رینجرز اور پولیس آپریشن کے دوران بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور نکلنے میں کامیاب ہو گئے: رانا ثنا اللہ

وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے اسلام آباد کے بلیو ایریا میں رینجرز اور پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی مظاہرین کے خلاف آپریشن کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن کے دوران بشری بی بی اور علی امین گنڈاپور وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

خلاصہ

  • تحریک انصاف کے کارکنان تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اسلام آباد کے ڈی چوک پہنچ گئے ہیں اور پی ٹی آئی نے مطالبات کی منظوری تک یہاں دھرنے کا اعلان کیا ہے۔
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی اصل قیادت حکومت سے بات کرنا چاہتی ہے مگر ’خفیہ قیادت‘ ایسا نہیں چاہتی۔
  • وفاقی حکومت نے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر آرٹیکل 245 کے تحت اسلام آباد میں فوج تعینات کر رکھی ہے۔
  • اسلام آباد میں فوج طلب کیے جانے سے کچھ دیر قبل ہی پیر کو رات گئے سرینگر ہائی وے پر سکیورٹی پر تعینات چار رینجرز اہلکاروں کو ایک تیز رفتار گاڑی نے کچل دیا۔
  • اسلام آباد کے باسیوں کو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس تک رسائی اور واٹس ایپ سے ڈاؤن لوڈ اور اپ لوڈ کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔
  • وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاوہ صوبہ پنجاب اور بلوچستان میں دفعہ 144 نافذ ہے۔

لائیو کوریج

پیشکش: منزہ انوار

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    پاکستان تحریکِ انصاف کے دھرنے کی تازہ ترین صورتحال اور اس سے متعلق مزید خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. رینجرز اور پولیس آپریشن کے دوران بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور نکلنے میں کامیاب ہو گئے: رانا ثنا اللہ

    ْْٰBBC

    وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے اسلام آباد کے بلیو ایریا میں رینجرز اور پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی مظاہرین کے خلاف آپریشن کی تصدیق کی ہے۔

    نجی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر کا کہنا ہے کہ ہمیں اطلاعات تھیں اسی لیے رینجرز اور پولیس نے مظاہرین میں شامل سنگین مجرموں کے خلاف آپریشن کیا۔

    رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ رینجرز اور پولیس کے آپریشن کے دوران بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

    ان کا کہنا ہے کہ تقریباً 500 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے۔

    یاد رہے رات گئے پاکستان کے مقامی اور سوشل میڈیا پر ایسی خبریں نشر ہوئیں جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ پولیس نے بلیو ایریا میں کارروائی کرکے جناع ایونیو کو پی ٹی آئی مظاہرین سے خالی کروا لیا ہے۔

    اسلام آباد کے ایف سیون سیکٹر کے رہائشیوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ گولیاں چلنے اور شیلنگ کی آوازیں سن سکتے ہیں۔

    پی ٹی آئی نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ پولیس اور رینجرز بلیو ایریا میں پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہے ہیں۔

  3. ’یہ فائنل کال نہیں مس کال تھی، سیاسی ناکامی ان کا مقدر بنی ہے‘ عطا اللہ تارڑ

    APP

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا الہہ تارڑ کا کہنا ہے کہ ’یہ فائنل کال نہیں مس کال تھی۔‘

    ڈی چوک میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اطلاعات یہی ہیں کہ بشری بی بی اور خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور مونال والی سائیڈ سے بھاگ گئے ہیں۔‘

    بلیو ایریا کو مظاہرین سے کیسے خالی کرایا گیا، وزیرِ داخلہ کی طرح وزیرِ اطلاعات نے بھی اس بارے میں کسی قسم کی وضاحت نہیں کی تاہم انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ ہماری کامیابی ہے کہ امن لوٹ آیا ہے، راستے کھل گئے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’لوگ کہتے تھے آپ سختی نہیں کرتے مگر ہم ان کو لاشیں نہیں دینا چاہتے تھے، ہمیں صرف ٹھیک وقت کا انتظار تھا اور وزیرِ داخلہ مسلسل مانیٹرینگ کر رہے تھے اور ٹھیک وقت کا انتظار کر رہے تھے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’جس طرح پی ٹی آئی والے دیوانہ وار بھاگے ہیں، اپنی ہی گاڑیاں آپس میں ٹکرا دیں اور ہر شے چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں، یہ عبرت کا مقام ہے۔‘

    عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ’اپنے لیڈر کو رہا کروانے آئے تھے مگر بہت سے کارکن خود گرفتار ہو گئے اور سیاسی ناکامی ان کا مقدر بنی ہے کیونکہ ان کی نیت ٹھیک نہیں تھی۔‘

    وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ ’بشری بی بی کے کنٹینر کو جو آگ لگائی اس کے نیچے کاغذوں کی راکھ تھی اور ثبوت موجود ہیں کہ انھوں نے ریڈ زون میں کیسے حملہ کرنا تھا اور اہم شخصیات کو نشانہ بنانا تھا۔‘

    ان کا دعویٰ ہے کہ کنٹینر کو اس لیے آگ لگائی گئی ہے کیونکہ اس میں اہم ثبوت موجود تھے جن کا فرانزک کرایا جائے گا۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس میں ایسے ثبوت تھے کہ ’کون کہاں سے انتشار پھیلانے آئے گا، کس کو کتنے ہتھیار اور گرینیڈ دیے گئے وغیرہ۔‘

    یاد رہے پاکستان تحریکِ انصاف نے دعویٰ کیا تھا کہ بشری بی بی کے کنٹینر کو آگ لگائی گئی ہے۔ زلفی بخاری نے دعویٰ کیا تھا کہ ہمیں پہلے سے اس بارے میں اطلاع تھی اسی لیے انھیں وہاں سے نکال لیا گیا تھا اور وہ محفوظ ہیں۔

  4. ’بشری بی بی اور علی امین گنڈاپور ابھی تک مفرور ہیں‘ وزیر داخلہ محسن نقوی

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ’بشری بی بی اور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور ابھی تک مفرور ہیں۔‘

    بلیو ایریا کو مظاہرین سے کیسے خالی کرایا گیا، وزیرِداخلہ نے اس بارے میں کسی قسم کی وضاحت نہیں کی تاہم ان کا کہنا ہے کہ امید ہیں کل سے حالات معمول پر آ جائیں گے۔

    رات کے تقریباً ڈیڑھ بجے ڈی چوک پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے محسن نقوی نے انتظامیہ سے کہا ہے کہ فوری طور پر سڑکیں کلیئر کرکے کھول دیں اور پرسوں سے سکول کھول دیں۔

    انھوں نے کہا کہ سکولوں میں چھٹی کا نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ورنہ ہم کل سے سکول کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اب پرسوں سے سکول کھل جائیں گے۔

    ان کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ بھی کل سے بحال ہو جائے گا۔

    محسن نقوی کا کہنا ہے کہ امید ہے کل نیا دن نئی سوچ کے ساتھ طلوع ہو گا۔

    وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ ’سنگجانی پر بات ہو گئی تھی، انھوں نےکہا راستے کھول دیں اور ہم نے راستہ کھول دیا مگر ان کی قائم مقام صدر نے عمران خان کا حکم ماننے سے انکار کر دیا۔‘

    انھوں نے سکیورٹی اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج سارا دن آپ نے جس طرح کام کیا وہ شاندار ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ افغان شہریوں کے متعلق فیصلہ کر لیا ہے چند روز میں سامنے لائیں گے۔

    انھوں نے پی ٹی آئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب آپ نے کتنی دفعہ یہ چیزیں کرنی ہیں، سٹاک مارکیٹ کو دیکھیں آج کہاں چلی گئی۔

  5. حکومت نے تحمل سے اسلام آباد خالی کروا لیا ہے: طلال چوہدری کا دعویٰ

    مسلم لیگ کے رہنما طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ پچھلے چند گھنٹوں میں یہ تاثر دیا گیا کہ ریاست ناکام ہو گئی ہے اور احتجاج کرنے والے کامیاب ہو گئے ہیں، انھوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس اور رینجرز کی ہلاکتوں کے باوجود حکومت نے تحمل سے بہترین انداز میں اسلام آباد خالی کروا لیا ہے۔

    اب سے کچھ دیر قبل نجی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بشری بی بی اور پی ٹی آئی قیادت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’جو عمران خان کے رہا ہونے تک دھرنا دینے کا دعویٰ کر رہے تھے، اپنے کارکنوں کو ایک مرتبہ پھر اکیلا چھوڑ کر بلٹ پروف گاڑیوں میں فرار ہو گئے ہیں۔‘

  6. ’مظاہرین کے پاس جدید اسلحہ کہاں سے آتا ہے؟ بات چیت سیاسی جماعتوں سے ہوتی ہے، دہشت گردوں سے نہیں‘ عطا تارڑ

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی مظاہرین میں ایسے افراد ہیں جو جدید اسلحے سے لیس ہیں اور یہ اسلحہ وہ پولیس اور قانون نافذ اداروں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں

    انھوں نے اب سے کچھ دیر قبل ایک ویڈیو بیان میں اسلحے سے لیس افراد کی فوٹیج دکھاتے ہوئے سوال کیا ہے کہ ان مظاہرین کے پاس جدید اسلحہ کہاں سے آتا ہے، آنسو گیس کے شیل، گرینڈز انھیں کہاں سے دستیاب ہوتے ہیں؟

    ’اور کیا پرامن احتجاج میں ایسی چیزیں لائی جاتی ہیں؟‘ انھوں نے سوال کیا کہ کیا یہ اسلحہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے انھیں نہیں دیا؟

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا کے وسائل جو کرم میں امن قائم کرنے کے استعمال ہونے چاہیں وہ اپنے لیڈر کو چھڑانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

    عطار تارڑ کا کہنا ہے کہ ’ڈی چوک پر اب کوئی شرپسند نظر نہیں آ رہا۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’بات چیت کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کیونکہ بات چیت سیاسی جماعتوں سے ہوتی ہے دہشت گردوں سے نہیں۔‘

    فوٹیج میں مسلح افراد کے متعلق انھوں نے کہا کہ ان افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا اور کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

    APP

    ،تصویر کا ذریعہAPP

  7. پی ٹی آئی مظاہرین کے خلاف دھرنے کے لیے ایندھن فراہم کرنے والا کریک ڈاؤن نہیں ہونا چاہیے: رانا ثنا اللہ

    PMLN

    ،تصویر کا ذریعہPMLN

    مسلم لیگ کے رہنما رانا ثنا اللہ خان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی مظاہرین کے خلاف ایسا کریک ڈاؤن جس سے ان کو دھرنے کے لیے ایندھن فراہم ہو سکے، وہ بالکل نہیں ہونا چاہیے۔

    نجی چینل جیو نیوز پر شاہزیب خانزادہ سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کے مشیر کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے دو ہی گول تھے ایک تو ڈی چوک پہنچنا دوسرا لاشیں لینا جو دھرنے کے لیے ایندھن فراہم کر سکیں۔ حکومت کی کوشش ہے ایندھن بھی فراہم نہ کریں اور لاشیں بھی نہ دیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو راستے میں تین مقامات پر روکا جا سکتا تھا، اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ مظاہرین ڈی چوک تک کیسے پہنچے۔

    رانا ثنا الہہ نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم نے چار ہفتے قبل غیر مشروط مذاکرات کی پیش کش کی تھی مگر عمران خان کی جانب سے ہمیشہ مذاکرات سے انکار کیا گیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خود بھی 126 دن ڈی چوک بیٹھے رہے ہیں۔

    رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ عمران خان دھرنوں کے ذریعے رہا نہیں ہوں گے، عدالتوں سے سے رہا ہوں گے۔

  8. ’خبریں ہیں حکومت آج رات مظاہرین پر کریک ڈاؤن کر سکتی ہے، اس سے مزید جانیں جا سکتی ہیں‘ بیرسٹر سیف

    BarristerDrSaifOfficial

    ،تصویر کا ذریعہBarristerDrSaifOfficial

    بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ خان صاحب سنگجانی میں احتجاج پر مان گئے تھے اور کہا تھا ٹھیک ہے آپ حکومت کے ساتھ مذاکرات کریں مگر بشریٰ بی بی نہیں مانیں اور انھوں نے اعلان کیا کہ میں ڈی چوک ہی جاؤں گی اور پھر وہ وہاں پہنچ گئیں۔

    سنگجانی میں احتجاج کے حوالے سے مشیرِ اطلاعات خیبرپختونخوا نے نجی چینل جیو نیوز پر شاہزیب خانزادہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں احتجاج کی تجویز تھی لیکن پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت نے فیصلہ کیا کہ ڈی چوک ہیں جائیں گے۔

    انھوں نے بتایا کہ عمران خان نے فون پر بشری بی بی سے نہیں علی امین گنڈا پور سے بات کی۔

    ان کا کہنا ہے کہ میڈیا پر ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ حکومت آج رات پی ٹی آئی مظاہرین پر کریک ڈاؤن کر سکتی ہے، اگر ایسا ہوا تو مزید جانیں جائیں گی۔

    ان کا کہنا ہے کہ تشدد، ضد اور ہٹ دھرمی حل نہیں، بیٹھ کر مذاکرات سے مسائل کا حل نکال سکتے ہیں۔

    بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ حکومت کی غیر منطقی بیان بازی اور اقدامات نے مسئلہ بگاڑ دیا گیا ہے۔

    وزیرداخلہ کی پریس کانفرنس کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے شاید فیصلہ کر لیا ہے کہ غلطیوں پر غلطیاں کرتے جانا ہے۔

    بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ ٹھیک ہے یہ مذاکرات نہیں کرتے تو نہ کریں، لیکن جب تک مطالبات پورے نہیں ہوتے ہم جہاں بیٹھے ہیں وہیں بیٹھے رہیں گے اگر انھوں نے تشدد کرنا ہے تو اس کا نتیجہ حکومت کے خلاف ہی نکلے گا۔

  9. انتشار اور فساد کی ذمہ دار ایک خاتون ہیں، دھرنے والوں سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے: محسن نقوی

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ انتشار اور فساد کی ذمہ دار ایک خاتون ہیں اور دھرنے والوں سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔

    ڈی چوک پر وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا ہے کہ انھوں نے آنا تھا، وہ آ گئے لیکن ایک بات انھیں واضح ہو جائے کہ ان سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے ’وزیر اعظم کے ساتھ اجلاس میں یہ طے ہوا ہے کہ ان دھرنے والوں سے کسی صورت کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش تھی کہ کسی نہ کسی طریقے سے لاشیں لیں، وزیراعظم کے ساتھ میٹنگ ہوئی اور ہم نے طے کیا کہ علاقہ بھی کلئیر رکھنا ہے اور جانی نقصان بھی نہیں ہونے دینا۔

    انھوں نے بشری بی بی پر الزام عائد کیا کہ ’جو جانی نقصان ہوا ہے اس کی مکمل ذمہ دار ایک خاتون ہیں۔ اس انتشار و فساد کی ذمہ دار ایک خاتون ہیں۔‘

    وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے تحریکِ انصاف پر الزام عائد کیا کہ ’یہ غریب کے بچوں کو ڈھال بنا کر آئے ہیں۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ یہ پرامن مظاہرین نہیں۔ انھوں نے میڈیا کو کچھ شیل دکھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ اس طرف (پی ٹی آئی کے احتجاجی کارکنان) کی جانب سے فائر کیے جا رہے تھے۔

    ان کا کہنا ہے کہ وہاں سے غلیلوں کے ذریعے پتھر اور بنٹے مارے گئے ہیں۔

    عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ ریاست بالکل کمزور نہیں ہے، اگر کسی کا خیال ہے کہ شیل اور بنٹے پھینک کر کسی کو رہا کرا لیں گے تو یہ ان کی بھول ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ کس سیاسی جماعت کا منشور اجازت دیتا ہے کہ افغان شہریوں کو پارٹی رکنیت دیں۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ گرفتار افراد سے جب پوچھا گیا کہ وہ کہاں سے آئے ہیں تو ایک شخص نے بتایا کہ وہ سوات کا ایک دیہاڑی دار مزدور ہے جسے احتجاج کے لیے لایا گیا ہے۔

    ’اسی طرح ایک اور 16 سالہ نوجوان سے یوچھا تو اس نے کہا کہ میں افغانستان سے ہوں۔‘

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ یہاں پر حملہ کیا گیا جسے پسپا کیا گیا ہے، ریاست کی رٹ قائم ہے اور یہ علاقہ مکمل کلیئر کروا کر انھیں پیچھے دھکیل دیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ہم یہاں کھڑے ہیں اور کسی کو شاہراہ دستور پر امن کو خراب نہیں کرنے دیں گے۔

    عطا تارڑ نے بشری بی بی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بی بی لاشیں لینے آئی ہیں، یہ ملک میں انتشار پھیلانا چاہتی ہیں ہم انھیں لاشیں نہیں دیں گے، ہم ان کے ہاتھوں میں نہیں کھیلیں گے۔

    ان کا کہنا ہے کہ آپ پر 190 ملین اور 9 مئی کے کیس ہیں، ان پر کیا بات کرنی ہے؟ کیا یہ این آر او مانگ رہے ہیں؟

    عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ ریاست کے صبر کو مت آزمائیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ گولی چلانا سب سے آسان ہے، ہم تشدد کا جواب دے رہے ہیں مگر کوئی اس صبر کو آزمائے نہ۔‘

    انھوں نے کہا کہ دوبارہ آ کر دکھائیں بھرپور جواب دیں گے اور کسی کو آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    عطا تارڑ نے دعویٰ کیا کہ تحریکِ انصاف کے احتجاج میں جن افغان شہریوں کو ساتھ لایا گیا ہے وہ سب کے سب مجرمان ہیں جو اسلام آباد میں وارداتیں کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وارداتی اور دہشت گرد اور مطلوب افراد ان کے ساتھ شامل ہیں۔ جبکہ ایک کا تعلق اسلام آباد کے ڈکیت گینگ سے ہے۔

    ان کا کہنا ہے جن بندوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان پر پرچے درج کیے گئے ہیں اور ان کی ضمانتیں نہیں ہو گی اور افغان شہریوں پر ایڈیشنل دفعات لگائیں گے تاکہ آئندہ کوئی غیر ملکی ایسی حرکت نہ کرے۔

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    احتجاج کے دوران مقامی اور بین الاقوامی میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے متعلق ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیرِ اطلاعات کا کہنا تھا کہ ان واقعات میں ملوث افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔

    جب وزیرِ اطلاعات سے پوچھا گیا کہ آیا وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا اور بشریٰ بی بی کو گرفتار کیا جا سکتا ہے تو ان کہنا تھا کہ ’گرفتاری اس چیز کی پابند نہیں ہوتی کہ سامنے کون ہے۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ جب گرفتار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو خیبر پختونخوا کارڈ نکال لیتے ہیں۔

    صحافیوں کے اس سوال پر کہ یہ میلہ کب تک اسلام آباد میں لگا رہے گا اور کیا حکومت کو شہریوں کی تکالیف کا احساس ہے؟ محسن نقوی نے کہا کہ ہم عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کر رہے ہیں، ہم نے موبائل سروس بند نہیں کی مگر یہ یہ لوگ ہر بات سے مکر جاتے ہیں اور ان کی نیت امن و امان خراب کرنے کی ہے لہذا ہم مجبور ہیں۔

  10. ڈی چوک کی تاریخ اور محلِ وقوع

    ڈی چوک

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ڈی چوک کا پورا نام ڈیموکریسی چوک ہے اور یہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے مرکز میں واقع ہے۔

    کئی دہائی پہلے یہ جگہ پریڈ گراؤنڈ کے نام سے جانی جاتی تھی جہاں فوجی پریڈز منعقد کی جاتی تھیں۔

    تاہم بڑھتے سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر پریڈز کا انعقاد اب نہیں ہوتا تاہم اس جگہ کی اہمیت اب بھی برقرار ہے۔ اب یہاں پریڈز کی جگہ جلسے، جلوس اور ریلیاں ہوتی ہیں۔

    ڈی چوک جناح ایوینیو اور شاہراہِ دستور کے سنگم پر واقع ہے اور اس کے اطراف میں کئی اہم عمارتیں واقع ہیں جن میں وزیرِ اعظم ہاؤس، ایوانِ صدر، پارلیمان، سپریم کورٹ شامل ہیں جب کہ ڈپلومیٹک انکلیو اور دفترِ خارجہ اس سے کچھ ہی فاصلے پر موجود ہیں۔

    1980 کی دہائی سے یہاں جلسے جلوس ہوتے آئے ہیں۔ ڈی چوک میں پہلا بڑا احتجاج جولائی 1980 میں ایک مذہبی گروہ نے جنرل ضیاالحق کی جانب سے لگائے گئے ٹیکسوں کے خلاف کیا۔

    تب سے ان گنت سیاسی جماعتیں اور سماجی اتنظیمیں یہاں مظاہرے کر چکی ہیں۔

    سنہ 1989 میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں نے یہاں احتجاج کیا جب کہ کے عام انتخابات میں دھاندلی کے خلاف 1992 میں یہاں مظاہرے کیے گئے۔

    1993 میں سابق وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو نے اس وقت کے وزیرِ اعظم نواز شریف کے استعفے کے لیے ڈی چوک پر ایک مارچ کی قیادت کی۔

    2009 میں سابق فوجی آمر جنرل مشرف کے خلاف شروع ہونے والی وکلا تحریک کا اختتام بھی یہیں ہوا۔

    پاکستان تحریکِ انصاف نے عمران خان کی قیادت میں 2014 میں یہاں 120 دن تک دھرنا دیا۔

    تاہم 2016 میں حکومت نے اس جگہ پر مظاہروں پر پابندی عائد کردی اور بڑے اجتماعات کا انعقاد روکنے کے لیے بھی اقدامات کیے۔

    مگر تمام تر پابندیوں کے باوجود اب بھی ڈی چوک پر آئے دن مظاہرے ہوتے رہتے ہیں۔

  11. پی ٹی آئی کا چار کارکنوں کی ہلاکت کا دعویٰ، پمز اور پولی کلینک ہسپتال میں چھ لاشیں موجود

    PIMS/POLYCLINIC

    ،تصویر کا ذریعہPIMS/POLYCLINIC

    اسلام آباد پہنچنے والے پاکستان تحریکِ انصاف کے احتجاجی قافلے میں شامل کارکنان کی قانون نافد کرنے والے اداروں کے اہلکاروں سے جھڑپوں کا سلسلہ منگل کو دن بھر جاری رہا۔

    اس دوران اسلام آباد کے دو بڑے سرکاری ہسپتالوں کے حکام کے مطابق وہاں چھ افراد کی لاشیں لائی گئیں ہیں جنھیں گولیاں لگیں ہیں۔

    پولی کلینک ہسپتال میں چار افراد کی لاشیں اور 30 زخمی لائے گئے ہیں جبکہ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں دو لاشیں او ر20 زخمی لائے گئے ہیں۔

    پولی کلینک کی انتظامیہ کے ایک اہلکار عبدالرشید نے بی بی سی کے شہزاد ملک کو بتایا ہے کہ جن چار افراد کی لاشیں ہسپتال لائی گئیں ہیں وہ تمام عام شہری ہیں۔

    انتظامیہ کے اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والے ایک شخص کے سر پر گولی لگی ہے، دوسرے کے سینے میں جبکہ ہلاک ہونے والے دیگر دو افراد کے پیٹ میں گولیاں لگی ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ 20 سے زیادہ زخمی بھی پولی کلینک میں لائے گئے ہیں۔

    خیال رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے عمران خان کی فائنل کال والے احتجاج کے دوان چار کارکنان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

    پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ان کے 23 کارکن زخمی بھی ہیں۔

  12. اس وقت ڈی چوک پر کیا صورتحال ہے؟, منزہ انوار، بی بی سی اردو - اسلام آباد

    ْْْْْْٰٰٰBBC

    ،تصویر کا ذریعہْْْْْْٰٰٰBBC

    چند گھنٹے قبل تک اسلام آباد کے ڈی چوک میں جو منظر نظر آ رہا تھا اب صورتحال اس سے یکسر مختلف ہے۔

    پی ٹی آئی کارکنان تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے بلاخر تیسرے دن کی دوپہر اپنی منزل ڈی چوک پہنچنے میں کامیاب رہے ہیں تاہم یہاں تک آنے والے کارکنان کی پولیس کے ساتھ چھڑپیں بھی ہوئیں ہیں جس کے بعد پی ٹی آئی کارکنان کو ڈی چوک سے منتشر کرتے ہوئے پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔

    پی ٹی آئی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس وقت ڈی چوک کا کنٹرول سکیورٹی اہلکاروں نے سنبھال لیا ہے اور بشری بی بی کے کنٹینر کو سیونتھ ایونیو پر پیچپھے کی جانب دھکیل دیا گیا ہے۔

    بی بی سی کے فاخر منیر اور مدثر ملک کے مطابق اس وقت ڈی چوک مکمل خالی ہے اور پی ٹی آئی کارکنان آس پاس کے علاقوں خصوصاً ایف سکس اور شہیدِ ملت والے علاقے میں اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    علی امین گنڈاپور بھی بلیو ایریا میں کارکنان کے ہجوم میں موجود ہیں۔

    تھوڑی تھوڑی دیر بعد پی ٹی آئی کارکنان ڈی چوک کی جانب بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کی پولیس کے ساتھ آنکھ مچولی جاری ہے۔

    تقریباً پانچ ہزار کارکنان جی ایٹ سے ایف سکس (شہیدِ ملت سیکرٹریٹ) تک پھیلے ہوئے ہیں۔

    یہ کارکنان آس پاس کے علاقوں میں گھوم پھر رہے ہیں اور جیسے ہی پولیس کی کوئی گاڑی نظر آتی ہے یہ اس کے پیچھے بھاگ کر اس پر حملہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    کئی افراد احتجاج کے شرکا میں کھانا اور پانی بھی تقسیم کرتے نظر آئے۔

    بلیو ایریا، ایف سکس اور ایف سیون کے علاقوں میں مارکیٹں اور دکانیں مکمل بند ہیں اور کاروبارِ زندگی معطل ہے۔

  13. ’جو کرنا ہے کر لو، اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا‘ عمران خان کا جیل سے پیغام

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں انھوں نے اپنی ٹیم کو پیغام دیا ہے کہ وہ آخری بال تک لڑیں۔

    ’مجھے ملٹری کورٹ میں ٹرائل کی دھمکیاں دینے والوں کے لیے پیغام ہے کہ جو کرنا ہے کر لو، میں اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ اب تک نہیں پہنچ پائے ہیں وہ بھی ڈی چوک پہنچیں۔

    سابق وزیرِ اعظم نے الزام لگایا ہے کہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی ہدایات پر رینجرز اور پولیس نے پی ٹی آئی کے کارکنان پر فائرنگ اور شیلنگ کی جس کے نتیجے میں پرامن شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ محسن نقوی کو اس کا حساب دینا ہوگا۔

    مظاہرین کو پر امن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ مظاہرے میں شامل تمام پاکستانی متحد اور ڈٹے رہیں۔

  14. ڈی چوک کہاں ہے اور یہ کیوں اہم ہے؟

    ڈی چوک
  15. پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران صحافیوں پر تشدد: ’مشتعل افراد جاتے وقت ہمارے ماسک، ہیلمٹ اور جیکٹ ساتھ لے گئے‘

    اسلام آباد میں تحریکِ انصاف کے احتجاج کے دوران مشتعل افراد کی جانب سے صحافیوں کو نشانہ بنائے جانے کی متعدد اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    مقامی اور بین الاقوامی میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ مشتعل افراد نے نہ صرف انھیں دھکے دیے بلکہ عمارتوں اور سازوسامان کو بھی نقصان پہنچایا۔

    بی بی سی کی فرحت جاوید سے بات کرتے ہوئے انڈیپنڈنٹ اردو کی صحافی عینی شیرازی نے بتایا کہ انھیں ڈی چوک میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے دھکم پیل اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

    ’مجھے اور میرے ویڈیو جرنلسٹ کو دھکے دیے گیے اور گالم گلوچ کی گئی۔ ان کا ایک گروہ آیا جس نے ہمیں دھکے دے کر ڈی چوک سے باہر نکالنے کی کوشش کی۔ اس دوران میری ٹانگ پر چوٹ آئی۔ وہ کہہ رہے تھے کہ تم لوگ صحیح رپورٹنگ نہیں کر رہے۔‘ عینی شیرازی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اس دوران فائرنگ کا آغاز ہو گیا اور یہ ایک مشکل صورتحال بن گئی تھی ہمارے لیے۔‘

    ویئون نیوز سے تعلق رکھنے والے صحافی انس ملک کے مطابق وہ ایکسپریس چوک پر واقع ’ایک نیوز‘ کی عمارت کی چھت سے لائیو رپورٹنگ کر رہے تھے کہ تین بج کر 10 منٹ کے قریب ایک کار عمارت کے قریب آکر رکی جس کے بعد ان پر پتھراؤ شروع ہوا۔

    ان کے مطابق پتھراؤ کے نتیجے میں عمارت کے شیشوں کو نقصان پہنچا جس کے بعد عمارت کی انتظامیہ نے عمارت کو بند کر دیا۔

    انس ملک کا کہنا ہے کہ کچھ دیر بعد 20 کے قریب مشتعل افراد عمارت کا بیرونی دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو گئے۔ ان کے مطابق عمارت میں داخل ہونے والے افراد لاٹھیوں اور غلیلوں سے لیس تھے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ مشتعل افراد جاتے وقت ان کے ماسک، ایک ہیلمٹ اور جیکٹ بھی اپنے ساتھ لے گئے۔

    احتجاجی مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کے نتیجے میں ایک نیوز کے ڈائریکٹر نیوز نارتھ محمد عادل بھی زخمی ہوئے ہیں۔

    وائس آف امریکہ کی سارہ حسن کا کہنا ہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ پی ٹی آئی کارکنوں نے ان کی ٹیم پر حملہ کیا ہے۔

    ’ہم نے پہلے بھی انھیں کہا تھا کہ ایسا نہ کریں۔ ہماری ٹیم کو دوسری بار روکا گیا ہے۔ میری رپورٹر سے بات ہوئی جو گھبرائے ئوئے تھے اور بس اتنا کہا کہ ہم پھنسے ہوئے ہیں، بعد میں بات کرتا ہوں۔ ہمارے دو لوگوں کی ٹیم ہے جو مظاہرین کے بیچ پھنس گئے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے پی ٹی آئی کی قیادت سے پہلے بھی کہا تھا اور اب بھی کہتی ہیں کہ ہماری ٹیم کو وہاں سے نکالیں۔

    پی ٹی آئی کے ترجمان نے بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید کو بتایا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل اعلانات کر رہے ہیں کہ میڈیا کی کسی ٹیم پر حملہ نہ ہو۔

    ان کا کہنا تھا کہ شاید ہجوم میں کچھ شرپسند عناصر شامل ہو گئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میڈیا پر حملہ افسوسناک ہے۔

  16. رینجرز کی ہلاکت کو سکیورٹی فورسز کی گاڑی کی تیز رفتاری سے جوڑنا پروپیگنڈا ہے: ترجمان رینجرز

    پاکستان رینجرز کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پیر کی شب اسلام آباد میں رینجرز کی ہلاکت کے بارے میں سوشل میڈیا ہر پروہیگنڈا کیا جا رہا ہے۔

    رینجرز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کہا جا رہا ہے کہ رینجرز اہلکار سکیورٹی فورسز کی گاڑی کی تیز رفتاری کی وجہ سے مارے گئے جو کہ پروپیگنڈے کے سوا کچھ نہیں۔

    ترجمان کے مطابق اس حادثے میں رینجرز کے تین اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ چوتھے کی حالت تشویشناک ہے۔

    خیال رہے کہ پیر کی رات تحریکِ انصاف کے احتجاج کے تناظر میں اسلام آباد کے علاقے جی ٹین میں لگائے گئِے ایک ناکے پر ایک تیز رفتار گاڑی نے متعدد افراد کو کچل دیا تھا اور حکام کے مطابق اس واقعے میں رینجرز کے تین اہلکاروں کے علاوہ ایک پولیس اہلکار جبکہ ایک عام شہری بھی ہلاک ہوا ہے۔

    ادھر تحریکِ انصاف کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران اس کے بھی دو کارکن ہلاک اور 30 زخمی ہوئے ہیں۔

  17. ڈی چوک میں فائرنگ، چھ افراد زخمی: اسلام آباد پولیس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ تحریکِ انصاف کے کارکنوں کے ریڈ زون میں واقع ڈی چوک پہنچنے کے بعد نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں کم ازکم چھ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ تمام زخمی پی ٹی ائی کے احتجاج میں شامل افراد ہیں۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس بات کا تعین نہیں ہوسکا کہ فائرنگ کس مقام سے کی گئی۔

    ڈی چوک پر ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے پولی کلینک ہسپتال پہنچایا گیا ہے۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ اس وقت ڈی چوک پر پولیس اور رینجرز کے اہلکار تعینات ہیں۔

  18. پی ٹی آئی کا قافلہ ڈی چوک پہنچ گیا، ’صورتحال پرامن ہے‘, محمد عثمان، بی بی سی نیوز

    پی ٹی آئی احتجاج

    پاکستان تحریک انصاف کا احتجاجی قافلہ اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع ڈی چوک تک پہنچ گیا ہے۔

    اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس کی تصدیق کی کہ پولیس اور نیم فوجی دستوں نے بھی ان مظاہرین کو نہیں روکا۔

    ڈی سی کے مطابق اس وقت صورتحال پرامن ہے تاہم انھوں نے اس بات کی تصدیق نہیں کہ کیا حکومت ان مظاہرین سے مذاکرات کرے گی۔

    تحریک انصاف احتجاج شروع ہونے سے اس بات پر اصرار کر رہی ہے کہ وہ ہر صورت اسلام آباد کے ڈی چوک پہنچ کر عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاج کریں گے۔

    پی ٹی آئی احتجاج

    خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور اور سابق خاتون اول بشریٰ بی بی بھی ایک کنٹینر پر سوار ابھی ڈی چوک کے لیے رواں ہیں مگر ان سے پہلے ہی پی ٹی آئی کے کارکنان کنٹینرز اور رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے ڈی چوک تک پہنچے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں مظاہرین کو ڈی چوک میں لگائے گئے کنٹینرز پر جشن مناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    پی ٹی آئی احتجاج
  19. سٹاک مارکیٹ میں 3900 پوائنٹس کی کمی، وجوہات سیاسی ہیں یا معاشی؟, تنویر ملک، صحافی

    سٹاک ایکسچینج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور کاروبار کے دوران انڈیکس میں لگ بھگ 3900 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی جس کے بعد اس کا انڈیکس 94100 کی سطح تک آگیا۔

    آج مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی تھی اور انڈیکس 1700 پوائنٹس اضافے کے بعد 99000 پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا تھا تاہم اس کے بعد مارکیٹ میں کمی دیکھی گئی اور انڈیکس میں 2900 پوائنٹس کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    سٹاک ایکسچینج میں آج ہونے والی بڑی کمی کے بارے میں تجزیہ کار اسے سیاسی صورتحال سے جوڑنے کے ساتھ سٹاک مارکیٹ میں ادھار کے سودوں کی سیٹلمنٹ کے ساتھ اسلامی بینکوں پر مرکزی بینک کی نئی ریگولیشنز کے اطلاق کو بھی قرار دیتے ہیں۔

    یاد رہے کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں گزشتہ کئی ہفتوں سے تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد انڈیکس ایک لاکھ پوائنٹس کی سطح کے قریب پہنچ گیا اور موجودہ ہفتے کے دوران اس کے ایک لاکھ پوائنٹس کی سطح کو عبور کرنے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔

    تاہم موجودہ ہفتے میں ملک کے سیاسی حالات میں پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال کے آغاز کے بعد سیاسی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوا۔

    تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ملک کی سیاسی صورتحال نے بلاشبہ سٹاک ایکسچینج میں کاروبار پر اثرات مرتب کیے جو پی ٹی آئی کے احتجاج کی وجہ سے پیدا ہوئی تاہم اس کے ساتھ سٹاک مارکیٹ میں مہینے کے آخر میں مستقبل کے سودوں کی سیٹلمنٹ ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے مارکیٹ پر منفی اثر آیا۔

    اسی طرح سٹیٹ بینک کی جانب سے اسلامی بینکوں میں ڈپازٹ پر منافع تقسیم کی شرح میں اضافے کی ریگولر نے اسلامی بینکوں کے حصص کی قیمتوں میں بہت زیادہ کمی کی جس کا منفی اثر مارکیٹ پر ہوا۔

  20. بریکنگ, پی ٹی آئی کا ڈی چوک میں مطالبات کی منظوری تک دھرنے کا اعلان, ثنا آصف ڈار، بی بی سی، اسلام آباد

    پی ٹی آئی

    پی ٹی آئی نے اسلام آباد کے ڈی چوک میں مطالبات کی منظوری تک دھرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    پی ٹی آئی پشاور ریجن کے صدر اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے قافلے کے ساتھ ارباب نسیم نے بی بی سی کو بتایا کہ ’15 منٹ پہلے بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور نے مطالبات کی منظوری تک ڈی چوک میں دھرنے کا اعلان کیا ہے۔‘

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے یہ مظاہرین سابق وزیراعظم عمران خان کی جیل سے فوری رہائی کا مطالبہ لے کر خیبرپختونخوا سے اسلام آباد آئے ہیں۔