آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ’ٹرمپ کے بیانات کی کوئی حیثیت نہیں، آبنائے ہرمز امریکی ناکہ بندی ختم ہونے تک بند رہے گی‘، ایرانی بحریہ کی قریب آنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی

ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آج شام سے آبنائے ہرمز بند کر دی گئی ہے اور یہ اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم نہیں کرتا۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ملک امریکہ کے ساتھ نئے دور کے آمنے سامنے مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہے۔

خلاصہ

  • سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کے آرمی چیف کی تہران آمد کے بعد امریکہ کی جانب سے نئی تجاویز پیش کی گئی ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے
  • ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فوج آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول دوبارہ سنبھال رہی ہے
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ 'بہت اچھی بات چیت' جاری ہے تاہم امریکہ ایران کو آبنائے ہرمز کے معاملے پر بلیک میل نہیں کرنے دے گا
  • ایران نے افزودہ یورینیم امریکہ منتقل کرنے کے ٹرمپ کے دعوے کی تردید کر دی
  • امریکہ کی مزید ایک ماہ کے لیے ممالک کو روسی تیل خریدنے کی اجازت

لائیو کوریج

  1. امریکی ناکہ بندی ’غلط اور غیر دانشمندانہ فیصلہ‘ ہے: قالیباف

    ایران کے سپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف نے ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کو ’غلط اور غیر دانشمندانہ فیصلہ‘ قرار دیا ہے۔

    ایرانی سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں انھوں نے کہا: ’میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ اگر ناکہ بندی ختم نہ کی گئی تو آبنائے ہرمز سے گزرنے کو یقینی طور پر محدود کر دیا جائے گا۔‘

    ایرانی عوام کے نام اپنے ویڈیو پیغام میں قالیباف نے کہا کہ آبنائے ہرمز ’ایران کے کنٹرول میں‘ ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ جب امریکہ نے آبنائے میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائی کی کوشش کی تو ایران نے ’ڈٹ کر مقابلہ کیا۔‘

    قالیباف نے کہا ’ہم نے اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا اور کہا کہ اگر ایسا کیا گیا تو ہم حملہ کریں گے۔‘

    جنگ کے آغاز کے بعد سے قالیباف ایرانی قیادت کی اہم شخصیات میں شامل ہو کر ابھرے ہیں، اور انھوں نے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مذاکرات میں وفد کی قیادت بھی کی۔

  2. مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ: اس وقت کون سی جنگ بندیاں نافذ ہیں؟

    امریکہ اور ایران

    • آغاز: 8 اپریل
    • مدت: 14 دن (22 اپریل تک)
    • ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق یہ معاہدہ اس شرط پر ہوا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے گا۔
    • پاکستان، جس نے مذاکرات میں ثالثی کی، کا کہنا ہے کہ لبنان بھی اس میں شامل ہے، تاہم امریکہ اور اسرائیل اس سے اختلاف کرتے ہیں۔

    اسرائیل اور لبنان

    • آغاز: 16 اپریل
    • مدت: 10 دن (26 اپریل تک)
    • یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان طے پایا اور امریکہ نے اس کا اعلان کیا۔
    • ٹرمپ نے ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ سے اس پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا۔
    • دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود فوج جنوبی لبنان میں تقریباً 10 کلومیٹر اندر تک موجود رہے گی۔
  3. اب تک ایران میں 3468 افراد ہلاک ہو چکے ہیں, غنچہ حبیب زادہ، بی بی سی فارسی

    ایران کے فاؤنڈیشن آف شہدا و سابق فوجی امور کے سربراہ احمد موسوی نے کہا ہے کہ جنگ میں ہلاک ہونے والے 3468 افراد کے ریکارڈ درج کیے جا رہے ہیں۔

    یہ تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار ہیں جو 12 اپریل کو بتائے گئے اور ان کی تعداد پہلے بتائی گئی 3375 ہلاکتوں سے زیادہ ہے۔

  4. بریکنگ, ’ٹرمپ کے بیانات کی کوئی حیثیت نہیں، امریکی ناکہ بندی جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی ہے‘ ایرانی بحریہ

    ایرانی بحریہ کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں پر جاری امریکی ناکہ بندی ’جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی‘ ہے۔

    یاد رہے کہ اس ماہ کے آغاز میں ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی مشروط جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، جس کے دوران آبنائے ہرمز سے بحری آمد و رفت کی اجازت دی گئی تھی۔

    تاہم آج ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ بند کر دیا ہے، اور ایرانی بحریہ کا کہنا ہے کہ یہ اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ ایرانی جہازوں اور بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم نہیں کرتا۔

    اپنے تازہ بیان میں پاسدارانِ انقلاب بحریہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ٹرمپ کے بیانات ’کوئی حیثیت نہیں رکھتے‘۔

    یہ واضح نہیں کہ یہ بیان امریکی صدر کے کس مخصوص تبصرے کے حوالے سے دیا گیا ہے۔

    اس سے قبل ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے رہنما آبنائے کو بند کرنا چاہتے ہیں، لیکن امریکہ انھیں ’بلیک میل‘ نہیں کرنے دے گا۔

  5. بریکنگ, آبنائے ہرمز امریکی ناکہ بندی ختم ہونے تک بند رہے گی، قریب آنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا جائے گا: ایرانی بحریہ کی تنبیہ

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آج شام سے آبنائے ہرمز بند کر دی گئی ہے اور یہ اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم نہیں کرتا۔

    بیان میں آئی آر جی سی بحریہ نے خبردار کیا ہے کہ ’کوئی بھی جہاز خلیج فارس یا بحیرہ عمان میں اپنے موجودہ مقام سے حرکت نہ کرے۔‘

    اس کے مطابق کچھ جہاز گذشتہ رات سے اس کی نگرانی میں آبنائے سے گزرے تھے، تاہم اب یہ آبی گزرگاہ دوبارہ تب تک کے لیے بند کر دی جائے گی جب تک امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر اپنی ناکہ بندی ختم نہیں کرتا۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’آبنائے ہرمز کے قریب آنا دشمن سے تعاون سمجھا جائے گا، اور خلاف ورزی کرنے والے جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔‘

  6. ’ہمیں امید ہے کہ ہم واپس اپنے گھروں کو جا سکیں گے‘ کیپٹن رمن کپور

    کیپٹن رمن کپور جنگ کے آغاز سے ہی آبنائے ہرمز کے قریب ایک خام تیل بردار جہاز پر اپنے 23 رکنی عملے کے ساتھ پھنسے ہوئے ہیں۔

    انھوں نے بی بی سی ورلڈ سروس کے پروگرام ویک اینڈ کو بتایا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ان کے عملے نے ’ملے جلے جذبات‘ کا سامنا کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں انھوں نے متعدد میزائل اور اپنے جہاز کے قریب ایک دھماکہ بھی دیکھا ہے۔

    تاہم انھوں نے مزید کہا کہ وہ صبر اور پیشہ ورانہ انداز میں انتظار کر رہے ہیں۔

    وہ کہتے ہیں، ’ہم امید کرتے ہیں کہ ہم واپس اپنے گھروں کو جا سکیں گے۔‘

  7. بریکنگ, ایران، امریکہ کے ساتھ مزید براہِ راست مذاکرات کے لیے تیار نہیں، نائب وزیر خارجہ

    ایران کے نائب وزیر خارجہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو بتایا ہے کہ ملک امریکہ کے ساتھ نئے دور کے آمنے سامنے مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہے، کیونکہ ان کے بقول واشنگٹن اہم معاملات پر ’زیادہ سے زیادہ مطالبات‘ سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

    سعید خطیب زادہ نے کہا کہ تہران امریکہ کو افزودہ یورینیم دینے پر بھی تیار نہیں، اور اسے ’ناقابلِ قبول شرط‘ قرار دیا۔ جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو اس کے برعکس مؤقف اختیار کیا تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ دونوں فریقوں کے درمیان رابطہ موجود ہے، تاہم ایران چاہتا ہے کہ براہِ راست مذاکرات سے پہلے ایک ’فریم ورک معاہدہ‘ طے پا جائے۔

    ان کے مطابق امریکہ کو ایران کے بنیادی خدشات کو سمجھنے اور انھیں حل کرنے کی ضرورت ہے، جن میں ایران پر عائد پابندیاں بھی شامل ہیں۔

    اس سے قبل آج ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ ’بہت اچھی بات چیت جاری ہے۔‘

  8. آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمد و رفت میں کمی آ رہی ہے

    ہم نے آج صبح تقریباً 07:40 بی ایس ٹی (06:40 جی ایم ٹی) پر آپ کو یہ تصویر دکھائی تھی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ آبنائے کھلی ہوئی ہے۔

    اس کے بعد ایران کی پاسدارانِ انقلاب اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے کہا ہے کہ وہ آبنائے پر دوبارہ پابندیاں عائد کریں گے۔

    اس کے بعد تقریباً 17:00 بی ایس ٹی پر جہازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ مرین ٹریفک نے یہی صورتحال دکھائی۔

  9. انڈیا: آبنائے ہرمز میں انڈین جہازوں پر فائرنگ کر کے رستہ تبدیل کرنے پر ایرانی سفیر کی طلبی

    انڈیا نے آبنائے ہرمز میں دو انڈین جہازوں پر فائرنگ کر کے دو جہازوں کا رخ تبدیل کرنے کے واقعے پر ایران سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    انڈین وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز انڈیا میں تعینات ایرانی سفیر محمد فتحلی کو طلب کیا اور ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے فائرنگ کے واقعے کے بعد آبنائے ہرمز میں انڈین کے پرچم والے دو بحری جہازوں کو راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کے بعد سخت احتجاج ریکارڈ کرایا۔

    انڈین وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ وکرم مصری نے اس واقعے پر اپنی ’گہری تشویش‘ سے آگاہ کیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈین خارجہ سیکریٹری نے ملاقات کے دوران سمندری راستوں کی سلامتی اور جہازرانی کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔

    انھوں نے کہا کہ ماضی میں ایران نے انڈیا سے آنے والے جہازوں کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے میں تعاون کیا تھا۔

    انڈیا نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ انڈیا کی جانب آنے والے جہازوں کی آبنائے ہرمز سے محفوظ اور بلا رکاوٹ گزرگاہ کو دوبارہ یقینی بنائے۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق، ایرانی سفیر نے انڈیا کے مؤقف کو تہران تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

  10. پاکستان کے آرمی چیف نے تہران آمد پر امریکہ کی جانب سے نئی تجاویز پیش کیں جن کا جائزہ لے رہے ہیں: سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے امریکہ کے ساتھ جنگ اورمذاکرات کے حوالے سے تازہ پیش رفت کے حوالے سے تازہ بیان جاری کیا ہے۔

    ایران کی پاسداران انقلاب سے منسلک خبررساں ایجنسی تسنیم کے مطابق سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کے آرمی چیف کی تہران آمد کے بعد امریکہ کی جانب سے نئی تجاویز پیش کی گئی ہیں جنھیں ایران ابھی تک جانچ رہا ہے اور ان پر کوئی حتمی جواب نہیں دیا گیا۔

    بیان کے مطابق سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا کہنا ہے کہ ایران خود کو جنگ میں کامیاب سمجھتا ہے اور امریکہ کو اپنے مطالبات اس حقیقت کے مطابق تبدیل کرنے چاہئیں۔

    تسنیم کے مطابق سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا کہنا ہے کہ عارضی جنگ بندی قبول کرنے کی اس کی ایک اہم شرط یہ تھی کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پرجنگ بندی ہو۔ ایرانی مؤقف کے مطابق، اسرائیل نے ابتدا میں لبنان اور حزب اللہ پر حملے کر کے اس شرط کی خلاف ورزی کی لیکن ایران کے دباؤ کے بعد اسرائیل نے لبنان میں جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی۔

    ’جنگ کے مکمل خاتمے تک آبنائے ہرمز میں جہازرانی کی نگرانی کی جائے گی‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر دشمن تمام محاذوں پر جنگ بندی کی پابندی کرے تو ایران آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر صرف تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے پر تیار ہے۔ یہ اجازت بھی ایران کی نگرانی، اس کے مقرر کردہ راستے اور صرف غیر فوجی جہازوں تک محدود ہوگی، جبکہ مخالف ممالک کے فوجی جہازوں کو اس سے استثنا حاصل نہیں ہوگا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے خطے میں موجود فوجی اڈوں کی زیادہ تر سپلائی آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے اور یہ صورتحال ایران اور خلیج فارس کے لیے سکیورٹی خطرہ سمجھی جاتی ہے۔

    بیان کے مطابق دشمن کی ناکامی اور ایرانی عوام و مسلح افواج کی مزاحمت کے بعد جنگ کے دسویں دن سے امریکہ کی جانب سے جنگ بندی اور مذاکرات کی درخواستیں موصول ہونا شروع ہوئیں۔ یہ وہی جنگ تھی جس کا آغاز خود امریکہ نے کیا تھا۔

    بیان میں ایرانی عوام اور مسلح افواج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مذاکراتی ٹیم خدا پر بھروسے اور عوامی حمایت کے ساتھ سیاسی میدان میں داخل ہوئی ہے تاکہ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مضبوط بنایا جا سکے۔

    بیان کے مطابق، ایرانی وفد کسی قسم کی رعایت، پسپائی یا نرمی اختیار نہیں کرے گا اور پوری قوت کے ساتھ ایران کے مفادات، قومی عزت اور جنگ میں دی گئی قربانیوں کا دفاع کرے گا۔

    ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر مخالف فریق جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ ڈالے یا بحری محاصرہ جیسی کارروائیاں کرے تو اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا، اور اس صورت میں آبنائے ہرمز کی مشروط اور محدود گشائش روک دی جائے گی۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سیاسی میدان میں مضبوط بنانے کے لیے عوام کی مسلسل موجودگی اور قومی اتحاد کا برقرار رہنا ضروری ہے۔ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹریٹ نے رہبرِ انقلاب کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکام، میڈیا اور سیاسی و سماجی کارکنوں کو اس اتحاد کے تحفظ میں کردار ادا کرنا چاہیے۔

  11. ایران کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ امریکہ کو بلیک میل کرے: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ’بہت اچھی بات چیت‘ جاری ہے تاہم امریکہ ایران کو آبنائے ہرمز کے معاملے پر بلیک میل نہیں کرنے دے گا۔

    اوول آفس میں ایک مختصر گفتگو کے دوران انھوں نے ایران کے رویے کو 47 برسوں سے جاری ایک پرانی عادت قرار دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایرانی رہنما آبنائے ہرمز کو بند کرنا چاہتے ہیں، لیکن امریکہ انھیں اجازت نہیں دے گا کہ وہ ’ہمیں بلیک میل‘ کریں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ اس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے۔

  12. آئی آر جی سی کی پابندی کے بعد دو جہاز آبنائے ہرمز سے واپس مڑ گئے: بی بی سی ویریفائی

    بی بی سی ویریفائی کی ایک نئی تحقیق کے مطابق آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے اعلان کے بعد بھی کچھ جہازوں کو اپنا راستہ تبدیل کرنا پڑا ہے۔

    انڈین کے پرچم بردار دو جہازوں کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی جانب سے آبنائے ہرمز میں داخلے کی اجازت نہ ملنے پر واپس پلٹنا پڑا۔

    میرین ٹریفک کے ٹریکنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ کارگو شپ جیگ آرنیو اور آئل ٹینکرسنمار ہیرالڈ نامی دونوں جہاز لارک جزیرے کے قریب پہنچ کر آہستہ ہوئے اور پھر طے شدہ راستے سے واپس مڑ گئے۔

    سنمار ہیرالڈ کے ریکارڈ کے مطابق ٹینکر تیل سے لدا ہوا ہے اور غالبا اس کا تعلق عراق سے ہے۔

    یہ ابھی واضح نہیں کہ سنمار ہیرالڈ وہی ٹینکر ہے جس پر یو کے ایم ٹی او کی رپورٹ کے مطابق فائرنگ کی گئی تھی۔

  13. ایرانی بحریہ دشمنوں کو ’نئی شکستوں کا مزا چکھانے‘ کے لیے تیار ہے: مجتبیٰ خامنہ ای کا تحریری پیغام, غنچے حبیبی ذاد، بی بی سی فارسی

    ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا ایک تازہ ترین تحریری پیغام آج ایرانی میڈیا نے شائع کیا ہے۔

    ایران میں آرمی ڈے کے موقع پر جاری اس پیغام میں ان دو موضوعات کا کوئی واضح ذکر نہیں کیا گیا جن پر حالیہ دنوں میں ایرانی حکام بات کرتے رہے ہیں یعنی آبنائے ہرمز اور ایران اور امریکہ مذاکرات۔

    پیغام کے ایک حصے میں ’دشمنوں‘ کو خبردار کیا گیا ہے کہ ایرانی بحریہ انھیں ’نئی شکستوں کا مزا چکھانے‘ کے لیے تیار ہے تاہم اس بارے میں مزید وضاحت نہیں کی گئی۔

    یاد رہے کہ ایران میں 1979 کے انقلاب کے بعد سے اس دن کو آرمی ڈے کا نام دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ پہلے پیغام کی مانند یہ بھی مجتبیٰ خامنہ ای کا ایک تحریری پیغام تھا۔ وہ مارچ کے اوائل میں سپریم لیڈر بننے کے بعد سے عوام میں نظر نہیں آئے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں ایرانی فوج کو ’اسلام کی فوج‘ کہا اور یہ بھی کہا کہ یہ فوج ’پچھلی دو مسلط کردہ جنگوں کی طرح اب بھی اپنی زمین، پانی اور جھنڈے کا بہادری سے دفاع کر رہی ہے۔‘

    اس پیغام میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ آج ان کے والد علی خامنہ ای کا یوم پیدائش بھی ہے۔

  14. ایرانی ناکہ بندی کے آغاز سے اب تک 23 جہاز واپس موڑے گئے: سینٹکام

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ناکہ بندی کے بعد 23 جہازوں کو واپس جانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

    ایکس پر ایک پوسٹ میں سینٹ کام نہ کہا کہ امریکی فورسز کی جانب سے 13 اپریل کو شروع ہونے والی ناکہ بندی اب بھی نافذ العمل ہے۔

    دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ وہ جاری ناکہ بندی کے جواب میں آبنائے کو دوبارہ بند کر چکا ہے۔

  15. آبنائے ہرمز بند ہے: جہازوں کو ایرانی بحریہ کی جانب سے ریڈیو پیغام موصول

    خبر رساں ادارے روئٹرز کو جہاز رانی کے ذرائع نے بتایا ہے کہ بعض تجارتی جہازوں کو ایرانی بحریہ کی جانب سے ایک ریڈیو پیغام موصول ہوا ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ بند کر دی گئی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق زرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی بحریہ نے ٹینکرزکو بتایا ہے کہ کسی بھی جہاز کو آبنائے سے گزرنے کی اجازت نہیں۔

    یاد رہے کچھ دیر قبل آبنائے میں آئی آر جی سی کی گن بوٹس کی جانب سے ایک ٹینکر پر فائرنگ کی رپورٹس بھی موصول ہوئی تھیں۔

  16. ’میرا نہیں خیال کہ پیر کو مذاکرات ہو رہے ہیں‘: ایرانی سفارتی ذرائع کی بی بی سی سے گفتگو, روحان احمد، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    ایسے وقت میں جب اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی تاریخ پر قیاس آرائیاں چل رہی ہیں، ایک ایرانی سفارتی ذرائع نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ ’میرا نہیں خیال کہ پیر کو مذاکرات ہو رہے ہیں۔‘

    اس سے قبل یہ اطلاعات گردش کر رہی تھیں کہ شاید پیر کو مذاکرات کا دوسرا دور پاکستان کے دارالحکومت میں ہوگا۔

    اس قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی دعویٰ کر چکے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ تاہم ایرانی میڈیا پر شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق دونوں ممالک میں اب بھی کچھ معاملات پر اختلاف پایا جاتا ہے۔

    جب ایرانی سفارتی ذرائع سے پوچھا گیا کہ مذاکرات کا اگلا دور کب ہونا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’ابھی تک تاریخ کا فیصلہ نہیں ہوا ہے۔‘

  17. بریکنگ, پاسداران انقلاب کی کشتیوں نے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا: یوکے میری ٹائم ٹریڈ آپریشن

    برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کی دو کشتیوں کی جانب سے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ادارے کے مطابق یہ واقعہ عمان سے تقریباً 32 کلومیٹر شمال مشرق میں پیش آیا تاہم اس واقعے کے بعد ٹینکر اور اس کا عملہ محفوظ ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے تین ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع بھی دی ہے کہ کم از کم دو تجارتی جہازوں پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ آبنائے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

  18. ایران ابھی تک امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور پر رضامند نہیں ہوا: ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم کا دعویٰ

    ایران کے نیم سرکاری میڈیا تسنیم کا دعویٰ ہے کہ ایران ابھی تک امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور پر رضامند نہیں ہوا۔

    خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے مطالبات میں باربار د و بدل نہ کرنا ہی ان مذاکرات کو جاری رکھنے کی اہم شرط ہو گی۔‘

    ادارے کے مطابق یہ مسئلہ ایک پاکستانی ثالث کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچایا گیا ہے۔

  19. لبنان میں جنگ بندی برقرار، سوشل میڈیا پر ’زبانی حملوں‘ کا شور, نک بیک، بی بی سی نیوز

    سوشل میڈیا پر نظر ڈالیں تو وہاں صدر ٹرمپ اور ایرانیوں کا ایک دوسرے پر زبانی حملوں کا شور سنائی دے گا۔

    لیکن فی الحال اہم بات یہ ہے کہ کہیں بھی جنگ اور حملوں کی آواز نہیں آ رہی۔

    یہ واضح ہے کہ اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کے درمیان لبنان میں ہونے والی جنگ بندی نے کسی نہ کسی رکاوٹ کو توڑ ضرور دیا ہے، چاہے آبنائے ہرمز نہ بھی کھلی ہو۔

    تجارتی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کھولنے کا ایران کا ابتدائی وعدہ لبنان میں جنگ بندی طے پانے کے فوراً بعد سامنے آیا۔

    گو کہ صدر ٹرمپ مسلسل یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ لبنان میں جنگ بندی کا ان کی ایران کے ساتھ وسیع تر بات چیت سے کوئی تعلق نہیں۔

    لبنانی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود جنوبی علاقے میں اسرائیلی حملے میں ایک موٹر سائئکل سوار ہلاک ہوا ہے۔

    امریکہ کی جانب سے جاری کردہ جنگ بندی کی شرائط کے مطابق اسرائیل کو جارحانہ فوجی کارروائی نہیں کرنی چاہیے، لیکن اسے ’کسی بھی وقت‘ منصوبہ بندی یا اچانک کیے جانے والے حملوں کے خلاف جواب دینے کا حق حاصل ہے۔

    لیکن اب تک لبنان میں جنگ بندی برقرار دکھائی دیتی ہے۔ اور یہ وسیع تر کوششوں میں مدد ہی دے سکتی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ ہو، چاہے حقیقت میں کوئی سمجھوتہ صدر ٹرمپ کے دعووں سے کہیں زیادہ دور ہو۔

  20. ٹرمپ اب بھی سمجھتے ہیں کہ وہ چند دنوں میں ایران سے کوئی معاہدہ کر سکتے ہیں, لیز ڈوسیٹ، نامہ نگار برائے عالمی اُمور

    امریکی صدر ٹرمپ مختصر، تیز اور کامیاب معاہدوں کو پسند کرتے ہیں۔

    وہ بظاہر یہ سمجھتے ہیں کہ تہران کے ساتھ بھی 47 برس کی دشمنی کے باوجود وہ چند دنوں میں کوئی معاہدہ کر سکتے ہیں۔

    لیکن ایران کے لیے یہ سب چھوٹی بات نہیں بلکہ بہت بڑے اقدامات ہیں اور انھیں طے کرنے میں وقت، سیاسی عزم اور سمجھوتوں کی ضرورت ہوگی۔

    امید کی ایک کرن یہ ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ایک مفاہمتی یادداشت پر پیش رفت ہو رہی ہے، جو مزید بات چیت کی راہ ہموار کرے گی۔ یہ کوئی بڑا معاہدہ نہیں ہوگا لیکن یہ ایک اہم قدم ضرور ہوگا۔