یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
ایران اسرائیل کشیدگی پر بی بی سی اُردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
16 اپریل کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
امریکہ کی سیکرٹری خزانہ جینٹ یلن نے کہا ہے کہ توقع ہے کہ وہ ’اگلے چند دنوں‘ میں اسے حوالے سے کوئی اقدامات اٹھائیں گی، جبکہ یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے سربرابپ جوزف بورل نے کہا کہ ان کا گروپ بھی اس متعلق کام کر رہا ہے۔
ایران اسرائیل کشیدگی پر بی بی سی اُردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
16 اپریل کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ اور یورپی یونین کا کہنا ہے کہ اسرائیل پر حملے کے بعد وہ ایران پر نئی پابندیاں لگانے پر غور کر رہے ہیں۔
امریکہ کی سیکرٹری خزانہ جینٹ یلن نے کہا ہے کہ توقع ہے کہ وہ ’اگلے چند دنوں‘ میں اسے حوالے سے کوئی اقدامات اٹھائیں گی، جبکہ یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے سربرابپ جوزف بورل نے کہا کہ ان کا گروپ بھی اس متعلق کام کر رہا ہے۔
اسرائیل نے اپنے اتحادیوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے میزائل پروگرام پر پابندی عائد کریں۔ اس پروگرام کے حوالے سے اقوام متحدہ کی پابندیاں اکتوبر میں ختم ہوئی تھیں۔ ان پابندیوں کا تعلق ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے سے تھا۔
تاہم امریکہ، یورپی یونین اور برطانیہ نے یہ پابندیاں نہ صرف برقرار رکھی تھیں بلکہ مزید بھی عائد کی تھیں۔
منگل کو بات کرتے ہوئے، امریکی سیکرٹری خزانہ جینٹ ییلن نے کہا کہ ’میں پوری توقع رکھتی ہوں کہ ہم آنے والے دنوں میں ایران کے خلاف اضافی پابندیوں کی کارروائی کریں گے۔ ہم اپنی پابندیوں کے طریقہ کار کا جائزہ نہیں لیتے۔ لیکن اس حوالے سے جو بات چیت ہوئی ہے اس میں ایران کی دہشت گردوں کی مالی معاونت کو روکنے کے تمام آپشنز میز پر موجود ہیں۔`
انھوں نے کہا کہ ایران کی تیل کی برآمدات ’ایک ممکنہ چیز ہے جس پر ہم توجہ دے سکتے ہیں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’واضح طور پر، ایران کچھ تیل برآمد کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ شاید ہم اس حوالے سے کچھ اور بھی پابندیاں کر سکتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
امریکی سیکریٹری خزانہ جینٹ یلین نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں واشنگٹن ایران پر نئی پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے ایران کی تیل کی برآمدات پر توجہ مرکوز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے حملے نے مشرق وسطیٰ کی سلامتی کے لیے خطرات پیدا کیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ ہفتے بحیرۂ احمر میں حوثیوں نے حملے کیے۔ ایران کے اقدامات خطے کے استحکام کے لیے باعث خطرہ ہیں اور اس کے معاشی اثرات ہوتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ایران کی ان سرگرمیوں کے خلاف امریکی محکمہ خزانہ پابندیوں کا راستہ اپنائے گا اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔
ان کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب اسرائیل نے ایران کے میزائل منصوبے پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔
محکمہ خزانہ کے مطابق امریکہ پہلے ہی ایران کو اقتصادی پابندیوں کے ذریعے تنہا کیے ہوئے ہیں اور یوں پراکسی گروہوں کے لیے امداد یا یوکرین جنگ میں روس کی حمایت محدود ہوئی ہے۔
اسرائیل غزہ جنگ اپنے 193ویں دن میں داخل ہو چکی ہے اور یہ ایک ایسا بحران بنتا جا رہا ہے جس کے پورے خطے کے لیے وسیع تر اثرات ہو سکتے ہیں۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے لبنان میں حزب اللہ ملیشیا کے ایک سینیئر کمانڈر کو ہلاک کیا ہے۔ اسرائیل اور حزب اللہ جنگجوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے شمالی اسرائیل میں دو ڈرون حملے کیے گیے جس سے تین اسرائیلی شہری معمولی زخمی ہوئی۔
یہ پیش رفت ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب اسرائیلی وزیرِ خارجہ نے آج جارحانہ سفارتی حکمتِ عملی اپناتے ہوئے 30 سے زیادہ ممالک کو پیغام بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے ایران پر مزید پابندیاں عائد کی جائیں خاص طور پر ایران کے میزایل پروگرام پر۔
انھوں نے ایران کے پاسدارانِ انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دیے جانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
ایران کی جانب سے بھی متعدد عالمی رہنماؤں کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے کیے گئے ہیں اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ایران کی جانب کیا حملہ اپنے تحفظ کے لیے تھا۔
اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ اس نے حزب اللہ کمانڈر اسماعیل یوسف باز کو لبنان میں کیے گئے ایک فضائی حملے میں ہلاک کر دیا ہے۔
آئی ڈی ایف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یوسف باز نے لبنان کے عسکریت پسند گروہ کے ساحلی سیکٹر کے انچارج تھے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’باز لبنان کے ساحلی علاقے سے اسرائیل پر ٹینک شکن میزائل اور راکٹس لانچ کرنے میں ملوث تھے۔‘
حزب اللہ کی جانب سےان کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے لیکن ان کے رینک کے حوالے سے تفصیلات نہیں بتائیں، نہ ہی یہ بتایا ہے کہ ان کی ہلاکت کیسے ہوئی۔
لبنان کے سرکاری خبررساں ادارے نیشنل نیوز ایجنسی نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ عین بعال میں اسرائیلی فضائی حملے میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کو ایران سے فنڈنگ، ٹریننگ اور اسلحہ دیا جاتا ہے جسے اسرائیل، برطانیہ اور امریکہ سمیت دیگر ممالک کی جانب سے دہشتگرد تنظیم قرار دیا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
اردن کے وزیرِ خارجہ ایمن کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کو روکنا چاہیے تاکہ وہ ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ کر کے غزہ جنگ سے توجہ ’چوری‘ کرنے کی کوشش نہ کرے۔
ایمن صفدی کا کہنا ہے کہ ایران اپنی قونصلیٹ پر ہونے والے حملے کے ردِ عمل میں جوابی کارروائی کر رہا تھا اور اس نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ’مزید کشیدگی نہیں بڑھانا چاہتا۔‘
صفدی نے برلن میں پریس کانفرنس میں رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم کشیدگی میں اضافے کے حق میں نہیں ہیں۔ نتن یاہو غزہ سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں اور ایران سے کشیدگی پر توجہ مرکوز کروانا چاہتے ہیں۔‘
دریں اثنا نتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو ’اس ایرانی جارحیت کو روکنے کے لیے ہمارے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے جو دنیا کے امن کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کے مفادات کے خلاف معمولی کارروائی پر بھی ’شدید، جامع اور دردناک ردِ عمل دے گا۔‘
گذشتہ رات قطری امیر شیخ تمیم بن حماد التھانی سے فون پر بات کرتے ہوئے رئیسی نے واضح کیا کہ ایران کا ردِ عمل ’اپنے دفاع کے لیے تھا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ایران کی جانب سے ایسے اسرائیلی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا جو اس کے دمشق میں ایرانی قونصلیٹ پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کیے گئے تھے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف ہیرزی ہلیوی نے پیر کو کہا تھا کہ ایران کے حملوں کا ’جواب دیا جائے گا‘۔
برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 کے سابق سربراہ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاسداران انقلاب پر پابندی لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔
ایم آئی 6 کے سابق سربراہ سر جان ساورز نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ برطانیہ کے لیے ایران کے پاسداران انقلاب گارڈز پر پابندی لگانا ضروری ہے۔
اسرائیل نے ایران کی مسلح افواج کے سب سے طاقتور دستے پاسداران انقلاب کو ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
وزیر اعظم رشی سونک پر اس فورس پر پابندی لگانے کے لیے دباؤ کے بارے میں پوچھے جانے پر، ساورز کہتے ہیں کہ ’انسداد دہشت گردی کی قانون سازی دہشت گرد گروہوں سے نمٹنے کے لیے کی گئی تھی، یہ ریاستوں سے نمٹنے کے لیے نہیں بنائی گئی ہے۔‘
انھوں نے بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام ٹوڈے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اب، ایران دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاست ہے، اس میں کوئی شک نہیں، لیکن ایک ریاست دہشت گرد تنظیم کے مقابلے میں بہت زیادہ خطرہ ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال ایک نیا انٹیلی جنس اور سیکورٹی ایکٹ منظور کیا گیا تھا جس نے ایم آئی فائیو کو ملک کے دفاع کے لیے درکار اختیارات فراہم کیے تھے، لیکن وہ کہتے ہیں کہا ایم آئی فائیو کے سربراہ پاسداران انقلاب پر پابندی لگانے کا نہیں کہہ رہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ ’سیاسی بیان بازی سے زیادہ کچھ نہیں۔‘
ایران کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملے پر کیسا ردعمل دیا جائے کے معاملے پر غور و فکر کرنے کے لیے اسرائیلی حکومت کی جنگی کابینہ کا 24 گھنٹوں میں دو مرتبہ اجلاس ہوا اور اس دوران یہ افواہیں گرم رہی کہ ایران کو کسی قسم کا جوابی ردعمل دینا ناگزیر ہے۔ لیکن اب یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کابینہ اس معاملے پر منقسم ہے مگر یہ کیسے اور کب تقسیم ہوئی۔
مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ حکومت بھرپور جنگ چھیڑے بغیر حملے کے لیے ایران کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔ میڈیا نے کہا ہے کہ وزرا بھی امریکہ کے ساتھ مشاورت کر کے ردعمل دینا چاہتے ہیں۔
امریکی حکام نے پہلے ہی یہ واضح کر دیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا۔ اگرچہ ابھی ایران کے اسرائیل پر حملے کو صرف دو دن ہی گزرے ہیں لیکن اسرائیلی حکومت میں سیاسی اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔
اسرائیل کے قائد حزب اختلاف یائیر لپید نے نتن یاہو پر الزام عائد کیا ہے کہ ’وہ اسرائیل کی دفاعی صلاحیت کے نقصان کے ذمہ دار ہیں۔‘
نتن یاہو نے بعدازاں چند اپوزیشن رہنماؤں کو سیکورٹی بریفنگ کے لیے بلایا لیکن لیپد ان میں شامل نہیں تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل کے وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ ایران کے میزائل پروگرام پر پابندیاں لگانے اور ایران کی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دلوانے کے لیے دنیا کے دیگر ممالک پر زور دے رہے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق منگل کو اسرائیل کے وزیر خارجہ کاٹز نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ ’میزائلوں اور ڈرونز حملے کے عسکری جواب کے ساتھ ساتھ میں ایران کے خلاف سفارتی حملے کی قیادت کر رہا ہوں۔‘
کاٹز نے کہا کہ انھوں نے 32 ممالک کو خطوط بھیجے اور متعدد ہم منصبوں سے بات کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ’ایران کے میزائل پروگرام پر پابندیاں لگائی جائیں اور پاسداران انقلاب کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے، جو کہ ایران کو روکنے اور کمزور کرنے کے لیے ایک طریقہ ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ایران کو ابھی روکنا چاہیے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔‘
اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ ایران کے میزائل اور ڈرون حملے کا جواب دے گا، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے سے بچنے کے لیے اتحادیوں کی جانب سے اسرائیل سے تحمل سے کام لینے کے مطالبے کیا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم رشی سونک کے مطابق سات بڑی جمہوریتوں کے ممالک کا گروپ پہلے ہی ایران کے خلاف مربوط اقدامات کے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ نے کہا کہ وہ اسرائیل کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات کو ممکنہ طور پر نشانہ بنانے کے بارے میں فکر مند ہیں اور آئی اے ای اے منگل سے ایرانی جوہری تنصیبات کا معائنہ دوبارہ شروع کر دے گی۔
پیر کو آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ایران نے اتوار کو اپنی جوہری تنصیبات کو ’سیکورٹی خدشات‘ کی بنیاد پر بند کر دیا تھا اور یہ کہ جب وہ پیر کو دوبارہ کھولے گئے تو آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو اس وقت تک دور رکھا گیا جب تک صورتحال مکمل پرامن نہیں ہو جاتی۔
رافیل گروسی نے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم کل (منگل) سے دوبارہ کام شروع کرنے جا رہے ہیں۔ اور موجودہ صورتحال سے ہمارے معائنہ کی سرگرمی پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔‘
جب ان سے ایران کے جوہری تنصیبات پر اسرائیل کے حملے کے امکان کے بارے میں پوچھا گیا تو گروسی نے کہا کہ ’ہم ہمیشہ اس امکان کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں۔‘ انھوں نے اسرائیل پر ’انتہائی تحمل‘ کرنے پر زور دیا۔
واضح رہے کہ اسرائیل کے فوجی سربراہ نے پیر کو کہا کہ ان کا ملک ایران کی طرف سے سنیچر کو کیے گئے میزائل اور ڈرون حملے کا جواب دے گا۔
آئی اے ای اے باقاعدگی سے ایران کی اہم جوہری تنصیبات کا معائنہ کرتا ہے جیسے نتانز میں اس کے جوہری افزودگی پلانٹ کا معائنہ جو ملک کے جوہری پروگرام کا اہم مرکز ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن ہے لیکن مغربی طاقتیں تہران پر الزام عائد کرتی ہیں کہ وہ ایٹمی بم بنانا چاہتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ایران نے اپنی سرزمین سے اسرائیل پر براہ راست حملہ کیا ہے۔ ایران کےپاسداران انقلاب کے لیے ایسا کرنا خطے میں اپنے اتحادیوں اور اندرون ملک اپنی ساکھ کو قائم رکھنے کے لیے بہت اہم سمجھا جا رہا تھا۔
سنیچر کی رات حملوں کے بعد، اسلامی جمہوریہ ایران کے بہت سے حامی، فلسطینی علامتی نشانوں کے ساتھ تہران کی سڑکوں پر نکل آئے۔
ایک 20 سالہ خاتون نے بی بی سی فارسی کو بھیجے گئے ایک پیغام میں کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ شام اور دیگر جگہوں پر ایرانی کمانڈروں کی مزید ہلاکتوں کو روکنے کے لیے اسرائیل پر حملہ کرنا درست فیصلہ تھا۔‘
تاہم، اسلامی جمہوریہ پر تنقید کرنے والے متعدد ایرانیوں کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں کہ حکومت پوری ایرانی عوام کے خیالات کی نمائندگی کر رہی ہو۔
ایک 40 سالہ شخص نے اپنے ایک آڈیو پیغام میں بی بی سی کو کہا کہ ’ہم اسلامی جمہوریہ نہیں ہیں، ہم حقیقی ایران ہیں۔ ایرانی خود موجودہ حکومت کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہیں۔ ہم اسرائیل سمیت کسی بھی قوم سے دشمنی نہیں رکھتے۔‘
50 کے پیٹے کی ایک اور خاتون نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ حملہ ممکنہ طور پر علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ایران، اسرائیل اور اس کے مغربی اتحادیوں کے درمیان مکمل تصادم ہو سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دونوں ممالک میں سنیچر کی رات خوف و ہراس بڑھ گیا تھا کیونکہ ایرانیوں کو اس حملے کے بعد اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے جوابی کارروائی کا خدشہ تھا۔ مختلف شہروں میں خوف و ہراس پھیلنے سے لوگ خوراک اور ایندھن جیسی ضروری اشیا کو ذخیرہ کرنے کے لیے ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔
تہران اور دیگر بڑے شہروں میں پٹرول سٹیشنوں پر لمبی قطاریں لگ گئی تھیں جبکہ سپر مارکیٹیں خریداروں سے بھر گئیں۔ اسرائیل کے دعویٰ کے باوجود کہ اس نے اپنی سرزمین کی طرف داغے گئے 300 میزائلوں اور ڈرونز میں سے 99 فیصد کامیابی سے روک دیے، ایرانی حکام نے اس حملے کو کامیاب قرار دیا اور اس کے علامتی اثرات پر زور دیا، قطع نظر اس کے کہ اس میں اصل جانی نقصان کتنا ہوا۔
ایسا لگتا ہے کہ ایران کا موڈ تناؤ میں کمی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ فوجی اور سرکاری اہلکار دونوں سنیچر کے حملے سے مطمئن نظر آئے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایران کا، اسرائیل کو اپنے دفاعی اقدامات کرنے کے لیے کافی وقت دینے کے بعد، مزید نقصان یا جانی نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

،تصویر کا ذریعہIsraeli government handout
اسرائیل کی جنگی کابینہ کے اجلاس میں اس بات پر غور کیا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملے پر کیسا ردعمل دیا جائے۔ تاہم اجلاس کے بعد اسرائیل نے یہ نہیں بتایا کہ اس میں کیا فیصلے کئے گئے ہیں۔ جبکہ اس کے اتحادیوں نے ایران کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے نتن یاہو پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرے۔
اسرائیلی دفاعی افواج کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ہرزی حلوی نے کہا کہ ’ہم آگے کی حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں اور اسرائیل کی سرزمین پر اتنے زیادہ میزائلوں، کروز میزائلوں، اور ڈرونز کے حملے کا جواب دیا جائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیواتم ایئر بیس سے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اسرائیلی دفاعی افواج کے چیف آف سٹاف ہرزی حلوی نے کہا کہ ایران کے حملوں کا ’جواب دیا جائے گا‘۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی جنگی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں تہران کی جانب سے اسرائیل پر 300 سے زائد میزائل داغے جانے پر اس کے ردعمل پر غور کیا گیا۔
حلوی کا کہنا ہے کہ اسرائیل آگے دیکھ رہا ہے اور اپنے اگلے اقدامات پر غور کر رہا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کی سرزمین پر اتنے سارے میزائلوں، کروز میزائلوں اور یو اے وی کے لانچ کا جواب دیا جائے گا۔
اسرائیلی دفاعی افواج کے ترجمان ڈینیئل ہاگری کہا ہے کہ اسرائیل کے تحفظ کے لیے جو کچھ بھی ضروری ہو گا کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ تل ابیب کو ریاست کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھانا چاہیے۔
انھوں نے کہا ہے کہ ایرانی حملے کو آہنی دفاعی مہم کے ذریعے ناکام بنایا گیا اور یہ برطانیہ، امریکہ، فرانس اور دیگر ممالک کے ایک ’بے مثال اتحاد‘ کے تعاون سے ہوا جس نے ’نہ صرف اس حملے کو ناکام بنایا بلکہ اسے صحیح معنوں میں روکا۔‘
ایران، عراق، شام اور یمن سے داغے گئے میزائلوں کو مار گرانے کی کارروائی میں اسرائیل، امریکہ، برطانیہ اور اردن سمیت کم از کم نو ممالک شامل تھے۔
اس سے قبل ہاگری نے کہا تھا کہ آنے والے ہتھیاروں کا تقریبا 99 فیصد حصہ یا تو اسرائیلی فضائی حدود کے باہر یا ملک کے اوپر ہی روکا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے اسرائیل پر حملے کے بعد پیر کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔
پیر کی صبح تیل کی عالمی قیمت ظاہر کرنے والا برینٹ کروڈ 90 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا تھا۔
ایران کے ممکنہ حملے سے قبل قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا اور یہ چھ ماہ کی سب سے اونچی سطح پر تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی یہ دیکھنے کی منتظر ہے کہ اس لڑائی سے کیسے سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں رد و بدل کا تعلق اسرائیل کے جوابی اقدامات سے ہوسکتا ہے۔ خیال ہے کہ اگر تل ابیب نے ٹھوس جواب دینے کا فیصلہ کیا تو تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں رد و بدل سے عالمی سطح پر دیگر اشیا کی قیمتیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ گذشتہ دو برسوں کے دوران توانائی کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے روزمرہ کے اخراجات خاصے بڑھے ہیں۔
ایران کے اسرائیل پر حملے کے تناظر میں برطانوی پارلیمنٹ میں بعض مبصرین نے اس بات پر غور کیا کہ کس طرح مغربی دنیا کی توجہ غزہ کی انسانی صورتحال سے ہٹائی جا سکتی ہے اور کیسے یہ صورتحال ایک وسیع تر علاقائی تنازعے کے خدشات کو جنم دیتی ہے۔
آج صبح لارڈ کیمرون کے میڈیا انٹرویوز اور ہاؤس آف کامنز میں ہونے والی بحث دونوں میں یہ ظاہر ہوا کہ تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے غزہ پر توجہ مرکوز رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔
وزیر اعظم رشی سنک نے اصرار کیا کہ برطانیہ کی کوشش ہے کہ غزہ میں لڑائی کو روکا جائے اور امداد پہنچائی جائے۔
لیبر لیڈر سر کیر سٹارمر نے کہا کہ ’اگرچہ ایران کے اقدامات کا کوئی جواز نہیں لیکن ہم اس حقیقت سے بے نیاز نہیں ہو سکتے کہ خطے میں کشیدگی کا ایک محرک غزہ میں جاری جنگ ہے۔‘
انھوں نے غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
ایس این پی کے رہنما مہیری بلیک نے ایران کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’فلسطین میں ان لوگوں کے مصائب، درد اور انتشار سے فائدہ اٹھانے کی کوشش‘ کہا۔
انھوں نے ہاؤس کو بتایا کہ ’تنازعے کی سب سے بڑی وجہ غزہ کا محاصرہ ہے۔ اس لیے جنگ بندی کی ضرورت ہے۔‘
جہاں برطانیہ کی اہم سیاسی جماعتیں ایران کے حملے کی مذمت میں متحد ہو چکی ہیں وہیں بظاہر وہ غزہ کی صورتحال پر تل ابیب پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کے دفتر نے کہا ہے کہ اسرائیل سنیچر کی رات ایرانی حملے کو ناکام بنانے میں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک کی حمایت کو سراہتا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری ہونے والے ایک بیان میں وزیراعظم کے دفتر نے کہا کہ عالمی برادری کو ایران کی اس جارحیت کے خلاف متحد رہنا چاہیے جس سے عالمی امن کو خطرہ لاحق ہے۔
قبل ازیں ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا تھا کہ ان کے ملک کا اسرائیل پر حملہ ’جائز دفاع کا حق استعمال کرنے‘ کے مترادف ہے اور وہ مستقبل میں اپنے مفادات کے تحفظ سے نہیں ہچکچائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران اسرائیل کشیدگی پر بی بی سی اُردو کی لائیو ٹرانسمیشن میں خوش آمدید!
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور ایران اسرائیل حالیہ تنازعے سے متعلق خبریں اور تجزیے جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔
ایران کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے ڈرون و میزائل حملے کے متعلق 14 اپریل اوبر 15 اپریل کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔