یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
سات اکتوبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
ضلع خیبر میں پشتون تحفظ موومنٹ کا جرگہ جاری ہے۔ اتوار کو وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا، 'صوبے، وسائل یا اپنے لوگوں کا حق مانگو تو ظلم کا سامنا ہوگا۔ یہ جرگہ اسی سوچ کا نتیجہ ہے۔'
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
سات اکتوبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ضلع خیبر میں ہونے والے پشتون تحفظ موونٹ کا جرگہ جاری ہے اور دوسرے روز یعنی اتوار کو صوبے کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور پنڈال پہنچے اور شرکا سے خطاب کیا۔
علی امین گنڈا پور کا کہنا ہے کہ ’یہاں پر سیاسی بات نہیں کریں گے بلکہ روایات اور حق کی بات کریں گے۔ حق کے لیے یا اپنا سر پھاڑیں گے یا پہاڑ چیریں گے۔‘
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’صوبے کا حق مانگو، وسائل کا حق مانگو یا اپنے لوگوں کا حق مانگو، آپ کو ظلم کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس بابت سوچنے ضرورت ہے اور یہ جرگہ اسی سوچ کا نتیجہ ہے۔‘
وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ’اس جرگے کی قرارداد مشترکہ طور پر منظور کریں گے۔‘
منظور پشتین کیپ پہنائے جانے کے بعد انھوں نے کہا کہ ’یہ شہیدوں کی ٹوپی ہے۔‘
علی امین کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کی آزادی کی تحریک سے اب تک پختون اور قبائل آزادی دلاتے آئے ہیں اور کشمیر بھی قبائل نے آزاد کروایا تھا۔‘

کراچی پریس کلب کے باہر سے گرفتار روادرای مارچ کے شرکا کو رہا کردیا گیا ہے اور صوبائی وزیر داخلہ ضیا لنجار نے ایک اعلامیے میں کہا کہ خواتین پر پولیس تشدد کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
رہا ہونے والی سوشل ایکٹوسٹ ڈاکٹر سورٹھ سندھو کا دعویٰ ہے کہ ’پولیس انھیں گرفتار کرکے آرٹلری میدان لے گئی جہاں پر ان کا ذاتی سامان لینے کی کوشش کی گئی جس پر انھوں نے مزاحمت کی کہ ’وہ مجرم نہیں ہیں جو ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جارہا ہے‘ پھر انھیں ایک کمرے میں بند کر دیا گیا۔‘
سورٹھ سندھو کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد دیگر خواتین کو گرفتار کر کے لایا گیا اور گرفتار شدہ خواتین کی تعداد چار ہو گئی جس کے بعد انھیں کہا گیا کہ ’ہم آپ کو کسی اور جگہ منتقل کرتے ہیں‘ سورٹھ سندھو نے بتایا کہ اس پر انھوں نے کہا ’ہم یہاں ٹھیک ہیں‘۔
ان کا دعویٰ ہے کہ پولیس انھیں صدر میں ویمن تھانے لے گئی جہاں سے تقریباً تین سے چار کے درمیان رہا کیا گیا۔
واضح رہے کہ عمرکوٹ کے ڈاکٹر شاہنواز کے ماورائے عدالت قتل اور ان کی لاش کی بے حرمتی کے خلاف جاری احتجاج کے سلسلے میں رواداری مارچ کا اعلان کیا گیا تھا جس میں ڈاکٹر شاہنواز کے اہل خانہ کو بھی شریک ہونا تھا۔
اسی دوران تحریک لبیک پاکستان نے بھی تین تلوار سے ریلی نکالنے کا اعلان کیا اور اپنے کارکنوں کواس مقام پر پہنچنے کی ہدایت کی تھی۔
وومین ڈولپمنٹ فرنٹ کی رہنما عالیہ بخشل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’پولیس نے تشدد کیا۔ انھوں نے کارکنوں کو بچانے کی کوشش کی تو انھیں بھی لپیٹ میں لے لیا گیا۔ تشدد میں ایک لڑکی کے ہاتھ میں فریکچر آیا جبکہ پولیس ڈالے کا گیٹ جیسے کھولا گیا اس سے ایک دوسری کارکن کا پاؤں زخمی ہوگیا ہے۔‘
ان کا دعویٰ ہے کہ ’تھانے لے جا کر ہم سب کو ایک کمرے میں بند کردیا گیا جہاں دیگر سماجی کارکن بھی موجود تھیں، ہم نے وہاں مل کر وطن اور امن کے گیت گائے، اس دوران کراچی بار کے وکلا آگئے اور پولس نے انھیں رہا کردیا۔‘
عالیہ بخشل کا دعویٰ ہے کہ جب وہ دوبارہ پریس کلب آنے کے لیے نکلیں تو ’پولیس نے متنبہ کیا کہ دوبارہ تشدد کرکے گرفتار کیا جائے گا جس کے بعد وہ گھروں کو روانہ ہو گئیں۔‘

کراچی پریس کلب کے باہر پولیس کی جانب سے احتجاج کرنے والوں پر لاٹھی چارج کیا گیا ہے۔
نامہ نگا ریاض سہیل کے مطابق کراچی پولیس نے پریس کلب کے باہر سے سندھ کے دانشور ادیب جامی چانڈیو، ان کی بیٹی سمیت متعدد افراد کو گرفتارکر لیا ہے۔
واضح رہے کہ عمرکوٹ کے ڈاکٹر شاہنواز کے ماورائے عدالت قتل اور ان کی لاش کی بے حرمتی کے خلاف جاری احتجاج کے سلسلے میں رواداری مارچ کا اعلان کیا گیا تھا جس میں ڈاکٹر شاہنواز کے اہل خانہ کو بھی شریک ہونا تھا۔
اسی دوران تحریک لبیک پاکستان نے بھی تین تلوار سے ریلی نکالنے کا اعلان کیا اور اپنے کارکنوں کواس مقام پر پہنچنے کی ہدایت کی۔

،تصویر کا ذریعہ@HRCP87

کچھ دیر قبل جب صحافیوں کی جانب سے سوال کیا گیا تھا کہ اجرک اور سندھی ٹوپی پہننے والوں کو ترجیحی بنیادوں پر گرفتار کیا جارہا ہے تو ڈی آئی جی اسد رضا نے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے کوہستان کے ضلع کوالئی پالس میں فریقین میں تصادم پر کم از کم چار افراد ہلاک اور چار زخمی ہوچکے ہیں۔
ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔ پولیس کے مطابق پالس کے علاقے میں گھاس کاٹنے پر تصادم کا آغاز ہوا۔
ڈسڑکٹ پولیس افسر امجد حسین کے مطابق واقعہ آج صبح تھانہ گزپارو کی حدود میں پیش آیا جہاں پر ایک ہی قوم اور برداری سے تعلق رکھنے والوں میں تصادم ہوا۔
پولیس کے مطابق اس سے قبل ان کے درمیان بظاہر کوئی بھی سابقہ دشمنی نہیں تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے درمیان گھاس کاٹنے پر پہلے معمولی تلخ کلامی ہوئی اورپھر ایک دم ہی تصادم شروع ہوگیا تھا۔
امجد حسین کے مطابق زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ علاقے میں پولیس کی نفری پہنچ چکی ہے جو ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارہی ہے۔
’ہلاک اور زخمی ہونے والے آپس میں چچا زاد بھائی ہیں‘
علاقے میں موجود عینی شاہد کے مطابق فائرنگ کا واقعہ آج صبح تقریبا 11 بجے پیش آیا جب پہلے فریق نے ایک خالی زمین پر موجود گھاس کاٹنا چاہی تو دوسرے فریق نے اس کو پہلے منع کیا اور پھر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی۔
عینی شاہد کے مطابق یہ فائرنگ تقریبا آدھا گھنٹہ تک جاری رہا تھا۔ فریق کے تین لوگ ہلاک ہوئے ہیں جس میں ایک خاتون شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والے آپس میں چچازاد بھائی ہیں جبکہ پہلے فریق کے تین لوگ زخمی ہیں۔
عینی شاہد کے مطابق فائرنگ سے گھاس کاٹنے کی کوشش کرنے والے فریق کے تین افراد موقع پر ہلاک ہوگئے۔
یہ تینوں ہلاک ہونے والے آپس میں چچا زاد بھائی تھے اور یہ اپنے مال مویشی لے کر جائے وقوع پر گئے تھے۔ عینی شاہد کے مطابق فائرنگ شروع ہوتے ہی پہلے فریق کے رشتہ دار بھی پہنچ گئے اور انھوں نے دوسرے فریق پر بھی فائرنگ شروع کردی جس سے دوسرے فریق کا ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہZameer kohistani
’زمینیں قبیلے کے نام پر ہوتی ہیں‘
پالس کی خوبصورت بستی کھلیا، جہاں یہ واقعہ پیش آیا، کوالئی پالس ضلع کے مرکزی مقام پالس سے کم از کم دو گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔
یہ بستی چاروں طرف سے پہاڑوں میں گھری ہوئی قدرتی نالوں، ندیوں اور آبشاروں پر مشتمل ہے۔
اس بستی کی کل آبادی ڈیڑھ سو گھرانوں پر مشتمل ہے۔ یہاں لوگوں کا زریعہ معاش مال ومویشی اور کھیتی باڑی ہیں۔
علاقے میں موجود عینی شاہد نے بی بی سی کومزید بتایا کہ یہاں پر زمینیں کسی فرد کے نام پر نہیں بلکہ قبیلے کے نام پر ہوتی ہیں۔
قبیلہ زمینوں کو ضرورت کے مطابق تقسیم کرتا ہے۔ دوسری صورت متں یا ان زمینوں کو باری باری استعمال کرتے ہیں یا ان کی آمدن کو تقسیم کیا جاتا ہے۔

کراچی میں سول سوسائٹی کی تنظیموں کی جانب سے مذہبی انتہا پسندی کے خلاف رواداری مارچ کے اعلان اور تحریک لبیک پاکستان کا بھی اسی مقام پر ریلی کا فیصلہ سامنے آنے پر پولیس نے سپر ہائی وے سمیت شہر کی کئی شاہراہوں پر ناکہ بندی کردی ہے۔
واضح رہے کہ عمرکوٹ کے ڈاکٹر شاہنواز کے ماورائے عدالت قتل اور ان کی لاش کی بے حرمتی کے خلاف جاری احتجاج کے سلسلے میں رواداری مارچ کا اعلان کیا گیا تھا جس میں ڈاکٹر شاہنواز کے اہل خانہ کو بھی شریک ہونا تھا۔
روادری مارچ کی سربراہ سندھو نواز نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ شب حیدرآباد میں ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا۔ اس کے علاوہ قوم پرست رہنما نیاز کالانی اور ریاض چانڈیو کے گھروں پر چھاپے مار کر انھیں حراست میں لیا گیا ہے۔
رواداری مارچ کے شرکا کو کراچی کے علاقے تین تلوار سے پریس کلب تک جانا تھا اور اس کے لیے انسانی حقوق کمیشن، روادری تحریک، عورت مارچ، اقلیتی مارچ، وومین ڈیمورکریٹک فرنٹ سمیت سول سائٹی کی متعدد تنظیموں نے حمایت کا اعلان کیا گیا تھا۔
اسی دوران تحریک لبیک پاکستان نے بھی تین تلوار سے ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے اور اپنے کارکنوں کواس مقام پر پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔
کراچی میں شارع فیصل پر ایف ٹی سی کے مقام پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں ہیں جبکہ ریلی کے مقام تین تلوار کو بھی چاروں طرف سے بند کردیا گیا ہے۔
اسی طرح پریس کلب کے راستے بھی بند کردیے گئے ہیں جہاں صحافیوں کو بھی جانے کی اجازت نہیں ہے۔

کشیدگی سے بچنے کے لیے دفعہ 144 نافذ
رواداری مارچ اور انتظامیہ میں مذاکرات بھی ہوئے تاہم اس کے بعد انتظامیہ نے شہر میں دفعہ 144 نافذ کرکے جلسے، جلوسوں اور ریلی نکالنے پر پابندی عائد کردی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کشیدگی سے بچنے کے لیے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔
ڈی آئی جی اسد رضا کا کہنا ہے کہ یک طرفہ گرفتاریاں نہیں ہوئیں بلکہ فریقین کو گرفتار کیا جارہا ہے۔
پولیس کے مطابق کلفٹن سے ایک مذہبی جماعت کے کارکنوں سمیت 20 افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔
صحافیوں کی جانب سے سوال کیا گیا کہ وہ لوگ جنھوں نے اجرک اور سندھی ٹوپی پہنی ہوئی ہے انھیں ترجیحی بنیادوں پر گرفتار کیا جارہا ہے تو ڈی آئی جی اسد رضا نے لاعلمی کا اظہار کیا۔
پولیس اور لوگوں کی تلخ کلامی
حیدرآباد سے کراچی سفر کر نے والے صحافی سنجے سادھوانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سپر ہائی وے پر جام شورو اور کراچی ٹول پلازہ کے مقام پر پولیس ہر گاڑی کو روک کر چیک کر رہی ہے اور اگر کوئی فرد اس مارچ میں شرکت کے لیے آ رہا ہے تو اس کو گاڑی سے اتار دیا جاتا ہے۔ اس دوران پولیس اور لوگوں کی تلخ کلامی بھی ہوئی ہے۔
رواداری مارچ کی سربراہ سندھو نواز کا کہنا ہے کہ حیدرآباد کے علاوہ بدین، ٹھٹہ اور دیگر شہروں کے باہر بھی پولیس نے ایس ایس پیز کی سربراہی میں ناکہ بندی کی ہوئی ہے تاکہ لوگ مارچ میں شریک نہیں ہوں۔
’کراچی میں بھی ہر جگہ پولیس مقرر کردی گئی ہے۔ اگر اتنی پولیس شاہنواز کے تحفظ اور لاش کی بیحرمتی روکنے کے لیے لگائی جاتی تو اس احتجاج کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔ ‘
انھوں نے بتایا کہ انتظامیہ سمیت دیگر اداروں نے مارچ ملتوی کرنے کے لیے ان پردباؤ ڈالا اور کہا کہ اس سے کشیدگی ہوگی۔

رواداری مارچ کے تین مطالبات
سندھو نواز کا کہنا ہے کہ ’یہ مارچ تو امن کے لیے ہے‘
ان کے مطابق اس کے بعد پریس کلب پر مارچ کا فیصلہ کیا گیا وہاں بھی پولیس کھڑی کردی گئی ہے۔
سندھو نواز کا کہنا تھا کہ ان کے تین بنیادی مطالبات ہیں،
دوسری جانب پریس کلب پہنچنے والے انسانی حقوق کے کارکنوں کو بھی گرفتاری کیا جارہا ہے جس میں سورٹھ سندھو بھی شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہLebanese Red Cross
لبنانی امدادی ادارے ریڈ کراس کے مطابق اتوار کی صبح اسرائیلی فضائی حملے کے بعد جنوبی لبنان کے شہر سربین میں امدادی کارروائی کے لیے بھیجی جانے والی ایمبولینس اور عملے کو بھی فضائی حملے میں نقصان پہنچا ہے۔
ریڈ کراس کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریسکیو آپریشن کے دوران رضاکار اسرائیلی فوجی کی جانب سے اُسے علاقے میں کیے جانے والے دوسرے فضائی حملے میں ’معمولی زخمی‘ ہوئے ہیں۔
لبنان میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ادارے ریڈ کراس کی جانب سے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’امدادی کارروائیوں میں مصروف رضاکاروں کو نشانہ بنانے سے گُریز کیا جانا چاہیے اور انھیں تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔‘
اسرائیلی فوج گزشتہ ایک ہفتے کے دوران شمالی غزہ سے فلسطینیوں کے انخلا سے متعلق متعدد مرتبہ احکامات جاری کر چُکی ہے۔
یہ واضح نہیں ہے کہ کتنے لوگ اب تک علاقہ چھوڑ چُکے ہیں۔
سنیچر کو غزہ سے سامنے آنے والی چند تصاویر میں اپنا گھر بار چھوڑنے والے لوگوں کی بڑی تعداد کو دیکھا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب وسطی اور شمالی غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 29 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
اسرائیلی دفاعی افواج نے ایک ہفتہ قبل جبالیہ میں ایک اور کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے کہا تھا کہ حماس کی جانب سے اس علاقے میں دوبارہ اپنے ٹھکانوں کے قیام کی کوشش کی جا رہی ہے۔
غزہ میں محکمہ صحت کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایک اندازے کے مطابق 150 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔
جبالیہ کے رہائیشیوں کی جانب سے اس بات پر غم اور غصے کا اظہار کیا گیا ہے کہ اسرائیلی افواج نے اُن کے علاقے کا محاصرہ کرنے کے بعد اُنھیں وہاں سے نکل جانے کا کہنا جا رہا ہے۔
دوسری جانب جنوبی لبنان میں حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اتوار کی علی الصبح رمیہ گاؤں میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ اُن کی شدید جھڑپ ہوئی ہے۔
اسرائیلی افواج کا کہنا ہے کہ انھوں نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے درجنوں ٹھکانوں پر حملہ کیا گیا ہے۔
لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ گذشتہ دس گھنٹوں کے دوران دیر بیلا، المائسرا اور برجا پر اسرائیل کے تین حملوں میں 15 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اسرائیلی دفاعی افواج کی جانب سے سامنے آنے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حزب اللہ نے سنیچر کے روز لبنان سے اسرائیل پر تقریباً 320 میزائل داغے گئے۔‘

ضلع خیبر میں ہونے والے پشتون تحفظ موونٹ کے جرگے کا آج دوسرا دن ہے۔ یہ جرگہ سنیچر کے روز سہہ پہر شروع ہوا اور مغرب کے وقت پہلا دن کا اختتام ہوا۔
بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق پی ٹی ایم کے اس جرگے میں باجوڑ، وزیرستان کوئٹہ، ڈی آئی خان، ژوب سمیت خیرپختونخوا اور بلوچستان سہ بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
سنیچر کے روز جرگے میں اپنے خطاب کے دوران پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین نے کہا کہ ’پشتونوں کے ساتھ مسلسل ظلم ہو رہا ہے اور خصوصاً دہشت گردی کی لہر کے بعد سے بلوچستان، خیبرپختونخوا اور دیگر پشتون علاقوں میں مظالم میں تیزی آئی۔‘
منظور پشتین نے کہا کہ ’اگر یہ صورتحال اسی طرح جاری رہی تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔‘
عزیز اللہ خان کے مطابق جرگے کے مرکزی مقام پر پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین نے خطاب میں کُچھ اعداد و شمار بھی پیش کیے اور ایک ویڈیو کے ذریعے متاثرہ افراد کی مصائب اور پریشانیاں بھی جرگہ کے سامنے رکھیں۔‘
آج یعنی اتوار کے روز جرگے کے دوسرے دن عزیز اللہ خان کے مطابق گزشتہ روز پیش کیے جانے والے اعدادو شمار پر بحث ہو گی اور ان سے متعلق سفارشات تیار کی جائیں گی۔
گزشتہ روز پی ٹی ایم کی جانب سے سامنے آنے والے ڈیٹا میں ہلاک شدگان، لاپتہ افراد، بے گھر ہونے والے افراد، مختلف پُتشدد واقعات میں معزور ہو جانے والے افراد اور دیگر واقعات سے متعلق بات کی گئی تھی۔
واضح رہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے جرگہ کے مقام پر ایک میڈیکل کیمپ بھی لگایا گیا تھا۔ مُشیرِ صحت احتشام علی کا کہنا تھا کہ ’قومی جرگہ کے اختتام تک یہ میڈیکل کیمپ جاری رہے گا۔‘
پشتون تحفظ موونٹ کے زیرِ انتظام ہونے والے جرگے کے چند مناظر




،تصویر کا ذریعہKP Govt

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ میں انتخابات کی آمد آمد ہے اور سیاسی مخالفیں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لیے ہر ہر حربہ آزما رہے ہیں۔
ایسے میں ہی امریکی صدارتی اُمیدوار کملا ہیرس نے اب اپنے مد مقابل ڈونلڈ ٹرمپ پر اپنا میڈیکل ریکارڈ جاری کرتے ہوئے ایک اہم سوال اُٹھا دیا ہے۔
کملا ہیرس کے میڈیکل ریکارڈ کو دیکھنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ وہ ’بہترین صحت‘ کی مالک ہیں اور صدارت کے لیے موزوں بھی ہیں۔
ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی اُمیدوار کملا ہیرس نے نا صرف اپنا میڈیکل ریکارڈ جاری کیا بلکہ اپنے مخالف ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام لگایا کہ وہ اپنا میڈیکل ریکارڈ ظاہر نہیں کر رہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ اُن کی صحت غیر واضح ہے۔
نائب صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے ریپبلکن حریف ’یہ نہیں چاہتے کہ امریکی عوام یہ جان سکیں کہ وہ صدر بننے کے قابل ہیں بھی یا نہیں۔‘
امریکہ کے سابق صدر کی ٹیم کی جانب سے اُن کا میڈیکل ریکارڈ تو ظاہر نہیں کیا گیا تاہم اُن کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے ڈاکٹر کا حوالہ دیتے ہوئے اُن کی ٹیم کی جانب سے یہ ضرور کہا گیا ہے کہ وہ ’بہترین صحت کے حامل اور فٹ ہیں۔‘
اس بحث کا آغاز اُس وقت ہوا کہ جب وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایک طبی رپورٹ شائع کی گئی کہ جس میں کہا گیا کہ نائب صدر ہیرس ’جسمانی اور ذہنی‘ طور پر فٹ ہیں اور وہ بحیثیت صدر خدمات انجام دینے کے قابل ہیں۔
کملا ہیرس کے میڈیکل ریکارڈ کے سامنے آنے کے بعد اُن کی ٹیم کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا گیا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ اب آپ کی باری۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
سنیچر کی صبح اسرائیلی فوج کے عربی ترجمان کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک پیغام پوسٹ کیا گیا جس میں شمالی غزہ کے ایک علاقے جسے آئی ڈی ایف کی جانب سے ’D5‘ کا نام دیا گیا ہے، میں رہنے والوں کو خبردار کیا گیا کہ وہ جنوب کی طرف منتقل ہو جائیں۔ ’D5‘ ایک ایسا علاقہ ہے کہ جسے درجن بھر چھوٹے علاقوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
آئی ڈی ایف کی جانب سے ’D5‘ کے لیے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آئی ڈی ایف دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کا آغاز کرنے جا رہی ہے جو طویل وقت تک جاری رہ سکتی ہے۔ ’D5‘ میں آنے والے علاقے، بشمول وہاں موجود پناہ گاہوں کو، ایک خطرناک جنگی زون تصور کیا جاتا ہے۔ اس علاقے کو فوری طور پر خالی کر دیا جائے۔‘
تاہم اقوام متحدہ اور غزہ میں کام کرنے والے دیگر امدادی ادارے اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اسرائیلی افواج کے دباؤ کی وجہ سے مسائل میں شدید حد تک اضافہ ہو رہا ہے اور غزہ میں انسانی بحران کا سامنا ہے۔
تاہم حماس نے شمالی غزہ میں رہ جانے والے چار لاکھ فلسطینیوں کو اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’وہ اپنے آبائی علاقے کو کسی بھی قیمت پر نہ چھوڑیں۔‘ انھیں حماس کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ ’جس مقام پر انھیں مُنتقل ہونے کا کہا جا رہا ہے وہ بھی اُن کے لیے محفوظ نہیں ہے۔‘ اس کے ساتھ ساتھ حماس انھیں خبردار بھی کر رہی ہے کہ جو بھی اپنا علاقہ چھوڑ کر کسی اور جگہ منتقل ہوگا اُسے اپنے آبائی علاقے میں واپسی کی اجازت نہیں ملے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فلسطینیوں، اقوام متحدہ اور امدادی اداروں کے درمیان اب یہ شبہ پایا جانے لگا ہے کہ آئی ڈی ایف بتدریج شمالی غزہ کو خالی کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی نیا حربہ اختیار کر رہی ہے جسے ’جنرلز پلان‘ یعنی اسرائیلی جرنیلوں کے ایک منصوبہ کا نام دیا گیا ہے۔
’جنرلز پلان‘ کی تجویز اسرائیلی فوج کے ایک میجر جنرل (ریٹائرڈ) جیورا آئلینڈ کی سربراہی میں ریٹائرڈ سینئر افسران کے ایک گروپ نے دی تھی، جو قومی سلامتی کے سابق مشیر رہ چُکے ہیں۔
زیادہ تر اسرائیلیوں کی طرح اُن میں بھی اس وجہ سے اسرائیلی انتظامیہ سے ناراضگی اور غصہ پایا جاتا ہے کہ غزہ میں حماس کے خلاف جنگ کے ایک سال بعد بھی اسرائیل حماس کو تباہ کرنے اور یرغمالیوں کو آزاد کروانے اور اپنے جنگی مقاصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
’جنرلز پلان‘ کیا ہے؟
’جنرلز پلان‘ ایک نئی سوچ ہے کہ جس کے بارے میں اس میں شامل افراد کا خیال ہے کہ اسرائیل اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلی لا کر کامیاب ہو سکتا ہے۔
اس منصوبے کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اسرائیل شمال کی پوری آبادی پر دباؤ بڑھا کر حماس اور اس کے رہنما یحییٰ سنوار کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ پہلا قدم یہ ہے کہ شہریوں کو انخلاء کے لیے محفوظ راستہ دیا جائے، پھر انھیں نکلنے کا حکم دیا جائے۔
جنرل جیورا آئلینڈ کا خیال ہے کہ ’اسرائیل کو یرغمالیوں کی واپسی کے لیے فوری طور پر ایک معاہدہ کرنا چاہیے تھا، چاہے اس کا مطلب غزہ سے مکمل طور پر انخلا ہی کیوں نہ ہو۔ اُن کا کہنا ہے کہ اب ایک سال گزر جانے کے بعد اپنے لوگوں کی واپسی کے لیے دوسرے طریقے ہی ضروری ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہOren Rosenfeld/BBC
سابق اسرائیلی جنرل جیورا آئلینڈ کا کہنا ہے کہ ’چونکہ ہم نے پچھلے نو یا 10 مہینوں میں غزہ کے شمالی حصے کو گھیرے میں لے رکھا ہے، اس لیے ہمیں مندرجہ ذیل باتوں کو غزہ کے تمام تین لاکھ باشندوں کو بتانا چاہیے (جو کہ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق تین نہیں چار لاکھ ہیں) جو اب بھی غزہ کے شمالی حصے میں رہتے ہیں۔ انھیں یہ علاقہ چھوڑنا ہوگا اور اس کے لیے اُن کے پاس صرف 10 دن کا وقت ہوگا۔‘
"اُن کا مزید کہنا ہے کہ ’اور محفوظ مقام پر جانے کے لیے دیے جانے والے وقت کے بعد یہ تمام علاقہ ملٹری زون بن جائے گا۔‘
جیورا آئلینڈ چاہتے ہیں کہ ’اس انخلا کے بعد اسرائیل ان علاقوں کو سیل کر دے۔ جو بھی پیچھے رہ جائے اسے دشمن تصور کیا جائے۔ علاقے کا محاصرہ کیا جائے، فوج خوراک، پانی یا دیگر ضروریات زندگی کی تمام سپلائیوں کو اندر جانے سے روک دے۔ اس سب کے بعد حماس پر دباؤ اس قدر ناقابل برداشت ہو جائے گا کہ حماس کی کمر ٹوٹ جائے، اور وہ زندہ بچ جانے والے یرغمالیوں کو آزاد کر دے گا۔‘
یہ واضح نہیں ہے کہ آئی ڈی ایف نے ’جنرلز پلان‘ کو جزوی طور پر یا مکمل طور پر اپنایا ہے یا نہیں، لیکن غزہ میں زمینی حقائق اس کے اپنائے جانے کے شواہد ضرور سامنے آرہے ہیں۔ بی بی سی کی جانب سے آئی ڈی ایف کو جنلرز پلان سے متعلق ایک سوالنامہ بھیجا گیا مگر تاحال کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان کے ضلع دکی میں کوئلہ کانوں پر ہونے والے حملے میں مزدوروں کی ہلاکت کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلیا گیا ہے۔
کوئلہ کانوں میں ہلاک ہونے والے مزدوروں کی ہلاکت کا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانہ میں ایس ایچ او دُکی پولیس ہمایوں خان ناصر کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات پر غور کرنے کے لیے منگل کے روز اپیکس کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔
دوسری جانب نے حکومت بلوچستان نے ہلاک ہونے والے مزدوروں کے لواحقین اور زخمیوں کے لیے معاوضوں کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس واقعے کا سیاسی جماعتوں اور مختلف تنظیموں کی جانب سے مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔
سینیچر کی شام ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما نواب ایاز خان جوگیزئی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک ادارہ کوئلے کی فی ٹن پر دو سو چالیس روپے سیکورٹی ٹیکس وصول کررہا ہے مگر پھر بھی ہمارے مزدور محفوظ نہیں ہیں۔
مقدمے کے ایف آئی آر میں کیا کہا گیا ہے ؟
دکی میں کوئلہ کانوں پر ہونے والے حملے کے خلاف درج ایف آئی آر کے مطابق 11 اکتوبر کی شب نامعلوم مسلح افراد نے 12بجکر 45 منٹ پر جنید کول کمپنی میں مزدوروں پرحملہ کیا۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد 40 سے 50 کے قریب تھی جنھوں نے بھاری اسلحے سے مزدوروں پر حملہ کیا ہے۔
جس میں 21 مزدور ہلاک اور سات افراد زخمی ہو گئے۔
ایف آئی آر کے مطابق جائے وقوع کا ملاحظہ کرنے پر ملزمان نے نو کانوں کے انجنوں کو پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی جس کی وجہ سے انجن جل گئے۔
سی ٹی ڈی تھانے میں یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی کے مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
’دہشت گردی کے واقعات تشویشناک ہیں‘
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سینیچر کی شام وزرا کے ہمراہ سول ہسپتال میں حملے میں زخمی مزدورں کی عیادت کی۔
اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بلوچستان میں دہشت گردی کی واقعات تشویشناک ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک بار پھر سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بناکر معصوم اور نہتے مزدروں کو قتل کیا گیا۔سکیورٹی فورسز دہشتگردی کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’میرے استعفٰے سے اگر دہشتگردی کے واقعات میں کمی ہوگی تو میں ضرور استعفیٰ دوں گا۔ مجھے اسمبلی نے وزیر اعلیٰ بنایا ہے اگر اراکین چائیں گے تو میں ضرور استعفیٰ دوں گا۔ ‘
ہلاک مزدوروں کے لواحقین کے لیے 15 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان
اس واقعے کے خلاف دُکی میں ہزاروں افراد نے لاشوں کے ہمراہ احتجاج کیا تھا۔
بلوچستان کے وزرا نے دُکی جا کر مزدوروں کے ورثا اور احتجاج کنندگان سے مذاکرات کیے تھے۔ مذاکرات میں حکومت کی جانب سے ہلاک ہونے والے افراد کے ورثا کو فی کس 15 لاکھ روپے جبکہ شدید زخمیوں کو پانچ لاکھ اور معمولی زخمیوں کو دو لاکھ روپے معاوضے کی ادائیگی کا اعلان کیا گیا۔
مذاکرات کے بعد مظاہرین نے احتجاج ختم کرکے ہلاک کرنے والے مزدوروں کی لاشوں کو تدفین کے لیے ان کے آبائی علاقوں کو لے جایا گیا تھا۔
سنیچر کے روز اسرائیلی فوج کے ترجمان کی جانب سے سوشل میڈیا پر پیغام میں خبردار کیا گیا کہ ’ڈی فائیو‘ میں قیام پزیر پناہ گزین فوری طور پر جنوب کی جانب کوچ کر جائیں۔
اس سلسلے میں تازہ پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’آئی ڈی ایف دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بڑی طاقت کے ساتھ کام کر رہا ہے اور طویل عرصے تک ایسا کرتا رہے گا۔ اور اس سلسلے میں نامزد علاقے بشمول پناہ گاہوں کو ایک خطرناک جنگی زون تصور کئے جائیں گے۔‘
ڈی فائیو گرڈ پر ایک بلاک ہے جسے اسرائیل ڈیفنس فورسز (IDF) نے غزہ کے نقشوں پر (خودساختہ) بنایا ہے۔ یہ ایک ایسا بلاک ہے جو کئی درجن چھوٹے علاقوں میں تقسیم ہے۔
پیغام کے مطابق ’اس علاقے کو فوری طور پر صلاح الدین روڈ کے ذریعے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر خالی کرایا جائے۔‘
یہاں نقشہ پر پیلے رنگ کا ایک ایک بڑا تیر بنا ہوا ہے جو بلاک ڈی فائیو سے نیچے غزہ کے جنوب کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
نقشے کے مطابق صلاح الدین روڈ شمال جنوب کا مرکزی راستہ ہے۔
اس پیغام میں ان جگہوں پر فوری واپسی سے متعلق کوئی اشارہ نہیں جہاں لوگ رہ رہے تھے۔ یہ ایک
ایک ایسا علاقہ ہے جو ایک سال میں بار بار اسرائیلی حملوں کی وجہ سے تباہ ہو چکا ہے۔
پیغام میں یہ عیاں ہے کہ اسرائیلی فوج اپنی بھرپور طاقت طویل عرصے تک استعمال کرے گا۔ دوسرے لفظوں میں وہ کسی بھی وقت جلد واپسی کی توقع نہ کریں۔
اس پیغام میں اسرائیل کی طرف سے نامزد انسانی بنیادوں پر محفوظ علاقہ المواسی ہے جو پہلے رفح کے قریب ساحل پر ایک زرعی علاقہ تھا۔
یہ علاقہ گنجان آباد ہے اور غزہ کے دوسرے حصوں سے زیادہ غیر محفوظ ہے۔ بی بی سی ویریفائی نے اس علاقے میں کم از کم 18 فضائی حملوں کی نشاندہی کی ہے۔
اسرائیلی افواج نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ لبنان کی جانب سے اسرائیل پر مزید ایک درجن سے زائد میزائل داغے گئے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں آئی ڈی ایف نے مزید 15 میزائل داغے جانے کا بیان دیا۔ہے۔
آئی ڈی ایف نے یہ بھی بتایا کہ شمالی غزہ کی جانب سے بھی دو میزائیل اسرائیل پر داغے گئے تاہم وہ کھلے مقام پر گرے اور ان سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اس سے قبل شیئر کی جانے والی پوسٹ میں آئی ڈی ایف نے آگاہ کیا تھا کہ لبنان کی جانب سے اسرائیل پر 35 میزائل داغے گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی فوج نے غزہ کے بے گھر ہونے والے پناہ گزینوں کو جبالیہ کیمپ اور قریبی علاقوں سے انخلا کا حکم دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق اس کیمپ میں چار لاکھ سے زیادہ لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔
اس اعلان کے بعد وہاں سے پناہ گزین ساز و سامان کے ساتھ کسی محفوظ مقام ککے متلاشی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہReuters
فلسطینی اور اقوام متحدہ کے حکام نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ ان پناہ گزینوں کے سر چھپانے کے لیے کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے۔
حکام نے شمالی غزہ میں خوراک، ایندھن اور طبی آلات کی کمی پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہRe
ضلع خیبر میں ہونے والے پشتون تحفظ موونٹ کے جرگے کا پہلا روز اختتام پذیرہو گیا ہے۔
یہ جرگہ سنیچر کے روز سہہ پہر کے وقت شروع ہوا اور مغرب کے وقت پہلا دن اختتام پذیر ہوا۔ اس دوران مختلف علاقوں سے آئے ہوئے مقررین نے تقاریر کیں۔
نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق جرگے میں سب کچھ پرامن ماحول میں ہوا اور لوگ اندر آذادانہ اور اچھے ماحول میں گھوم رہے تھے۔
پی ٹی ایم کے اس جرگے میں باجوڑ، وزیرستان کوئٹہ، ڈی آئی خان، ژوب سمیت خیرپختونخوا اور بلوچستان کے افراد شامل تھے۔
’تمام پشتون لیڈر شپ کو چاہیے کہ وہ مل بیٹھ کر ایک ہی فیصلہ کریں‘
پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین نے جرگے کے پہلے روز شرکا سے خطاب کے دوران بتایا کہ ’یہ ظلم پشتونوں کے ساتھ مسلسل ہو رہا ہے اور خصوصاً دہشت گردی کی لہر کے بعد سے بلوچستان، خیبرپختونخوا اور دیگر پشتون علاقوں میں مظالم میں تیزی آئی۔‘
منظور پشتین نے کہا کہ ’اگر یہ صورتحال اسی طرح جاری رہی تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے یہ ایسا موقع ہے کہ تمام پشتون لیڈر شپ کو چاہیے کہ وہ بیٹھ کرایک ہی فیصلہ کریں۔‘
’اب تمام قائدین بیٹھ کر اپنی تجاویز دیں گے جس کے بعد سفارشات کو شامل کیا جائے گا۔ کل اس پر مزید بات ہو گی اور لائحہ عمل سامنے آئے گا۔‘
عزیز اللہ خان کے مطابق جرگے کے مرکزی مقام پر پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین نے خطاب میں ڈیٹا بھی شیئر کیا اور ایک ویڈیو کے ذریعے متاثرہ افراد کی مصائب اور پریشانیاں بتائی گئیں۔
’مل بیٹھنے سے اچھا نتیجہ نکل سکتا ہے‘
بی بی سی کی ٹیم نے جرگے میں شامل مختلف علاقوں سے آنے والے افراد سے بات کی تو مجموعی طور پر شرکا پر امید دکھائی دیے کہ اس طرح مل بیٹھنے سے اچھا نتیجہ نکل سکتا ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہمیں یہ تسلی ہو گی کہ اس ظلم و جبر کے خلاف آواز اٹھانے کی ہم نے کوشش ضرور کی۔‘
سکیورٹی کے انتظامات پی ٹی ایم کے ذمے
جرگے کے مقام کے اندر سکیورٹی انتظامات پی ٹی ایم نے خود سنبھال رکھے ہیں اور منتظمین لوگوں کو نہ صرف اس جگہ ہونے والی سرگرمیوں کے بارے میں گائیڈ کر رہے تھے۔
حکومت کی جانب سے یہاں پر دیگر سہولیات فراہم کی گئیں ہیں۔ ضلع جمرود کی جانب سے پانی کے سٹالز لگائے گئے تھے جبکہ پانی کے ٹینکر، ایمبولینسز، فائر بریگیڈ کی گاڑیاں بھی یہاں موجود تھیں۔
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ڈی چوک پر احتجاج کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کی بہنوں علیمہ خان اور عظمیٰ خان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انھیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے مقدمے کی سماعت کی۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں کی جانب سے ایڈووکیٹ عثمان گل اور نیاز اللہ نیازی اور پراسیکیوٹر راجا نوید بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
یاد رہے کہ علیمہ خان اور عظمیٰ خان کے خلاف تھانہ کوہسار میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔ آج دونوں بہنوں کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔
نیاز اللہ نیازی نے دلائل میں کہا کہ سات اکتوبر کا حکم نامہ پڑھ لیں سب واضح ہے، بیلف رپورٹ بھی ریکارڈ پر ہے۔
ایڈووکیٹ عثمان گل نے سماعت کے دوران کہا کہ دونوں ملزمان خواتین ہیں۔ کسی سپیشل گزیٹیڈ افسر کی جانب سے خواتین کے جسمانی ریمانڈ کے حوالے سے کوئی درخواست نہیں ہے، قانون کے مطابق گرفتاری کے 24 گھنٹوں بعد عدالت میں پیش کرنا لازمی ہوتا ہے۔
دوسری جانب پراسیکیوٹر کی جانب سے دونوں ملزمان کے 15 دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔
جج طاہر عباس سپرا نے استفسار کیا کہ آپ مجھے ایک یو ایس بی دے رہے ہیں اس کی قانونی حیثیت کے بارے میں عدالت اور آپ جانتے ہیں؟ کیا عدالت ایک یو ایس بی کے ریکارڈ پر انحصار کر سکتی ہے؟ آپ نے یہ یو ایس بی پولیس کو یا تفتیشی افسر کو دی؟
جج طاہر سپرا نے ریمارکس دیے کہ میں جسمانی ریمانڈ میں توسیع کر دیتا ہوں پولیس یو ایس بی کی جانچ پڑتال کر لیتی ہے۔
ایڈووکیٹ عثمان گل نے سماعت کے دوران یو ایس بی کو عدالت میں چلانے کی استدعا کی اور کہا کہ ان کے دلائل اس یو ایس بی کے میٹریل پر منحصر ہیں۔ تاہم عدالت نے ان کی استدعا مسترد کر دی۔
تفتیشی افسر نے عدالت کے روبرو کہا کہ ملزمان ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہیں ہمیں موبائل کا کوڈ بھی نہیں دے رہیں، ان کے جہلم سے ایم پی اے نے کچھ بیان پولیس کو دیا ہے جس سے تفتیش کا دائرہ کار بڑھا ہے۔
وکیل فیصل چوہدری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کی جانب سے جو رپورٹ عدالت میں دی گئی ہے اس سے تو مزید ریمانڈ نہیں بنتا۔
جج طاہر عباس سپرا نے علیمہ خان سے استفسار کیا کہ بی بی آپ کیا کہنا چاہتی ہیں؟ جس پر علیمہ خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جج صاحب ہمیں صرف انصاف چاہیے۔
عدالت نے علیمہ خان اور عظمیٰ خان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انھیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں پشتون تحفظ موومنٹ کا تین روزہ جرگہ سنیچر کی سہہ پہر سے شروع ہو گیا ہے اور ضلع خیبر میں اس وقت جرگے کا مقام ایک خیمہ بستی کا منظر پیش کر رہا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق ’جرگے کے آغاز پر پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین نے سکرین پر اعداد و شمار پیش کیے جن میں ماضی سے لے کر اب تک کے پشتون علاقوں میں (ان کے مطابق) روا رکھے گئے مظالم پر روشنی ڈالی اور کہا کہ’ ہمیں متفق اور ایک ہو کر فیصلہ کرنا چاہیے۔‘
عزیز اللہ خان نے مزید بتایا کہ ’جرگے کے مقام پر بڑی تعداد میں خیمے لگائے گئے ہیں اور ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے پشاور اور ضلع خیبر کی سرحد پر خیمہ بستی آباد ہو گئی ہے۔‘
بلوچستان سے لے کر خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع کے لیے اس بستی میں 45 سے زائد خیمے ایسے لگائے گئے ہیں جبکہ 35 کے قریب ایسے خیمے ہیں جن میں سیاسی جماعتوں کے نمائندے، ٹریڈرز، تاجر، ٹرانسپورٹرز سمیت مختلف لوگ موجود ہیں۔‘
’پیدل چل کرآنے سے پیروں میں چھالے پڑ گئے‘

عزیز اللہ حان نے جرگے میں آنے والوں سے بھی بات کی اور راستے میں درپیش مشکلات کے حوالے سے جانا۔
جرگے میں آنے والوں میں بعض شرکا کافی مصیبتیں جھیلتے ہوئے آئے ہیں کیونکہ راستے بند ہونے کی وجہ سمیت مختلف پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
وزیرستان سے آنے والے زیادہ تر لوگ پیدل چل کر آئے جس سے ان کے پیروں میں چھالے پڑ گئے۔
واضح رہے کہ وزیرستان سے خیبر تک کا راستہ تقریباً 76 کلو میٹر کا بنتا ہے۔
اس کے علاوہ کئی لوگ وہاں سے ڈی آئی خان سے گاڑیاں لے کر بھی آئے۔

موبائل فون اور پی ٹی ایم کی ٹوپیاں
عزیز اللہ خان نے بتایا کہ پی ٹی ایم کی معروف ٹوپی یہاں پر متعدد شرکا نے پہنی ہوئی ہے جبکہ بڑی تعداد میں لوگوں نے موبائل فون اٹھا رکھے ہیں جس میں وہ ہر لمحہ یادگار کے طور پر محفوظ کر رہے ہیں۔
یہاں کتابوں کے کئی سٹالز موجود ہیں اور پشتون قوم پرستی کے حوالے سے کتابیں بھی موجود ہیں جنھیں خریدا جا رہا ہے۔
یہاں شرکا میں زیادہ تر نوجوان ہیں جبکہ بزرگوں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے۔

،تصویر کا ذریعہScreen grab
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے 15 اکتوبر کو احتجاج کی کال دی ہے، اسلام آباد پر یلغار روکنے کے لیے ریاست کی پوری طاقت اور وسائل بروئے کار لائیں گے۔
سیالکوٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو ساری سہولتیں عدلیہ نے دے رکھی ہیں، ساری سہولت کاری عدلیہ کررہی ہے، 15 اکتوبر کو احتجاج کی کال پر اب تک نوٹس لے لینا چاہیے تھا، اگر نوٹس نہیں لیں گے تو تاریخ انھیں یاد رکھے گی۔
یاد رہے کہ 15 اور 16 اکتوبر کو اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا سربراہی اجلاس ہونے جا رہا ہے اور جس میں 12 ملکوں کے سربراہان کے شرکت کرنے کی توقع ہے۔
ایس سی او اجلاس کی سکیورٹی کے لیے اسلام آباد میں 17 اکتوبر تک فوج تعینات کی گئی ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی والے ملکی ترقی کا راستہ روکنا چاہتے ہیں، یہ لوگ ریاست کو بلیک میل کرکے بانی پی ٹی آئی کو رہا کرانا چاہتے ہیں اور رہائی کے علاوہ ان کا کوئی مطالبہ نہیں۔
ملکی بقا اور سلامتی ہماری ریڈ لائن ہونی چاہیے: خواجہ آصف
خواجہ آصف نے کہا کہ 2014 میں چینی صدر نے پی ٹی آئی کے دھرنے کی وجہ سے اپنا دورہ ملتوی کر دیا تھا۔ ایک ایسے موقع پر جب 12 سے زائد ملکوں کے وزرا اور سربراہان پاکستان آئے ہوں گے اس کو سبوتاژ کرنے کے لیے پی ٹی آئی ایک بار پھر احتجاج کر رہی ہے تاکہ پاکستان کا وقار کم ہو۔
انھوں نے کہا کہ ایک ہفتہ پہلے بھی اس جماعت نے اسلام آباد پر یلغار کی۔ ایک صوبے کی تمام مشینری اور وسائل استعمال کیے گئے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی ائی نے کبھی دہشت گردی کے واقعات کی مذمت نہیں کی گئی۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی ایک بار پھر نو مئی جیسا حملہ کرنا چاہتی ہے۔ پی ٹی آئی والے نہیں چاہتے کہ پاکستان ترقی کرے، ملکی بقا اور سلامتی ہماری ریڈ لائن ہونی چاہیے، ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی چاہتے ہیں۔
خواجہ آصف نے کا کہنا تھا کہ ’عدالتوں کو اس بات کا نوٹس لینا چاہیے، ہمارا اس سب میں کوئی مفاد نہیں لیکن قومی مفاد میں عدالتوں کی ذمے داری ہے کہ اس معاملے پر نوٹس لیں۔‘