ٹرمپ کا ایران کے خلاف آپریشن جاری رکھنے کا اعلان، برطانیہ نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی
صدر ٹرمپ نے متنبہ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ’ہمارے تمام مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے۔‘ دوسری جانب برطانیہ نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی
خلاصہ
- ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں
- ایرانی حکومت نے ملک بھر میں 40 روزہ سوگ اور سات دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی ایران نے مقبوضہ علاقوں اور امریکی اڈوں پر تاریخ کی سب سے ’تباہ کن‘ فوجی کارروائی شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے
- صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران پر بمباری جاری رکھے گا اور تہران میں ابھی بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں
- اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی دفاعی قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے اور مارے جانے والوں میں ایرانی وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ، سکیورٹی امور کے مشیر علی شامخانی اور پاسدران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور بھی شامل ہیں
لائیو کوریج
آنے والے دنوں میں مزید شدت سے حملے کیے جائیں گے: اسرائیلی فوج کی دھمکی
اسرائیلی فوج کے چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے ایران کے خلاف آپریشن کو جاری رکھنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’آنے والے دنوں میں مزید شدت سے حملے کیے جائیں گے۔‘
اسرائیلی فوج نے اتوار کو ٹیلیگرام پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنرل سٹاف فورم کے ساتھ صورتحال کا جائزہ مکمل کر لیا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے اعلی عہدے دار نے کہا کہ فوج اپنی کامیابیوں کو تیز کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی اور حملہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔‘
فوجی ماہرین نے وال سٹریٹ جرنل کو بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل اپنے اہداف جلد از جلد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ انھیں اپنے اسلحے کے ذخائر کم ہونے کا خدشہ ہے۔
ٹیلیگرام پوسٹ میں ایال زامیر نے بیت شیمش میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کا بھی ذکر کیا۔
انھوں نے اسرائیلی عوام کو صبر اور حوصلہ دکھانے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے دل زخمیوں اور مرنے والوں کے ساتھ ہیں۔‘
دبئی سے اسرائیل تک ایران کے پورے خطے میں جوابی حملوں کی تصویری جھلکیاں

،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنبحرین کا دارالحکومت منامہ بھی ایرانی جوابی حملے سے آگ کی زد میں آگیا، ریاستی حکام نے مقامی میڈیا کو بتایا ہے کہ کئی علاقوں میں محدود ملبہ‘ گرا ہے 
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشندوحہ میں اتوار کی صبح زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیںاور اس دوران شہر سے دھویں کے بادل نظر آرہے تھے 
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنایمرجنسی سروس کے ترجمان کے مطابق بیت شیمش، اسرائیل میں ایرانی حملے میں نو افراد مارے گئے 
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنایران کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جوابی حملوں کے دوسرے دن متحدہ عرب امارات میں دبئی کی جبل علی بندرگاہ پرحملہ کیا گیا ایران کے خلاف آپریشن کے پہلے دن 1,000 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا: امریکی سینٹرل کمانڈ کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے اپنی ایک فیکٹ شیٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن کے پہلے 24 گھنٹوں میں ایران کے ایک ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس بیان میں بتایا گیا کہ امریکی فوج نے اس آپریشن میں سٹیلتھ بمبار طیارے، ڈرونز، فائٹر جیٹس اور میزائل شکن نظام استعمال کیے۔
ایرانی اہداف میں کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، بیلسٹک میزائل سائٹس اور ایران کے پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کا مشترکہ ہیڈ کوارٹر شامل تھا۔
یہ دعویٰ اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) کے بیان سے بھی مطابقت رکھتا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ آپریشن کے پہلے دن ’انتہائی اہم کامیابیاں‘ حاصل کی گئی ہیں۔
فرانس، جرمنی اور برطانیہ کا ایران کے خلاف دفاعی کارروائی کے لیے تیار رہنے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں اعلان کیا ہے کہ وہ خلیج فارس میں اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو ایران کے خلاف دفاعی کارروائی بھی کرنے کا پورا حق رکھتے ہیں۔
اپنے مشترکہ بیان میں تینوں ممالک نے کہا کہ خطے کے ممالک کے خلاف ایران کے ’اندھا دھند اور غیر متناسب‘ میزائل حملوں سے انھیں دھچکا لگا ہے ۔ ایران کے میزائل حملوں سے وہ ممالک بھی متاثر ہوئے جو ابتدائی امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں شامل نہیں تھے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ہم اپنے اور خطے میں اپنے اتحادیوں کے مفادات کے دفاع کے لیے کام کریں گے اور ایران کی میزائل اور ڈرون لانچنگ کی صلاحیتوں کو ختم کرنے کے لیے ضروری اور متناسب دفاعی اقدامات کیے جائیں گے۔‘
ایران کے خلاف آپریشن تمام مقاصد حاصل ہونے تک جاری رہے گا: ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےمتنبہ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگی کارروائیاں پوری شدت کے ساتھ جاری ہیں اور اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ’ہمارے تمام مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے۔‘
اپنے ایک ویڈیو پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’افسوس کی بات ہے کہ اس دوران مزید امریکییوں کی ہلاکتیں بھی ہو سکتی ہیں، لیکن یہی حقیقت ہے۔ امریکہ اپنے فوجیوں کی موت کا بدلہ لے گا اور اُن دہشت گردوں کو سب سے سخت ضرب لگائے گا جنھوں نے تہذیب کے خلاف جنگ چھیڑی ہے۔‘
انھوں نے ایران کے پاسداران انقلاب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مخاطب کرتے ہوئے دھمکایا کہ ’اپنے ہتھیار ڈال کر عام معافی حاصل کریں، ورنہ وہ یقینی موت کا سامنا کریں گے۔ یہ موت یقینی ہوگی اور خوشگوار نہیں ہو گی۔‘
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’امریکہ ایک بڑے آپریشن میں مصروف ہے، جس کا مقصد صرف موجودہ وقت اور جگہ کے لیے سلامتی یقینی بنانا نہیں بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے بھی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ اقدامات درست اور ضروری ہیں تاکہ امریکی عوام کو کبھی بھی ایک ایسی دہشت گرد حکومت کا سامنا نہ کرنا پڑے جو جوہری ہتھیاروں سے لیس ہو۔ یہ ناقابلِ برداشت خطرات اب مزید برداشت نہیں کیے جائیں گے۔‘
صدر ٹرمپ نے اپنے پیغام میں ایرانی عوام کو مخاطب ایک بار پھر حکومت کی تبدیلی کی اپیل کی اور کہا کہ ’میں آزادی کے خواہاں تمام محبِ وطن ایرانیوں کو کہتا ہوں کہ اس لمحے کو غنیمت جانیں، بہادر بنیں اور اپنا ملک واپس لیں۔ امریکہ آپ کے ساتھ ہے۔‘
امریکہ برطانوی فوجی اڈوں کو دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال کرسکتا ہے: برطانوی وزیر اعظم

،تصویر کا ذریعہKeir Starmer/X
برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ امریکہ برطانیہ کے فوجی اڈوں کو دفاعی کارروائی کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔
اپنے ایک وڈیو بیان میں انھوں نے کہا کہ ’امریکہ نے دفاعی مقاصد کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کے استعمال کی درخواست کی ہے۔ ‘
کیئر سٹارمر نے کہا کہ ’ہم نے یہ درخواست قبول کی ہے تاکہ ایران کو خطے میں میزائل فائر کرنے سے روکا جا سکے، جو بے گناہ شہریوں کو مار سکتے ہیں، برطانوی شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں اور اُن ممالک کو نشانہ بنا سکتے ہیں جو اس تنازع میں شامل نہیں۔‘
کیئر سٹارمر نے واضح کیا کہ برطانیہ ان حملوں میں شریک نہیں ہے اور صرف دفاعی کارروائیاں جاری رکھے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں بالکل واضح کرنا چاہتا ہوں، ہم نے عراق کی غلطیوں کو یاد رکھا ہے اور ان سے سبق سیکھا ہے۔ ہم ایران پر ابتدائی حملوں میں شامل نہیں تھے اور اب بھی جارحانہ کارروائی میں شامل نہیں ہوں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ایران ’زمین کو تباہ کرنے کی حکمتِ عملی‘ پر عمل کر رہا ہے، اس لیے برطانیہ اپنے اتحادیوں اور خطے میں موجود اپنے لوگوں کے اجتماعی دفاع کی حمایت کر رہا ہے۔
ان کے مطابق یہ ’فوری خطرے کو ختم کرنے اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کا بہترین طریقہ ہے۔‘
برطانوی وزیرِ اعظم نے کہا کہ ’ہمارے خلیجی اتحادیوں نے ہم سے مزید دفاعی اقدامات کرنے کی درخواست کی ہے۔ ہمارے جیٹ طیارے پہلے ہی مشترکہ دفاعی آپریشنز کا حصہ ہیں اور انھوں نے ایرانی حملوں کو روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’خطرے کو ختم کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ میزائلوں کو اُن کے لانچرز پر ہی تباہ کیا جائے۔‘
بحرین میں امریکی بحریہ کا اڈہ ایرانی ڈرون حملےکی ذد میں, فرینک گارڈنر، نامہ نگار برائے سکیورٹی امور
بحرین کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق بحرین میں موجود امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے اڈے کو ایک ایرانی ڈرون نے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔
ایرانی ڈرون کا حملہ برطانوی بحریہ کی تنصیب کے بالکل قریب ہوا جو امریکی تنصیبات کے علاقے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، تاہم پہلے سے ہی علاقہ خالی کرائے جانے کے باعث اس دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اب تک کی اطلاعات کے مطابق بحرین میں ایرانی حملوں سے چار افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں ایک چینی، دو مصری اور ایک بحرین کا شہری شامل ہیں۔
خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ اس وقت آن لائن اجلاس میں ممکنہ طور پر اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا وہ بھی متحدہ عرب امارات کی طرح تہران میں اپنے سفارتخانے بند کریں۔
امریکی شہر آسٹن میں فائرنگ سے دو افراد ہلاک اور 14 افراد زخمی: حکام, برینڈن ڈینن

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹیکساس کے شہر آسٹن میں ایک بیئر گارڈن کے باہر فائرنگ کے واقعے میں دو افراد ہلاک اور درجن سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ممکنہ طور پر دہشت گردی سے متعلق ہو سکتا ہے۔
امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر اور دیگر میڈیا اداروں کے مطابق مشکوک شخص کی شناخت ندیگا دیان کے طور پر ہوئی ہے، جو سینیگال میں پیدا ہونے والے ایک امریکی شہری ہیں۔
اتوار کی صبح ریاستی دارالحکومت میں بیفورڈز بار کے قریب ایک فائرنگ اطلاعات کے بعد پولیس اہلکار وہاں پہنچے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے مشتبہ شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے، جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد تین ہو گئی ہے۔
پولیس نے اس واقعے کے پیچھے کسی وجہ کا ذکر تاحال نہیں کیا ہے اور نہ ہی باضابطہ طور پر دیانگ کی شناخت میڈیا کو بتائی ہے۔ زندہ بچ جانے والوں میں سے 14 کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جن میں سے تین کی حالت تشویشناک ہے۔
آسٹن کی پولیس چیف لیزا ڈیوس نے کہا ہے کہ ایسٹ سِکس سٹریٹ میں گشت پر موجود افسران کو ایک مسلح شخص کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، جس پر فوری کارروائی کی گئی۔
انھوں نے کہا کہ بیفورڈز کے پاس سے گزرنے والی ایک بڑی ایس یو وی میں موجود شخص نے گاڑی کی لائٹیں کھولیں ، شیشہ نیچے کیا اور پستول سے فائرنگ کی، جس سے بار کے باہر موجود لوگ نشانہ بنے۔
ڈیوس کے مطابق وہ شخص گاڑی کو قریب ہی پارک کرنے کے بعد رائفل لے کر باہر نکلا اور دوبارہ بار کی طرف چلنے لگا۔ ایک چوراہے پر تین پولیس اہلکاروں نے مشتبہ شخص کا سامنا کیا اور اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
حکام کے مطابق ایس یو وی کی تلاشی لی گئی اور اس میں دھماکا خیز مواد موجود نہیں تھا۔ تاہم ایف بی آئی کے سان انتونیو دفتر کے اسسٹنٹ اسپیشل ایجنٹ انچارج ایلکس ڈوران نے کہا ہے کہ ایس یو وی کے اندر اور مشتبہ شخص سے ایسے شواہد ملے ہیں جو ’دہشت گردی سے تعلق‘ کی نشاندہی کرتے ہیں۔
لیکن ڈوران نے کہا کہ تحقیقات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں اور وہ ’ان تفصیلات کو جاری نہیں کر سکتے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم اس عمل کو مکمل طور پر انجام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔‘
25 سالہ کیلسن لی بیفورڈز میں فائرنگ کی آوازیں سنائی دینے کے وقت بالکل قریب ہی تھے۔ آسٹن کرنٹ کے مطابق وہ اپنے ایک دوست کو تلاش کرنے کے لیے اندر چلا گئے تھے۔
لی نے مقامی نیوز آؤٹ لیٹ کو بتایا کہ ’میں نے تقریباً سات سے آٹھ افراد کو فرش پر پڑے دیکھا۔ کسی کو بھی کبھی ایسا منظر نہیں دیکھنا چاہیے۔‘
’مجھے یوں لگا جیسے میں بے ہوش سا ہوگیا ہوں، بالکل جم گیا تھا۔ میں نے خود کو بے بس محسوس کیا کیونکہ میں لوگوں کی مدد کرنا چاہتا تھا۔‘
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فائرنگ کے واقعے کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے۔
گلگت بلتستان میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر تین روز کے لیے کرفیو نافذ, زبیر خان، صحافی

،تصویر کا ذریعہArsalan
گلگت بلتستان میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر محکمہ داخلہ نے تین روزہ کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
گلگت بلتستان ہوم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کیے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ’ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کے باعث گلگت بلتستان میں صورتحال کشیدہ ہے اور خدشہ ہے کہ خصوصاً گلگت اور سکردومیں حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔‘
یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں اور رہبر اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے خلاف کراچی اور اسلام آباد سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔
اتوار کو کراچی میں امریکی قونصل خانے کے باہر احتجاج کے دوران ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
دوسری جانب مشتعل مظاہرین نے گلگت اور سکردو میں اقوامِ متحدہ کے دفاتر کو بھی نذر آتش کر دیا ہے۔ سکردو کے ریجنل ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر آصف رضا نے صحافی محمد زبیر کو تصدیق کی ہے کہ پرتشدد مظاہروں کے بعد ان کے ہسپتال میں پانچ لاشیں لائی گئی ہیں۔
یکم مارچ کوگلگت بلتستان کے محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری سرکاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے فوری طور پر پاکستان آرمی کے دستوں کی تعیناتی اور تین روز (2، 3 اور 4 مارچ) کے لیے کرفیو نافذ کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے اور جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کرفیو اوقات کی مکمل پابندی کریں اور صرف مقررہ نرمی کے اوقات کے دوران ہی گھروں سے باہر نکلیں۔
سکیورٹی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔ حکام کے مطابق صورت حال کا روزانہ جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر کرفیو میں توسیع یا نرمی کی جا سکتی ہے۔
’ہمیں جانی نقصان کی توقع تھی‘: صدر ٹرمپ کا تین امریکی فوجی اہلکاروں کی موت پر بیان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سینٹرل کمانڈ کی طرف سے تین امریکی فوجی اہلکاروں کی موت کے اعلان کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ہمیں ایسے جانی نقصان کی توقع تھی۔‘
این بی سی نیوز کے مطابق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہماری تین اموات ہوئی ہیں اور ہمیں اس کی توقع ہے، لیکن آخر میں دنیا کے لیے اچھا ہی ہوگا۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ دنیا کو کیا فائدہ ہوگا تو ان کا کہنا تھا کہ ’پہلا تو یہ ایرانی قیادت کا سر کٹ جائے گا، ایک قاتلوں اور بدمعاشوں کے ایک گروہ سے چھٹکارا حاصل ہو جائے گا۔ دیگر بھی کئی فائدے ہیں۔‘
انڈین وزیرِ اعظم کا اسرائیلی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ
انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ انھوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم سے فون پر خطے کی صورتحال پر بات کی ہے۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ’حالیہ صورتحال پر انڈیا کے تحفظات پہنچائے اور شہریوں کی حفاظت پر زور دیا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کو بتایا کہ انڈیا جلد ہی کشیدگی میں کمی چاہتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کا ایران میں سفارتخانہ بند کرنے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
متحدہ عرب امارات نے تہران میں اپنا سفارتخانہ بند کرنے اور سفیر سمیت تمام عملے کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس نے یہ فیصلہ ایران کے میزائل حملوں کے ردِعمل میں کیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران نے رہائشی علاقوں، ہوائی اڈوں اور دیگر مقامات پر میزائل حملے کیے۔
خیال رہے متحدہ عرب امارات نے تصدیق کی ہے کہ گذشتہ روز سے اب تک ایران کے حملوں میں ملک میں تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایرانی جنگی ہیڈکوارٹر ’تباہ کر دیا گیا ہے، بیلسٹک میزائل تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا‘: اسرائیلی و امریکی افواج
اسرائیلی اور امریکی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے نہ صرف ایران کے جنگی ہیڈکوارٹر کو تباہ کر دیا ہے بلکہ تہران کے بیلسٹک میزائل تنصیبات کو بھی ہدف بنایا ہے۔
اسرائیلی دفاعی افواج نے اپنے ٹیلیگرام چینل پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ’ایرانی جنگی ہیڈکوارٹر کو تباہ کر دیا ہے‘، جہاں ان کے مطابق ایرانی حکومت کے اہلکار موجود تھے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق کمانڈ سینٹرز، جن میں پاسدارانِ انقلاب کے ہیڈکوارٹر، انٹیلیجنس ہیڈکوارٹر، پاسداران انقلاب ایئر فورس کمانڈ سینٹرز اور داخلی سکیورٹی ہیڈکوارٹر شامل ہیں، کو ’بڑے پیمانے پر حملوں کی لہر‘ میں نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی افواج نے کہا کہ وہ ’ایرانی دہشت گرد حکومت کے فوجی ڈھانچے اور اہلکاروں کو جہاں کہیں بھی ہوں، نشانہ بناتے رہیں گے۔‘
امریکی بمبار طیاروں نے پہلی فضائی کارروائی میں بیلسٹک تنصیبات کو نشانہ بنایا: سینٹرل کمانڈ
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کا کہنا ہے کہ امریکی بمبار طیاروں نے گذشتہ رات ایرانی بیلسٹک میزائل تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ طیارے ’بی-2 سٹیلتھ بمبار تھے جو 2000 پاؤنڈ وزنی بموں سے لیس تھے۔‘
گذشتہ موسمِ گرما میں بھی امریکہ نے بی-2 بمبار طیاروں کے ذریعے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے۔
ایران کی فوجی صلاحیت میں کوئی کمی نہیں آئی: ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی

،تصویر کا ذریعہReuters
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اے بی سی نیوز سے گفتگو میں دعویٰ کیا ہے کہ ’اگرچہ ایران نے اپنے کچھ کمانڈرز کھو دیے ہیں لیکن اس سے فوجی صلاحیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔‘
امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں عباس عراقچی نے کہا کہ ’ایسا ہی کچھ پچھلی بار بھی ہوا تھا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’گزشتہ سال جون میں اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے دوران بھی کچھ اعلیٰ کمانڈرز مارے گئے تھے لیکن فوراً ان کا متبادل تعینات کر دیا گیا اور 12 گھنٹے سے بھی کم وقت میں ایران نے جوابی کارروائی شروع کر دی تھی اور اس بار یہ اور بھی تیز ہوا۔‘
یاد رہے کہ سنیچر کے حملوں میں ایران کے کئی اعلیٰ حکام مارے گئے جن میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای، انقلابی گارڈز کے کمانڈر محمد پاکپور اور سکیورٹی مشیر علی شمخانی شامل ہیں۔
جب عباس عراقچی سے پوچھا گیا کہ کیا اب بھی امریکہ کے ساتھ مذاکراتی معاہدہ ممکن ہے، تو عراقچی نے کہا کہ ’اس سوال کا جواب آپ دیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’گزشتہ جمعرات کو جنیوا میں ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان ’بہت اچھے مذاکرات‘ ہوئے تھے اور پیر کو ویانا میں ملاقات متوقع تھی لیکن جو لوگ امن کے خلاف ہیں انھوں نے اسے خراب کرنے کا فیصلہ کیا۔‘
مشرقِ وسطیٰ تنازع: آج دن بھر کیا ہوتا رہا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی اور اسرائیلی حملوں اور ایران کے ردِعمل کے بعد دوسرے دن بھی مشرقِ وسطیٰ میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔
آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ آج کیا کیا ہوتا رہا ہے:
- امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس کے تین اہلکار ہلاک اور پانچ شدید زخمی ہوئے ہیں۔
- ایران کے سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب نے طیارہ بردار امریکی جہاز یو ایس ایس لنکن پر چار بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ تاہم سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ایرانی ’میزائل قریب سے بھی نہیں گزرے۔‘
- اسرائیلی فوج نے ایران پر ’معصوم شہریوں کے قتل‘ کا الزام عائد کیا ہے۔ ایک میزائل حملے میں اسرائیلی شہر بیت شمس میں نو افراد ہلاک ہوئے تھے۔
- ایک ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز میناب میں لڑکیوں کے سکول پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 153 تک پہنچ گئی ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ انھیں اس علاقے میں کسی آپریشن کا ’علم نہیں‘ ہے۔
- متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز شروع ہونے والے ایرانی حملوں میں تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ امارات کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس کے بحری اڈے پر بھی ڈرون سے حملے کیے گئے ہیں۔
- رہبرِ اعلیٰ کی موت کے بعد ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ نئے رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب ’ایک، دو دن میں‘ ہو سکتا ہے۔
امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کے سرکاری میڈیا کے دفتر کو بھی نقصان پہنچا
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے کہا کہ اس کے ہیڈکوارٹر کے کچھ حصے امریکی اور اسرائیلی حملے میں نشانہ بنے ہیں۔
یکم مارچ کو مقامی وقت 20:53 پر براہِ راست اعلان میں، ایران کے رولنگ نیوز چینل آئی آر آئی این این کی ایک خاتون اینکر نے کہا کہ ’چند لمحے قبل‘ ایران براڈکاسٹنگ (آئی آر آئی بی) کمپلیکس کے کچھ حصے پر حملہ ہوا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’فی الحال وائس اینڈ ویژن کی نشریات معمول کے مطابق جاری ہیں، اور ہمارے تکنیکی ساتھی کسی ممکنہ نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘
اس سے قبل دن میں سوشل میڈیا پر افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ آئی آر آئی بی کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم بعد میں ان کی تردید کر دی گئی۔
یہ نشریاتی ادارہ اس سے پہلے جون 2025 میں ایران-اسرائیل جنگ کے دوران بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ اُس وقت آئی آر آئی این این کے براہِ راست بلیٹن میں اینکر سحر امامی کو دھماکوں کے دوران ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے سنا گیا تھا اور دوسرے دھماکے کے بعد سٹوڈیو کی چھت کا کچھ حصہ گرنے پر انھیں سیٹ چھوڑ کر بھاگنا پڑا تھا۔
ایران سے پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کا عمل شروع

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران میں اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث ایران سے پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔
اتوار کے روز ایران سے 70 سے زائد پاکستانی شہری بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر اور تفتان پہنچے۔ ان میں سے 51 افراد چاہ بہار کے راستے گوادر پہنچے۔
فون پر رابطہ کرنے پر ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ لوگ گبد- ریمدان سرحد عبور کرکے گوادر پہنچ گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ واپس آنے والوں میں پانچ طلبہ سمیت بزنس مین اور سیاح شامل ہیں۔
ڈپٹی کمشنر گوادر نے بتایا کہ وطن واپس پہنچنے والے افراد کو سرحد پر ایف آئی اے کی جانب سے 24 گھنٹے امیگریشن کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران سے واپس آنے والے افراد کو ضلعی انتظامیہ کی جانب سے رہائش، کھانے پینے اور سفری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
خیال رہے کہ بلوچستان کے پانچ اضلاع کی سرحدیں ایران سے لگتی ہیں جن میں چاغی ، واشک، پنجگور، کیچ اور تربت شامل ہیں۔
پاکستان اور ایران کے درمیان ان ضلاع میں سے چاغی میں تفتان جبکہ گوادر میں گبد ریمدان پوائنٹ سے پاسپورٹ کے زریعے آمدورفت ہوتی ہے۔
تفتان میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ایران کے شہر میر جاوہ کے راستے 19طالب علم ایران سے تفتان پہنچے۔ ان میں زاہدان میڈیکل یونیورسٹی کے طلبا اور طالبات بھی شامل ہیں۔
قطر سے آپریٹ کرنے والے رائل ائیر فورس ٹائیفون جیٹ کا ایرانی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ, جوناتھن بیلے،دفاعی نامہ نگار، بی بی سی نیوز
قطر سے آپریٹ کرنے والے ایک رائل ائیر فورس (آر اے ایف) ٹائیفون جیٹ نے ایک ایرانی ڈرون کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
جب سے امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے ہیں اس وقت سے یہ پہلا موقع ہے کہ کسی برطانوی جیٹ نے ڈرون کو نشانہ بنایا ہے۔
یاد رہے کہ خطے میں کشیدگی بڑھنے کے سبب آر اے ایف نے رواں سال کے آغاز میں قطر میں ٹائیفونز کا ایک سکواڈرن تعینات کیا تھا۔
برطانوی وزیرِ دفاع نے واضح کیا ہے کہ برطانوی فوج کی بڑھتی ہوئی موجودگی کا مقصد برطانوی فورسز اور مفادات کا دفاع ہے اور برطانیہ امریکہ کی قیادت میں ہونے والے حملوں میں شریک نہیں ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فوجی حملے شروع کرنے کے بعد سے آر اے ایف کے جیٹ قطر اور قبرص کے اکرُتری بیس سے دفاعی پروازیں کر رہے ہیں۔
پاسداران انقلاب کا امریکہ اور برطانیہ کے تین آئل ٹینکرز کو میزائل حملے میں نشانہ بنانے کا دعویٰ
ایران کی سکیورٹی فورس پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے میزائل حملے میں امریکہ اور برطانیہ کے تین آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا ہے جن میں آگ لگ چکی ہے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق تین آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ نے کیا ہے۔
دوسری جانب امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے تاحال ان رپورٹس کی تصدیق نہیں کی۔

یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے اپنی یومیہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ علاقے میں سمندری سکیورٹی سے متعلق کئی واقعات رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق دو جہاز ’نامعلوم ہتھیار‘ سے ٹکرائے جس سے آگ لگ گئی۔
رپورٹ میں یہ واضح نہیں ہے کہ یہ جہاز کہاں سے ہیں یا کہاں رجسٹرڈ ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ سامنے آیا تھا کہ امریکہ نے نو ایرانی بحری جہازوں کو ’تباہ اور غرق‘ کر دیا ہے۔
ٹرتھ سوشل پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے ابھی آگاہ کیا گیا ہے کہ ہم نو ایرانی بحری جہازوں کو تباہ اور غرق کر چکے ہیں، ان میں کچھ بڑی اور اہم تھیں۔
