ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے امریکہ کے ساتھ جنگ اورمذاکرات کے حوالے سے تازہ پیش رفت کے حوالے سے تازہ بیان جاری کیا ہے۔
ایران کی پاسداران انقلاب سے منسلک خبررساں ایجنسی تسنیم کے مطابق سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کے آرمی چیف کی تہران آمد کے بعد امریکہ کی جانب سے نئی تجاویز پیش کی گئی ہیں جنھیں ایران ابھی تک جانچ رہا ہے اور ان پر کوئی حتمی جواب نہیں دیا گیا۔
بیان کے مطابق سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا کہنا ہے کہ ایران خود کو جنگ میں کامیاب سمجھتا ہے اور امریکہ کو اپنے مطالبات اس حقیقت کے مطابق تبدیل کرنے چاہئیں۔
تسنیم کے مطابق سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا کہنا ہے کہ عارضی جنگ بندی قبول کرنے کی اس کی ایک اہم شرط یہ تھی کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پرجنگ بندی ہو۔ ایرانی مؤقف کے مطابق، اسرائیل نے ابتدا میں لبنان اور حزب اللہ پر حملے کر کے اس شرط کی خلاف ورزی کی لیکن ایران کے دباؤ کے بعد اسرائیل نے لبنان میں جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی۔
’جنگ کے مکمل خاتمے تک آبنائے ہرمز میں جہازرانی کی نگرانی کی جائے گی‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر دشمن تمام محاذوں پر جنگ بندی کی پابندی کرے تو ایران آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر صرف تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے پر تیار ہے۔ یہ اجازت بھی ایران کی نگرانی، اس کے مقرر کردہ راستے اور صرف غیر فوجی جہازوں تک محدود ہوگی، جبکہ مخالف ممالک کے فوجی جہازوں کو اس سے استثنا حاصل نہیں ہوگا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے خطے میں موجود فوجی اڈوں کی زیادہ تر سپلائی آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے اور یہ صورتحال ایران اور خلیج فارس کے لیے سکیورٹی خطرہ سمجھی جاتی ہے۔
بیان کے مطابق دشمن کی ناکامی اور ایرانی عوام و مسلح افواج کی مزاحمت کے بعد جنگ کے دسویں دن سے امریکہ کی جانب سے جنگ بندی اور مذاکرات کی درخواستیں موصول ہونا شروع ہوئیں۔ یہ وہی جنگ تھی جس کا آغاز خود امریکہ نے کیا تھا۔
بیان میں ایرانی عوام اور مسلح افواج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مذاکراتی ٹیم خدا پر بھروسے اور عوامی حمایت کے ساتھ سیاسی میدان میں داخل ہوئی ہے تاکہ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مضبوط بنایا جا سکے۔
بیان کے مطابق، ایرانی وفد کسی قسم کی رعایت، پسپائی یا نرمی اختیار نہیں کرے گا اور پوری قوت کے ساتھ ایران کے مفادات، قومی عزت اور جنگ میں دی گئی قربانیوں کا دفاع کرے گا۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر مخالف فریق جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ ڈالے یا بحری محاصرہ جیسی کارروائیاں کرے تو اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا، اور اس صورت میں آبنائے ہرمز کی مشروط اور محدود گشائش روک دی جائے گی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سیاسی میدان میں مضبوط بنانے کے لیے عوام کی مسلسل موجودگی اور قومی اتحاد کا برقرار رہنا ضروری ہے۔ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹریٹ نے رہبرِ انقلاب کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکام، میڈیا اور سیاسی و سماجی کارکنوں کو اس اتحاد کے تحفظ میں کردار ادا کرنا چاہیے۔