یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ 20 نومبر کی خبروں کے لیے یہاں کلک کریں
توشہ خانہ کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی ضمانت منظور کرلی
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس میاں گُل اورنگزیب نے عمران خان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں 10، 10 لاکھ کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کی ہدایات دیں۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ اگر ملزم کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں ہیں تو انھیں رہا کردیا جائے۔
خلاصہ
- اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں ضمانت منظور کرلی ہے۔
- پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں کے علاقے مالی خیل میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر عسکریت پسندوں کے حملے میں 12 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
- روس کا کہنا ہے کہ یوکرین نے روسی علاقوں پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے امریکی میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔
- ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم دھرنے دیں، لانگ مارچز کریں یا پھر ترقی اور خوشحالی کا رستہ اپنائیں: وزیر اعظم شہباز شریف
- لاہور اور ملتان سمیت صوبہ پنجاب کے تمام ڈویژنز میں تعلیمی ادارے 20 نومبر سے کھولنے کا اعلان
- بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے سکول کے ایک کمسن طالب علم کے اغوا کے خلاف احتجاج کا سلسلہ منگل کو پانچویں روز بھی جاری رہا اور اس حوالے سے کوئٹہ میں ہڑتال کی جارہی ہے۔
- اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب پر میزائل حملے میں کم از کم چار افراد زخمی، اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق لبنان سے شمالی اسرائیل کی طرف 30 شیلز داغے گئے تھے۔
لائیو کوریج
پی ٹی آئی کا لانگ مارچ: اسلام آباد انتظامیہ نے پنجاب اور سندھ سے پولیس کی اضافی نفری طلب کرلی
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 24 نومبر کے لانگ مارچ کے پیشِ نظر اسلام آباد کی انتظامیہ نے امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے پنجاب اور سندھ پولیس سے مدد مانگ لی ہے۔
اسلام آباد کے چیف کمشنر کے دفتر سے وزارتِ داخلہ کو لکھے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ایک سیاسی جماعت نے اسلام آباد میں احتجاج کا اعلان کیا ہے اور اس موقع پر پنجاب پولیس کے دو ڈی آئی جی اور 10 ڈی پی او اسلام آباد میں ڈیوٹی پر تعینات کیے جائیں۔
شہری انتظامیہ کی جانب سے احتجاج کے پیش نظر سندھ اور پنجاب سے بھی دو، دو ہزار پولیس اہلکار طلب کیے ہیں۔
اس کے علاوہ شہری انتظامیہ نے درخواست کی ہے کہ پنجاب سے آنے والے 10 ڈی پی او اپنے ساتھ 500، 500 پولیس اہلکار بھی ساتھ لائیں۔
مراسلے میں لکھا گیا ہے کہ ان تمام افسران اور سکیورٹی اہلکاروں کی خدمات 22 نومبر سے درکار ہوں گی۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پی ٹی آئی کے احتجاج کے سبب انتظامیہ نے شہر کے مختلف مقامات پر رُکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے کنٹینرز پہنچا دیے ہیں۔
یہ کنٹینرز اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ، سواں اور روات میں پہنچائے گئے ہیں۔
’ممکنہ فضائی حملے‘ کا خطرہ: امریکہ، سپین، اٹلی اور یونان نے یوکرین میں سفارتخانے بند کر دیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں امریکہ سمیت متعدد ممالک نے ممکنہ روسی فضائی حملے کے پیشِ نظر اپنے سفارتخانوں کو بند کر دیا ہے۔
امریکہ، سپین، اٹلی اور یونان ان نمایاں ممالک میں شامل ہیں جنھوں نے یوکرینی دارالحکومت میں اپنے سفارتخانے عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یوکرین میں امریکی سفارتخانے کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ وہ ’20 نومبر کو کسی ممکنہ بڑے فضائی حملے کی معلومات‘ کے پیشِ نظر کیئو میں اپنا سفارتخانہ بند کر رہے ہیں۔
امریکی سفارتخانے نے اپنے سفارتی اہلکاروں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ محفوظ مقام پر پناہ لے لیں۔
دوسری جانب سپین نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ’ممکنہ بڑے فضائی حملے‘ کے خدشات کے پیشِ نظر یوکرینی دارالحکومت میں اپنا سفارتخانہ بند کر رہے ہیں۔
تاہم یوکرین میں برطانوی سفارتخانہ تاحال کھلا ہے اور حکومت کا کہنا ہے کہ وہ کیئو میں صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔
خیال رہے گذشتہ روز روس نے کہا تھا کہ یوکرین نے روسی علاقوں پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے امریکی میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔
ماسکو میں وزارت دفاع نے کہا تھا کہ یوکرین نے منگل کی صبح روس کے علاقے برائنسک پر حملے میں آرمی ٹیکٹیکل میزائل سسٹم (اٹاکس) کا استعمال کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
روسی وزارتِ دفاع کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پانچ میزائلوں کو فضا میں ہی مار گرایا گیا تاہم ایک میزائل کے ناکارہ ہو جانے کے بعد اس کے ٹکڑوں کی وجہ سے علاقے میں موجود ایک فوجی اڈے میں آگ لگنے کی اطلاعات ہیں۔‘
پیر کے روز روسی انتظامیہ کہ جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’اگر امریکہ کی جانب سے فراہم کردہ میزائل روس پر داغے جاتے ہیں تو ماسکو اس حملے کو یوکرین کی جانب سے حملہ نہیں بلکہ اسے امریکی حملہ تصور کرے گا۔‘
دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پوتن نے روس کے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے اصول میں تبدیلیوں کی منظوری دیتے ہوئے نئے قواعد اور شرائط طے کیے ہیں جن کے تحت اب روس اپنے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا فیصلہ کرے گا۔
روس کی جانب سے جوہری ڈاکٹرائن میں کی گئی تازہ ترین تبدیلیوں کے مطابق اگر ایک غیرجوہری ریاست کو روس پر حملہ کرنے کے لیے ایک جوہری طاقت کی حمایت حاصل ہے، تو اسے روس پر مشترکہ حملہ تصور کیا جائے گا۔
اب ان تبدیلیوں کے تحت روس پر روایتی میزائلوں، ڈرونز یا ہوائی جہازوں سے بڑا حملہ روس کی جانب سے جوہری ردعمل کے معیار پر پورا اتر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر بیلاروس پر حملہ ہو یا روس کی خودمختاری کو کوئی سنگین خطرہ لاحق ہو تو وہ جوہری ردعمل دے سکتا ہے۔
اس تبدیلیوں کے بعد روس کے خلاف کسی ایسے ملک کی جارحیت جو کسی اتحاد کا رکن ہو، ماسکو پورے گروپ کی طرف سے جارحیت تصور کرے گا۔
روس کے سرکاری خبر رساں ادارے تاس کے مطابق جوہری نظریے میں تبدیلیوں کے مطابق ممکنہ جوہری ردعمل کے دائرے میں آنے والے ممالک، اتحادوں، اور فوجی خطرات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
صدر پوتن پہلے بھی جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی دے چکے ہیں جس پر یوکرین نے تنقید کرتے ہوئے اسے ’جوہری دھمکی‘ قرار دیا تھا اور اسے اپنے اتحادیوں کو مزید مدد فراہم کرنے سے روکنے کی روسی کوشش کہا تھا۔
تاہم روسی وزیر خارجہ سرگئی لارؤف نے کہا ہے کہ ’ہم اس بات کے سخت حامی ہیں کہ جوہری جنگ سے ہر حال میں بچا جائے۔‘
توشہ خانہ کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی ضمانت منظور کرلی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں ضمانت منظور کرلی ہے۔
بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے کے جج جسٹس میاں گُل اورنگزیب نے عمران خان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں 10، 10 لاکھ کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کی ہدایات دیں۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ اگر ملزم کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں ہیں تو انھیں رہا کردیا جائے۔ اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بھی اس مقدمے میں ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔
دورانِ سماعت ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر عمیر مجید نے عدالت کو بتایا کہ بلغاری جیولری سیٹ توشہ خانہ میں جمع ہی نہیں کروایا گیا اور ریاست کے تحفے کی کم قیمت لگواکر ریاست کو نقصان پہنچایا گیا۔
جسٹس میاں گُل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ اس سے عمران خان کو کیا فائدہ ہوا؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ’جب بیوی کو فائدہ ملا تو شوہر کا بھی فائدہ ہوا۔‘
جسٹس میاں گُل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیا کہ ’میری بیوی کی چیزیں بھی میری نہیں ہیں، ہم پتا نہیں کس دنیا میں رہ رہے ہیں۔‘
دوران سماعت عمران خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل نے توشہ خانہ پالیسی 2018 کے تحت تحائف خریدے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو قیمت کسٹم اور اپریزر نے لگائی ان کے مؤکل نے قیمت ادا کر کے اپنے پاس تحفہ رکھ لیا۔
توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان پر الزام ہے کہ سابق وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کو مختلف سربراہان مملکت کی جانب سے 108 تحائف ملے جن میں سے انھوں نے 58 تحائف اپنے پاس رکھ لیے اور ان تحائف کی ’کم مالیت ظاہر کی گئی۔‘
ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ ’ملزمان نے سعودی ولی عہد سے ملنے والا جیولری سیٹ بھی کم مالیت پر حاصل کیا۔ بشریٰ بی بی نے سعودی ولی عہد سے ملنے والا جیولری سیٹ توشہ خانہ میں جمع نہیں کروایا۔‘
خیال رہے رواں برس ستمبر میں توشہ خانہ کیس کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کی تین رُکنی جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم تشکیل دی تھی۔ یہ مقدمہ سپیشل جج سینٹرل کی عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا توشہ خانہ کیس میں ضمانت کے بعد عمران خان کی رہائی ممکن ہے؟
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے مطابق عمران خان کی توشہ خانہ کے ایک دوسرے کیس میں پہلے ہی سزا معطل ہوچکی ہے، جبکہ دوران نکاح عدت کیس میں وہ اہلیہ سمیت بری ہوچکے ہیں۔
جماعت کے مطابق سائفر کیس میں بھی عمران خان بری ہوچکے ہیں، جبکہ القادر کیس میں بھی ان کی ضمانت منظور ہوئی ہے۔
ایسے دو درجن سے زائد مزید مقدمات ہیں جن میں پہلے ہی عمران خان ضمانت حاصل کر چکے ہیں۔
پی ٹی آئی کے مطابق سابق وزیرِ اعظم 9 مئی سے متعلق آٹھ مقدمات میں نامزد ہیں اور لاہور کی ایک انسدادِ دہشتگردی کی عدالت 30 نومبر کو ان کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کرے گی۔
ان کی جماعت کے مطابق اگر ان مقدمات میں عمران خان کی ضمانتیں منظور ہوجاتی ہیں تو ان کو رہا کیا جا سکتا ہے۔
بریکنگ, بنوں میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر عسکریت پسندوں کے حملے میں 12 سکیورٹی اہلکار ہلاک

،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں کے علاقے مالی خیل میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر عسکریت پسندوں کے حملے میں 12 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
پاکستانی فوج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق منگل کو ہونے والے خودکش حملے کے نتیجے میں چیک پوسٹ کی دیوار اور آس پاس موجود عمارت بھی مسمار ہوئی جس کے باعث 12 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔
بیان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سکیورٹی فورسز 10 جوان اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار ہلاک ہوئے۔
ضلع بنوں کا علاقہ مالی خیل وزیرستان کی سرحد پر واقع ایک نیم قبائلی علاقہ ہے جہاں ماضی میں بھی عسکریت پسندوں کی جانب سے سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عسکریت پسند گروپ حافظ گل بہادر گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو حافظ گل بہادر گروپ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
صحافی رسول داوڑ کے مطابق شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے گل بہادر نے مدرسے میں دور طالبعلمی کے فوراً بعد عسکریت پسندی اختیار کر لی تھی۔
رسول داوڑ کے مطابق گل بہادر ماضی میں دیوبند مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی پاکستان کی اہم مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان دھڑے کے فعال رکن تھے اور اس جماعت کی طلبا کی شمالی وزیرستان شاخ کے سربراہ بھی رہے۔
گل بہادر کی نجی زندگی کے بارے میں بہت زیادہ تفصیلات موجود نہیں یہاں تک کہ ان کی کوئی تصویر بھی عوامی سطح پر دستیاب نہیں۔
مقامی صحافیوں کے مطابق گل بہادر کی دو بیویاں ہیں لیکن ان کے بچوں کی درست تعداد بھی معلوم نہیں۔
گل بہادر کے ایک قریبی ساتھی کے مطابق انھوں نے عسکریت پسندی کے میدان میں باضابطہ قدم 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد رکھا تھا۔
صحافی رسول داوڑ بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ گل بہادر نے سنہ 2001 میں افغانستان پر امریکہ اور نیٹو افواج کے خلاف لڑنےکے لیے جانیوالے مقامی قبائلی جنگجووں کو ’شوری مجاہدین‘ کے نام سے اکھٹا کیا۔
2001 کے بعد جب افغانستان سے متصل پاکستان کے قبائلی علاقوں میں افغان طالبان کے حامی مقامی عسکریت پسند گروہ یکے بعد دیگرے سامنے آئے تو ان میں شوری مجاہدین ایک اہم گروہ بن گیا جس نے شمالی وزیرستان میں افغان طالبان اور القاعدہ سمیت مقامی اور غیر ملکی عسکریت پسندوں کو پناہ گاہیں فراہم کیں۔
گل بہادر نے تمام تر قریبی تعلقات کے باوجود تحریک طالبان پاکستان میں شامل ہونے سے انکار کر رکھا ہے۔ صحافی ضیا الرحمان کا ماننا ہے کہ اس کی ایک وجہ محسود اور وزیر قبائل کی روایتی رقابت ہے اور اسی وجہ سے گل بہادر تحریک طالبان کا حصہ نہیں بنتے کیونکہ شدت پسند تنظیم کی قیادت ابتدا سے ہی محسود قبیلے سے تعلق رکھنے والے کسی نہ کسی شدت پسند کے ہاتھ میں رہی۔
افغانستان منتقل ہو جانے اور گل بہادر گروپ کی جانب سے پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں کے آغاز کے بعد بھی یہ کوششیں جاری رہیں تاہم گل بہادر نے الگ تنظیم قائم رکھنے کو ہی ترجیح دی۔
یوکرین نے روس پر امریکی میزائلوں سے حملہ کیا ہے: روسی وزارتِ دفاع

،تصویر کا ذریعہGetty Images
روس کا کہنا ہے کہ یوکرین نے روسی علاقوں پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے امریکی میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔
ماسکو میں وزارت دفاع نے کہا ہے کہ یوکرین نے منگل کی صبح روس کے علاقے برائنسک پر حملے میں آرمی ٹیکٹیکل میزائل سسٹم (اٹاکس) کا استعمال کیا ہے۔
روسی وزارتِ دفاع کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پانچ میزائلوں کو فضا میں ہی مار گرایا گیا تاہم ایک میزائل کے ناکارہ ہو جانے کے بعد اس کے ٹکڑوں کی وجہ سے علاقے میں موجود ایک فوجی اڈے میں آگ لگنے کی اطلاعات ہیں۔
یہ پہلا موقع ہے جب یوکرین کی جانب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کو روس پر داغہ گیا ہے۔ تاہم ایسا واشنگٹن کی جانب سے یوکرین کو روس پر ان میزائلوں کے استعمال کی اجازت ملنے کے فوری بعد کیا گیا ہے۔
پیر کے روز ماسکو سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’اگر امریکی میزائلوں کو روس کے خلاف استعمال کیا گیا تو اس کا ’مناسب اور ٹھوس جواب‘ دیا جائے گا۔‘
پیر کے روز روسی انتظامی کہ جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’اگر امریکہ کی جانب سے فراہم کردہ میزائل روس پر داغے جاتے ہیں تو ماسکو اس حملے کو یوکرین کی جانب سے حملہ نہیں بلکہ اسے امریکی حملہ تصور کرے گا۔‘
پیر کے روز کریملن کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا کہ ’روس اور پوتن نے اپنے موقف کو بہت واضح کر دیا ہے اور امریکہ کا یہ فیصلہ اس تنازعے میں واشنگٹن کی شمولیت کی ایک نئی سطح کی نشاندہی کرتا ہے۔‘
مزید یہ کہ ’یہ ’واضح‘ ہے کہ سبکدوش ہونے والی بائیڈن انتظامیہ ’آگ پر تیل چھڑکنا‘ اور اس تنازعے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھانے کے لیے اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔‘
واضح رہے کہ یوکرین کئی ماہ سے روسی حدود میں حملے کے لیے امریکہ کی جانب سے فراہم کیے جانے والے میزائلوں کے استعمال کی اجازت مانگ رہا تھا۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم دھرنے دیں، لانگ مارچز کریں یا پھر ترقی اور خوشحالی کا راستہ اپنائیں: وزیر اعظم شہباز شریف

،تصویر کا ذریعہPMO
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ’اگر واقعی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی آپ سب کو عزیز ہے جو کہ آپ کو عزیز ہے تو پھر یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم دھرنے دے لیں، لانگ مارچز کر لیں یا پھر ترقی اور خوشحالی کے مینار کھڑے کر لیں۔‘
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے منگل کے روز نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔
وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں اعلیٰ عسکری و سول قیادت و متعلقہ وفاقی وزرا، صوبائی وزرائے اعلیٰ، انٹیلی جینس اداروں کے سربراہان، پاکستان کے زیرِ اتظام کشمیر کے ومیر اعظم اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان بھی اجلاس میں شامل تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد اپنے خطاب میں کہا کہ ’مُلک سے شدت پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔‘
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے منگل کے روز نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی جس کے بعد خطاب کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ کئی ماہ سے وفاقی دارلحکومت میں جب بھی کوئی بڑا ایونٹ ہوتا تھا تو یہاں دھرنہ ہوتا تھا۔ ہمیں تسلی سے یہ سوچنا ہوگا کہ کیا یہ پاکستان کے حق میں ہے۔‘
وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر دھرنا، جلوس یا لانگ مارچ کرنا ہے تو وہ شہر میں ہونے والے بڑے اجلاس یا ایونٹ کے بعد بھی کیا جا سکتا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کے میں اس معاملے میں اس سے زیادہ آگے نہیں جانا چاہتا لیکن صرف ادب سے یہ درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں بیٹھ کر ٹھنڈے دل کے ساتھ ان معاملات کے بارے میں سوچنا ہے۔
نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد اپنے خطاب میں اُن کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی معشیت سب کے تعاون کی وجہ سے مستحکم ہو رہی ہے، صوبوں کا شکریہ کہ انھوں نے آئی این ایف پروگرام کے لیے وفاق کی مدد کی۔‘
لاہور اور ملتان سمیت صوبہ پنجاب کے تمام ڈویژنز میں تعلیمی ادارے 20 نومبر سے کھولنے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے لاہور اور ملتان میں بھی سموگ کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد تعلیمی ادارے 20 نومبر یعنی کل سے کھولنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
محکمہ تحفظِ ماحولیات کی جانب سے جاری ہونے والے ایک حالیہ نوٹیفکیشن میں پنجاب کے مختلف علاقوں میں ہونے والی بارش کے بعد ملتان اور لاہور سمیت صوبہ بھر کے تمام ڈویژنز میں تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (ای پی اے) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عمران حامد شیخ کے دستخطوں سے نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ پنجاب کے بالائی علاقوں میں بارش، ہوا کی سمت اور رفتار میں تبدیلی کے باعث ہوا کا معیار بہتر ہوگیا ہے جس کی وجہ سے فضائی آلودگی میں کمی واقع ہوئی ہے۔
لہذا 20 نومبر سے لاہور اور ملتان سمیت پنجاب بھر میں تمام تعلیمی ادارے کُچھ پابندیوں اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ تعلیمی ادارے کھول دیے جائیں گے۔
محکمہ تحفظِ ماحولیات کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق تعلیمی ادارے کھولے جانے کے ساتھ ساتھ جن احتیاتی تدابیر کو مدِ نظر رکھنا ضروری ہوگا اُن میں:
- تعلیمی ادارے صبح 8 بج کر 45 منٹ سے پہلے نہیں کھولے جائیں گے
- تمام طالب علم، اساتذہ اور عملہ لازمی ماسک پہنیں گے
- آؤٹ ڈور سپورٹس اور دیگر غیر نصابی سرگرمیوں پر پابندی رہے گی
- جماعتوں کے لحاظ سے الگ الگ چھٹی کے اوقات مقرر ہوں گے تاکہ ٹریفک کے رش سے بچا جا سکے
کوئٹہ میں سکول کے کمسن طالب علم کے اغوا کے خلاف ہڑتال, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے سکول کے ایک کمسن طالب علم کے اغوا کے خلاف احتجاج کا سلسلہ منگل کو پانچویں روز بھی جاری رہا اور اس حوالے سے کوئٹہ میں ہڑتال کی جارہی ہے۔
ہڑتال کی کال مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے دی تھی جبکہ تمام سیاسی جماعتوں نے اس کی حمایت کی ہے۔
ہڑتال کے باعث شہر کے تمام اہم تجارتی مراکز بند ہیں جبکہ ہڑتال کی وجہ سے شہر بھر میں ٹریفک معمول سے کم ہے۔
دوسری جانب بلوچستان اسمبلی کی عمارت کے سامنے بچے کے اغوا کے خلاف دھرنا بھی جاری رہا۔
کمسن طالب علم مصور کاکڑ کو جمعہ کے روز گھر سے سکول جاتے ہوئے نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا۔
بچے کے لواحقین کا کہنا ہے اس کی بازیابی تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔
بچوں کے رشتہ داروں نے اس شبے کا اظہار کیا ہے کہ بچے کو تاوان کی غرض سے اغوا کیا گیا ہے۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے بچوں سمیت اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں بڑی تعداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ کسی کمسن بچے کے اغوا کے واقعے کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج ہورہا ہے۔

اغوا ہونے والا بچہ کون ہے؟
اغوا ہونے والے مصور کاکڑ کی عُمر دس سال ہے اور اُن کا تعلق کوئٹہ شہر سے ہے۔ مصور کاکڑ کے والد کوئٹہ کے ایک تاجر ہیں۔
مصور کاکڑ ایک نجی سکول میں تیسری جماعت کے طالب علم ہیں اور اسی سکول میں وہ قرآن بھی حفظ کررہے ہیں۔
مغوی بچے کے چچا حاجی ملنگ کاکڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ مصور کاکڑ اب تک دو پارے حفظ کرچکے ہیں۔

،تصویر کا کیپشنہڑتال کے باعث شہر کے تمام اہم تجارتی مراکز بند ہیں جبکہ ہڑتال کی وجہ سے شہر بھر میں ٹریفک معمول سے کم ہے۔ بچے کو کیسے اغوا کیا گیا؟
حاجی ملنگ کاکڑ نے بتایا کہ ’مصور کاکڑ جس نجی سکول میں پڑھتا ہے اس میں ان کے ساتھ اسی گھرانے کا ایک اور بچہ بھی زیرِ تعلیم ہے اور دونوں بچے ایک وین میں سکول جاتے اور واپس گھر آتے ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’وقوعہ کے روز دوسرے بچے کی طبیعت خراب تھی جس کے باعث صرف مصور کاکڑ ہی گھر سے وین میں سکول کے لیے روانہ ہوئے۔‘
انھوں نے بتایا کہ چونکہ سکول جانے کے لیے مصور اور اُن کا ساتھ سب سے پہلے وین میں سوار ہوتے ہیں اس لیے گھر سے بیٹھنے کے بعد کچھ فاصلے پر نامعلوم افراد نے وین کو روکا اور اس سے مصور کو اتار کر دوسری گاڑی میں ڈال کر لے اپنے ساتھ لے گئے۔
تل ابیب پر لبنان کی جانب سے میزائل داغے جانے سے کم از کم چار افراد زخمی: اسرائیلی ایمبولینس سروس

،تصویر کا ذریعہGett
،تصویر کا کیپشناسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق لبنان سے شمالی اسرائیل کی طرف 30 شیلز داغے گئے اسرائیلی ایمبولینس سروس نے پیر کے روز تل ابیب کے نواحی علاقے میں ایک مرکزی سڑک پر لبنان کی جانب سے میزائل داغے جانے کی تصدیق کی ہے۔
ایمبولینس سروس کے مطابق لبنان کی طرف سے داغے گئے ایک راکٹ حملے کو ناکام بنایا گیا اور اس کے ٹکڑے تل ابیب کے نواحی علاقے کی مرکزی سڑک پر گِرے جس سے کم از کم چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق لبنان سے شمالی اسرائیل کی طرف 30 شیلز داغے گئے تھے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق اس دوران شمالی اسرائیل کے ایک قصبے میں ایک عمارت پر میزائل گرنے کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ وسطی بیروت کے علاقے زقاق البلاط میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 24 دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/REX
،تصویر کا کیپشنزقاق البلاط سے قبل اتوار کے روز کمرشل ایریا مار الیاس میں بم دھماکے میں دو افراد ہلاک اور 13 زخمی ہوئے تھے لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق لبنان کے دارالحکومت بیروت کے مختلف علاقوں میں 24 گھنٹوں کے اندر ہی دو حملے ہوئے ہیں۔
زقاق البلاط سے قبل اتوار کے روز کمرشل ایریا مار الیاس میں بم دھماکے میں دو افراد ہلاک اور 13 زخمی ہوئے تھے۔
لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پیر کے روز اسرائیلی فوج نے زقاق البلاط کے مضافات میں دریائے لیطانی کے راستے پر بین الاقوامی طور پر ممنوع قرار دیے گئے کلسٹر بموں سے بمباری کی۔
لبنان کی وزارت صحت نے کہا کہ موجودہ جنگ کے نتیجے میں اکتوبر 2023 سے آج تک مجموعی طور پر کم از کم 3,516 افراد ہلاک اور 14,929 زخمی ہو چکے ہیں۔
ایپکس کمیٹی میں علی امین گنڈاپور احتجاج سے متعلق پی ٹی آئی کے مطالبات پیش کریں گے: بیرسٹر سیف

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر بیرسٹر سیف نےدعویٰ کیا ہے کہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں علی امین گنڈاپور احتجاج سے متعلق پی ٹی آئی کے مطالبات بھی پیش کریں گے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام میں اینکر شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو میں کرتے ہوئے بیرسٹر سیف نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کو کارکنوں کی ویڈیو بنانے کی جو ہدایت دی ہیں وہ اُن پر عدم اعتماد نہیں بلکہ یہ اُن کی کارکردگی جانچنے کے لیے ہے۔
یاد رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی پارٹی عہدیداروں اور رہنماؤں سے خطاب کی ایک مبینہ آڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ 24 نومبر کے احتجاج کے حوالے سے عمران خان کا پیغام پہنچاتی سنائی دے رہی ہیں۔
اس آڈیو کے مطابق ’تمام کارکنان خود کو گرفتاری سے بچنے کی حکمت عملی تیار رکھیں۔ گرفتاری کا کوئی بہانہ نہیں چلے گا، خان نے کہا ہے جس کے پاس بطور ثبوت ویڈیو نہیں ہو گی وہ اگلے ٹکٹ ہولڈر بھی نہیں ہوں گے۔‘
یہ بھی یاد رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف نے ایک مرتبہ پھر اسلام آباد تک لانگ مارچ کا اعلان کر دیا ہے اور اس بار وہ دارالحکومت چار مطالبات کے ساتھ آنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے مطابق مطالبات میں ’26ویں آئینی ترمیم کا خاتمہ، جمہوریت اور آئین کی بحالی، مینڈیٹ کی واپسی اور تمام بے گناہ سیاسی قیدیوں کی رہائی‘ شامل ہیں۔
علی امین گنڈاپور کی ’حکمت عملی‘ اور تحریک انصاف کا ڈی چوک احتجاج جو ’پارٹی کے لیے کئی سوال چھوڑ گیا‘
اینکر شاہ زیب خانزادہ نے بشری بی بی کی جانب سے کارکنوں کے لیے ہدایات کے حوالے سے سوال پوچھا تو بیرسٹر سیف کا کہا کہ ’احتجاج کے حوالے سے بشریٰ بی بی نے بانی پی ٹی آئی کی ہدایت اپنے الفاظ میں کارکنوں اور رہنماؤں تک پہنچائی ہیں۔ بشریٰ بی بی کی ویڈیو بنانے کی بات ارکان کی کارکردگی جانچنے کے لیے ہے۔‘
بیرسٹر سیف نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی کال پر 24 نومبر کو ڈی چوک پہنچ کر حکومت کو سرپرائز دیں گے۔
بیرسٹر سیف نے پروگرام میں مزید کہا کہ 24 نومبر کو ہر ممکن طریقے سے اسلام آباد پہنچنے کی کوشش کریں گے اور ڈی چوک پر پہنچ کر حکومت کو سرپرائز دیں گے۔
حکومت کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کرنے کے سوال کے جواب میں بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ ’ان کی زور آزمائی کوئی نئی بات نہیں یہ پہلے بھی ہوتا رہا ہے، ہماری حکمت عملی بنی ہوئے ہیں ان کو سرپرائز دیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہHum TV
بشری بی بی کی مبینہ آڈیو میں مزید کیا کہا گیا
سوشل میڈیا پر موجود بشریٰ بی بی کی مبینہ آڈیو میں تحریک انصاف کے احتجاج سے متعلق عمران خان کی ہدایات بیان کی جا رہی ہیں۔
اس آڈیو میں کہا گیا ہے کہ ’جلسے میں ہر رکن صوبائی اسمبلی پانچ پانچ ہزار اور ہر رکن قومی اسمبلی 10، 10 ہزار افراد پر مشتمل علیحدہ علیحدہ قافلے لائے گا۔‘
آڈیو میں کہا گیا ہے کہ ’خود کوگرفتاری سے بچانے کے لیے تمام عہدیدار اپنا متبادل تیار کریں، اگر کوئی گرفتار ہوگا تو پھر قافلہ اس کا متبادل قیادت کرے گا۔‘
آڈیو کے مطابق ’عمران خان نے ہدایت دی ہے کہ تمام عہدیدار گاڑیوں کے اندر کی تصاویر اور ویڈیو بنائیں اور ہمارے ساتھ شیئر کریں۔‘
آڈیو کے مطابق ’انٹرنیٹ بند ہوگا متبادل بندوبست کرنا ہوگا، سوشل میڈیا، یوٹیوبرزقافلوں کی ویڈیوساتھ ساتھ شیئر کریں۔‘
آڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان نے کہا ہے کہ یہ بات کسی کی نہیں سنی جائے گی کہ میں گرفتار ہو گیا تھا، اس لیے میرے لوگ اس جگہ نہیں پہنچ سکے۔ یاد رکھیں کہ جب قافلہ نکلے گا تو آپ کی جگہ کو خالی نہیں چھوڑا جائے گا۔‘
یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کیے جانے والے پیغام میں کہا گیا تھا کہ: ’میری تمام پاکستانیوں سے اپیل ہے کہ 24 نومبر کو اسلام آباد پہنچیں اور مطالبات کی منظوری تک گھروں کو واپس نہ جائیں۔‘
بنوں: مسلح افراد کا چیک پوسٹ پر دھاوا، سات پولیس اہلکاروں کو اغوا کرکے نامعلوم مقام کی جانب لے گئے

،تصویر کا ذریعہBannu Police
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں مسلح افراد نے سب ڈویژن وزیر تھانہ اتمانزئی کی حدود روچہ چیک پوسٹ سے سات پولیس اہلکاروں کو اغوا کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق دو درجن سے زائد مسلح افراد نے سب ڈویژن وزیر کے پہاڑی علاقے روچہ چیک پوسٹ کا گھیراؤ کیا اور ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا کر ساتھ لے گئے۔ اس کے علاوہ تمام چھوٹا بڑا اسلحہ اور سامان بھی ساتھ اٹھا کر لے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق چار پولیس اہلکار موقع پر موجود نہ ہونے کی وجہ سے بچ گئے ہیں۔
ڈی پی او بنوں ضیا الدین نے بی بی سی کے عزیز اللہ خان کو بتایا ہے کہ یرغمال بنائے گئے افراد ڈویژن پولیس کے اہلکار ہیں جنھیں مسلح افراد اغوا کرکے نامعلوم مقام کی جانب لے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اہلکاروں کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
وزیر اعظم سے مشاورت کے بعد دوبارہ پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو آگے بڑھائیں گے: عبدالعلیم خان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی وزیرِ نجکاری عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم سے مشاورت کے بعد دوبارہ پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو آگے بڑھائیں گے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس سینیٹر طلال چوہدری کی زیرِ صدارت ہوا جس میں وفاقی وزیرِ نجکاری عبدالعلیم خان نے پی آئی اے کی نجکاری پر کمیٹی کے اراکان کو بریفنگ دی۔
اجلاس میں پی آئی اے کی نجکاری کے لیے خریداروں کی عدم دلچسپی اور کم بولی آنے کی وجوہات بھی زیرِ بحث آئیں۔
سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے علیم خان نے کہا کہ میں جب وزیر بنا تو پی آئی اے کی نجکاری کا عمل شروع ہوچکا تھا، پی آئی اے میں ٹوٹل خسارہ 830 ارب تھا اور نجکاری کے وقت 45 ارب روپے واجب الادا تھے۔
کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایف بی آر سے طیاروں کی لیز پر 18 فیصد جی ایس ٹی نہ لینے کا مطالبہ بھی کیا گیا تاہم ایف بی آر سے جو تعاون مانگا تھا وہ نہیں ملا۔
وفاقی وزیرِ نجکاری عبدالعلیم خان کا کہنا ہم نے سیکھا ہے کہ کسی بھی ادارے کو خسارے کے ساتھ پرائیویٹائز نہیں کرنا، آئندہ کیلئے حکومت کو سیکھنا پڑے گا کہ اداروں کو متاثر کن بنائے اور ہمیں اداروں کو متاثر کن بنا کر ان کی نجکاری کرنی پڑے گی۔ جب لوگوں کو لگے گا کہ اس اداروں میں منافع ہو سکتا ہے تو پھر وہ لیں گے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اس وقت 39 سے 40 ادارے نجکاری کی فہرست میں آ چکے ہیں۔‘
سیکرٹری نجکاری کمیشن نے اجلاس کو بتایا کہ سرمایہ کاروں نے 26 ارب روپے کا ٹیکس معاف کرنے اور 10ارب روپے فنانسنگ کی ادائیگی اپنے ذمہ لینے کا کہا تھا۔
عاقب جاوید پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیمپئنز ٹرافی تک وائٹ بال کے ہیڈ کوچ مقرر

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سابق فاسٹ بولر عاقب جاوید کو آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 تک قومی کرکٹ ٹیم کا عبوری ہیڈ کوچ مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک حالیہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اب سے 2025 تک عاقب جاوید مردوں کی نیشنل سلیکشن کمیٹی کے سینئر ممبر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہیں گے اور آٹھ ٹیموں کے ٹورنامنٹ کے اختتام کے بعد انھیں اضافی ذمہ داریاں بھی دی جائیں گی۔
واضح رہے کہ گیری کرسٹن کے استعفے کے بعد وائٹ بال کوچ کی جگہ پر کسی کا نام سامنے نہیں آیا تھا۔ تاہم ریڈ بال کے ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی نے آسٹریلیا کے حالیہ دورے کے دوران ٹیم کی کوچنگ کی تھی، جو اب جنوبی افریقہ میں آئندہ دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لئے ٹیم کو دوبارہ جوائن کریں گے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم زمبابوے میں تین ون ڈے اور تین ٹی ٹونٹی میچز (24 نومبر سے 5 دسمبر) جبکہ جنوبی افریقہ میں 10 سے 22 دسمبر تک وائٹ بال میچز کھیلے گی۔ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 سے قبل پاکستان 8 سے 14 فروری تک نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے درمیان ون ڈے سیریز کھیلے گا۔
کمسن طالب علم کی بازیابی کے لیے کوئٹہ میں احتجاج جاری، سیف سٹی کے 830 میں سے 630 کیمرے ناکارہ

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے سکول کے ایک کمسن طالب علم کے اغوا کے خلاف احتجاج کا سلسلہ پیر کو چوتھے روز بھی جاری رہا جبکہ وکلا نے اس کے خلاف عدالتوں کی کارروائی کا بائیکاٹ بھی کیا۔
نجی سکول کے طالب علم کو جمعہ کے روز اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ سکول کی وین میں گھر سے سکول جارہے تھے۔
بچے کے رشتہ داروں نے اس شبے کا اظہار کیا ہے کہ بچے کو تاوان کی غرض سے اغوا کیا گیا ہے۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے بچوں سمیت اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں بڑی تعداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ کسی کمسن بچے کے اغوا کے واقعے کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج ہورہا ہے۔
اغوا ہونے والا بچہ کون ہے؟
اغوا ہونے والے مصور کاکڑ کی عُمر دس سال ہے اور اُن کا تعلق کوئٹہ شہر سے ہے۔ مصور کاکڑ کے والد کوئٹہ کے ایک تاجر ہیں۔ مصور کاکڑ ایک نجی سکول میں تیسری جماعت کے طالب علم ہیں اور اسی سکول میں وہ قرآن بھی حفظ کررہے ہیں۔
مغوی بچے کے چچا حاجی ملنگ کاکڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ مصور کاکڑ اب تک دو پارے حفظ کرچکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’بچے کی بازیابی کے لیے تاوان کے لیے تاحال کسی نے رابطہ نہیں کیا تاہم انھیں شبہ ہے کہ بچے کو تاوان کی غرض سے اغوا کیا گیا ہے کیونکہ ان کے بقول ان کے خاندان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔
بچے کو کیسے اغوا کیا گیا؟
حاجی ملنگ کاکڑ نے بتایا کہ ’مصور کاکڑ جس نجی سکول میں پڑھتا ہے اس میں ان کے ساتھ اسی گھرانے کا ایک اور بچہ بھی زیرِ تعلیم ہے اور دونوں بچے ایک وین میں سکول جاتے اور واپس گھر آتے ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’وقوعہ کے روز دوسرے بچے کی طبیعت خراب تھی جس کے باعث صرف مصور کاکڑ ہی گھر سے وین میں سکول کے لیے روانہ ہوئے۔‘
انھوں نے بتایا کہ چونکہ سکول جانے کے لیے مصور اور اُن کا ساتھ سب سے پہلے وین میں سوار ہوتے ہیں اس لیے گھر سے بیٹھنے کے بعد کچھ فاصلے پر نامعلوم افراد نے وین کو روکا اور اس سے مصور کو اتار کر دوسری گاڑی میں ڈال کر لے اپنے ساتھ لے گئے۔

دھرنے کے ساتھ ساتھ وکلاء کا عدالتی کاروائی کا بائیکاٹ
جمعہ کے روز بچے کے اغوا کے واقعے کے فوراً بعد بچے کے لواحقین اور شہر کے تاجروں نے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا۔
پیر کے روز اس واقعے کے خلاف کوئٹہ شہر میں وکلاء نے عدالتوں کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ وکلاء نے ضلع کچہری سے ایک ریلی بھی نکالی جس کے شرکا مختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوئے بلوچستان اسمبلی کے سامنے یونٹی چوک پہنچے جہاں اس واقعے کے خلاف دھرنا دیا جارہا ہے۔
مصور کاکڑ کے اغوا کے خلاف سکول کے بچوں نے بھی احتجاجی ریلی نکالی اور ان کی بازیابی کے لیے مظاہرہ کیا۔
بچے کے چچا نے بتایا کہ بچے کے اغوا کی خبر ملنے کے بعد ہم نے ان کی بازیابی کے لیے پر امن احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جو کہ ابھی تک جاری ہے کیونکہ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ’پولیس نے تاحال بچے کی بازیابی کے حوالے سے انھیں کسی پیش رفت سے آگاہ نہیں کیا ہے۔ ہمارا احتجاج بچے کی محفوظ بازیابی تک جاری رہے گا۔‘
بچے کے اغوا کے خلاف بلوچستان ہائیکورٹ میں بھی ایک درخواست دائر کی گئی ہے۔
چیف جسٹس محمد ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی ایک خصوصی بینچ کے سامنے پیش ہوکر آئی جی پولیس بلوچستان معظم جاہ انصاری اور سیکریٹری داخلہ شہاب علی سمیت دیگر حکام نے عدالت کو بتایا کہ اغوا کے معاملے کو سیریس کرائمز انویسٹیگیشن یونٹ کے حوالے کیا گیا ہے۔
انھوں نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ بچے کی بازیابی کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لائیں گے۔
کوئٹہ سیف سٹی 830میں سے 630 خراب ہیں
مصور کاکڑ کے اغوا کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران بلوچستان ہائیکورٹ کے بینچ نے اس امر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سماعت کے دوران عدالت کو حکام نے بتایا کہ سیف سٹی کے 830کیمروں میں سے 630خراب ہیں ۔
عدالت نے کہا کہ کوئٹہ سیف سٹی پروجیکٹ 2013 میں شروع کیا گیا تھا لیکن 11 سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود تاحال یہ منصوبہ مکمل نہیں ہوا۔
عدالت نے چیف سیکریٹری بلوچستان کو ہدایت کی کہ وہ سیف سٹی پروجیکٹ کے حوالے سے اجلاس بلائے اور درخواست کی آئندہ سماعت پر اس سلسلے میں عدالت میں رپورٹ پیش کرے۔
لاہور اور ملتان کے علاوہ صوبہ پنجاب میں 19 نومبر سے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی سینیئر وزیر مریم اورنگزب کا کہنا ہے کہ صوبے میں سموگ کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد وزیراعلی مریم نواز شریف کی ہدایت پر لاہور اور ملتان ڈویژن کے علاوہ تمام اضلاع میں تعلیمی ادارے 19 نومبر یعنی کل سے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
صوبہ پنجاب کی سنئیر وزیر مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ مشرقی ہواؤں کے رخ اور رفتار میں تبدیلی سے پنجاب میں سموگ کی صورت حال بہتر ہوئی ہے۔
پنجاب کے مختلف علاقوں میں ہونے والی بارش کے بعد محکمہ تحفظِ ماحولیات کی جانب سے جاری ہونے والے ایک حالیہ نوٹیفکیشن میں ملتان اور لاہور کے علاوہ دیگر ڈویژنز میں تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کیا ہے۔
ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (ای پی اے) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عمران حامد شیخ کے دستخطوں سے نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ پنجاب کے بیشتر اضلاع میں فضائی آلودگی میں بہتری آئی ہے۔ پنجاب کے بالائی علاقوں میں بارش، ہوا کی سمت اور رفتار میں تبدیلی کے باعث ہوا کا معیار بہتر ہوگیا ہے۔
لہذا لاہور اور ملتان ڈویژن کے علاوہ تمام تعلیمی ادارے 19 نومبر بروز منگل سے کُچھ پابندیوں اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ تعلیمی ادارے کھولے جائیں گے۔
محکمہ تحفظِ ماحولیات کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق جن اضلاع میں تعلیمی ادارے کھولے جانے کا اعلان کیا گیا ہے وہاں:
- تعلیمی ادارے صبح 8 بج کر 45 منٹ سے پہلے نہیں کھولے جائیں گے
- تمام طالب علم، اساتذہ اور عملہ لازمی ماسک پہنیں گے
- آؤٹ ڈور سپورٹس اور دیگر غیر نصابی سرگرمیوں پر پابندی رہے گی
- جماعتوں کے لحاظ سے الگ الگ چھٹی کے اوقات مقرر ہوں گے تاکہ ٹریفک کے رش سے بچا جا سکے
نوٹیفیکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ سکول انتظامیہ احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کی ذمہ دار ہو گی۔
عمران خان کے خلاف اسلام آباد میں کتنے مقدمات درج ہیں؟
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس نے ہائیکورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف 62 مقدمات درج ہیں۔
اِن تفصیلات کی فراہمی سے متعلق درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے کی۔
دوران سماعت درخواست گزار نورین نیازی کی طرف سے وکلا مرزا عاصم بیگ اور شاہینہ شہاب الدین پیش ہوئے۔ جبکہ ڈی ایس پی لیگل ساجد چیمہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک رپورٹ جمع کرائی۔
ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں داخلی سلامتی کے حوالے سے اہم فیصلے متوقع
پاکستان کے نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس آج ہونے کا امکان ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں انسداد دہشت گردی کے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے بات کی جائے گی۔
اجلاس میں اعلیٰ عسکری و سول قیادت، صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور چیف سیکریٹریز شریک ہوں گے۔
توقع ہے کہ اجلاس کے دوران امن وامان کی مجموعی صورتحال جائزہ لے کر داخلی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔
اسی بارے میں
اس کے علاوہ صوبوں اور وفاق کے درمیان تعاون کے فروغ اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے پر بھی غور کیا جائے گا۔
اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کے حوالے سے بھی بات کی جائے گی۔
اجلاس میں شرکا کو انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے نتائج سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔
غزہ کی رہائشی عمارت پر اسرائیلی فضائی حملہ، کم از کم 34 افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہGetty Images
غزہ کے شمالی علاقے بیت لاہیہ میں پانچ منزلہ رہائشی بلاک پر اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 34 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایجنسی کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں جبکہ درجنوں افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔
حملے میں اب تک کم از کم سات افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ حماس کو دوبارہ منظّم ہونے سے روکنے کی کوشش میں بیت لاہیہ سمیت شمالی غزہ میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔
شہری دفاع نے مزید کہا کہ وسطی غزہ میں پناہ گزین کیمپوں پر تین مختلف حملوں میں 15 افراد ہلاک ہوئے جبکہ جنوب میں رفح پر اسرائیلی ڈرون حملے میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوئے۔
شہری دفاع کے ترجمان محمود باسل نے کہا کہ مسلسل فائرنگ اور توپ خانے کی گولہ باری کی وجہ سے مزید زخمیوں کو بچانے کے امکانات کم ہو رہے ہیں۔
بیت لاہیا کی رہائشی عمارت میں جو کچھ بچا ہے وہ ملبے کا ڈھیر ہے، جس میں ٹوٹے ہوئے کنکریٹ اور ٹوٹی ہوئی دھات کے ٹکڑے کھنڈرات سے نکل رہے ہیں۔
ایک شخص جس کا خاندان منہدم عمارت میں رہتا تھا لیکن وہ خود کہیں اور تھا اس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم سب نے سوچا کہ موت قریب ہے۔ پورا علاقہ لرز رہا تھا۔‘
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ میں اس کی کارروائی جو جبالیہ سے شروع ہوئی اور بیت لاہیا تک پھیل گئی ہے اس میں رات گئے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے گئے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’جنگ زدہ علاقوں سے شہری آبادی کو نکالنے کے لیے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔‘
لیکن بہت سے مقامی باشندے اپنے گھروں کو چھوڑنا نہیں چاہتے ہیں۔
محمود باسل نے کہا کہ بیت لاہیا میں مسمار کی گئی عمارت میں چھ خاندان رہتے تھے۔
علاقے کی ایک خاتون نے بی بی سی نیوز سے اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’ہم نے آپ کے ساتھ کیا کیا ہے؟ ہم نے آپ کو کیا نقصان پہنچایا ہے؟ ہم نے کیا غلطی کی ہے؟ ہم اپنے گھروں میں رہ رہے ہیں۔آپ ہمیں باہر کیوں نکال رہے ہو؟‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشناسرائیل فوک کا کہنا ہے کہ جنگ زدہ علاقوں سے شہری آبادی کو نکالنے کے لیے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اسرائیل کے غزہ میں ’جنگی جرائم‘ اور لاکھوں افراد بے گھر
گذشتہ ہفتے جبالیہ میں ایک گھر پر ہونے والے حملے میں 13 بچوں سمیت کم از کم 25 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ غزہ شہر میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوئے۔
شمالی غزہ میں اسرائیل کے زمینی حملے کے نتیجے میں گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران ایک لاکھ تیس ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جبالیہ، بیت لاہیا اور بیت حنون کے قصبوں میں پانی اور خوراک کی فراہمی میں کمی کی وجہ سے 75 ہزار افراد محاصرے میں ہیں۔
اس ہفتے ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل نے جان بوجھ کر غزہ میں فلسطینیوں کو بڑے پیمانے پر بے گھر کرکے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق گذشتہ ایک سال کے دوران غزہ کی 90 فیصد آبادی یعنی 19 لاکھ افراد اپنے گھر بار چھوڑ کر جا چکے ہیں اور 79 فیصد علاقے اسرائیل کی جانب سے جاری کردہ انخلا کے احکامات کی زد میں ہیں۔
اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے غیر معمولی حملے کے جواب میں حماس کو تباہ کرنے کی مہم شروع کی تھی جس میں تقریبا 1،200 افراد ہلاک اور 251 دیگر کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق اس کے بعد سے اب تک غزہ میں 43 ہزار 700 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
بریکنگ, بیروت میں ہونے والے اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے میڈیا سربراہ ہلاک

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لبنان میں عسکریت پسند گروپ نے تصدیق کی ہے کہ وسطی بیروت میں ہونے والے ایک اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے میڈیا سربراہ محمد عفیف ہلاک ہو گئے ہیں۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق اتوار کے روز گنجان آباد علاقے راس النابا میں باتھ سیاسی جماعت کے صدر دفتر پر حملہ کیا گیا۔
ملک کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ چار افراد ہلاک ہوئے ہیں تاہم انھوں نے ہلاک ہونے والوں کے نام ظاہر نہیں کیے۔
عفیف گروپ کے چند عوامی چہروں میں سے ایک ہیں جنھیں آخری بار پیر کے روز بیروت کے جنوبی مضافات میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
حزب اللہ نے اتوار کی شام کو اس ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قومی خبر رساں ادارے کے مطابق حملے میں شامی باتھ پارٹی کی لبنانی شاخ کا زیادہ تر ہیڈکوارٹر تباہ ہو گیا جبکہ امدادی اور شہری دفاع کی ٹیمیں ملبے تلے دبے متعدد افراد کو ریسکیو کرنے کی کوش کر رہی ہیں۔
وزارت صحت کا کہنا ہے کہ 14 افراد زخمی ہوئے ہیں اور چار افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔
بی بی سی کی مشرق وسطیٰ کی نامہ نگار لینا سنجاب کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے اس بات پر تشویش پیدا ہوتی ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کے فوجی عہدیداروں کے علاوہ بھی اہداف پر حملے کر رہا ہے۔
حزب اللہ ایک سیاسی جماعت بھی ہے جس کے پارلیمنٹ میں نمائندے اور حکومت میں وزرا ہیں۔
انھوں نے بی بی سی کے نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس سے لوگوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے کہ اس صورت حال کو کم کرنے یا کوئی حل تلاش کرنے کے کوئی اشارے نہیں ہیں، بلکہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کے اہداف میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔‘
لبنان کی وزارت صحت نے بتایا کہ اتوار کے روز بیروت کے وسطی علاقے مار الیاس سٹریٹ پر ہونے والے ایک اور حملے میں دو افراد ہلاک اور 13 زخمی ہو گئے۔
اس سے قبل اتوار کے روز آئی ڈی ایف نے کہا تھا کہ اس نے جنوبی مضافات میں حزب اللہ کے چھ فوجی ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔
