ایرانی القدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قآنی کے منظرعام پر آنے سے ان کی موت کی قیاس آرائیاں دم توڑ گئیں

اسماعیل قآنی کے حوالے سے بعض ذرائع ابلاغ میں سے خبریں پھیلائی گئیں کہ وہ لبنان پر اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں تاہم منگل کے روز وہ پاسداران انقلاب کی سبز فوجی وردی پہنے عباس نیلفروشن کے تہران میں ادا کی جانے والی نماز جنازہ کے اجتماع میں دکھائی دیے۔

خلاصہ

  • ایرانی القدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قآنی کے منظرعام پر آنے سے ان کی موت کی قیاس آرائیاں دم توڑ گئی ہیں۔
  • قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے اسرائیل پر مغربی کنارے اور لبنان میں ’تشدد کو بڑھاوا‘ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اس کی آڑ میں پنے پہلے سے تیار کردہ منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا چاہتا ہے۔
  • اقوام متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جبالیہ کو امداد فراہم کرنا اب بھی ناممکن ہے۔
  • ایران کے طاقتور فوجی دستے پاسداران انقلاب کے آپریشن کمانڈر عباس نیلفروشن کی نمازجنازہ کی ادائیگی کے لیے ایران کے دارالحکومت تہران میں لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہے۔
  • اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے پیر کی رات گئے اپنے بیان میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ پر ’بغیر رحم کھائے‘ حملے جاری رکھے گا۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    16اکتوبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. پیپلز پارٹی سے نئی آئینی ترمیم کے مسودے پر اتفاق ہو گیا ہے، کل نواز شریف سے ملاقات ہو گی: مولانا فضل الرحمٰن

    amendment

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت کا آئینی ترمیم کے مسودے پر پاکستان پیپلز پارٹی سے اتفاق ہو گیا ہے اور اب ہماری کوشش ہو گی کہ حکومتی جماعت سمیت دیگر جماعتیں بھی ہم سے متفق ہو جائیں گی۔

    کراچی میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ مجوزہ آئینی ترمیم کے حوالے سے اسلام آباد میں کل پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں ملک کا مفاد ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہو گی کہ اس بل پر ایسا اتفاق رائے پیدا کیا جائے جس سے یہ آئینی ترمیم متفقہ طور پر منظور ہو، آئینی ترمیم پر اتفاق تک پہنچنے کے لیے بلاول بھٹو نے بڑا کردار ادا کیا ہے جس پر ان کے شکر گزار ہیں۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ملک میں جب بھی کامیاب آئین سازی ہوئی ہے اس میں پاکستان پیپلز پارٹی اور جے یو آئی نے کردار ادا کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’کل ہمیں رائیونڈ میں کھانے کی دعوت دی گئی ہے، ہماری کوشش ہوگی آج جو اتفاق رائے ہوا ہے وہ کل مسلم لیگ ن، جے یو آئی اور پیپلز پارٹی تینوں جماعتوں کے درمیان ہو جائے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی خواہش ہے کہ تمام جماعتوں کے درمیان آئینی ترمیم سے متعلق اتفاق رائے پیدا ہو اور اگر یہ ہوتا ہے تو یہ ہمارے ملک کے حق میں بہتر ہوگا، ہم سب کا آئینی ترمیم کا مقصد عوامی مسائل کا حل نکالنا ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ انھیں امید ہے اسمبلی سے پاس ہونے والا آخری بل اتفاق رائے سے منظور ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کل نواز شریف کے مزید اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔

    ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آئینی ترمیم سے متعلق انھوں نے پہلے مسودے کو مسترد کیا تھا اور وہ اب بھی اسے مسترد کرتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ جو تجاویز جے یو آئی نے مرتب کی ہیں ان پر بات چیت ہوئی ہے، پیپلز پارٹی نے بھی ہمارے تجویز سے ملتا جلتا مسودہ تیار کیا ہے اور آج اتفاق رائے سے اس فرق کو بھی کم کردیا گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ وہ مسلم لیگ ن سے بھی یہی توقع کرتے ہیں کہ وہ اس آئین کو محفوظ رکھیں گے اور ملک میں جمہوریت کو مضبوط بنائیں گے۔

    ان کا کہنا تھا وہ پہلے بھی پاکستان، ملک کے آئین کے ساتھ کھڑے تھے اور آج بھی ملک کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    سربراہ جے یو آئی نےکہا کہ جو تجاویز انہوں نے پی ٹی آئی کے سامنے پیش کی تھی آج اتفاق رائے میں طے کی گئی تجاویز اس سے مختلف نہیں ہیں، وہ پی ٹی آئی کے سامنے یہ چیزیں رکھیں گے اور انھیں امید ہے کہ آئینی ترمیم پر پورے ایوان کا اتفاق رائے ہوگا۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی آئینی ترمیم میں دلچسپی لینا چاہتی ہے تو وہ بھی چاہیں گے مولانا فضل الرحمٰن ان کو قائل کریں۔

  3. میدان جنگ میں فتح کے لیے پراعتماد ہیں، ہمیں شکست نہیں دی جا سکتی: حزب اللہ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل نعیم قاسم

    حزب اللہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نعیم قاسم

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنحزب اللہ کے نائب رہنما شیخ نعیم قاسم بیروت میں ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے

    حزب اللہ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے کہا ہے کہ حزب اللہ نے خود کو دوبارہ منظم کر لیا ہے اور وہ میدان جنگ میں فتح کے لیے پراعتماد ہیں۔

    منگل کی شام بیروت میں خطاب کے دوران حزب اللہ کے ڈپٹی سیکریٹری نعیم قاسم نے لبنان کے شہریوں کو مخاطب کر کے صبر کی تلقین کی اور اسرائیل کے خلاف حتمی فتح کا وعدہ کیا۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لبنان اور فلسطین کو الگ نہیں کیا جا سکتا - ایسی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ حزب اللہ حماس کے ساتھ اپنی یکجہتی کو توڑ سکتی ہے اور اسرائیلی فضائی حملوں میں اپنی زیادہ تر قیادت کھونے کے بعد جنگ بندی کی کوشش کر سکتی ہے۔

    حسن نصراللہ کے قتل کے بعد نعیم قاسم کی یہ تیسری تقریر ہے جسے کچھ نیوز چینلز پر براہ راست بھی نشر کیا گیا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ جنگ کا واحد حل جنگ بندی ہے اور اس بات پر زور دیا کہ حزب اللہ کو شکست نہیں دی جائے گی۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق نعیم قاسم نے دوران تقریر کہا کہ ’چونکہ اسرائیل نے تمام لبنان کو نشانہ بنایا ہے،لہذا ہمیں دفاعی نقطہ نظر سے اسرائیل میں کسی بھی جگہ کو نشانہ بنانے کا حق حاصل ہے، چاہے وہ مرکز ہو، شمال ہو یا جنوب۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہماری مزاحمت ناکام نہیں ہوگی اور اسرائیلی فوج کو شکست ہوگی۔‘

  4. ڈاکٹرز کی ٹیم نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی ہے: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/IMRAN KHAN

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے ڈاکٹرز کی ٹیم کے ساتھ اڈیالہ جیل راولپنڈی میں سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی تصدیق کی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری پیغام میں پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے لکھا ہے کہ ’آج شام تقریباً چار بجے ایک ای این ٹی اور ایک میڈیکل سپیشلسٹ پر مبنی دو ڈاکٹرز کی ٹیم نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی ہے۔

    یاد رہے کہ پی ٹی آئی نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر 15 اکتوبر کو ڈی چوک اسلام آباد میں احتجاج کر اعلان کر رکھا تھا۔

    تاہم عمران خان تک رسائی دینے کے حوالے سے ’حکومت کی یقین دہانی پر‘ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاج موخر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    تحریکِ انصاف کا مطالبہ رہا ہے کہ عمران خان کی اُن کے وکلا، ڈاکٹرز، اہلِخانہ اور پارٹی قائدین تک رسائی بحال کی جائے۔

    بیرسٹر گوہر نے ڈاکٹرز کی ٹیم کی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے اپنے پیغام میں مزید لکھا کہ ’ہمیں کچھ دیر پہلے اطلاع ملی تھی کہ الحمدللہ خان صاحب خیریت سے ہیں اور آج ایک گھنٹہ ورزش کر چکے ہیں۔ ہم جلد ہی ان سے میڈیکل رپورٹس حاصل کریں گے جس کو شیئر کیا جائے گا۔‘

    انھوں نے پی ٹی آئی کے ہر کارکن اور سپورٹر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ آپ سب عمران خان کی صحت کے بارے میں فکر مند تھے۔ خدا آپ سب کو خوش رکھے۔‘

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی نے آج اسلام آباد میں ہونے والا اپنا احتجاج موخر کرنے کا فیصلہ حکومت کی جانب سے یقین دہانی کے بعد کیا گیا

    پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اپنے ایک وڈیو بیان میں کہا تھا کہ وفاقی حکومت نے ہم سے باضابطہ رابطہ کر کے یقین دہانی کروائی ہے۔

    ویڈیو پیغام میںبیرسٹر گوہر خان کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے انھیں یقین دہانی کرائی ہے کہ منگل کو پمز ہسپتال کے ڈاکٹر اڈیالہ جیل جا کر عمران خان کا معائنہ کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت اور سیاسی کمیٹی نے ’متفقہ طور پر اس بات کو قبول کیا ہے۔‘

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کی ٹوئٹ

    ،تصویر کا ذریعہScreen Grab

    انھوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ایس سی او کا اجلاس ہونے جا رہا ہے اور ’ہمارے اتحادیوں نے احتجاج کی کال موخر کرنے کی درخواست کی تھی۔‘

    اس سے قبل انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت عمران خان کی صحت سے متعلق رپورٹ پی ٹی آئی کی قیادت کے ساتھ شیئر کرے گی۔

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو عمران خان کی صحت کے حوالے سے خدشات تھے جس کی بنا پر 15 اکتوبر کو احتجاج کی کال دی گئی تھی۔

  5. ایرانی القدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قآنی کے منظرعام پر آنے سے ان کی موت کی قیاس آرائیاں دم توڑ گئیں

    ایرانی القدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قآنی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاسداران انقلاب کے کمانڈراسماعیل قآنی کی تہران میں موجودگی کے بعد ان کی موت کی قیاس آرائیاں دم توڑ گئی ہیں۔

    ایرانی القدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاانی تقریبا ایک ہفتے منظر عام سے غائب رہنے کے بعد منگل کے روز اس وقت سامنے آئے جب وہ عباس نیلفروشن کے جنازے میں شرکت کے لیے پہنچے۔

    پاسداران انقلاب کے سینیئر رہنما عباس نیلفروشن گزشتہ ماہ لبنان میں حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ کے ساتھ بیروت پر اسرائیلی فضائی حملے کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔

    اسماعیل قآنی اس حملے کے بعد سے ہی نظروں سے اوجھل تھے اور بعض ذرائع ابلاغ میں سے خبریں پھیلائی گئیں کہ لبنان پر اسرائیلی فضائی حملے میں وہ بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

    تاہم منگل کے روز وہ پاسداران انقلاب کی سبز فوجی وردی پہنے عباس نیلفروشن کے تہران میں ادا کی جانے والی نماز جنازہ کے اجتماع میں دکھائی دیے۔

    دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران اسرائیل کو اپنے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کا جوابدہ ٹھہرانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے گا۔‘

  6. جنگ بندی ہونے پر ملک کے جنوب میں اپنی فوج کی موجودگی بڑھائیں گے: نجیب میقاتی

    لبنان کے قائم مقام وزیر اعظم نجیب میقاتی نے جنگ بندی کی صورت میں ملک کے جنوب میں فوج کی تعداد بڑھانے کے اقدامات کی تصدیق کی ہے۔

    وزیر اعظم نجیب میقاتی کے مطابق اگر حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی ہو جاتی ہے تو ان کی حکومت ملک کے جنوب میں اپنی فوج کی موجودگی کو مضبوط کرنے کے لیے تیار ہے۔

    نجیب میقاتی نے ایجنسی فرانس کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران یہ بات کہی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس اس وقت جنوبی لبنان میں 4,500 فوجی ہیں، اور ہم ان میں سات ہزار سے گیارہ ہزار تک کے درمیان اضافہ کرنے کا ادارہ رکھتے ہیں۔‘

    انھوں نے واضح کیا کہ اگر جنگ بندی ہو جاتی ہے تو ’فوجیوں کو غیر متحرک علاقوں سے نکال کر ملک کے جنوب میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ بیروت کے واحد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حفاظتی اقدامات سخت کیے گئے تھے تاکہ کسی بھی اسرائیلی حملے کو روکا جا سکے۔

    نجیب میقاتی کے مطابق ایک ہفتے قبل ہوائی اڈے پر سکیورٹی کے انتظامات کو بڑھایا گیا تھا۔ یاد رہے کہ بیروت کا واحد بین الاقوامی ہوائی اڈہ جنوب میں واقع ہے جس کے قریب شدید اسرائیلی بمباری کا نشانہ بننے والا علاقہ موجود ہے۔

    کیا اسرائیلی افواج گذشتہ ستمبر کے آخر میں زمینی دراندازی شروع کرنے کا اعلان کرنے کے بعد اب لبنان کے اندر موجود ہیں؟

    اس سوال کا جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہماری معلومات یہ ہیں کہ آگے پیچھے مسلسل آپریشن ہو رہے ہیں، تو وہ اخل ہوتے ہیں اور باہر نکل جاتے ہیں۔

  7. تل ابیب کے قریب فائرنگ میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور چار افراد زخمی

    تل ابیب کے قریب فائرنگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائرنگ کا واقعہ اسرائیل کی اہم سڑکوں میں سے ایک سڑک نمبر چار پر پیش آیا ہے

    اسرائیلی پولیس نے تل ابیب کے قریب فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت اور چار افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    اسرائیلی پولیس کے ترجمان میرٹ بین مائیر نے کہا ہے کہ ’کچھ دیر پہلے ایک شدت پسند تل ابیب اور یبنہ کے درمیان سڑک پر آیا اور پولیس کی گاڑی پر فائرنگ شروع کر دی۔ پھر اس نے کاروں پر فائرنگ کی اور کچھ افراد کو زخمی کر دیا ہے۔‘

    فائرنگ کرنے والے کی شناخت اور مقاصد کے بارے میں اب تک معلومات نہیں دی گئیں۔

    اسرائیل کی ایمبولینس سروس آرگنائزیشن کے مطابق فائرنگ کا واقعہ سڑک نمبر چار پر پیش آیا ہے جو اسرائیل کی اہم سڑکوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔

    اسرائیلی پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک شخص نے کاروں پر فائرنگ شروع کر دی جس کے بعد اسے ایک راہگیر نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

  8. قطر کے امیر کا اسرائیل پر تشدد میں بڑھاوا دینے کا الزام

    قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنقطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے ستمبر میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب بھی کیا تھا

    قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے اسرائیل پر مغربی کنارے اور لبنان میں ’تشدد‘ پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اس کی آڑ میں اپنے پہلے سے تیار کردہ منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا چاہتا ہے۔

    قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے ملک کے قانون ساز ادارے مجلس شوریٰ کی افتتاحی تقریب میں کہا کہ ’اسرائیل یہ اقدام اس لیے کر رہا ہے کیونکہ وہ دیکھ رہا ہے کہ اس کے لیے راہ ہموار ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ لبنانی سرحد پر تنازع کو بڑھنے سے روکنے کا „سب سے آسان اور محفوظ طریقہ‘ یہ ہے کہ غزہ کو تباہی کے کنارے پر پہنچانے والی جنگ کو روکا جائے۔‘

    یاد رہے کہ قطر مصر اور امریکہ کے ساتھ مل کر غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کے تبادلے کی کوششوں کا اہم ثالث ہے۔

  9. جبالیہ کو امداد فراہم کرنا اب بھی ناممکن ہے: اقوام متحدہ, یولیند نیل

    شمالی غزہ سے لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوام متحدہ کے امدادی کارکن پر امید ہیں کہ جنگ سے متاثرہ افراد کے لیے خوراک لے جانے والے 30 ٹرک آج شمالی غزہ میں داخل ہو جائیں گے۔

    کچھ علاقوں میں خوراک کی تقسیم کے مراکز اب بھی فعال ہیں۔ تاہم امدادی کارکنوں کے مطابق جبالیہ میں اسرائیلی فورسز کی زمینی کارروائیوں کی وجہ سے وہاں تک رسائی ناممکن ہے۔

    قبل ازیں اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ جبالیہ پر حملے کا ہدف حماس کی آپریشنل فورسز تھیں۔

    غزہ تک رسائی کا انتظام کرنے والی اسرائیلی ایجنسی نے گزشتہ روز کہا تھا کہ اس نے آٹے سمیت دیگر امداد لے جانے والے ورلڈ فوڈ پروگرام کے 30 ٹرکوں کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی ہے۔

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دو ہفتوں میں یہ پہلا موقع ہے جب غزہ میں تمام امداد کی اجازت دی گئی ہے۔

    اقوام متحدہ کے انسانی امور کےشعبے سربراہ جارجیوس پیٹرو پولوس نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال انتھائی نازک ہے۔

    ان کے مطابق ’کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں ہے، خوراک کی کمی ہے، اور اسرائیل کی طرف سے اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ امداد جبالیہ تک پہنچ سکے گی۔ ‘

    یاد رہے کہ اس علاقے میں ایک لاکھ سے زیادہ پناہ گزین پھنسے ہوئے ہیں۔

  10. ایران میں پاسداران انقلاب کے آپریشن کمانڈر عباس نیلفروشن کی نمازِ جنازہ میں لوگوں کی بڑی تعداد میں شرکت

    عباس نیلفروشن کی نماز جنازہ

    ،تصویر کا ذریعہreu

    ایران کے طاقتور فوجی دستے پاسداران انقلاب کے آپریشن کمانڈر عباس نیلفروشن کی نمازجنازہ کی ادائیگی کے لیے ایران کے دارالحکومت تہران میں لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہے۔

    یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ نیلفروشان 27 ستمبر کو لبنان میں اسرائیلی حملوں میں حزب اللہ کے سابق رہنما حسن نصر اللہ کے ساتھ مارے گئے تھے۔

    گزشتہ روز عباس نیلفروشن کی میت کو ان کے آبائی ملک منتقل کرنے سے قبل عراق میں نماز جنازہ کے دو الگ الگ اجتماعات ہوئے۔

    نماز جنازہ میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر، اسماعیل قآنی نے شرکت کی۔

    ایران کے سرکاری ٹی وی پر ان کی موجودگی نے ان کی ہلاکت کےبارے میں قیاس آرائیوں کو ختم کر دیا۔

    ان دنوں میں جب لبنانی حزب اللہ کے سینیئر اہلکار دحیہ میں اسرائیلی بمباری میں یکے بعد دیگرے مارے گئے تھے، ان کی عدم موجودگی نے یہ شبہ پیدا کر دیا تھا کہ اسماعیل قآنی بیروت کے جنوب میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں مارا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ جمعہ کوپاسداران انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ انھوں نے عباس نیلفروشن کی لاش حاصل کر لی ہے۔

    خبرساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انھیں ایران کے شہر اصفہان میں ان کے آبائی علاقے میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

  11. حزب اللہ پر ’بے رحمانہ‘ حملے جاری رکھیں گے: نیتن یاہو کی ڈرون حملے کے بعد بیروت کو ایک بار پھر دھمکی, جوئل گنٹر، بی بی سی نیوز، بیروت

    اسرائیل کی حملوں کی دھمکی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے پیر کی رات گئے اپنے بیان میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ پر ’بغیر رحم کھائے‘ حملے جاری رکھے گا اور اس میں دارالحکومت بیروت کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔

    ان کا یہ انتباہ اایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کی جانب سے شمالی اسرائیل میں ایک فوجی اڈے پر ڈرون حملے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔

    اس حملے کے نتیجے میں چار اسرائیلی فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

    بیروت پر کوئی بھی تازہ حملہ چار دن کے وقفے ختم کر دے گا۔ اس سے قبل لبنان کے دارالحکومت پر روزانہ اسرائیلی حملےمعمول بن چکے تھے۔

    ایسی غیر مصدقہ اطلاعات بھی سامنے آئیں جس میں کہا گیا کہ نیتن یاہو نے امریکی حکومت کی درخواست پر بیروت پر حملے معطل کر دیے ہیں۔

    جمعرات کی رات شہر کے مرکز میں ہونے والے اُن حملوں میں لبنان کے مطابق 22 شہری ہلاک ہوئے تھے۔

    لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی نے منگل کے روز ملک کے وسط میں واقع وادی بیقا میں رات گئے درجنوں اسرائیلی حملوں کی اطلاع دی ہے۔

  12. غزہ اسرائیل جنگ میں آج کی صورت حال کا خلاصہ

    غزہ اور لبنان پر حملے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنایران کے اسرائیل پر 180 بیلسٹک میزائل داغے جانے اور اسرائیل کی جانب سے حیران کر دینے والی جوابی کارروائی کی دھمکی کے بعد سے خطے میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔

    پیر کی رات گئے سے اب تک غزہ اسرائیل جنگ کے حوالے سے چیدہ چیدہ خبروں کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

    • اسرائیلی دفاعی افواج کا کہنا ہے کہ اُن کی جانب سے پیر کو جنوبی لبنان اور غزہ میں 230 سے​​زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
    • اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے بائیڈن انتظامیہ کو اس بارے میں آگاہ کیا ہے کہ وہ ایران میں ایک محدود فوجی کارروائی میں اُن کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
    • اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جنوبی لبنان میں ان کے امن دستے اپنا کام جاری رکھیں گے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب اسرائیل کی جانب سے بارہا اقوام متحدہ سے یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ اپنی امن افواج سے کہیں کہ وہ جنگ زدہ علاقوں سے دور رہیں۔
    • لبنان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ شمالی لبنان میں ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 21 ہو گئی ہے۔یہ حملہ مسیحی اکثریتی علاقے ایطو میں ہوا جہاں اسرائیلی فضائیہ نے ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا۔ لبنان کا یہ علاقہ اُن علاقوں سے کافی دور ہے کہ جہاں اس سے قبل اسرائیلی فوج مسلح اسلامی گروپ حزب اللہ کو نشانہ بنانے کے لیے ہزاروں حملے کر چُکی ہے۔
  13. اسرائیل کا لبنان اور غزہ میں 230 سے زائد اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی دفاعی افواج کا کہنا ہے کہ اُن کی جانب سے پیر کو جنوبی لبنان اور غزہ میں 230 سے ​​زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    آئی ڈی ایف کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ انھوں نے زمینی اور فضائی حملوں دونوں میں ’درجنوں شدت پسندوں‘ کو نشانہ بنایا۔

    اسرائیلی دفاعی افواج کا کہنا تھا کہ جن شدت ہسندوں کو نشانہ بنایا گیا اُن کے پاس ’بڑی مقدار میں گولہ بارود، رائفلیں، ہیلمٹ، مواصلاتی آلات، اور دیگر جنگی ساز و سامان موجود تھا۔‘

    آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ غزہ کے شمالی علاقے جبالیہ میں اُن کا آپریشن جاری ہے۔ دوسری جانب یہ اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں کہ حالیہ کُچھ دنوں کے دوران مبینہ طور پر اسرائیلی توپ خانے کی گولہ باری سے اس علاقے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے۔

  14. اسرائیل ایران پر جوابی حملے کے آپشنز پر غور کر رہا ہے: نیتن یاہو

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کے اسرائیل پر 180 بیلسٹک میزائل داغے جانے اور اسرائیل کی جانب سے حیران کر دینے والی جوابی کارروائی کی دھمکی کے بعد سے خطے میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔

    واشنگٹن پوسٹ میں چھپنے والے ایک مضمون میں دو عہدیداروں نے اس بارے میں بتایا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے بائیڈن انتظامیہ کو اس بارے میں آگاہ کیا تھا کہ وہ ایران میں ایک محدود فوجی کارروائی میں اُن کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    تاہم گزشتہ شب اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے سامنے آنے والے ایک بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم امریکہ کی رائے اور بات کو اہمیت ضرور دیتے ہیں لیکن ہم اپنے حتمی فیصلے اپنے قومی مفاد کی بنیاد پر کریں گے۔‘

  15. اقوام متحدہ کا لبنان سے اپنی امن فوج کے دستوں کو نکالنے سے انکار

    UN

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جنوبی لبنان میں ان کے امن دستے اپنا کام جاری رکھیں گے۔

    اقوام متحدہ کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب اسرائیل کی جانب سے بارہا اقوام متحدہ سے یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ اپنی امن افواج سے کہیں کہ وہ جنگ زدہ علاقوں سے دور رہیں۔

    اقوام متحدہ کے امن مشن کے سربراہ ژاں پیئر لاکروکس نے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا کہ یونیفائل فورس (اقوامِ متحدہ کی امن فورس) کو علاقے میں رہنے اور اپنا کام جاری رکھنے کے فیصلے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور اس فورس میں شامل رکن ممالک دونوں کی ہی مکمل حمایت حاصل ہے۔

    اتوار کو اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے دو ٹوک الفاظ میں اقوام متحدہ کو خبردار کیا تھا کہ وہ جنوبی لبنان میں اپنے اڈوں کو خالی کر دیں، جو ان کے بقول حزب اللہ کے جنگجوؤں کے لیے انسانی ڈھال کا کام کر رہے ہیں۔

    تاہم اقوام متحدہ نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

    Lebanon

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوامِ متحدہ کی امن فوج کے سربراہ نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ اُن کے دستے اپنی جگہ پر اپنے فرائص سر انجام دیتے رہیں جن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے دیا گیا مینڈیٹ پورا کرنا اور شہری آبادی کی مدد کرنا شامل ہے۔

    دوسری جانب اسرائیل کا مؤقف ہے کہ اقوام متحدہ حزب اللہ کو سرنگوں کی تعمیر اور سرحد کے قریب راکٹ اور میزائل جیسے ہتھیار رکھنے سے روکنے میں ناکام رہا ہے، اُن کے مطابق یہ اُس معاہدے کی خلاف ورزی ہے جس کی بدولت خطے میں 18 سال قبل جنگ ختم ہوئی تھی۔

    اقوام متحدہ نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ جان بوجھ کر اُن کے اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جس میں گزشتہ ہفتے پانچ امن فوج کے اہلکار زخمی ہوئے، تاہم اقوام متحدہ کے اس الزام کو اسرائیلی وزیراعظم نے مسترد کر دیا ہے۔

    گزشتہ رات ایک اور بیان میں انھوں نے کہا کہ اسرائیل ایسے واقعات کو روکنے کے لیے اپنی پوری کوشش کرے گا لیکن اقوام متحدہ کے امن دستوں کو جنگ زدہ علاقوں سے دور رہنے کی ضرورت ہے۔

  16. لبنان کے شمالی علاقے میں اسرائیلی حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 21 ہو گئی

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    لبنان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ شمالی لبنان میں ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 21 ہو گئی ہے۔

    یہ حملہ مسیحی اکثریتی علاقے ایطو میں ہوا جہاں اسرائیلی فضائیہ نے ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا۔ لبنان کا یہ علاقہ اُن علاقوں سے کافی دور ہے کہ جہاں اس سے قبل اسرائیلی فوج مسلح اسلامی گروپ حزب اللہ کو نشانہ بنانے کے لیے ہزاروں حملے کر چُکی ہے۔

    رہائشیوں نے بتایا کہ حال ہی میں جنگ سے بے گھر ہونے والا ایک خاندان وہاں رہ رہا تھا۔

    اسرائیلی فوج نے فوری طور پر ان اطلاعات پر کوئی تبصرہ تو نہیں کیا۔ تاہم یہ حملہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے اُس بیان کے بعد ہوا ہے کہ جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’بیروت سمیت لبنان میں ہر جگہ حزب اللہ پر بغیر کسی رحم کے حملے جاری رکھے جائیں گے۔‘

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی وزیراعظم نے یہ بیان شمالی اسرائیل میں اُس فوجی اڈے کے دورے کے دوران دیا تھا کہ جسے اتوار کی رات ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ نے ڈرون سے نشانہ بنایا تھا اور اس حملے میں چار اسرائیلی فوجیوں کو ہلاکت اور درجنوں کے زخمی ہونے کی خبر آئی تھی۔

    اسرائیلی فوج کی جانب سے حزب اللہ کے اس ڈرون حملے کے بعد جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ وہ اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ جدید ترین فضائی دفاعی نظام کے ہونے کے باوجود کیسے ڈرون نے بنیامینا قصبے کے قریب گولانی بریگیڈ کے تربیتی مرکز کو نشانہ بنایا۔

    واضح رہے کہ یہ غزہ میں جنگ کے شروع ہونے کے بعد سے اب تک اسرائیل پر حزب اللہ کے مہلک ترین حملوں میں سے ایک تھا۔

  17. شنگھائی تعاون تنظیم کا 23 واں اجلاس: آٹھ ممالک کے وزرائے اعظم کی شرکت

    Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا 23 واں سربراہی اجلاس آج سے شروع ہو رہا ہے جس میں پاکستان سمیت آٹھ ممالک کے وزرائے اعظم شرکت کریں گے۔

    ایس سی او سربراہی اجلاس میں میزبان پاکستان کے وزیراعظم کے علاوہ چین، بیلاروس، قازقستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان کے وزیراعظم شرکت کریں گے۔

    اجلاس میں کرغزستان کی کابینہ کے چیئرمین، ایران کے اول نائب صدر اور انڈیا کے وزیرخارجہ سبرامنیم جے شنکر بھی شرکت کر رہے ہیں۔

    سربراہی اجلاس میں منگولیا مبصر کے طور پر شرکت کررہا ہے جس کی نمائندگی منگولیا کے وزیراعظم کررہے ہیں۔ ترکمانستان کی بطور مہمان خصوصی نمائندگی کابینہ کے نائب چیئرمین راشد مریدوف کررہے ہیں۔

    دیگر مہمانوں میں ایس سی او کے سکرٹری جنرل جانگ منگ، ڈائریکٹر ایگزیکٹو کمیٹی ایس سی او ریجنل اینٹی ٹیررسٹ سٹرکچر رسلان مرزائیف، بورڈ آف ایس سی او بزنس کونسل کے چیئرمین عاطف اکرام شیخ اور کونسل آف ایس سی او انٹربینک یونین کے چیئرمین مارات ییلی بائیف شامل ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف پاکستان آنے والے مُمالک کے وفد کے سربراہان سے اہم دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔

    Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایس سی او اجلاس میں معیشت، تجارت، ماحولیات اور سماجی و ثقافتی روابط کے شعبوں میں جاری تعاون پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور تنظیم کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ تنظیم کے رکن ممالک باہمی تعاون کو مزید بڑھانے اور تنظیم کے بجٹ کی منظوری کے لیے اہم تنظیمی فیصلے کریں گے۔

    تاہم پاکستانی دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں 15 اور 16 اکتوبر کو ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اجلاس کی تفصیلات جاری کردیں ہیں۔

    دو روزہ اس اہم اجلاس کے پہلے روز یعنی 15 اکتوبر کو اس میں شرکت کے لیے غیر ملکی وفود اسلام آباد پہنچیں گے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مہمانوں کی آمد پر وفود کے اعزاز میں عشائیہ دیا جائے گا، ایس سی او سمٹ کا باقاعدہ آغاز 16 اکتوبر کو جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد میں ہوگا، جناح کنونشن سینٹر آمد پر وزیر اعظم شہباز شریف تمام غیر ملکی سربراہان اور وفود کا خیر مقدم کریں گے۔

    کانفرنس کا باقاعدہ آغاز مہمانوں کی آمد، استقبال اور گروپ فوٹوز کے بعد ہوگا، وزیراعظم شہباز شریف ایس سی او کانفرنس سے افتتاحی خطاب کریں گے جس کے بعد غیر ملکی وفود کے سربراہان کانفرنس سے خطاب کریں گے۔

    غیر ملکی رہنماؤں کے خطاب کے بعد دستاویزات پر دستخط کیے جائیں گے، وزیر اعظم شہباز شریف کے اختتامی کلمات سے کانفرنس کے ایجنڈا آئٹمز مکمل ہوں گے۔

  18. حزب اللہ کو حملے کا انتہائی سخت جواب دیا جائے گا: اسرائیلی وزیر دفاع

    اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کو حملے کا انتہائی سخت جواب دے گا۔

    اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ ردعمل اتوار کی شب اسرائیلی فوج کے ایک اڈے پر حزب اللہ کے ڈرون حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    اس ڈرون حملے کے نتیجے میں چار اسرائیلی فوجی مارے گئے تھے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع کے بیان کے مطابق انھوں نے گزشتہ رات اپنے امریکی ہم منصب لائیڈ آسٹن سے بات کی اور اس دوران حملے کی شدت اور حزب اللہ کے خلاف شدید ردعمل دئے جانے کے فیصلے کو واضح کیا۔

    ادھر امریکی محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ ٹیلیفون کال کے دوران، لائیڈ آسٹن نے اسرائیل کی سلامتی کے لیے امریکہ کے عزم کا اظہار کیا اور سرحد کے دونوں جانب شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ڈپلومیسی کے راستے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔

  19. لبنان میں حزب اللہ کا زیر زمین اسلحے سے ’مالا مال‘ کمانڈ سینٹر دریافت: آئی ڈی ایف کا دعویٰ

    جنوبی لبنان میں ایک 800 میٹر لمبا زیر زمین کمپاؤنڈ سینٹر

    ،تصویر کا ذریعہIDF

    اسرائیلی فوج کو جنوبی لبنان میں ایک 800 میٹر لمبا زیر زمین کمپاؤنڈ ملا ہے جس کے بارے میں آئی ڈی ایف کا دعویٰ ہے کہ اسے حزب اللہ اپنے کمانڈ سینٹر کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

    آئی ڈی ایف کے ترجمان ڈینیل ہگاری نے کہا کہ حزب اللہ کے جنگجو زیر زمین سرنگ کو کو ایک ایسے اڈے کے طور پر استعمال کرنے جا رہے تھے جہاں سے وہ اسرائیل میں داخل ہو کر حملے کر سکیں۔

    آئی ڈی ایف کے بیان کے مطابق انھیں اس کمپاؤنڈ میں ہیلی کاپٹر سے فائر کیے جانے والے میزائلوں کے ساتھ ساتھ مارٹر گولے، موٹر سائیکلیں، رہائشی کوارٹر اور ایک باورچی خانے میں طویل مدتی قیام کے لیے خوراک کا ذخیرہ ملا ہے۔

    آئی ڈی ایف نے مزید کہا کہ زیر زمین کمپاؤنڈ پر چھاپے کے دوران، اسرائیلی فوجیوں نے وہاں موجود حزب اللہ کے ایک جنگجو کو بھی ہلاک کر دیا۔

  20. شمالی لبنان میں اسرائیلی حملے کے بعد تباہی کی جھلکیاں

    شمالی لبنان میں حملے سے تباہی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنحملے کے بعد امدادی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچیں

    شمالی لبنان میں اسرائیلی حملے کے مقام سے تصاویر آنا شروع ہو رہی ہیں جس میں وہاں ہونے والی تباہی کو جانچا جا سکتا ہے۔

    گزشتہ سال سات اکتوبر کو حماس کے حملوں کے بعد سےاب تک اسرائیل نے مسیحی اکثریتی علاقے کو پہلی بار نشانہ بنایا ہے۔

    شمالی لبنان میں حملے سے تباہی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    شمالی لبنان میں حملے سے تباہی

    ،تصویر کا ذریعہReu

    ،تصویر کا کیپشنشمالی لبنان میں حملے کے مقام پر کھڑی گاڑیاں تباہ ہو گئیں

    لبنانی ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ اس حملے میں 18 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس حملے کے بعد تباہی کا ملبہ پورے علاقے میں پھیلا ہوا ہے۔