عمران خان سے بیرسٹر سلمان صفدر کی اڈیالہ جیل میں طویل ملاقات، اہل خانہ کو تفصیلات سے آگاہ کر دیا گیا

اڈیالہ جیل حکام کے مطابق عمران خان اور سلمان صفدر کی ملاقات کا انتظام علیحدہ کمرے میں کیا گیا، جہاں دونوں کے درمیان تین گھنٹے سے زائد بات چیت ہوئی۔

خلاصہ

  • مالاکنڈ ڈویژن صوبائی نظم و نسق میں ہوگا، پشاور میں بھی اب پی ایس ایل میچز ہوں گے: اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فیصلہ
  • امریکہ کے ساتھ سفارتی عمل جاری رہے گا، عمان میں مذاکرات پر ترکی کی ناراضی کی کوئی وجہ نہیں: ایران
  • وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو 15 فروری کو انڈیا کیخلاف ٹی 20 ورلڈ کپ کا میچ کھیلنے کی اجازت دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ دوست ممالک کی درخواست پر کیا گیا
  • سڈنی میں اسرائیلی صدر کے خلاف احتجاج کے دوران متعدد افراد کو گرفتار کرلیا گیا
  • اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے بین الاقوامی تنظیم برائے تارکین وطن نے تصدیق کی ہے کہ لیبیا کے ساحل کے قریب تارکینِ وطن کی کشتی ڈوبنے کے سبب 53 افراد ہلاک یا لاپتا ہو گئے ہیں
  • عمران خان سے ملاقات کروانے کی درخواست پر سپریم کورٹ کی جانب سے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری

لائیو کوریج

  1. اس پیج کو اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔۔۔

  2. پاکستان کے ساتھ سرحد کی بندش کے بعد افغانستان ضروری ادویات کی کمی کیسے پوری کر رہا ہے؟, عبداللہ الہام، بی بی سی پشتو

    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان گذشتہ برس ہونے والی جھڑپوں اور سرحدی راستوں کی بندش کے سبب ادیات کی قلت سے بچنے کے لیے افغانستان نے ملک میں ہی دوائیں بنانے کی کوششوں کو تیز کر دیا ہے۔

    افغانستان کی وزارت برائے عوامی صحت اور ادویات بنانے والی کمپنیوں کی ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں استعمال کی جانے والی تقریباً تین ہزار ادویات میں سے صرف 20 فیصد دوائیں افغانستان میں بنتی ہیں، جبکہ باقی ادویات باہر سے منگوانی پڑتی ہیں۔

    افغانستان میں کتنی ادویات بنائی جاتی ہیں؟

    طالبان حکومت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تقریباً تین ہزار قسم کی ادویات کی ضرورت ہوتی ہے اور ان میں سے فی الوقت صرف 600 افغانستان میں تیار کی جاتی ہیں۔

    فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ پروڈکٹس ایسوسی ایشن کے سربراہ احمد سعید شمس کے مطابق ملک میں تیار کی جانے والی زیادہ تر ادویات وہ ہیں جو سب سے زیادہ استعمال کی جاتی ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’وزارت برائے عوامی صحت کے پاس افغانستان میں تیار کی جانے والی 600 ادویات رجسٹرڈ ہیں، جس سے مارکیٹ کی صرف 25 فیصد ضرورت پوری ہو سکتی ہے۔‘

    فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کا منصوبہ

    احمد سعید شمس کہتے ہیں کہ ان کی اپنی فارماسیوٹیکل کمپنی بختار گذشتہ دو دہائیوں سے کام کر رہی ہے اور مارکیٹ کو تقریباً 60 قسم کی ادویات فراہم کرتی ہے۔

    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تاہم ادویات کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے سبب وہ ایک اور کمپنی قائم کرنے جا رہے ہیں، جو کہ جلد ہی افغانستان کی مارکیٹ کو مزید دوائیں فراہم کرے گی۔

    یہ الفا ون نامی کمپنی مزید 60 قسم کی ادویات تیار کرے گی اور اس میں استعمال کے لیے مشینری بھی پہنچ چکی ہے۔ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی باضابطہ اجازت کے بعد یہ کمپنی اپنے کام کی شروعات کر دے گی۔

    افغانستان کی وزارت برائے عوامی صحت کا کہنا ہے کہ اس نے کابل میں 1 ہزار ایکڑ زمین فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے لیے مختص کر دی ہے تاکہ وہ وہاں نئی فیکٹریاں بنا کر مقامی طور پر ادویات تیار کر سکیں۔ حکومت کو امید ہے کہ اس اقدام سے ملک میں تیار ہونے والی ادویات کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔

    افغان ادویات ملک سے باہر فروخت کرنے کی کوششیں

    افغانستان میں دوا ساز کمپنیاں اپنی مصنوعات دیگر ممالک میں فروخت کرنے کی بھی کوشش کر رہی ہیں۔

    احمد سعید شمس کے مطابق کم از کم چار کمپنیوں نے بین الاقوامی اجازت نامے بھی حاصل کر لیے ہیں تاکہ انھیں اپنی ادویات برآمد کرنے کی اجازت مل جائے۔

    افغانستان میں دستیاب بیرونی ادویات

    افغانستان میں اس وقت تقریباً چار سو کمپنیاں ایسی ہیں جو ہر برس بیرونِ ملک سے کروڑوں ڈالر مالیت کی ادویات اور دیگر میڈیکل مصنوعات منگواتی ہیں۔

    مقامی کمپنیاں طالبان حکومت سے گزارش کرتی ہوئی نظر آتی ہیں کہ وہ باہر سے منگوائی جانے والی ادویات پر ٹیرف بڑھائے تاکہ مقامی کمپنیاں نشونما پا سکیں۔

    طالبان حکومت نے پاکستان سے ادویات منگوانے پر پابندی عائد کر دی تھی، جس کے بعد انڈیا، ایران، چین، ترکی، بنگلہ دیش اور ازبکستان جیسے ممالک سے دوائیں منگوانے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔

    افغانستان میں تیار کی جانے والی ادویات کے لیے خام مال زیادہ تر چین سے منگوایا جاتا ہے۔

    افغانستان میں مقامی کمپنیوں میں بھی غیرملکی ماہرین کام کرتے ہیں۔

  3. امریکہ کا بنگلہ دیش کے کپڑوں کی برآمدات پر ٹیرف کی کمی کا اعلان، کچھ مصنوعات پر مکمل چھوٹ, آسمنڈ چیا، بزنس رپورٹر

    بنگلہ دیش

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بنگلہ دیش نے پیر کو اعلان کردہ ایک نئے معاہدے کے تحت امریکی مواد سے تیار کیے جانے والے کچھ کپڑوں اور ٹیکسٹائل مصنوعات کے لیے ٹریف میں کمی حاصل کر لی ہے۔

    نئے معاہدے کے تحت واشنگٹن بنگلہ دیش کے لیے ٹیرف 20 فیصد سے کم کر کے 19 فیصد کرے گا اور اس کے بدلے میں ڈھاکہ امریکی مصنوعات کو اپنی منڈیوں تک مزید رسائی دے گا۔

    کپڑوں کی صنعت بنگلہ دیش کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جو چین کے بعد دنیا کا دوسرا سب سے بڑا کپڑے برآمد کرنے والا ملک ہے۔

    وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کو مضبوط کرے گا اور دونوں کو ہی ہر مارکیٹ تک ’بے مثال رسائی‘ فراہم کرے گا۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ بنگلہ دیش پر اپنے ٹیرف کی شرح کو کم کرے گا اور ملک سے کچھ مخصوص کپڑوں اور ٹیکسٹائل کی مصنوعات کو شناخت کرے گا تاکہ وہ امریکہ میں بغیر ٹیرف کے داخل ہو سکیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ان اشیا میں وہ مصنوعات شامل ہیں جو امریکی کپاس اور مصنوعی کپڑے سے تیار کی گئی ہیں۔

  4. آج ہم یورپی اکیلے ہیں، ہمیں عالمی طاقت بن کر سامنے آنا چاہیے: ایمانوئل میخواں

    فرانسیسی صدر

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں نے یورپ پر زور دیا ہے کہ وہ دنیائے عالم پر اپنا لوہا منوائے اور کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ یورپ ایک ’طاقت‘ کی طرح ابھر کر سامنے آئے۔

    چین، روس اور اب امریکہ سے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر انھوں نے یورپی اخبارات کے ایک گروپ کو بتایا کہ براعظم کو ایک ’ویک اپ کال‘ کا سامنا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’کیا ہم طاقت بننے کے لیے تیار ہیں؟ یہ سوال معیشت اور مالیات، دفاع اور سلامتی، اور ہمارے جمہوری نظاموں کے میدان میں ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’کسی اور دور میں ہم کہہ سکتے تھے کہ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی اکثریت کو تسلیم کریں۔‘ یہ بیان انھوں نے اس ہفتے برسلز میں ہونے والے یورپی یونین کے اجلاس سے قبل دیا۔

    میخوان نے یورپی یونین کے مشترکہ قرضوں کی دوبارہ اپیل کی تاکہ صنعتی سرمایہ کاری کے لیے سینکڑوں ارب یورو اکٹھے کیے جا سکیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ ’ہم مستقبل کے اخراجات کے لیے مشترکہ قرض کی صلاحیت شروع کریں – مستقبل کے یوروبانڈز۔ ہمیں بہترین منصوبوں کی مالی معاونت کے لیے بڑے یورپی پروگراموں کی ضرورت ہے۔‘

    ماضی میں ایسی اپیلوں کو جرمنی اور دیگر ممالک کی جانب سے شکوک و شبہات کا سامنا رہا ہے، جو سمجھتے ہیں کہ فرانس یورپ کو اس مالی بوجھ میں شریک کرنا چاہتا ہے جسے وہ خود – اصلاحات نہ کرنے کی وجہ سے – برداشت کرنے کے قابل نہیں۔

    ایمانوئل میخواں نے اعتراف کیا کہ فرانس ’کبھی متوازن ماڈل نہیں رہا، برخلاف شمالی معیشتوں کے جو زیادہ ذمہ داری کے احساس پر قائم ہیں۔ اور ہمارے پاس کبھی وہ اصلاحات نہیں رہیں جیسی 2010 کی دہائی میں پرتگال، سپین، اٹلی اور یونان میں کی گئیں، جو آج ثمر دے رہی ہیں۔‘

    لیکن انھوں نے کہا کہ دنیا کی مالیاتی منڈیوں میں مشترکہ یورپی قرض کی بڑھتی ہوئی مانگ ہے، جسے فی الحال یورپی یونین فراہم کرنے کے قابل نہیں۔

    انھوں نے کہا کہ دنیا کی منڈیاں امریکی ڈالر سے بڑھتی ہوئی خوفزدہ ہیں۔ وہ متبادل چاہتی ہیں۔۔ دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے ایک جمہوری ریاست قانون کی حکمرانی کے ساتھ ایک بڑی کشش ہے۔ اور جب میں دنیا کو دیکھتا ہوں جیسی یہ ہے، تو ایک طرف چین کی آمرانہ حکومت ہے، اور دوسری طرف امریکہ ہے جو قانون کی حکمرانی سے مزید دور جا رہا ہے۔

    ایمانوئل میخواں کے مطابق یورپی یونین کو سلامتی و دفاع، صاف توانائی اور مصنوعی ذہانت کے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے سالانہ 1.2 ٹریلین یورو کی ضرورت ہے۔

    انھوں نے یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ ان صنعتوں کو ’تحفظ‘ فراہم کرے۔ انھوں نے کہا کہ ’چینی ایسا کرتے ہیں، امریکی بھی۔

    انھوں نے کہا کہ ’آج یورپ ایک بڑے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے، ایک بے ترتیبی کی دنیا میں۔ موسمیاتی تبدیلی تیز ہو رہی ہے۔ امریکہ، جس کے بارے میں ہم سوچتے تھے کہ وہ ہمیشہ ہماری سلامتی کی ضمانت دے گا – اب یقینی نہیں۔ روس ہمیں ہمیشہ سستی توانائی دینے والا تھا، لیکن یہ تین سال پہلے ختم ہو گیا۔ چین ایک ایسا حریف بن گیا ہے جو دن بہ دن زیادہ سخت ہوتا جا رہا ہے۔ آج ہم یورپی اکیلے ہیں۔ لیکن ہمارے پاس ایک دوسرا آپشن ہے۔ ہم 450 ملین لوگ ہیں۔ یہ بہت بڑی طاقت ہے۔ میرے لیے (طاقت بننا) یورپی سفر کی تکمیل ہے۔ ہم جنگ روکنے کے لیے اکٹھے ہوئے، ہم نے ایک منڈی بنانے کے لیے اکٹھے ہوئے۔ لیکن ہم نے ہمیشہ خود کو طاقت کے بارے میں سوچنے سے روکا۔‘

    واشنگٹن کے ساتھ گرین لینڈ کے تنازعے کے بارے میں ایک سوال پر میخواں نے کہا کہ یورپیوں کو دھوکہ نہیں کھانا چاہیے۔

  5. عمران خان سے بیرسٹر سلمان صفدر کی اڈیالہ جیل میں طویل ملاقات، رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے گی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    Salman Safdar

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عمران خان سے ان کے وکیل سلمان صفدر کی طویل ملاقات ہوئی ہے۔ اس ملاقات کے بعد سلمان صفدر نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور سابق وزیر اعظم کے اہل خانہ کو بھی تفصیلات بتائی ہیں۔

    سپریم کورٹ نے آج توشہ خانہ کیس میں اپیل کی سماعت کے دوران سابق وزیرِاعظم عمران خان کی صحت اور جیل میں دستیاب سہولتوں کا جائزہ لینے کے لیے وکیل سلمان صفدر کو ’فرینڈ آف دی کورٹ‘ مقرر کیا۔ عدالت نے انھیں حکم دیا کہ وہ اس حوالے سے ایک مفصل رپورٹ پیش کریں۔

    اڈیالہ جیل حکام کے مطابق عمران خان اور سلمان صفدر کی ملاقات کا انتظام علیحدہ کمرے میں کیا گیا، جہاں دونوں کے درمیان تین گھنٹے سے زائد بات چیت ہوئی۔

    ملاقات کے بعد جب جیل کے باہر موجود صحافیوں نے سلمان صفدر سے عمران خان کی صحت اور سہولتوں کے بارے میں سوالات کیے تو انھوں نے جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ وہ اس بارے میں ایک جامع رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائیں گے۔

    ملاقات کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان کی بہن علیمہ حان اور پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ ایک گاڑی میں بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ سلمان صفدر نے ملاقت کی اور ان تینوں کی ملاقات کے بعد کسی نے بھی عمران خان کے ساتھ ہونے والی ملاقات سے متعلق کوئی گفتگو نہیں کی۔

  6. ٹرمپ سے ملاقات میں ایران سے مذاکرات والے آپشن پر زور دوں گا: نیتن یاہو

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ رواں ہفتے واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران ایران سے مذاکرات والے آپشن کو ترجیح دیں گے۔

    اپنے دورۂ امریکہ سے قبل نیتن یاہو نے واضح کیا کہ غزہ اور خطے کے دیگر مسائل پر بھی بات ہوگی لیکن سب سے پہلے ایران کے ساتھ بات چیت پر توجہ دی جائے گی۔

    انھوں نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کو ان مذاکرات کے اصولوں پر اپنے خیالات پیش کریں گے۔

    واضح رہے کہ یہ ملاقات ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے آغاز کے چند روز بعد ہو رہی ہے، جس سے دونوں رہنماؤں کی گفتگو کو خاص اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔

  7. مالاکنڈ ڈویژن صوبائی نظم و نسق میں ہوگا، پشاور میں بھی اب پی ایس ایل میچز ہوں گے: اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فیصلہ

    Peshawar

    ،تصویر کا ذریعہCM Office KPK

    پشاور کور ہیڈکوارٹر میں خیبر پختونخوا کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح جگ اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، قومی سلامتی کے مشیر، کور کمانڈر پشاور سمیت اعلیٰ سول اور عسکری حکام نے شرکت کی۔

    اجلاس کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں ہلاک ہونے والے شہریوں اور سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ رواں برس پشاور میں پاکستان سپر لیگ کے میچز کا انعقاد کیا جائے گا۔

    اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں صوبائی حکومت کے نظم و نسق کو فوری طور پر صوبائی پولیس اور دیگر اداروں کے تحت نافذ کیا جائے گا اور اس کامیاب ماڈل کو بعد ازاں خیبر، اورکزئی اور کرم میں مرحلہ وار بڑھایا جائے گا۔

    KPK

    ،تصویر کا ذریعہCM Office KPK

    ان اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں اور عسکری کارروائیوں کی نگرانی کے لیے وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں ایک خصوصی ذیلی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا جو ماہانہ اجلاس منعقد کرے گی اور اس میں منتخب عوامی نمائندگان، کور کمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس، صوبائی حکام اور وفاقی اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے۔

    یہ کمیٹی گورننس اور ترقی کے منصوبوں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کے لیے مستقل آمدنی کے مواقع پیدا کرے گی اور بے گھر افراد کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر انتظامات کرے گی۔

    اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ وفاق اور خیبر پختونخوا کے درمیان مؤثر رابطوں کے ذریعے دہشت گردی جیسے اہم مسئلے سے نمٹنے کے لیے پالیسی امور پر مکمل ہم آہنگی اور یکساں مؤقف کو یقینی بنایا جائے گا، نوجوانوں میں شدت پسندانہ سوچ کی روک تھام اور مثبت سوچ کے فروغ کے لیے پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے، جبکہ غیر قانونی سم کارڈز، دھماکہ خیز مواد اور بھتہ خوری کے خلاف سخت اقدامات جاری رہیں گے اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی مرحلہ وار پروفائلنگ پر بھی توجہ دی جائے گی۔

  8. ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے علی لاریجانی کی مسقط میں عمان کے سلطان سے ملاقات

    Iran, Oman

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے مسقط میں عمان کے سلطان سے ملاقات کی ہے۔

    ایرانی میڈیا نے اس مذاکرات کے ماحول کو ’مثبت اور تعمیری‘ قرار دیا ہے۔ اس دورے کے دوران وہ اومان کے اعلیٰ عہدے داروں سے ملاقات اور تبادلہ خیال کریں گے۔

    امریکی وفد سے مذاکرات کے بعد یہ کسی بھی ایرانی عہیدیدار کا عمان کا پہلا دورہ ہے، جس میں توقع کی جا رہی ہے کہ امریکہ سے آئندہ کے مذاکرات سے متعلق لائحہ عمل پر وہ عمانی قیادت سے مشاورت کریں گے۔

    خیال رہے کہ 7 فروری کو عمان کی ثالثی میں مسقط میں ایران-امریکہ مذاکرات کا ایک نیا دور منعقد ہوا تھا۔

    ایران کے وزیر خارجہ نے جمعہ کے روز کہا کہ عمان کی ثالثی میں امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات ’اچھا آغاز تھا اور یہ جاری رہیں گے۔

    عباس عراقچی نے ترکی، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے ساتھ بات چیت کی ہے۔

    عباس عراقچی کے سرکاری ٹیلیگرام چینل نے اعلان کیا کہ انھوں نے عمان کے دارالحکومت میں ایران امریکہ مذاکرات سے متعلق تازہ ترین پیش رفت کے بارے میں اپنے ہم منصبوں کو اپ ڈیٹ کیا ہے۔

  9. صوبے کو تجربہ گاہ نہیں بننے دیا جائے گا، سکیورٹی اداروں کے نمائندوں کے ساتھ ایک اہم اجلاس آج ہو گا: سہیل آفریدی

    UET Peshawar

    ،تصویر کا ذریعہGovt of KPK

    وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ (یو ای ٹی) پشاور کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر ان کی ملاقات وزیرِاعظم شہباز شریف سے ہو چکی ہے، ایپکس کمیٹی کا اجلاس بھی منعقد کیا جا چکا ہے اور آج سکیورٹی اداروں کے نمائندوں کے ساتھ ایک اہم اجلاس ہونے جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ امن کے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں، خیبر پختونخوا طویل عرصے تک بدامنی کا شکار رہا ہے لیکن اب مزید تجربہ گاہ نہیں بننے دیا جائے گا۔

    وزیرِاعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’میں خیبر پختونخوا کے نوجوانوں اور عوام کو یہ اعتماد دلاتا ہوں کہ میں کبھی اپنی ذات یا سیاست کے لیے کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں کروں گا۔ لیکن جہاں صوبے اور عوام کے حقوق کی بات آئے گی، وہاں چاہے کوئی شخص مجھے کتنا ہی ناپسند کیوں نہ ہو، میں اس کے ساتھ برابری کی سطح پر بیٹھوں گا اور عوامی مفاد میں بات کروں گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ دباؤ، دھمکیوں یا بند کمروں کے فیصلوں کے ذریعے، یا عمران خان کے نظریے کو نظرانداز کر کے، خیبر پختونخوا سے کچھ منوایا جا سکتا ہے تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔

    سہیل آفریدی نے کہا کہ بند کمروں میں کیے گئے مسلط شدہ فیصلے مسائل کو جنم دیتے ہیں۔ انھوں نے وفاق پر الزام لگایا کہ صوبے کے اربوں روپے واجب الادا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تیراہ متاثرین کے لیے چار ارب روپے مختص کرنے پر بلاجواز ہنگامہ کھڑا کیا گیا، جبکہ آئی ایم رپورٹ میں 5300 ارب روپے کی کرپشن کی نشاندہی ہوئی مگر کسی نے سوال نہیں اٹھایا۔

    سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے کے نوجوانوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، صرف مواقع بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بدامنی کے باعث نوجوانوں کو تعلیمی اور پیشہ ورانہ مواقع سے محروم رکھا گیا، لیکن اب صوبائی حکومت جدید اصلاحات کے ذریعے نظامِ تعلیم کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کر رہی ہے۔

    ان کے مطابق نوجوانوں کی تعلیم، تحقیق اور روزگار کے مواقع پر خطیر وسائل صرف کیے جا رہے ہیں اور حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ صوبے کا کوئی نوجوان بے روزگار نہ رہے۔

  10. ٹرمپ کی امریکہ اور کینیڈا کو جوڑنے والے پل کے افتتاح کو روکنے کی دھمکی, ناردین سعد، بی بی سی نیوز

    گورڈی ہاؤ انٹرنیشل برج

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ امریکہ اور کینیڈا کو ملانے والے ایک پل کو کھولنے سے روک دیں گے جب تک کہ واشنگٹن کو ’ہر اُس چیز کا مکمل معاوضہ‘ نہ مل جائے جو اس نے اپنے شمالی پڑوسی یعنی کینیڈا کو دیا ہے۔

    ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر یہ لکھا کہ ’گورڈی ہاؤ انٹرنیشنل برج، جو کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کو امریکی ریاست مشی گن سے جوڑتا ہے، اُس وقت تک نہیں کھلے گا جب تک اوٹاوا ’امریکہ کے ساتھ وہ انصاف اور احترام نہ کرے جس کے ہم مستحق ہیں‘۔

    اس منصوبے کی ویب سائٹ کے مطابق یہ پل کینیڈا کی حکومت کے فنڈ سے تعمیر ہو رہا ہے لیکن عوامی ملکیت کینیڈا اور مشی گن دونوں کے پاس ہوگی۔

    یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ اس کے افتتاح کو کس طرح روک سکتے ہیں، تاہم انھوں نے کہا کہ مذاکرات فوراً شروع ہوں گے، مگر تفصیل نہیں بتائی۔

    ڈیٹرائٹ دریا پر تعمیر ہونے والے اس پل کی باضابطہ ٹیسٹ اور منظوری کے بعد 2026 کے اوائل میں ٹریفک کے لیے کھلنے کی توقع ہے۔ اس پل کی تعمیر 2018 میں شروع ہوئی تھی، لیکن یہ منصوبہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے دونوں ممالک کے درمیان تنازع کا باعث رہا ہے۔

    کینیڈین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق اس کی لاگت کا تخمینہ 6.4 ارب کینیڈین ڈالر (3.4 ارب پاؤنڈ) تک کی ہے۔

    ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ کو ’کم از کم اس اثاثے کا نصف حصہ‘ ملنا چاہیے۔ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کینیڈا پل کے دونوں اطراف کا مالک ہے۔

    ویب سائٹ کے مطابق منصوبہ تیار کرنے والی تنظیم، ونڈسر-ڈیٹرائٹ برج اتھارٹی، کینیڈا کی حکومت کی مکمل ملکیت ہے۔

    ٹرمپ نے لکھا کہ ’کینیڈین حکومت توقع کرتی ہے کہ میں، بطور صدرِ امریکہ، انھیں اجازت دوں کہ وہ بس ’امریکہ کا فائدہ اٹھائیں!‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’میں اس پل کو کھلنے نہیں دوں گا جب تک کہ امریکہ کو ہر اُس چیز کا مکمل معاوضہ نہ مل جائے جو ہم نے انھیں دیا ہے۔‘

    مورون خاندان، جو امریکہ میں موجود اس ایمبیسیڈر برج کے مالک ہیں جو ڈیٹرائٹ کو کینیڈا سے جوڑتا ہے۔۔ نے ٹرمپ سے ان کی پہلی مدتِ صدارت میں اپیل کی تھی کہ نئے پل کی تعمیر روک دی جائے۔ ان کی یہ دلیل تھی کہ یہ ان کے ٹیکسز جمع کرنے کے خصوصی حق کو متاثر کرتا ہے۔

    اس کے جواب میں ٹرمپ اور اُس وقت کے وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا کہ یہ پل دونوں ممالک کے درمیان ایک ’اہم اقتصادی رابطہ‘ ہے۔

    ٹرمپ نے پیر کو دونوں ممالک کے درمیان حالیہ تجارتی تنازعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’کینیڈا کئی سالوں سے جو ہمارے ڈیری مصنوعات پر ٹیرف عائد کرتا آ رہا ہے وہ ناقابلِ قبول ہے۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ کینیڈا اور چین کے درمیان گذشتہ ماہ دستخط ہونے والا تجارتی معاہدہ ’کینیڈا کو تباہ کر دے گا۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’چین سب سے پہلے کینیڈا میں کھیلے جانے والا ’آل آئس ہاکی‘ کا مقابلوں کو ختم کرنے کا اعلان کرے گا اور پھر کبھی ’سٹینلی کپ‘ کا انعقاد ہی نہیں کرے گا۔‘

    امریکی صدر کے مؤقف پر کینیڈا کی برج اتھارٹی، اونٹاریو کے وزیرِاعلیٰ کے دفتر اور ڈیٹرائٹ کے میئر کے دفتر نے فوری طور پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

  11. امریکہ سے سفارتی عمل جاری رہے گا، عمان میں مذاکرات پر ترکی کی ناراضی کی کوئی وجہ نہیں: ایران

    USA, Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکہ سے مذاکرات جاری رکھے جائیں گے۔

    منگل کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکی وفد کے ساتھ عمان میں ہونے والی مختصر اور براہ راست بات چیت کے دوران یہ واضح کیا گیا کہ ’ہم نے محسوس کیا کہ سفارتی عمل جاری رہے گا‘۔

    واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات عمان کی ثالثی میں مسقط میں ہوئے تھے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے ہمراہ وفد نے عمانی سفارت کاروں کے ذریعے ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹیکر اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سے بالواسطہ مذاکرات کیے۔ عباس عراقچی نے تصدیق کی کہ ان مذاکرات کے اختتام پر امریکی حکام کے ساتھ ان کی ’مختصر ملاقات‘ ہوئی تھی۔

    وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دورہ امریکہ کے بارے میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ امریکہ پر منحصر ہے کہ وہ ’دباؤ اور تباہ کن اثرات سے آزادانہ طور پر کام کرنے کا فیصلہ کرتا ہے جو یقیناً خطے اور خود امریکہ کے لیے نقصان دہ ہیں۔‘

    سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کے عمان کے دورے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ یہ دورہ ان کے علاقائی دوروں جیسا کہ روس اور پاکستان کے بیرونی ممالک کا حصہ ہے اور ان کا اگلا قطر کا دورہ بھی اسی فریم ورک کے مطابق ہے۔

    عمان میں مذاکرات پر ترک حکومت کی ناراضگی کی خبروں پر ردعمل

    اس سوال کے جواب میں کہ کیا ترک حکومت عمان میں ہونے والے مذاکرات سے خفا ہے، وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ مسقط میں مذاکرات کا انعقاد دیگر ممالک کے پریشان ہونے کی وجہ ہے۔

    اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’شروع سے، یہ ملاقات عمان کے علاوہ کسی اور جگہ نہیں ہونی چاہیے تھی۔‘

    اسماعیل بقائی کے مطابق خطے کے تمام ممالک جنھوں نے مذاکرات کے انعقاد میں مدد کی تھی وہ بھی ان کی میزبانی کے لیے تیار تھے۔ لیکن چونکہ ’ہم مذاکرات کرنے والے فریق ہیں اور ہمیں عمان میں اچھا تجربہ حاصل تھا اور ہمارا مقصد جوہری مسئلے پر توجہ مرکوز کرنا تھا اور بالآخر ان اور دیگر وجوہات کی بنا پر ہم نے مسقط میں مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

  12. بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے جنوری میں ساڑھے تین ارب ڈالر کی رقوم موصول, تنویر ملک، صحافی

    بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے موجودہ مالی سال میں جنوری کے مہینے میں تین ارب 50 کروڑ ڈالر کی ترسیلات زر پاکستان بھیجی گئی ہیں۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جنوری کے مہینے میں سالانہ بنیادوں پر پندرہ فیصد سے زائد کا اضافہ ترسیلات زر میں ریکارڈ کیا گیا۔

    مرکزی بینک کےمطابق موجودہ مالی سال کے پہلے چھ مہینوں میں ان ترسیلات زر کا مجموعی حجم 23.2 ارب ڈالر تھا اور گزشتہ مالی سال کے مقابلے کے اسی عرصے کے دوران بھیجی گئی 20.9 ارب ڈالر کی ترسیلات زر کےمقابلے میں ان کا حجم 11.3 فیصد زیادہ رہا۔

    مختلف ملکوں میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھجوائی گئی ترسیلات زر کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں جنوری کے مہینے میں سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے سب سے زیادہ تقریبا 74 کروڑ ڈالر کی رقوم ملک بھیجی گئیں۔

    متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے 70 کروڑ ڈالر کے لگ بھگ ترسیلات زر موصول ہوئیں۔ برطانیہ میں رہنے والے پاکستانیوں کی جانب سے 57 کروڑ ڈالر جبکہ امریکہ میں پاکستانیوں کی جانب سے تیس کروڑ ڈار کی رقوم پاکستان بھیجی گئی ہیں۔

  13. سپریم کورٹ نے سلمان صفدر کو ’فرینڈ آف دی کورٹ‘ مقرر کر دیا، عمران خان کی جیل میں حالت کے بارے میں رپورٹ جمع کروانے کا حکم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ نے بیرسٹر سلمان صفدر کو فرینڈ آف دی کورٹ مقرر کر دیا ہے۔

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے سلمان صفدر کی تعیناتی اس درخواست کی مد میں کی، جس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کو دی جانے والی سہولتوں اور ان کی حالت زار سے متعلق پوچھا گیا تھا۔

    عدالت نے سلمان صفدر کو ہدیت کی کہ وہ اڈیالہ جیل جائیں اور عمران خان کی جیل میں حالت زار کے بارے میں تحریری رپورٹ دیں۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ بیرسٹر سلمان صفدر سابق وزیر اعظم کو دستیاب سہولیات کے بارے میں تحریری رپورٹ دیں۔

    دوسری جانب اٹارنی جنرل نے اٹارنی جنرل نے 5 اگست سے 18 اگست 2023 کی رپورٹ عدالت پیش کر دی۔

    انھوں نے عدالت کو بتایا کہ یہ رپورٹ اٹک جیل میں قید کے دوران کی ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سلمان صفدر کو عدالتی نمائندہ مقرر کر رہے ہیں۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا کہ سلمان صفدر کو عمران خان سے ملاقات میں کوئی مسئلہ پیش نہیں ہونا چاہیے۔

    چیف جسٹس نے سلمان صفدر سے کہا کہ اگر کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو آپ ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت رپورٹ دیکھنے کے بعد پرسوں فیصلہ کریں گی۔

    سماعت کے دوران عمران خانب کے وکیل لطیف کھوسہ روسٹرم پر آ گئے اور موقف اختیار کیا کہ مجھے بھی عمران خان سے ملاقات کی رسائی نہیں دی جا رہی جس پر چیف جسٹس نے سردار لطیف کھوسہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے آرڈر کر دیا، سلمان صفدر آج جائیں گے۔‘

  14. ’آپ خوابوں کی دنیا میں رہ رہے ہیں‘: رپبلکن سینیٹر کا ترک وزیر خارجہ کے بیان پر ردعمل

    امریکی کانگریس میں رپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے ترک وزیر خارجہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آپ ایک لمحے کے لیے بھی یہ سوچ رہے ہیں کہ آیت اللہ اور ان کی قاتل حکومت کو اقتدار میں رہنے دینا چاہیے تو آپ خوابوں کی دنیا میں رہ رہے ہیں۔

    لنڈسے گراہم نے ایکس پر اپنے ان خیالات کا اظہار ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے اس بیان کے بعد دیا، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’ایران میں کسی فضائی حملے کے ذریعے حکومت ختم نہیں ہو گی۔‘

    اپنے پیغام میں لنڈسے گراہم نے لکھا کہ ’ہمارے نام نہاد علاقائی اتحادیوں کے لیے: اگر آپ ایک لمحے کے لیے بھی یہ سوچ رہے ہیں کہ ایرانی عوام کی طرف سے تمام تر دباؤ کے بعد آیت اللہ اور ان کی قاتل حکومت کو اقتدار میں رہنے دینا چاہیے تو آپ خوابوں کی دنیا میں رہ رہے ہیں۔‘

    اس کے بعد رپبلکن سینیٹر نے براہ راست ترکی، قطر اور مصر کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’ایرانی عوام کے جائز مطالبات کو نظر انداز کرنے کی آپ کی خواہش، میری نظر میں مکمل طور پر امریکہ کے قومی سلامتی کے مفادات اور انسانیت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔‘

    انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایران میں دسمبر کے اختتام میں شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں میں سینکڑوں ہلاکتیں ہوئی ہیں تاہم انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے درست اعدادوشمار دستیاب نہیں۔

    ایرانی حکام ان مظاہروں کا ذمہ دار اسرائیل کی طرف سے تربیت یافتہ افراد کو قرار دیتے ہیں، چاہے وہ اندرون ملک ہو یا بیرون ملک اور اسے 12 روزہ جنگ کا تسلسل قرار دیتے ہیں۔

    ٹویٹ

    ،تصویر کا ذریعہ@LindseyGrahamSC

  15. نویں بین الاقوامی پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مقابلے مکمل: امریکہ اور سعودی عرب سمیت 19 ممالک کی شرکت

    آئی ایس پی آر

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ کمپیٹیشن 2026 گذشتہ روز کامیابی سے کھاریاں میں مکمل ہو گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اختتامی تقریب میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ٹیم سپرٹ مقابلہ 60 گھنٹوں پر مشتمل طویل اور سخت پیٹرولنگ مشق ہے، جس کا مقصد جدید عسکری خیالات، حربی تجربات اور بہترین عملی طریقہ کار کے تبادلے کے ذریعے پیشہ ورانہ فوجی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔

    یہ مشق 5 فروری 2026 سے پاکستان کے صوبہ پنجاب میں نیم پہاڑی علاقوں میں منعقد ہوئی۔

    اس میں امریکہ، بنگلہ دیش اور سعودی عرب سمیت 19 ممالک نے حصہ لیا جبکہ تین ممالک انڈونیشیا، میانمار اور تھائی لینڈ نے بطور مبصرین شرکت کی۔ مقابلے میں پاکستان آرمی اور بحریہ کی 16 مقامی ٹیموں نے بھی حصہ لیا جبکہ پاکستان فضائیہ کے مبصرین بھی ایونٹ میں شریک رہے۔

    اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ٹیموں کی پیشہ ورانہ مہارت، بلند حوصلے اور عزم کو سراہا۔

    انھوں نے جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگی کے لیے کثیر القومی مشقوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’کردار، جرات اور قابلیت پاکستانی فوج کی بنیادی اقدار ہیں۔‘

    فیلڈ مارشل نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوجیوں کی قربانیوں کا اعتراف بھی کیا۔

  16. بنگلہ دیش میں الیکشن: انتخابی مہم کا وقت ختم ہو گیا

    بنگلہ دیش انتخابات

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بنگلہ دیش میں 12 فروری کو ہونے والے 13ویں پارلیمانی انتخابات میں امیدواروں کے لیے انتخابی مہم کا وقت ختم ہو گیا ہے۔

    بنگلہ دیش میں انتخابی مہم باضابطہ طور پر 22 جنوری کو شروع ہوئی تھی تاہم الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق اسے ووٹنگ سے 48 گھنٹے قبل ختم کرنا ہوتا ہے۔

    اس کے مطابق انتخابی مہم کا دورانیہ منگل کی صبح ساڑھے سات بجے ختم ہو گیا۔

    بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 14 فروری کی شام 4:30 بجے تک کسی بھی حلقے میں کوئی عوامی اجتماع یا جلسہ نہیں کیا جائے گا۔

    12 فروری بروز جمعرات صبح 7:30 بجے بنگلہ دیش میں ووٹ ڈالنے کا سلسلہ شروع ہو گا جو شام 4:30 بجے تک مسلسل جاری رہے گی۔

    اس دن ملک کے 300 پارلیمانی حلقوں میں سے 299 میں بیک وقت ووٹنگ ہو گی۔

    شیخ حسینہ واجد کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ملک میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔

    شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ ان انتخابات میں حصہ لینے سے قاصر ہے کیونکہ اس کی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہے۔

    مجموعی طور پر تقریباً 2000 امیدوار اس الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں، جن میں 250 سے زیادہ آزاد امیدوار ہیں۔

  17. ’ایران میں کسی فضائی حملے کے ذریعے حکومت ختم نہیں کی جائے گی‘: ترک وزیر خارجہ

    ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطہ ایک اور جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

    سی این این ترک کو ایک انٹرویو کے دوران ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ صدر اردوغان اس مسئلے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور ہماری تمام کوششوں کا مقصد فوجی تنازع کو روکنا ہے۔

    ایران میں احتجاج اور اس دوران ہونے والی ہلاکتوں کے بعد حکومت میں تبدیلی کے مطالبے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ہاکان فیدان نے کہا کہ ان کی رائے میں ’ایران میں کسی فضائی حملے کے ذریعے حکومت ختم نہیں کی جائے گی بلکہ ملکی نظام کو کمزور کیا جائے گا۔‘

    ترک وزیر خارجہ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے دوران امریکی وزیر خارجہ کی ایک کال کے بارے میں بھی بات کی اور بتایا کہ کس طرح مارکو روبیو نے انھیں ایران پر حملے کے بارے میں مطلع کیا اور انھوں نے اپنے ایرانی ہم منصب کو اس بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا۔

  18. بریکنگ, وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کو انڈیا کے خلاف میچ کھیلنے کی اجازت دے دی

    کرکٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو 15 فروری کو انڈیا کے خلاف ٹی ٹوئٹی ورلڈ کپ کا میچ کھیلنے کی اجازت دے دی ہے اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ دوست ممالک کی درخواست پر کیا گیا ہے۔

    اس سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین جناب محسن نقوی نے پی سی بی، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے نمائندوں اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطحی مشاورت کے نتائج کے بارے میں باضابطہ طور پر بریفنگ دی ہے۔

    حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے پی سی بی کو دی گئی رسمی درخواستوں کے ساتھ ساتھ سری لنکا، متحدہ عرب امارات، اور دیگر رکن ممالک کی معاون مواصلات کا جائزہ لیا ہے۔

    حکومت نے بی سی بی کے صدر امین الاسلام کے بیان کا خیر مقدم کیا۔

    بیان کے مطابق پیر کی شام وزیر اعظم شہباز شریف نے نے سری لنکا کے صدر انورا کمارا دیسانائیکے سے ٹیلیفون پر بات کی۔ جس کے دوران انھوں نے تسلیم کلیا کہ ’پاکستان اور سری لنکا ہمیشہ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہے ہیں، خاص طور پر مشکل وقتوں میں۔ سری لنکا کے صدر نے وزیر اعظم سے درخواست کی کہ وہ موجودہ تعطل کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کے لیے سنجیدہ غور کریں۔‘

    حکومتی بیان کے مطابق ’دوست ممالک کی درخواست کے پیش نظر، حکومت پاکستان نے پاکستانی ٹیم کو ہدایت دیتی ہے کہ وہ 15 فروری 2026 کو آئی سی سی مردوں کے ٹی20 ورلڈ کپ کے شیڈول میچ کے لیے میدان میں اترے۔‘ بیان کے مطابق ’یہ فیصلہ کرکٹ کی روح کے تحفظ اور تمام شریک ممالک میں اس عالمی کھیل کے تسلسل کی حمایت کے مقصد سے کیا گیا ہے۔‘

    واضح رہے کہ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا تھا جب بنگلہ دیش نے اپنی ٹیم کی سکیورٹی کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے میچز انڈیا سے باہر منتقل کرنے کی درخواست کی تھی۔ تاہم ان کی درخواست کو آئی سی سی نے مسترد کر دیا تھا۔ جس کے بعد حکومت پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ ان کی ٹیم 15 فروری کو انڈیا کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرے گی۔

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بعد میں کہا تھا کہ یہ فیصلہ بنگلہ دیش کی حمایت میں لیا گیا۔

    انڈیا اور سری لنکا میں 7 فروری کو شروع ہونے والا آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 8 مارچ تک جاری رہے گا۔ شیڈول کے مطابق انڈیا اور پاکستان کے درمیان میچ 15 فروری کو شیڈول ہے۔

  19. ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے پاکستان سے انڈیا کے خلاف میچ کھیلنے کی درخواست کر دی

    بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے پاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے دوران 15 فروری کو طے شدہ اپنا میچ انڈیا کے خلاف ضرور کھیلے۔

    ایک بیان میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن رضا نقوی، پی سی بی اور پاکستان کے کرکٹ شائقین کا دل سے شکریہ ادا کیا۔ اور کہا کہ ’اس عرصے کے دوران، پی سی بی نے مثالی سپورٹس مینشپ اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔‘

    بی سی بی کے صدر محمد امین الاسلام نے بیان میں کہا کہ ’ہم اس عرصے میں پاکستان کی بنگلہ دیش کی حمایت میں حد سے بڑھ کر کوششوں سے بہت متاثر ہیں۔ دعا ہے کہ ہمارا بھائی چارہ طویل عرصے تک پروان چڑھے۔‘

    اپنے بیان میں بی سی پی کے صدر نے کہا کہ ’کل پاکستان کے مختصر دورے کے بعد اور ہماری بات چیت کے آئندہ نتائج کے پیش نظر، میں پاکستان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ کرکٹ کے فائدے کے لیے 15 فروری کو آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ میچ انڈیا کے خلاف کھیلے۔‘

    تاحال پاکستان کی جانب سے اس درخواست پر عمل کرنے سے متعلق مصدقہ اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔

  20. بریکنگ, ٹی ٹوئٹنی ورلڈ کپ میں عدم شرکت پر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو کوئی جرمانہ یا سزا نہیں ہوگی: آئی سی سی

    کرکٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انٹرنیشنل کرکٹ کونسل )آئی سی سی) کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کے ٹی ٹوئٹنی ورلڈ کپ میں شرکت نہ کرنے پر ان کے خلاف کوئی جرمانہ نہیں کیا جائے گا بلکہ اگر بی سی بی چاہے تو وہ وہ تنازع حل کرنے والی کمیٹی سے رجوع کر سکتے ہیں۔

    انٹرنیشنل کرکٹ کونسل )آئی سی سی) کا کہنا ہے کہ ان کا پاکستان کرکٹ بورڈ اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ساتھ ایک کھلا، تعمیری اور خوشگوار مکالمہ ہوا جس میں آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے معاملات پر بات کی گئی۔

    آئی سی سی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کی آئی سی سی مردوں کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں افسوسناک غیر حاضری پر غور کیا گیا اور یہ تسلیم کیا گیا کہ انھوں نے کھیل کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    آئی سی سی نے بنگلہ دیش کرکٹ کے لیے اپنے مسلسل تعاون کا یقین دلایا تاکہ قومی ٹیم کی آئی سی سی مردوں کے ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت نہ کرنے سے ملک میں کرکٹ پر کوئی طویل مدتی اثر نہ پڑے۔

    آئی سی سی نے بیام مںی کہا کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورّ پر کے لیے کوئی سزا یا جرمانہ نہیں ہوگا۔

    بیان کے مطابق ’اس بات پر اتفاق ہے کہ موجودہ معاملے کے حوالے سے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ پر کوئی مالی، کھیل یا انتظامی جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا۔ یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ بی سی بی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ تنازع حل کرنے والی کمیٹی (DRC) سے رجوع کرے، اگر وہ چاہے۔‘

    آئی سی سی کے مطابق یہ حق موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت موجود ہے اور برقرار ہے۔

    بیان مںی کہا گیا کہ ’آئی سی سی کا طریقہ کار غیر جانبداری اور انصاف کے اصولوں پر مبنی ہے اور سزا کے بجائے سہولت فراہم کرنے والے تعاون کے مشترکہ مقصد کی عکاسی کرتا ہے۔‘

    بیان کے مطابق سنہ 2028 سے 2031 کے درمیان آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی سے متعلق بھی ایک معاہدہ طے پایا ہے ۔ اور یہ کہ آئی سی سی کو بنگلہ دیش کی میزبانی کی صلاحیت پر اعتماد ہے اور وہ اپنے اراکین کو کرکٹ کی ترقی کے لیے میزبانی کے مواقع فراہم کرے گا۔’

    آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو سنجوگ گپتا نے کہا کہ ’بنگلہ دیش میں کرکٹ کا نظام ہے اپنی ترقی، مسابقت اور عالمی انضمام میں طویل مدتی سرمایہ کاری کا مستحق ہے۔‘