برطانوی ملازمتیں پیدا ہوں گی کیونکہ انڈین کمپنیوں نے برطانیہ میں اپنے کام کو وسعت دی ہے اور برطانوی کمپنیاں انڈیا میں کاروبار کے نئے مواقع حاصل کریں گی۔

    انڈیا کے وزیر اعظم مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس معاہدے میں مصنوعی ذہانت سے لے کر سیمی کنڈکٹر تک کی مصنوعات کا حصول شامل ہے۔

  6. روس کے مشرقی حصے میں طیارے کا حادثہ، تمام 48 مسافر ہلاک, پال کربی، یورپ ڈیجیٹل ایڈیٹر

    Russian transport prosecutor

    ،تصویر کا ذریعہRussian transport prosecutor

    روسی حکام کا کہنا ہے کہ انگارا ایئرلائن کا طیارہ مشرقی علاقے ’امور‘ کے ایک گھنے جنگل میں گرنے سے 48 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    حکام نے بتایا کہ Antonov An-24 طیارے، جس میں 42 مسافر اور چھ عملے کے افراد سوار تھے نے چینی سرحد کے قریب سے پرواز بھری تھی اور ٹنڈا ہوائی اڈے کے قریب پہنچتے ہی ریڈار سکرینوں سے غائب ہو گیا۔

    اس کے بعد ایک روسی شہری ہوابازی کے ہیلی کاپٹر نے ٹنڈا سے تقریباً 16 کلومیٹر دور ایک دور دراز پہاڑی پر جلتے ہوئے طیارے کو دیکھا۔

    امور کے گورنر واسیلی اورلوف نے کہا ہے کہ جہاز میں سوار پانچ بچے بھی شامل ہیں۔ مقامی گورنر نے اس حادثے پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

    اس دور دراز علاقے میں امدادی کارکنوں کو جائے وقوعہ تک پہنچنے میں تقریباً ایک گھنٹہ لگا۔ حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں پائلٹ کی غلطی، موسمی حالات یا تکنیکی خرابی کو دیکھا جا رہا ہے۔

    یہ طیارہ اپنی پرواز کے آخری مراحل میں تھا جب یہ حادثہ پیش آیا۔

    ہنگامی خدمات نے بتایا کہ حادثے کے وقت بادل کم تھے اور طیارے نے پہلے ہی ہوائی اڈے پر اترنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب عملہ دوسرے نقطہ نظر کی تیاری کر رہا تھا تو ریڈار کا رابطہ منقطع ہو گیا۔

    انگارا ایئر لائنز سائبیریا کے ارکتسک علاقے سے اپنے آپریشن چلاتی ہے اور اس کا عملہ تمام ارکتسک علاقے سے ہی آیا تھا۔ بہت سے مسافر اس مشرقی حصے میں روسی ریلوے کے ملازمین تھے۔

    یہ اینٹونوف 24 طیارہ تقریباً 50 سال پرانا تھا اور اسے اصل میں سوویت دور میں کئیو میں ڈیزائن کیا گیا تھا، حالانکہ یہ ماڈل کئی سالوں سے یوکرین میں استعمال نہیں ہو رہا تھا۔

    حکام نے بتایا کہ طیارہ حالیہ تکنیکی معائنہ سے گزرا تھا، لیکن سول ایوی ایشن اتھارٹی نے خبر رساں اداروں کو بتایا کہ اس طیارے کو 2018 سے اب تک چار واقعات کا سامنا کرنا پڑا۔

    ایک ایسے ہی واقعے میں ٹاس خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ سات سال قبل اس کا بایاں ’ونگ‘ اس وقت خراب ہو گیا تھا جب طیارہ رن وے سے گزر کر بجلی کے مستول سے ٹکرا گیا تھا۔

    ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طیارے کو اب پرواز کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

  7. غزہ سے لمحہ بہ لمحہ دنیا بھر تک خبریں پہنچانے والے صحافی بھی قحط کے خطرے سے دوچار

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بی بی سی نیوز اور تین دیگر خبر رساں اداروں نے غزہ میں صحافیوں سے متعلق سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ صحافی اب اپنا اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے قابل نہیں رہے ہیں۔

    بی بی سی نیوز، اے ایف پی، ایسوسی ایٹڈ پریس اور روئٹرز کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ سے تنازع کی اطلاع دینے والوں کو اب بھوک اور ’ایسے ہی سنگین حالات کا سامنا ہے جن کی وہ کوریج کر رہے ہیں۔‘

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے غزہ کے اندر مقامی رپورٹرز پر انحصار کرتے ہیں کیونکہ اسرائیل بی بی سی نیوز سمیت غیر ملکی میڈیا کو صحافیوں کو علاقے میں بھیجنے کی اجازت نہیں دیتا۔

    یہ خبر ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب 100 سے زائد بین الاقوامی امدادی تنظیموں اور انسانی حقوق کے گروہوں نے غزہ میں بڑے پیمانے پر غذائی قلت سے خبردار کیا ہے۔

    میڈیا کے اداروں کے اس بیان میں کہا گیا ہے’ ہم غزہ میں اپنے صحافیوں کے لیے سخت فکر مند ہیں، جو اپنا اور اپنے خاندانوں کا پیٹ بھرنے سے قاصر ہیں۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’صحافی جنگی علاقوں میں بہت سی محرومیوں اور مشکلات کو برداشت کرتے ہیں۔ ہمیں شدید تشویش ہے کہ بھوک کا خطرہ اب ان میں سے ایک ہے۔‘

    اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہم ایک بار پھر اسرائیلی حکام پر زور دیتے ہیں کہ وہ صحافیوں کو غزہ کے اندر اور باہر جانے کی اجازت دیں۔ یہ ضروری ہے کہ وہاں کے لوگوں تک خوراک کا مناسب سامان پہنچ جائے۔‘

    غزہ کی حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق اتوار سے اب تک 45 فلسطینی غذائی قلت کے نتیجے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

    اسرائیل نے دو ماہ کی جنگ بندی کے بعد مارچ کے اوائل میں غزہ کو امداد کی ترسیل روک دی تھی۔ تقریباً دو ماہ بعد ناکہ بندی جزوی طور پر ہٹا دی گئی تھی لیکن خوراک اور ادویات کی قلت مزید بڑھ گئی ہے۔

    اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ مل کر غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) کے زیر انتظام ایک متنازع نیا امدادی نظام قائم کرنے میں مدد کی۔

    آٹھ ہفتے قبل جب سے جی ایچ ایف کی امدادی ’سائٹس‘ نے کام شروع کیا ہے اس کے آس پاس سینکڑوں ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ اس کے اندازوں کے مطابق غزہ کی ایک چوتھائی آبادی کو قحط جیسی صورتحال کا سامنا ہے۔

    بدھ کے روز اس عالمی ادارے کے ڈائریکٹر تیدروس ادھانوم گیبرائسس نے کہا کہ ’میں نہیں جانتا کہ آپ اسے بڑے پیمانے پر بھوک کے علاوہ کیا کہیں گے، یہ سب انسانوں کا ہی کیا دھرا ہے۔ یہ سب ناکہ بندی کی وجہ سے ہے۔‘

  8. اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کے قتل کی کوشش کا الزام، 74 برس کی خاتون پولیس کی حراست میں

    نتن یاہو

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    دو ہفتے قبل اسرائیلی سکیورٹی حکام نے ملک کے مرکز سے ایک خاتون کو گرفتار کیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق گرفتار کی جانے والی خاتون نے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔

    اسرائیلی میڈیا کی خبروں کی مطابق داخلی سلامتی کے ادارے، شابک، نے 70 سالہ خاتون کو گرفتار کیا ہے اور اس وقت پولیس ان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔

    شائع شدہ معلومات کے مطابق یہ خاتون احتجاجی تحریکوں میں سرگرم تھیں اور اس سے قبل انھوں نے گھریلو ساختہ بم کے ذریعے نتن یاہو کو قتل کرنے کا اپنا ارادہ دوسروں کے ساتھ شیئر بھی کیا تھا۔

    یہ بھی اطلاع ہے کہ انھوں نے جنگی سازوسامان کی خریداری کے لیے کچھ کارکنوں سے رابطہ کیا اور وزیر اعظم کے گرد حفاظتی اقدامات کی تفصیلات پر تبادلہ خیال کیا۔

    خاتون، جن کا نام اور پتہ عدالتی حکم کی وجہ سے ظاہر نہیں کیا گیا، کہا جاتا ہے کہ انھیں آج جمعرات 24 جولائی کو عدالت میں ’جرم کی سازش‘ اور ’دہشت گردانہ کارروائی کرنے کی سازش‘ کے الزامات کے تحت پیش کیا جائے گا۔

    گذشتہ ستمبر میں اسرائیلی پولیس نے اعلان کیا کہ انھوں نے ایک شخص کو گرفتار کیا ہے جس پر شبہ ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس نے اسے نتن یاہو سمیت اعلیٰ عہدے داروں کو قتل کرنے کے لیے بھرتی کیا تھا۔

  9. پاکستان کے راستے ایران داخل ہونے کی کوشش کرنے والے بنگلہ دیش کے 33 شہری گرفتار

    پاکستان کی فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے ایسے 33 بنگلہ دیشی باشندوں کو گرفتار کیا ہے جو پاکستان، ایران کی سرحد کو عبور کر کے پاکستان سے ایران داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

    بلوچستان کے علاقے تفتان میں پاکستان، ایران سرحد پر یہ کارروائی ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کی جانب سے کی گئی ہے۔

    ایف آئی اے کے مطابق تمام گرفتار ملزمان کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے اور یہ رواں سال جون اور جولائی کے مہینوں میں وزٹ ویزے پر پاکستان آئے تھے۔

    ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزمان نے ماشکیل بارڈر (ضلع چاغی) سے کراسنگ کی کوشش کی تاہم اس موقع پر جب ان سے قانونی دستاویزات طلب کی گئیں تو وہ تسلی بخش جواب پیش نہ کر سکے۔

    ایف آئی اے کے مطابق ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا۔

  10. امداد کی کوشش کرنے والے 1000 سے زیادہ فلسطینی اسرائیلی حملوں میں مارے جا چکے ہیں: اقوام متحدہ

    غزہ میں حماس کے ماتحت وزارت صحت کا کہنا ہے کہ سات اکتوبر سے اب تک غزہ میں غذائی قلت سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 113 تک پہنچ چکی ہے۔

    اقوام متحدہ نے اس صورتحال کے خطرناک نتائج کا خدشہ ظاہر کیا ہے تاہم غزہ کے بہت سے مکینوں نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ انھیں خوف ہے کہ اگر وہ امداد کی تقسیم کے مراکز میں جائیں گے تو حملوں میں مار دیے جائیں گے۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ نے کہنا ہے کہ 1054 فلسطینی27 مئی سے اب تک اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں، یہ وہ لوگ تھے جو خوراک کی تلاش میں تھے۔

    یاد رہے کہ غزہ میں امداد کت تقسیم کا نیا طریقہ جی ایچ ایف، امریکہ کے ماتحت اسرائیلی حمایت سے مئی میں ہی شروع ہوا تھا۔

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 21 جولائی تک کے اعدادو شمار کے مطابق 766 افراد اسرائیلی حمایت سے چلنے والے ان امریکی مراکز کے قرب میں ہی مارے گئے۔ اس کے علاوہ 288 افراد ایسے تھے جو کہ اقوام متحدہ اور دیگر امدادی اداروں کے کانوائز پر حملوں میں ہلاک ہوئے۔

    خیال رہے کہ جی ایچ ایف نے امداد کی تقسیم کے لیے پرائیویٹ کنٹریکٹرز کو رکھا ہوا ہے۔

    اسرائیل اور امریکہ کا کہنا ہے کہ امداد کا یہ نظام ضروری ہے تاکہ حماس کو امداد چوری کرنے سے روکا جا سکتے تاہم اقوام متحدہ نے اسرائیل اور امریکہ سے اس سلسلے میں تعاون کرنے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ غیر اخلاقی ہے اور یہ کہ حماس کی جانب سے مبینہ طور پر امداد کی تقسیم میں خرد برد کا کوئی ثبوت بھی پپیش نہیں کیا گیا۔

  11. گلگت بلتستان: 80 فیصد علاقے میں سیلابی ریلے آ چکے ہیں، کم ازکم لاپتہ 15 سیاحوں کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے: حکومت, محمد زبیر خان، صحافی

    گلگت بلتستان کے ضلع چلاس کے علاقے بابو سر ٹاپ پر سیلابی ریلے کے کم ازکم 15 لاپتہ سیاحوں کی تلاش کے لیے سرج آپریشن جاری ہے۔

    گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق اس وقت مختلف اضلاع اور مقامات پر سیلاب کی بدترین صورتحال ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کی حکومت نے خراب موسم سے ہونے والی تباہی کے حوالے سے رپورٹ وفاق کو ارسال کی ہے۔

    ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق ابتک بابو سر ٹاپ سے سے سات لاشیں ملبے کے نیچے سے نکالی جا چکی ہیں۔ جن میں چھ سیاح شامل ہیں جبکہ ایک مقامی شخص ہے۔

    اس میں لودھراں کے خاندان کے لاپتہ بچے ہادی کی لاش بھی مل گئی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ’کہ اب بھی ہمارا اندازہ ہے کہ بابو سر ٹاپ پر کم از کم پندرہ سیاح لاپتہ ہیں جن کی تلاش کا کام کیا جارہا ہے۔ باقی جو سیاح مقامی لوگوں کے گھروں میں تھے ان کو چلاس پہنچا دیا گیا ہے اور اس وقت وہاں پر بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن اور ملبہ ہٹانے کا کام کیا جارہا ہے جس میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ضلع دیا میر کے علاقے تھور نالہ میں سیلابی ریلے میں دو بچے بہہ چکے ہیں۔ تانگیر کے علاقے میں پاور ہاوس کو نقصان پہنچا ہے۔

    ’مختلف مقامات پر سیلابی ریلوں کی اطلاعات ہیں۔ ہمارے محتاط ترین اندازوں کے مطابق اس وقت بھی گلگت بلتستان کے اسیّ فیصد علاقوں میں سیلابی ریلے آچکے ہیں۔‘

    فیض اللہ فراق کا کہنا تھا کہ گلگت میں قراقرم یونیورسٹی والا علاقہ متاثر ہوا ہے۔

    استور میں گھروں کو نقصان پہنچا اور ایک خاتون ہلاک ہوئی ہیں۔

    گانچھے اور ڈھانچے میں بھی سیلابی ریلے آئے ہیں جہاں پر نقصانات ہوئے ہیں۔

    وہ کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں اربوں روپے کا انفراسٹریکچر تباہ ہوچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی حکومت نے موجودہ حالات کے حوالے سے رپورٹ وفاق کو ارسال کی ہے۔ گلگت بلتستان حکومت نے حالیہ بدترین سیلابی صورتحال میں اپنے وسائل سے بڑھ کر مدد کی ہے اب وفاقی حکومت کی جانب سے خصوصی گرانٹ کی اپیل کی جارہی ہے تاکہ انفراسٹریکچر کے علاوہ عام لوگوں کے نقصانات کا ازالہ ہوسکے

  12. اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین مذہب کے مقدمات کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرنے کے فیصلے کو معطل کر دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    court

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین مذہب کے مقدمات سے متعلق کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ معطل کر دیا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے جمعرات کی دوپہر یہ فیصلہ کمیشن تشکیل دیے جانے کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کے فیصلے کے خلاف دائر کردہ انٹرا کورٹ اپیلوں پر دیا ہے۔

    یاد رہے کہ 15 جولائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے وفاقی حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ 30 روز کے اندر توہین مذہب سے متعلق مقدمات کے حوالے سے فیکٹ فائنڈنگ کمیشن تشکیل دے۔ اس کمیشن کے ارکان کو چار ماہ کے عرصے میں اس بات کا تعین کرنا تھا کہ پاکستان میں توہین مذہب کے قانون کا غلط استعمال تو نہیں ہو رہا۔

    کمیشن تشکیل دیے جانے کے خلاف دائر کردہ انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت جمعرات کی صبح ہوئی جس کے بعد دو رُکنی بینچ نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا، جو اب سُنایا گیا ہے۔

    سماعت کے آغاز پر درخواست گزار راؤ عبد الرحیم کے وکیل کامران مرتضیٰ عدالت میں پیش ہوئے۔ بینچ کے سربراہ جسٹس خادم حسین سومرو نے اُن سے استفسار کیا کہ ’اس فیصلے سے آپ کیسے متاثر ہوئے ہیں؟‘

    کامران مرتضیٰ نے موقف اختیار کیا کہ اس کیس میں اُن کے موکل کو مکمل حقِ سماعت نہیں دیا گیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ مجموعی طور توہین مذہب کے 400 کے قریب کیسز ہیں جن میں سے کچھ کیسز اس عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔

    کامران مرتصیٰ نے سوال کیا کہ کیا ’ایسی صورتحال میں کمیشن تشکیل دیا جا سکتا ہے؟‘ انھوں نے مزید کہا کہ کمیشن کی تشکیل کا اختیار صرف وفاقی حکومت کا ہے۔

    انھوں نے کہا جسٹس سردار اعجاز إسحاق کی عدالت میں یہ کیس پہلے نمٹا دیا گیا تھا مگر پھر تحریری فیصلہ آیا کہ کیس زیر التوا رہے گا۔ اس پر جسٹس اعظم خان نے استفسار کیا کہ ’فائنل آرڈر کے بعد کیا کیس زیر التوا رکھ سکتے ہیں؟‘ جس پر وکلا کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔

    خیال رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں توہین مذہب کے مقدمات سے متعلق معاملات کو ایسے وقت میں دیکھا جا رہا ہے جب پاکستان میں اس نوعیت کے مقدمات کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    ہائیکورٹ کی جانب سے کمیشن تشکیل دیے جانے سے متعلق فیصلہ توہین مذہب کے مقدمات میں جیلوں میں قید کم از کم 101 افراد کے خاندانوں کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کردہ ایک درخواست کے بعد سامنے آیا تھا۔ اس درخواست میں ان افراد نے ایک ایسے گروہ کے خلاف تحقیقات کی استدعا کی تھی جو اُن کے مطابق ’جھوٹے مقدمات‘ بنانے میں ملوث ہے۔

    اپریل 2024 میں پنجاب پولیس کی سپیشل برانچ نے ایک ’خصوصی رپورٹ‘ میں دعویٰ کیا تھا کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں ’کچھ افراد پر مشتمل ایک گروہ متحرک ہے جو کہ نوجوانوں کو توہینِ مذہب کے جھوٹے الزامات میں پھنسا رہا ہے اور ان کے خلاف مقدمات وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو بھیج رہا ہے۔‘

    بی بی سی اُردو نے حال ہی میں اس معاملے پر ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے جو یہاں پڑھی جا سکتی ہے: خواتین سے دوستی، واٹس ایپ گروپس اور سوشل میڈیا: توہینِ مذہب کے مقدمات میں گرفتار پاکستانی نوجوانوں کی کہانیاں اور الزامات

  13. شوہر کا بیوی کے بانجھ پن پر مہر یا نان و نفقہ سے انکار غیر قانونی ہے: سپریم کورٹ

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے بیوی کے بانجھ پن کو بنیاد بنا کر شوہر کی جانب سے مہر یا نان و نفقہ دینے سے انکار کرنے کو یر قانونی قرار دے دیا ہے۔

    جمعرات کو چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اس ضمن میں شوہر کی جانب سے جمع کروائی گئی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے تحریری فیصلہ سُنایا۔

    سپریم کورٹ کی جانب سے درخواست گزار شوہر کے رویے پر اظہار برہمی کیا گیا اور اس ضمن میں ماتحت عدالتوں کی جانب سے دیے گئے فیصلوں کو برقرار رکھا ہے۔

    سپریم کورٹ نے درخواست گزار صالح محمد پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ یہ جرمانہ شوہر کی جانب سے جھوٹے الزامات لگانے اور عدالت کا وقت ضائع کرنے پر عائد کیا گیا ہے۔ عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ دس سال تک خاتون کو اذیت اور تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔

    عدالت نے کہا کہ ’شوہر نے بیوی پر بانجھ پن اور عورت نہ ہونے کا الزام لگایا تھا، بانجھ پن حقِ مہر یا نان و نفقہ روکنے کی وجہ نہیں۔‘

    خیال رہے کہ درخواست گزار شوہرکی جانب سے پہلی بیوی کے حقِ مہر اور نان و نفقہ سے انکار کیا گیا تھا۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ خواتین پر ذاتی حملے عدالت میں برداشت نہیں ہوں گے۔ ’عورت کی عزت نفس ہر حال میں محفوظ ہونی چاہیے، خواتین کی تضحیک معاشرتی تعصب کو فروغ دیتی ہے۔‘

  14. حالیہ مون سون میں بارشوں کے باعث 143 افراد ہلاک اور 488 زخمی: پی ڈی ایم اے پنجاب

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    صوبائی سطح پر قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے کی جانب سے جاری کی جانے والی مون سون فیکٹ شیٹ کے مطابق رواں سال مون سون بارشوں کے باعث 143 افراد ہلاک اور 488 افراد زخمی ہوئے جبکہ 200 سے زیادہ مکانات متاثر ہوئے۔

    پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری ہونے والی معلومات میں کہا گیا ہے کہ پنجاب کے دریاؤں، بیراجز اور ڈیمز میں پانی کی سطح خطرناک ہو رہی ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے گزشتہ 24 گھنٹوں میں سرگودھا میں 69 ملی میٹر، نورپور تھل 59، منڈی بہاوالدین 50، حافظ آباد 44 اور شیخوپورہ میں 32 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    اُن کا کہنا ہے کہ ’مون سون بارشوں کا چوتھا سلسلہ 25 جولائی تک جاری رہے گا۔ تاہم آئندہ 24 گھنٹوں میں لاہور راولپنڈی سمیت پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارشوں کے امکانات ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کے مطابق دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ دریائے سندھ میں تربیلا اور تونسہ کے مقام پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔ تاہم دریائے چناب راوی جہلم اور ستلج میں پانی کا بہاؤ فی الحال نارمل سطح پر ہے۔

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ’ممکنہ سیلابی خطرے کے پیشِ نظر پی ڈی ایم اے کے انتظامات مکمل ہیں۔ لاہور، سیالکوٹ، فیصل آباد اور گوجرانولہ میں مون سون بارشوں سے اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔ پی ڈی ایم اے کنٹرول روم اور ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سنٹرز 24 گھنٹے صورتحال کو مانیٹر کر رہے ہیں۔‘

    ڈی جی پی ڈی ایم اے کی مزید ممکنہ بارشوں کے پیش نظر واسا و انتظامیہ کو نشیبی علاقوں سے پانی کی نکاسی یقینی بنانے کی ہدایات کی گئی ہے اسی کے ساتھ ساتھ احتیاطی کرنے سے متعلق ان کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب کی جانب سے دریاؤں نہروں اور برساتی نالوں میں نہانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں سخت ایکشن لیا جائے گا۔ شہری خراب موسم میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ بجلی کی تاروں اور کھمبوں سے دور رہیں۔ مخدوش و بوسیدہ مکانات میں ہرگز رہائش نہ رکھیں۔‘

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  15. غزہ میں خوراک کی کمی سے بڑے پیمانے پر انسانی جانیں ’ضائع‘ ہو رہی ہیں: امدادی ادارے

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    100 سے زائد بین الاقوامی امدادی تنظیموں اور انسانی حقوق کے گروپوں نے غزہ میں بڑے پیمانے پر خوراک کی کمی سے خبردار کرتے ہوئے بین الاقوامی دُنیا پر زور دیا ہے کہ وہ اس حوالے سے فوری اقدامات کریں۔

    میڈیسنز سانز فرنٹیئرز (ایم ایس ایف)، سیو دی چلڈرن اور آکسفیم ایک مشترکہ بیان پر دستخط کرنے والوں میں شامل ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ غزہ کے لوگ انتہائی مُشکل حالات سے دوچار ہیں اور اُن کی جانوں کو خطرہ ہے۔

    اسرائیل، جو علاقے میں تمام رسد کے داخلے کو کنٹرول کرتا ہے، نے امدادی تنظیموں کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے اپنے خلاف اور حماس کے حق میں ’پروپیگنڈہ‘ قرار دیا۔

    یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ کی حماس کے زیر انتظام وزارت صحت نے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غذائی قلت کے نتیجے میں مزید 10 فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔

    وزارت کے مطابق اس طرح اتوار سے اب تک غزہ میں خوراک کی قلت کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد 43 ہو گئی ہے۔

    اقوام متحدہ نے اطلاع دی ہے کہ ہسپتالوں میں لوگ خوراک کی کمی کی وجہ سے شدید بیماری کے عالم میں لائے جا رہے ہیں۔

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل نے مارچ کے اوائل میں غزہ کو امداد کی فراہمی معطل کر دی تھی اور دو ہفتے بعد حماس کے خلاف اپنی فوجی کارروائی دوبارہ شروع کر دی تھی۔ اسرائیلی انتظامیہ کے جانب سے جاری بیان میں ایسا کرنے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے باقی ماندہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مسلح گروہ پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے۔

    اگرچہ تقریباً دو ماہ کے بعد ناکہ بندی میں جزوی طور پر نرمی کی گئی تھی لیکن عالمی ماہرین کی طرف سے قحط کے انتباہ کے باوجود، خوراک، ادویات اور ایندھن کی قلت میں اضافہ ہوا ہے۔

    انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ’ڈاکٹروں نے خاص طور پر بچے اور بزرگ افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ خوقار کی کمی کی وجہ سے اسہال جیسی بیماریاں پھیل رہی ہیں، بازار خالی ہیں، فضلے کا ڈھیر لگ رہا ہے اور بالغ افراد بھوک اور پانی کی کمی کی وجہ سے سڑکوں پر گر رہے ہیں۔‘

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  16. موسمیاتی تبدیلی پر ممالک ایک دوسرے کے خلاف ہرجانے کا مقدمہ کر سکتے ہیں: عالمی عدالت انصاف

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوام متحدہ کی ایک اعلیٰ عدالت نے ایک تاریخی فیصلے میں ممالک کے لیے آب و ہوا کی تبدیلی پر ایک دوسرے کے خلاف مقدمہ کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔

    تاہم نیدرلینڈز کے شہر ہیگ میں قائم بین الاقوامی عدالت انصاف کے جج نے بدھ کے روز کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا سبب کون ہے اس کا تعین کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

    گو کہ اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے کسی بھی فریق کو مجبور نہیں کیا جا سکتا لیکن قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے وسیع نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

    اس فیصلے کو اُن ممالک کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے کہ جو موسمیاتی تبدیلی کے خطرے سے دوچار ہیں، جو اس مسئلے سے نمٹنے میں عالمی پیش رفت نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار کرنے کے بعد عدالت میں آئے تھے۔

    عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں پیش کیا جانے والا یہ غیر معمولی مقدمہ بحرالکاہل کے نشیبی جزیروں سے تعلق رکھنے والے نوجوان طالب علموں کے ایک گروپ کی جانب سے سنہ 2019 کیا گیا تھا۔

    ان طالب علموں میں سے ایک، ٹونگا سے تعلق رکھنے والے سیوسیوا ویکونے، فیصلہ سننے کے لئے ہیگ میں تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’میں اپنے احساسات کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ یہ ایک ایسی کامیابی ہے کہ جس پر ہمیں فخر ہے۔‘

    بحرالکاہل کے جزیرے وانواتو سے تعلق رکھنے والی فلورا وانو نے کہا کہ ’عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ہم کس طرح زندگی گزار رہے ہیں، ایسے میں یہ ہمارا حق ہے کہ ہم صحت مند ماحول میں سانس لے سکیں اور اپنے مستقبل کو محفوظ بنا سکیں۔‘

    آئی سی جے کو دنیا کی سب سے بڑی عدالت سمجھا جاتا ہے اور اس کا عالمی دائرہ اختیار ہے۔ وکلا نے بی بی سی نیوز کو بتایا ہے کہ اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے کام آئندہ ہفتے سے شروع ہو جائے گا۔

    بہت سے غریب ممالک نے مایوسی کی وجہ سے اس کیس کی حمایت کی تھی اور دعوی کیا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک بڑھتے ہوئے مسئلے سے نمٹنے کے لئے موجودہ وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔

  17. اسرائیل کا اقوام متحدہ کے امدادی ادارے ’اوچا‘ کے سٹاف کو کم کرنے کا اعلان

    اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مندوب نے سکیورٹی کونسل سے کہا ہے کہ ان کا ملک امدادی ادارے اوچا کے خلاف کارروائی کرے گا۔

    اسرائیلی مندوب ڈینی ڈینن نے کہا کہ اوچا کے سینکڑوں اہکاروں کی جانچ پڑتال کی جائے گی اور اس کے اہم اہلکاروں کے پرمٹ کی تجدید نہیں کی جائے گی۔

    خیال رہے کہ اوچا کا ایک دفتر یروشلم میں بھی ہے اور وہ غزہ اور مغربی کنارے پر انسانی بحران کی صورتحال کے بارے میں معلومات اور ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔

    اسرائیلی مندوب نے سکیورٹی کونسل کو بتایا کہ اوچا کے سٹاف کے حوالے سے واضح شواہد موجود ہیں کہ ان کے حماس سے قریبی وابستی ہے۔ تاہم انھوں نے اس حوالے سے کوئی مزید تفصیل فراہم نہیں کی۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فلسطین کے مقبوصہ علاقے میں اوچا کے سربراہ جوناتھن وٹتھل کے ویزے کی تجدید نہیں کی جائے گی اور انھیں 29 جولائی تک ملک چھوڑنا ہو گا۔

  18. حماس نے جنگ بندی کی تجویز پر ’اپنا ردعمل پیش کر دیا‘، غزہ کی پٹی پر مزید 35 ہلاکتوں کی تصدیق

    gaza

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایک سینئر فلسطینی اہلکار کے مطابق حماس نے آج غزہ میں جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے ثالثوں کی طرف سے پیش کی گئی نظرثانی شدہ تجویز پر اپنا سرکاری ردعمل پیش کیا۔

    بی بی سی سے گفتگو میں فلسطینی سینئیر اہلکار نے بتایا کہ یہ ردعمل دیگر فلسطینی دھڑوں کے ساتھ مشاورت کے بعد سامنے آیا اور بنیادی طور پر تین بنیادی مسائل پر توجہ مرکوز کی گئی۔

    ان میں غزہ تک انسانی امداد پہنچانے کا طریقہ کار، جنگ کے دوران مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی انخلا کو ظاہر کرنے والے نقشے اور دشمنی کے مستقل خاتمے کی ضمانت اور فوجی کارروائیوں کو دوبارہ شروع کرنے کی روک تھام شامل ہے۔

    بات چیت میں شامل ایک دوسرے فلسطینی ذریعے نے بھی ان معلومات کی تصدیق کی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ثالثوں کو جواب موصول ہو گیا ہے اور وہ دونوں فریقوں کے درمیان خلا کو ختم کرنے کی کوشش میں اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔

    تنازعہ کے اہم نکات پر بہت کم پیش رفت دکھائی دیتی ہے، حالانکہ بات چیت جاری ہے۔

    کچھ دیر قبل اسرائیلی حکومت کے ترجمان نے کہا تھا کہ دوحہ میں اسرائیلی وفد ابھی تک وہاں جاری جنگ بندی مذاکرات کے حوالے سے حماس کے سرکاری جواب کا انتظار کر رہا ہے۔

    غزہ سول ڈیفنس کے مطابق، زمین پر، غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فضائی حملوں اور فائرنگ کے سلسلے میں 17 افراد ہلاک ہوئے، جن میں چار شہری بھی شامل ہیں جبکہ ڈرون نے وادی غزہ کے علاقے میں امدادی تقسیم کے مرکز کے قریب شہریوں کے ایک اجتماع کو نشانہ بنایا۔

    خان یونس کے مشرق میں واقع قصبے بنی سہیلہ پر گولہ باری سے مزید تین افراد ہلاک ہوئے۔

    طبّی ذرائع کے مطابق بدھ کی صبح سے اب تک مرنے والوں کی تعداد 35 سے تجاوز کر گئی، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

    فلسطینی خبر رساں ایجنسی نے طبّی ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ غزہ شہر کے شمال مغرب میں حمد بحالی اسپتال کے قریب ایمبولینس پر بمباری سے ایمبولینس کا عملہ زخمی ہوا۔

    7 اکتوبر کے بعد سے، جنگ میں 201,000 سے زیادہ افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، جن میں سے زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں جبکہ 9,000 سے زیادہ افراد لاپتہ، اور لاکھوں بے گھر ہوئے ہیں۔

  19. مداخلت کریں اور ہمیں بچائیں: غزہ سے ایک دکاندار کی دنیا بھر کو اپیل

    GAZA

    غزہ میں ایک دکاندار ابو الہ نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ میں اور میرے بچے ہر رات بھوکے سوتے ہیں اور غزہ میں تمام لوگوں کو اسی صورحال کا سامنا ہے۔

    ابو الہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنی دکان کی ہر چیز جس میں کچھ خشک اور ڈبے میں محفوظ غذا شامل تھی بیچنے کے باوجود تین دن سے روٹی نہیں کھائی کیونکہ وہ آدھا کلو آٹا بھی نہیں خرید سکے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ہم زندہ نہیں ہیں، ہم مر چکے ہیں۔ ہم پوری دنیا سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ مداخلت کریں اور ہمیں بچائیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ میں خوراک نہیں خرید سکتا اور میرے پاس نہ پیسے ہیں اور نہ غزہ میں کرنے کو کوئی کام ہے۔

    ابو الہ کا کہنا ہے کہ اپنے خاندان کو خوراک فراہم کرنے کے لیے وہ فوڈ کچن میں جاتے ہیں اگر وہ بند ہو تو وہ کھانا نہیں کھا پاتے۔‘

  20. ہم خوفزدہ تھے کہ خطرناک موڑ پر آئیں گے اور اب ہم وہاں پہنچ چکے ہیں: خان یونس میں موجود ڈاکٹر کا بیان

    GAZA
    ،تصویر کا کیپشنیہ دونوں تصاویر میار العرجہ ہیں غذائیت کی کمی کا شکار ہونے کے بعد وہ شدید کمزور دکھائی دے رہا ہے

    جنوبی غزہ کے ہسپتال میں ڈاکٹر احمد الفرا کے پاس ہر روز غذائی قلت اور کمزور کے شکار مریض آتے ہیں۔

    ڈاکٹر الفرا جو کہ خان یونس میں النصیر نامی ہسپتال کے سربراہ ہیں نے بی بی سی کے پروگرام نیوز ڈے میں بتایا کہ تین روز سے وہاں خوراک نہیں ہے۔

    ’آٹا نہیں، سبزیاں نہیں، کچھ بھی دستیاب نہیں ہے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس غذائی قلت کے شکار بچے آتے ہیں اور ان میں سے کچھ ہسپتال میں ہی مر رہے ہیں۔

    وہ کہتے ہیں کہ کچھ بچے صحت کے دیگر مسائل کی وجہ سے آتے ہیں جس کی وجہ سے غذائی اجزا ان کے جسم میں جذب نہیں ہو پا رہے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ہم خوفزدہ تھے کہ ہم ایک خطرناک موڑ پر آئیں گے اور اب ہمیں وہیں پہنچ گئے۔