ایرانی حملے کا جواب دیا جائے گا، اسرائیل کے تحفظ کے لیے جو کچھ بھی ضروری ہو گا کریں گے: اسرائیل

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے عالمی برادری سے ایران کے خلاف متحد ہونے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ عالمی برادری کو ایران کی اس جارحیت کے خلاف متحد رہنا چاہیے جس سے عالمی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ اس سے پہلے اسرائیلی دفاعی افواج کے چیف آف سٹاف ہرزی حلوی نے کہا کہ ایران کے حملوں کا ’جواب دیا جائے گا‘۔

خلاصہ

  • اسرائیلی حکومت کے ایک ترجمان نے بی بی سی کے پروگرام ’نیوز آر‘ کو بتایا ہے کہ اسرائیل میں آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں بات چیت جاری ہے تاہم اب تک اگلے قدم کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
  • امریکہ، برطانیہ اور جرمنی سمیت اسرائیل کے مغربی اتحادیوں نے اسے تحمل کا مشورہ دیا ہے
  • تہران نے اسرائیل پر 300 پروجیکٹائل داغے ہیں۔ اس کے بقول یہ شام میں اس کے قونصل خانے پر حملے کا جواب تھا
  • یہ غیر واضح ہے کہ اسرائیل کیسے اس حملے کا جواب دے گا۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ایران کو اس حملے کی قیمت چکانے پڑے گی
  • اقوام متحدہ نے غزہ کے کچھ حصوں میں قحط کے حوالے سے متنبہ کیا ہے۔ اس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ خطے میں امداد تک رسائی کی اجازت دی جائے
  • اقوام متحدہ کے سربراہ انٹونیو گوتیرس نے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ اسرائیل اور حماس غزہ میں لڑائی سے ایک قدم پیچھے ہٹیں

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!

    ایران اسرائیل کشیدگی پر بی بی سی اُردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

    16 اپریل کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. بریکنگ, نتن یاہو کا عالمی برادری پر ایران کے خلاف متحد ہونے کا مطالبہ

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کے دفتر نے کہا ہے کہ اسرائیل سنیچر کی رات ایرانی حملے کو ناکام بنانے میں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک کی حمایت کو سراہتا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری ہونے والے ایک بیان میں وزیراعظم کے دفتر نے کہا کہ عالمی برادری کو ایران کی اس جارحیت کے خلاف متحد رہنا چاہیے جس سے عالمی امن کو خطرہ لاحق ہے۔

    قبل ازیں ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا تھا کہ ان کے ملک کا اسرائیل پر حملہ ’جائز دفاع کا حق استعمال کرنے‘ کے مترادف ہے اور وہ مستقبل میں اپنے مفادات کے تحفظ سے نہیں ہچکچائے گا۔

  3. ’اسرائیل ایران کے ساتھ جنگ شروع نہیں کرنا چاہتا‘

    اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سابق سفیر ڈینی ڈینن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ ’مکمل جنگ کا آغاز‘ نہیں کرنا چاہتا لیکن سنیچر کو کیے گئے ڈرون اور میزائل حملے کے جواب میں ’کارروائی کا دانشمندانہ طریقہ تلاش کرے گا‘۔

    ڈینون اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کے قریبی سمجھے جاتے ہیں۔

    انھوں نے ہارڈ ٹاک پروگرام کو بتایا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے گی کہ ایران کے رہنما اسرائیل میں بیلسٹک میزائل اور کروز میزائل بھیجنے کا حکم دینے سے پہلے اگلی بار بہت احتیاط سے سوچیں۔

  4. بریکنگ, ایرانی حملے کا جواب دیا جائے گا، اسرائیل

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیواتم ایئر بیس سے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اسرائیلی دفاعی افواج کے چیف آف سٹاف ہرزی حلوی نے کہا کہ ایران کے حملوں کا ’جواب دیا جائے گا‘۔

    ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی جنگی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں تہران کی جانب سے اسرائیل پر 300 سے زائد میزائل داغے جانے پر اس کے ردعمل پر غور کیا گیا۔

    حلوی کا کہنا ہے کہ اسرائیل آگے دیکھ رہا ہے اور اپنے اگلے اقدامات پر غور کر رہا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کی سرزمین پر اتنے سارے میزائلوں، کروز میزائلوں اور یو اے وی کے لانچ کا جواب دیا جائے گا۔

    اسرائیلی دفاعی افواج کے ترجمان ڈینیئل ہاگری کہا ہے کہ اسرائیل کے تحفظ کے لیے جو کچھ بھی ضروری ہو گا کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ تل ابیب کو ریاست کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھانا چاہیے۔

    انھوں نے کہا ہے کہ ایرانی حملے کو آہنی دفاعی مہم کے ذریعے ناکام بنایا گیا اور یہ برطانیہ، امریکہ، فرانس اور دیگر ممالک کے ایک ’بے مثال اتحاد‘ کے تعاون سے ہوا جس نے ’نہ صرف اس حملے کو ناکام بنایا بلکہ اسے صحیح معنوں میں روکا۔‘

    ایران، عراق، شام اور یمن سے داغے گئے میزائلوں کو مار گرانے کی کارروائی میں اسرائیل، امریکہ، برطانیہ اور اردن سمیت کم از کم نو ممالک شامل تھے۔

    اس سے قبل ہاگری نے کہا تھا کہ آنے والے ہتھیاروں کا تقریبا 99 فیصد حصہ یا تو اسرائیلی فضائی حدود کے باہر یا ملک کے اوپر ہی روکا گیا تھا۔

  5. دھماکے سے زخمی ہونے والے اسرائیلی فوجی لبنان میں تھے: آئی ڈی ایف

    اسرائیلی دفاعی فورسز (آئی ڈی ایف) نے تصدیق کی ہے کہ گذشتہ رات ایک دھماکے میں زخمی ہونے والے اس کے چار فوجی لبنان میں موجود تھے۔

    اس سے قبل اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ فوجی لبنان کے ساتھ شمال میں واقع ’سرحدی علاقے‘ میں ایک دھماکے میں زخمی ہوئے ہیں لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ آیا فوجی لبنان کے علاقے میں داخل ہوئے تھے۔

    لبنان کی حزب اللہ، جس کی شمال میں اکثر اسرائیلی افواج کے ساتھ جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں، کا کہنا ہے کہ اس کی افواج نے اسرائیلی فوجیوں کے اس کے علاقے میں داخل ہونے کے بعد دھماکہ خیز مواد کو اڑا دیا تھا۔

  6. برطانوی سیاسی جماعتوں کی توجہ ایران کے حملے سے زیادہ غزہ پر, ہیری فارلی، نامہ نگار برائے سیاسی امور

    ایران کے اسرائیل پر حملے کے تناظر میں برطانوی پارلیمنٹ میں بعض مبصرین نے اس بات پر غور کیا کہ کس طرح مغربی دنیا کی توجہ غزہ کی انسانی صورتحال سے ہٹائی جا سکتی ہے اور کیسے یہ صورتحال ایک وسیع تر علاقائی تنازعے کے خدشات کو جنم دیتی ہے۔

    آج صبح لارڈ کیمرون کے میڈیا انٹرویوز اور ہاؤس آف کامنز میں ہونے والی بحث دونوں میں یہ ظاہر ہوا کہ تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے غزہ پر توجہ مرکوز رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔

    وزیر اعظم رشی سنک نے اصرار کیا کہ برطانیہ کی کوشش ہے کہ غزہ میں لڑائی کو روکا جائے اور امداد پہنچائی جائے۔

    لیبر لیڈر سر کیر سٹارمر نے کہا کہ ’اگرچہ ایران کے اقدامات کا کوئی جواز نہیں لیکن ہم اس حقیقت سے بے نیاز نہیں ہو سکتے کہ خطے میں کشیدگی کا ایک محرک غزہ میں جاری جنگ ہے۔‘

    انھوں نے غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔

    ایس این پی کے رہنما مہیری بلیک نے ایران کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’فلسطین میں ان لوگوں کے مصائب، درد اور انتشار سے فائدہ اٹھانے کی کوشش‘ کہا۔

    انھوں نے ہاؤس کو بتایا کہ ’تنازعے کی سب سے بڑی وجہ غزہ کا محاصرہ ہے۔ اس لیے جنگ بندی کی ضرورت ہے۔‘

    جہاں برطانیہ کی اہم سیاسی جماعتیں ایران کے حملے کی مذمت میں متحد ہو چکی ہیں وہیں بظاہر وہ غزہ کی صورتحال پر تل ابیب پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔

  7. ’امریکہ ایران کے ساتھ مزید کشیدگی نہیں چاہتا‘ بلنکن کی عراقی نائب وزیر اعظم سے گفتگو

    بلنکن

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی کے حوالے سے عراق کے نائب وزیر اعظم محمد علی تمیم سے گفتگو کی ہے۔

    بلنکن نے تمیم سے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ تناؤ میں اضافہ نہیں چاہتا تاہم اسرائیل کے پاس حق دفاع ہے۔

    تمیم نے عراق کی طرف سے اس تشویش کا اظہار کیا کہ خطے کو طویل جنگ کی جانب دھکیلا جا رہا ہے جس سے عالمی سکیورٹی اور تحفظ کو خطرہ لاحق ہوگا۔

    امریکی دفتر خارجہ کے مطابق بلنکن نے اس معاملے پر مصر، سعودی عرب، اردن، ترکی، برطانیہ اور جرمنی میں بھی اپنے ہم منصب عہدیداران سے بات چیت کی ہے۔

  8. اٹلی کا اسرائیل کے خلاف کارروائی کرنے والوں کے خلاف پابندیوں کا عندیہ

    اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک اسرائیل کے خلاف کارروائیوں پر مخصوص افراد کے خلاف نئی پابندیوں کے بارے میں بھی سوچ رہا ہے۔

    انھوں نے روئٹرز کو بتایا کہ ’اگر ہمیں ان افراد کے خلاف مزید پابندیوں کی ضرورت ہے جو اسرائیل کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں، جیسے وہ افراد جو دہشتگردی اور حماس کی حمایت کرتے ہیں، تو یہ ممکن ہے کہ ایسا ہوسکتا ہے۔‘

    تاہم انھوں نے کہا کہ جی سیون ممالک - کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جرمنی، امریکہ اور برطانیہ - کو ’سنجیدگی سے ایک ساتھ کام کرنا ہوگا۔‘

    اتوار کو جی سیون ممالک کا ورچوئل اجلاس ہوا۔ انھوں نے ایران کی جانب سے حملے کے بعد اسرائیل کے لیے بھرپور حمایت کا عزم ظاہر کیا تھا۔

  9. برطانوی وزیراعظم کا مشرق وسطیٰ کے حالات میں بہتری کے لیے تین اہم اقدامات کا منصوبہ

    برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سنک نے کہا ہے کہ ایران کا اسرائیل پر حملہ اور روس کا یوکرین پر حملہ ایک جیسا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سنیچر کو ہونے والا حملہ بھی ایک ’مطلق العنان حکومت‘ کا تھا۔

    انھوں نے پارلیمنٹ کو یوکرین کی جنگ کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ سنیچر کو صرف تل ابیب ہی ڈرونز کے نشانہ نہیں تھا بلکہ پوتن کیئو اور خارکیف میں بھی ڈرون داغ رہے تھے۔

    سنک نے کہا کہ استحکام کے لیے خطرات نہ صرف مشرق وسطیٰ میں بلکہ ہر جگہ بڑھ رہے ہیں اور ہم وقتاً فوقتاً ان خطرات کا سامنا کر رہے ہیں جس میں برطانوی افواج سب سے آگے ہیں۔

    برطانوی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کو ’بہتر راستے‘ پر لانے کے لیے تین اہم اقدامات ہیں۔ ان کے مطابق سب سے پہلے، بحیرہ احمر سمیت علاقائی سلامتی کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور وہ اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ اسرائیل کو برطانیہ کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

    دوسری بات یہ ہے کہ برطانیہ کو دو ریاستی حل میں مزید سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ حکومت فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ جب وقت آئے تو وہ غزہ اور مغربی کنارے کے لیے زیادہ موثر نظامِ حکومت فراہم کر سکیں۔

    رشی سنک کا کہنا تھا کہ تیسری بات یہ ہے کہ غزہ میں جاری تنازع ختم ہونا چاہیے۔

    برطانوی وزیر اعظم نے اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ اظہارِ یکجہتی بھی کیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ اسرائیلی وزیرِ اعظم سے بات کر کے کشیدگی کو پھیلنے سے روکنے کے بارے میں بات کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’برطانیہ استحکام اور سلامتی کی حمایت کرتا ہے۔ کیونکہ یہ خطے کے لیے بھی ضروری ہے اور یہ ہماری سلامتی پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایران نے اس حملے سے ایک بار پھر اپنا اصل رنگ دکھایا ہے۔‘

  10. نتن یاہو کی حزبِ اختلاف کو سکیورٹی بریفنگ کے لیے دعوت, لز ڈیوسٹ، چیف انٹرنیشنل رپورٹر، یروشلم

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے ایک غیر روایتی اقدام کے طور پر ملک کی حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے سربراہوں کو ایک سکیورٹی بریفنگ کے لیے تل ایبب بلایا ہے۔

    اس سے ان قیاس آرائیوں میں اضافہ ہوا ہے کہ اس جنگی کابینہ کے اندر کس قسم کی بات چیت کی جا رہی ہے جسے یہ فیصلہ کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ اسرائیل کا آئندہ اقدام کیا ہوگا۔

    اسرائیلی میڈیا کچھ گرما گرم مباحثوں اور تقسیم کے بارے میں بات کر رہا ہے جس میں بینی گینٹز اور گاڈی آئزنکاٹ سمیت کچھ سابق فوجی سربراہان شامل ہیں، جو فوری اور زبردست جواب دینے کی بات کر رہے ہیں جو ایک بہت واضح اشارہ ہوگا اور اسرائیل کی ڈیٹرنس یعنی دشمن کو باز رکھنے کی طاقت کو مضبوط بنائے گا۔

    کچھ لوگ یہ دلیل دے رہے ہیں کہ یہ ایک ایسا لمحہ ہے جب اسرائیل کو بین الاقوامی برادری کی مضبوط حمایت حاصل ہے اور اسے اس اتحاد کو مستحکم ہونے کا وقت دینا چاہیے۔

  11. اسرائیل کے آئندہ کے لائحہ عمل پر تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا: اہلکار

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی حکومت کے ایک ترجمان نے بی بی سی کے پروگرام ’نیوز آر‘ کو بتایا ہے کہ اسرائیل میں آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں بات چیت جاری ہے تاہم اب تک اگلے قدم کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

    ایوی ہیمن نے کہا کہ اسرائیل صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے اور اس کی وار کابینہ کا اجلاس جاری ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’کسی بھی خود مختار ملک کی طرح ہم بہترین لائحہ عمل طے کریں گے۔‘

    ’اس لائحہ عمل پر ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔ لیکن میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ہم سنیچر کی شب بم سے بچنے کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کی طرف بھاگ رہے تھے۔ ہم نے ہی اپنے بچوں کو سینے سے لگا رکھا تھا جب ہمارے سروں کے اوپر میزائل پھٹ رہے تھے۔‘

  12. ایران-اسرائیل تنازع: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں کمی

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں کمی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے اسرائیل پر حملے کے بعد پیر کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔

    پیر کی صبح تیل کی عالمی قیمت ظاہر کرنے والا برینٹ کروڈ 90 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا تھا۔

    ایران کے ممکنہ حملے سے قبل قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا اور یہ چھ ماہ کی سب سے اونچی سطح پر تھیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی یہ دیکھنے کی منتظر ہے کہ اس لڑائی سے کیسے سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں رد و بدل کا تعلق اسرائیل کے جوابی اقدامات سے ہوسکتا ہے۔ خیال ہے کہ اگر تل ابیب نے ٹھوس جواب دینے کا فیصلہ کیا تو تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔

    تیل کی قیمتوں میں رد و بدل سے عالمی سطح پر دیگر اشیا کی قیمتیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ گذشتہ دو برسوں کے دوران توانائی کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے روزمرہ کے اخراجات خاصے بڑھے ہیں۔

  13. امریکہ نے غزہ میں امداد کی ترسیل میں اضافے کو سراہا

    امریکہ نے غزہ میں امداد کی ترسیل میں اضافے کا خیر مقدم کیا ہے۔

    امریکہ میں قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی کے مطابق گذشتہ چند دنوں میں غزہ تک پہنچنے والی امداد میں اضافہ ہوا ہے۔

    کربی نے میڈیا کو بتایا کہ امداد کی ترسیل ’مستقل‘ ہونی چاہیے۔ خیال رہے کہ اسرائیل نے غزہ میں امداد کے لیے نئے راستوں کی منظوری دی تھی۔

    کربی نے بتایا کہ وائٹ ہاؤس کو توقع ہے کہ اسرائیل ’آنے والے گھنٹوں اور دنوں‘ میں غزہ کی صورتحال میں تبدیلیاں لائے گا۔

  14. اسرائیل نے ایران کی جانب سے داغے گئے میزائل اور ڈرون کیسے مار گرائے

    ،ویڈیو کیپشنایرانی حملے کو کیسے ناکام بنایا گیا

    یہ ایران کا پہلی بار اسرائیلی علاقے میں براہ راست حملہ تھا۔

    سنیچر کی شب اسرائیل میں سائرن بجا کر شہریوں کو متنبہ کیا گیا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ایران نے اس پر 300 سے زیادہ ڈرون اور میزائل داغے تھے۔

    ایران سے اسرائیل کا فیصلہ قریب ایک ہزار کلو میٹر کا ہے۔ دونوں ملکوں کے بیچ عراق، شام اور اردن موجود ہیں۔

    اسرائیل اور اس کے اتحادیوں نے ایرانی حملے کو ناکام بنانے کے لیے ڈرون اور میزائل مار گرائے۔

    اس واقعے میں کم از کم نو ممالک ملوث تھے۔ پروجیکٹائل ایران، عراق، شام اور یمن سے داغے گئے جنھیں اسرائیل، امریکہ، برطانیہ، فرانس اور اردن نے مار گرایا۔

  15. اسرائیل پر ایرانی حملے کے بعد تاحال نجی پروازیں متاثر

    ایزی جیٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے حملے کے بعد اسرائیل اور اس کے گرد دیگر ممالک جانے کے خواہاں مسافر پروازوں میں تاخیر یا ان کے منسوخ ہونے سے پریشان ہیں۔

    اسرائیل نے سنیچر کو اپنی فضائی حدود بند کر دی تھی۔ یہ ایران کا اسرائیل پر پہلا براہ راست حملہ تھا۔

    تاہم اسرائیل نے اتوار کی صبح اپنی فضائی حدود کھول دی تھی جبکہ اردن، عراق اور لبنان نے بھی عارضی طور پر پروازیں منسوخ کرنے کے بعد انھیں بحال کر دیا تھا۔

    ایزی جیٹ نامی کمپنی نے تل ابیب جانے یا وہاں سے آنے والی پروازوں کو 21 اپریل تک کے لیے منسوخ کر دیا تھا۔

    ویز ایئر نے کہا ہے کہ وہ 16 اپریل سے اسرائیل جانے والی پروازوں کو بحال کریں گے۔ اس نے اتوار اور پیر کو تل ابیب جانے والی پروازیں روک دی تھیں اور شیڈول میں تبدیلی کے بارے میں بتایا تھا۔

  16. وہ ممالک جو اسرائیلی فوج کو جدید اسلحہ فراہم کرتے ہیں

    اسرائیل، دفاع

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    جہاں ایک طرف مغربی اتحادی اسرائیل کو ایران کے خلاف جوابی حملہ نہ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں وہیں بعض امریکہ اور برطانیہ سمیت دیگر ملکوں میں اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی پر اعتراضات پائے جاتے ہیں۔

    اسرائیل دنیا میں ہتھیار برآمد کرنے والا ایک بڑا ملک ہے لیکن جس طرح سے اس کی فوج نے درآمد شدہ طیاروں، گائیڈڈ بموں اور میزائلوں پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہوئے غزہ میں گذشتہ چھ ماہ کے دوران جو کارروائی کی ہے اسے ماہرین نے حالیہ تاریخ کی سب سے شدید اور تباہ کن فضائی مہمات میں سے ایک قرار دیا ہے۔

    امریکہ اور جرمنی اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے والے ممالک میں سر فہرست ہیں۔ اس تحریر میں ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کون سے ملک اسرائیل کی دفاعی مدد کرتے ہیں۔

  17. اسرائیل کا جوابی حملے کے لیے ’کئی آپشنز‘ پر غور, یولینڈ نیل/مشرق وسطی کی نامہ نگار، یروشلم

    اسرائیل، جنگی طیارے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    خیال ہے کہ ایران کے حملے کے جواب میں اسرائیل کے پاس کئی ممکنہ آپشنز ہیں اور فی الحال حالتِ جنگ کے دوران بنائی گئی کابینہ ان آپشنز پر غور کر رہی ہے۔

    اسرائیلی ذرائع نے نامہ نگاروں کو بریف کیا ہے کہ ایران کی طرف سے 300 ڈرون اور میزائل داغے گئے مگر اب اسرائیل اس قدر وسیع پیمانے کے حملے کو نظر انداز نہیں کرے گا۔

    بعض اسرائیلی سیاستدان چاہتے ہیں کہ ایران کو ٹھوس پیغام دیا جانا چاہیے تاکہ ایران دوبارہ ایسے حملے نہ کرے۔

    جنگ کی کابینہ کے بعض ارکان کی رائے ہے کہ یہ ایران کے خلاف ’علاقائی اتحاد‘ کو مضبوط کرنے کا موقع ہے کیونکہ امریکہ، برطانیہ، اردن اور دیگر اتحادیوں نے ایرانی حملے کو روکنے میں کردار ادا کیا ہے۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران نے اس کی فضائیہ کے اڈے ’نواتیم‘ سمیت اہم عمارتوں پر حملے کی کوشش کی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اسرائیل کے سٹیلتھ جنگی طیارے موجود ہیں۔ تاہم ایرانی حملے کو بروقت روک لیا گیا۔

  18. حزب اللہ کی جانب سے کیے گئے دھماکے میں چار اسرائیلی فوج زخمی: آئی ڈی ایف

    اسرائیل نے کہا ہے کہ شمال میں لبنان کے ساتھ اس کے سرحدی علاقے میں گذشتہ رات دھماکے سے اس کے چار فوجی زخمی ہوئے ہیں جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔

    لبنان کے مسلح گروہ حزب اللہ نے کہا تھا کہ اسرائیلی فوجی لبنان کے علاقے میں داخل ہوئے تھے جس کے بعد دھماکہ خیز ڈیوائس چلائی گئی۔ شمال میں اسرائیلی فوجیوں اور حزب اللہ کے درمیان اکثر جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے تصدیق نہیں کی کہ آیا اس کے فوجی لبنان میں داخل ہوئے تھے۔

    حزب اللہ ایک شیعہ عسکری گروہ ہے جس کے ایران اور حماس سے قریبی تعلقات ہیں۔ حزب اللہ غزہ میں جاری جنگ کے دوران تقریباً روزانہ اسرائیل کے ساتھ سرحد پار فائرنگ کا تبادلہ کرتا رہا ہے۔

  19. ایران کا حملے سے قبل وارننگ جاری کرنے کا دعویٰ، برطانیہ کی تردید

    برطانوی وزیر اعظم رشی سونک کے ترجمان نے ایران کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ اس نے اسرائیل پر حملے کی پیشگی وارننگ دی تھی۔

    گذشتہ روز ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا تھا کہ ایران نے پڑوسی ممالک اور اسرائیل کے اتحادی امریکہ کو 72 گھنٹے کا نوٹس دیا تھا کہ وہ حملہ کریں گے۔

    تاہم سونک کے ترجمان نے کہا کہ وہ اس کی تردید کرتے ہیں۔ ’ہم اسرائیل پر براہ راست حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔‘

  20. مغربی ممالک الزام تراشی بند کریں: ایرانی وزارت خارجہ

    ایران، وزارت خارجہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    تہران نے کہا ہے کہ اس نے اسرائیل کے خلاف کارروائیاں روک رکھی ہیں جسے مغربی ممالک کو سراہنا چاہیے۔ خیال رہے کہ شام میں ایرانی قونصل خانے پر حملہ کیا گیا تھا جس کے جواب میں سنیچر کو ایران نے اسرائیل کی طرف ڈرون اور میزائل داغے۔

    اسرائیل کے مطابق اس نے ایران کی طرف سے داغے گئے 300 ڈرون اور میزائل میں سے 99 فیصد کو روک کیا ہے۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے کہا کہ ’ایران پر الزامات عائد کرنے کی بجائے، (مغربی) ممالک کو خود کو قصوروار ٹھہرانا چاہیے۔ انھیں اسرائیل کے جنگی جرائم پر اپنے مؤقف کے حوالے سے عوامی رائے کا جواب دینا چاہیے۔‘

    ناصر کنعانی نے کہا کہ مغربی ممالک کو ’گذشتہ مہینوں سے ایران کے تحمل کو سراہنا چاہیے۔‘