یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
گذشتہ روز کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے صحافی مطیع اللہ کے بیٹے نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کے والد وفاقی پولیس کی حراست میں ہیں مگر ان کے خلاف کن دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے حکام کی جانب سے اس بابت کچھ نہیں بتایا جا رہا۔ اس سے قبل پولیس میں دی گئی ایک درخواست میں مطیع اللہ کے بیٹے نے الزام عائد کیا تھا کہ بدھ کی رات ’سادہ کپڑوں میں ملبوس نامعلوم افراد‘ اُن کے والد کو ’اغوا‘ کر کے لیے گئے ہیں۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
گذشتہ روز کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے صحافی مطیع اللہ جان کے بیٹے نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس اُن کے والد کے خلاف درج ایف آئی آر کی کاپی مہیا نہیں کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ جمعرات کی صبح مطیع اللہ جان کے بیٹے نے ’سادہ کپڑوں میں ملبوس نامعلوم افراد کی جانب سے اپنے والد کے اغوا‘ کیے جانے کے خلاف تھانہ جی نائن میں درخواست دائر کی تھی۔ تاہم بعد ازاں معلوم ہوا کہ وہ اسلام آباد پولیس کی تحویل میں ہیں اور ان کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج ہوا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مطیع اللہ جان کے بیٹے نے دعویٰ کیا کہ اُن کے والد کو اسلام آباد کے مارگلہ پولیس سٹیشن میں رکھا گیا تھا جبکہ کچھ دیر قبل اُن کی والدہ اور بہن کی مطیع اللہ جان سے ملاقات بھی اسی تھانے میں کروائی گئی تھی۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ بعدازاں انھیں اس تھانے سے کہیں اور منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ حکام کی جانب سے ایف آئی آر کی کاپی بھی فراہم نہیں کی جا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہFacebook/Matiullah Jan
اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے صحافی اور یوٹیوبر مطیع اللہ کو مبینہ طور پر ’سادہ کپڑوں میں ملبوس نامعلوم افراد کی جانب سے اغوا‘ کیے جانے کے خلاف اُن کے بیٹے نے تھانہ جی نائن میں درخواست دائر کر دی ہے۔
درخواست میں اُن کے بیٹے کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ اُن کے والد کے اغوا کا واقعہ گذشتہ رات گیارہ بجے کے لگ بھگ اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی پارکنگ میں پیش آیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ جس وقت مطیع اللہ جان کو ’اغوا‘ کیا گیا اس وقت ان کے ہمراہ نجی ٹی وی سے منسلک صحافی ثاقب بشیر بھی موجود تھے جنھیں بعدازاں اغواکاروں کی جانب سے چھوڑ دیا گیا۔ بیٹے نے بتایا کہ انھیں اپنے والد کے اغوا کی بابت صحافی ثاقب بشیر نے صبح چار بجے کے لگ بھگ بتایا۔
صحافی ثاقب بشیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ بدھ کی رات گیارہ بجے کے قریب پمز ہسپتال سے نکل کر پارکنگ میں کھڑی اپنی گاڑی کی طرف جا رہے تھے جب کچھ افراد وہاں پر آئے جنھوں نے ہم دونوں کے چہروں پر کپڑا ڈالا اور زبردستی گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔‘
ثاقب بشیر نے دعویٰ کیا کہ ’دس منٹ کی مسافت کے بعد ہم دونوں کو ایک کمرے میں بیٹھایا گیا، لیکن کپڑا منہ سے نہیں اتارا گیا۔ اِن افراد نے مجھے (ثاقب) مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے ساتھ کوئی معاملہ نہیں ہے، اس لیے ہم آپ کو کچھ نہیں کہتے۔‘
ثاقب بشیر نے مزید کہا کہ اغوا کرنے والے افراد نے انھیں تشدد کا نشانہ نہیں بنایا اور دو گھنٹے کے بعد آئی نائن کے قریب ایک ویران جگہ پر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
ثاقب کے مطابق وہ اور مطیع اللہ جان پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران مظاہرین کی مبینہ ہلاکتوں کی تصدیق کرنے کے لیے پمز گئے تھے۔ ثاقب بشیر کا کہنا تھا کہ ’جب ہم دونوں کو اغوا کرکے لے گئے، تو ہمیں ایک ہی کمرے میں بیٹھایا گیا اور ہم دونوں سے کوئی بھی سوال نہیں پوچھا گیا۔ اُن کے مطابق کمرے میں جو افراد موجود تھے وہ صرف ہم دونوں سے یہی پوچھتے رہے کہ چائے تو نہیں پینی؟ سردی تو نہیں لگ رہی؟ واش روم تو نہیں جانا؟‘
انھوں نے کہا کہ جب انھیں چھوڑنے کے لیے گاڑی کی طرف لے کر جا رہے تھے تو اس وقت کمرے میں موجود ایک شخص سے انھوں نے وقت پوچھا تو اس نے بتایا کہ اس وقت رات کے ڈھائی بج چکے ہیں۔ ثاقب بشیر کا کہنا تھا کہ وہ اس واقعہ کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کر رہے ہیں جبکہ مطیع اللہ جان کی فیملی بھی اسی عدالت سے رجوع کر رہی ہے۔
حکام کی جانب سے فی الحال اس واقعے پر کوئی ردعمل نہیں دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل مطیع اللہ جان کو جولائی 2020 میں بھی اغوا کیا گیا تھا تاہم انھیں 12 گھنٹوں کے بعد چھوڑ دیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے 24 نومبر کو کیے جانے والے احتجاج پر سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف تھانہ ترنول میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
مقدمے میں عمران خان اور بشری بی بی کے علاوہ پی ٹی آئی رہنما حکیم خان، سردار نعمان، رفیع آفریدی، عرفان کاکا، راجہ خالد، سعید خان، ریحان نثار اور ارسلان سمیت 300 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ 24 نومبر کو پی ٹی آئی رہنماؤں کی قیادت میں ڈنڈے، آہنی راڈ، پتھر اور غلیلوں سے لیس 300 کے قریب پی ٹی آئی کارکنان اسلام آباد میں چونگی نمبر 26 کے نزدیک پہنچے۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے کارکنان کو پیغام دیا کہ آج ڈی چوک پہنچنا ہے۔
ایف آئی آر میں کہا گیا پولیس نے وہاں موجود پارٹی کی قیادت کو آگاہ کیا کہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے اور انھیں منتشر ہونے کا کہا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے اس کے بعد پولیس پر حملہ کر دیا اور ان سے اینٹی رائٹ کٹس بھی چھین لیں تاہم اضافی پولیس نفری کے آنے پر ملزمان نعرے بازی کرتے ہوئے وہاں سے فرار ہوگئے۔
ملزمان کے خلاف درج مقدمے میں پیسفل اسمبلی اینڈ پبلک آرڈر 2024 کے سیکشن آٹھ سمیت 10 دفعات شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSocial Media
اسلام آباد میں احتجاج میں ہلاک ہونے والے تحریک انصاف کے کارکن احمد ولی کاکڑ کی لاش کی تدفین پشین میں کردی گئی۔ ان کی لاش اسلام آباد سے پشین پہنچائی گئی تھی۔
تحریک انصاف بلوچستان کے ترجمان آصف ترین نے بتایا کہ احتجاج میں مبینہ طور پر رینجرز اور پولیس کی فائرنگ سے پی ٹی آئی بلوچستان کے دو کارکنوں کی ہلاکت ہوئی، جن میں سے احمد ولی کا تعلق ضلع کوئٹہ سے متصل پشین سے تھا۔ انھوں نے کہا کہ احمد ولی کی لاش کو دوپہر کو پشین پہنچائی گئی جہاں ان کے آبائی قبرستان میں ان کی تدفین کی گئی۔
پشین پہنچنے سے پہلے تحریک انصاف کے کارکنوں اور علاقہ مکینوں نے اس ایمبولینس کا استقبال کیا جس میں احمدولی کاکڑ کی لاش پہنچائی گئی۔ استقبال کے لیے کھڑے کارکنوں نے ایمبولینس پر پھول کی پھتیاں نچھاور کیں۔ بعد میں ایمبولینس کو جلوس کی شکل میں احمد ولی کے گھر پہنچایا گیا۔ نمازجنازہ کی ادائیگی کے بعد ان کی تدفین کلی بسو پشین میں کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف پر پابندی لگانے کے لیے بلوچستان اسمبلی میں قرارداد جمع کرا دی گئی ہے۔ یہ قرارداد بلوچستان اسمبلی کے 28 نومبر کے ایجنڈے میں شامل ہے جو کہ نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کے آٹھ اراکین اسمبلی کی جانب سے لائی گئی ہے۔
قرارداد کے متن کے مطابق ’9 مئی کو ملک گیر فسادات کرنے والی جماعت پی ٹی آئی کی جانب سے ایک مرتبہ پھر پُرتشدد کارروائیاں کی جا رہی ہیں جو کہ ملک کی تاریخ میں ایک سیاسی انتشاری ٹولے کی شکل اختیار کی گئی ہے۔‘
قرار داد میں کہا گیا ہے کہ ’پی ٹی آئی کی اس قسم کی انتشاری ایجنڈے نے ملک کے ہر نظام اور مکتبہ فکر کے بشمول عدلیہ، میڈیا اور ملک کی اکانومی کو بری طرح متائثر کیا‘۔
قرارداد کے متن کے مطابق یہ ایوان سکیورٹی فورسز کو ٹارگٹ کرنے، میڈیا، وفاق پر حملہ آور ہونے اور مملکت پاکستان میں انتشار کے عمل کو فروغ دینے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور اپنی فورسز اور مسلح افواج ملک اور قوم کے لیے قربانیاں دینے پر خراج تحسین پیش کرتا ہے۔
قرار داد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’ایوان ملک میں انتشار پھیلانے، افواج پاکستان اور سکیورٹی فورسز کو عوام کے ساتھ براہ راست لڑانے کی کوشش کرنے پر وفاقی حکومت پی ٹی آئی پر فوری طور پابندی لگانے کو یقینی بنائے تا کہ پی ٹی آئی کی وجہ سے ملک بھر کے عوام میں پائی جانے والی بے چینی اور تکالیف کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکسان میں اپوزیشن جماعت کے کارکنان کے خلاف جان لیوا آپریشن فوری اور آزادانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔ ایمنسٹی کے مطابق ایک بار پھر پاکستان میں مظاہرین کو حکام کی طرف سے سفاکانہ، وحشیانہ اور ایک جان لیوا کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
تشدد میں اضافہ، موبائل انٹرنیٹ سروسز کی بندش، بڑے پیمانے پر نظربندیاں، اور حکام کی طرف سے پی ٹی آئی کے مظاہرین کے خلاف خطرناک بیان بازی پورے ملک بھر میں پرامن سیاسی جلوس کی آزادی کے حق کے لیے عدم برداشت کا پتا دیتی ہے۔ ایمنسٹی کے مطابق ’بلوچ اور پشتون مظاہرین کے خلاف اسی طرح کی پابندیاں اس سال کے شروع میں دیکھی گئی تھیں۔‘

،تصویر کا ذریعہ@amnestysasia

،تصویر کا ذریعہSalman Akram Raja
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجا نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں اپنے کارکنان سے کہا ہے کہ ’آپ سے آج بہت غمگین دل سے مخاطب ہوں، کل اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے سپورٹرز میں سے کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ہمارے پاس آٹھ کے کوائف مجود ہیں، دیگر کے کوائف آپ کو دے دیے جائیں گے۔
اس سے قبل پی ٹی آئی کے ہی ایک رہنما زلفی بخاری نے 40 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا جبکہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے مانسہرہ میں پی ٹی آئی کے کارکنان سے اپنے خطاب میں کہا کہ اس احتجاج میں سینکڑوں کارکنان ہلاک ہوئے ہیں۔
زلفی بخاری نے کہا ہے کہ سلمان اکرم راجا حقائق سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔ انھوں نے اسرار کیا کہ پی ٹی آئی کے ہلاک ہونے والے کارکنان کی تعداد 40 ہی بنتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہPTV
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سکیورٹی اداروں نے اسلام آباد میں فساد کا بہترین سٹریٹجی سے خاتمہ کیا ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے پی ٹی آئی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں احتجاج کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا رہا، اسلام آباد میں تحریک انتشار برپا کی گئی، ایک دن میں سٹاک مارکیٹ نے غوطہ کھایا۔
ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا رہا، اسلام آباد میں تحریک انتشار برپا کی گئی، صرف ایک دن میں فسادیوں کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ نے غوطہ کھایا۔ ان کے مطابق ’اسلام آباد میں کئی دن سے کاروبار نہ ہونے کے برابر تھا۔‘
وزیر اعظم نے کہا کہ سنہ 2014 سے قبل اسلام آباد پر چڑھائی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ان کے مطابق سنہ 2014 وہ بدقسمت سال تھا جب ایک خطرناک روش ڈالی گئی۔ ان کے مطابق 2014 میں ستمبر کے مہینے میں چین کے صدر شی جن پنگ تشریف لا رہے تھے مگر پھر طویل دھرنے کی وجہ سے وہ نہ آئے۔ شہباز شریف نے پی ٹی آئی کا نام لیے بغیر کہا کہ یہ لوگ پاکستان کی ترقی کے مستقل دشمن بن چکے ہیں ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس بار سرکشی اور اسلام آباد پر چڑھائی ہوئی تو سپہ سالار نے پورا تعاون کیا اور پوری مدد کی جس سے یہ کوشش دم توڑ گئی۔ شہباز شریف نے کہ ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ سپہ سالار اس طرح ہیں کہ یک جان اور دو قالب جڑے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’سخت فیصلوں کا وقت آ گیا ہے، ہم مل کر پاکستان کو آگے لے جائیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہر روز ایسا نہیں ہوگا، نہ ہم اس کے متحمل ہو سکتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ یہ دھاندلی کا بہانہ بنانے ہیں ہم کہتے ہیں کہ پہلے 2018 میں ہونے والی دھاندلی کا حساب دیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ’آج کے بعد فسادیوں کو مزید موقع نہیں دینا چاہیے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’یہ تحریک نہیں تخریب ہے۔

،تصویر کا ذریعہICT
اسلام آباد پولیس نے دارالحکومت میں فلیگ مارچ کیا ہے۔ فلیگ مارچ میں سینیئر افسران سمیت، ٹریفک پولیس، ڈولفن سکواڈ اور لیڈی پولیس نے شرکت کی۔ فلیگ مارچ کا مقصد امن و امان کے قیام اور اتحاد و یگانگت کے فروغ کے لیے اسلام آباد پولیس کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
فلیگ مارچ ایکسپریس چوک سے شروع ہو کر شہر کے مختلف راستوں سے ہوتا ہو زیرو پوائنٹ میں اختتام پذیر ہوا۔ فلیگ مارچ میں شریک ڈی آئی جی سید علی رضا نے کہا کہ ’کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی پر قانون حرکت میں آئے گا۔ ڈی آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ ’اسلام آباد کے امن پسند شہریوں سے امید کرتے ہیں کہ امن و امان کو یقینی بنانے میں پولیس سے مکمل تعاون کریں گے۔‘
سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران منگل کی شام کنٹینر پر روشنی اور آواز کے چلانے کی درخواست کی، لیکن ہدایت دینے والے لوگوں کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔
انھوں نے سوال اٹھایا کہ شام ہوتے ہی مین کنٹینر کا ساؤنڈ سسٹم اور لائٹس کیوں بند کردی گئیں؟
`ساؤنڈ سسٹم اور روشنی نہ ہونے کے باعث مکمل اندھیرے میں عوام کو ہدایات جاری ہوئیں نہ کوئی رہنمائی فراہم کی گئی۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ اس کے کارکنان کو فائرنگ کر کے زخمی اور ہلاک کیا گیا تاہم حکومت اور پولیس کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی گئی ہے۔
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ آنسو گیس اور شیلنگ اور پتھراؤ سے لوگ زخمی ہو سکتے ہیں تاہم پولیس اہلکاروں نے ہتھیاروں کا استعمال نہیں کیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق پی ٹی آئی کے کارکنان کے احتجاج کے دوران پولیس پر ہونے والے حملوں میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور 170 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
پنجاب پولیس کی جانب سے جاری کردہ تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’وفاقی دارالحکومت، راولپنڈی، اٹک سمیت مختلف اضلاع میں شرپسندوں کے پرتشدد حملوں میں پنجاب پولیس کا 01 اہلکار شہید، 170 سے زائد زخمی ہوئے۔‘
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق شرپسند عناصر نے پنجاب پولیس کی 22 گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور ایک پولیس وین جلائی گئیں۔‘
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا ہے کہ شرپسند جتھے آتشی اسلحے، سنائپر رائفلز، پٹرول بموں، خطرناک اسلحہ سے لیس تھے آئی ۔
حکام کا کہنا ہے کہ شرپسند عناصر کی شناخت کی جائے گی۔
’آئی جی پنجاب شرپسندوں کی شناخت و گرفتاری یقینی بنانے کے لیے جیو فینسنگ، سی سی ٹی وی فوٹیجز، فیشئیل ریگننیشن، جدید ٹیکنالوجی سمیت تمام وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ کوئی افغان شہری 31 دسمبر کے بعد اسلام آباد میں نہیں رہ سکے گا۔
اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں وزیر داخلہ نے دارالحکومت میں پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج میں
افغان شہریوں کی گرفتاریوں کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر کہا کہ 31 دسمبر کے بعد کوئی افغان شہری اسلام آباد میں نہیں رہ سکے گا۔
خیال رہے کہ پولیس حکام کے مطابق احتجاج کے دوران گرفتار کیے جانے والے پی ٹی آئی مظاہرین میں 56 افغان شہری بھی شامل تھے۔
وزیر داخلہ نے پی ٹی آئی کے اس دعوے کی تردید کی کہ مظاہرین پر پولیس نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
’جب سے وہ بھاگے ہیں اس وقت سے یہ پروپیگنڈا شروع ہو گیا کہ اتنی ہلاکتیں ہو گئیں، 33 لاشیں ایک ہسپتال میں ہیں اور کچھ دوسرے ہسپتال میں ہیں۔ میں نے ان سے کہا ہے کہ کوئی ایک لاش کا نام بتا دیں۔‘
وزیر داخلہ نے کہا کہ ’ابھی تک کسی مرنے والے کا نام نہیں بتا سکے۔ مجھے بتائیں کسی ایک پولیس والے کے پاس بھی گن تھی۔ ہر بندے کے پاس کیمرہ تھا اگر ایسا ہوتا تو فوٹیج بنتی۔ ‘
تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ آنسو گیس کی شیلنگ سے لوگ زخمی ہوئے ہوں گے۔
’میں نہیں کہوں گا کہ کوئی زحمی نہیں ہوا ہو گا۔ لیکن مجھے بتائیں کون سس بندہ مرا ہے کوئی فوٹیج نہیں دی گئی۔‘
اس سے قبل وفاقی چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا نے کہا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی کو اسلام آباد کا امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، پکڑے گئے مظاہرین میں افغان شہری بھی شامل تھے۔
بدھ کو آئی جی اسلام آباد کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ریاست کی عملداری بحال کرنے کے لیے کردار ادا کیا، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیں گے۔
چیف کمشنر نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں تمام سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں، اسلام آباد کے تمام روٹس کلیئر ہیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ریاست کی عملداری بحال کرنے کے لیے کردار ادا کیا۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے ریاست کی رٹ قائم کی ہے۔ ان مظاہرین میں غیر ملکی بھی شامل تھے۔ ہم نے ریاست کی رٹ قائم کی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد میں کسی جلسے کی اجازت نہیں دی جا سکتی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کے حکم پر سنگجانی میں دھرنے کی اجازت دی گئی تھی مگر مظاہرین بلیو ایریا اور ریڈ زون میں آنے کے لیے بضد تھے، اسلام آباد کی خوبصورتی اور گرین بیلٹس کو تباہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’آخر کار ریاست کی رٹ ضرور قائم ہوتی ہے اور ہم نے قائم کی ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ اسلام آباد سیف سٹی کے بہت سے کیمرے توڑے گئے ہیں۔ ان میں بہت سے غیر ملکی لوگوں اور اسلحے کی ویڈیوز ہمارے پاس موجود ہیں۔ شہر سے تمام افغان شہری کو نکال دیا جائے گا جب تک کہ ان کی سکیورٹی کلیرئنس نہیں ہوتی۔
اس موقع پر آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے کہا کہ سب کو احتجاج کرنے کا حق ہے مگر احتجاج اور دہشت گردی میں فرق ہے، احتجاج کی آڑ میں دہشت گرد کارروائی برداشت نہیں کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ احتجاج میں قانون نافذ کرنےوالے اداروں پربراہ راست فائرنگ کی گئی، دہشت گردی اور املاک کونقصان پہنچانا احتجاج نہیں ہے، جس طرح لوگ آئے انھیں مظاہرین نہیں دہشت گرد کہا جائے گا۔
آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ دہشت گرد احتجاج میں آتشیں اسلحہ استعمال کررہے تھے، پولیس اور رینجرز پر حملے کیے گئے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک منظم دہشتگردانہ کارروائی تھی۔

،تصویر کا ذریعہ@PTI
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کا دھرنا سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی کال تک جاری رہے گا۔
بدھ کو مانسہرہ میں کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ ’یہ دھرنا ایک تحریک ہے جو یہ جاری رہے گا۔ آپ اگر لوگوں کو گولیاں مار کر، گرفتار کر کے نہیں چھوڑو گے تو لوگ ایک اور طریقے سے آئیں گے۔‘
تاہم علی امین نے اپنے خطاب میں یہ وضاحت نہیں کہ فی الحال یہ دھرنا کہاں جاری ہے اور مستقبل میں اس کے جاری رہنے سے اُن کی کیا مراد ہے۔
خیال رہے گذشتہ رات پولیس اور رینجرز بے پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہرین کے خلاف ایک آپریشن کیا تھا جس میں تحریک انصاف کے درجنوں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم علی امین گنڈاپور اور عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اس آپریشن کے دوران وہاں سے نکلنے میں کامیاب رہے تھے۔
علی امین گنڈاپور نے اپنے خطاب میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسلام آباد میں آپریشن کے دوران اُن کی جماعت کے سینکڑوں کارکنان ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم بی بی سی اُن کے اس دعوے کی آزادنہ تصدیق نہیں کر سکا جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے منگل کی شب دعویٰ کیا تھا کہ اس آپریشن میں ’لاش نہیں گریں۔‘
حکومتی حکام اور وزرا کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے مظاہرین نے اسلام آباد میں سرکاری اور عوامی املاک کو نقصان پہنچایا۔
علی امین گنڈاپور نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ’اگر ہمارے لوگوں پر تشدد نہیں ہوتا تو ہمارے لوگ بھی آگے سے جواب نہیں دیتے۔‘
خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ کے مطابق ان کی جماعت کو جلسوں اور احتجاج کی اجازت نہیں دی جاتی۔
’جب ہم عدالتوں میں انصاف کے لیے جاتے ہیں تو نہ ہمیں عدالتوں سے انصاف مل رہا ہے اور نہ ہی اسمبلی کا وہ فلور جو پارلیمان کا تقدس ہے۔ ہمارے پاس پھر ایک ہی راستہ ہے کہ جلسے کی اجازت نہ دی جائے تو ہم وہاں جاکر احتجاج کرکے اپنا بیانیہ دیں۔‘
انھوں نے اسلام آباد میں اپنے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر ہم پُرامن مارچ کر رہے تھے تو ہمارے راستے میں یہ رُکاوٹیں ڈال کر ہم پر طرح کا تشدد اور گولیاں کیوں برسائی گئیں؟‘
علی امین گنڈاپور نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد میں ان کے اوپر اور عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر براہِ راست حملہ ہوا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’براہِ راست حملہ ہوا ہے اور اغوا کی کوشش ہوئی ہے اس کا سب کو جواب دینا پڑے گا۔‘
انھوں نے وفاقی حکومت کو مخاطب کرے ہوئے کہا کہ ’ایک بار پہلے بھی تمہاری غلطیوں سے پاکستان ٹوٹ گیا، آج پھر تم یہ کر رہے ہو۔ یہ صوبہ اپنا مینڈیٹ لینا بھی جانتا ہے، یہ صوبہ اپنا حق بھی لینا جانتا ہے، یہ صوبہ اپنے لوگوں کا تحفظ بھی جانتا ہے۔‘
’اگر ہم نے آپ کا والا وطیرہ اختیار کر لیا تو آپ بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے، بھاگنے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔‘
آئینی بینچ نے پی ٹی آئی احتجاج کے دوران ہونے والی ہلاکتوں پر ازخود نوٹس لینے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی سے متعلق کیس میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختوا ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے۔
انھوں نے موقف اختیار کیا کہ ’گزشتہ روز دونوں اطراف سے ہلاکتیں ہوئیں، آئینی بینچ ان واقعات پر ازخود نوٹس لے۔‘
جس پر آئینی بینچ میں شامل جسٹس مسرت ہلالی نے انھیں کہا کہ ’سپریم کورٹ میں پیش ہو کر سیاسی باتیں نہ کریں‘ جبکہ آئینی بینج کے سربراہ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ’جو معاملہ ہمارے سامنے سرے سے ہی نہیں، اسے نہیں دیکھ سکتے۔‘
آئینی بینچ میں شامل جسٹس جمال خان مندوخیل نے بھی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ معاملہ ہمارے سامنے نہیں، اس پر بات نہیں کرنا چاہتے۔‘
اسلام آباد میں تحریک انصاف کے احتجاج میں جو لوگ زخمی ہوئے ان میں بلوچستان کے کارکن بھی شامل ہیں۔ ان زخمیوں میں نصیب اللہ کلیوال بھی شامل ہیں جن کو ٹانگوں میں دو گولیاں لگی ہیں۔
فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ ڈی چوک پر کریک ڈاؤن کے آغاز سے پہلے زخمی ہوئے جس کے بعد ان کے ساتھیوں نے انھیں علاج کے لیے منتقل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے زخمی ساتھیوں کو ہسپتالوں سے بھی گرفتار کیا گیا۔
نصیب اللہ کلیوال نے کہا کہ ہمارے عزائم میں کوئی کمی نہیں آئی اور صحتیاب ہونے کے بعد وہ دوبارہ احتجاج کے لیے جائیں گے۔
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے رہنما عالم خان کاکڑ بھی اس احتجاج میں شرکت کے لیے اسلام آباد میں تھے۔ انھوں نے بتایا کہ رات کو رینجرز اور پولیس نے تحریک انصاف کے کارکنوں پر بڑے پیمانے پر اس وقت کریک ڈائون کیا جب وہ آرام کی تیاری کر رہے تھے۔
’دن بھر احتجاج کے باعث کارکن تھک چکے تھے اس لیے قیادت کی جانب سے ان کو بتایا گیا تھا کہ وہ کل کی تیاری کے لیے آرام کر لیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ اس اعلان کے بعد لوگ کھانا کھانے اور آرام کی تیاری کر رہے تھے کہ وہاں نہ صرف بڑے پیمانے پر فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی بلکہ گرفتاریوں کا آغاز بھی کر دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگ رہا تھا کہ دھرنے کے قریب عمارتوں میں پہلے سے فورسز کے اہلکاروں کو جمع کیا گیا تھا کیونکہ ان عمارتوں سے فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کا کا سلسلہ شروع ہوا۔
اسلام آباد میں پی ٹی آئی احتجاج کی وجہ سے بند کیے گئے راستے کھنا شروع ہو گئے ہیں۔
26 نمبر چونگی سے دونوں اطراف کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا جبکہ روات ٹی کراس سے بھی دونوں اطراف ٹریفک کے لیے کھول دی گئیں۔
اسلام آباد ٹریفک پولیس کے مطابق سری نگر ہائی وے اور ایکسپریس ہائی وے بھی دونوں اطراف کی ٹریفک کے لیے کھلی ہیں۔
ایران ایونیو کو بھی دونوں اطراف سے ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا تاہم ای الیون فلائی اوور کے اوپر رکاوٹیں ہٹانے کا کام جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد کے ڈی چوک میں حکومت کی جانب سے کیے گئے آپریشن میں ’بے دریغ فائرنگ کے نتیجے میں متعدد مظاہرین کی ہلاکت‘ اور زخمی ہونے سے متعلق دعوے کیے جا رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایسی فہرستیں جاری کی جا رہی ہیں جن میں زخمیوں اور مبینہ طور پر ہلاک ہونے والوں کی تفصیلات ظاہر کی گئی ہیں۔ بی بی سی فی الحال ان فہرستوں میں موجود تفصیلات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے تاہم وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے گذشتہ رات سکیورٹی فورسز کے ڈی چوک پر آپریشن کے بعد کہا تھا کہ اس معاملے میں ’نہ تو لاشیں گریں اور نہ ہی کوئی مذاکرات ہوئے۔‘
بی بی سی نے گذشتہ رات ڈی چوک پر موجود ایک ایسے عینی شاہد سے بات کی ہے، جو اتوار کے روز پشاور سے روانہ ہونے والے تحریک انصاف کے احتجاجی قافلے کا حصہ تھے اور منگل کی دوپہر ڈی چوک پہنچے تھے۔
33 سالہ وسیم اللہ فضل نے ہمیں بتایا کہ اُن کا تعلق چارسدہ سے ہے۔ اُن کے مطابق جب وہ منگل کی دوپہر ڈی چوک پہنچے تو سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں نے انھیں وہاں موجود کنٹینرز کے پاس بیٹھنے سے نہیں روکا مگر بعد میں شیلنگ شروع کر دی۔
انھوں نے بتایا کہ پولیس مظاہرین پر شیلنگ کرتی تو ’ہم وہ شیل اٹھا کر واپس پولیس کی طرف پھینک دیتے۔‘ ان کے مطابق یہ سلسلہ کافی دیر جاری رہا۔
رات کو ہونے والے آپریشن کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ ’پہلے اس علاقے میں بجلی گئی مگر تھوڑی دیر بعد واپس آ گئی۔ مگر کچھ دیر بعد پھر چلی گئی۔‘
وسیم اللہ نے الزام عائد کیا کہ انھوں نے ایک موقع پر دیکھا کہ عمران خان کی تصویر والا پوسٹر اٹھائے ایک شخص پر پولیس نے براہ راست فائرنگ کی۔
’گولی اس کے سینے میں لگی، اس کا خون ہمارے سامنے پڑا تھا اور پوسٹر میں بھی سوراخ ہو گیا تھا۔‘ انھوں نے الزام عائد کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ابتدا میں انھیں اس شخص کی لاش بھی اٹھانے نہیں دی۔
وسیم اللہ کے مطابق اس کے بعد وہ اور اُن کے کچھ ساتھی قریب واقع گرین بیلٹ کی طرف بھاگے اور رات وہیں گزاری۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز کے پہلے پندرہ منٹ میں انڈیکس میں 3500 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد انڈیکس 98315 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج کے انڈیکس میں گزشتہ روز 3500 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی جس کی وجہ ملکی سیاسی صورتحال اور اسلامک بینکوں پر مرکزی بینک کی نئی ریگولیشنز کا اطلاق تھا۔
پی ٹی آئی کے احتجاج اور مظاہرین کے ڈی چوک تک پہنچنے کے بعد جب مارکیٹ میں کاروبار کا اختتام ہوا تو انڈیکس کسی ایک دن میں 3500 پوائنٹس سے زائد کی سب سے بڑی کمی کے بعد بند ہوا تھا۔
سٹاک ایکسچینج تجزیہ کار بدھ کے روز انڈیکس میں ہونے والے اضافے کی وجہ حکومت کی جانب سے ڈی چوک کو مظاہرین سے خالی کرانے کے آپریشن اور پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج ختم کرنے کے اعلان کو قرار دیتے ہیں۔
تجزیہ کار محمد سہیل کے بعد مارکیٹ میں ریکوری کی وجہ گزشتہ رات احتجاج کے خاتمے کی وجہ ہے جس کا کل بہت زیادہ منفی اثر ہوا تھا۔
پی ٹی آئی پشاور ریجن کے صدر ارباب نسیم کے مطابق بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور اس وقت خیبرپختونخوا میں ہیں۔
بی بی سی کی ثنا آصف ڈار سے گفتگو میں ارباب نسیم نے بتایا کہ رات کو دس ساڑھے دس بجے کے درمیان جب حکومت کی جانب سے آپریشن کا آغاز کیا گیا تو بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور ’وہاں سے نکل گئے۔‘
ارباب نسیم کے مطابق بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور آج دن گیارہ بجے پریس کانفرنس بھی کریں گے۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ بشریٰ بی بی کے اہلخانہ کی جانب سے الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ انھیں اغوا کیا گیا ہے تو اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’رات سے فون کے سگنل نہیں تھے، اس لیے رابطے نہیں ہو سکے لیکن بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور خیبرپختونخوا میں ہیں۔‘
واضح رہے کہ منگل کی رات پی ٹی آئی مظاہرین کے خلاف آپریشن کے بعد حکومتی وزرا کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی دھرنے کے مقام یعنی ڈی چوک سے فرار ہو گئی ہیں تاہم بُشریٰ بی بی کی بہن مریم ریاض وٹو نے دعویٰ کیا تھا کہ ’انھیں ڈی چوک سے اغوا کیا گیا۔‘
رات کو ہونے والے آپریشن کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے ارباب نسیم نے دعویٰ کیا کہ ان کے کئی کارکنان ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ متعدد کو گرفتار بھی کیا گیا۔