آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کی ڈرون سے نگرانی کی ویڈیو جاری کر دی، ٹرمپ کا امریکی بحریہ کے ذریعے اس آبی رستے کی ناکہ بندی کا اعلان

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی دھمکی کے بعد ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ڈرون کے ذریعے آبنائے ہرمز کی نگرانی کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ ویڈیو کے ساتھ یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ ’تمام آمدورفت اور مسلح افواج کے مکمل کنٹرول میں ہے۔‘

خلاصہ

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ جلد ہی ان تمام جہازوں کی 'ناکہ بندی' شروع کرے گا جو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے کی کوشش کریں گے۔
  • امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان 21 گھنٹے طویل مذاکرات کے باوجود معاہدہ نہیں ہو سکا ہے
  • ایرانی حکام کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے آغاز سے اب تک 3300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
  • ایران کا مذاکرات میں جزوی پیش رفت کا دعویٰ: ’دو، تین اہم نکات پر اختلاف رائے‘ کے سبب معاہدہ نہیں ہو سکا، اسماعیل بقائی
  • محض ایک ملاقات میں کسی کو معاہدہ طے پانے کی توقع نہیں تھی، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان
  • پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا، امید ہے دونوں فریق جنگ بندی کے لیے اپنا عزم جاری رکھیں گے، اسحاق ڈار
  • تاحال مذاکرات کے اگلے دور کے وقت، مقام اور طریقۂ کار کا فیصلہ نہیں ہوا ہے، ایرانی میڈیا

لائیو کوریج

  1. امریکہ کے ساتھ معاہدہ دسترس سے باہر نہیں: ایرانی صدر

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ بین الاقوامی قانون کی پابندی کرے تو امریکہ کے ساتھ معاہدہ ’دسترس سے باہر نہیں‘ ہے۔

    ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق یہ بات صدر پزشکیان اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ہونے والی ایک ٹیلیفونک گفتگو کے دوران سامنے آئی ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ رابطہ اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ اور ایران مذاکرات کے بعد کیا گیا۔

    ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے اس گفتگو کے حوالے سے مختصر بیان جاری کیا ہے۔

  2. پاکستان مذاکرات کے عمل میں سہولت کاری جاری رکھے گا: اسحاق ڈار

    نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان مذاکرات کے عمل میں سہولت کاری کا عمل جاری رکھے گا۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق آج سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور اسحاق ڈار کے درمیان ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی ہے۔

    اس موقع پر نائب وزیرِ اعظم نے اسلام آباد مذاکرات سے متعلق تازہ پیش رفت سے آگاہ کیا اور تمام فریقوں کی جانب سے جنگ بندی کے وعدوں پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔

    پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان مذاکرات کے عمل میں سہولت کاری جاری رکھے گا اور خطے سمیت وسیع تر امن و استحکام کے لیے تمام سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا۔

  3. اسحاق ڈار اور مصر کے وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، اسلام آباد مذاکرات کی پیش رفت پر گفتگو

    پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور مصر کے وزیر خارجہ کے درمیان اسلام آباد مذاکرات اور اس کی پیش رفت کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مصر کے وزیر خاجہ ایچ ای بدر عبداللطیٰ سے ٹیلیفونک گفتگو میں اسحاق ڈار نے اپنے مصری ہم منصب کو 'اسلام آباد مذاکرات' اور فریقین کے درمیان روابط کو آسان بنانے میں پاکستان کی مسلسل کوششوں سے آگاہ کیا۔

    دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے اس بات پربھی زور دیا کہ تمام فریقین کے لیے جنگ بندی کے اپنے عزم کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔

    بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے خطے اور اس سے باہر امن اور استحکام کے حصول کے لیے مسلسل بات چیت اور سفارت کاری کی ضرورت کا اعادہ کیا۔

  4. نیٹو نے آبنائے ہرمز کو ’کھلوانے‘ میں مدد کی پیشکش کی ہے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ نیٹو نے آبنائے ہرمز کو ’کھلوانے‘ میں مدد کی پیشکش کی ہے۔ انھوں نے یہ بات فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی، جو اس اعلان کے فوراً بعد سامنے آیا کہ امریکہ اس اہم بحری گزرگاہ کی ناکہ بندی کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

    ٹرمپ کے مطابق امریکہ نیٹو سے ’بہت مایوس‘ تھا، لیکن اب ’وہ آنا چاہتے ہیں اور آبنائے ہرمز کو کھلوانے میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس اہم آبی گزر گاہ کو کھلوانے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا، اس لیے ہم آبنائے ہرمز کو ہر قیمت پر کھولیں گے، اور ان کے بقول یہ راستہ ’زیادہ دیر میں نہیں‘ دوبارہ استعمال کے قابل ہو جائے گا۔‘

    ٹرمپ نے مزید بتایا کہ ’امریکہ وہاں مائن سویپرز بھیج رہا ہے اور ان کے مطابق برطانیہ جو نیٹو کا رکن ہے بھی ایسا کرے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’میری سمجھ کے مطابق برطانیہ اور چند دیگر ممالک بھی مائن سویپرز بھیج رہے ہیں۔‘

    بی بی سی نے اس حوالے سے برطانوی وزارتِ دفاع سے رابطہ کیا ہے۔

  5. ایران امریکہ مذاکرات: ٹرمپ کے بیانات سے آبنائے ہرمز کی صورتحال مزید کشیدہ, بی بی سی نیوز کے جو ان ووڈ کا تجزیہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تیز رفتار معاہدوں کے خواہش مند سمجھے جاتے ہیں۔ اسلام آباد میں کسی اتفاقِ رائے تک نہ پہنچنے کے بعد ان کا ردِعمل کیسا ہوگا، اس پر بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں بہت سے سوال تھے اور اب ان کا پہلا ردِعمل سامنے آ گیا ہے۔

    ٹروتھ سوشل پر دو طویل بیانات میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ان چند جہازوں کی راہ روک دیں گے جو اس وقت آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔

    انھوں نے لکھا کہ ’میں نے امریکی بحریہ کو ہدایت دی ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں ہر اس جہاز کو تلاش کرے اور روکے جس نے ایران کو ٹول ادا کیا ہو۔ جو بھی غیر قانونی ٹول ادا کرے گا، اسے کھلے سمندر میں محفوظ راستہ نہیں ملے گا۔‘

    اگرچہ ان بیانات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ’محفوظ راستہ‘ کس طرح روکا جائے گا، لیکن یہ یاد رکھنا اہم ہے کہ امریکہ نے گزشتہ چند ماہ میں وینیزویلا آنے جانے والے جہازوں پر چڑھائی کی ہے اور اُن کا راستہ بھی روکا ہے۔

    اہم بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے کہا کہ ’دیگر ممالک بھی اس ناکہ بندی میں شامل ہوں گے،‘ تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ کون سے ممالک۔

    ایران کی جانب سے دنیا کے اہم ترین آبی راستوں میں سے ایک پر جزوی مگر مؤثر پابندی کے باعث صرف وہی جہاز گزر پا رہے ہیں جو یا تو ایران کے اتحادی ہیں یا وہ ممالک جنھیں تہران دوست سمجھتا ہے یا وہ جن کے بارے میں خیال ہے کہ انھوں نے تقریباً 20 لاکھ ڈالر کے قریب ٹول ادا کیا ہے۔

    ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا وعدہ کیا تھا حالانکہ ایرانی حکام اپنے عوامی بیانات میں اس کے برعکس مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں اور اس آبی راستے کو اپنی اہم سٹریٹجک طاقت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

    اگر ٹرمپ کی دھمکی پر عمل کیا گیا تو عالمی منڈیوں تک پہنچنے والے تیل کی مقدار مزید کم ہو سکتی ہے جس کے سنگین معاشی اثرات مرتب ہوں گے۔

    یہ بیانات مکمل جنگ کے دوبارہ آغاز کے مترادف تو نہیں لیکن یہ صورتحال میں ایک اور اضافہ ضرور ہیں۔

  6. پاکستان میں قلیل مدتی حکومتی بانڈز میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں قلیل مدتی مقامی حکومتی بانڈز، خصوصاً ٹریژری بلز میں رواں ماہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری آئی ہے۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق تین اپریل تک ٹریژری بلز میں 24.6 ملین ڈالر کی خالص سرمایہ کاری ہوئی جبکہ مارچ میں 251.9 ملین ڈالر نکل گئے۔

    اعداد و شمار کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 3 اپریل تک 34.9 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جبکہ 10.4 ملین ڈالر واپس نکال لیے گئے۔

    اعدادوشمار کے مطابق صرف ٹریژری بلز ہی نہیں بلکہ مجموعی طور پر بانڈز اور ایکویٹیز میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی۔ ان شعبوں میں مجموعی طور پر 39.1 ملین ڈالر کی آمد جبکہ 28.1 ملین ڈالر کا انخلا ہوا، یوں خالص سرمایہ کاری 10.9 ملین ڈالر رہی۔

    واضح رہے کہ مارچ کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث ابھرتی ہوئی معیشتوں، بشمول پاکستان، میں بانڈز اور ایکویٹیز کی فروخت میں اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں پرکشش منافع کے باوجود ٹریژری بلز اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز سے غیر ملکی سرمایہ نکل گیا۔

  7. پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کی ڈرون سے نگرانی کی ویڈیو جاری کر دی

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی دھمکی کے بعد ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ڈرون کے ذریعے آبنائے ہرمز کی نگرانی کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔

    ویڈیو کے ساتھ یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ ’تمام آمدورفت اور مسلح افواج کے مکمل کنٹرول میں ہے۔‘

    اسی دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ وہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم ان کے مطابق اس عمل میں ’کچھ وقت لگے گا۔‘

  8. عُمانی وزیرِ خارجہ کی ایران امریکہ مذاکرات کے تسلسل اور جنگ بندی میں توسیع کی اپیل

    عُمان کے وزیرِ خارجہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری رکھنے اور جنگ بندی میں توسیع کی اپیل کی ہے۔

    یہ بیان ایک اسے وقت سامنے آیا ہے کہ جب اسلام آباد میں ہونے والی ایک اہم نشست کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئی۔

    بدربوسعیدی نے ایکس پر لکھا ’کامیابی کے لیے ممکن ہے کہ تمام فریقین کو مشکل اور سخت سمجھوتوں پر آمادہ ہونا پڑے لیکن یہ قربانی جنگ اور ناکامی کے درد کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔‘

    واضخ رہے کہ جنگ کے آغاز سے قبل عُمان ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے کئی ادوار کی میزبانی اور ثالثی کر چکا ہے۔

  9. یہ راستہ ایران کا کبھی نہیں رہا کہ وہ اسے بند کرے: آبنائے ہرمز کی بندش پر یو اے ای کا ردِعمل

    متحدہ عرب امارات نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں رکاوٹ ڈالنے کے معاملے پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’تیل اور گیس کی ترسیل کے اس اہم آبی گُزرگاہ کو بند کرنے یا محدود کرنے کا اختیار ایران کے پاس کبھی نہیں رہا۔‘

    امارات کے وزیرِ صنعت اور ابوظبی کی سرکاری تیل کمپنی کے سربراہ سلطان احمد الجابر نے سوشل میڈیا پر لکھا ’ایسی کوئی بھی کوشش علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی اقتصادی شہ رگ میں خلل ڈالنے کے مترادف ہے اور ہر ملک کی توانائی، خوراک اور صحت کے تحفظ کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔‘

    28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے آغاز کے بعد سے تہران نے خبردار کیا ہے کہ جو جہاز آبنائے ہرمز استعمال کرنے کی کوشش کریں گے انھیں ’آگ لگا دی جائے گی۔‘

    اس دھمکی کے بعد اس اہم آبی گُزر گاہ سے تجارت تقریباً رک گئی ہے اور عالمی سطح پر تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    الجابر نے کہا کہ ’ایسی مثال قائم کرنا غیر قانونی، خطرناک اور ناقابلِ قبول ہے۔ دنیا اس کی متحمل نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اسے ایسا ہونے دینا چاہیے۔‘

  10. پسِ پردہ مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے رہنے کا امکان, بی بی سی نیوز کی اسلام آباد میں موجود جنوبی ایشیا کی نمائندہ آزادہ موشیری کا تجزیہ

    امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان سے روانہ ہو چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اپنی ’بہترین اور آخری‘ پیشکش پیش کر دی ہے۔

    تاہم اس کے بعد یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ بات چیت پاکستان کے ذریعے جاری رہی۔ اس کی نہ تو امریکی حکام نے باضابطہ تصدیق کی ہے اور نہ ہی ایرانیوں نے اور ماضی کی طرح اس بار بھی ثالثوں کے ذریعے ہونے والی گفتگو کی نوعیت کو سمجھنا مشکل ہے۔

    اس کے باوجود یہ اشارہ ملتا ہے کہ مصالحت اور پسِ پردہ رابطوں کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ ایران نے کبھی یہ توقع نہیں کی تھی کہ ’ایک ہی نشست میں‘ معاہدہ طے پا جائے گا۔

    یہ صورتحال اس حقیقت کی بھی یاد دہانی ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے عوام کے سامنے جو بیانیہ پیش کر رہے ہیں، اس میں حقیقت اور سیاسی تاثر کو الگ کرنا کتنا مشکل ہے۔

    اسی دوران نازک جنگ بندی کا مستقبل، عالمی سطح پر پیدا ہونے والی بے چینی اور جنگ میں پھنسے بے شمار لوگوں کی زندگیاں غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔

  11. بریکنگ, امریکہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا نکلنے کی کوشش کرنے والے تمام جہازوں کی ’ناکہ بندی‘ کرے گا: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ جلد ہی ان تمام جہازوں کی ’ناکہ بندی‘ شروع کرے گا جو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے کی کوشش کریں گے۔

    ٹروتھ سوشل پر جاری ایک طویل بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ’ملاقات اچھی رہی، زیادہ تر نکات پر اتفاق ہو گیا، لیکن وہ واحد نکتہ جو سب سے اہم تھا یعنی ’جوہری معاملہ‘ اس پر اتفاق نہیں ہو سکا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’آزادانہ آمدورفت کے معاہدے تک ’کسی بھی وقت‘ پہنچا جا سکتا ہے، لیکن ایران نے اس کی اجازت نہیں دی اور صرف یہ کہہ کر رکاوٹ ڈالی کہ ’شاید کہیں کوئی بارودی سرنگ ہو، جس کے بارے میں صرف ایران کو علم ہے۔‘

    اسی بیان میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے امریکی بحریہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ ’بین الاقوامی پانیوں میں ہر اس جہاز کو تلاش کرے اور روکے جس نے ایران کو ٹول ادا کیا ہو۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی بحریہ جلد ہی ’ایرانیوں کی بچھائی ہوئی بارودی سرنگوں کو تباہ کرنا شروع کرے گی۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ ’جو بھی غیر قانونی ٹول ادا کرے گا، اسے کھلے سمندر میں محفوظ راستہ نہیں ملے گا۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’کوئی بھی ایرانی جو ہم پر یا پرامن جہازوں پر حملہ کرے گا، اسے تباہ کر دیا جائے گا۔‘

    ان کے مطابق ’ناکہ بندی جلد شروع ہونے والی ہے۔‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک اور بیان میں یہ بھی کہا کہ ’ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن جان بوجھ کر انھوں نے یہ وعدہ پورا نہیں کیا۔‘

    ان کے مطابق اس صورتحال نے ’دنیا بھر میں کئی ممالک اور لوگوں کے لیے بے چینی، خلل اور تکلیف پیدا کی۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو چاہیے کہ ’جتنی جلدی ممکن ہو اس بین الاقوامی آبی راستے کو کھولنے کا عمل شروع کرے۔‘

    انھوں نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ انھیں نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور مذاکرات کار جیرڈ کشنر نے مکمل طور پر بریف کیا ہے۔

    انھوں نے پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ان کی ٹیم کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔

    ٹرمپ کے مطابق ’تقریباً 20 گھنٹے‘ جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد نتیجہ یہ نکلا کہ ’اصل مسئلہ صرف ایک ہے ایران اپنے جوہری عزائم ترک کرنے پر آمادہ نہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اگرچہ کئی نکات پر اتفاق ہو گیا تھا، جو فوجی کارروائی جاری رکھنے سے بہتر تھے لیکن ان کے مطابق ’یہ سب نکات اس حقیقت کے مقابلے میں بے معنی ہیں کہ جوہری طاقت ایسے غیر مستحکم، مشکل اور غیر متوقع لوگوں کے ہاتھ میں نہیں دی جا سکتی۔‘

  12. اسلام آباد سے امریکہ واپسی کے سفر کے دوران نائب صدر وینس کی چند تازہ تصاویر

    اسلام آباد سے روانگی کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی وطن واپسی کے سفر کے دوران لی گئی چند تازہ تصاویر سامنے آئی ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق یہ تازہ موصول ہونے والی تصاویر اُس وقت کی ہیں کہ جب امریکی نائب صدر کا طیارہ جرمنی کے رامشٹائن ایئر بیس پر ایندھن بھروانے کے لیے رکا، جہاں انھیں جہاز سے اترتے اور سفر میں شامل اہلکاروں کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔

  13. اگر امریکہ ایران سے معاہدہ چاہتا ہے تو اسے مذاکرات کے کئی ادوار کے لیے تیار رہنا ہوگا: اولیانوف

    جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے میں روس کے نمائندے میخائیل اولیانوف نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اس بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔‘ ان کے مطابق ’کیا واقعی نائب صدر یہ توقع رکھتے تھے کہ اتنے پیچیدہ اور مختلف معاملات پر بس چند گھنٹوں میں اتفاق ہو جائے؟‘

    انھوں نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’معاہدہ صرف اسی صورت ممکن تھا جب فریقین میں سے کوئی ایک مکمل طور پر پیچھے ہٹنے پر آمادہ ہوتا اور اس معاملے میں ایسا نہیں ہے۔‘

    اولیانوف نے مزید کہا کہ ’اگر امریکی فریق واقعی معاہدہ چاہتے ہیں تو انھیں کئی مذاکرات کے کئی ادوار اور ماہرین کی سطح پر متعدد نشستوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘ ان کے مطابق ’یہ سفارت کاری کی بنیاد ہے۔‘

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، جو کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے۔

  14. اسرائیلی حملوں کے بعد جنوبی لبنان سے اُٹھتے دھوائیں کے بادل

    جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے بعد سرحد کے قریب گھنے سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے ہیں۔

    تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی اپاچی ہیلی کاپٹر لبنان کی فضائی حدود کے اوپر پرواز کے دوران فلیئرز چھوڑ رہا ہے۔

    یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہمارے مشرقِ وسطیٰ کے نمائندے نے رپورٹ کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں حملوں کا سلسلہ کسی وقفے کے بغیر جاری ہے۔

  15. ریڈ زون کی جانب جانے والے تمام راستے تاحال بند ہیں: ترجمان اسلام آباد پولیس

    ترجمان اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’غیر ملکی وفود کی آمدورفت کا سلسلہ ابھی ریڈزون میں جاری ہے جس کی وجہ سے مختلف اوقات میں کلب روڈ، مری روڈ اور ایکسپریس ہائی وے پر ٹریفک کو روکا جارہا ہے۔‘

    ترجمان اسلام آباد پولیس کا مزید کہنا ہے کہ ’تاحال ریڈزون کے تمام راستے بند ہیں۔ شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔‘

    ترجمان کے مطابق ڈائیورشنز کے دوران شہری قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔‘

  16. جیونی میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں تین کوسٹ گارڈز ہلاک

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ایران سے متصل سرحدی ضلع گوادر کے علاقے جیونی میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں کوسٹ گارڈز کے تین اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    مکران ڈویژن میں ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ ضلع میں جیونی کی سمندری حدود میں پیش آیا۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ جیونی میں سمندر میں کوسٹ گارڈز کے اہلکار معمول کی گشت پر تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کو نشانہ بنایا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ اس حملے میں کوسٹ گارڈز کے تین اہلکار ہلاک ہوئے۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ واقعے کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    میڈیا پر سامنے آنے والے ایک بیان میں اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے قبول کی گئی ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ ماہ کی 15 تاریخ کو بھی جیونی میں پانوان کے علاقے میں کوسٹ گارڈ کے اہلکاروں پر حملہ ہوا تھا جس میں کوسٹ گارڈز کے دو اہلکار مارے گئے تھے۔

    جیوانی ضلع گوادر کی ایران سے متصل تحصیل ہے۔ یہ علاقہ ایران کے ساتھ سرحد سے اندازاً 25 سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

  17. جنگ میں ہلاکتوں کی تعداد 3300 سے تجاوز کر گئی: لیگل میڈیسن آرگنائزیشن

    ایران نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے آغاز سے اب تک 3300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ایرانی عدلیہ کے ماتحت لیگل میڈیسن آرگنائزیشن کی تازہ رپورٹ کے مطابق 3375 لاشوں کی شناخت کی جا چکی ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں 2875 مرد اور 496 خواتین شامل ہیں، جبکہ تہران، ہرمزگان اور اصفہان صوبوں میں سب سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق سینکڑوں بچے بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں سات شیر خوار بچے (ایک سال سے کم عمر)، 255 بچے جن کی عمریں ایک سے 12 سال کے درمیان تھیں اور 121 نوجوان جن کی عمریں 13 سے 18 سال کے درمیان تھیں۔

    ہلاک شدگان میں افغان، شامی، ترک، پاکستانی، چینی، عراقی اور لبنانی شہری بھی شامل ہیں۔

  18. آبنائے ہرمز ایران کے کنٹرول میں ہے اور فیس ادا کرنا ضروری ہوگا: ایرانی پارلیمان کے ڈپٹی سپیکر

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان میں ایران کے ساتھ کئی گھنٹوں کی بات چیت کے بعد ہونے والی اپنی پریس کانفرنس میں آبنائے ہرمز کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

    یہ اہم آبی گُزرگاہ جس سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس سے لدے بحری جہاز گزرتے ہیں مذاکرات میں ایک بڑا اختلافی نکتہ رہا۔

    آبنائے ہرمز سے بحفاظت جہازوں کی آمدورفت کو یقینی بنانا، امریکہ اور ایران کے درمیان مشروط جنگ بندی کی بنیادی شقوں میں شامل ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق ایرانی پارلیمان کے ڈپٹی سپیکر حاج بابائی نے کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز ایران کے لیے ریڈ لائن یعنی سرخ لکیر ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہے اور ’اس کی فیس ریال میں ادا کی جانی چاہیے۔‘

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کے روز اپنی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ آبنائے ہرمز ’جلد کھل جائے گی۔‘

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی ہفتے کو اعلان کیا کہ امریکی بحریہ کی دو ڈسٹرائر جنگی جہاز ’آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں‘ اور یہ کارروائی آبی راستے کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کے بڑے مشن کا حصہ ہے۔ تاہم ایران نے ان جہازوں کے گزرنے کے دعوے کی تردید کی ہے۔

    فرانس پریس کے مطابق ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے نے رپورٹ کیا کہ پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ ’کسی بھی جنگی جہاز کی آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی کوشش کا سخت جواب دیا جائے گا۔‘

  19. وینس کے بیان نے امید کی گنجائش کم کر دی, بی بی سی فارسی کے کسرہ ناجی کا تجزیہ

    اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ ختم ہونے پر ایران اور اس کے جنوبی پڑوسیوں میں جنگ کے دوبارہ شروع ہو جانے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

    سنیچر کے روز ہونے والے مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہونے سے خطے میں پہلے سے پائی جانے والی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز ممکنہ طور پر پہلا محاذ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ امریکہ نے اس آبی گزرگاہ کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کی کارروائیاں ایران سے کسی قسم کی بات چیت کے بغیر شروع کر دی ہیں جبکہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کا کنٹرول ایران کے پاس ہے۔

    تاہم تمام راستے بند نہیں ہوئے۔

    مذاکرات میں ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے ایک بیان میں مذاکرات کی ناکامی کا الزام امریکی وفد پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’اس دور کے دوران ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہے۔‘ ان کے بیان سے مزید مذاکرات کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا گیا۔

    پاکستانی حکام جنھوں نے سنیچر کے روز یہ مذاکرات منعقد کیے، امید کر رہے ہیں کہ دونوں فریق کم از کم آئندہ 10 دن تک برقرار رہنے والی جنگ بندی کا احترام کریں گے۔ یہ وقفہ ایک اور مذاکرات کے دور کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔

    لیکن اسلام آباد سے روانگی سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے بیانات نے امید کی گنجائش کم کر دی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایرانی وفد امریکی شرائط پر متفق نہیں ہوا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم یہاں سے ایک نہایت سادہ تجویز کے ساتھ جا رہے ہیں سمجھوتے کا ایک طریقہ۔ یہ ہماری آخری اور بہترین پیشکش ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایرانی اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں۔‘

  20. اسرائیل نے بیروت پر حملے روک دیے مگر جنوبی لبنان میں صورتحال بدستور کشیدہ, ہوگو باچگا، بیروت

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے ناکام مذاکرات ایک جانب مگر اسرائیلی فوج کی بیروت کے جنوبی علاقوں میں شدید بمباری جاری ہے۔

    بیروت میں ہلاکت خیز بمباری کی عالمی سطح پر شدید مذمت کے بعد اسرائیل کی جانب سے دارالحکومت پر جاری حملوں میں خاصی کمی ہوئی ہے، لیکن جنوبی لبنان وہ مقام ہے کہ جہاں بمبادی کا سلسلہ جاری ہے۔

    لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں مزید امدادی کارکن مارے گئے ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ طبی عملے کو نشانہ بنانا اسرائیل کی ’منظم حکمتِ عملی‘ دکھائی دیتی ہے جو جنگی جرم کے زمرے میں آتی ہے۔

    اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ حزب اللہ ایمبولینسوں کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے، تاہم اس دعوے کے کو درست ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت پیش نہیں کیے۔

    لبنان کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ اب بھی بے گھر ہے اور انھیں معلوم نہیں کہ وہ کب اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں گے۔

    اسی دوران اسرائیلی افواج جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جن کا مقصد ایک ’سکیورٹی بفر زون‘ قائم کرنا بتایا جاتا ہے۔