یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
18 اکتوبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
اسرائیل کے مطابق حماس کے سربراہ یحییٰ السنوار کو اسرائیلی فوجیوں نے غزہ میں ہلاک کر دیا ہے۔ امریکی صدر بائیڈن نے نتن یاہو سے رابطہ کر کے انھیں اس مشن پر مبارکباد دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اب اسرائیل یرغمالیوں کی واپسی اور اسرائیل کی سلامتی یقینی بنا سکتا ہے۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
18 اکتوبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
امریکی صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کملا ہیرس دونوں نے یحییٰ سنوار کی ہلاکت پر بیان دیے ہیں۔
بائیڈن نے کہا کہ یہ ’اسرائیل، امریکہ اور دنیا کے لیے اچھا دن ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ حماس غزہ میں برسرِ اقتدار نہیں تو یہ اچھا موقع ہے کہ ’اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے بہتر مستقبل کے لیے سیاسی حل تلاش کیا جائے۔‘
وائٹ ہاؤس کے مطابق بائیڈن نے نتن یاہو سے بھی رابطہ کیا اور انھیں اس مشن پر مبارکباد دی۔ انھوں نے کہا کہ اب اسرائیل یرغمالیوں کی واپسی اور اسرائیل کی سلامتی یقینی بنا سکتا ہے۔
دوسری طرف کملا ہیرس نے اسے ’انصاف‘ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ سنوار ہزاروں معصوم لوگوں کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ اس ہلاکت سے حماس کے متاثرین کے خاندان راحت محسوس کر سکیں گے۔
ادھر ایران کا کہنا ہے کہ سنوار کی ہلاکت سے ’مقبوضہ علاقوں کو آزاد کرانے کے لیے مزاحمت کے جذبے کو تقویت ملے گی۔‘
نیویارک میں اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے ایکس پر لکھا کہ سنوار ’نوجوانوں اور بچوں کے لیے ایک مثال بنیں گے اور وہ فلسطین کی آزادی کی راہ پر گامزن رہیں گے۔ جب تک قبضہ اور جارحیت جاری رہے گی، مزاحمت بھی جاری رہے گی۔‘
اسرائیلی دفاعی افواج کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز جنوبی لبنان میں ہونے والی لڑائی میں اُن کے پانچ فوجی ہلاک ہوئے۔
ایک بیان میں آئی ڈی ایف نے مزید کہا کہ بدھ سے اب تک جنوبی لبنان اور غزہ پانچ فوجیوں کے ہلاکت ہوئی اور نو فوجی شدید زخمی ہوئے۔
تاہم دوسری جانب اسرائیلی افواج نے لبنان کے کچھ حصوں میں مزید فضائی حملے کیے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی بیکا کے علاقے میں واقع تمنین الفوقہ گاؤں اور ساحلی شہر صور کے قریب واقع ایک گاؤں میں انخلا کی متعدد وارننگ جاری کی ہیں جس کے بعد اُن علاقوں سے حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نیشنل نیوز ایجنسی نے بھی بتایا کہ الخیام قصبے میں گزشتہ رات تقریبا 10 منٹ میں سات فضائی حملے کیے گئے۔
لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد کے مناظر:

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار کو ’ہولوکاسٹ کے بعد سے اپنے لوگوں کے بد ترین قتلِ عام میں ملوث فرد قرار دیا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ اسرائیل نے یحییٰ سنوار کے ساتھ اپنا حساب چُکتا کر دیا ہے مگر جو ٹاسک انھیں درپیش ہے وہ ابھی تک مکمل نہیں ہوا۔ یہ ٹاسک اُسی وقت مکمل ہوگا کہ جب تک تمام اسرائیلی یرغمالی اپنے اپنے گھروں کو واپس نہیں لوٹ آتے۔
غزہ کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ’سنوار نے آپ کی زندگیاں تباہ کر دیں‘ اور اب جب وہ مر چکے ہیں تو ’حماس اب علاقے پر اپنا کنٹرول کھو چُکی ہے۔‘
اسرائیلی وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے یرغمالیوں کی واپسی ہمارے تمام مقاصد کو حاصل کرنے کا ایک موقع ہے اور جنگ کا اختتام بھی یہی ہوگا۔‘
نیتن یاہو نے یرغمالیوں سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس کسی کی بھی حراست میں ہمارے لوگ (یرغمال بنائے گیے اسرائیلی) ہیں انھیں وانگ دی جا رہی ہے کہ ’جو کوئی بھی اپنا ہتھیار ڈال دے گا اور ہمارے یرغمالیوں کو رہا اور اسرائیل کے حوالے کر دے گا اسے نا صرف جانے دیا جائے گا بلکہ اُن اُسے کسی بھی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔‘
تاہم اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ بات یاد رکھی جائے کہ جو بھی ہمارے یرغمالیوں کو نقصان پہنچائے گا، اس کا خون اس کے اپنے سر پر ہے۔ ہم ان کے ساتھ حساب کتاب برابر کریں گے۔‘
اسرائیلی پولیس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار کی لاش کی شناخت ابتدائی طور پر اُن کے دانتوں کے تجزیے اور جائزے سے ہوئی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اس کے بعد ان کے فنگر پرنٹس کا موازنہ کرکے اُن کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی۔‘
اسرائیل کے پاس ان کے ڈی این اے ریکارڈ کے ساتھ ساتھ اُن کے فنگر پرنٹس (اُنگلیوں کے نشانات) موجود ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یحییٰ 22 سال تک اسرائیل کی قید میں گُزار چُکے ہیں۔
واضح رہے کہ اب تک حماس کی جانب سے اپنے سربراہ یحییٰ سنوار کی ہلاکت سے متعلق کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یحییٰ السنوار کی ہلاکت حماس کے لیے زلزلے کے ایک بڑے جھٹکے سے کم نہیں ہو گی۔
جب حماس نے انھیں رواں برس اسماعیل ہنیہ کے متبادل کے طور حماس کا سربراہ چُنا تو یہ انحراف اور بے لچک رویے پر مبنی ایک دانستہ عمل تھا۔ یحییٰ سے زیادہ ’سمجھوتہ نہ کرنے والی شخصیت‘ کا انتخاب نہیں کیا جا سکتا تھا۔
لبنان میں حزب اللہ کی طرح حماس نے بھی اپنے ایک کے بعد ایک لیڈر کو ہلاک ہوتے ہوئے دیکھا ہے، گذشتہ ایک برس کے دوران حماس کے سینکڑوں جنگجو ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اُن کے اسلحے کے ذخیرے تباہ کیے گئے ہیں۔
حماس کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ کیا اب ایسا معاہدہ کرنے کا وقت آ گیا ہے جس سے غزہ کی پٹی میں تباہی پھیلانے والے اسرائیلی فوجی آپریشن کو ختم کیا جا سکے۔ یا اس کے برعکس لڑائی اور مزاحمت جاری رکھی جائے اس امید کے ساتھ کہ ایک روز اسرائیل کا صبر اور حوصلہ جواب دے جائے گا۔
امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے حال ہی میں کہا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ ’90 فیصد‘ ہو چکا ہے تو کیا السنوار کا قتل بالآخر اس معاہدے کو مکمل کرنے اور اسرائیل کے یرغمالیوں کو گھر لانے کا ایک موقع ہو سکتا ہے؟
مگر اس کے برعکس ہونے کا خطرہ بھی ہے: یعنی حماس کے بچ جانے والے ناراض اراکین کو کسی بھی قسم کے جنگ بندی کے سمجھوتہ سے پہلے سے کہیں زیادہ دور کرنا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
اسرائیل کی دفاعی افواج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار بدھ کے روز غزہ کے جنوب میں ایک فوجی کارروائی میں ہلاک کیا گیا تھا۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ہونے والے اس بیان سے قبل اسرائیل کے وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز نے اپنے ایک بیان میں حماس کے سربراہ یحییٰ سے متعلق بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ اُنھیں جمعرات کے روز ہلاک کیا گیا۔ تاہم اسرائیلی انتظامیہ کے بیانات میں اس تضاد کی وجہ واضح نہیں۔
ایک بیان میں آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ سنوار نے 7 اکتوبر کے حملے کی منصوبہ بندی کی اور اس پر عمل درآمد کیا اور وہ ’بہت سے اسرائیلیوں کے قتل اور اغوا کے ذمہ دار تھے۔‘
بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ یحییٰ سنوار کو غزہ کی پٹی میں حماس کی سرنگوں میں گزشتہ ایک سال تک چھپے رہنے کے بعد سُراغ لگا کر نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ حماس کے سینئر ارکان کے مشتبہ ٹھکانوں کی نشاندہی کرنے والی انٹیلی جنس معلومات کے بعد جنوبی غزہ میں کارروائی کر رہی ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ علاقے میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے والی آئی ڈی ایف کی 828 بریگیڈ نے ’تین عسکریت پسندوں کو شناخت کرنے کے بعد ہلاک کیا،‘ شناخت کے عمل میں اس بات کی تصدیق ہوئی کہ ہلاک ہونے والوں میں سے ایک حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار بھی تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یحییٰ السنوار کا غزہ کے منظرنامے سے غائب ہو جانا حماس کے لیے ہونے والا اب تک کا سب سے بڑا سٹریٹیجک نقصان ہے۔
سنہ 2013 میں قیدیوں کے تبادلے کے نتیجے میں اسرائیلی جیل سے رہا ہونے کے بعد سے اگر اُن کا کریئر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے حماس کے سیاسی اور عسکری ونگز سمیت طاقت کے دیگر تمام مراکز کو اپنے کنٹرول میں رکھا ہوا تھا۔
یحییٰ السنوار ہی وہ شخص تھے جو غزہ کا نظم چلانے والی حماس کی حکومتی کمیٹی کے سربراہ کا چناؤ کرتے تھے۔ انھوں نے ہی اپنے بھائی محمد کے ساتھ مل کر حماس کے عسکری ونگ کی مختلف بٹالینز کے سربراہان کا تقرر کیا تھا۔ ان کے بھائی محمد غزہ کی پٹی کے جنوبی حصوں میں حماس کے طاقتور مسلح گروہوں کی سربراہی کرتے ہیں۔
اور یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر حماس کے لیے ان کی ہلاکت کے صدمے کو برداشت کرنا اور اس سے باہر نکلنا مشکل بنا دے گا۔ ان کی عدم موجودگی میں ان کا ایسا متبادل تلاش کرنا جو ان ہی کی طرح قابل قبول ہو، ایک مشکل امر ہو گا۔
ماضی میں حماس اپنے سربراہ کے نام کو خفیہ رکھتی تھی اور اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کے بعد بھی یہ آپشن زیر غور تھا تاہم یحییٰ کے نام کا اعلان کر دیا گیا مگر اب ان کی ہلاکت کے بعد یہ آپشن ایک دفعہ دوبارہ زیر غور ہو گا۔
اسرائیل کے وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز کی جانب سے حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
اسرائیل کے وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ ’حماس کے سربراہ کو جمعرات کے روز اسرائیلی فوجیوں نے ہلاک کر دیا۔‘ اسی کے ساتھ انھوں نے یحییٰ سنوار کو 7 اکتوبر کے قتل عام اور مظالم کا ماسٹر مائنڈ بھی قرار دیا۔
اسرائیلی وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز نے سنوار کے قتل کو اسرائیل اور پوری آزاد دنیا کے لیے ایک اہم فوجی فتح اور اخلاقی کامیابی قرار دیا۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ سنوار کی موت یرغمالیوں کی رہائی کی راہ ہموار کرے گی۔
تاہم اسرائیل کے صدر نے حماس کے سربراہ کو مبینہ طور پر ہلاک کرنے پر اسرائیلی افواج کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یحییٰ سنوار ’اسرائیلی شہریوں، دوسرے ممالک کے شہریوں اور ہزاروں بے گناہ لوگوں کے قتل کے خلاف دہشت گردی کی گھناؤنی کارروائیوں کے ذمہ دار تھے۔‘
اسرائیلی حکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار کی ہلاکت کی تصدیق کے لیے کوششں جاری ہے۔
اسرائیلی دفاعی افواج اور اسرائیلی پولیس کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دانتوں کی تصاویر فرانزک کے لیے بھیجوا دی ہیں اور اسی کے ساتھ ڈی این اے کے نمونوں کی بھی جانچ جاری ہے۔
یحییٰ سنوار سے متعلق اسرائیلی افواج کے پاس موجود شواہد کا موازنہ مبینہ طور پر ہلاک ہو جانے والے شخص کے ساتھ کیا جائے گا۔
اسرائیلی افواج کے پاس یحییٰ کا ڈیٹا موجود ہے کیونکہ انھوں نے اسرائیل کی قید میں 22 سال گزارے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی پولیس، فوج اور شین بیٹ انٹیلیجنس ایجنسی ’ایک حتمی شناخت قائم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں‘ اور مزید معلومات دستیاب ہونے پر جاری کی جائیں گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی ویریفائی نے غزہ سے ملنے والے آن لائن مواد کا بغور جائزہ لیا ہے کیونکہ بین الاقوامی صحافیوں کو اس علاقے تک آزادانہ رسائی حاصل نہیں۔
اسرائیلی فوج کی اس کارروائی کے بعد گردش کرنے والی تصاویر کے بارے میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان میں یحییٰ سنوار کی لاش نظر آتی ہے۔
ان تصاویر میں ایک ہلاک ہونے والے شخص کو دکھایا گیا ہے کہ جن کے سر پر شدید چوٹیں آئی ہیں اور وہ ملبے کے نیچے فوجی وردی پہنے ہوئے ہیں تاہم اسی مقام سے سامنے آنے والی ایک اور تصویر میں اسرائیلی فوجیوں کو لاش کے اردگرد کھڑے دکھایا گیا ہے۔
بی بی سی ہلاک ہو جانے والے اس شخص کا موازنہ حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار کی دیگر تصاویر سے کر رہا ہے تاکہ اس بات کی تصدیق کی جا سکے کہ آیا یہ وہ ہیں یا نہیں۔
بی بی سی آزادانہ طور پر تو ان تصاویر کی تصدیق نہیں کر سکا لیکن ہلاک ہونے والا شخص حیرت انگیز طور پر یحییٰ سنوار سے مماثلت رکھتا ہے۔
ہلاک ہونے والے شخص کی بائیں آنکھ کے قریب ایک نشان ہے جبکہ دانت اور بھنوؤں کی بناوٹ بھی یحییٰ سنوار جیسی ہے۔
لیکن ان تصاویر کو دیکھ کر فی الحال اس بات کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ یہ حملہ کس مقام پر ہوا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت نے کل تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں دو دن کے لیے دفعہ 144 بھی نافذ کر دی ہے۔
پنجاب حکومت کے محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق 18 اکتوبر سے 19 اکتوبر تک صوبے میں دفعہ 144 نافذ رہے گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ امن و امان کے قیام، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے کیا گیا۔
برطانوی وزیر دفاع جان ہیلے کا کہنا ہے کہ برطانیہ اب بھی اسرائیل کی جانب سے حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار کی ہلاکت کی تصدیق کا انتظار کر رہا ہے۔
تاہم اُن کا کہنا ہے کہ ’اگر یہ بات درست ہوئی تو مجھے سنوار جیسے شدت پسند رہنما کی موت کا افسوس نہیں ہوگا کیونکہ وہ 7 اکتوبر کو ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے ذمہ دار تھے۔‘
ہیلی کا کہنا ہے کہ وہ اور حکومت اس بات سے آگاہ ہیں کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد اسرائیل پر ہونے والے حملہ سے یہودیوں کے لیے سیاہ ترین اور مہلک ترین دن کا آغاز ہوا اور نہ صرف یہ بلکہ اسی کے ساتھ ساتھ گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے زائد جاری تنازع اور اس میں فلسطینوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
یحییٰ سنوار غزہ میں اسرائیل کا سب سے بڑا ہدف ہیں اور اُن پر الزام ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر ہونے والے حماس کے مہلک حملوں کے پیچھے اُن کا دماغ ہی کارفرما تھا۔ اکتوبر 2023 میں ہونے والے حملوں میں حماس کے ہزاروں جنگجو سرحدی باڑ کو توڑتے ہوئے اسرائیل میں داخل ہوئے جہاں انھوں نے 1200 افراد کو ہلاک جبکہ 250 سے زائد اسرائیلیوں کو یرغمال بنایا۔
غزہ میں جمعرات کو اسرائیل کی جانب سے کی گئی کارروائی کے بعد آن لائن پوسٹ کی گئی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یحییٰ سنوار سے مشابہہ ایک شخص ایک عمارت کے ملبے میں ڈھیر میں پڑا ہے جس کے جسم پر واضح طور پر جان لیوا زخم موجود ہیں۔
یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ اسرائیلیوں کی طرف سے اس شخص کے جسمانی اور بائیو میٹرک ٹیسٹ کیے جائیں گے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اسرائیلی حملے کا نشانہ بننے والا شخص واقعی یحییٰ سنوار ہے یا کوئی اور۔
اور اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ ملبے میں پڑا شخص یحیی سنوار ہی ہیں تو یہ اسرائیل کے لیے ایک اہم فوجی کامیابی ہو گی۔ 61 سالہ یحیی سنوار کو اسرائیلی قیدیوں کے ایک تبادلے کے طور پر سنہ 2011 میں اسرائیلی جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ رہائی کے بعد وہ حماس میں ایک سخت گیر اور انتہائی بااثر شخصیت بن گئے تھے جنھوں نے غزہ، اسرائیل تنازع پر سفارتی ذرائع بروئے کار لانے کے بجائے ہمیشہ مسلح تصادم کی حمایت کی۔
یہ خیال کیا جاتا ہے کہ غزہ میں جنگ کے دوران اور خاص طور پر اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کے بعد سے یحییٰ سنوار نے اپنا زیادہ تر وقت غزہ کے نیچے موجود سرنگوں میں گزارا ہے، جن کے دہانوں پر اسرائیلی یرغمالیوں کو بطور انسانی ڈھال استعمال کیا جاتا ہے۔
لیکن اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جس مقام پر یحیی سنوار کی ہلاکت کا امکان ہے وہاں سے کوئی یرغمالی نہیں ملا، جو کہ اپنے آپ میں ایک اہم پیشرفت ہے۔
ان کی موت سے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کا فوری خاتمہ تو نہیں ہو گا مگر یہ اہم پیش رفت غزہ میں جنگ کے خاتمے کو قدرے قریب لا سکتی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ کے ارکان کو بتایا گیا ہے کہ حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار کی ہلاکت کا قوی امکان ہے۔
اسرائیلی کابینہ کے دو نامعلوم عہدیداروں نے مبینہ طور پر اسرائیلی نیوز چینل 12 کو بھی بتایا ہے کہ سنوار کو ’ہلاک‘ کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اب اسرائیلی انتظامیہ اس بات کی تصدیق کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے کہ آیا یحییٰ سنوار کو ہلاک کر دیا گیا ہے یا نہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک اسرائیلی سکیورٹی اہلکار کا کہنا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ جاری ہے تاکہ اس بات کی تصدیق کی جا سکے کہ ہلاک ہونے والے تین شدت پسندوں میں حماس کے سربراہ تھے یا نہیں۔
اسرائیل کے پاس سنوار کے ڈی این اے اور دیگر بائیو میٹرک ڈیٹا فائل پر موجود ہوں گے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج کے ریڈیو پر اس حملے سے متعلق تفصیلات میں بتایا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ غزہ کے جنوبی شہر رفح میں ایک زمینی کارروائی کے دوران پیش آیا۔
دوسری جانب اسرائیل کے وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ ’ہمارا دشمن ہم سے چھپ نہیں سکتا۔ ہم ان کا تعاقب کریں گے اور انھیں ختم کریں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کی جانب سے جاری ہونے والے ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 29 افراد ہلاک جبکہ 93 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ 7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی کے نتیجے میں کم از کم 42,438 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں اور 99,246 زخمی ہوئے ہیں۔
تاہم غزہ میں سکول پر ہونے والے اس حملے کے بعد حماس نے ایک بیان میں سکول کی عمارت پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے۔
حماس نے اپنے بیان میں اسرائیل کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ سکول حماس کا کمانڈ سینٹر تھا۔
آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ غزہ میں اُن کی جانب سے جس مقام کو (سکول کی عمارت) نشانہ بنایا گیا وہاں ’درجنوں دہشت گرد‘ موجود تھے، اور وہ ایک کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر چلا رہے تھے جو اسرائیل کے خلاف ’دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی اور ان کو انجام دینے‘ کے لیے تیاری کر رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ میں ایک آپریشن کے دوران ’تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔‘
اسرائیلی فوج کے مطابق اس وقت ہلاک ہونے والوں کی شناخت کی تصدیق نہیں کی جا سکتی تاہم فوج اور اسرائیل کی سکیورٹی سروس شن بیٹ اس امکان کی تحقیقات کر رہی ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں حماس کے رہنما یحییٰ سنور بھی شامل ہیں۔
آئی ڈی ایف کا مزید کہنا تھا کہ ’جس عمارت میں دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا تھا وہاں علاقے میں یرغمالیوں کی موجودگی کے کوئی آثار نہیں تھے۔‘
یحیٰی السنوار کون ہیں؟
یحییٰ السنوار 61 برس کے ہیں اور انھیں عرف عام میں ’ابو ابراہیم‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ غزہ کی پٹی کے جنوب میں خان یونس کے ایک پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والدین کا تعلق عسقلان سے تھا اور انھیں النکبہ یعنی اسرائیل کے قیام کے نتیجے میں سنہ 1948 میں بڑے پیمانے پر جبراً اپنے آبائی علاقے چھوڑ کر ہجرت کرنی پڑی تھی۔
انھوں نے خان یونس کے ایک سیکنڈری سکول میں تعلیم حاصل کی تھی اور پھر غزہ کی اسلامک یونیورسٹی سے عربی زبان میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے لاہور میں ’پنجاب کالج‘ کے اندر مبینہ ریپ کی اطلاعات پھیلنے کے بعد سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم پر 36 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔
یہ مقدمہ لاہور میں ایف آئی آئی سائبر کرائم سرکل میں کالج انتظامیہ کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر پریوینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) کی دفعات 9، 10، 20، 24 اور 24 اے کے تحت درج کی گئی ہے۔ ان دفعات میں سائبر ٹیررازم (دہشتگردی) کی دفعہ بھی شامل کی گئی ہے۔
ایف آئی آر میں 38 سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا بھی ذکر ہے جو کہ مدعی مقدمہ کے مطابق ’انسٹٹیوٹ کے خلاف جھوٹ پروپگینڈے اور لوگوں کے اس کے خلاف تشدد پر اُکسانے میں ملوث ہیں۔‘
جن لوگوں کی سوشل میڈیا پروفائل کا ایف آئی آر میں ذکر ہے ان میں یوٹیوبر جمیل فاروقی، عمران ریاض خان سمیت سوشل میڈیا پر متحرک متعدد معروف شخصیات کے نام بھی شامل ہیں۔
یاد رہے کہ چند روز قبل پاکستان کے شہر لاہور میں ایک نجی کالج کی طالبہ کے مبینہ ریپ کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’پنجاب کالج‘ کے خواتین کے لیے مخصوص گلبرگ کیمپس میں فرسٹ ایئر کی ایک طالبہ کو اُسی کالج کے ایک سکیورٹی گارڈ نے مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بنایا ہے۔
یہ خبر سامنے آنے کے بعد طلبا کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا جو کئی روز تک جاری رہا اور اس میں دو درجن کے لگ بھگ طلبا زخمی بھی ہوئے۔
یہ پُرتشدد احتجاجی مظاہرے صرف لاہور تک محدود نہیں رہے بلکہ پنجاب کے دیگر شہروں راولپنڈی اور گوجرانوالہ تک بھی پھیل گئے۔
احتجاج کرنے والے طلبا کی جانب سے یہ دعوے بھی سامنے آئے تھے کہ کالج کی انتظامیہ مبینہ طور پر اس واقعے کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے اور اس حوالے سے دستیاب تمام شواہد بھی ختم کر دیے ہیں۔
پُرتشدد احتجاج کے بعد پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا جبکہ پولیس کی جانب سے اُس سکیورٹی گارڈ کو بھی حراست میں لے لیا گیا تھا جسے مظاہرین کی جانب سے اس واقعے کا ملزم قرار دیا جا رہا تھا جبکہ لاہور پولیس کی جانب سے طلبا اور عوام سے متعدد بار اپیل کی گئی تھی اگر اُن کے پاس اس واقعے یا ریپ سے متاثرہ بچی سے متعلق کوئی تفصیل موجود ہے تو وہ پولیس کے ساتھ شیئر کی جائے۔
بدھ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ پنجاب حکومت اُس روز سے پوری مستعدی کے ساتھ اُس متاثرہ بچی کی تلاش میں تھی جس کا نام اس واقعے میں لیا جا رہا تھا۔
’ابتدا میں خبر پھیلائی گئی کہ ریپ کا یہ مبینہ واقعہ 10 اکتوبر کو پیش آیا تھا اور جس بچی کا نام لیا جا رہا تھا درحقیقت وہ دو اکتوبر سے ہسپتال میں داخل ہے کیونکہ وہ گِری تھی اور اسے چوٹ لگی تھی، وہ بچی آئی سی یو میں داخل تھی جب اسے ریپ کا وکٹم بنا دیا گیا۔‘
مریم نواز نے کہا کہ ’سوشل میڈیا پر اس واقعے کو پھیلایا گیا اور کہانیاں گھڑی گئیں جن کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ پنجاب میں طلبا کو مشتعل اور گمراہ کر کے حکومت کے خلاف مہم چلانے کی کوشش کی گئی۔‘
دوسری جانب منگل کے روز اسسٹنٹ سپرٹنڈنٹ آف پولیس ڈیفنس شہربانو نقوی نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اب تک کی تحقیقات کے مطابق ایسے کسی واقعے کے شواہد نہیں مل پائے جس میں کالج کی کسی لڑکی کو ریپ کیا گیا ہو۔

،تصویر کا ذریعہsocial media
لاہور کے بعد صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی اور اسلام آباد میں بھی مختلف طالجوں کے طلبہ کی جانب سے توڑ پھوڑ اور احتجاج کے بعد کم از کم 350 طلبہ زیرِحراست ہیں اور 36 کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
راولپنڈی پولیس کے ترجمان کے مطابق راولپنڈی میں ویڈیو فوٹیجز اور تصاویر کے ذریعے طلبا کی شناخت کا عمل شروع کیا گیا اور توڑ پھوڑ میں ملوث کم سے کم 350 سےافراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے اور ملوث ملزمان کو قانون کے مطابق عدالت سے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔
راولپنڈی پولیس کے ترجمان کے مطابق توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ یا کوئی بھی غیر قانونی سرگرمی قابل برداشت نہیں ہے اور ساتھی طلبا، اساتذہ اور شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
انھوں نے بتایا کہ کسی بھی لا اینڈ آرڈر صورتحال سے نمٹنے کے لئے راولپنڈی پولیس کی نفری شہر بھر میں مختلف مقامات پر تعینات ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ تمام صورتحال کو مانیٹر کیا جا رہا ہے اور احتجاج کے پیچھے کار فرما عناصر کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
پولیس کے مطابق نجی کالج کے طلبہ کا احتجاج دوبارہ شروع ہوگیا ہے اور راولپنڈی پولیس کے تازہ دم دستے امن و امان قائم کرنے کے لیے مختلف مقامات پر پہنچ گئے ہیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا تھا کہ لاہور کے نجی کالج میں طالبہ کے مبینہ ریپ سے متعلق ایک ایسی کہانی گھڑی گئی جس کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ خطرناک منصوبہ ایک جماعت کی جانب سے بار بار انتشار پھیلانے، جلسے جلوسوں اور دھرنوں میں ناکامی کے بعد بنایا گیا۔‘
بدھ کی دوپہر لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم نواز نے نجی کالج میں ہونے والے مبینہ ریپ سے متعلق کی گئی تفتیش سے متعلق میڈیا کے نمائندوں کو آگاہ کیا جبکہ اُن کے ساتھ ایک ایسی طالبہ بھی موجود تھیں جنھیں سوشل میڈیا پر قبل ازیں اس واقعے کا ’چشم دید گواہ‘ بنا پر پیش کیا گیا تھا اور اُن کے انٹرویوز بھی نشر کیے گئے تھے جس میں وہ اس واقعے کی تفصیل بتا رہی تھیں۔
پریس کانفرنس کے دوران ’چشم دید گواہ‘ لڑکی نے بتایا کہ اُن کا تعلق اس کالج کیمپس سے ہے ہی نہیں جہاں یہ مبینہ واقعہ پیش آیا تھا اور یہ کہ انھوں نے یہ پوری کہانی دوسرے کیمپس کے بچوں سے سُنی جو انھوں نے میڈیا پر آ کر کہہ دی جو وائرل ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA
لاہور کے بعد صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی اور اسلام آباد میں بھی پنجاب کالج کی متعدد عمارتوں کے باہر طلبہ اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا ہے جس کے نتیجے میں راولپنڈی پولیس نے سکستھ روڈ اور اسلام آباد پولیس نے الشفا کے سامنے نجی کالج کے طلبا مظاہرین کو منتشرکرنے کے علاوہ دو درجن سے زائد طلبا کو حراست میں لے لیا ہے۔
راولپنڈی پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں کی ہر پہلو سے تفتیش کی جارہی ہے جس کے بعد قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
متعدد ویڈیوز میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ جمعرات کی صبح سکستھ روڈ کیمپس کے باہر پولیس نے طلبہ پر آنسو گیس کی شیلنگ کی جبکہ طلبہ نے عمارت کا مرکزی دروازہ توڑ دیا اور ان کی جانب سے عمارت پر پتھراؤ کیا گیا جس کے نتیجے میں بلڈنگ کے شیشے ٹوٹ گئے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے بلیو ایریا کیمپس کے باہر بھی طلبہ جمع ہوئے۔ لاہور میں بھی طلبہ کا احتجاج بدستور جاری ہے۔
اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جڑواں شہروں میں پنجاب کالج کے کئی کیمپسز کے باہر طلبہ احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق طلبہ ٹولیوں کی شکل میں پنجاب کالج کے کیمپس کے باہر اکٹھے ہو رہے ہیں اور لاہور میں طالبہ کے مبینہ ریپ کے معاملے پر انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاہم اب تک ان کی کوئی قیادت سامنے نہیں آئی۔
پولیس کی بھاری نفری آج جڑواں شہروں میں واقع پنجاب کالجز کے اطراف میں طلب کی گئی تھی۔ سکستھ روڈ اور گنگال روڈ کو عام ٹریفک کے لیے بند کیا گیا ہے۔ جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ سے فیض آباد کی طرف جانے والا راستہ ٹریفک کے لیے بند کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا تھا کہ لاہور کے نجی کالج میں طالبہ کے مبینہ ریپ سے متعلق ایک ایسی کہانی گھڑی گئی جس کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ خطرناک منصوبہ ایک جماعت کی جانب سے بار بار انتشار پھیلانے، جلسے جلوسوں اور دھرنوں میں ناکامی کے بعد بنایا گیا۔‘
بدھ کی دوپہر لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم نواز نے نجی کالج میں ہونے والے مبینہ ریپ سے متعلق کی گئی تفتیش سے متعلق میڈیا کے نمائندوں کو آگاہ کیا جبکہ اُن کے ساتھ ایک ایسی طالبہ بھی موجود تھیں جنھیں سوشل میڈیا پر قبل ازیں اس واقعے کا ’چشم دید گواہ‘ بنا پر پیش کیا گیا تھا اور اُن کے انٹرویوز بھی نشر کیے گئے تھے جس میں وہ اس واقعے کی تفصیل بتا رہی تھیں۔
پریس کانفرنس کے دوران ’چشم دید گواہ‘ لڑکی نے بتایا کہ اُن کا تعلق اس کالج کیمپس سے ہے ہی نہیں جہاں یہ مبینہ واقعہ پیش آیا تھا اور یہ کہ انھوں نے یہ پوری کہانی دوسرے کیمپس کے بچوں سے سُنی جو انھوں نے میڈیا پر آ کر کہہ دی جو وائرل ہوئی۔
پنجاب کالج کے طلبہ کا احتجاج اور حکام کا موقف
یاد رہے کہ چند روز قبل پاکستان کے شہر لاہور میں ایک نجی کالج کی طالبہ کے مبینہ ریپ کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’پنجاب کالج‘ کے خواتین کے لیے مخصوص گلبرگ کیمپس میں فرسٹ ایئر کی ایک طالبہ کو اُسی کالج کے ایک سکیورٹی گارڈ نے مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بنایا ہے۔
یہ خبر سامنے آنے کے بعد طلبا کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا جو کئی روز تک جاری رہا اور اس میں دو درجن کے لگ بھگ طلبا زخمی بھی ہوئے۔
احتجاج کرنے والے طلبا کی جانب سے یہ دعوے بھی سامنے آئے تھے کہ کالج کی انتظامیہ مبینہ طور پر اس واقعے کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے اور اس حوالے سے دستیاب تمام شواہد بھی ختم کر دیے ہیں۔
پُرتشدد احتجاج کے بعد پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا جبکہ پولیس کی جانب سے اُس سکیورٹی گارڈ کو بھی حراست میں لے لیا گیا تھا جسے مظاہرین کی جانب سے اس واقعے کا ملزم قرار دیا جا رہا تھا جبکہ لاہور پولیس کی جانب سے طلبا اور عوام سے متعدد بار اپیل کی گئی تھی اگر اُن کے پاس اس واقعے یا ریپ سے متاثرہ بچی سے متعلق کوئی تفصیل موجود ہے تو وہ پولیس کے ساتھ شیئر کی جائے۔
ادھر ’پنجاب کالج‘ کے ڈائریکٹر آغا طاہر اعجاز کا کہنا تھا کہ انھوں نے کالج کے سی سی ٹی وی کیمروں کی ویڈیو دیکھی ہے لیکن انھیں اس واقعے سے متعلق کوئی شواہد نہیں ملے۔
’ہم خود بیشتر پولیس سٹیشنز گئے مگر وہاں بھی کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، ہم نے تمام طالبات کے گھروں میں کالز کی جو چھٹی پر تھیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ کسی طالبہ نے بیماری اور کسی نے شادی کے باعث چھٹی لی ہوئی تھی۔
’پنجاب کالج‘ کے ڈائریکٹر کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ نے کیمرے کی ریکارڈنگ مانگی تھی لیکن وہ تمام ریکارڈنگ پولیس کے پاس ہے۔
انھوں نے تصدیق کی کہ پولیس نے چھٹی پر گئے گارڈ کو پوچھ گچھ کے لیے بُلایا تھا اور وہ ابھی بھی حراست میں ہے۔
’گارڈ کو پکڑنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اس کا ذکر کیا گیا تھا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’سویٹر پہنی طالبات اور اساتذہ کی ویڈیوز وائرل کر کے کہا گیا کہ بچی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ کیا لاہور کا موسم ایسا ہے کہ طالبات نے سویٹرز پہنے ہوں؟