انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج، کوئٹہ سے تحریک انصاف سمیت دیگر جماعتوں کے 200 کارکن گرفتار

ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ آصف خان نے ان گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان افراد کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی کال پر کوئٹہ شہر اور بلوچستان کے متعدد شہروں میں اتوار کے روز شٹر ڈائون اور پہیہ جام ہڑتال رہی۔

خلاصہ

  • پی ٹی آئی کی جانب سے آج ملک بھر میں یوم سیاہ، شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے
  • ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو ایران خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا
  • وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد کی مسجد میں دھماکے کے ماسٹر مائند کا تعلق شدت پسند تنظیم داعش سے ہے جسے حراست میں لیا گیا ہے
  • انڈیا کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اسلام آباد کی مسجد میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کی ہے

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    نو فروری کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کی کال، کوئٹہ سے تحریک انصاف سمیت دیگر جماعتوں کے 200 کارکن گرفتار, محمد کاظم بی بی سی اُردو کوئٹہ

    تصویر

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل جماعتوں کے 200 کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان کارکنوں کو کوئٹہ اور اس کے نواحی علاقوں سے دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا۔

    ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ آصف خان نے بی بی سی سے گفتگو میں ان گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے۔

    تحریک تحفظ آئین پاکستان کی کال پر کوئٹہ شہر اور بلوچستان کے متعدد شہروں میں اتوار کے روز شٹر ڈائون اور پہیہ جام ہڑتال رہی۔

    کوئٹہ شہر میں ہڑتال کی وجہ سے تمام اہم تجارتی مراکز بند رہے۔

    خیال رہے کہ اتوار کو کوئٹہ شہر میں کاروباری مراکز کھلے رہتے ہیں کیونکہ یہاں کے تاجر جمعے کے روز چھٹی کرتے ہیں۔

    تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل جماعتوں کے کارکنوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں کوئٹہ اور دوسرے شہروں کے درمیان بعض شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے علاوہ اہم شاہرایوں پر بھی رکاوٹیں کھڑی کی تھیں۔

    ان کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ کے علاوہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر بڑی تعداد میں گرفتاریاں بھی کی گئیں۔

    گرفتار ہونے والے کارکنوں کا تعلق پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) اور تحریک انصاف سے ہے، تاہم ان میں اکثریت پی کے میپ کے کارکنوں کی ہے۔

    تحریک تحفظ آئین پاکستان کی کال پر کوئٹہ شہر میں ٹریفک معمول سے کم رہی، کوئٹہ اور شمالی علاقوں کے درمیان قومی شاہراہوں پر بھی ٹریفک معطل رہی۔

    دریں اثنا کوئٹہ شہر میں دو پہر دو بجے کے قریب موبائل فون پر انٹرنیٹ سروس کو بھی معطل کیا گیا تاہم رات کو ساڑھے نو بجے اسے بحال کردیا گیا۔

  3. بلوچستان کے ضلع خضدار میں نامعلوم افراد کا حملہ، ہندو تاجر سمیت تین افراد ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اُردو کوئٹہ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان کے ضلع خضدار میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں ایک ہندو تاجر سمیت تین افراد ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔

    خضدار پولیس کے ایک اہلکار وہاب بلوچ نے بتایا کہ ان افراد کو خضدار کے علاقے نال میں حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

    اہلکار کے مطابق ہلاک اور زخمی افراد کا تعلق ضلع خضدار کے علاقے وڈھ سے ہے جو کہ پکنک کی غرض سے نال میں ہڑنبو ڈیم کے علاقے میں گئے تھے۔

    انھوں نے بتایا کہ اس علاقے میں نامعلوم مسلح افراد آئے اور انھوں نے ان افراد پر فائرنگ کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے نتیجے میں ان میں سے تین افراد ہلاک ہو گئے جبکہ دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    پولیس اہلکار کے مطابق مارے جانے والے افراد میں ایک ہندو تاجر بھی شامل ہے جن کی شناخت ملّومل کے نام سے ہوئی ہے۔ دوسرے دو افراد کی شناخت عبدالرشید اور عبدالصبور کے ناموں سے ہوئی ہے۔

    وہاب بلوچ کا کہنا تھا کہ زخمی افراد کو طبی امداد کے لیے مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ان افراد پر حملے کے محرکات معلوم نہیں ہو سکے اور اس سلسلے میں تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

    ان افراد پر حملے کے خلاف وڈھ میں ان کے لواحقین اور دیگر افراد نے کوئٹہ اور کراچی کے درمیان شاہراہ کو بطور احتجاج بند کردیا۔

  4. صدر ٹرمپ اور نتن یاہو کی ملاقات ایران پر حملے کے بارے میں ہے: ایرانی سپیکر کے مشیر کا دعویٰ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر کے ایک مشیر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس ہفتے اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین ہونے والی ملاقات ایران پر حملے کے بارے میں ہے۔

    مہدی محمدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’ٹرمپ اور نتن یاہو مذاکرات کے بجائے آپریشنز پر بات کریں گے۔ اس بارے میں ایران کو کوئی ابہام نہیں ہے۔‘

    اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر نے اعلان کیا ہے کہ نتن یاہو بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے تاکہ ایران کے ساتھ مذاکرات پر بات چیت کی جا سکے۔

    ایرانی اور امریکی نمائندوں نے کئی ماہ کے وقفے کے بعد جمعے کے روز مسقط میں دوبارہ ملاقات کی، جس میں عمان نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔

    فریقین نے آنے والے دنوں میں مزید مذاکرات پر اتفاق رائے کیا تھا۔

    امریکہ اور اسرائیل ایران کو خبردار کرتے رہے ہیں کہ اگر ایران نے اپنے جوہری اور میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا تو اس پر پھر حملہ کیا جا سکتا ہے۔

    عالمی رہنما اور علاقائی ممالک کو یہ خدشہ ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے مذاکرات ناکام ہوئے تو خطے میں پھر سے ایک نیا تنازع کھڑا ہو سکتا ہے جو خطے کے دیگر ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے گذشتہ برس جون میں ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس کے بعد ایران نے بھی اسرائیل پر حملہ کیا تھا۔

  5. مذاکراتی عمل میں فوج کی موجودگی قبول نہیں: ایران کا امریکہ کو پیغام

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ عمان میں جمعے کو امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں امریکی وفد کے ساتھ سینٹکام کے کمانڈر بھی موجود تھے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق اتوار کو تہران میں ایک پریس کانفرنس کے دوران عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ انھوں نے امریکی مذاکراتی وفد پر یہ واضح کر دیا تھا کہ ایران کو ’مذاکراتی عمل میں فوج کی موجودگی‘ قبول نہیں اور سیٹکام کمانڈر کی وہاں موجودگی اس ’مقصد کے حصول میں مدد نہیں دے گی‘ جس کے لیے وہ یہاں آئے ہیں۔

    ایرانی وزیرِ خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں بتایا گیا کہ سینٹکام کمانڈر یہاں کسی بحری جہاز کا معائنہ کرنے آئے ہیں۔‘

    ’امریکیوں نے درخواست کی کہ سینٹکام کمانڈر کو وہاں موجود رہنا دیا جائے، لیکن ہم نے اس کی مخالفت کی۔‘

  6. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجی مظاہرے, نصیر چوہدری، مظفرآباد

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہNaseer Chaudhry

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے مختلف علاقوں میں اتوار کو سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

    مظاہرین نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی، مینڈیٹ کی واپسی، عمران خان تک رسائی اور آئین کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

    دارالحکومت مظفر آباد، پٹہکہ، چناری، پونچھ، راولاکوٹ اور دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں ریلیاں اور جلوس نکالے گئے، تاہم انتظامیہ کے مطابق کسی بھی مقام پر شٹر ڈاؤن یا امن و امان کی سنگین صورتحال پیش نہیں آئی۔

    پٹہکہ میں پی ٹی آئی کے سکریٹری جنرل میر عتیق الرحمن کی قیادت میں ریلی نکالی گئی جبکہ مظفرآباد شہرمیں احتجاج کی قیادت سابق اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق نے کی۔

    مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر عمران خان کی رہائی اور آئین کی بالادستی کے حق میں نعرے درج تھے۔

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہNaseer Chaudhry

    پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں عوامی مینڈیٹ کو نظرانداز کیا گیا اور عمران خان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کا مقصد پرامن انداز میں اپنے مطالبات حکام تک پہنچانا ہے۔

    پٹہکہ سب ڈویژن میں ہونے والے مظاہرے میں حلقہ کوٹلہ سے تعلق رکھنے والے پارٹی کے تمام سٹیک ہولڈرز، بلدیاتی نمائندگان، ضلع کونسل کے ارکان، یونین کونسل کے چیئرمین، وارڈ ممبران، سابق ٹکٹ ہولڈرز کے علاوہ یوتھ ونگ، آئی ایس ایف، خواتین ونگ اور وکلا ونگ کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مظاہرے پرامن رہے اور سکیورٹی کے مناسب انتظامات کیے گئے تھے۔

  7. راولپنڈی میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع، میٹرو بس سروس بند, شہزاد ملک، بی بی سی اسلام آباد

    راولپنڈی میں پولیس کے اہلکار

    ،تصویر کا ذریعہRawalpindi Police

    انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف تحریک انصاف کی کال کے بعد راولپنڈی میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کر دی گئی ہے جبکہ راولپنڈی اسلام آباد میں چلنے والی میٹرو بس سروس اور راولپنڈی میں چلنے والی الیکٹرک بس سروس مکمل بند کی گئی ہے۔

    راولپنڈی شہر میں بڑے کاروباری مراکز کھل رہے ہیں، سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول کے مطابق ہے۔

    سٹی پولیس آفیسر (سی پی او) راولپنڈی سید خالد محمود ہمدانی کے مطابق شہر بھر میں 82 مقامات پر خصوصی ناکے لگائے گئے ہیں اور شہر میں پولیس کے تین ہزار سے زیادہ افسران اور جوان سکیورٹی کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر راولپنڈی حسن وقار چیمہ کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق راولپنڈی میں دفعہ 144 کے نفاذ میں 21 فروری تک توسیع کر دی گئی ہے اور شہر میں جلسوں، جلوسوں اور ریلیوں پر مکمل پابندی عائد رہے گی۔

    نوٹیفیکیشن کے مطابق دفعہ 144 میں توسیع ضلعی انٹیلیجنس کمیٹی کی سفارش پر کی گئی۔ نوٹیفیکیشن کے متن میں لکھا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹی نے توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ ضلع راولپنڈی کی حدود میں ایک فوری اور سنگین خطرہ موجود ہے جو انسانی جان، عوامی املاک اور ضلع کے امن و امان کو داؤ پر لگا سکتا ہے۔

    نوٹیفیکیشن میں درج ہے: ’ضلعی کمیٹی نے انٹیلیجنس کی بنیاد پر آگاہ کیا ہے کہ بعض گروہ اور عناصر بڑے اجتماعات، احتجاج اور انتشار انگیز سرگرمیوں کے ذریعے امن و امان بگاڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔‘

    ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں لکھا گیا ہے کہ ’یہ عناصر ایسے افراد کو متحرک کر سکتے ہیں جو اہم تنصیبات اور حساس مقامات کے قریب پُر تشدد کارروائیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔‘

    اس بنیاد پر راولپنڈی میں پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے کسی بھی ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اور نوٹیفیکیشن کے مطابق، کسی پولیس افسر نے عوامی اجتماع یا ٹریفک کی نقل و حرکت کو منظم رکھنے کے لیے کوئی رکاوٹ کھڑی کی تو اسے ہٹانے کی اجازت بھی نہیں ہو گی۔

  8. پاکستان میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ, تنویر ملک، صحافی

    سونے کی انگوٹھیاں

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    پاکستان میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں رد و بدل دیکھنے میں آیا۔

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ ہفتے کے آغاز پر ایک تولہ سونے کی قیمت تقریباً پانچ لاکھ 11 ہزار روپے تھی۔

    تاہم عالمی مارکیٹ میں قیمت کی کمی اور مقامی سطح پر طلب میں کمی نے چند ہی دن میں قیمت 25 ہزار روپے تک گرا دی، ایک تولہ سونا چار لاکھ 90 ہزار روپے میں ملنے لگا۔

    ہفتے کے اختتام تک عالمی منڈی میں سونے کی قیمت بڑھی تو اس کے اثرات پاکستان میں بھی نظر آئے۔ سونے کی قیمت پانچ لاکھ 19 ہزار روپے فی تولہ سے بھی بڑھ گئی۔

    اسی طرح چاندی کی قیمت میں بھی نمایاں تبدیلی دیکھی گئی۔ ہفتے کے آغاز پر ایک تولہ چاندی کی قیمت نو ہزار روپے کے قریب تھی اور ہفتے کے اختتام پر آٹھ ہزار 200 روپے۔

    ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں تبدیلی اور مقامی سطح پر طلب و رسد کے عوامل قیمتی دھاتوں کے نرخوں پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔

    صرافہ بازار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ دنوں میں بھی قیمتی دھاتوں کی مالیت میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے۔

  9. کوئٹہ سمیت بلوچستان کے کئی شہروں میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    تحریک تحفظ آئین پاکستان نے 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف ہڑتال کی کال دے رکھی ہے۔

    کوئٹہ شہر میں تمام بڑے کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ شہر میں سڑکوں پر ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ شہر کے کئی علاقوں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔

    کوئٹہ شہر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کے مناظر

    خیال رہے کہ کوئٹہ شہر میں دکان دار جمعہ کے روز چھٹی کرتے ہیں اور اتوار کو دکانیں کھلی ہوتی ہیں۔

    تحریک تحفظ آئین پاکستان کے کارکن ایئرپورٹ روڈ اور کوئٹہ شہر کے دونوں بائی پاسز پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے علاوہ ٹائر جلاتے رہے تاہم پولیس اہلکاروں کی جانب سے ٹریفک بحال کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔

    زیارت میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کے مناظر

    ،تصویر کا ذریعہPKMAP

    ،تصویر کا کیپشنزیارت

    پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے، اس کی خلاف ورزی کرنے پر مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

    زیارت، پشین اور ژوب سمیت بلوچستان کے کئی دیگر شہروں میں بھی شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال جاری ہے۔

    ژوب میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کے مناظر

    ،تصویر کا ذریعہPKMAP

    ،تصویر کا کیپشنژوب
  10. پی ٹی آئی کی جانب سے آج ملک بھر میں یوم سیاہ، شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان

    تحریک انصاف احتجاج میں شامل ایک شخص نے عمران خان کی تصویر اٹھا رکھی ہے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تحریک انصاف نے آٹھ فروری 2024 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف عمران خان کی کال پر آج ملک گیر احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے آٹھ فروری کو ملک بھر میں پر امن شٹر ڈاؤن اور پر امن پہیہ جام کی کال دی ہے اور ’تحریک انصاف نے اس کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔‘

    شیخ وقاص اکرم کا ویڈیو بیان پاکستان تحریک انصاف کے ایکس اکاؤنٹ سے شیئر کیا گیا۔ اس میں اُنھوں نے کہا کہ آٹھ فروری کو ’دکانیں، کاروبار، بازار اور ٹرانسپورٹ سمیت ہر چیز بند رہے گی۔‘

    تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ آٹھ فروری 2024 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے اسے شکست دی گئی اور ’مینڈیٹ چوری کیا گیا۔‘

    آٹھ فروری 2024 کو ’بلے‘ کے انتخابی نشان کے بغیر پاکستان تحریک انصاف میدان میں اُتری تھی۔ ان انتخابات کے نتیجے میں اس جماعت نے صوبہ خیبرپختونخوا میں ریکارڈ تیسری بار اپنی حکومت قائم کی جبکہ قومی اسمبلی میں یہ حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت بن کر اُبھری تاہم تحریک انصاف کا یہ الزام رہا ہے کہ گذشتہ عام انتخابات میں ’بدترین دھاندلی‘ کے ذریعے اِس کا مینڈیٹ چوری کیا گیا ہے۔

    گذشتہ دو برس کے دوران نہ صرف اس جماعت کے اسیر سربراہ عمران خان کو مختلف کیسز میں سزائیں سُنائی گئی ہیں بلکہ پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف بھی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا ہے۔

    شیخ وقاص اکرم نے اپنے ویڈیو بیان میں پاکستان کے شہریوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ہے وہ دن بھر اپنے گھروں میں رہیں اور ’مغرب کی نماز اپنی قریبی مساجد میں با جماعت ادا کرنے کی کوشش کریں۔‘

    شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ مغرب کی نماز کے بعد حکومت کے خاتمے اور عمران خان، بشریٰ بی بی سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی آزادی کی دعا کی جائے۔

    تحریک انصاف کے سیکریٹری اطلاعات کا یہ بھی کہنا تھا مغرب کی نماز میں دعا کے بعد لوگ ’اپنے موبائل کی لائٹ یا دستی مشعل لے کر اپنے اپنے علاقوں میں پر امن ریلیوں میں شامل ہوں، اپنی ناراضی اور بیزاری کا پر امن اظہار کریں۔‘

    ایکس پر تحریک انصاف کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جو پوسٹس کی جا رہی ہیں، اُن میں یہ بات بار بار لکھی جا رہی ہے کہ آٹھ فروری کو کیا جانے والا احتجاج پر امن ہو گا، شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کے لیے زبردستی یا تشدد نہیں کیا جائے گا۔

    تحریک انصاف کے ایکس اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آٹھ فروری کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کامیاب بنانے کے لیے گھر میں راشن اور ادویات کا پہلے سے انتظام کر لیا جائے جبکہ ’ہنگامی صورت حال کے لیے پاور بینک، ٹارچ اور اضافی بیٹریاں یقنی بنائیں۔‘

    صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی اپنی حکومت ہے، وہاں کے دارالحکومت پشاور میں دوپہر کے وقت پارٹی کی جانب سے ہشت نگری دروازہ سے چوک یادگار تک پیدل مارچ کیا جائے گا اور صوبائی قیادت خطاب کرے گی۔

  11. روس کی یونیورسٹی میں چاقو سے حملہ، چار انڈین طلبہ زخمی

    کرائم سین کی علامتی تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روس کے شہر اوفا میں ایک حملے میں چار انڈین طلبہ زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ معلومات روس میں انڈیا کے سفارت خانے نے فراہم کی ہیں۔

    انڈین سفارت خانے نے ایکس پر پوسٹ کیا: ’اوفا میں حملے کا ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے۔ چار انڈین طلبہ سمیت کئی افراد زخمی ہو گئے ہیں۔‘

    سفارت خانے نے بتایا کہ زخمی طلبہ کی مدد کے لیے قازان میں موجود قونصل خانے کے افسران اوفا روانہ ہو چکے ہیں۔

    خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق روسی شہر اوفا کی ایک یونیورسٹی میں چاقو سے حملے کا واقعہ پیش آیا، جس میں کم از کم چھ افراد زخمی ہوئے۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک نو عمر لڑکا چاقو لے کر باشکورتوستان ریپبلک کے شہر اوفا میں میڈیکل یونیورسٹی کے ہاسٹل میں داخل ہوا اور وہاں مقیم طلبہ پر حملہ کر دیا۔

  12. حملہ ہوا تو خطے کے مختلف حصوں میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے: ایرانی وزیر خارجہ

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو ’ہمارے پاس امریکی سرزمین پر حملہ کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے، لہذا مجبوراً ہمیں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا پڑے گا۔ بدقسمتی سے امریکی فوجی اڈے خطے کے مختلف مقامات پر موجود ہیں۔‘

    اُنھوں نے مزید کہا کہ ’فی الحال امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کے لیے کوئی خاص وقت مقرر نہیں کیا گیا ہے‘ لیکن دونوں فریق اس بات پر متفق ہیں کہ یہ مذاکرات جلد از جلد ہونے چاہییں۔

    عباس عراقچی نے اس گفتگو کے کچھ حصے اپنے ذاتی ٹیلی گرام چینل پر شائع کرتے ہوئے لکھا: ’اب جنگ کے لیے ہماری تیاری اُس 12 روزہ جنگ سے بھی زیادہ ہے، بالکل اسی طرح سفارت کاری کے لیے ہماری تیاری بھی اُس وقت سے زیادہ ہے۔ ہم نے سفارت کاری کو منتخب کیا ہے اور امید کرتے ہیں کہ امریکہ بھی ایسا ہی کرے گا۔‘

    عباس عراقچی جون 2025 میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والی 12 روزہ جنگ کا حوالہ دے رہے تھے۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ یورینیئم کی افزودگی مکمل بند کر دینا ایران کے نزدیک ’مذاکرات کے دائرے سے باہر‘ ہے لیکن ساتھ ہی اُنھوں نے کہا: ’ہم دوسرے فریق کو یقین دلاتے ہیں کہ ایران میں یورینیئم کی افزودگی پر امن مقاصد کے لیے ہے۔‘

    اُنھوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ کہ ایران کا میزائل پروگرام ایک ’دفاعی معاملہ‘ ہے اور اس پر بات چیت کا کوئی امکان نہیں، ’نہ اب اور نہ مستقبل میں۔‘

    اس دوران توقع کی جا رہی ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اگلے ہفتے جب واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے تو ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو موضوع بنائیں گے۔

    عباس عراقچی کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے والے امریکہ کے سینیئر مذاکرات کار سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بحیرہ عرب میں موجود طیارہ بردار بحری جہاز ’ابراہم لنکن‘ کا دورہ کر رہے تھے۔

    سٹیو وٹکوف نے سوشل میڈیا پر کہا کہ طیارہ بردار بحری جہاز اور اس کی ٹاسک فورس ’ہمیں محفوظ رکھتی ہے اور صدر ٹرمپ کے پیغام امن کو طاقت کے ذریعے یقینی بناتی ہے۔‘

    صدر ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ایرانی فریق یا تو معاہدہ کرے یا اس کے نتائج قبول کرے۔

  13. اسلام آباد حملے کا ماسٹر مائنڈ داعش سے تعلق رکھنے والا افغان شہری ہے، جسے حراست میں لے لیا ہے: وزیر داخلہ محسن نقوی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد کی مسجد میں دھماکے کے ماسٹر مائند کا تعلق شدت پسند تنظیم داعش سے ہے جسے حراست میں لیا گیا ہے۔

    اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب خیبرپختونخوا کی انسداد دہشت گردی پولیس (سی ٹی ڈی) اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ آپریشن کے بعد ماسٹر مائنڈ اور سہولت کاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کے دوران ایک پولیس اے ایس آئی ہلاک اور تین اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

    محسن نقوی نے الزام عائد کیا کہ اس سارے واقعے کی منصوبہ بندی اور حملہ آور کی تربیت افغانستان میں ہوئی۔ دو افراد نے ریکی کی اور حملہ آور کو افغانستان سے یہاں لایا گیا۔

    وزیرِ داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں اتنی اُمید نہیں تھی کہ ہم اتنی جلدی اس حملے کے سہولت کاروں تک پہنچ جائیں گے۔

    محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی اور داعش سمیت 21 دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں، پاکستان میں جو دہشت گردی ہو رہی ہے، اس کے تانے بانے افغانستان سے ہی ملتے ہیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم حالت جنگ میں ہیں، بلوچستان، خیبرپختونخوا یا کسی اور جگہ ہمیں کمیونٹی انٹیلی جنس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ اگر شہری بھی ہماری مدد کریں تو ہمیں اس کا فائدہ ہو گا۔‘

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ ایک دھماکہ ہو رہا ہے تو ہم 99 روک بھی رہے ہیں، لیکن اس کی تفصیلات ہم سامنے نہیں لا سکتے۔

    نیوز کانفرنس کے دوران محسن نقوی نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے درکار وسائل میں کمی کا بھی شکوہ کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ دہشت گرد جدید امریکی اسلحہ استعمال کر رہے ہیں۔ ہمیں اُن سے نمٹنے کے لیے اپنی حکمت عملی بھی تبدیل کرنا ہو گی۔

    محسن نقوی نے الزام عائد کیا کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی فنڈنگ اور منصوبہ بندی انڈیا سے ہو رہی ہے۔ انڈیا سے ان دہشت گردوں کو اہداف دیے جاتے ہیں اور پہلے جہاں 500 ڈالرز دیے جاتے تھے، اب بڑھا کر 1500 ڈالرز کر دیے گئے ہیں۔

    خیال رہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت پاکستانی حکام کے ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔

    انڈیا کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ پر ہونے والے دھماکے کی مذمت کی تھی۔

    انڈیا کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا تھا کہ 'یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ پاکستان اپنے سماجی مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے کے بجائے اپنی اندرونی خرابیوں کا ذمہ دار دوسروں پر ڈال کر خود کو دھوکہ دے رہا ہے۔‘

  14. انسداد دہشت گردی عدالت نے ذاتی معالج سے علاج کرانے کی عمران خان کی درخواست مسترد کر دی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کا علاج ان کے ذاتی معالج سے کروانے کی درخواست مسترد کردی ہے۔

    عمران خان کی لیگل ٹیم نے سابق وزیرِ اعظم کا علاج ان کے ذاتی ڈاکٹروں سے کروانے سے متعلق درخوست دائر کر رکھی تھی۔

    عمران خان کے وکیل فیصل ملک نے درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہر قیدی کا حق ہے کہ اسے علاج معالجے کے لیے تمام ممکنہ سہولیات ملنی چاہییں۔

    فیصل ملک کا کہنا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف جب قید میں تھے تو ان کے ذاتی معالج سے ان کا علاج کروایا گیا تھا۔ اُن کے بقول عمران خان خود بھی اپنے ذاتی معالج سے علاج کروانا چاہتے ہیں۔

    فیصل ملک کا کہنا تھا کہ اگر ان کے موکل کو نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت وقت پر ہوگی۔

    اس مقدمے کے پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمران خان ضمانت پر ہیں اور ایک ضمانت دیے جانے والے شخص کو عدالت جیل کے اندر بیٹھے شخص کو علاج کروانے کا کیسے لیگل کور دے سکتی ہے؟

    اُنھوں نے کہا کہ عمران خان کو اس مقدمے میں فروری 2024 میں ضمانت مل چکی ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو ان کے ذاتی معالج سے علاج کروانے کی اجازت لاہور ہائی کورٹ نے دی تھی جو کہ ایک آئینی عدالت ہے جبکہ ٹرایل کورٹ قانون سے باہر نہیں ج اسکتی۔

    اُنھوں نے کہا کہ جیلوں میں طبی عملہ صوبے کی بنیادی ہیلتھ کیئر کی جانب سے تعینات کیا جاتا ہے اور اگر علاج کے دوران کسی قیدی کو کچھ ہو جائے تو وہ طبی عملہ جواب دہ ہوتا ہے جبکہ پرائیویٹ ڈاکٹر سے علاج کے دوران اگر قیدی کو کچھ ہو جائے تو اس پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں کی جا سکتی۔

    عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد عمران خان کا ان کے ذاتی معالج سے علاج کروانے کی درخواست مسترد کر دی۔

    عمران خان کے خلاف 13 مختلف مقدمات سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر

    دوسری جانب سپریم کورٹ نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف مختلف مقدمات اور ان مقدمات میں عدالتی فیصلوں کی سماعت کے لیے دو رکنی بینچ تشکیل دیا ہے۔

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اس دو رکنی بینچ کی سربراہی کریں گے۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال پر مشتمل بینچ نو فروری کو مقدمات کی سماعت کرے گا۔

    ان میں الیکشن کمیشن کی فوجداری شکایت کے خلاف اپیل، آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور نیب کے مقدمات، القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی ضمانت کے خلاف نیب اپیل، سائفر کیس میں عمران خان اورشاہ محمود قریشی کی بریت کے خلاف اپیل، نو مئی لاہور مقدمات میں عمران خان کی ضمانت کے خلاف اپیل، ہتک عزت کیس میں شہباز شریف کے خلاف عمران خان کی اپیلیں شامل ہیں۔

  15. افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، دہشت گرد چند کوڑیوں کی خاطر مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں: وزیر اطلاعات

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے ترلائی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ یہ واضح ہو گیا کہ خودکش حملہ آور افغانستان جاتا رہا ہے اور اس نے وہیں سے تربیت حاصل کی ہے۔

    اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں، دہشت گردوں کا نظریہ دہشت پھیلانا ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ مساجد اور امام بارگاہوں کی حفاظت کے لئے حکومت بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ اسلام آباد واقعے کے حوالے سے کافی پیشرفت ہوئی ہے۔

    وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ نماز جمعہ میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے والوں کو مکمل نکیل ڈالیں گے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ انتہائی ضروری ہے، ملک میں فرقہ واریت اور نفرت کی کوئی گنجائش نہیں۔

    عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے، وزیراعظم نے انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے وزیرِ داخلہ کو مکمل ہدایت دی ہے۔

  16. رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں 3563 ارب روپے قرضوں پر سود ادا کیا، دفاعی اخراجات 1044 ارب رہے: وزارت خزانہ, تنویر ملک، صحافی

    money

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان نے موجودہ مالی سال کے پہلے چھ مہینوں میں ملکی و غیر ملکی قرضوں پر 3563 ارب روپے سود کی ادائیگی کی جو دفاعی اور ترقیاتی اخراجات کے مقابلے میں بہت زیادہ رہے۔

    پاکستان کی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری مالیاتی آپریشنز کے اعداد و شمار کے مطابق زیر جائزہ عرصے کے دوران ملک نے 1044 ارب روپے دفاعی اخراجات پر خرچ کیے۔

    قرضوں اور دفاع پر اٹھنے والے بڑے اخراجات کے مقابلے میں پاکستان میں ترقیاتی پروگرام پر اس عرصے کے دوران بہت کم خرچ کیا گیا۔

    اعداد و شمار کے مطابق موجودہ مالی سال کے پہلے چھ مہینوں میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 238 ارب روپے خرچ کیے گئے اعداد و شمارکے مطابق زیر جائزہ مہینوں میں پاکستان 10683 ارب روپے کا ریونیو جمع کیا جس میں6729 ارب روپے کا ٹیکس ریونیو اور 3954 ارب روپے کا نان ٹیکس ریونیو شامل ہے۔

    پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات پر صارفین سے پٹرولیم لیوی کی مد میں چھ مہینوں میں 823 ارب روپے جمع کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی تا دسمبر کے دوران وفاقی حکومت کی مجموعی آمدن 10,008 ارب روپے رہی، تاہم مختلف واجبات اور صوبوں کو منتقلی کے بعد خالص آمدن 6,392 ارب روپے تک محدود رہی۔

    وزارت خزانہ کے مطابق وفاقی حکومت کے مجموعی اخراجات 7029 ارب روپے رہے جس میں سے جاری اخراجات 6836 ارب روپے تھے۔

  17. ترلائی دھماکے میں مارے جانے والے 13 افراد کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی

    دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں خدیجۃ الکبری مسجد میں دھماکے میں مارے جانے والے 13 افراد کی نماز جنازہ ترلائی کلاں میں ادا کر دی گئی۔

    نماز جنازہ میں وفاقی وزراء طارق فضل چودھری، سردار محمد یوسف اور راجہ خرم نواز سمیت شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

    اس موقعے پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور پولیس، اے ٹی ایس، سی ٹی ڈی کی بھاری نفری تعینات تھی۔

    نمازہ جنازہ کی ادائیگی کے بعد میتوں کو ان کے آبائی علاقوں میں تدفین کے لیے روانہ کر دیا گیا۔

    یاد رہے کہ گذشتہ روز ترلائی کی امام بارگاہ میں جمعے کی نماز کے دوران دھماکہ ہوا، پولیس حکام کے مطابق دھماکہ خودکش تھا۔

    اسلام آباد انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ ترلائی کی امام بارگاہ میں ہونے والے دھماکے میں اموات کی تعداد 32 ہو گئی ہے جبکہ 169 زخمی ہو گئے ہیں۔

    کالعدم شدت پسند تنظیم داعش نے اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں جمعے کی نماز میں مسجد خدیجتہ الکبریٰ پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

    بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق یہ دعویٰ گروپ کے ٹیلیگرام چینلز پر سامنے آیا ہے، جس کے مطابق اس حملے کے پیچھے داعش کا پاکستان میں متحرک گروہ ہے اور یہ ایک خودکش دھماکہ تھا۔

  18. اسلام آباد کی مسجد پر خود کش حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی

    Islamabad

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    داعش نے اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں جمعے کی نماز میں مسجد خدیجتہ الکبریٰ پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

    بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق یہ دعویٰ گروپ کے ٹیلیگرام چینلز پر سامنے آیا ہے، جس کے مطابق اس حملے کے پیچھے داعش کا پاکستان میں متحرک گروہ ہے اور یہ ایک خودکش دھماکہ تھا۔

    داعش کے خبر رساں ادارے ’عماق‘ نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں مبینہ نقاب پوش حملہ آور کی تصویر بھی شئیر کی گئی ہے۔

  19. لگ بھگ 20 سال بعد لاہور میں بسنت کا پہلا دن کیسا رہا, ترہب اصغر، بی بی سی اردو، لاہور

    بسنت

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں بہار کی آمد سے منسوب تہوار بسنت کا پہلا روز جوش و خروش سے بھرپور رہا۔

    نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق چھ فروری کے آغاز پر بسنت کو بھرپور طریقے سے شروع کیا گیا اور اس کے لیے شب 12 بجے سے ہی لاہور کے آسمان پر رنگ بہ رنگ پتنگوں کی بہار سج گئی اور لوگوں نے بھرپور طریقے سے کئی سال بعد منائی جانے والی بسنت کے آغاز کو یادگار بنا دیا۔

    ترہب اصغر کے مطابق بسنت منانے کے لیے لاہور میں پنجاب سمیت پاکستان کے دیگر صوبوں اور دور دراز علاقوں سے لوگ اس تہوار سے لطف اندوز کے لیے موجود ہیں۔

    ان کے مطابق جمعے کے روز دن کے وقت بھی بسنت کے تہوار میں لوگوں نے حصہ لیا تاہم اس میں زور جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب رات تقریباً دو بجے سے آیا جب پتنگ بازی کے لیے موافق ہوا چلنا شروع ہوئی اور آسمان ایک بار پھر پتنگوں سے سج گیا اور یہ سلسلہ صبح سویرے چھ بجے کے قریب تھما۔

    بسنت

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنجب پتنگ بازی کے لیے موافق ہوا چلنا شروع ہوئی اور آسمان ایک بار پھر پتنگوں سے سج گیا

    ترہب اصغر نے بتایا کہ جمعے کی نماز کے بعد جب اسلام آباد میں دھماکے کی خبریں ٹی وی پر آنا شروع ہوئیں تو ان تقریبات میں تھوڑا ٹھہراؤ آیا گو کہ اس وقت بھی سرگرمیاں جاری رہیں لیکن اس میں ہونے والا ہلا گلا تھوڑا تھم گیا۔

    یاد رہے کہ اسلام آباد میں جمعے کے روز ہونے والے خودکش حملے کے بعد پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے لاہور میں بسنت سے متعلق اپنی سرگرمیاں منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    بسنت

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایکس پر اپنے اکاؤنٹ پر انھوں نے جمعے کے روز لکھا کہ ’اسلام آباد کے سانحے کے پیشِ نظر میں نے کل کے لیے طے شدہ تمام بسنت سے متعلق سرگرمیاں منسوخ کر دی ہیں۔ لاہور کے لبرٹی سکوائر میں ہونے والا بڑا بسنت شو بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔‘

    ترہب اصغر نے بتایا کہ جمعے کی رات گئے ہوا چلنے کے ساتھ ہی لاہور میں ایک بار پھر وہی جوش و جذبہ دیکھا گیا جو بسنت کے افتتاح پر تھا جس میں گانے اور ترانوں کے شور سے لے کر پیچ لڑانے کے مقابلے سب شامل تھے۔

    ترہب اصغر کے مطابق دھماکے کے بعد سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ کہتے پائے گئے کہ بسنت کا تہوار فوری منسوخ کیا جائے تاہم بہت سے مقامی اور بسنت منانے والوں کا کہنا تھا کہ بہت عرصے کے بعد ایسا موقع آیا ہے اور لوگوں نے اس پر کافی زیادہ سرمایہ کاری کی ہوئی ہے اور دور دراز سے لوگ لاہور پہنچے ہیں۔

    ترہب اصغر کے مطابق بسنت سے جڑی سرگرمیوں کا سلسلہ رات بھر کے بعد سنیچر کی صبح اب کچھ تھما ہوا ہے لیکن ان کا اندازہ ہے کہ اس میں دوپہر کے بعد دوبارہ تیزی آئے گی۔

  20. عمران خان کی آنکھ کا ٹریٹمنٹ 20 منٹ میں مکمل ہوا، علاج میں ان کی رضامندی شامل تھی: رپورٹ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہIMRAN KHAN/FACEBOOK

    ،تصویر کا کیپشنعمران خان کی فائل فوٹو

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی فیملی نے اڈیالہ جیل حکام کے ذریعے پمز ہسپتال کی میڈیکل رپورٹ وصول کر لی ہے۔

    اس رپورٹ کے مطابق عمران خان کی اپنی دائیں آنکھ میں بینائی کم ہونے کی شکایت تھی جس کے بعد ان کی آنکھ کا اڈیالہ جیل میں مکمل معائنہ کیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق ماہر امراضِ چشم نے اڈیالہ جیل میں تفصیلی طبی جانچ کی جس سے عمران خان کی دائیں آنکھ میں سنٹرل ریٹینل وین اوکلوژن کی تشخیص ہوئی۔

    ماہرین نے ہسپتال میں فالو اَپ علاج کی سفارش کی اور عمران خان کو ہفتے اور اتوار کی رات پمز منتقل کیا گیا۔

    یاد رہے کہ عمران خان کی صحت سے متعلق ان کے وکلا نے راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں درخواست دائر کر رکھی ہے جس کی سنیچر کو یعنی آج سماعت ہونی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق عمران خان کو اینٹی وی ای جی ایف انٹرا ویٹریئل انجیکشن لگایا گیا۔ علاج انکی رضامندی سے کیا گیا جبکہ ان کو تجویز کردہ طریقہ علاج کامیاب رہا۔

    رپورٹ کے مطابق آپریشن تھیٹر میں ٹریٹمنٹ تقریباً 20 منٹ میں مکمل کیا گیا اور ٹریٹمنٹ کے بعد ان کی حالت مستحکم تھی۔

    رپورٹ کے مطابق علاج کے بعد معمول کی ہدایات کے ساتھ عمران خان کو ڈسچارج کیا گیا۔