آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, 21 گھنٹے کی بات چیت کے بعد جے ڈی وینس امریکہ روانہ، ایران کا جزوی پیش رفت کا دعویٰ: امید ہے جنگ بندی جاری رہے گی، اسحاق ڈار

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایرانی وفد کے ساتھ مذاکرات کے بعد امریکہ روانہ ہو گئے ہیں۔ اسلام آباد میں مختصر پریس کانفرنس کے دوران وینس نے بتایا کہ فریقین کے درمیان معاہدہ نہیں ہو سکا جبکہ ایرانی وزارتِ خارجہ نے بات چیت میں جزوی پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے، دوسری جانب پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق امید ظاہر کی ہے کہ دونوں فریق جنگ بندی کے لیے اپنا عزم جاری رکھیں گے۔

خلاصہ

  • امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان 21 گھنٹے طویل مذاکرات کے باوجود معاہدہ نہیں ہو سکا ہے
  • ایران کا مذاکرات میں جزوی پیش رفت کا دعویٰ: ’دو، تین اہم نکات پر اختلاف رائے‘ کے سبب معاہدہ نہیں ہو سکا، اسماعیل بقائی
  • محض ایک ملاقات میں کسی کو معاہدہ طے پانے کی توقع نہیں تھی، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان
  • پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا، امید ہے دونوں فریق جنگ بندی کے لیے اپنا عزم جاری رکھیں گے، اسحاق ڈار
  • تاحال مذاکرات کے اگلے دور کے وقت، مقام اور طریقۂ کار کا فیصلہ نہیں ہوا ہے، ایرانی میڈیا

لائیو کوریج

  1. اب فیصلہ امریکہ نے کرنا ہے کہ آیا وہ ہمارا اعتماد حاصل کر سکتے ہیں یا نہیں، ایرانی مذاکراتی وفد کے سربراہ قالیباف

    اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں ایرانی وفد کی سربراہی کرنے والے محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ مذاکرات سے قبل میں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ مذاکرات کے لیے ضروری نیت اور ارادہ موجود ہے، لیکن گذشتہ دو جنگوں کے تجربات کے باعث ہمیں مخالف فریق پر بھروسہ نہیں۔

    ایرانی پارلیمان کے سپیکر قالیباف نے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’بات چیت کے دوران ایرانی وفد میں شامل میرے ساتھیوں نے مختلف تجاویز پیش کیں تاہم مخالف فریق مذاکرات کے اس دور میں ایرانی وفد کا اعتماد جیتنے میں ناکام رہا۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کو ہمارے منطق اور اصولوں کے متعلق اندازہ ہو گیا ہے، اب فیصلہ انھوں نے کرنا ہے کہ آیا وہ ہمارا اعتماد حاصل کر سکتے ہیں کہ نہیں۔

    قالیباف کا کہنا ہے کہ ایرانی قوم کے حقوق کے دفاع کے لیے وہ سفارتکاری کے ساتھ ساتھ فوجی جدوجہد پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چالیس دن کی جنگ کے دوران ایرانی قوم کے دفاع میں حاصل ہونے والی کامیابیوں سے ایک لمحے کے لیے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    انھوں نے مذاکراتی عمل میں سہولت کاری کے لیے اہم کردار ادا کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

    انھوں نے ایرانی وفد میں شامل اپنے ساتھیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، ’بہت خوب، خدا آپ کو مزید ہمت دے۔‘

  2. کشیدگی میں اضافہ یا مذاکرات: ٹرمپ کا انتخاب کیا ہو گا؟, لز ڈوسیٹ، مرکزی نامہ نگار برائے بین الاقوامی امور، اسلام آباد

    امریکی نائب صدر نے اسے بیک وقت اچھی اور بری خبر قرار دیا۔ اچھی خبر یہ کہ ایرانیوں کے ساتھ بامعنی بات چیت ہوئی۔ اور بری خبر یہ ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے نہیں پایا۔

    انھوں نے کہا کہ یہ ایران کے لیے بری خبر ہے۔

    اس ایک ہی طویل مذاکراتی نشست کا دورانیہ اہم بھی تھا اور حیران کن بھی۔

    تاہم یہ بات بالکل بھی حیران کن نہیں معاہدہ نہ ہو سکا۔

    امریکی وفد پاکستان اس یقین کے ساتھ آیا تھا کہ اس جنگ میں ایران کو اس قدر اتنا نقصان پہنچ چکا ہے کہ وہ بہت آسانی سے سمجھوتہ کر لیں گے۔

    وینس نے اپنے اعلان میں کہا کہ انھوں نے ہماری شرائط قبول نہیں کیں۔

    مگر ایران کی بھی اپنی ریڈ لائنز ہیں۔

    وہ ان مذاکرات میں اس احساس کے ساتھ شامل ہوئے تھے کہ وہ اب بھی ایک مضبوط پوزیشن میں ہیں۔ اپنی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان کے باوجود وہ لڑائی جاری رکھنے کے قابل ہیں۔

    اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی صورت میں اس کے پاس ابھی بھی دباؤ ڈالنے کی کافی صلاحیت موجود ہے۔

    دس برس پہلے جب تہران اور واشنگٹن نے ایک جوہری معاہدہ کیا تھا تو اس میں 18 ماہ لگے تھے۔

    اب ٹرمپ کو انتخاب کرنا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں: کشیدگی میں اضافہ یا مذاکرات؟

  3. سعودی عرب کی مشرق۔مغرب آئل پائپ لائن سے تیل کی ترسیل بحال

    سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی اہم مشرق۔مغرب آئل پائپ لائن اور اس کے اطراف توانائی کے ڈھانچے مکمل طور پر بحال کر دیے ہیں۔

    وزارتِ توانائی کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز ہونے والے حملوں کے نتیجے میں اس پائپ لائن کے ذریعے سات لاکھ بیرل تیل کی یومیہ ترسیل رک گئی تھی۔

    امریکہ-اسرائیل اور ایران کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے سعودی عرب کو مجبوراً اپنی تیل کی برآمدات کو آبنائے ہرمز کے بجائے مشرق۔مغرب پائپ لائن کی طرف موڑنا پڑا ہے۔ اس پائپ لائن کے ذریعے خام تیل بحیرہ احمر پر واقع ایک ٹرمینل تک پہنچایا جاتا ہے۔

    وزارتِ توانائی کے مطابق سعودی عرب کی ساحل کے قریب واقع منيفة آئل پروڈکشن فیسیلٹی بھی بحال کر دی گئی ہے، تاہم خُرَیس آئل فیلڈ پر مرمت کا کام ابھی جاری ہے۔

  4. کوئٹہ میں فائرنگ سے ہزارہ برادری کے دو افراد ہلاک اور تین زخمی، مشتعل مظاہرین نے مغربی بائی پاس بند کر دی

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔

    متعلقہ علاقے کے ایس ایچ او خیر محمد سمالانی نے بتایا کہ ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد زرنج (لوڈر) رکشے میں خریداری کے لیے سبزی منڈی جا رہے تھے۔

    ان کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سواروں نے انھیں اس وقت نشانہ بنایا جب وہ ہزار گنجی سبزی منڈی کے قریب پہنچے۔

    ایس ایچ او سمالانی کا کہنا تھا کہ حملے میں رکشے میں سوار دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    انھوں نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کرنے کے بعد تحقیقات کا آغآز کر دیا گیا ہے۔

    اس واقعے کے خلاف مشتعل افراد نے ہزارہ ٹائون کے قریب مغربی بائی پاس کو بند کر کے احتجاج شروع کر دیا ہے۔

    ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے بیشتر افراد اہل تشیع ہیں جو کوئٹہ شہر کے مشرق میں مری آباد جبکہ مغرب میں بروری کے علاقے میں آباد ہیں۔

    خیال رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں اہل تشیع بالخصوص ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کو کوئٹہ اور بلوچستان کے چند دوسرے علاقوں میں ٹارگٹ کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔

    طویل عرصے تک جاری رہنے والے ان واقعات میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد ہلاک اور زخمی ہوئی۔

    تاہم اندازاً گذشتہ تین چار سال سے فرقہ واریت کی بنیاد پر کوئٹہ یا بلوچستان کے کسی اور علاقے سے کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔

    اتوار کے روز جب ہزار گنجی میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد پر حملے کے واقعے کے محرکات کے بارے میں ایک اور پولیس افسر سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اسے ٹارگٹڈ کلنگ کا واقعہ قرار دیا۔

    وزیر اعلیٰ نے محکمہ داخلہ، آئی جی پولیس سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی

    بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے ہزار گنجی فائرنگ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی پولیس سے فوری رپورٹ طلب کر لی۔

    وزیرِ اعلیٰ کا نے اسے بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے میں ملوث عناصر قانون کی گرفت سے نہیں بچیں گے۔

    ’امن دشمن عناصر کو معصوم جانوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘

  5. جے ڈی وینس خالی ہاتھ اور مایوس لوٹ رہے ہیں, کیری ڈیویس، بی بی سی کی پاکستان میں نامہ نگار

    اسلام آباد میں سورج طلوع ہو رہا تھا جب جی ڈی وینس کی جانب سے مذاکرات کے حوالے سے اعلان سامنے آیا۔

    سنیچر کی دوپہر سے شروع ہو کر رات کے آخری پہر تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکی وفد بنا کسی معاہدے پر پہنچے واپس جا رہا ہے۔

    وینس کے مطابق بات چیت کے دوران ان کا امریکی صدر سے کئی بار رابطہ ہوا۔

    انھوں نے کہا کہ وہ ایران سے یہ یقین دہانی چاہتے تھے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے اور وہ جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے لیے درکار آلات بھی حاصل نہیں کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ کا ’یہی بنیادی مقصد ہے اور ہم نے مذاکرات کے ذریعے یہ مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی۔‘

    اور انھوں نے اس پر مایوسی کا اظہار کیا۔

    ایران ہمیشہ کہتا آیا ہے کہ اس کا جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ بات چیت امریکہ کی جانب سے ’غیر معقول مطالبات‘ کی وجہ سے ناکام ہوئی۔

    میڈیا کے سامنے دیے گئے بیان میں وینس نے آبنائے ہرمز کا ذکر نہیں کیا۔ یہ وہی اہم آبی گزرگاہ ہے جسے کھلوانا امریکہ کی ترجیح ہے، اور جسے کئی رپورٹوں میں مذاکرات کا بڑا تنازع قرار دیا گیا۔

    پاکستان کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ دونوں فریقوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ طے شدہ جنگ بندی پر قائم رہیں، حالانکہ دونوں ایک دوسرے پر پہلے ہی اس کی خلاف ورزی کے الزامات لگا چکے ہیں۔

  6. جنگ بندی کا احترام کریں اور مذاکرات دوبارہ شروع کریں: آسٹریلیا کا ایران اور امریکہ پر زور

    آسٹریلیا کی وزیرِ خارجہ پینی وانگ نے امریکہ اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کا احترام کریں اور مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔

    بی بی سی عربی کے مطابق وانگ کا کہنا نے کہا کہ ’یہ مایوس کن ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوگئے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ اب ترجیح جنگ بندی کو برقرار رکھنا اور مذاکرات کی طرف واپسی ہونا چاہیے۔

    وانگ نے خبردار کیا کہ تنازع کی شدت میں اضافے سے انسانی نقصان میں اضافہ ہوگا اور عالمی معیشت پر مزید اثر پڑے گا۔

  7. اسرائیل کا جنوبی لبنان میں راکٹ لانچر تباہ کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں ایک راکٹ لانچر کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو اس کے مطابق اسرائیل کی جانب ’لانچ کرنے کے لیے تیار‘ تھا۔

    ٹیلیگرام پر جاری بیان میں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جوئیہ کے علاقے میں نصب لانچر کی نشاندہی ہوئی تھی اور وہاں سے راکٹ لانچ ہونے سے پہلے ہی اسے ’نشانہ بنا کر تباہ‘ کر دیا گیا۔

    اسرائیلی فوج نے اس حملے کی ویڈیو فوٹیج بھی جاری کی ہے۔

    اس بات پر اب بھی اختلاف ہے کہ آیا امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے اور آیا پاکستان میں دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد بھی یہ جنگ بندی برقرار رہے گی یا نہیں۔

    دوسری جانب اسرائیل اور لبنان کے درمیان اگلے ہفتے واشنگٹن میں مذاکرات ہونے جا رہے ہیں۔

  8. اسلام آباد میں امن مذاکرات کے دوران امریکی صدر ٹرمپ میامی میں یو ایف سی مقابلہ دیکھتے رہے

    ایسے وقت میں جب امریکی نائِب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی وفد اسلام آباد میں ایرانی وفد کے ساتھ اہم امن مذاکرات میں مصروف تھا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر میامی میں یو ایف سی کی فائٹ دیکھنے کے لیے موجود تھے۔

    ٹرمپ کے ہمراہ ان کے اہلِخانہ کے کئی افراد اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو بھی موجود تھے۔

    اتوار کی صبح مذاکرات کے بعد مختصر پریس کانفرنس کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ پاکستان میں ہونے والی بات چیت کے دوران وہ ٹرمپ سے مسلسل رابطے میں تھے۔

    انھوں نے کہ، ’مجھے نہیں معلوم گذشتہ 21 گھنٹوں کے دوران ہم نے کتنی بار بات کی—آدھ درجن مرتبہ، شاید ایک درجن بار۔

    ’ہم مستقل ٹیم سے رابطے میں تھے کیونکہ ہم نیک نیتی سے مذاکرات کر رہے تھے۔‘

  9. ایران کا مذاکرات میں جزوی پیش رفت کا دعویٰ: ’دو، تین اہم نکات پر اختلاف رائے‘ کے سبب معاہدہ نہیں ہو سکا، اسماعیل بقائی

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں متعدد نکات پر اتفاق ہوا ہے تاہم دو، تین اہم نکات پر اختلاف رائے کے باعث تاحال جامع معاہدہ طے نہیں پا سکا۔

    ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ مذاکرات ’بد اعتمادی کے ماحول‘ میں شروع ہوئے تھے اور ایک نشست میں معاہدہ طے پائے جانے کا امکان کم تھا۔

    ’یہ مذاکرات 40 روزہ جنگ کے بعد، بے اعتمادی اور شکوک و شبہات کے ماحول میں ہوئے۔ فطری طور پر یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی تھی کہ محض ایک ملاقات میں کوئی معاہدہ طے پا جائے۔ کسی نے ایسی توقع نہیں کی تھی۔‘

    اسماعیل بقائی کے مطابق، ان مذاکرات میں آبنائے ہرمز جیسے کچھ نئے معاملات بھی شامل کر دیے گئے جن میں سے ہر ایک کی اپنی پیچیدگیاں ہیں۔

    ان کا کہنا ہے ایران، پاکستان اور خطے کے ’دیگر دوستوں‘ کے درمیان رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا۔

    اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ’سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی، یہ قومی مفادات کے تحفظ کا ایک ذریعہ ہے۔‘

    پاکستان کے وزارتِ داخلہ کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ایرانی وفد مذاکرات کے بعد واپس روانہ ہو چکا ہے۔

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر نیوز کے مطابق ایرانی وفد پاکستانی وقت کے مطابق صبح نو بجے کے کچھ دیر بعد پاکستان سے روانہ ہوا تھا۔

  10. مذاکرات کی ناکامی کے حوالے سے امریکہ اور ایران کے متضاد بیانات

    امریکہ اور ایران کی جانب سے امن مذاکرات کی ناکامی کی مختلف وجوہات پیش کی جا رہی ہیں۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی بات چیت کو امریکہ کے ’غیر معقول مطالبات‘ نے متاثر کیا۔

    ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ایرانی وفد کی مختلف تجاویز کے باوجود، امریکی فریق کے غیر معقول مطالبات مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کا باعث بنے۔ یوں بات چیت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔‘

    دوسری جانب، امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اس نے کافی ’لچک‘ اور ’روا داری‘ کا مظاہرہ کیا۔

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انھیں ہدایت کی تھی کہ ’یہاں نیک نیتی سے آئیں اور معاہدہ کرنے کی پوری کوشش کریں۔ ہم نے یہی کیا، مگر بدقسمتی سے کوئی پیش رفت نہیں ہو سک۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ ’انتہائی سادہ تجویز—ایک فریم ورک—پیش کرکے جا رہے ہیں، جو ہمارا آخری اور بہترین مؤقف ہے۔‘

    فی الحال واضح نہیں کہ دو ہفتے کی جنگ بندی کے معاہدے کے آئندہ مراحل کیا ہوں گے اور آیا فریقین میں مزید بات چیت ہوگی یا نہیں۔

  11. امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد اسلام آباد میں ’واضح مایوسی‘ محسوس کی جا سکتی ہے, کیری ڈیویس، بی بی سی

    پریس کانفرنس ختم ہوتے ہی ہم اور کئی دیگر صحافی جو کانفرنس سینٹر کے اندر مذاکرات کا احوال دیکھ رہے تھے بھاگ کر سڑک کی دوسری جانب اس ہوٹل کے باہر پہنچے جہاں جے ڈی وینس پریس کانفرنس کر رہے تھے، تاکہ دیکھ سکیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔

    جب ہم وہا٘ں پہنچے تو وہاں گاڑیوں کا ایک طویل قافلہ روانگی کے لیے تیار نظر آ رہا تھا۔ اس میں پاکستانی حکام کی جانب سے فراہم کی گئی سکیورٹی بھی شامل تھی، اور وہ سکیورٹی بھی جو امریکی نائب صدر کے ساتھ سفر کرتی ہے۔

    ہم نے دیکھا کہ امریکی پرچم لگی ایک گاڑی بھی تیزی سے ہوٹل سے نکل رہی ہے۔ اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ نائب صدر جے ڈی وینس طویل مذاکرات کے بے نتیجہ رہنے کے بعد اسلام آباد سے جانے کے لیے تیار تھے۔

    ہمارے اردگرد ان مذاکرات کے نے نتیجہ رہنے پر مایوسی پھیلی ہوئی تھی جو کافی نمایاں اورصاف محسوس کی جا سکتی تھی۔

    بہت سوں کو اندازہ تھا کہ دونوں فریقوں کے درمیان امن معاہدہ ہونا مشکل ہے کیونکہ امریکہ اور ایران کے دونوں کے موقف کے درمیان بہت فاصلہ تھا۔ لیکن اس کے باوجود، بہت سے لوگوں کو امید تھی کہ دونوں جانب سے بھیجے گئے اتنے سینئر سطح کے وفود اس بات کی علامت ہیں کہ سب معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں اور کسی معاہدے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں۔

    یہ مایوسی صرف اسی کانفرنس ہال تک محدود نہیں رہے گی—بلکہ اس سے کہیں آگے تک محسوس کی جائے گی۔

  12. پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا، امید ہے دونوں فریق جنگ بندی کے لیے اپنا عزم جاری رکھیں گے، اسحاق ڈار

    پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے اتوار کی صبح پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ایران اور امریکہ کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے نہ صرف وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جنگ بندی کی درخواست منظور کی بلکہ پاکستان کی دعوت پر اسلام آباد میں مذاکرات بھی کیے۔

    ان کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی سربراہی میں ایران اور امریکہ کے وفود مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان آئے۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ انھوں نے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ فریقین کے درمیان ہونے والے ’مشکل اور تعمیری مذاکرات‘ کے کئی دور کے دوران فریقین کی معاونت کی۔ ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں سے جاری مذاکرات آج صبح ختم ہوئے۔

    انھوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں فریق مثبت جذبے کا مظاہرہ کرتے رہیں گے تاکہ خطے اور اس سے بھی آگے کے لیے دیرپا امن اور خوشحالی کا حصول ممکن ہو سکے۔

    ’یہ اہم ہے کہ دونوں فریق جنگ بندی کے لیے اپنا عزم جاری رکھیں۔‘

    ان کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا۔

    انھوں نے ایران اور امریکہ کی جانب سے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہنے پر دونوں ملکوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔

  13. تاحال مذاکرات کے اگلے دور کے وقت، مقام اور طریقۂ کار کا فیصلہ نہیں ہوا ہے، ایرانی میڈیا

    ایرانی نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نے امریکہ کے ساتھ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکراتی عمل کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا:

    تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد 10 اپریل کو رات گئے پاکستان پہنچا، اس کے بعد وفد نے کم از کم دو مرتبہ پاکستان کے آرمی چیف اور ایک مرتبہ پاکستانی وزیر اعظم سے ملاقات کی تاکہ ضروری انتظامات کیے جا سکیں اور مذاکرات کے آغاز ہی میں امریکہ کی وعدہ خلافی کے خلاف باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا جا سکے۔

    ’پاکستان کے وزیرِ اعظم کے ساتھ مذاکرات ہفتے کے روز 11 اپریل کو دوپہر ایک بجے شروع ہوئے جس کے چند گھنٹوں بعد امریکی فریق کے ساتھ بات چیت کا آغاز ہوا۔ یہ مذاکرات 21 گھنٹے سے زائد تک جاری رہے۔‘

    ایرنی نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ اس دوران ایران نے بارہا اپنی تجاویز پیش کیں اور امریکی فریق کو حقیقت پسندی کی طرف لانے کی کوشش کی۔ تاہم ہر مرحلے پر امریکہ کے حد سے زیادہ مطالبات نے کسی مشترکہ فریم ورک تک پہنچنے میں رکاوٹ ڈالی۔ امریکی مؤقف میں لچک نہ ہونے کے باعث آج 12 اپریل کو مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے۔

    خبر میں مزید کہا گیا ہے کہ تاحال مذاکرات کے اگلے دور کے وقت، مقام اور طریقۂ کار سے متعلق کسی پروگرام کا اعلان نہیں کیا گیا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکہ روانگی سےقبل ایک مختصر پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے درمیان معاہدہ نہیں ہوسکا۔ ہم نے اپنی ریڈ لائن واضح کی ہے۔ انھوں نے ہماری شرائط ماننے سے انکار کیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ یہ خبر امریکہ کے لیے اتنی بری نہیں جتنی کہ ایران کے لیے ہے۔

    ’میرے خیال میں ہم نے کافی لچک کا مظاہرہ کیا، صدر نے ہمیں کہا تھا کہ آپ کو نیک نیت کے ساتھ (مذاکرات میں) جانا ہے اور معاہدے کے لیے اپنی بہترین کوششیں کرنی ہیں ہم نے وہ کیا لیکن افسوس ہے کہ کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی۔‘

    جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ’سادہ سی بات یہ ہے کہ ہم ان سے (ایران سے) یقین دہانی چاہتے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے اور وہ جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے لیے درکار آلات بھی حاصل نہیں کریں گے۔

    تاہم انھوں نے نے واضح نہیں کیا کہ معاہدہ نہ ہونے کا دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی پر کیا اثر ہو گا۔

  14. مذاکرات کے بعد جے ڈی وینس امریکہ روانہ

    ایران کے ساتھ ’21 گھنٹے طویل مذاکرات‘ کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس امریکہ روانہ ہو گئے ہیں۔

    اس بات کی تصدیق بی بی سی کے نمائندے شہزاد ملک کو محکمہ داخلہ کے ایک اہلکار نے کی ہے۔

    امریکی نائب صدر مختصر پریس کانفرنس کے بعد نور خان ائربیس کی طرف روانہ ہو گئے تھے۔

    بی بی سی سکیورٹی ذرائع سے موصول ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امریکی نائب صدر کو آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے الوداع کیا۔

  15. وہ کون سی شرائط تھیں جن پر امریکہ اور ایران میں اتفاق نہیں ہو سکا؟

    مذاکرات کے بعد پریس کانفرنس میں امریکی نائب صدر نے کہا: ’ہم نے بہت واضح طور پر بتا دیا تھا کہ ہماری ریڈ لائنز کیا ہیں، کن باتوں پر ہم مفاہمت کر سکتے ہیں اور کن پر نہیں۔‘

    جے ڈی وینس کے مطابق: ’اور انھوں نے (ایران نے) فیصلہ کیا ہے کہ وہ ہماری شرائط تسلیم نہیں کریں گے۔‘

    اس موقع پر صحافیوں نے امریکی نائب صدر سے سوال کیا کہ ’واضح طور پر بتائیے کہ کون سی شرائط مسترد کی گئی ہیں؟‘

    اس کے جواب میں جے ڈی وینس نے کہا کہ 21 گھنٹے تک جو مذاکرات بند دروازوں کے پیچھے ہوئے، ان کی تمام تفصیلات تو وہ نہیں بتائیں گے، تاہم ’سادہ سی بات یہ ہے کہ ہم ان سے (ایران سے) یقین دہانی چاہتے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے اور وہ جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے لیے درکار آلات بھی حاصل نہیں کریں گے۔

    ’امریکی صدر کا یہی بنیادی مقصد ہے اور ہم نے مذاکرات کے ذریعے یہ مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی۔‘

    امریکی نائب صدر نے کہا کہ ایران کے پاس موجود یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت پہلے ہی تباہ کی جا چکی ہے، ’لیکن کیا ہم ایران میں یہ آمادگی دیکھ رہے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار کبھی بھی نہیں بنائیں گے۔ یہ آمادگی ابھی تک ہمیں نظر نہیں آئی۔‘

  16. ’ہم اس تجویز کے ساتھ جا رہے ہیں کہ افہام و تفہیم کا طریقہ کار وضع کیا جائے، دیکھنا ہے کہ ایرانی اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں‘

    جے ڈی وینس سے سوال کیا گیا کہ مذاکراتی عمل کے دوران ان کا صدر ٹرمپ سے کتنی بار رابطہ ہوا اور انھوں نے کیا کہا۔

    امریکی نائب صدر نے کہا، ’ہم مسلسل صدر سے رابطے میں تھے، مجھے نہیں معلوم کہ گذشتہ 21 گھنٹوں میں کتنی بار بات ہوئی ہو گی۔۔۔۔ شاید ایک درجن مرتبہ۔‘

    ’ہم ایڈمرل کوپر، مارکو، اور پیٹ اور پوری نیشنل سکیورٹی ٹیم سے رابطے میں تھے۔ ہم مسلسل رابطے میں تھے کیونکہ ہم نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم یہاں ایک انتہائی سادہ سی تجویز ساتھ جا رہے ہیں کہ افہام و تفہیم کا ایک طریقہ کار وضع کیا جائے، یہ ہماری حتمی اور بہترین پیشکش ہے، دیکھنا ہے کہ ایرانی اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں۔

  17. ہم نے کافی لچک کا مظاہرہ کیا لیکن افسوس کہ کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی: جے ڈی وینس

    ایک سوال کے جواب میں جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران ایران کے منجمد اثاثوں کے متعلق بھی بات ہوئی تاہم ہم اس نکتے پر نہیں پہنچ سکے کہ جہاں ایرانی ہماری شرائط قبول کرتے۔

    ’میرے خیال میں ہم نے کافی لچک کا مظاہرہ کیا، صدر نے ہمیں کہا تھا کہ آپ کو نیک نیت کے ساتھ (مذاکرات میں) جانا ہے اور معاہدے کے لیے اپنی بہترین کوششیں کرنی ہیں، ہم نے وہ کیا لیکن افسوس ہے کہ کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی۔‘

  18. بریکنگ, امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ نہیں ہوسکا: جے ڈی وینس

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ 16 گھنٹے طویل مذاکرات کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ نہیں ہوسکا ہے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے درمیان معاہدہ نہیں ہوسکا۔ ہم نے اپنی ریڈ لائن واضح کی ہے۔ انھوں نے ہماری شرائط ماننے سے انکار کیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ یہ خبر امریکہ کے لیے اتنی بری نہیں جتنی کہ ایران کے لیے ہے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ ’پاکستان نے مذاکرات کرانے میں اچھا کام کیا کہ معاہدہ ہو سکے۔‘

    ’ہم 21 گھنٹوں سے اسلام آباد میں موجود ہیں۔‘

    انھوں نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    تاہم امریکی نائب صدر نے واضح نہیں کیا کہ معاہدہ نہ ہونے کا دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی پر کیا اثر ہو گا۔

  19. ایران کے خلاف اسرائیل کی مہم ’ابھی ختم نہیں ہوئی‘: نیتن یاہو

    ہم نے اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا ایک بیان رپورٹ کیا تھا کہ انھوں نے لبنان کے ساتھ امن مذاکرات کی ’منظوری‘ دے دی ہے۔

    تاہم اسی پیغام میں انھوں نے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ ایران کے خلاف مہم ’ابھی ختم نہیں ہوئی‘ اور کہا کہ ’ہم اب بھی ان سے لڑ رہے ہیں۔‘

    اسرائیلی وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ ’ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔‘

    یہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا گیا جب امریکہ اور ایران پاکستان کی ثالثی کے تحت امن مذاکرات میں مصروف ہیں۔

    نیتن یاہو نے اسرائیل کی فوجی مہم میں حاصل کی گئی متعدد ’کامیابیوں‘ کی فہرست بھی پیش کی، جن میں ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔

    انھوں نے کہا: ’یہ کامیابیاں ابھی مکمل نہیں ہوئیں۔ ایران میں اب بھی (جوہری پروگرام کے لیے) افزودہ مواد موجود ہے۔ اور جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا، اسے ہٹانا ضروری ہے۔ یا تو یہ معاہدے کے ذریعے ہٹایا جائے گا یا پھر کسی اور طریقے سے۔‘

  20. جے ڈی وینس کی پریس کانفرنس کچھ دیر میں

    ہمیں ابھی اطلاع ملی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس چند منٹ میں پریس کانفرنس کریں گے۔

    اسلام آباد میں ایرانی وفد کے ساتھ تقریباً 16 گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد وہ کیا کہتے ہیں، اس سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے ساتھ رہیے۔

    سرینا ہوٹل میں سرگرمیوں سے آگاہ ایک ذرائع نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ امریکی وفد کے اراکین ایرانی حکام کے ساتھ مل کر پریس سے بات کرنا چاہتے تھے لیکن اب تک ایرانی حکام آمادہ نہیں ہوئے ہیں۔