پی ٹی آئی کا احتجاج: حکومت کا ’سکیورٹی خدشات والے علاقوں میں‘ موبائل انٹرنیٹ اور وائی فائی سروس بند کرنے کا عندیہ

وزارتِ داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صرف سیکورٹی کے خدشات والے علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ اور وائی فائی سروس کو بند کرنے یا نہ کرنے کا تعین کیا جائے گا۔

خلاصہ

  • پاکستان تحریک انصاف 24 نومبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاج کرے گی۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے واضح کیا ہے کہ اس تاریخ میں کوئی رد و بدل نہیں کیا جائے گا
  • اس کے پیش نظر سنیچر سے ہی اسلام آباد کے داخلی راستوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔ موٹرویز کے علاوہ ٹرانسپورٹ اڈے بھی بند کیے گئے ہیں
  • وزیر داخلہ محسن نقوی نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ امن و امان خراب کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے
  • اسلام آباد کے علاوہ پنجاب اور بلوچستان میں بھی دفعہ 144 نافذ ہے

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے

    یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔ تاہم پاکستان اور دنیا بھر کی اہم ترین خبروں، تبصروں اور تجزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج کوریج کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

  2. پی ٹی آئی کا احتجاج: اسلام آباد پولیس کا دفعہ 144 کی ’خلاف ورزی کرنے والوں‘ سے سختی سے نمٹنے کا اعلان

    پی ٹی آئی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج سے قبل اسلام آباد کی پولیس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک کے دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ ہے اور ’قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔‘

    سنیچر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اسلام آباد پولیس کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر شہر میں امن عامہ کے قیام کو یقینی بنایا جائے گا۔ شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ کسی بھی غیرقانونی عمل کا حصہ نہ بنیں۔‘

    اپنی پوسٹ میں پولیس نے شہریوں کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ ان کی جان و مال اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔

    خیال رہے کہ پی ٹی آئی نے اتوار کو اسلام آباد میں احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے اور خیبرپختونخواہ کے وزیرِ اعلیٰ نے کہا ہے کہ وہ ہر صورت میں ڈی چوک پہنچیں گے اور اپنی جماعت کے مطالبات کو منوائیں گے۔

    تحریک انصاف نے اعلامیے میں جو مطالبات رکھے ہیں ان میں عمران خان سمیت قید پارٹی رہنماؤں کی رہائی کی بھی شرط رکھی گئی ہے۔ پی ٹی آئی نے اپنے مطالبات میں 26 ویں آئینی ترمیم کی تنسیخ اور 8 فروری کے الیکشن کے ’حقیقی‘ مینڈیٹ کی بحالی کے مطالبات بھی کیے ہیں۔

    علی امین گنڈاپور نے کارکنان سے کہا ہے کہ ’جتنی بھی رکاوٹیں ہوں، آپ نے ہر صورت ڈی چوک پہنچنا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت ہم سب پر فرض ہے کہ عمران خان کو جو بے گناہ قید کیا گیا ہے اور ہماری پارٹی کے خلاف جو ظلم و فسطائیت جاری ہے، اس سب کے خلاف ہم سب نے نکلنا ہے۔‘

    انھوں نے حکومت کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آپ ہم پر شیلنگ کرتے ہیں، ربڑ کی گولیاں چلاتے ہیں، تشدد کرتے ہیں، ہمارے راستوں میں کنٹینر کھڑے کرتے ہیں، خندقیں کھودتے ہیں، ہمارے اوپر فائرنگ کرتے ہیں اور اگر کوئی بھی نقصان ہو گا تو اس کی ذمہ دار یہ حکومت ہو گی۔‘

  3. پی ٹی آئی کا احتجاج: حکومت کا ’سکیورٹی خدشات والے علاقوں‘ میں موبائل انٹرنیٹ اور وائی فائی سروس بند کرنے کا عندیہ

    پی ٹی آئی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستانی حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کے موقع پر ’سکیورٹی کے خدشات والے علاقوں‘ میں موبائل انٹرنیٹ اور وائی فائی سروسز بند کی جا سکتی ہیں۔

    سنیچر کو وزارتِ داخلہ کے ترجمان کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ صرف سیکورٹی کے خدشات والے علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ اور وائی فائی سروس کو بند کرنے یا نہ کرنے کا تعین کیا جائے گا۔

    وزارتِ داخلہ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ملک کے باقی حصوں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس معمول کے مطابق چلتی رہے گی۔

    تاہم ترجمان کی جانب سے یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ ’سکیورٹی کے خدشات‘ والے علاقے کون سے ہیں اور وہاں موبائل انٹرنیٹ یا وائی فائی سروس کتنے دورانیے کے لیے بند کی جائے گی۔

  4. ’خان صاحب باس ہیں، ان کی کال فائنل ہے اور نظرثانی کا فیصلہ صرف وہی کر سکتے ہیں‘ بیرسٹر گوہر

    پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ عمران خان باس ہیں اور انھوں نے 24 نومبر کو احتجاج کی فائنل کال دی ہے اور صرف وہی اس پر نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

    نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس خان صاحب کے کسی آرڈر پر نظرثانی کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

    انھوں نے وزیرداخلہ محسن نقوی سے بات چیت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے مجھے ہائی کورٹ کے احکامات سے آگاہ کیا اور میں نے کہا کہ پارٹی کے ساتھ مذاکرات کرکے جواب دوں گا۔

  5. ’جب تک ہمارے مطالبات پر پختہ اقدام نہیں لیا جاتا، 24 نومبر کا احتجاج مؤخر نہیں ہو گا‘ پی ٹی آئی, فرحت جاوید، بی بی سی اردو - اسلام آباد

    آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ان گلیوں اور سڑکوں پر بھی کنٹینرز نظر آ رہے ہیں جو اس سے قبل عام طور پر بلاک نہیں کیے جاتے تھے۔ مختلف مقامات پر پولیس اور ایف سی کے دستے بھی نظر آ رہے ہیں اور کئی جگہوں سے پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز کو گرفتار بھی کیا جا رہا ہے۔ کئی مقامات پر کنٹینرز کے ساتھ مٹی کے ڈھیر پڑے ہیں جنھیں راستہ روکنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    اسلام آباد کے باسیوں کے لیے کئی سیکٹروں میں اپنے گھروں کی جانب جاتی سڑکوں پر کنٹینرز کی موجودگی حیران کن تھی کیونکہ وہ ایسی رکاوٹوں کے لیے ہرگز تیار نہیں تھے۔

    اس سے قبل ایسی خبریں بھی سامنے آئیں کہ پاکستان تحریک انصاف احتجاج کی کال مؤخر کر رہی ہے۔ تاہم جماعت کے رہنما شیخ وقاص اکرم نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کی کمیٹی میٹنگ احتجاج کے اعلان کے بعد سے مسلسل بلائی جا رہی ہے اور ہر روز ہی ایک غیراعلانیہ میٹنگ ہوتی ہے جس میں اس وقت ورکرز کو پیش آنے والی مشکلات اور حل پر بات کرتے ہیں ۔ ہم روز رات کو میٹنگ کرتے ہیں اور ان کا حل نکالتے ہیں۔ لہذا یہ خبریں غلط ہیں کہ ہم احتجاج موخر کر رہے ہیں۔‘

    شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ ان کی جماعت 24 نومبر کی کال واپس نہیں لے گی، ان کے مطابق ’اگر اس دوران ایک مربوط طریقے سے مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو ہم اس کال کے ساتھ ساتھ ڈائیلاگ کے لیے تیار ہیں۔ تاہم جب تک کوئی پختہ اقدام نہیں لیا جاتا، 24 نومبر کا احتجاج موخر نہیں ہو گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’احتجاج مؤخر کرنا تو مسئلے کا حل ہی نہیں ہے۔ اگر مذاکرات ہوتے، یہ ہمارے لوگ رہا کرتے اور عمران خان بھی رہا ہو جاتے تو پھر بات ہو سکتی تھی‘۔

    انھوں نے کہا کہ عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے مطالبات پر بات ہو سکتی ہے تو ڈائیلاگ شروع کر دیں۔

  6. مطالبات پورے ہونے تک ڈی چوک سے نہیں ہلیں گے: وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور

    AliAminKhanGandapurPti

    ،تصویر کا ذریعہAliAminKhanGandapurPti

    وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کا کہنا ہے عمران خان کے حکم کے مطابق مطالبات پورے ہونے تک ڈی چوک سے نہیں ہلیں گے۔

    24 نومبر کے حوالے سے پی ٹی آئی کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے شئیر کی گئی ایک ویڈیو میں ان کا کہنا ہے کہ ہم سب نے 24 نومبر کو ڈی چوک پر پہنچنا ہے اور اس وقت تک وہاں سے نہیں ہلنا جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوتے۔

    گنڈاپور کا کہنا ہے کہ ہمارے مطالبات میں عمران خان، لیڈرشپ اور کارکنان کی رہائی شامل ہے ’اس کے علاوہ ہمارے مطالبات میں ہمارے مینڈیٹ کی واپسی اور آئین کا تحفظ شامل ہے۔‘

    انھوں نے کارکنان سے کہا ہے کہ ’جتنی بھی رکاوٹیں ہوں، آپ نے ہر صورت ڈی چوک پہنچنا ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’اس وقت ہم سب پر فرض ہے کہ عمران خان کو جو بے گناہ قید کیا گیا ہے اور ہماری پارٹی کے خلاف جو ظلم و فسطائیت جاری ہے، اس سب کے خلاف ہم سب نے نکلنا ہے۔‘

    انھوں نے حکومت کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آپ ہم پر شیلنگ کرتے ہیں، ربڑ کی گولیاں چلاتے ہیں، تشدد کرتے ہیں، ہمارے راستوں میں کنٹینر کھڑے کرتے ہیں، خندقیں کھودتے ہیں، ہمارے اوپر فائرنگ کرتے ہیں اور اگر کوئی بھی نقصان ہو گا تو اس کی ذمہ دار یہ حکومت ہو گی۔‘

  7. پی ٹی آئی کا احتجاج کی کال واپس نہ لینے کا اعلان، عمران خان کی رہائی کا بھی مطالبہ

    پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد کہا گیا ہے کہ 24 نومبر کے احتجاج کی کال واپس نہیں لی جائے گی۔

    یہ فیصلہ جمعے کی رات ہونے والے اجلاس میں لیا گیا۔

    اس اجلاس کے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے یہ کہا ہے کہ ’ہماری پُرامن احتجاجی تحریک کا آغاز 24 نومبر کو ہوگا۔‘ اعلامیے کے مطابق ملک بھر کے ہر شہر سے قافلے اسلام آباد کی طرف اپنے سفر کا آغاز کریں گے۔ اعلامیے کے مطابق ’تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس کے اہداف حاصل نہیں کر لیے جاتے۔‘

    تحریک انصاف نے اعلامیے میں جو مطالبات رکھے ہیں ان میں عمران خان سمیت قید پارٹی رہنماؤں کی رہائی کی بھی شرط رکھی گئی ہے۔ پی ٹی آئی نے اپنے مطالبات میں 26 ویں آئینی ترمیم کی تنسیخ اور 8 فروری کے الیکشن کے ’حقیقی‘ مینڈیٹ کی بحالی کے مطالبات بھی کیے ہیں۔

  8. اسلام آباد میں احتجاج کی اجازت نہیں دے سکتے، وزیر داخلہ محسن نقوی کا پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر سے رابطہ

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر سے رابطہ کرکے انھیں بتایا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے تحت ان کی جماعت کو وفاقی دارالحکومت میں احتجاج کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔

    وزیر داخلہ نے پی ٹی آئی کے سربراہ کو اس حوالے سے آگاہ کیا کہ 24 نومبر سے 27 نومبر تک بیلاروس کے صدر کی قیادت میں 80 رکنی وفد اسلام آباد میں موجود ہوگا۔

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ’ہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے پابند ہیں۔ کسی جلوس، دھرنے یا ریلی کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’بیلاروس کا اعلی سطح کا وفد 24 نومبر کو اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔ بیلاروس کے صدر 25 نومبر کو پاکستان پہنچیں گے۔‘

    بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پارٹی سے مشاورت کے بعد حکومت کو حتمی رائے سے آگاہ کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے وزیر داخلہ کو تحریک انصاف سے رابطہ کا حکم دیا تھا۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت نے 24 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

  9. اسلام آباد کے داخلی راستے سیل، ’قانون ہاتھ میں لینے والوں کو‘ گرفتار کرنے کا حکم

    تحریک انصاف کے احتجاج سے قبل اسلام آباد کے داخلی راستے سیل

    ،تصویر کا ذریعہIslamabad Police

    اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی 24 نومبر کی ’فائنل کال‘ کے حوالے سے تحریک انصاف اور وفاقی حکومت دونوں ہی کی جانب سے تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔

    اب تک کی صورتحال یہ ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی کئی شاہراہوں کو مختلف مقامات سے کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔ اسلام آباد کے ساتھ ساتھ پنجاب اور بلوچستان میں بھی دفعہ 144 نافذ ہے، یعنی کہیں بھی عوامی اجتماعات کی اجازت نہیں۔ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کئی بعض سڑکوں کو کنٹینر لگا کر سیل کیا گیا ہے۔

    سنیچر کو وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک بیان میں کہا کہ 24 نومبر کو بیلاروس کا وفد اور 25 نومبر کو بیلاروس کے صدر پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں اور اس کے پیش نظر ’ہم نے اسلام آباد شہر کو ہر صورت محفوظ رکھنا ہے۔‘

    محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ ’اسلام آباد کے امن و امان کو خراب کرنے والے ہر شخص کو گرفتار کیا جائے گا۔‘

    ’اس بار اسلام آباد میں قانون ہاتھ میں لینے والے کسی بھی شخص کو واپس نہیں جانے دینا۔‘

    دوسری طرف تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ ہر صورت 24 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کیا جائے گا۔ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر عوام سے اپیل کی جا رہی ہے کہ ’حقیقی آزادی‘ کے لیے باہر نکلیں۔

    یہ بھی پڑھیے

    خیال رہے کہ اسلام آباد کو پشاور اور لاہور سے ملانے والی موٹرویز کو گذشتہ شب ہی غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔

    شہر میں ٹرانسپورٹ اڈوں کے علاوہ مختلف یونیورسٹیوں کے ہاسٹلز بھی اِن دنوں بند رہیں گے۔

    Islamabad Police

    ،تصویر کا ذریعہIslamabad Police

    اسلام آباد میں کون سے راستے بند کیے گئے ہیں؟

    اگر آپ آج اسلام آباد میں سفر کرنے والے ہیں تو آپ کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ:

    • سرینگر ہائی وے کو زیرو پوائنٹ کے مقام پر کنٹینرز لگا بند کیا گیا ہے۔
    • جی ٹی روڈ سے اسلام آباد آنے والا راستہ ٹی کراس پر کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا
    • ایکسپریس ہائی وے کھنہ پل کے مقام پر کنٹینرز لگا کر دونوں اطراف سے بند ہے
    • ایکسپریس وے آئی اے انٹری پر کنٹینرز لگایا گیا ہے
    • گولڑہ موڑ جی ٹی روڈ جانے والا راستہ بند کر دیا گیا
    • 26 نمبر چونگی پل پر کنٹینرز لگائے گئے ہیں
    • اسلام آباد ایئر پورٹ جانے والا راستہ کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے
    • نیو مارگلہ روڈ کو ای الیون کے مقام پر کنٹینرز لگا کر بند کیا گیا ہے
    • ایران ایوینو کو ڈی 12 کے مقام سے بند کر دیا گیا ہے
    • ایکسپریس وے کو سرینگر ہائی وے سے ملانے والا راستہ زیرو پوائنٹ سے بند کر دیا گیا ہے
    • فیض آباد سے اسلام آباد آنے والا راستہ بند کر دیا گیا ہے
    • جی ٹی روڈ کو بھی مختلف مقامات سے بند کر دیا گیا
  10. پی ٹی آئی احتجاج: اسلام آباد کے داخلی راستوں سمیت موٹرویز، ٹرانسپورٹ اڈے بند

    فائل فوٹو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان تحریک انصاف کے 24 نومبر کے احتجاج اور لانگ مارچ کے اعلان کے پیش نظر وفاقی و پنجاب حکومت نے اقدامات اٹھانے شروع کر دیے ہیں۔

    وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کی پولیس کی جانب سے شہر کے اہم داخلی راستے بند کرنا شروع کر دیئے گئے ہیں۔ تاہم ایران ایونیو مارگلہ روڈ کو دونوں اطراف سے کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔

    اس ضمن میں نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹرویز اتھارٹی نے جمعہ کی رات آٹھ بجے روڈ مینٹیننس کی وجہ سے موٹر ویز بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ جس کے بعد سے موٹروے جانب اسلام آباد تمام پوائنٹس سے معمول کی ٹریفک کیلئے بند کر دی گئی ہے جس کے بعد بابوصابو جانب ٹھوکر نیاز بیگ ٹریفک کو بجھوایا جارہا ہے۔

    ترجمان ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ شہری سفر کرنے سے پہلے ہیلپ لائن 15 سے راہنمائی لیں۔ تاہم سگیاں جانب السعید چوک، شیخوپورہ دونوں اطراف سے بند کردی گئی

    اس سے قبل وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے جمعے کے روز شہر کے تمام سٹوڈنٹ ہاسٹلز کو بھی خالی کروا لیا تھا۔

    ادھر پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں 23 نومبر سے 25 نومبر تک دفعہ 144 کا نفاذ کر دیا ہے جس کے تحت ہر قسم کے احتجاج، جلسے، جلوس، ریلیوں، دھرنوں اور ایسی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہو گی۔

    اسی طرح 18 نومبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی دفعہ 144 نافذ کی گئی تھی۔

  11. عمران خان کی ’فائنل کال‘: موٹرویز اور ٹرانسپورٹ بند، ’24 نومبر کی تاریخ تبدیل نہیں ہو گی‘ علیمہ خان

    PTI

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان سے ملاقات کے بعد اُن کی بہن علیمہ خان نے جیل کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے ساتھ کرتے ہوئے کہا کہ ’آج عمران خان کے ساتھ بہت مختصر ملاقات ہوئی۔ ایک مرتبہ پھر عمران خان نے کہا ہے کہ 24 تاریخ کو پاکستانیوں کو ہر حال میں اپنی آزادی کے لیے نکلنا ہے۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’اُس کے بعد بھی اگر عمران خان کہے کہ میں کوئی اقتدار کے لیے نہیں لڑ رہا ہوں، ہمیں اقتدار نہیں ہمیں آزادی چاہیے۔ تو آپ دیکھ رہے کہ گزشتہ کُچھ عرصے سے اتنا ظلم کیا جا رہا ہے کہ جو اپنی آزادی کے لیے کھڑا ہونا چاہتا ہے تو اُن پر کتنا ظلم کیا جاتا ہے۔‘

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان نے یہ بھی کہا کہ جب اُن کو جیل میں ڈالا گیا اور اُن کو براہ راست نہیں کہا مگر ہم تک بھی یہ سب باتیں پہنچتی تھیں کہ عمران خان کے سارے کیسز ختم کر دیے جائیں گے اگر وہ مُلک چھوڑ کر چلے جائیں۔ یا وہ بات کرنا بند کر دیں یا وہ سیاست چھوڑ دیں۔‘

    ہائیکورٹ کے فیصلے سے متعلق ہونے والے ایک سوال کے جواب میں علیمہ خان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان نے کہا ہے کہ میں نے قوم کو صرف دو مرتبہ نکلنے کی کال دی ایک مرتبہ 8 فروری کو جب اُنھیں نے گھروں سے نکل کر انتخابات میں حصہ لیا اور دُنیا کو حیران کر دیا اور دوسری مرتبہ اب 24 نومبر کو کہ رہا ہوں کے نکلیں، اس تاریخ میں کوئی ردوبدل نہیں ہوگا، آپ نے کسی کی باتوں میں نہیں آنا، کیونکہ یہ آپ کا آئینی حق ہے۔‘

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کا جانب سے کہا گیا کہ پُرامن احتجاج اور پبلک آرڈر 2024 دھرنے، احتجاج، ریلی وغیرہ کی اجازت کے لیے مروجہ قانون ہے اور اسلام آباد انتظامیہ مروجہ قانون کے خلاف دھرنا، ریلی یا احتجاج کی اجازت نہ دے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ امن و امان قائم رکھنے کے لیے اسلام آباد انتظامیہ قانون کے مطابق تمام اقدامات اٹھائے۔

    ہائیکورٹ کی جانب سے جاری فیصلے میں کہا گیا کہ یہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے قانون کی خلاف ورزی نہ ہونے دی جائے اور یقینی بنایا جائے کہ عام شہریوں کے کاروبار زندگی میں کوئی رخنہ نہ پڑے گا۔

  12. سعودی عرب کے خلاف ایسے الزامات ناقابل معافی جرم ہے، وزیر اعظم شہباز شریف

    Shehbaz

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کے سعودی عرب سے متعلق بیان کو پاکستان دشمنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کے خلاف ایسے الزامات ناقابل معافی جرم ہے۔

    تونسہ شریف میں کچھی کینال منصوبے کی بحالی کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بطور وزیر اعظم پاکستان میں اعلان کرتا ہوں کہ پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی میں رکاوٹ بننے والے ہاتھوں کو قوم اپنے ہاتھوں سے توڑ دے گی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کا دوست، بھائی اور برادر ملک ہے، سعودی عرب نے بلاتفریق ہمیشہ پاکستان کے عوام اور حکومتوں کی ہر محاذ پر بھرپور مالی، سفارتی اور عالمی حمایت کی ہے اور بدلے میں کبھی کوئی مطالبہ نہیں کیا، جس طرح ایک بھائی دوسرے بھائی کی مدد کرتا ہے سعودی عرب نے ویسے ہی ہمیشہ پاکستان کی مدد کی ہے۔

    بشریٰ بی بی کے سعودی عرب سے متعلق بیان کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ اس سے بڑی دشمنی نہیں ہوسکتی، وہ ملک جس نے کبھی پاکستان سے کوئی مطالبہ نہیں کیا اور ہمیشہ پاکستان کے لیے اپنے دروازے کھولے۔

    انھوں نے کہا کہ ’سعودی بادشاہ اور فرمانروا شہزادہ محمد بن سلمان جس طرح پاکستان کی مدد کر رہے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی، سعودی عرب نے کہا ہے کہ آپ منصوبے لے کر آئیں ہم انتظار کررہے ہیں۔‘

  13. ’دہشتگردوں کے نیٹ ورک اور قومی سلامتی کے دشمنوں کو ختم کر دیں گے، آرمی چیف

    ARMY CHIEF

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر نے دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنے اور قومی سلامتی کے دشمنوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

    پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے پشاور گیریژن کا دورہ کیا جہاں انھیں موجودہ سکیورٹی صورتحال اور خطے میں جاری انسداد دہشت گردی آپریشنزکی پیشرفت پر جامع بریفنگ دی گئی۔

    اس موقع پر وزیر اعلیٰ خیبرپخونخوا علی امین گنڈا پور اور فیلڈ کمانڈرز بھی موجود تھے۔

    شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف نے فوجی جوانوں کی جانب سے ملک کے دفاع کے لیے دی جانے والی بےمثال قربانیوں کو اجاگر کیا۔

    آرمی چیف نے کہا کہ ’جوانوں کی قربانیاں ہمارے قومی عزم کی بنیاد ہیں، قربانیاں مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے غیر متزلزل جذبے اور لگن کو تحریک دیتی ہیں، دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنانا اولین ترجیح ہے۔ فوج قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ امن دشمنوں کا پیچھا کرے گی۔‘

  14. بریکنگ, پی ٹی آئی کے اسلام آباد کی جانب مارچ سے قبل آج رات آٹھ بجے سے موٹرویز، ٹرانسپورٹ اڈے بند کرنے کا فیصلہ

    Motorway

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف کے 24 نومبر کے احتجاج اور لانگ مارچ کے اعلان کے پیش نظر وفاقی و پنجاب حکومت نے اقدامات اٹھانے شروع کر دیے ہیں۔

    اس ضمن میں نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹرویز اتھارٹی نے آج (جمعہ) کی رات آٹھ بجے سے روڈ مینٹیننس کی وجہ سے موٹر ویز بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس سلسلے میں ایم وین موٹروے پشاور تا اسلام آباد رات آٹھ بجے بند کردی جائے گی، ایم ٹو لاہور تا اسلام آباد موٹروے بھی بند رہے گی۔

    ایم تھری لاہور تا عبد الحکیم اور ایم فور پنڈی بھٹیاں تا ملتان موٹروے بھی بند کی جائے گی۔ جبکہ ایم الیون سیالکوٹ تا لاہور اور ایم فورٹین ڈی آئی خان تا ہکلہ بند کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

    نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹرویز اتھارٹی نے موٹر ویز کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    NH&MP

    ،تصویر کا ذریعہNH&MP

    دوسری جانب وفاقی دارالحکومت میں ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے شہر کے تمام ٹرانسپورٹ اڈے بند کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کے ممکنہ کشیدہ حالات کے پیش نظر ٹرانسپورٹ اڈوں کو 22 نومبر کو رات آٹھ بجے بند کر دیا جائے گا۔

    جبکہ وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے جمعے کے روز شہر کے تمام سٹوڈنٹ ہاسٹلز کو بھی خالی کروا لیا ہے۔

    ادھر پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں 23 نومبر سے 25 نومبر تک دفعہ 144 کا نفاذ کر دیا ہے جس کے تحت ہر قسم کے احتجاج، جلسے، جلوس، ریلیوں، دھرنوں اور ایسی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہو گی

    اس سے قبل 18 نومبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی دفعہ 144 نافذ کی گئی تھی۔

    قبل ازیں جمعے کو وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں جلسے جلوس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

    صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے عدالتی حکم پر مکمل عملدرآمد کرائیں گے۔

    ’سب نے اس وقت تک اسلام آباد ہائی کورٹ کا آرڈر پڑھ لیا ہے۔ عدالت نے واضح لکھا ہے کسی جلسے جلوس کی اجازت نہیں۔ ہم قانون پر عمل درآمد یقینی بنائیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’عدالتی احکامات پر کسی کو جلسے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر کوئی نقصان ہوا تو عدالتی حکم توڑنے والے ذمہ دار ہوں گے۔‘

  15. بریکنگ, ہائیکورٹ کے حکم کے تحت اسلام آباد میں جلسے کی اجازت نہیں دیں گے: محسن نقوی

    اسلام آباد میں جلسے کی اجازت نہیں

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں جلسے جلوس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

    صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے عدالتی حکم پر مکمل عملدرآمد کرائیں گے۔

    تحریک انصاف کی طرف سے 24 نومبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’سب نے اس وقت تک اسلام آباد ہائی کورٹ کا آرڈر پڑھ لیا ہے۔ عدالت نے واضح لکھا ہے کسی جلسے جلوس کی اجازت نہیں۔ ہم قانون پر عمل درآمد یقینی بنائیں گے۔

    ’عدالتی احکامات پر کسی کو جلسے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر کوئی نقصان ہوا تو عدالتی حکم توڑنے والے ذمہ دار ہوں گے۔‘

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ’خیبر پختونخوا میں امن و امان کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔‘

    وہ بتاتے ہیں کہ اسلام آباد میں ’بیلا روس کے صدر کی آمد پر احتجاج کی کسی صورت اجازت نہیں۔

    ’پی ٹی آئی سے مہلت کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ دھاوا بولنے والوں سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔‘

  16. بریکنگ, بشریٰ بی بی کے سعودی عرب پر الزامات شرمناک ہیں، ہمارے پی ٹی آئی سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، خواجہ آصف

    پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی جانب سے اپنے شوہر عمران خان کی حکومت کے خاتمے میں مبینہ غیر ملکی سازش کے حوالے سے کیے گئے دعوؤں اور سعودی عرب پر الزامات کو شرمناک قرار دیا ہے۔

    اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تاریخی تعلقات ہیں، سعودی عرب میں 28 لاکھ پاکستانی روزگار کما رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کے سعودی عرب پر الزامات شرمناک ہیں، انھوں نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاست بچانے کے لیے دوست ملک الزامات انتہائی گھٹیا حرکت ہے، بشریٰ بی بی نے متنازع بیان سیاست کی ڈوبتی کشتی بچانےکے لیے دیا۔

    انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت کی طرف سے دیوالیہ پن کا بھی مظاہرہ کیا گیا، یہ لوگ خود کومذہب کا ٹھیکدار سمجھتے ہیں، بشریٰ بی بی اپنے آپ کو شریعت کہہ رہی ہیں۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ تحریک انصاف میں خواتین کے درمیان سیاسی وراثت کا جھگڑا چل رہا ہے، وراثت کی لڑائی میں تین خواتین ایک طرف اور بشریٰ بی بی دوسری طرف ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ قمر جاوید باجوہ کو ذاتی طور پر خود اس الزام کی تردید کرنی چاہیے۔

    یہ تمام لوگ اپنی پروجیکشن کر رہے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی بانی پی ٹی آئی کے رہائی کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔

    خواجہ آصف نے کے پی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ دو روز میں صوبے میں خونریزی ہوئی اور دہشت گردی کے واقعات ہوئے لیکن وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اسلام آباد پر یلغار کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ ان کا اسلام آباد پر تیسرا حملہ ہے، بہتر ہوتا کہ ایک حملہ یہ صوبے میں عسکریت پسندی پر بھی کر لیں۔

    پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات اور احتجاج روکنے سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا بھی اس بارے میں ایک فیصلہ آیا ہے اور حکومت پوری طاقت سے اس پر عملدرآمد کروائیں گے۔

    مذاکرات کے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پہلے عمران خان نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کریں گے پھر کل بیان دیا کہ سیاستدانوں کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں مگر ہمارے ان سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا ممکن ہے کہ علی امین گنڈا پور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے میں ہوں۔

    ان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کا بیان پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو نقصان پہنچانے کے لیے ہے۔ جس طرح سے سعودی عرب ہماری موجودہ صورتحال میں مدد کر رہا ہے اس بیان کا مقصد اس کو متاثر کرنا ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز جاری کردہ اپنے ایک ویڈیو پیغام میں بشریٰ بی بی نے دعویٰ کیا تھا کہ کچھ بیرونی طاقتیں مدینہ میں ننگے پاؤں چلنے کے عمران خان کے مذہبی انداز سے ناخوش تھیں۔

    انھوں نے ویڈیو بیان میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ تھا کہ سابق وزیر اعظم کے مقدس شہر سے واپس آنے کے بعد اس وقت کے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کو اظہار ناراضی کی کالز آنا شروع ہو گئی تھیں، سابق خاتون اول نے یہ نہیں بتایا کہ کال کس نے کی تھیں۔

  17. 190 ملین پاونڈ کیس: بشریٰ بی بی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    Bushra BiBi

    ،تصویر کا ذریعہCourtesy Hum TV

    احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے 190ملین پاونڈ ریفرنس میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔

    احتساب عدالت نے وارنٹ گرفتاری بشریٰ بی بی کی مسلسل عدم حاضری پر جاری کئے گئے ہیں۔

    جمعے کے روز اڈیالہ جیل میں احتساب عدالت کی ہونے والی سماعت میں بھی بشریٰ بی بی پیش نہیں ہوئیں۔ اس سے قبل 15 نومبر کو ہونے والی سماعت کے دوران احتساب عدالت اسلام آباد نے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں طبی بنیادوں پر سابق خاتون اول کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی تھی۔

    واضح رہے کہ 190 ملین پاؤنڈز یا القادر ٹرسٹ کیس میں ان پر الزام ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ نے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کی جانب سے حکومتِ پاکستان کو بھیجے گئے 50 ارب روپے کو قانونی حیثیت دینے کے عوض بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ سے اربوں روپے اور سیکڑوں کنال مالیت کی اراضی حاصل کی۔

    یہ کیس القادر یونیورسٹی کے لیے زمین کے مبینہ طور پر غیر قانونی حصول اور تعمیر سے متعلق ہے جس میں ملک ریاض اور ان کی فیملی کے خلاف منی لانڈرنگ کے کیس میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کے ذریعے 140 ملین پاؤنڈ کی وصولی میں غیر قانونی فائدہ حاصل کیا گیا۔

  18. بریکنگ, احتجاج و جلاؤ گھیراؤ کا مقدمہ: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور اشتہاری قرار

    Ali Amin

    ،تصویر کا ذریعہTwitter

    اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کو اشتہاری قرار دے دیا۔

    جمعہ کو اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی نااہلی پر احتجاج کرنے پر وفاقی دارالحکومت کے تھانہ آئی نائن میں درج مقدمے میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کو اشتہاری قرار دیا ہے۔

    انسداد دہشتگردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے تحریری حکم نامہ جاری کیا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ دوران سماعت ملزمان راجا راشد حفیظ، واثق قیوم، راجا خرم نواز، فیصل جاوید، عمر تنویر کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے جب کہ تمام غیر حاضر ملزمان کے وکلا سردار مصروف، مرتضی طوری، زاہد بشیر ڈار نے حاضری سے استثنی کی درخواست دائر کی۔

    اس میں کہا گیا کہ تمام غیر حاضر ملزمان کی حاضری معافی کی درخواست مسترد کی جاتی ہے اور ان کے ضمانتی مچلکے منسوخ کیے جاتے ہیں، کیس کی مزید سماعت 28 نومبر تک ملتوی کی جاتی ہے۔

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے عمران خان کو توشہ خانہ ریفرنس میں نااہل قرار دینے کے خلاف پی ٹی آئی کارکنان نے وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج اور جلاؤ گھیراؤ کیا تھا۔

    وفاقی دارالحکومت کے تھانہ آئی نائن میں سرکار کی مدعیت میں تحریک انصاف کی قیادت کے خلاف درج مقدمے میں علی امین گنڈاپور، سینیٹر فیصل جاوید، عامرکیانی، قیوم عباسی، راجا راشد حفیظ، عمر تنویر بٹ، راشد نسیم عباسی اور راجا ماجد کو نامزد کیا گیا تھا۔

  19. پی ٹی آئی احتجاج: جی ٹی روڈ کو دریائے چناب کے پل پر دونوں اطراف سے کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا

    container

    پی ٹی آئی کے 24 نومبر کے احتجاج کے پیشِ نظر جی ٹی روڈ کو گجرات میں دریائے چناب کے پل پر دونوں اطراف سے کنٹینرز لگا کر مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

    صحافی احتشام شامی کے مطابق رکاوٹیں لگانے کے باعث سادھوکی چیک پوسٹ، نندی پور چیک پوسٹ سمیت جہلم، کامونکی، شاہدرہ، منڈی بہاؤالدین، نارووال، حافظ آباد اور شیخوپورہ میں جی ٹی روڈ پر رکاوٹیں رکھی گئی ہیں۔

    دریائے چناب کے پل پر جی ٹی روڈ مکمل بند ہونے سے گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئی ہیں اور راستے بند ہونے سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اسی طرح پولیس کی بھاری نفری دریائے چناب کے دونوں پلوں پر تعینات کر دی گئی۔

    اسلام آباد میں کتنے مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کی جائیں گی؟

    پاکستان تحریک انصاف کی 24 نومبر کو وفاقی دارالحکومت کے ڈی چوک پر احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے 24 مقامات سے شہر کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس حوالے سے اقدامات حالات کے مطابق کیے جائیں گے۔

    ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اسلام آباد کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر کڑی نگرانی اور پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کی جا رہی ہے۔

    • مری روڈ پر کنٹینرز لگا کر اسلام آباد آنے والا راستوں کو بند کیا جا رہا ہے اور روات ٹی چوک پر کنٹینرز لگائے جا رہے ہیں۔
    • اسی طرح فیض آباد سے اسلام آباد کے داخلی راستے پر بھی کنٹینرز کی ڈبل لئیر لگائی جائے گی۔
    • 26 نمبر سے اسلام آباد کا داخلی راستہ بند ہو گا، جبکہ سری نگر ہائی وے کی اسلام آباد انٹری کنٹینرز لگا کر بند کی جائے گی۔
    • اسی طرح، نیو مارگلہ روڈ ایران ایوینیو پر بھی کنٹینرز لگائے جائیں گے اور احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد میں 26 نمبر چونگی کو ٹیکسلا کے مقام سے کنٹینرز لگا کر سیل کیا جائے گا۔
    • اسی طرح فیض آباد، سیکٹر آئی ایٹ، آئی جے پی ڈبل روڈ، مارگلہ روڈ بھی کنٹینرز لگا کر بند کر دی گئی ہے جبکہ سنگجانی فیض آباد، سیکٹر جی الیون چوک، گولڑہ موڑ فلائی اوور اور انڈر پاس پر بھی کنٹینرز لگائے جائیں گے۔
    • اس کے علاوہ احتجاج کی صورت میں ریڈ زون کو مکمل سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
  20. بشریٰ بی بی نے سعودی عرب یا محمد بن سلمان پر کوئی الزام عائد نہیں کیا: بیرسٹر سیف

    Imran khan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے گذشتہ روز الزام عائد کیا تھا کہ عمران خان جب مدینہ ننگے پاؤں گئے اور واپس آئے تو جنرل باجوہ کو کالز آنا شروع ہوگئیں کہ یہ آپ کس شخص کو لے آئے۔

    ان کا جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ ’ہم تو ملک میں شریعت ختم کرنے لگے ہیں اور تم شریعت کے ٹھیکیداروں کو لے آئے ہو۔ ہمیں یہ نہیں چاہیے۔ اس کے بعد سے عمران خان اور اس کی بیگم کے خلاف میں گند ڈالنا شروع کر دیا گیا کہ عمران خان کو یہودی ایجنٹ کہنا شروع کیا گیا۔‘

    بشریٰ بی بی کی جانب سے جاری بیان میں متعدد الزامات اور دعوے کیے گئے ہیں اور ان کا بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی کی جانب سے 24 نومبر کے لیے اسلام آباد میں احتجاج کی کال دی گئی ہے اور حکومت کی جانب سے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے لاتعلقی ظاہر کی گئی ہے۔

    انھوں نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’عمران خان نے یہ بات کبھی پبلک میں نہیں بتائی اور اگر یہ بات غلط ہو تو آپ باجوہ اور اس کی فیملی سے پوچھیں کیونکہ باجوہ اور اس کی فیملی نے یہ باتیں کسی کو بتائی تھیں جو کسی تک پہنچی تھیں اور جب آپ اقتدار میں ہوتے ہیں تو ادارے بھی آپ کو رپورٹس دیتے ہیں انھوں نے بھی عمران خان کو یہ بتایا تھا کہ اصل کہانی یہ کہ عمران خان آپ کے ملک، حقیقی آزادی، انصاف اور ننگے پاؤس مدینہ کی سرزمین پر چلنے کی سزا ان کا دو جا رہی ہے۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’24 نومبر کے احتجاج کے حوالے سے بشریٰ بی بی نے کہا کہ عمران خان نے پیغام دیا ہے کہ سب نومبر کے احتجاج کا حصہ بنیں۔‘

    ’24 نومبر کی تاریخ کسی صورت تبدیل نہیں ہو گی۔ جب تک عمران خان خود تاریخ بدلنےکا اعلان نہیں کرتے احتجاج کی تاریخ تبدیل نہیں ہو گی۔‘

    بشریٰ بی بی کا کہنا تھا کہ ’ہمارا احتجاج آئین اور قانون کے مطابق ہو گا۔ قانون کے مطابق کسی کو پرامن احتجاج سے نہیں روکا جا سکتا۔‘’

    بیرسٹر سیف کا ردِ عمل

    تاہم پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر سیف کی جانب سے اس بارے میں ردِ عمل دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی نے سعودی عرب یا محمد بن سلمان پر کوئی الزام عائد نہیں کیا ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر سیف کا مزید کہنا ہے بشریٰ بی بی کے بیان کے ساتھ پارٹی کا تعلق جوڑنا بے بنیاد ہے کیونکہ ان کے پاس پارٹی کا کوئی تنظیمی عہدہ نہیں ہے۔

    وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے سیاسی مشیر بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ بشریٰ بی بی کے پاس پارٹی کا کوئی تنظیمی عہدہ نہیں ہے نہ ہی پارٹی کی کوئی سیاسی یا تنظیمی ذمہ داری ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’وہ اگر کوئی بات کرتی ہیں تو یہ وضاحت کریں گی کہ یہ میرا ذاتی بیان ہے یا پارٹی کا بیان ہے۔ پارٹی کا مؤقف تو چیئرمین یا پارٹی کا سیکریٹری جنرل ہی بیان کرے گا، یا مرکزی سیکریٹری اطلاعات بیان کرے گا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’عمران خان کی اہلیہ محترمہ اگر یہ سمجھتی ہیں کہ ایسی بات ہے تو اس میں پارٹی کا کیا ردِ عمل ہو سکتا ہے، یہ ان کا نقطۂ نظر ہے اور اگر اس سے کوئی پارٹی کا تعلق جوڑتا ہے تو بے بنیاد نسبت جوڑی جا رہی ہے۔‘

    ’اگر پارٹی میں کوئی سمجھتا ہے کہ عمران خان کو سعودی عرب نے سزا دلوائی ہے یا ہٹایا ہے تو اس پر پارٹی نے کچھ نہیں کیا ہے نہ عمران خان نے کوئی ایسی بات کی ہے۔‘

    Imran khan

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    اسحاق ڈار اور خواجہ آصف نے کیا کہا؟

    عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے گذشتہ روز کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا، ہمیں سعودی عرب سے قریبی تعلقات پر فخر ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’سعودی عرب کو سیاسی مفادات کے لیے نشانہ بنانا افسوسناک ہے۔ سیاسی قوتیں اپنے مقاصد کے لیے خارجہ پالیسی پر سمجھوتہ کرنے سے باز رہیں۔‘

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے بشریٰ بی بی کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے ’ان سے گھڑی لے کر بیچ سکتے ہیں، کروڑوں کا منافع بنا سکتے ہیں۔ اب سٹوری فلوٹ کر دی گئی کہ باجوہ نے کسی سے بات کی اس نے کسی اور سے بات کی، یہ سیاسی فائدے کے لیے کس حد تک جا سکتے ہیں۔‘

    خواجہ آصف نے بشریٰ بی بی کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’اب شریعت کارڈ کا بھی استعمال ہو گا۔‘

    دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بشریٰ بی بی کے بیان کی مذمت کی ہے۔

    بشریٰ بی بی کی جانب سے کیا کہا گیا؟

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’عمران خان نے بہت پہلے یہ بتایا تھا کہ یہ قصہ، ظلم اور یہ عمران خان کے خلاف جو ساری قوتیں کھڑی ہو گئیں اس کی وجہ کیا ہے جو آج تک کسی نے آپ کو نہیں بتائی، عمران خان جب سب سے پہلے ننگے پاؤں مدینہ گئے اور واپس آئے تو جنرل باجوہ کو کالز آنا شروع ہو گئیں کہ یہ تم کیا اٹھا کر لے آئے ہو۔‘

    زلفی بخاری

    ،تصویر کا ذریعہZulfi Bukhair/PTI

    زلفی بخاری نے کیا کہا ہے؟

    پی ٹی آئی کے رہنما زلفی بخاری نے بشریٰ بی بی کے بیان کے حوالے سے ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ بشریٰ بی بی کے الفاظ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش ہے جو ناقابلِ قبول ہے۔ عمران خان، بشریٰ بی بی اور پاکستان کے لوگوں کے سعودی عرب اور اس کی قیادت کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں۔

    ’یہ واضح ہے کہ ان کا مطلب یہ تھا کہ یہ تعصب جنرل باجوہ اور ان کے حواریوں کی وجہ سے تھا جو عمران خان کے شلوار قمیض پہننے اور بشریٰ بی بی کے پردہ کرنے کے مخالف تھے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ان کا خیال تھا کہ روایتی لباس پہننے سے پاکستان میں شریعہ کا قانون نافذ ہو جائے گا، ان کی ذہانت کا یہ معیار تھا اور اب بھی ہے۔ انھوں نے کہیں بھی سعودی عرب کے بارے میں بات نہیں کی یا کسی بھی صورت میں سعودی عرب کا ذکر نہیں کیا۔

    ’یہ مایوس کن اور مضیحکہ خیز حربہ پاکستان میں 24 تاریخ کو لوگوں کا جذبہ کم نہیں کرے گا۔‘

    طاہر اشرفی نے کیا کہا؟

    چیئرمین پاکستان علما کونسل اور عمران خان کی حکومت نمائندہ خصوصی برائے امورِ مشرقِ وسطیٰ علامہ طاہر اشرفی جو اس دورے میں عمران خان کے ہمراہ موجود تھے نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ’میں خود وہاں موجود تھا، وہاں ہمیں بہت عزت ملی۔ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی بلکہ ہم (پاکستان) نے جو مانگا ہمیں اس سے زیادہ دیا گیا۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ یہ بیان سعودی عرب میں روزگار کے سلسلے میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔‘