یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
تازہ ترین خبروں اور دنیا بھر کے اہم تجزیوں کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔
وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جمعے کو عمان میں ہوں گے۔ ایک طرف مذاکرات کی تیاریاں عروج پر ہیں تو دوسری طرف امریکی جنگی طیارے بھی مشرق وسطی پہنچ رہے ہیں۔ کیا امریکہ اور ایران میں مذاکرات پر اتفاق کے باوجود کشیدگی میں کمی واقع نہیں ہو سکتی؟
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
تازہ ترین خبروں اور دنیا بھر کے اہم تجزیوں کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔

،تصویر کا ذریعہFARS
ایران اور امریکہ مذاکرات سے ایک دن قبل ایران کے سرکاری انگریزی ٹی وی چینل پریس ٹی وی خرمشہر۔ فور میزائل پر ایک رپورٹ شائع کی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کے سب سے جدید طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں میں سے ایک خرمشہر فور کو پاسدارانِ انقلاب کے زیرِ زمین مراکز میں ایک میں نصب کر دیا گیا ہے۔
پریس ٹی وی کا دعویٰ ہے کہ خرمشہر۔ فور دو ہزار کلومیٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے اور یہ پندرہ سو کلوگرام وزنی دھماکہ خیز وارہیڈ لے جانے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔
گذشتہ برس ایران اور اسرائیل جنگ کے درمیان فارس نیوز ایجنسی نے ڈیفنس پریس ویب سائٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اس میزائل کے بارے میں ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ: ’اس میزائل کا پے لوڈ وارہیڈ ایسی صورتحال پیدا کر سکتا ہے کہ اگر تین یا چار خرمشہر۔ فور میزائل ایک ساتھ داغے جائیں تو یہ مغربی ایشیا کے خطے میں کسی بھی امریکی فوجی اڈے کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔‘
مضمون میں یہ بھی کہا گیا کہ خرمشہر۔ فور میزائل ’اسلامی جمہوریہ ایران کے طاقتور ہتھیاروں میں سے ایک‘ ہوگا اور یہ کہ خطے میں موجود برطانوی فوجی اڈے، بشمول قبرص میں ایک اڈہ، بھی اس کی حدِ مار کے اندر آتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عمان میں امریکہ اور ایران کے مذاکرات کے لیے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی مسقط کے لیے روانہ ہو چکے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی سٹیو وٹیکر اور داماد جارڈ کشنر قطر میں موجود ہیں۔
جمعرات کو ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ عباس عراقچی اپنے وفد کے ہمراہ عمان کے دارالحکومت مسقط کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں بقائی کا کہنا تھا کہ: ’ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ایرانی عوام کے مفاد اور خطے میں امن کو برقرار رکھنے کے لیے سفارتکاری کا استعمال جاری رکھیں۔‘
انھوں نے ’دوست پڑوسی اور علاقائی ممالک‘ کا مذاکرات میں کردار ادا کرنے پر شکریہ بھی ادا کیا۔
اس سے قبل وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے الجزیرہ کو بتایا تھا کہ صدر ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی سٹیو وٹیکر اور داماد جارڈ کشنر قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ چکے ہیں۔
بی بی سی فارسی کے مطابق ان دونوں شخصیات کی ایران اور امریکہ کے درمیان مسقط میں مذاکرات میں شرکت متوقع ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہم آج مشرقِ وسطیٰ میں مزید امریکی فوجی ساز و سامان کی آمد پر مسلسل رپورٹنگ کر رہے ہیں کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی کشیدگی برقرار ہے۔
اس پوسٹ میں پچھلے ہفتے کے دوران بی بی سی ویریفائی کی جانب سے ٹریک کی گئی ساز و سامان کی موجودگی کا خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے۔
ہماری ٹیم نے سیٹلائٹ تصاویر کا تجزیہ کیا ہے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک درجن ایف-15 لڑاکا طیارے، ایک ایم کیو-9 ریپر جنگی ڈرون اور متعدد اے-10 سی تھنڈر بولٹ ٹو طیارے اردن کی مُوفق سلطی ایئر بیس پر پہنچ چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہم نے یو ایس ایس ڈیلبرٹ ڈی بلیک نامی ایک گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر جہاز کی نقل و حرکت کا بھی سراغ لگایا ہے، جو مصر میں بحیرۂ روم سے بحیرۂ احمر کی جانب سوئز نہر سے گزرا ہے۔ ہماری ٹیم نے گذشتہ ہفتے خلیج کے اوپر پرواز کرنے والے امریکی بحریہ کے ایم کیو-4 سی ٹرائیٹن نگرانی ڈرون کی سرگرمیوں کو بھی نوٹ کیا تھا۔
اس خطے میں امریکہ کا ایک ای 11 اے طیارہ بھی موجود ہے، جو کہ مواصلاتی آلات سے لیس ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے یہاں پی ایٹ پوسیڈن اور ای تھری جی سینٹری سرویلینس طیاروں کی بھی موجودگی دیکھی ہے۔

،تصویر کا ذریعہPID KPK Govt
پشاور میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزرا، کور کمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس اور اعلیٰ سول و فوجی حکام کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندے شریک ہوئے۔
اجلاس کے آغاز میں مختلف واقعات میں ہلاک ہونے والے عام شہریوں، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور مرنے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
اجلاس میں صوبے میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات اور امن و استحکام کے لیے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔ شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جامع پالیسی کی کامیابی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں، عوامی نمائندوں، معززین اور وفاقی حکومت کی مشترکہ مشاورت اور عملی ہم آہنگی ضروری ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنے تمام وسائل بشمول فوج، پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور دیگر اداروں کو بروئے کار لاتے ہوئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ اجلاس میں طویل المدتی حکمتِ عملی پر بھی اتفاق کیا گیا جس کے تحت دہشت گردی کے محرکات کی نشاندہی اور خاتمہ کیا جائے گا تاکہ عوامی اعتماد بحال ہو اور حکومت و عوام یکجا ہو کر ملکی سلامتی اور ترقی کو یقینی بنائیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کو ماڈل گڈ گورننس اضلاع میں تبدیل کیا جائے گا۔ ان علاقوں میں سیکیورٹی، مواصلات، صحت، تعلیم، روزگار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے خصوصی پیکج دیا جائے گا تاکہ محرومیوں کا ازالہ ہو سکے۔
مزید کہا گیا کہ جن علاقوں سے عارضی نقل مکانی کی گئی ہے، وہاں متاثرہ افراد کی مکمل دیکھ بھال اور بحالی کو یقینی بنایا جائے گا۔ ان کی باعزت واپسی حکومت کی اولین ترجیح قرار دی گئی۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ ’امن ہماری اولین ترجیح ہے، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ سول حکومت، انتظامیہ، پاک فوج اور دیگر ادارے ایک پیج پر ہیں اور مل کر کوششیں جاری رکھیں گے۔ یہ ہم سب کی مشترکہ جنگ ہے اور اسے مشترکہ کوششوں سے ہی جیتا جا سکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جمعے کو عمان میں ہوں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کے بارے میں وقت اور نئے مقام کے بارے میں تصدیق کی تھی۔
ان مذاکرات سے متعلق مزید تفصیلات سے قبل یہ جاننا بھی اہم ہے کہ ایران سے کشیدگی کے دوران بدھ کو امریکی فضائیہ کا تیسرا ای-11 اے طیارہ یونان کے جزیرے کریٹ پر واقع خانیا انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانہ ہوا۔ تقریباً چار گھنٹے بعد یہ سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر پہنچا۔
یہ تجارتی طیارے، جنھیں خصوصی طور پر تبدیل کیا گیا ہے، ایک فضائی مواصلاتی مرکز کے طور پر کام کرتے ہیں تاکہ امریکی افواج وسیع علاقوں میں معلومات کو تیزی اور محفوظ طریقے سے شیئر کر سکیں۔
گذشتہ ہفتے ہم نے بتایا تھا کہ ایسے دو طیارے پہلے ہی خطے میں پہنچ چکے ہیں۔
طیاروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ماہر سٹیفن واٹکنز نے ہمیں بتایا کہ ’سب سے زیادہ خصوصی طیارے آخر میں آتے ہیں۔ اب جب یہ پہنچ رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ انھیں کام کرنا ہے۔‘
اب دوبارہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات سے متعلق چیلنجز پر تفصیل سے نظر دوڑاتے ہیں۔
عباس عراقچی نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’امریکہ کے ساتھ جوہری پروگرام پر مذاکرات جمعہ کو تقریباً صبح 10:00 بجے مسقط میں ہونے والے ہیں، تمام ضروری انتظامات کرنے کے لیے ’سلطنت کا شکریہ۔‘
ایران اور امریکہ نے ان مذاکرات سے متعلق بدھ کو امریکی نشریاتی ادارے ایکسوس سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے۔ تاہم اسرائیل کے چینل 12 کو حکام نے بتایا کہ امریکہ نے ایران کو مطلع کیا ہے کہ وہ جمعے کو ہونے والے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے مقام اور فارمیٹ کو تبدیل کرنے کے تہران کے مطالبات سے اتفاق نہیں کرتے۔
دو امریکی حکام کی جانب سے بیان کردہ اس اقدام کو ممکنہ طور پر میٹنگ کی منسوخی سمجھا گیا۔تاہم ایکسوس نے بعد میں یہ خبر دی کہ مذاکرات دوبارہ پٹری پر آگئے ہیں اور مشرق وسطیٰ کے کئی رہنماؤں کی مداخلت کے بعد عمان میں ہوں گے۔
اس سے قبل دونوں سینیئر امریکی عہدیداروں نے اطلاع دی تھی کہ ایران کی جانب سے ملاقات کے مقام اور مواد کے بارے میں سابقہ مفاہمت سے انکار کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت تعطل کا شکار ہوگئی تھی، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ واشنگٹن نے مذاکرات کو عمان منتقل کرنے یا اصل متفقہ فارمیٹ میں ترمیم کرنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی تھی۔
عباس عراقچی کے اعلان سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو این بی سی نیوز کو اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ ایرانی سپریم لیڈر کو ’بہت فکر مند‘ ہونا چاہیے۔
اسرائیلی چینل 12 نے اطلاع دی ہے کہ وائٹ ہاؤس کے ایلچی سٹیو وٹکوف، امریکی صدر کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر کے ساتھ، قطری وزیر اعظم سے ایرانی معاملے پر بات چیت کے لیے جمعرات کو قطر کا سفر کرنے کی توقع ہے۔
دونوں عہدیداروں نے اشارہ دیا کہ اگر ایران مذاکرات کے فارمیٹ پر نظر ثانی کرتا ہے تو امریکہ اس ہفتے کے آخر یا اگلے ہفتے ملاقات کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے بدھ کے روز اطلاع دی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان متوقع مذاکرات جمعہ کو سلطنت عمان میں ہوں گے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ’ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جمعہ کو مسقط میں ہونے والے ہیں۔‘ تسنیم نے مزید کہا کہ وہ ’جوہری پروگرام کے معاملے اور ایران پر سے پابندیاں اٹھانے تک محدود ہوں گے‘۔ اس کی تصدیق سٹوڈنٹس نیوز ایجنسی اثنا نے بھی کی ہے۔
ایران نے مسلسل سفارتی حل تک پہنچنے کی اپنی خواہش کا اعادہ کیا ہے، اس بات پر زور دیا ہے کہ بات چیت کو جوہری پروگرام کے مسئلے تک محدود رکھا جائے اور اپنے میزائل پروگرام یا دفاعی صلاحیتوں کے حوالے سے کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کر دیا جائے۔
اس کے برعکس، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کو اس سے قبل کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی سنجیدہ مذاکرات میں تہران کے میزائل ہتھیاروں اور دیگر مسائل کو شامل کرنا چاہیے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ ’اگر ایرانی ملنا چاہتے ہیں تو ہم تیار ہیں،‘ لیکن انھوں نے مزید کہا کہ مذاکرات میں جوہری تنازع کے علاوہ ایران کے بیلسٹک میزائلوں کی رینج، مشرق وسطیٰ میں گروپوں کے لیے اس کی حمایت اور اپنے لوگوں کے ساتھ اس کا سلوک شامل ہونا چاہیے۔
ایران کے پاسداران انقلاب نے خلیجی پانیوں میں دو آئل ٹینکرز کو قبضے میں لے لیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خبر رساں ایجنسی تسنیم نے جمعرات کو یہ خبر دی ہے کہ ایران کے پاسداران انقلاب نے خلیج میں دو آئل ٹینکرز کو قبضے میں لے لیا ہے۔
تسنیم کے مطابق دو ٹینکروں پر 10 لاکھ لیٹر سے زیادہ سمگل شدہ ایندھن ملا ہے اور ’15 غیر ملکی عملے کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔‘
دونوں ٹینکرز کو قبضے میں لینے کا عمل تہران کی جانب سے مظاہرین کے خلاف تشدد کے استعمال کے جواب میں واشنگٹن کی جانب سے خطے میں بحری فوج کی تعیناتی کے بعد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ہوا ہے۔
ایرانی افواج باقاعدگی سے آئل ٹینکرز کو نشانہ بناتی ہیں جن پر تہران خلیج اور آبنائے ہرمز میں غیر قانونی تجارتی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگاتا ہے، جو عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے ایک اہم آبی گزرگاہ ہے۔
یہ واقعہ حالیہ مہینوں میں پیش آنے والے اسی طرح کے واقعات کے سلسلے میں تازہ ترین ہے۔
ایران میں صارفین کے لیے ایندھن کی قیمتیں دنیا میں سب سے کم ہیں، جس کی وجہ سے دیگر ممالک کو ایندھن کی اسمگلنگ انتہائی منافع بخش ہے۔
ایران نے مذاکرات کے لیے جگہ تبدیل کرنے کی درخواست کیوں کی؟

،تصویر کا ذریعہMajid Saeedi/Getty Images
ایک سفارتی ذریعے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ مذاکرات اصل میں ترکی میں ہونے والے تھے، لیکن ایرانیوں کی درخواست پر تبدیلی آئی اور امریکیوں نے اس جگہ پر رضامندی ظاہر کی۔
ایک علاقائی اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو وضاحت کی کہ ’ایران چاہتا تھا کہ یہ ملاقات عمان میں اس کے جوہری پروگرام کے حوالے سے خلیجی عرب ریاست میں ہونے والے مذاکرات کے پچھلے دور کی توسیع کے طور پر منعقد کی جائے، اور اس نے ترکی سے جگہ تبدیل کرنے کی درخواست کی تاکہ بات چیت کو وسیع کرنے سے گریز کیا جائے تاکہ ایرانی بیلسٹک میزائل جیسے مسائل کو شامل کیا جا سکے۔‘
پاکستان، سعودی عرب، قطر، مصر اور متحدہ عرب امارات سمیت خطے کے کئی دیگر ممالک کے وزرا کی بھی شرکت متوقع تھی لیکن ایک علاقائی ذریعے نے روئٹرز کو بتایا کہ تہران صرف امریکہ کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات چاہتا ہے۔
ایران نے کہا کہ وہ ’اپنے طاقتور بیلسٹک میزائل پروگرام پر کوئی رعایت نہیں کرے گا - جو مشرق وسطیٰ کے سب سے بڑے پروگراموں میں سے ایک ہے‘ اور اسے ’مذاکرات میں سرخ لکیر‘ کے طور پر بیان کیا۔
ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی کے بعد واشنگٹن اور تہران نے مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا، جبکہ تہران نے اس کے خلاف کسی بھی حملے کا سخت جواب دینے کا عزم ظاہر کیا۔
صورتحال سے واقف ایک ذریعے نے بتایا کہ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کرنے والے تھے۔
گذشتہ ہفتے ایرانی ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تین شرائط رکھی ہیں: ایران میں یورینیئم کی افزودگی کو مکمل روکنا، تہران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر پابندیاں، اور علاقائی پراکسیز کی حمایت کا خاتمہ۔
ایران نے طویل عرصے سے کہا ہے کہ تینوں مطالبات اس کی خودمختاری کی ناقابل قبول خلاف ورزیوں کی نمائندگی کرتے ہیں، لیکن ایرانی حکام نے روئٹرز کو بتایا کہ ملک کے مذہبی پیشوا اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو یورینیئم کی افزودگی کو نہیں، سب سے بڑی رکاوٹ کے طور پر دیکھتے ہیں۔
مذاکرات میں کون شریک ہو گا؟
وائٹ ہاؤس اور ایرانی ایوان صدر کے مطابق مذاکرات میں ایران کی نمائندگی اس کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے جب کہ امریکہ کی نمائندگی مشرق وسطیٰ کے امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف کریں گے۔
سٹیو وِٹکوف کا ٹرمپ کے دور میں خارجہ پالیسی کے محاذ پر خاص کردار رہا ہے، اور یوکرین میں روسی جنگ کو ختم کرنے کی کوششوں میں بھی وہ پیش پیش ہیں۔
جہاں تک عباس عراقچی کا تعلق ہے تو وہ ایک تجربہ کار سفارت کار ہیں جنھوں نے اپنا کریئر ایرانی وزارت خارجہ میں گزارا، ایک ہنر مند اور صبر آزما مذاکرات کار کے طور پر شہرت حاصل کی۔ وہ روانی سے انگریزی بولتے ہیں اور برطانوی یونیورسٹی آف کینٹ میں اسلامی سیاسی فکر پر ڈاکٹریٹ کا مقالہ لکھا۔

،تصویر کا ذریعہWild Life
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے مسلم آباد میں پہاڑی سے گر کر شدید زخمی ہونے والا ایک نایاب تیندوا تمام تر کوششوں کے باوجود جانبر نہ ہو سکا۔ ایک مقامی شہری کی جانب سے اس کی جان بچانے کی دلیرانہ اور انسان دوست کوشش نے عوام اور محکمہ وائلڈ لائف کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
مسلم آباد کے رہائشی محمد حسین نے بتایا کہ انھوں نے پہاڑ کے دامن میں ایک زخمی تیندوے کو بے بسی کی حالت میں دیکھا جو شدید سردی کے باعث نڈھال تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’میری نظر پڑتے ہی مجھ سے رہا نہ گیا، میں نے فوراً اپنی چادر اس پر ڈال دی تاکہ اسے کچھ گرمائش مل سکے۔ قریب جا کر اٹھانے کی کوشش کی مگر اس کے جسم کا ایک حصہ ٹوٹا ہوا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہWild Life
محمد حسین کے مطابق جب تیندوا موقع پر سنبھل نہ سکا تو انھوں نے دوستوں کو مدد کے لیے بلایا۔ دوستوں کی مدد سے اسے چارپائی پر ڈال کر گھر منتقل کیا تاکہ سردی سے بچایا جا سکے اور فوری مدد فراہم کی جا سکے۔
انھوں نے بتایا کہ ’میں چاہتا تھا وہ کسی بھی طرح بچ جائے کیونکہ مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ کئی روز سے زخمی حالت میں برف میں پھنسا رہا ہے۔‘
محمد حسین نے تیندوے کو دیسی گھی اور خوراک دینے کے ساتھ آگ کے قریب رکھا اور پولیس کو اطلاع دی تاکہ متعلقہ ادارے اسے ہسپتال منتقل کر سکیں۔
محکمہ وائلڈ لائف کے ڈویلپمنٹ افسر فیصل امتیاز نے بتایا کہ اطلاع ملتے ہی ٹیم گاؤں روانہ ہوئی۔ ان کے مطابق جب ٹیم موقع پر پہنچی تو تیندوا ایک کمرے میں گرم کمبل میں لپٹا ہوا تھا۔ اسے فوری طور پر گاڑی میں منتقل کر کے طبی مرکز لے جایا جا رہا تھا تاہم شدید زخمی ہونے کے باعث وہ طبی مرکز کے قریب پہنچتے ہی دم توڑ گیا۔

،تصویر کا ذریعہWild Life
فیصل امتیاز نے کہا کہ ابتدائی مشاہدے سے معلوم ہوتا ہے کہ تیندوا پہاڑی سے گرنے کے باعث شدید زخمی ہوا تھا۔ اس کے جسم کا ایک حصہ ٹوٹ چکا تھا جبکہ طویل وقت تک برف میں پڑے رہنے کے سبب وہ انتہائی کمزور ہو گیا تھا۔ تیندوے کا پوسٹ مارٹم کر لیا گیا ہے اور چند روز میں رپورٹ موصول ہونے کے بعد اس کے زخمی ہونے کی حتمی وجوہات سامنے آ سکیں گی۔
انھوں نے مقامی شہری محمد حسین کے جذبۂ ہمدردی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی مثالیں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہیں، جہاں ایک عام شہری اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر جنگلی حیات کو بچانے کی کوشش کرے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ عمل انسان اور جنگلی حیات کے درمیان ہمدردی کے رشتے کو مضبوط کرتا ہے۔ اگر مقامی افراد جنگلی حیات کا خیال رکھیں تو اس سے کافی بہتری آ سکتی ہے۔ جس طرح محمد حسین نے تیندوا کو ایک مشکل جگہ سے اٹھا کر گھر منتقل کیا، ایسی مثالیں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہیں۔‘
مقامی شہری محمد حسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے افسوس ہے کہ میں اس تیندوا کی جان نہیں بچا سکا۔ اگر مجھے یہ زخمی ہونے کے فوری بعد مل جاتا تو میں بروقت بچانے کی کوشش کرتا۔‘

،تصویر کا ذریعہ@DrSJaishankar
انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا کہنا ہے کہ امریکہ سے تاریخی تجارتی معاہدہ آخری مراحل پر ہے اور یہ بہت جلد طے پا جائے گا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’یہ ہمارے دوطرفہ تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گا، جس میں تعلقات کے لیے وسیع امکانات موجود ہیں۔‘
ایس جے شنکر نے کہ انھوں نے امریکہ کا نتیجہ خیز اور مثبت دورہ مکمل کیا ہے۔ انھوں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی گرمجوش مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمارا نایاب معدنیات پر بھی تعاون تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔‘ انڈین وزیر خارجہ نے کہا کہ ’آئندہ دنوں میں تزویراتی امور، دفاع اور توانائی پر مزید روابط کی توقع ہے۔ انڈین وزیر خارجہ نے کہا کہ ’مجموعی طور پر مجموعی طور پر ایک واضح پیش رفت دکھائی دیتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہ@DrSJaishankar

،تصویر کا ذریعہEPA
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس کے ساتھ چار سالہ جنگ میں اب تک 55 ہزار یوکرینی فوجی میدانِ جنگ میں مارے جا چکے ہیں۔
زیلنسکی نے یہ اعداد و شمار بُدھ کو فرانسیسی ٹی وی چینل فرانس 2 کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ بڑی تعداد میں افراد سرکاری طور پر لاپتا قرار دیے گئے ہیں۔
کئیو اور ماسکو دونوں ہی وقتاً فوقتاً ایک دوسرے کے نقصانات کے تخمینے جاری کرتے رہے ہیں لیکن اپنی ہلاکتوں کی تفصیلات شاذ و نادر ہی سامنے لاتے ہیں۔ تاہم بی بی سی نے روس کی جانب سے لڑائی میں مارے جانے والے تقریباً ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد کے ناموں کی تصدیق کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ کے خاتمے کی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں، جو 22 فروری 2022 کو روس کے یوکرین پر مکمل حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔
امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے جمعرات کو متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں روسی اور یوکرینی مذاکرات کاروں سے دوسرے روز بھی بات چیت کی تاکہ امریکی تجویز کردہ امن منصوبے کی تفصیلات طے کی جا سکیں۔
یہ دوسرا سہ فریقی اجلاس تھا اور سٹیو وٹکوف نے ایکس پر لکھا کہ بات چیت ’تفصیلی اور نتیجہ خیز‘ رہی ہے لیکن ’اب بھی کافی کام باقی ہے۔‘
سب سے مشکل مسئلہ علاقہ ہے، کیونکہ روس مطالبہ کر رہا ہے کہ یوکرین مشرقی صنعتی خطے دونباس کے باقی حصے بھی اس کے حوالے کرے، جو فی الحال ماسکو کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔
ٹرمپ اکثر کہتے ہیں کہ ہر ہفتے ہزاروں یوکرینی اور روسی بلا ضرورت ہلاک ہو رہے ہیں۔ مغربی انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی تخمینے جاری کرتی ہیں، لیکن ان کی تصدیق ممکن نہیں۔
زیلنسکی نے آخری بار دسمبر 2024 میں یوکرین کی ہلاکتوں کے بارے میں بتایا تھا، جب انھوں نے تعداد 43 ہزار بتائی تھی۔
فرانسیسی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ’یوکرین میں سرکاری طور پر میدانِ جنگ میں مارے جانے والے فوجیوں کی تعداد۔۔ چاہے وہ پیشہ ور ہوں یا جبری بھرتی شدہ ۔۔ 55 ہزار بنتی ہے۔‘
زیلنسکی کے مطابق سرکاری طور پر بتائی گئی تعداد یوکرین کے مجموعی نقصانات سے کہیں کم ہے۔ انھوں نے خود کہا کہ ’بڑی تعداد میں لوگ‘ لاپتا ہیں۔
چھ ماہ قبل یوکرین کی وزارتِ داخلہ نے 70 ہزار سے زائد افراد کو سرکاری طور پر لاپتا قرار دیا تھا، جن میں فوجی اور عام شہری دونوں شامل ہیں، لیکن اس کی تفصیل کبھی نہیں دی جاتی۔
اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ ہلاکتوں کے بارے میں معلومات نہایت حساس ہیں اور یہ مورال پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
یوکرین کے قبرستانوں میں فوجی قبریں نمایاں ہیں، جن پر نیلے اور پیلے قومی پرچم لگے ہوتے ہیں اور اکثر کتبوں پر فوجی کی وردی میں تصویر کندہ ہوتی ہے۔
ہم نے ایسی ماؤں سے بھی ملاقات کی ہے جو اب بھی اپنے بیٹوں کو تلاش کر رہی ہیں، جو میدانِ جنگ سے واپس نہیں آئے۔ اکثر وہ اس امید سے جڑی رہتی ہیں کہ ان کے بیٹے جنگی قیدی ہیں اور روس میں کہیں قید ہیں، اگرچہ ان کے نام کسی سرکاری فہرست میں شامل نہیں۔
ریڈ کراس جیسی تنظیموں کو روسی جیلوں تک رسائی نہایت محدود ہے۔
دوسرا امکان یہ ہے کہ لاپتہ افراد مارے جا چکے ہیں اور ان کی لاشیں روس کے زیرِ قبضہ علاقوں سے برآمد نہیں ہو سکیں، یا پھر ان کی باقیات ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے شناخت نہیں ہو پائیں۔
وقتاً فوقتاً دونوں ممالک لاشوں کا تبادلہ کرتے ہیں، قیدیوں کے تبادلے کے علاوہ، لیکن گذشتہ اگست کے بعد سے ایسا کوئی تبادلہ نہیں ہوا۔
سٹیو وٹکوف نے اعلان کیا کہ ابوظہبی مذاکرات میں ایک اور قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق ہوا ہے۔ اس میں 314 قیدیوں کا تبادلہ شامل ہے۔ ’پانچ ماہ میں پہلا ایسا تبادلہ‘ ہوا۔
سٹیو وٹکوف نے مزید کہا کہ ’اگرچہ ابھی کافی کام باقی ہے، لیکن ایسے اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ مسلسل سفارتی کوششیں ٹھوس نتائج دے رہی ہیں اور یوکرین میں جنگ کے خاتمے کی کوششوں کو آگے بڑھا رہی ہیں۔‘
یہ مذاکرات ایسے وقت شروع ہوئے جب روس نے ایک ہفتے کے وقفے کے بعد یوکرین پر دوبارہ حملے کیے۔ یہ وقفہ ٹرمپ کی درخواست پر ولادیمیر پوتن نے رکھا تھا، جب یوکرین میں شدید سردی کا راج تھا۔
روس نے یوکرین کے توانائی کے شعبے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد بجلی اور حرارت سے محروم ہو گئے جبکہ درجہ حرارت منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا۔

،تصویر کا ذریعہJUAN BARRETO/AFP via Getty Images
’ہمارا وطن ناقابل تسخیر ہے اور کوئی اس مقدس مٹی کے ایک سینٹی میٹر پر بھی قبضہ نہیں کر سکتا۔‘
سنہ 2013 میں نکولس مادورو نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی حکومت کے پاس ’دنیا کا سب سے طاقتور فضائی دفاعی نظام‘ ہے تاکہ ’کوئی غیر ملکی طیارہ کبھی بھی ملک کی مقدس فضاؤں پر حملہ آور نہ کر سکے۔‘
لیکن اس سال 3 جنوری کو نکولس مادورو کے وعدوں کے تقریباً 13 سال بعد ایک نہیں بلکہ 150 سے زیادہ امریکی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے وینزویلا کی فضائی حدود کو عبور کیا اور ایک بے مثال فوجی کارروائی میں کراکس کی طرف پیش قدمی کی جس کے نتیجے میں نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا گیا۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ان واقعات کی ویڈیوز اور تصاویر سے پتا چلا کہ وینزویلا کے مہنگے فضائی دفاعی نظام نے مدد کرنے کے لیے بہت کم مددگار ثابت ہوئے۔
بہترین نظام، کم از کم کاغذ پر
امریکی میرین کور کے ایک ریٹائرڈ کرنل اور سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے محقق مارک کونسن نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ وینزویلا کے فضائی دفاع کا غیر مؤثر ہونا ایک معمہ ہے، کیونکہ بتایا یہی جا رہا تھا کہ یہ نظام بہت طاقتور تھا۔‘
لیکن اس سے پہلے کہ ہم اس ملک کے فضائی دفاع کے غیر موثر ہونے کی ممکنہ وجوہات پر توجہ دیں، بہتر ہے کہ پہلے اس نظام کو بنانے والے آلات پر ایک نظر ڈالیں۔
ہیوگو شاویز کے زمانے سے کریملن کے ساتھ دستخط کیے گئے متعدد معاہدوں کے مطابق سنہ 2009 سے، کراکس روسی ساختہ سسٹمز جیسے کہ S-300 اور Buk-M2 خرید رہا ہے۔
پہلا سسٹم موبائل میزائل لانچرز پر مشتمل ہے اور سینٹر فار انٹرنیشنل اینڈ سٹریٹجک سٹڈیز کے مطابق اس کے 1,480 کلوگرام، سات میٹر کے میزائل 150 کلومیٹر کے فاصلے پر ہوائی جہاز، ہیلی کاپٹروں یا کروز میزائلوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس نظام کو امریکی پیٹریاٹ سسٹم کا مدمقابل سمجھا جاتا ہے۔
Buk-M2 سسٹم درمیانے درجے کی کلاس میں ایک ایسا ہی نظام ہے جو 40 کلومیٹر دور تک فضائی اہداف کو تباہ کر سکتا ہے۔
پیچورا اور ایگلا ایس میزائلوں کی رینج کم ہے۔ ایگلا ایس میزائل کندھے سے لانچ کیا جانے والا ہتھیار ہے اور اپنے انفراریڈ گائیڈنس سسٹم کی بدولت کم اونچائی پر طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کا شکار کر سکتا ہے۔
نکولس مادورو نے چند ہفتے پہلے کہا تھا کہ ’دنیا کی تمام فوجیں ایگلا ایس کی طاقت سے واقف ہیں، اور وینزویلا کے پاس ان میں سے کم از کم 5000 ہیں۔‘
رائل انسٹی ٹیوٹ آف برٹش ڈیفنس سروسز میں الیکٹرانک وارفیئر اور ریڈار کے ماہر تھامس وِٹنگٹن نے بی بی سی منڈو کے ساتھ ایک انٹرویو میں اس بات پر زور دیا کہ یہ نظام کچھ دشمنوں کے لیے مہلک ہے، لیکن امریکہ جیسے انتہائی ترقی یافتہ دشمن کے لیے، یہ سکریپ میٹل کے سوا کچھ نہیں ہے۔‘
مارک کونسن کا بھی کچھ ایسا ہی خیال ہے۔
ان کے مطابق ’روسی نظاموں نے بظاہر یوکرین میں نسبتاً بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن وہ اسرائیل اور اب امریکہ جیسے اعلیٰ درجے کے حریفوں کے خلاف ناکام رہے ہیں‘۔
وینزویلا کی طرح ایران کا فضائی دفاعی نظام روسی آلات پر انحصار کرتا ہے اور گذشتہ سال کے وسط میں پہلے اسرائیلی فضائیہ اور پھر امریکہ کی طرف سے ملک کی جوہری تنصیبات کے خلاف کیے جانے والے بم دھماکوں کو روکنے میں ناکام رہا۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
مفروضے
وینزویلا کے فوجی حکام نے ابھی تک اس بات کی وضاحت نہیں کی ہے کہ ان کے فضائی دفاع نے کیوں رد عمل ظاہر نہیں کیا۔
لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ مختلف عوامل کے امتزاج نے اس ناکامی میں کردار ادا کیا۔
تھامس وِٹنگٹن کہتے ہیں کہ ’چھ ماہ کے اندر امریکہ کو وینزویلا کے فضائی دفاعی سیٹ اپ کی نشاندہی کرنے اور کیریبین میں ایک بحری بیڑا بھیج کر اس کی طاقت اور کمزوریوں کا اندازہ لگانے کا موقع ملا۔
یہ واضح ہے کہ امریکی افواج وینزویلا کے دفاعی نظام میں کمزور پوائنٹس تلاش کرنے میں کامیاب ہوئیں۔
اس برطانوی ماہر کا خیال ہے کہ ’یہ امکان ہے کہ، سسٹم کے کمپیوٹرز پر سائبر حملوں کے ساتھ ہی، جیمنگ ہوئی جس نے ریڈارز اور کمیونیکیشن نیٹ ورک کو مکمل طور پر غیر فعال کر دیا۔‘
وینزویلا کے ایک ریٹائرڈ آرمی میجر نے بھی اس خیال کی تصدیق کی ہے۔
فوجی افسر نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ ’امریکی الیکٹرانک جنگی ٹیکنالوجی بہت جدید ہے۔ ان کے پاس ایسا سامان ہے جو ریڈار کو ناکارہ بناتا ہے اور ان کے طیاروں کو پوشیدہ بنا دیتا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ایک بار جب ریڈار نیچے چلے گئے تو باقی بہت آسان تھا کیونکہ ان میں بھی حیرت کا عنصر تھا۔‘
مارک کونسن کا یہ بھی ماننا ہے کہ امریکہ کی تکنیکی برتری کے علاوہ وینزویلا کی افواج نے واشنگٹن کے ساتھ ممکنہ تصادم کی تیاری میں سنگین غلطیاں کیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’بہت سے سسٹم بے نقاب اور کھلی جگہوں پر رکھے گئے تھے، جس کی وجہ سے انھیں تباہ کرنا آسان ہو گیا۔‘
ان کے مطابق ’اب پیچھے مڑ کر دیکھیں تو یہ بات بالکل واضح ہے کہ ان یونٹوں کو اچھی طرح چھپایا جانا چاہیے تھا اور چکمہ دینا ضروری تھا۔‘
حملوں کے بعد جاری ہونے والی تصاویر میں لا کارلوٹا ایئر بیس کے رن وے کے ساتھ ایک تباہ شدہ Buk-M2 سسٹم دکھایا گیا ہے، جو بیس کے ساتھ والی ہائی وے سے بھی آسانی سے نظر آتا ہے۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’وینزویلا کی فوج کی تربیت اور تیاری شاید کم سطح پر تھی، کیونکہ نظام کی غلط تعیناتی اس بات کو واضح طور پر ظاہر کرتی ہے۔‘
اگرچہ وینزویلا کے حکام نے حالیہ مہینوں میں متعدد فوجی مشقوں کا اعلان کیا تھا، لیکن 3 جنوری کے واقعات نے ظاہر کیا کہ یہ مشقیں بالکل بھی کافی نہیں تھیں۔
بم دھماکوں میں بچ جانے والے فوجیوں میں سے ایک نے تل کووال اخبار کو بتایا ’وہ اتنے تیز تھے کہ ہمارے پاس ردِ عمل یا جوابی حملہ کرنے کا وقت نہیں تھا۔‘
ریکارڈو سالزار، ایک فرسٹ سارجنٹ جو لا کارلوٹا بیس پر بمباری میں زخمی ہوا تھا، نے ٹیلیسور کے ساتھ ایک انٹرویو میں ایسی ہی کہانی سنائی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے دو اگلا میزائل اٹھا کر تیار کیے، لیکن جیسے ہی میں نے انھیں اپنے کندھے پر رکھنے کی کوشش کی، ایک بم میری طرف سے ٹکرایا اور مجھے ہوا میں پھینک دیا، جس سے میں بے ہوش ہو گیا۔‘
یہ فوج سے زیادہ پولیس کی طرح ہے۔
مارک کونسن کا یہ بھی خیال ہے کہ 3 جنوری کے واقعات شاویز کے دور میں وینزویلا کے فوجی نظریے میں تبدیلیوں کا نتیجہ تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ برسوں سے، فوج نے بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنے کی بجائے اندرونی سلامتی پر زیادہ توجہ دی ہے۔‘
جنرل ہیبرٹ گارشیا پلازہ بھی اس رائے سے متفق ہیں اور اس کی تصدیق کرتے ہیں۔
نکولس مادورو حکومت میں ٹرانسپورٹیشن اور خوراک کے سابق وزیر نے بتایا کہ ’امریکیوں نے محسوس کیا کہ وینزویلا کی مسلح افواج کو صرف غیر متناسب جنگ اور مزاحمت کے لیے تربیت دی جاتی ہے اور وہ بڑے پیمانے پر جنگ کے قابل نہیں ہیں۔‘
فوجی اہلکار نے جو کچھ ہوا اس کی ذمہ داری براہ راست موجودہ وزیر دفاع جنرل ولادیمیر پیڈرینو لوپیز پر ڈال دی اور کہا کہ وہ جو حکمت عملی ملک کے اندر احتجاج اور تحریکوں پر قابو پانے کے لیے اختیار کی گئی وہی جنگ کے لیے بھی اختیار کی۔
نیو یارک ٹائمز جیسے ذرائع ابلاغ کے مطابق وینزویلا کے فضائی دفاع کے کچھ آلات آپریشن کے دوران کام نہیں کر رہے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ حالیہ برسوں میں بدانتظامی اور معاشی بحران اس دفاعی ناکامی کی بڑی وجہ تھے۔
تھامس وِٹنگٹن کہتے ہیں کہ ’بدعنوانی ہمیشہ نقصان دہ ہوتی ہے، خاص طور پر جب بات قومی دفاع اور سلامتی کی ہو۔‘
چند ہفتے پہلے، آندرے سربن پونٹ، خارجہ پالیسی اور دفاع کے شعبے کے ایک بین الاقوامی تجزیہ کار اور سینٹر فار اکنامک اینڈ سوشل ریسرچ کے سربراہ، نے وینزویلا کے دفاعی نظام کی افادیت پر سوال اٹھایا۔
انھوں نے بی بی سی منڈو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ’وینزویلا کی فوج کی برائے نام طاقت اور میدان میں کام کرنے کے لیے تیار ہونے میں بہت فرق ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہU.S. Air Force via Getty Images
’نظام مکمل تباہ نہیں ہوا‘
اگرچہ امریکی حملوں اور بمباری نے وینزویلا کے فضائی دفاع کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، لیکن یہ نظام مکمل طور پر تباہ نہیں ہوا ہے۔
تھامس کے مطابق ’امریکہ کا مقصد دفاعی نیٹ ورک کو مکمل طور پر تباہ کرنا تھا، وہ ایک فضائی راہداری بنانا چاہتے تھے تاکہ ہیلی کاپٹر نکولس مادورو کو ہٹانے کے لیے کام کر سکیں۔‘
وینزویلا کا ڈرون اسلحہ خانہ اور Su-30MK2 لڑاکا طیاروں کا سکواڈرن، کئی میزائل لانچروں کے ساتھ، ملک کے فوجی اثاثوں میں شامل ہیں جو برقرار اور فعال ہیں۔
ان کے مطابق حالیہ واقعات وینزویلا کی فوجی کمان کو اپنی ساخت اور صلاحیتوں کا بنیادی جائزہ لینے پر مجبور کر رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم نہیں جانتے کہ اندرون خانہ کیا ہو رہا ہے اور آیا کسی کو ان کے عہدے سے ہٹایا گیا ہے یا نہیں، لیکن سچ یہ ہے کہ ایک مؤثر اور مہلک جنگی صلاحیت حاصل کرنے کے لیے ڈھانچے کا جائزہ لینا ضروری ہے۔‘
ابھی تک صرف صدارتی گارڈ کے سربراہ اور صدارتی گارڈ رجمنٹ کے کمانڈر جنرل جیویر مارکانو تباتا کی برطرفی کی سرکاری طور پر اطلاع دی گئی ہے۔
وینزویلا کے انٹیگریٹڈ ایرو سپیس ڈیفنس کے کمانڈر میجر جنرل جوس لوئس ٹریمونٹ جمینیز کی برطرفی کے بارے میں بھی افواہیں پھیلی ہیں۔
یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ آیا یہ آپریشن، جس نے وینزویلا کی فوج کی ناقابل یقین کمزوریوں کو بے نقاب کیا ہے، بالآخر ملک کے فوجی ڈھانچے میں تبدیلی کا باعث بنے گا۔

،تصویر کا ذریعہAPP
اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ سے ملاقات کی۔ وزارتِ داخلہ پہنچنے پر وزیر داخلہ نے چینی سفیر کا استقبال کیا۔
چینی سفیر نے بلوچستان میں عام شہریوں اور سکیورٹی فورسز پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کی مذمت کی اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چین اس دکھ کی گھڑی میں متاثرین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور دہشت گردی کی ہر شکل کی مذمت کرتا ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی منظم اور منصوبہ بندی کے تحت کی گئی، تاہم سکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کی۔ انھوں نے چینی سفیر کو ان آپریشنز کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا اور بتایا کہ چینی شہریوں اور منصوبوں کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چین کے شہریوں اور منصوبوں کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے اور کوئی دشمن پاک۔چین دوستی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
محسن نقوی نے مزید بتایا کہ چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے ایک خصوصی پروٹیکشن یونٹ قائم کیا جا رہا ہے جبکہ جدید چینی ٹیکنالوجی اور آلات انسدادِ دہشت گردی کے مربوط آپریشنز میں مددگار ثابت ہوں گے۔ انھوں نے اپنے حالیہ دورۂ چین کے بارے میں بھی سفیر کو بریفنگ دی۔
ملاقات میں انسدادِ دہشت گردی، داخلی سلامتی اور سکیورٹی تعاون پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ فریقین نے انٹیلیجنس کے تبادلے اور سائبر کرائم کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر داخلہ اور چینی سفیر نے پاک۔چین سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
چینی سفیر نے پاکستانی حکومت کی جانب سے چینی شہریوں کے لیے کیے گئے حفاظتی اقدامات پر شکریہ ادا کیا، جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے چین کی ہر موقع پر پاکستان کے لیے غیر متزلزل حمایت پر اظہارِ تشکر کیا۔
اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، سیکریٹری داخلہ، خصوصی سیکریٹری داخلہ اور چینی سفارتخانے کے سینیئر حکام بھی موجود تھے۔

،تصویر کا ذریعہ@sohrab_barkat
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے جمعرات کو کہا ہے کہ پاکستانی حکام کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اور بلا مشروط صحافی سہراب برکت کو رہا کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کا ادارہ ’سیاست ڈاٹ پی کے‘ آزادانہ طور پر خبر رسانی جاری رکھ سکے۔
سہراب برکت کو 26 نومبر کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اقوامِ متحدہ کی کانفرنس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ ان پر رپورٹنگ سے متعلق تین الگ الگ مقدمات درج ہیں۔
21 جنوری کو تیسرے مقدمے میں ان کی ضمانت مسترد کر دی گئی، جس کے بعد بغیر فردِ جرم کے ان کی حراست دو ماہ سے زائد ہو گئی۔ کمیٹی کے مطابق یہ بات ان کے وکیل سعد رسول کی ایک پوسٹ اور عدالتی فیصلے کی کاپی سے ظاہر ہوتی ہے۔
کمیٹی کے مطابق 18 جنوری کو ان کے ادارے ’سیاست‘ نے اعلان کیا کہ وہ اسلام آباد دفتر بند کر رہا ہے، اور اس فیصلے کو سہراب برکت کی گرفتاری سے جوڑا۔
’سہراب برکت کی طویل حراست من مانی اور بلاجواز ہے اور ’سیاست‘ کے اسلام آباد دفتر کی بندش پاکستان میں آزاد صحافت کے سکڑتے ہوئے دائرے کو ظاہر کرتی ہے۔
سی پی جے کے ایشیا پیسفک ڈائریکٹر نے کہا کہ ’پاکستانی حکام کو چاہیے کہ وہ فوراً سہراب برکت کو رہا کریں، ’سیاست‘ پر دباؤ ڈالنا بند کریں، اور قانون کا غلط استعمال کر کے تنقیدی رپورٹنگ کو خاموش نہ کریں۔‘
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے 5 اگست 2025 کو پہلا مقدمہ درج کیا جس میں الزام لگایا گیا کہ سہراب برکت نے ریاستی اداروں کے خلاف ’توہین آمیز ریمارکس‘ دیے اور غلط معلومات پھیلائیں۔ مزید دو شکایات 26 اگست اور 5 دسمبر کو درج کی گئیں۔
اگرچہ وہ پہلے دو مقدمات میں ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، لاہور ہائی کورٹ نے تیسرے مقدمے میں ان کی درخواست مسترد کر دی کیونکہ عدالت نے انھیں ’مفرور‘ قرار دیا۔ وکیل سعد رسول نے کہا کہ ان کے مؤکل کو پہلی دو شکایات کے بارے میں گرفتاری سے قبل کبھی اطلاع نہیں دی گئی۔
’سیاست‘ کے ایک صحافی نے کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سہراب برکت کی طویل حراست کے باعث ادارے کے لیے ایک فعال نیوز روم قائم رکھنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ انتقامی کارروائی کا خوف موجود ہے۔
چند محدود ملازمین اب بھی گھروں سے کام کر رہے ہیں، لیکن صحافی کے مطابق ذرائع تنظیم سے بات کرنے میں زیادہ ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں۔ عملے کو یہ انتباہ بھی دیا گیا ہے کہ اگر وہ اپنا کام جاری رکھتے ہیں تو انھیں بھی سہراب برکت جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وزیر اطلاعات عطا اللہ طارڑ اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ڈائریکٹر سید خرم علی نے سی پی جے کے پیغامات اور ای میلز کا کوئی جواب نہیں دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عسکری اور سفارتی محاذ پر انڈیا کے جھوٹ کا بیانیہ دفن ہو چکا ہے، انڈیا جس زبان میں بھی بات کرے گا اس کو اسی انداز میں جواب دیا جائے گا۔
پانچ فروری کے حوالے سے اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ انڈیا کی جانب سے دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے، انڈیا پاکستان پر حملوں میں ’ذلت آمیز شکست‘ کے بعد اب پراکسیز سے دہشت گردی کروا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کے جارحانہ عزائم اور سازشیں ترک ہونے تک خطے میں امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔
شہباز شریف کے مطابق ’ہم امن چاہتے ہیں لیکن یہ امن برابری کی بنیاد پر ہی قائم ہو سکتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ فلسطین اور (انڈیا کے زیر انتظام) کشمیر کے حوالے سے پاکستان اپنے اصولی موقف پر ڈٹا رہے گا۔

پاکستان کی فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے بلوچستان میں شدت پسندوں کے خلاف حالیہ آپریشن میں 216 شدت پسند ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’29 جنوری 2026 کو بلوچستان کے ضلع پنجگور اور ہرنائی کے نواحی علاقوں میں کارروائیاں اس وقت شروع کی گئیں جب شدت پسند عناصر مقامی آبادی کے لیے فوری خطرہ بنے ہوئے تھے۔‘
اعلامیے کے مطابق ’اُس مرحلے میں فورسز نے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر کارروائی کی جس کے نتیجے میں 41 افراد ہلاک ہوئے۔‘
آئی ایس پی آر کے مطابق ’ان کارروائیوں سے نمٹنے کے دوران مزید انٹیلیجنس پر مبنی کارروائیاں مختلف علاقوں میں کی گئیں تاکہ شدت پسندوں کے خفیہ نیٹ ورکس کو ختم کیا جا سکے۔‘
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 216 شدت پسند مارے گئے اور ان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔ ان آپریشنز میں خواتین اور بچوں سمیت 36 عام شہری، 22 سکیورٹی اہلکار جان کی بازی ہار گئے۔
خیال رہے ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے۔ جبکہ پاکستان نے اِن حملوں پر ’فتنہ الہندوستان‘ کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کی وزارت داخلہ نے صوبہ بلوچستان میں دہشتگردی میں ملوث تمام گروہوں کو ’فتنہ الہندوستان‘ کا نام دے رکھا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی حکومت ان گروہوں پر انڈیا کو پشت پناہی کا الزام لگاتی ہے تاہم نئی دہلی ماضی میں ایسے الزامات کی تردید کر چکا ہے۔
اعلامیے کے مطابق ’ان دہشت گردوں کا منصوبہ صوبے میں امن اور ترقی کو متاثر کرنا اور اس کے لیے عام شہریوں کو نشانہ بنانا تھا۔‘
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کے دوران بڑی تعداد میں غیر ملکی اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا، جس سے بیرونی معاونت اور لاجسٹک سپورٹ کے شواہد ملتے ہیں۔
پاکستان کی فوج نے اس عزم کا اظہار بھی کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں نیشنل ایکشن پلان کے تحت جاری رہیں گی اور شدت پسندوں کے مکمل خاتمے تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے پانچ روز بعد پاکستان کے دوسرے شہروں کے لیے ٹرین سروس بحال ہوگئی ہے۔
ٹرین سروس کو 31 جنوری کو نامعلوم مسلح افراد کے شہر کے مختلف مقامات پر حملوں کے باعث معطل کیا گیا تھا۔
کوئٹہ میں محکمہ ریلویز کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ جمعرات کی صبح جعفر ایکسپریس پشاور کے لیے روانہ ہوگئی جبکہ اسی طرح پشاور سے بھی ٹرین کوئٹہ کے لیے روانہ ہوگئی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان کے دوسرے شہروں کے درمیان کوئٹہ سے صرف ایک ٹرین جعفر ایکسپریس روزانہ کی بنیاد پر چلتی ہے جبکہ کوئٹہ اور کراچی کے درمیان بولان میل ہفتے میں صرف دو دن چلتی ہے۔
ریلویز کے اہلکار نے بتایا کہ جعفر ایکسپریس کی آمد ورفت بحال ہوگئی ہے تاہم بولان میل کی آمدورفت 12 فروری کے بعد بحال ہوگی۔
بین الصوبائی ٹرینوں کے علاوہ کوئٹہ اور سرحدی شہر چمن کے درمیان بھی لوکل ٹرین چلتی ہے۔
ریلویز کے اہلکار کا کہنا تھا کہ کوئٹہ اور چمن کے درمیان بھی ٹرین سروس بحال ہوگئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ کے نائب صدر جی ڈی وینس نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے درمیان براہِ راست گفتگو نہ ہونے سے مذاکرات ’پیچیدہ اور غیر معمولی‘ ہو جاتے ہیں۔
امریکی نائب صدر نے یہ بات امریکی جرنلسٹ اور سیریس ایکس ایم نیٹ ورک کی میزبان مگان کیلی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔
انھوں نے کہا کہ ایران میں اصل فیصلہ ساز خامنہ ای ہیں اور صدر کی حیثیت ثانوی ہے۔
ان کے مطابق امریکی حکام زیادہ تر ایران کے وزیرِ خارجہ کے ذریعے رابطے میں رہے ہیں، لیکن جب براہِ راست ملک کو چلانے والی شخصیت سے بات نہ ہو سکے تو سفارت کاری ’انتہائی دشوار‘ ہو جاتی ہے۔
جی ڈی وینس نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ براہِ راست اپنے ہم منصبوں مثلاً ولادیمیر پوتن اور شی جن پنگ سے بات کر سکتے ہیں لیکن ایران کے معاملے میں ایسا ممکن نہیں، جو ان کے بقول ’غیر معمولی‘ ہے۔
جی ڈی وینس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نہیں چاہتے کہ عراق جنگ جیسی صورتحال دوبارہ پیدا ہو۔ ان کے مطابق موجودہ امریکی پالیسی کا محور یہ ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں تک رسائی نہ ملے تاکہ خطے میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع نہ ہو۔
وینس نے عراق جنگ کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ پہلے وہ بات چیت اور غیر فوجی طریقوں سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کریں گے اور اگر نتیجہ نہ نکلا تو ممکن ہے فوجی راستہ اختیار کریں تاہم میں ان کے فیصلے سے آگاہ نہیں اور اگر ہوتا بھی تو کھلے عام نہ بتاتا۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
صدر شی جن پنگ نے چین اور امریکہ کے تعلقات میں تائیوان کو ’سب سے اہم مسئلہ‘ قرار دیا ہے۔
چینی صدر نے امریکی صدر کے ساتھ ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو میں خبردار کیا ہے کہ تائیوان کو اسلحہ فراہم کرنے کے معاملے میں انھیں محتاط رویہ رکھنےکی ضرورت ہے۔
چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کو ’انتہائی اہم‘ قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک اختلافات حل کرنے کے راستے تلاش کریں گے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اس گفتگو کو عمدہ اور جامع قرار دیا ہے۔
بدھ کے روز ہونے والی گفتگو میں تائیوان، یوکرین میں جنگ، ایران کی صورتحال، امریکہ سے تیل و گیس اور سویابین کی خریداری پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں ممالک کے صدور کے درمیان یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب حالیہ مہینوں میں برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر سمیت کئی مغربی رہنما چین کا دورہ کر چکے ہیں تاکہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت کے ساتھ تعلقات کو نبے سرے استوار کیا جا سکے۔
ٹرمپ خود بھی اپریل میں چین کے دورے پر جائیں گے جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ اس کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ بیجنگ امریکہ سے سویابین کی خریداری 12 ملین ٹن سے بڑھا کر 20 ملین ٹن کرنے پر غور کر رہا ہے۔
امریکی صدر نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ ’چین کے ساتھ تعلقات اور صدر شی کے ساتھ میرے ذاتی تعلقات نہایت اچھے ہیں اور ہم دونوں اس بات کو سمجھتے ہیں کہ انھیں اسی طرح قائم رکھنا کتنا ضروری ہے۔‘
دونوں رہنماؤں نے اس سے قبل نومبر میں ٹیلی فون پر تجارت، یوکرین پر روسی حملے، فینٹانائل اور تائیوان سمیت کئی امور پر بات کی تھی۔
شی جن پنگ نے کہا کہ تائیوان چین کی سرزمین ہے اور بیجنگ کو اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ کرنا ہوگا۔
انھوں نے خبردار کیا کہ امریکہ کو تائیوان کو اسلحہ کی فروخت کے معاملے میں محتاط رہنا چاہیے۔
چین طویل عرصے سے تائیوان کے ساتھ انضمام کا عزم ظاہر کرتا آیا ہے اور اس مقصد کے لیے طاقت کے استعمال کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔
گزشتہ دسمبر میں ٹرمپ انتظامیہ نے تائیوان کو تقریباً 11 ارب ڈالر مالیت کے اسلحے کی فروخت کا اعلان کیا تھا، جس میں جدید راکٹ لانچرز، خودکار توپیں اور مختلف میزائل شامل تھے۔
اس وقت بیجنگ نے کہا تھا کہ یہ اقدام ’تائیوان کی آزادی کی حمایت کی کوشش‘ ہے جو تائیوان میں خطرناک اور پرتشدد صورتحال کو مزید تیز کرے گا‘۔
شی جن پنگ نے بدھ کے روز کہا کہ ’اگر دونوں ممالک برابری، احترام اور باہمی فائدے کو مد نظر رکھ کر آگے بڑھیں تو یقیناً ایک دوسرے کے خدشات دور کرنے کے راستے تلاش کیے جا سکتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دہشت گردی پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو فوری طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دہشت گردانہ کارروائیوں سے بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات سے متعلق حالیہ بریفنگ کے دوران پاکستان کے مستقل نمائندہ سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ بیرونی سرپرستی اور غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والے دہشت گرد پراکسی نے حالیہ دنوں بلوچستان میں 48 بے گناہ شہریوں کو ہلاک کیا۔
ان کے مطابق پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے جواب دیا۔ عاصم افتخار نے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ دہشت گردی کا منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ بیرونی سرپرستی اور غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والے گروہ، جن میں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے شامل ہیں، افغانستان کی سرزمین سے سرگرم ہیں اور انھیں ’مشرقی ہمسائے‘ کی پشت پناہی حاصل ہے۔
انھوں نے بتایا کہ بلوچستان میں حالیہ حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 48 عام شہری ہلاک ہوئے جبکہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں بی ایل اے کے 145دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔
پاکستانی مندوب نے خبردار کیا کہ دہشت گردی کا منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ ان کے مطابق داعش اب بھی شام اور عراق میں سرگرم ہے لیکن اس کی توجہ افریقہ اور جنوبی ایشیا کی طرف بڑھ رہی ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ گروہ آن لائن بھرتی، کرپٹو کرنسی، ڈرونز اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کر رہے ہیں۔
پاکستان نے کونسل کے اراکین کا بلوچستان حملے پر پریس بیان اور اظہارِ یکجہتی پر شکریہ بھی ادا کیا۔
یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گذشتہ ہفتے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مختلف مقامات پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کی تھی۔
سلامتی کونسل کی جانب سے بدھ کے روز جاری بیان میں زور دیا گیا تھا کہ دہشت گردی، چاہے کسی صورت میں ہو، بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سب سے سنگین خطرات میں سے ایک ہے۔
سلامتی کونسل کے مطابق ’ان مذموم دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذمہ دار افراد، منتظمین، مالی معاونین اور سرپرستوں کو جواب دہ ٹھہرایا جائے اور انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
عاصم افتخار نے بریفنگ میں کہا کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی، القاعدہ سمیت دیگر گروہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ ہیں۔ اس لیے پاکستان کا عالمی برادری سے مطالبہ ہے کہ بیرونی پشت پناہی کرنے والے دہشت گرد عناصر کا احتساب کیا جائے۔
پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ عالمی برادری کو متحد ہو کر اس بڑھتے ہوئے خطرے کا مقابلہ کرنا ہوگا کیونکہ دہشت گردی کسی ایک ملک یا خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین چیلنج ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات جمعے کو عمان میں منعقد ہوں گے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے، خاص طور پر گزشتہ ماہ ایران میں ملک گیر مظاہروں کے خونریز کریک ڈاؤن کے بعد۔
عراقچی کے مطابق مذاکرات کے فارمیٹ اور ایجنڈے میں تبدیلیوں کے باعث کئی گھنٹوں تک یہ خدشہ موجود رہا کہ بات چیت ملتوی ہو سکتی ہے۔ تاہم انھوں نے واضح کیا کہ فریقین جمعہ کو عمان میں ملاقات کریں گے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ’میں اپنے عمانی بھائیوں کا شکر گزار ہوں جنھوں نے تمام ضروری انتظامات کیے۔‘
منگل کے روز ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی سوشل میڈیا پر لکھا کہ انھوں نے وزیر خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ’منصفانہ اور مساوی مذاکرات‘ کو آگے بڑھائیں۔
ساتھ ہی واشنگٹن سے وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ امریکہ نے عمان میں ایران کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔ یہ مذاکرات پہلے کے برعکس اب ترکی کے بجائے عمان میں ہوں گے۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات سے قبل ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو متنبہ کیا ہے کہ سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے۔ امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ’میں کہوں گا کہ انھیں مذاکرات اور موجودہ حالات کو تناظر میں بہت فکر مند ہونا چاہیے۔‘
ذرائع کے مطابق ترکی بھی پس پردہ کوششوں میں مصروف رہا تاکہ مذاکرات استنبول میں منعقد کیے جائیں، جہاں علاقائی ممالک کی شمولیت کے ساتھ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور دیگر معاملات پر بات چیت کی جا سکے۔
یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ گذشتہ کئی برسوں سے جاری ہے اور پچھلے برس امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر بھی حملے کیے تھے، جس کے بعد ایران نے قطر میں واقع العدید ایئر بیس پر میزائل حملے کیے تھے۔
حالیہ دنوں میں امریکی صدر ٹرمپ ایک بار پھر متعدد مرتبہ ایران پر حملے کی دھمکیاں دیتے ہوئے نظر آئے اور یہ بھی کہا کہ امریکہ طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن ایران کی طرف بڑھ رہا ہے۔
تاہم اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے بار بار ایران کے ساتھ مذاکرات کا بھی عندیہ دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم کسی بھی بامعنی نتیجے پر پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ ان مذاکرات میں جوہری پروگرام کے علاوہ ایرانی حکومت کے میزائل پروگرام اور مظاہرین کے ساتھ اس کے سلوک جیسے مسائل پر بھی بات ہو۔
بی بی سی فارسی کے مطابق، میڈیا کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے امریکی موقف کے بارے میں سوال کے جواب میں روبیو کا کہنا تھا: ’میرے خیال میں مذاکرات سے حقیقتاً معنی خیز ننائج حاصل کرنے کے لیے کچھ چیزوں پر بات کرنا ضروری ہے جیسے کہ ایران کے بیلسٹک میزائلوں کی رینج، خطے میں دہشت گرد تنظیموں کے لیے ان کی حمایت اور جوہری پروگرام کے علاوہ ان کا اپنے لوگوں کے ساتھ برتاؤ۔‘
روبیو کے مطابق انھیں ایران کے ساتھ مذاکرات سے خاطرخواہ نتائج کی امید نہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’مجھے یقین نہیں کہ ہم ان کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، لیکن بہرحال ہم کوشش کریں گے اور دیکھیں گے۔‘