آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

تیراہ سے نقل مکانی کا معاملہ: سہیل آفریدی کا گرینڈ جرگہ بلانے کا اعلان ’بند کمروں میں کیے فیصلوں کے نتائج عوام کو بھگتنا پڑ رہے ہیں‘

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وادی تیراہ سے نقل مکانی کے معاملے پر اتوار کے روز جمرود فٹبال سٹیڈیم میں پورے خیبر میں بسنے والی اقوام کا گرینڈ جرگہ بلانے کا اعلان کیا ہے۔

خلاصہ

  • انڈیا کے 77ویں یوم جہموریت کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ چین اور انڈیا ’اچھے پڑوسی، دوست اور شراکت دار ہیں‘
  • ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے خطے میں امریکہ کی بڑھتی فوجی موجودگی کے ردِعمل میں کہا کہ ’ایران کو اپنی صلاحیتوں پر اعتماد ہے۔ ایران کسی بھی جارحیت کا پہلے سے زیادہ طاقتور جواب دے گا‘
  • پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے شاپنگ سینٹر گُل پلازہ میں آتشزدگی کے تقریباً نو روز بعد ریسکیو کا عمل بند کر دیا گیا ہے
  • پاکستان کے صوبہ پنجاب کے حکام کے مطابق 27 جنوری تک مری، گلیات اور گرد و نواح میں شدید بارش اور برفباری کی پیشگوئی کی گئی ہے

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    نئے لائیو پیج کے لیے یہاں کلک کریں

  2. منیپولس میں صورتحال ’انتہائی افسوسناک‘ ہے: صدر ٹرمپ

    وائٹ ہاؤس سے نکلتے ہوئے اور آئیووا میں تقریر کے لیے روانگی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے منیپولس میں حالیہ واقعات کو ’انتہائی افسوسناک صورتحال‘ قرار دیا۔

    الیکس پریٹی کے بارڈر پٹرول ایجنٹ کے ہاتھوں قتل کے بارے میں پوچھے جانے پر ان کا کہنا تھا کہ اس پر تحقیقات جاری ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ ’ایماندارانہ‘ تحقیقات ہوں۔

    ٹرمپ نے کہا کہ انھیں کرسٹی نوم پر اعتماد ہے، جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ انھوں نے بطور سیکریٹری ہوم لینڈ سکیورٹی ’بہت اچھا کام‘ کیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ "بارڈر زار" ٹام ہومن اس وقت منیپولس میں موجود ہیں اور ان کی منیسوٹا کے گورنر ٹِم والز اور منیپولس کے میئر جیکب فری کے ساتھ بات چیت "خوشگوار انداز میں جاری ہے"۔

  3. تیراہ سے نقل مکانی کا معاملہ: وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کا اتوار کو گرینڈ جرگہ بلانے کا اعلان

    وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وادی تیراہ سے نقل مکانی کے معاملے پر اتوار کے روز جمرود فٹبال سٹیڈیم میں پورے خیبر میں بسنے والی اقوام کا گرینڈ جرگہ بلانے کا اعلان کیا ہے۔

    منگل کے روز وزیرِ اعلیٰ کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں جاری آپریشن اور نقل مکانی کی صورتحال پر تفصیلی ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں کے سنگین نتائج عوام کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے جرگے میں متفقہ طور پر کہا گیا تھا کہ فوجی آپریشن مسئلے کا حل نہیں بلکہ دہشت گردی کا خاتمہ بات چیت، مشاورت اور جرگہ سسٹم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ کور کمانڈر پشاور اور آئی جی ایف سی کی سربراہی میں 24 رکنی مقامی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ان جرگوں میں کہا گیا کہ مقامی لوگوں کو تیراہ سے نکالنا ہو گا کیونکہ جب تک لوگ وہاں موجود ہیں آپریشن ممکن نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ قوم نے اس فیصلے کو قبول نہیں کیا مگر ’شدید دباؤ اور برفباری کے موسم میں لوگوں کو زبردستی نقل مکانی پر مجبور کیا گیا۔‘

    سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ بوڑھے، بچے اور خواتین شدید برفباری میں نقل مکانی پر مجبور ہیں جبکہ برفباری کے باعث آپریشن بھی نہیں ہو پا رہا۔

    وزیرِ اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ 24 رکنی کمیٹی کے اراکین نے آئی جی ایف سی اور کور کمانڈر کے کہنے پر اپنی قوم سے یہ وعدہ کیا تھا کہ دو مہینوں کے اندر بے دخل ہونے والوں کو واپس لے جایا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے باڑہ کے دورے کے دوران اپنی قوم سے صاف الفاظ میں کہا تھا کہ مجھے ان کے دو مہینوں کے وعدے پر کوئی بھروسہ نہیں، کیونکہ مجھے نظر نہیں آتا کہ شدید برف باری اور خراب موسم کے باوجود وہ دو مہینوں میں آپ کو واپس لے جا سکیں گے۔‘

    انھوں نے اعلان کیا کہ اتوار کے روز جمرود فٹبال سٹیڈیم میں پورے خیبر میں بسنے والی اقوام کا گرینڈ جرگہ منعقد کیا جائے گا، جہاں عوام سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ اپنی مرضی سے نقل مکانی کر رہے ہیں یا انھیں زبردستی بے دخل کیا گیا۔

    وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ صوبائی حکومت نے متاثرین کی دیکھ بھال کے لیے چار ارب روپے جاری کیے ہیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’وفاق سے یہ ہضم نہیں ہو رہے۔‘

    سہیل آفریدی نے سوال کیا کہ ’جب 22 بڑے اور 14 ہزار سے زائد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز (آئی بی اوز) سے بدامنی ختم نہیں ہو سکی تو مزید آپریشن سے کون سے فائدہ مند نتائج حاصل ہوں گے؟‘

    اس سے قبل اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایک بار پھر وفاقی حکومت کا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ فوج خیبر پختونخوا کے علاقے وادی تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں کر رہی اور صوبائی حکومت اپنی ناکامی کا سارا ملبہ فوج یا ایسے آپریشن پر ڈالنے چاہتی ہے جس کا وجود ہی نہیں ہے۔

    وزیرِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ برس 11 دسمبر کو ایک جرگہ علاقے میں موجود تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے پاس گیا جس نے علاقے سے لوگوں کی نقل مکانی کے حوالے سے ان سے بات کی۔ ان کا کہنا ہے کہ بعد ازاں یہ جرگہ حکومت سے بھی ملا۔

    وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ اس کے بعد 24 اور پھر 31 دسمبر کو بھی یہ جرگہ حکومت سے ملا۔

    انھوں نے کہا کہ شاید خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ کو اس متعلق معلومات نہ ہوں لیکن جرگہ ٹی ٹی پی اور حکومت دونوں سے ملا۔

  4. انڈیا میں مہلک نپاہ وائرس کے کیسز، ایشیا کے کئی ہوا اڈوں پر مسافروں کی سکریننگ شروع

    انڈیا کی ریاست مغربی بنگال میں مہلک نپاہ وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد ایشیا کے کچھ ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور کئی ہوائی اڈوں پر سکریننگ سخت کر دی گئی ہے۔

    تھائی لینڈ نے تین ہوائی اڈوں پر مغربی بنگال سے آنے والی پروازیں کے مسافروں کی سکریننگ شروع کر دی ہے جبکہ نیپال نے کھٹمنڈو ہوائی اڈے کے علاوہ انڈیا کے ساتھ مختلف زمینی سرحدی گزرگاہوں پر بھی آنے والوں کی سکریننگ کا آغاز کر دیا ہے۔

    رواں ماہ مغربی بنگال میں پانچ ہیلتھ ورکرز نپاہ وائرس سے متاثر ہوئے تھے، جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔ ان افراد کے ساتھ رابطے میں آنے والے تقریباً 110 افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ نپاہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔ اس وائرس کی کوئی ویکسین نہیں ہے جس کی وجہ اس سے متاثر ہونے والے افراد میں موت کی شرح 40 سے 75 فیصد تک ہے۔

    نپاہ وائرس کیا ہے اور اس کی علامات کیا ہوتی ہیں؟

    نپاہ وائرس پھل کھانے والی چمگادڑوں اور خنزیر جیسے جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ آلودہ کھانے کے ذریعے ایک متاثرہ شخص سے دوسرے شخص کو بھی لگ سکتا ہے۔

    نپاہ وائرس بہت جلد وبا کی صورت اختیار کر سکتی ہے جس کی وجہ سے عالمی ادارہ صحت نے اسے کووڈ-19 اور زیکا جیسے وائرس کے ساتھ اپنی ترجیحی فہرست میں شامل کیا ہوا ہے۔

    اس وائرس کی علامات چار سے 14 دن کے درمیان ظاہر ہوتی ہیں۔

    ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، پٹھوں میں درد، الٹی اور گلے کی سوزش شامل ہو سکتی ہے۔ کچھ لوگوں میں اس کے بعد غنودگی اور نمونیا جیسی علامات بھی ظاہر ہوتی ہیں۔

    شدید انفیکشن کی صورت میں یہ انسیفلائٹس یعنی دماغ کی سوزش کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے متاثر ہونے والے کئی افراد میں اس کی علامات بالکل بھی ظاہر نہیں ہوتیں۔

    آج تک نپاہ وائرس کے علاج کے لیے کوئی ویکسین منظور نہیں ہوئی ہے۔

  5. انسٹاگرام پوسٹ پر تنازع: ایبٹ آباد میں طالب علم کی ساتھی کو ڈرانے کے لیے سکول میں فائرنگ, محمد زبیر خان، صحافی

    ایبٹ آباد میں ایک نجی سکول میں نویں جماعت کے ایک طالب علم نے فائرنگ کر دی جس سے سکول میں بھگڈر مچ گئی۔ ایبٹ آباد پولیس نے موقع پر پہنچ کر فائرنگ کرنے والے طالب علم کو حراست میں لے کر مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    ایبٹ آباد تھانہ سکندر آباد کے ایس ایچ او محمد دلاور نے بتایا کہ یہ واقعہ صبح تقریبا ساڑھے دس، پونے گیارہ بجے پیش آیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ اطلاع ملنے پر پولیس موقعہ پر پہنچی تو معلوم ہوا کہ یہ دو طالب علموں کے درمیان تنازعہ تھا۔

    ایس ایچ او محمد دلاور کے مطابق، پولیس نے فوری طور پر فائرنگ کرنے والے طالب علم کو حراست میں لے کر اس سے رائفل بر آمد کر لی۔

    محمد دلاور کا کہنا ہے کہ مذکورہ طالب علم اپنے ماموں کی لائنس یافتہ کلاشنکوف رائفل اپنے سکول بیگ میں چھپا کر لایا تھا جس سے اس نے دو فائر کیے۔ انھوں نے بتایا کہ دونوں فائر زمین پر لگے اور فائرنگ کا مقصد ایک ساتھی طالب علم کو ڈرانا تھا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ رائفل کا لائنس منسوخ کردیا گیا ہے جبکہ سکول انتظامیہ نے پولیس کو بتایا ہے کہ سکول کے گارڈز کی عفلت کے باعث طالب علم رائفل بیگ میں چھپا کر لانے میں کامیاب ہوا۔

    ایس ایچ او محمد دلاور کا کہنا ہے کہ اعلیٰ انتظامیہ کو تمام واقعے سے آگاہ کردیا گیا ہے اور وہ اس وقت سکول انتظامیہ سے سکیورٹی کے حوالے سے بات کر رہی ہے۔

    بی بی سی کی جانب سے سکول انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا لیکن انھوں نے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی۔

    ڈی ایس پی کینٹ طاہر سلیم کا کہنا ہے کہ پولیس اس بارے میں تفتیش کرے گی کہ اسلحہ سکول کے اندر کیسے پہنچا۔

    پولیس کے مطابق تنازعے کی وجہ سوشل میڈیا پر کی جانے والی ایک پوسٹ تھی۔

    جس طالب علم کو ڈرانے کے لیے فائرنگ کی گئی تھی اس کی درخواست پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    مدعی طالب علم کا کہنا ہے کہ سکول میں ونٹر کیمپ چل رہا ہے۔ مدعی نے بتایا کہ گیارہ بجے کے قریب جب وہ واپس جا رہا تھا تو ملزم کلاس فیلو ہاتھ میں کلاشنکوف لے کر آیا او ڈرانے دھمکانے کے لیے سیڑھیوں پر دو فائر کیے۔

    ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ طالب علم کا کہنا ہے کہ فائرنگ کی آواز سن کر ان کا ایک اور کلاس فیلو بھی وہاں پر آگیا جس نے ملزم سے کلاشنکوف لے لی۔

    مقدمہ میں تنازع کی وجہ انسٹاگرام پر پوسٹ کی جانے والی ایک سٹوری بتائی گئی ہے۔

    متاثرہ طاب علم کا کہنا ہے کہ انھوں نے ملزم کے ساتھ انسٹاگرام پر ایک سٹوری شیئر کی تھی جس کا ملزم کو رنج تھااور اس نے کلاشنکوف لا کر فائرنگ کی۔

    واضح رہے کہ ایبٹ آباد میں سردی کی شدت کی وجہ سے ڈپٹی کمشنر ایبٹ کی جانب ونٹر کیمپس پر بھی پابندی عائد ہے۔ ڈی ایس پی طاہر سلیم کا کہنا ہے کہ اس بارے میں بھی تحقیقات کی جائیں گی۔

  6. تیراہ سے نقل مکانی کا معاملہ: کے پی حکومت اپنی ناکامی کا ملبہ ایسے آپریشن پر ڈالنے چاہتی ہے جس کا وجود ہی نہیں، خواجہ آصف

    پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایک بار پھر وفاقی حکومت کا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ فوج خیبر پختونخوا کے علاقے وادی تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں کر رہی اور صوبائی حکومت اپنی ناکامی کا سارا ملبہ فوج یا ایسے آپریشن پر ڈالنے چاہتی ہے جس کا وجود ہی نہیں۔

    وہ منگل کے روز اسلام آباد میں وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیرِ اعظم کے کورآرڈینیٹر برائے خیبر پختونخوا اختیار ولی کے ہمراہ پریس کانفرنس کر رہے تھے۔

    پریس کانفرنس کے دوران خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ افغان سرحد کے ساتھ موجود متعدد علاقے بشمول وادی تیراہ اور میرانشاہ سے سردیوں میں نقل مکانی ہوتی ہے۔ ’یہ آج کی نہیں، یہ برٹش راج کے زمانے سے چلتی آ رہی ہے۔‘

    وزیرِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ برس 11 دسمبر کو ایک جرگہ علاقے میں موجود تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے پاس گیا جس نے علاقے سے لوگوں کی نقل مکانی کے حوالے سے ان سے بات کی۔ ان کا کہنا ہے کہ بعد ازاں یہ جرگہ حکومت سے بھی ملا۔

    وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ اس کے بعد 24، اور پھر 31 دسمبر کو بھی یہ جرگہ حکومت سے ملا۔

    انھوں نے کہا کہ شاید خیبر پختونخوا کے وزیارِ اعلیٰ کو اس متعلق معلومات نہ ہوں لیکن جرگہ ٹی ٹی پی اور حکومت دونوں سے ملا۔

    خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ تیراہ میں 400 سے 500 ٹی ٹی پی والے اپنے بال بچوں کے ساتھ مقیم ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ صوبائی حکومت اور جرگے کے درمیان مذاکرات کامیاب رہے جس کے بعد کے پی حکومت نے چار ارب روپے اور نقل مکانی کے پیکج کا اعلان کیا اور اس متعلق ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا۔

    وفاقی وزیر نے ایک بار پھر زور دیا کہ اس کا سارے معاملے کا وہاں تعیانت فوج سے کوئی تعلق نہیں۔ ’یہ ارینجمنٹ صوبائی حکومت اور جرگے کے درمیان طے پائی ہے، جس کے نتیجے میں نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔‘

    خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ تیراہ میں آپریشن کئی برس پہلے ہوئے، جس کے بعد سٹریٹیجک بنیادوں پر فیصلہ ہوا کہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیے جانے والے آپریشنز (آئی بی اوز) زیادہ موثر ہیں کیونکہ ان میں شہری آبادی کا نقصان نہیں ہوتا۔

    ’فوج نے آئی بی اوز کے حق میں آپریشن ترک کر دیا ہے، وہاں آپریشن کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔‘

    ’فوج کی موجودگی یا آپریشن کے متعلق ساری باتیں مفروضے ہیں۔ وہاں کئی سالوں سے آپریشن نہیں ہوا، آئی بی اوز ہوتے رہتے ہیں۔‘

    خواجہ آصف نے علاقے میں صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہاں نہ ہسپتال ہے، نہ سکول، نہ تھانہ ہے۔۔۔۔۔ وہاں سویلین قانون نافذ کرنے والے اداروں کا وجود ہی نہیں ہے۔‘

    وفاقی وزیر نے مزید دعویٰ کیا کہ تیراہ میں 12 ہزار ایکڑ پر بھنگ کی کاشت ہوتی ہے جس کا منافعہ 30 سے 35 لاکھ پر ایکڑ ہے۔ یہ ایک بہت بڑا فیکٹر ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ بھنگ سے متعدد دوائیاں، کنسٹرکشن مٹیریل بنتے ہیں اور اس کاشت سے ہونے والے فوائد وہاں کے سیاسی افراد یا ٹی ٹی پی کی جیب میں جاتے ہیں۔

    ’پاکستان میں بہت سی جگہ میں بھنگ کاشت ہوتی ہے لیکن کہیں 12 ہزار ایکڑ پر نہیں ہوتی۔‘

    خواجہ آصف نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اس تمام عمل کو روکنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے تاکہ بھنگ کی کاشت سے وہاں کے لوگوں فائدہ ہو۔

    ’آپ کو جو نظر آرہا ہے وہ اصل تصویر نہیں اور صوبائی حکومت کے وہاں لوگوں کے مفادات ٹی ٹی پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔‘

    خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ نقل مکانی کرنے والوں کو جن کیمپوں میں رکھا ہے وہ سردی سے نہیں بچا نہیں سکتے۔ انھوں نے کہا کہ یہ انتظامات ہر سال کیے جاتے ہیں لیکن اب کی بار صوبائی حکومت کی کارکردگی ناقص رہی۔

    تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کا معاملہ ہے کیا؟

    یاد رہے کہ رواں ماہ کی آٹھ تاریخ کو سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے خبر دی تھی کہ تیراہ کے 24 رکنی جرگے سے ہونے والے مذاکرات کی کامیابی کے بعد فوجی آپریشن کے پیشِ نظر 10 جنوری سے تیراہ سے مقامی آبادی کا انخلا شروع ہو گا جو 25 جنوری تک جاری رہے گا۔

    مقامی آبادی کا انخلا گذشتہ ہفتے بھی جاری تھا کہ جمعرات کے روز اس علاقے اور قرب و جوار میں برفباری کا آغاز ہوا اور راستے بند ہو گئے۔ اس صورتحال کے باعث سینکڑوں افراد راستے میں ہی پھنس گئے تھے۔ سنیچر کے روز ہنگامی امداد کے ادارے ریسکیو 1122 کی جانب سے بتایا گیا کہ وادی تیراہ میں برفباری میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے جاری ریسکیو اپریشن کے دوران 1500 سے زائد افراد اور 350 گاڑیوں کو ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

    تاہم اتوار کے روز وفاقی وزارتِ اطلاعات کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ حکومت نے ان گمراہ کن خبروں کا نوٹس لے لیا ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ وادی تیراہ کو فوج کے احکامات پر خالی کروایا جا رہا ہے۔

    وزارتِ اطلاعات نے ان دعوؤں کو ’بے بنیاد‘ اور ’بدنیتی پر مبنی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان خبروں کا ’مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا، سکیورٹی اداروں کے خلاف غلط معلومات دینا اور ذاتی و سیاسی مفادات کا حصول ہے۔‘

    وزارتِ اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت یا فوج کی جانب سے خیبر پختونخوا کے علاقے وادی تیراہ کو خالی کروانے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔

    بعد ازاں پیر کے روز خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کے دعوے کو رد کرتے ہوئے اسے ’سراسر غلط اور گمراہ کن بیانیہ‘ قرار دیا تھا۔

    سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت سے اپنا بیان واپس لینے اور اس پر معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو وہ جرگہ بلائیں گے۔ ’اگر بات غلط ثابت ہوئی تو نقل مکانی کرنے والے متاثرین کو خود تیراہ واپس لے کر جاؤں گا۔‘

  7. سپر ٹیکس کا نفاذ درست قرار: پارلیمان کو آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کا آئینی اختیار ہے، وفاقی آئینی عدالت, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کیس کا نفاذ درست قرار دیتے ہوئے فیصلہ سنایا ہے کہ پارلیمان کو آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کا آئینی اختیار حاصل ہے۔

    منگل کے روز وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے سپر ٹیکس کے خلاف درخواستوں پر مختصر فیصلہ سنایا۔

    عدالت نے سپر ٹیکس کیس کے قابلِ سماعت ہونے کے خلاف دائر تمام اعتراضات مسترد کرتے ہوئے سپر ٹیکس سے متعلق اہم قانونی نکات طے کر دیے۔

    وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے مطابق انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن بی فور کو 2015 سے برقرار رکھا جائے گا، جبکہ ہائی کورٹس کی جانب سے سیکشن 4C سے متعلق دیے گئے فیصلے جزوی طور پر کالعدم قرار دے دیے۔

    عدالت نے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ پارلیمان کو آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کا آئینی اختیار حاصل ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل سپر ٹیکس کیس کی سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے مکمل کی تھی۔ مختلف کمپنیوں کی جانب سے وکیل مخدوم علی خان نے جواب الجواب دلائل مکمل کیے تھے، جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا اور آج مختصر فیصلہ سنائے جانے کا عندیہ دیا گیا تھا۔

  8. سرکاری خرچ پر اراکینِ اسمبلی کو حج یا عمرے کی کوئی سہولت حاصل نہیں: ترجمان قومی اسمبلی کی وضاحت

    پاکستان کی قومی اسمبلی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سرکاری خرچ پر قومی اسمبلی کے ممبران کو حج یا عمرے کی کوئی سہولت حاصل نہیں اور نہ ہی یہ سہولت دی جا سکتی ہے۔

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے وضاحتی بیان میڈیا میں چلنے والی ان خبروں کے بعد سامنے آیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے پارلیمانی وفد کو سرکاری خرچ پر سعودی عرب بھیجا جائے گا۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں نومبر 2016 میں منظور ہونے والی قرارداد کے تحت ہر سال قومی اسمبلی کے ممبران کا ایک وفد ذاتی خرچ پر 12 ربیع الاول کو روزہ رسول پر حاضری دیتا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ قرار داد کی روشنی میں وفد کے تمام ممبران اپنے اخراجات خود برداشت کرتے ہیں-

    ترجمان کا کہنا ہے کہ ایس او پیز کے تحت وزارت مذہبی امور صرف انتظامی امور کے لیے سہولت مہیا کرتی ہے جس کے تحت وزارت بھی کوئی اخراجات برداشت نہیں کرتی۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سرکاری خرچ پر کسی بھی ایسے دورے کی تجویز کسی رکن کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے لیکن کسی ایسی تجویز کی منظوری نہیں دی گئی-

  9. پی ٹی آئی کو عمران خان اور بشری بی بی کی صحت پر تشویش: ملاقات نہ ہونے کے باعث کارکنوں میں بے چینی ہے، بیرسٹر گوہر, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی صحت سے متعلق انھیں تشویش ہے اور ان سے جیل میں ملاقات نہ ہونے کے باعث ان کی جماعت کے کارکنوں میں بے چینی پھیل رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ گذشتہ روز ایک خبر ملی تھی کہ اڈیالہ جیل میں عمران خان کی آنکھ میں تکلیف ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے پمز ہسپتال کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کا مکمل میڈیکل چیک اپ کیا تھا اور جیل انتظامیہ کے مطابق ڈاکٹروں کی ٹیم نے عمران خان کو مکمل فٹ قرار دیا۔

    منگل کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وہ آج بھی چیف جسٹس سے اس ضمن میں ملاقات کرنے کی کوشش کریں گے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ القادر ٹرسٹ کیس اور دیگر مقدمات میں عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف آنے والے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے 15 بار ملاقات کرنے کی کوشش کی ہے لیکن وہ نہیں ملے۔

    انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی نے عمران خان سے ملاقات کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست جمع کروائی ہے۔

    بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ ملاقات پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا موقف واضح ہے کہ دہشت گردی پر سیاست نہیں ہونی چاہیے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیا جائے۔

    ’سردیوں میں لوگ شوق سے اپنے گھر نہیں چھوڑتے، نقل مکانی حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے‘

    وادی تیرہ سے لوگوں کی نقل مکانی کا ذکر کرتے ہوئے پی ٹی ائی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہی کہ سردیوں میں لوگ شوق سے اپنے گھر نہیں چھوڑتے اور عوام کی نقل مکانی حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

    پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ان کی جماعت جبری نقل مکانی والے آپریشنز کی مخالف ہے اور صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ نقل مکانی کسی صورت قبول نہیں۔

    انھوں نے کہا کہ دہشتگردی کو بیانیے کی جنگ بنانا ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے اور اگر سکیورٹی خدشات ہیں تو انہیں مؤثر طریقے سے حل کیا جائے۔

    بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ اگر ضرورت نہ ہو تو متاثرین کو فوری طور پر اپنے گھروں کو واپس بھیجا جائے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ متاثرہ افراد کو مالی امداد نہیں دی جا رہی اور نہ ہی ان کے نقصانات کا ازالہ کیا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی چیئر میں نے کہا کہ 2013 سے 2015 تک جو نقل مکانی کی گئی تھی اس کا معاوضہ ابھی تک لوگوں کو نہیں دیا گیا۔

  10. بنگلہ دیش کا چٹاگانگ میں انڈین اکنامک زون منصوبہ منسوخ کرنے کا اعلان

    بنگلہ دیش نے چٹاگانگ میں انڈین اکنامک زون منصوبے کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اب انڈین اکنامک زون کی جگہ یہاں دفاعی صنعتی پارک بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    بی بی سی بنگلہ کے مطابق بنگلہ دیش اکنامک زونز اتھارٹی (BEZA) کے ایگزیکٹو چیئرمین چوہدری عاشق محمود بن ہارون نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں یہ معلومات دیں۔

    یہ فیصلہ سوموار کو ڈھاکہ میں چیف ایڈوائزر محمد یونس کے دفتر میں بنگلہ دیش اکنامک زونز اتھارٹی کے گورننگ بورڈ کے اجلاس میں کیا گیا۔

    چوہدری عاشق محمود نے وضاحت کی کہ چٹاگانگ میں انڈیا کے مجوزہ انڈین اکنامک زون کے لیے زمین کا ایک بڑا رقبہ مختص کیا گیا تھا چونکہ اس منصوبے کو منسوخ کر دیا گیا، اس لیے زمین کو نئے دفاعی صنعتی پارک کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    حالیہ عالمی تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے چوہدری عاشق محمود نے کہا کہ بعض اوقات یہ جدید لڑاکا طیاروں کی کمی نہیں بلکہ بنیادی آلات کی کمی ہوتی ہے جو بڑے بحرانوں کا باعث بنتی ہے۔

    انھوں نے اس طرح کے آلات کو مقامی طور پر تیار کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

  11. بحر ہند میں موجود امریکی جنگی جہاز ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ کی خصوصیات کیا ہیں؟, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فیکٹ چیک

    ایران میں ملک گیر احتجاج اور مظاہرین کی ہلاکت کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

    اس ہفتے کے شروع میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’ایک بڑا بحری بیڑہ ایران کی طرف بڑھ رہا ہے‘ تاہم انھوں نے امید ظاہر کی تھی کہ اس کو استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

    بی بی سی فارسی کا فیکٹ فائنڈنگ کا شعبہ گزشتہ چند ہفتوں سے مشرق وسطیٰ میں امریکی بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

    حالیہ ہفتوں میں جن بحری جہازوں نے بہت زیادہ توجہ حاصل کی ہے، ان میں سے ایک طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن ہے۔

    جوہری طاقت سے چلنے والا یہ طیارہ بردار بحری جہاز سنہ 1989 سے امریکی بحریہ میں شامل ہے اور اسے سب سے بڑے اور جدید ترین امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

    اگرچہ جہاز نے اپنا ٹریکنگ سسٹم بند کر رکھا ہے لیکن پھر بھی اسے مختلف طریقوں سے ٹریک کیا جا سکتا ہے۔

    اصولی طور پر اگر کوئی جہاز اپنا ٹریکنگ سسٹم بند بھی کر دیتا ہے تو وہ مکمل طور پر ’غائب‘ نہیں ہو سکتا۔

    ہم فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ ’فلائٹ ریڈار‘ کے ذریعے اس بحرح جہاز کے اوپر سے پرواز کرنے والے امریکی فوجی ہیلی کاپٹروں کو ٹریک کرنے اور اس کے ممکنہ مقام کا اندازہ لگانے میں کامیاب رہے۔

    یہ ہیلی کاپٹر، جو عام طور پر مختلف مشنوں جیسے کہ گشت، دستوں کی نقل و حمل، یا لاجسٹک سپورٹ کے لیے کیریئر کے ساتھ اڑتے ہیں، بعض اوقات ایسے نظام کا استعمال کرتے ہیں جن کو پرواز کے ڈیٹا میں ٹریک کیا جا سکتا ہے۔

    اس کے مطابق لنکن نے 14 جنوری کو بحیرہ جنوبی چین سے مشرق وسطی کی طرف اپنی نقل و حرکت شروع کی اور اس وقت (26 جنوری تک) اس کی ممکنہ پوزیشن عمان کے ساحل کے قریب ہے۔

    ’سینٹ کام‘ نے بھی ایکس پر اپنی پوسٹ میں تصدیق کی کہ طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن بحر ہند میں داخل ہو گیا۔ ’سینٹ کام‘ نے کہا کہ یہ جہاز مشرق وسطیٰ میں ’علاقائی سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے‘ کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔

    ’سینٹ کام‘ امریکی محکمہ دفاع کی مشرق وسطیٰ سے متعلق چھ کمانڈز میں سے ایک ہے۔ امریکہ پر نائن الیون حملوں کے بعد عراق، افغانستان اور شام سینٹ کام کے سب سے اہم فعال آپریشنل علاقے تھے۔

    یو ایس ایس ابراہم لنکن ایک نظر میں

    طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کا نام امریکہ کے 16ویں صدر کے نام پر رکھا گیا تھا اور اسے 11 نومبر 1989 کو امریکی بحریہ میں شامل کیا گیا۔

    یہ جہاز امریکی بحریہ کی ٹاسک فورس کا حصہ ہے، جس میں اس کے علاوہ تین گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر بھی شامل ہیں: یو ایس ایس فرینک ای پیٹرسن جونیئر، یو ایس ایس سپروانس، اور یو ایس ایس مائیکل مرفی۔

    اس طیارہ بردار بحری جہاز میں تقریباً چھ ہزار لوگوں کی گنجائش ہوتی ہے۔

    اس کی چوڑائی 333 میٹر اور چوڑائی تقریباً 77 میٹر ہے۔ یہ بحری جہاز تقریباً 100,000 ٹن کی نقل مکانی کے ساتھ، 30 ناٹس (56 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے سفر کر سکتا ہے۔

    یہ جہاز پہلے بھی کئی بار خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں تعینات کیا جا چکا ہے۔ اسے ’آپریشن ڈیزرٹ سٹورم‘ کے دوران خطے میں تعینات کیا گیا تھا، ایک ایسا مشن جو 1990 کی دہائی کے اوائل میں عراق کو کویت سے نکالنے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔

    1995، 1998، اور 2000 میں یہ طیارہ بردار بحری جہاز امریکی محکمہ دفاع کے گشتی آپریشن، جسے ’سدرن واچ‘ کہا جاتا ہے، میں حصہ لینے کے لیے خلیج فارس گیا۔

    یہ بحری جہاز 2002 کے آخر میں، عراق پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حملے کے موقع پر دوبارہ اس خطے میں گیا۔

  12. ’ہسپتال میں لاشوں کے ڈھیر اور عمارتوں پر تعینات سنائپرز‘: بی بی سی نے ایران سے موصول ہونے والی نئی ویڈیوز میں کیا دیکھا؟

    ایران سے آنے والی تصدیق شدہ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ہسپتال میں لاشوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، مظاہرین نگرانی والے کیمرے غیر فعال کرنے کی کوش کر رہے ہیں جبکہ عمارتوں پر سنائپرز کو تعینات کیا گیا ہے۔

    ایران میں دسمبر کے مہینے میں شروع ہونے والے احتجاج کے بعد سے بی بی سی ویریفائی ان مظاہروں کا جائزہ لے رہا ہے تاہم ایرانی حکام کی جانب سے انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے مظاہرین کے خلاف ہونے والے مہلک کریک ڈاؤن کو دستاویز کرنا انتہائی مشکل ہے۔

    امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایجنسی ’ہرانا‘ کے مطابق اب تک تقریباً چھ ہزار افراد اس احتجاج کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے 5633 مظاہرین تھے۔

    ’ہرانا‘ کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ انٹرنیٹ بند ہونے کے باوجود موصول ہونے والی اطلاعات کی روشنی میں مزید 17,000 مبینہ اموات کی تحقیقات کر رہا ہے۔

    ناروے میں قائم ’ایران ہیومن رائٹس‘ (آئی ایچ آر) نے خبردار کیا ہے کہ کل اموات 25 ہزار سے زیادہ ہو سکتی ہیں۔

    ایرانی حکام نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ان مظاہروں میں 3,100 سے زیادہ لوگ مارے گئے لیکن مرنے والوں میں زیادہ تر سکیورٹی اہلکار یا عام لوگ تھے جو ’مشتعل مظاہرین‘ کا نشانہ بنے۔

    ایران سے سامنے آنے والی تازہ ترین ویڈیوز کو 8 اور 9 جنوری کو فلمایا گیا تھا، جب سابق ولی عہد رضا پہلوی کی طرف سے ملک گیر احتجاج کی کال کے بعد ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

    خیال ہے کہ یہ مظاہرین کے لیے اب تک کی سب سے مہلک راتیں تھیں اور ان نئی تصدیق شدہ ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی سکیورٹی فورسز مظاہرین کے خلاف کس طرح پرتشدد کارروائیاں کر رہی ہیں۔

    بی بی سی ویریفائی اور بی بی سی فارسی کے تجزیہ کردہ متعدد کلپس میں مشرقی تہران کے ’تہران پارس ہسپتال‘ کے مردہ خانے کے اندر لاشوں کا ڈھیر دیکھا گیا ہے۔ ہم نے ہسپتال کے اندرونی حصے کو عمارت کی دیگر عوامی طور پر دستیاب تصاویر اور ویڈیوز سے ملا کر اس کے محل وقوع کی تصدیق کی اور صرف ایک ویڈیو میں کم از کم 31 لاشیں گنیں۔

    ایک اور کلپ میں دیکھا گیا ہے کہ ہسپتال کے داخلی دروازے کے باہر زمین پر سات باڈی بیگ رکھے ہوئے ہیں۔

    ایک اور ویڈیو میں سینکڑوں لوگ مغربی تہران کی ایک شاہراہ پر احتجاج کرتے ہوئے نظر آئے، اس ویڈیو میں فائرنگ کی آواز کے بعد مظاہرین چیخنا شروع کر دیتے ہیں۔

    مظاہرین کو سی سی ٹی وی کیمروں کو غیر فعال کر کے ایران کے نگرانی کے بنیادی ڈھانچے سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔ ہم نے جس فوٹیج کی تصدیق کی اس میں دیکھا گیا ہے کہ دارالحکومت میں ایک شخص نگرانی والے ایک کیمرے کو غیر فعال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کیمرہ خراب ہونے پر مظاہرین کا ایک بہت بڑا ہجوم خوشی کا اظہار کرتے سنا جا سکتا ہے۔

    جنوب مشرقی شہر کرمان میں فوجی وردی میں ملبوس کئی مسلح افراد کو سڑک پر چلتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو اپنے ہتھیاروں سے مسلسل فائرنگ کر رہے ہیں، حالانکہ یہ واضح نہیں کہ وہ کس پر گولی چلا رہے ہیں۔

    سڑک کے بیچوں بیچ آگ جل رہی ہے جبکہ پس منظر میں مظاہرین کے نعرے لگانے کی آواز سنی جا سکتی ہے۔

    شمال مشرقی شہر مشہد کی ایک تصدیق شدہ ویڈیو میں سیاہ لباس میں ملبوس دو افراد کو دن کی روشنی میں ایک عمارت کی چھت پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک آدمی بڑی رائفل کے پاس کھڑا ہے جسے دیوار کے ساتھ لگایا گیا ہے اور وہ فون پر بات کر رہا ہے۔ دوسرا آدمی تمباکو نوشی کرتے ہوئے فرش پر لیٹ گیا۔

  13. ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے فضائی، زمینی یا بحری حدود استعمال نہیں ہونے دیں گے: متحدہ عرب امارات

    متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ وہ اپنی فضائی، زمینی اور بحری حدود کو ایران پر حملے کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔

    پیر کو متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ان کا ملک اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ ’ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کے لیے ملک کی فضائی، زمینی اور حدود کا استعمال نہیں کرنے دیا جائے گا اور نہ ہی اس حوالے سے کسی بھی قسم کی لوجسٹیکل سپورٹ فراہم کی جائے گی۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات بات چیت، کشیدگی میں کمی، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور خودمختاری کے تحفظ کا حامی ہے۔

    متحدہ عرب امارات کا کا کہنا ہے کہ وہ تمام مسائل کو سفارتی طریقے سے حل ہوتا ہوا دیکھنا چاہتا ہے۔

    واضح رہے متحدہ عرب امارات کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہوئی نظر آرہی ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دنوں میں تہران کے خلاف فوجی کارروائی کا عندیہ بھی متعدد مرتبہ دے چکے ہیں۔

  14. ایمان مزاری کو سنائی گئی سزا کے خلاف کراچی میں احتجاجی مظاہرہ, ریاض سہیل، بی بی سی اردو

    کراچی میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی جانب سے سماجی کارکن و وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی چٹھہ کو پیکا ایکٹ کے تحت سنائی گئی سزا کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے۔ مظاہرے میں ایچ آر سی پی کے چیئرمین اسد اقبال بٹ، عظمیٰ نورانی، پروفیسر توصیف احمد، قاضی خضر، کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی اور دیگر کارکنان نے شرکت کی۔

    ایچ آر سی پی کی کارکن عظمیٰ نورانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن شروع دن سے پیکا ایکٹ کے خلاف آواز اٹھاتا رہا ہے کیونکہ ان کے مطابق یہ قانون عوام کی آواز دبانے کی کھلی کوشش ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’جو زیادتیاں ہو رہی ہیں وہ بدستور جاری ہیں، مگر سزا ان لوگوں کو دی جاتی ہے جو سچ بولتے ہیں اور عوام کی اصل آواز بنتے ہیں۔‘

    کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی نے پیکا کے تحت سنائی گئی سزا کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایک ٹویٹ یا اختلافی بیان پر 17 سال کی سزا دینا کہاں کا انصاف ہے؟ وہ بھی ایک انسان دوست ایکٹوسٹ اور وکیل کو، یہ ناقابلِ قبول ہے۔‘

    انھوں نے پریس کلب کے باہر پولیس کی بھاری نفری اور علاقے کی ناکہ بندی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہاں مظاہرین سے زیادہ پولیس موجود ہے۔ پریس کلب کو چاروں طرف سے کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے، لوگوں کو جمع ہونے نہیں دیا جا رہا۔ ملک کو آخر کس سمت لے جایا جا رہا ہے؟ بظاہر یہاں پارلیمان اور جمہوریت موجود ہے مگر سب کچھ ربڑ سٹیمپ بنا دیا گیا ہے۔‘

    پروفیسر اصغر دشتی نے کہا کہ پیکا ایکٹ کے ذریعے ہر اُس آواز کو خاموش کیا جا رہا ہے جو اختلاف رکھتی ہے۔ ان کے مطابق ’حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ اظہارِ رائے عوام کا بنیادی حق ہے، جس کی ضمانت آئین پاکستان فراہم کرتا ہے۔‘

    احتجاج سے قبل کراچی پریس کلب آنے والی تمام سڑکوں کو پولیس نے رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا تھا۔ ماحولیاتی کارکن ذوالفقار جونیئر کو بھی پریس کلب پہنچنے سے روک دیا گیا۔

    اس سے ایک روز قبل بلوچ یکجہتی کمیٹی کی پریس کانفرنس کے موقع پر بھی پریس کلب کا گھیراؤ کیا گیا تھا۔

  15. کراچی کے گُل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد تحقیقاتی ٹیم تشکیل، متاثرہ دکانداروں کے لیے امداد کا اعلان, ریاض سہیل، بی بی سی اردو

    سندھ کے دارالحکومت کراچی میں گُل پلازہ میں آتشزدگی کی تحقیقات کے لیے پولیس نے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ ٹیم شفاف تحقیقات اور ملزمان کی گرفتاری کو یقینی بنانے کی ذمہ دار ہوگی۔

    گُل پلازہ میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آئے تقریباً نو روز بعد ریسکیو آپریشن مکمل ہوا، جس دوران حکام کے مطابق عمارت سے 73 لاشیں برآمد کی گئیں۔

    حادثے کے بعد نبی بخش تھانے میں نامعلوم افراد کے خلاف غفلت اور لاپرواہی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    سرکاری حکم نامے کے مطابق تحقیقاتی ٹیم میں ایس ڈی پی او گارڈن سب ڈویژن، ڈی ایس پی انویسٹی گیشن کھارادر، ایس ایچ او نبی بخش تھانہ اور انچارج سی آئی سی گارڈن شامل ہیں۔

    اس تحقیقاتی ٹیم کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ملزمان کی تلاش اور گرفتاری کے لیے فوری اور سنجیدہ کوششیں کرے۔ حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر ساؤتھ زون کراچی کے کسی بھی افسر یا اہلکار کی خدمات معاونت کے طور پر لی جا سکتی ہیں۔

    ڈی آئی جی پولیس نے تحقیقاتی ٹیم کو یہ بھی پابند کیا ہے کہ کیس کی روزانہ پیش رفت رپورٹ ان کے دفتر میں جمع کرائی جائے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملے کی اعلیٰ سطح پر براہِ راست نگرانی کی جا رہی ہے۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ حکومت پہلے مرحلے میں متاثرہ دکانداروں کو فی کس 5 لاکھ روپے فراہم کرے گی تاکہ وہ اپنے گھریلو اخراجات چلا سکیں اور فوری سہارا حاصل کر سکیں۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ دکانداروں کو پہنچنے والے بڑے مالی نقصان کے ازالے کے لیے حکومت سندھ کراچی چیمبر آف کامرس کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ متاثرہ کاروباروں کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

  16. آئی سی سی کے معاملے پر تمام آپشنز میز پر ہیں، حتمی فیصلہ جمعے یا پیر کو لیا جائے گا: محسن نقوی

    وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شمولیت کے حوالے سے ’تمام آپشنز میز پر ہیں‘ اور اس بارے میں حتمی فیصلہ جمعے یا اگلے پیر کو لیا جائے گا۔

    ایکس پر پیغام میں محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ’میری وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف سے تعمیری ملاقات ہوئی۔ میں نے انھیں آئی سی سی کے معاملے پر بریف کیا اور انھوں نے ہدایت دی کہ ہم تمام آپشنز کو میز پر رکھ کر اسے حل کریں۔ ہم نے اتفاق کیا کہ حتمی فیصلہ جمعے یا اگلے پیر کو کیا جائے گا۔‘

    خیال رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 7 فروری سے شروع ہو رہا ہے جس میں شیڈول کے مطابق پاکستان اپنے تمام میچز کولمبو میں کھیلے گا۔

  17. ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے معاملے پر پاکستان نے بنگلہ دیش کو اُکسایا: انڈین بورڈ کے نائب صدر

    انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے نائب صدر راجیو شکلا کا کہنا ہے کہ رواں سال انڈیا کی میزبانی میں کھیلے جانے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بنگلہ دیش کو سکیورٹی کی یقین دہانی کرائی گئی تھی تاہم پاکستان نے اس معاملے میں ’بے وجہ مداخلت‘ کی۔

    انڈین نیوز ایجنسی اے این آئی کو دیے ایک انٹرویو میں راجیو شکلا کا کہنا تھا کہ ’ہم تو چاہتے تھے کہ بنگلہ دیش کھیلے۔ ہم نے انھیں سکیورٹی کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن انھوں نے ٹیم نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ ہماری سرکاری کہہ رہی ہے کہ ہم ٹیم نہیں بھیج سکتے، ہم کولمبو میں ہی کھیلیں گے۔

    ’آخری لمحے پر پورے شیڈول کو تبدیل کرنا بہت مشکل کام ہے اس لیے آئی سی سی کو سکاٹ لینڈ کو لانا پڑا۔ بنگلہ دیش کو سوچنا چاہیے تھا، کھیلنا چاہیے تھا۔ ہم تو یہی چاہتے ہیں کہ وہ کھیلے۔‘

    انھوں نے پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان اس میں بے وجہ پڑا ہوا ہے۔ بنگلہ دیش کو پودینے کے جھاڑ پر چڑہا دینا اور انھیں اکسانے میں پاکستان کا بہت بڑا کردار ہے۔

    ’پاکستان کو یہ سب نہیں کرنا چاہیے تھا۔ پاکستان نے بنگلہ دیشیوں کے ساتھ کیا زیادتی کی ہے، دنیا جانتی ہے اور بنگلہ دیشی بھی جانتے ہیں۔ تب وہ ملک الگ ہوا تھا۔‘

    بی سی سی آئی کے نائب صدر نے مزید کہا کہ پاکستان اب بنگلہ دیش کا ’ہمدرد بن کر انھیں غلط راستے پر لے جانے کی کوشش کر رہا ہے جو کہ غلط ہے۔‘

    دوسری طرف پاکستان کے وزیر داخلہ اور کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی ہے۔ پی ایم آفس کی طرف سے جاری بیان کے مطابق محسن نقوی نے ’ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے مابین حالیہ صورتحال پر وزیرِ اعظم کو تفصیلی بریفنگ دی ہے۔‘

    خیال رہے کہ اب تک شیڈول کے مطابق پاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کے میچز سری لنکا میں کھیلے گا۔

  18. ایرانی وزارت خارجہ کا بیان: ’کسی بھی جارحیت کا پہلے سے زیادہ طاقتور جواب دیں گے‘

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے خطے میں امریکہ کی بڑھتی فوجی موجودگی کے ردِعمل میں کہا کہ ’ایران کو اپنی صلاحیتوں پر اعتماد ہے۔ ایران کسی بھی جارحیت کا پہلے سے زیادہ طاقتور جواب دے گا۔‘

    اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کا حوالہ دیا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ حالیہ مہینوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کو ’نئے خطرے‘ کا سامنا ہے اور ’خطے کے ممالک بخوبی جانتے ہیں کہ علاقے میں کسی بھی قسم کی بدامنی کا ہدف صرف ایران نہیں ہوتا۔۔۔ خطے کے ممالک میں ایک مشترکہ تشویش پائی جاتی ہے۔‘

    ان کے مطابق خطے میں ’جنگی بحری جہاز بھیجنے سے ایران کے اپنے ملک کے دفاع کے حوالے سے عزم یا سنجیدگی میں رتی بھر بھی خلل نہیں آئے گا۔‘

    اپنی پریس کانفرنس جاری رکھتے ہوئے وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے میڈیا کے اس دعوے کی تردید کی کہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی کے درمیان کوئی پیغام رسانی ہوئی ہے۔

    انھوں نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایران کے خلاف قرارداد کی منظوری پر بھی ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد ’ایران میں پیش آنے والے واقعات کی الٹ تعبیر‘ ہے اور اُن کے بقول ’اس قرارداد نے خود عالمی برادری میں تقسیم پیدا کر دی ہے۔‘

    یورپی پارلیمان کی طرف سے پاسدارانِ انقلاب کو ’دہشت گرد قرار دینے‘ کی درخواست پر ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اقدام قابلِ مذمت ہے اور یورپی ممالک کو چاہیے کہ ایسے اقدامات کے جال میں نہ پھنسیں۔‘

    دوسری طرف ایران کے حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ چھ روز کے دوران قریب تین ہزار زخمی مظاہرین کو طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔

  19. چینی صدر کا انڈیا کے یوم جہموریت پر پیغام: ’ہم اچھے پڑوسی، دوست اور شراکت دار ہیں‘

    انڈیا کے 77ویں یوم جہموریت کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ چین اور انڈیا ’اچھے پڑوسی، دوست اور شراکت دار ہیں۔‘

    چین کی سرکاری نیوز ایجنسی شنہوا کے مطابق صدر شی نے انڈین ہم منصب دروپدی مرمو کو انڈیا کے یوم جہموریت کی مبارکباد پیش کی ہے۔

    صدر شی کا کہنا تھا کہ گذشتہ ایک برس کے دوران انڈیا اور چین کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے اور یہ رشتہ ’عالمی امن و استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ چین کا ہمیشہ سے یہ خیال رہا ہے کہ چین اور انڈیا کے لیے بہترین راستہ یہی ہے کہ ’اچھے پڑوسی، دوست اور شراکت دار‘ بن کر رہیں۔

    انھوں نے چین اور انڈیا کو ’ایک ساتھ رقص کرتے ڈریگن اور ہاتھی‘ سے تشبیہ دی۔

    چینی صدر نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ دونوں ممالک تعاون کو وسعت دیں گے اور ایک دوسرے کے تحفظات کو دور کریں گے تاکہ تعلقات کو مستحکم بنایا جا سکے۔

    جوہری ہتھیاروں سے لیس ان ایشیائی ملکوں کے درمیان 3,800 کلومیٹر طویل سرحد ہے جو 1950 کی دہائی سے متنازع ہے۔

    سنہ 2020 میں ایک جھڑپ کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر ہوئے۔ اس جھڑپ میں انڈیا کے 20 اور چین کے چار فوجی ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد سرحد پر سکیورٹی کو مزید سخت کیا گیا۔

    گذشتہ سال دونوں ممالک نے اعلیٰ سطحی دو طرفہ دوروں کے سلسلے کے بعد تعلقات کو بہتر بنانا شروع کیا۔اسی سال براہِ راست پروازیں بحال ہوئیں کیونکہ دونوں ملکوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحانہ خارجہ پالیسی کے تناظر میں تجارت اور سرمایہ کاری کو بڑھایا تھا۔

  20. بلوچستان میں سرکاری ملازمین کا ڈسپیریٹی ریڈکشن الائونس کے حصول کے لیے احتجاج، سرکاری دفاتر کا نظام متاثر

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں گرینڈ الائنس کی کال پر ڈسپیریٹی ریڈکشن الائونس (ڈی آر اے) کے حصول کے لیے سرکاری ملازمین کا احتجاج اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    پیر کے روز بھی کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاج کے لیے ملازمین اور ان کی حمایت کے لیے جمع ہونے والے سیاسی رہنماؤں میں سے متعدد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عالم خان کاکڑ کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف بلوچستان کے جنرل سیکریٹری جہانگیر خان رند کو پولیس نے پریس کلب کے باہر سے نہ صرف گرفتار کیا بلکہ ان پر مبینہ طور پر تشدد بھی کیا۔

    دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر نہ صرف پولیس سرکاری ملازمین کو گرفتار کررہی ہے بلکہ ملازمین بھی اپنے مطالبات منوانے کے لیے بلوچستان بھر میں رضاکارانہ طور پر گرفتاریاں دینے کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔

    گرینڈ الائنس کے مطابق اب تک بلوچستان کے مختلف علاقوں میں چار سو سے زائد ملازمین گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

    سرکاری ملازمین کی جانب سے ڈی آر اے کے حصول کے لیے ایک مرتبہ پھر احتجاج کا سلسلہ شروع ہونے سے بلوچستان بھر میں سرکاری دفاتر کا نظام بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔

    گرینڈ الائنس میں شامل سرکاری اساتذہ نے سمر زون کے اضلاع کے مڈل سٹینڈرڈ کے امتحانات کے بائیکاٹ بھی اعلان کیا تھا۔ سمر زون میں مڈل سٹینڈرڈ کے امتحانات آج سے شروع ہونے تھے۔

    اگرچہ محکمہ تعلیم نے مڈل سٹینڈرڈ کے امتحانات کو ملتوی کرنے کا نوٹیفیکیشن تو جاری کیا گیا ہے تاہم اس میں امتحانات ملتوی کیے جانے کی وجہ موسم کی خرابی بتائی گئی ہے۔

    محکمہ تعلیم کے مطابق سمر زون میں مڈل سٹینڈرڈ کے امتحانات اب چھ فروری سے ہوں گے۔

    آل پارٹیز کے فیصلے کے مطابق آج بلوچستان بھر میں سیاسی جماعتوں نے بھی سرکاری ملازمین کی حمایت میں مظاہرے کیے۔