نوشکی بم حملے میں تین سکیورٹی اہلکاروں سمیت پانچ ہلاک، جنوبی وزیرستان اور ٹانک کے کچھ علاقوں میں کرفیو کے نفاذ کا اعلان

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع نوشکی میں ایک بم دھماکے میں کم ازکم پانچ افراد ہلاک اور 32 زخمی ہو گئے ہیں۔ ادھر پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ٹانک اور جنوبی وزیرستان کے کچھ علاقوں میں 17 مارچ کو کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

خلاصہ

  • یمن کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے یمن کے دارالحکومت صنعا پر کیے گئے فضائی حملوں کے باعث اب تک 31 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
  • وائٹ ہاؤس کی جانب سے اتوار کو ایک بیان میں کہا گیا کہ امریکہ فضائی حملوں میں یمن میں متعدد حوثی رہنما ہلاک ہوئے ہیں۔
  • ڈپٹی کمشنر ٹانک اور ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر 17 مارچ 2025 کو مختلف علاقوں میں مکمل کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
  • پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں دو دنوں کے اندر مسلح شدت پسندوں کی جانب سے ایک درجن کے لگ بھگ حملے ہوئے ہیں جن میں سے بیشتر کا نشانہ پولیس اہلکار تھے۔
  • پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع نوشکی میں ایک بم دھماکے میں تین سکیورٹی اہلکاروں سمیت پانچ افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے ہیں۔
  • اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے جعفر ایکسپریس مسافر ٹرین پر شدت پسندوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. جنوبی وزیرستان اور ٹانک کے کچھ علاقوں میں کرفیو کے نفاذ کا اعلان، عوام سے تعاون کی اپیل, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    ڈپٹی کمشنر ٹانک اور ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر 17 مارچ 2025 کو مختلف علاقوں میں مکمل کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر ٹانک کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی درخواست پر کورٹ فورٹ، منزئی، خیرگی، کڑی وام سے جنڈولہ کے مرکزی راستے پر صبح چھ بجے سے شام چھا بجے تک مکمل کرفیو ہوگا۔ تاہم کورٹ فورٹ، گومل، گرداوی سے وانا جانے والی سڑک ہر قسم کی آمدورفت کے لیے کھلی رہے گی۔

    اسی طرح، ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر کے نوٹیفکیشن کے مطابق زلائی سے کیڈٹ کالج وانا روڈ اور تنائی سے سروکئی، جنڈولہ روڈ پر بھی صبح چھ بجے سے شام چھ بجے تک مکمل کرفیو نافذ رہے گا۔

    عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سکیورٹی اداروں سے تعاون کریں اور کرفیو کے دوران غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔

    دونوں ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ وانا سے انگور اڈہ اور وانا سے ٹانک جانے والی سڑکیں کھلی رہیں گی۔ انتظامیہ نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہدایات پر عمل کریں تاکہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔

  2. یمن پر امریکی حملے میں 31 ہلاکتیں، امریکہ کا ایران سے حوثیوں کی مدد فوری بند کرنے کا مطالبہ

    USA

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنوائٹ ہاؤس کی جانب سے اتوار کو ایک بیان میں کہا گیا کہ امریکہ فضائی حملوں میں یمن میں متعدد حوثی رہنما ہلاک ہوئے ہیں

    یمن کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے یمن کے دارالحکومت صنعا پر کیے گئے فضائی حملوں کے باعث اب تک 31 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سنیچر کو حوثیوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ’یہ ایران کو خبردار کرنے کے لیے ہے۔‘

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے اتوار کو ایک بیان میں کہا گیا کہ امریکہ فضائی حملوں میں یمن میں متعدد حوثی رہنما ہلاک ہوئے ہیں۔

    Yemen

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنامریکہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ امریکی حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک حوثیوں کی بین الاقوامی بحری بیڑوں اور امریکی بحریہ پر حملے کرنے کی صلاحیت ختم نہیں ہو جاتی۔

    قومی سلامتی کے مشیر مائیکل والٹز نے فاکس نیوز کو بتایا کہ ’ہم نے ان پر بے پناہ طاقت سے حملہ کیا اور ایران کو کو خبردار کیا کہ ہر چیز کی حد ہوتی ہے۔‘

    امریکہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ امریکی حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک حوثیوں کی بین الاقوامی بحری بیڑوں اور امریکی بحریہ پر حملے کرنے کی صلاحیت ختم نہیں ہو جاتی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اس حوالے سے تاحال کوئی بات نہیں ہوئی کہ امریکہ یمن میں زمینی حملے کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ اس موقع پر اس کی کوئی ضرورت ہے۔‘

    Sana

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے زور دیا کہ واشنگٹن کے پاس اس بات کا حق نہیں ہے کہ وہ ایران کی خارجہ پالیسی ’ڈکٹیٹ کرے۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ حوثیوں کے پاس ایران کی پشت پناہی کے بغیر بین الاقوامی بحری جہازوں پر حملے کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رہے گی۔‘

    خیال رہے کہ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر زور دیا گیا ہے کہ وہ حوثیوں کی مدد نہ کرے اور ان کی دی جانے والی امداد ’فوری طور پر‘ بند کرے تاہم ایران نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اگر ٹرمپ یہ دھمکی دہراتے رہے اور یمن میں حوثیوں کے اقدامات کی ذمہ داری ایران پر ڈالی تو جوابی کارروائی کی جائے گی۔

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے زور دیا کہ واشنگٹن کے پاس اس بات کا حق نہیں ہے کہ وہ ایران کی خارجہ پالیسی ’ڈکٹیٹ کرے۔‘

  3. خیبر پختونخوا میں دو روز میں شدت پسندوں کے لگ بھگ ایک درجن حملوں میں پانچ افراد ہلاک, عزیز اللہ خان، بی بی سی پشاور

    army

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں دو دنوں کے اندر مسلح شدت پسندوں کی جانب سے ایک درجن کے لگ بھگ حملے ہوئے ہیں جن میں سے بیشتر کا نشانہ پولیس اہلکار تھے۔

    ان حملوں میں کم سے کم پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    پولیس نے جوابی کارروائیوں میں کرک اور لکی مروت میں دو شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے ’آپریشن خندق‘ کا اعلان کیا گیا ہے۔

    گذشتہ رات جنوبی ضلع کرک میں مسلح افراد نے تین حملے کیے جن میں سے دو حملے تھانہ خرم اور تھانہ تخت نصرتی پر کیے گئے۔ پولیس کے مطابق ان حملوں میں شدت پسندوں کی جانب سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ تیسرا حملہ سوئی گیس کمپنی کے عیسک خماری میں سیفٹی مینیجمنٹ سسٹم پر ہوا۔

    کرک کے ضلع پولیس افسر شہباز الٰہی نے بی بی سی کو بتایا کہ تھانوں پر ہونے والے حملوں میں ایک اے ایس آئی ہلاک ہوئے ہیں۔

    شہباز الہی کا کہنا تھا کہ سوئی گیس کمپنی کے عیسک خماری میں سیفٹی مینیجمنٹ سسٹم کی حفاظت پر تین ریٹائرڈ گارڈز موجود تھے۔

    ان کے مطابق اس حملے میں ایک گارڈ ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے جبکہ حملہ آور ایک گارڈ کو اغوا کر کے ساتھ لے گئے تھے۔ پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے مغوی کو بازیاب کروا لیا جبکہ جھڑپ کے دوران ایک شدت پسند ہلاک ہوا ہے۔

    کرک کے ضلع پولیس افسر کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے شدت پسند کی شناخت کاشف کے نام سے ہوئی ہے اور یہ اس وقت علاقے میں شدت پسندوں کا دوسرے نمبر کا کمانڈر تھا۔

    دوسری جانب گذشتتہ روز جنوبی وزیرستان میں دو سابق پولیس اہلکاروں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

    مقامی افراد کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے ڈبکوٹ کے مقام پر فائرنگ کی جس میں سابق پولیس اہلکار جوہر ہلاک ہوئے ہیں۔ ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ ایک سابق اہلکار کو مسلح افراد اغوا کر کے ساتھ لے گئے تھے جس کی لاش آج ملی ہے۔ ان حملوں کے بعد علاقے میں خوف پایا جاتا ہے۔

    باجوڑ میں گذشتہ روز عنایت قلعہ بازار میں نامعلوم افراد نے تھانہ لوئ سم ایس ایچ او کی گاڑی پر فائرنگ کی ہے۔ ضلع پولیس افسر وقاص رفیق نے بتایا کہ فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار اور تین شہری زخمی ہوئے ہیں۔

    اسی طرح گذشتہ روز پشاور میں تھانہ مچنی اور تھانہ خزانہ پر حملے کیے گئے جس میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق فوری جوابی کارروائی سے حملہ آور فرار ہو گئے۔

    گذشتہ روز ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب درابن کے مقام پر نامعلوم افراد نے پولیس تھانے کے قریب ایف سی قلعہ پر فائرنگ کی تاہم اس حملے میں کسی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    لکی مروت میں دو روز قبل لنڈیوہ کے مقام پر پولیس اور مسلح شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق مسلح افراد نے پولیس موبائل وین کو آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا جس میں تین اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ ضلع پولیس افسر جواد اسحاق نے بتایا کہ اس پر پولیس نے جوابی کارروائی کی ہے جس میں ایک مسلح شدت پسند ہلاک ہوا ہے۔

    اس سے پہلے دو روز قبل ضلع بنوں میں تین مختلف مقامات پر پولیس پر حملے کیے گئے ہیں لیکن کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

  4. بلوچستان: نوشکی میں بم دھماکے میں پانچ ہلاکتیں، درجنوں زخمی, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    ایک سینیئر سرکاری اہلکار کے مطابق دھماکہ نوشکی شہر کے قریب کوئٹہ اور تفتان کے درمیان آر سی ڈی شاہراہ پر ہوا۔

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    ،تصویر کا کیپشنایک سینیئر سرکاری اہلکار کے مطابق دھماکہ نوشکی شہر کے قریب کوئٹہ اور تفتان کے درمیان آر سی ڈی شاہراہ پر ہوا۔

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع نوشکی میں ایک بم دھماکے میں تین سکیورٹی اہلکاروں سمیت پانچ افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے ہیں۔

    پاکستان کے سرکاری میڈیا پی ٹی وی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ عسکری ذرائع نے تین سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ ہلاک ہونے والوں میں دو عام شہری بھی شامل ہیں۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے اس واقعے کی مذمت کی ہے تاہم ان کی جانب سے نہیں بتایا گیا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے عام افراد تھے یا سکیورٹی اہلکار۔

    نوشکی پولیس کے سربراہ ہاشم مہمند نے بھی بم دھماکے کے واقعے کے تصدیق کی ہے تاہم انھوں نے اس بارے مزید تفصیلات نہیں بتائی۔

    نوشکی میں ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے بتایا کہ یہ دھماکہ نوشکی شہر کے قریب کوئٹہ اور تفتان کے درمیان آر سی ڈی شاہراہ پر ہوا۔

    ان کے مطابق سکیورٹی فورسز کا ایک قافلہ کوئٹہ سے نوکنڈی کی جانب جا رہا تھا جس میں سات بسیں اور دو کاریں شامل تھیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب یہ قافلہ آرسی ڈی شاہراہ پر نوشکی شہر کے قریب ایک فلور مل کے قریب پہنچا تو قافلے میں شامل ایک بس کے قریب دھماکہ ہوا جبکہ باقی گاڑیوں کو راکٹوں سے نشانہ بنایا گیا۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں ایک بس کو بہت زیادہ نقصان پہنچا۔

    انھوں نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں کم از کم پانچ اہلکار ہلاک اور 32 زخمی ہو گئے۔

    زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد ایک کار کا ڈھانچہ موقع سے ملا ہے جس سے یہ لگتا ہے کہ دھماکہ خیز مواد اسی میں نصب تھا۔

    ان کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ پر کار کے تباہ شدہ ڈھانچہ اور دیگر شواہد سے خودکش حملے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔

    اہلکار نےبتایا کہ دھماکے کے بعد زخمیوں کو مقامی سطح پر ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد وہاں سے منتقل کر دی گیا۔

    کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

    عینی شاہدین کے مطابق اس واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے علاقے کو مکمل سیل کر دیا ہے اور اس جانب کسی کو بھی جانے نہیں دیا جا رہا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ واقعے کے کچھ دیر بعد نوشکی کے فضا میں دو ہیلی کاپٹر بھی پرواز کرتے ہوئے دکھائی دیے۔

    نوشکی میں مقامی افراد نے بتایا کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنائی دی۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے نوشکی دھماکے کی مذمت کی ہے۔

    وزیرِ اعلیٰ کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے امن سے کھیلنے والوں کو عبرت ناک انجام تک پہنچائیں گے۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ملک دشمن پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی گھناؤنی سازش کر رہے ہیں۔

    ایک سرکاری اہلکار کا کہنا تھا کہ دھماکے کی جگہ سے ایک کار کا ڈھانچہ ملا ہے جس سے یہ لگتا ہے کہ دھماکہ خیز مواد اسی میں نصب تھا۔

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    ،تصویر کا کیپشنایک سرکاری اہلکار کا کہنا تھا کہ دھماکے کی جگہ سے ایک کار کا ڈھانچہ ملا ہے جس سے یہ لگتا ہے کہ دھماکہ خیز مواد اسی میں نصب تھا۔

    نوشکی کہاں واقع ہے؟

    نوشکی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے اندازاً 130 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔

    یہ ایک سرحدی ضلع ہے جس کے شمال میں افغانستان کی سرحد تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

    نوشکی کی آبادی کی غالب اکثریت مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے تاہم نوشکی شہر میں پشتونوں کے بڑیچ قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد بھی آباد ہیں۔

    نوشکی کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو سنہ 2000 کے بعد سے شورش سے متاثر ہیں۔

    اس علاقے میں سکیورٹی فورسز اور سرکاری تنصیات پر حملوں کے علاوہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بھی تواتر ست پیش آتے رہے ہیں۔

    نوشکی شہر میں فروری 2022 کے فروری کے مہینے میں فرنٹیئر کور کے کیمپ پر ایک بڑا اجتماعی خود کش حملہ کیا گیا تھا۔

    اس حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بی ایل اے نے قبول کی تھی۔ اس حملے کے نتیجے میں کیمپ کے اندر موجود متعدد اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔

    اپریل 2024 میں نامعلوم عسکریت پسندوں نے نوشکی شہر سے اندازاً پانچ کلومیٹر پہلے کوئٹہ سے تفتان جانے والی ایک مسافر بس کو روک کر پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو مسافروں کو شناخت کے بعد کر ہلاک کیا تھا۔

  5. امریکہ کا 41 ممالک پر سفری پابندیاں لگانے پر غور، پاکستان کے پاس بچنے کے لیے 60 دن کی مہلت

    امریکی حکام

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ٹرمپ انتطامیہ درجنوں ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کے بارے میں غور کر رہی ہے۔

    روئٹرز کو اس بارے میں ایک امریکی اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا جو اس معاملے سے باخبر ہیں۔ اس کے علاوہ روئٹرز کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس متعلق تیار کیا گیا ایک میمو بھی دیکھا ہے۔

    اس میمو میں 41 ممالک کے نام شامل ہیں جنھیں تین مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔

    پہلی فہرست میں افغانستان، ایران، شام، کیوبا اور شمالی کوریا سمیت 10 ممالک شامل ہیں جن کے شہریوں کے ویزے کے اجرا پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔

    دوسرے گروپ میں شامل اریٹیریا، ہیٹی، لاؤس، میانمار اور جنوبی سوڈان کے شہریوں کے امریکہ سفر پر جزوی پابندی عائد کی جائے گی۔ اس پابندی سے سیاحتی اور سٹوڈنٹ ویزوں کے ساتھ ساتھ دیگر ویزوں پر بھی اثر پڑے گا۔

    تیسری کیٹیگری میں پاکستان، ترکمانستان اور بیلاروس سمیت 26 ممالک شامل ہیں۔

    میمو میں کہا گیا ہے کہ ان ممالک کی حکومتوں کے پاس امریکہ کی جانب سے نشاندہی خامیوں کو دور کرنے کے لیے 60 دن کا وقت ہو گا بصورت دیگر ان ممالک کے شہریوں کے امریکہ داخلے پر جزوی پابندی عائد کر دی جائے گی۔

    نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک امریکی اہلکار نے روئٹرز کو بتایا کہ یہ فہرست حتمی نہیں اور اس کی اب تک امریکی انتظامیہ نے منظوری نہیں دی ہے۔

    خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 جنوری کو ایک ایگزیکٹیو آرڈر جاری کرتے ہوئے قومی سلامتی کے خطرے کے پیشِ نظر امریکہ میں داخلے کے خواہاں کسی بھی غیر ملکی کی سکیورٹی جانچ پڑتال سخت کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

    اس حکم کے مطابق کابینہ کے متعدد ارکان کو 21 مارچ تک ان ممالک کی فہرست پیش کرنے کی ہدایت کی ہے جن ممالک کی جانچ اور سکریننگ میں کمی کے باعث ان پر جزوی یا مکمل طور پر سفری پابندی عائد کر دینی چاہیے۔

  6. جنوبی امریکہ میں طوفانوں کے نتیجے میں کم از کم 34 افراد ہلاک

    میسوری

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنطوفانوں کے نتیجے میں سب سے زیادہ اموات ریاست میسوری میں ہوئی ہیں۔

    امریکہ کے جنوب مشرقی ریاستوں میں طوفان کے نتیجے میں کم از کم 34 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

    سب سے زیادہ، 12، اموات ریاست میسوری میں ہوئی ہیں۔

    میسوری کی ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی کا کہنا ہے کہ ابتدائی رپورٹس کے مطابق اب تک 25 کاؤنٹیوں سے 19 بگولے ٹکرا چکے ہیں۔

    میسوری میں ہلاک ہونے والے 12 افراد میں سے ایک شخص کا گھر طوفان کے نتیجے میں مکمل ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا تھا۔

    ریاست کنساس میں اُس وقت آٹھ افراد ہلاک ہوئے جب مٹی کے طوفان کی وجہ سے 55 سے زائد گاڑیاں حادثے کا شکار ہو گئیں۔

    اوکلاہوما

    ،تصویر کا ذریعہOklahoma Highway Patrol

    بجلی کی ترسیل کے نظام پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ پاور آؤٹیج کے مطابق، اتوار کے روز تک مشی گن، مسوری اور الینوائے سمیت سات ریاستوں میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ گھروں کو بجلی کی فراہمی منقطع تھی۔

    مشرقی لوزیانا، مغربی جارجیا، وسطی ٹینیسی اور مغربی فلوریڈا پین ہینڈل میں مزید طوفانی بگولوں کی ایڈوائزری جاری کی گئی ہے۔

    مسیسیپی بھر میں طوفانی بگولوں کے بعد چھ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

    وسطی مسیسیپی، مشرقی لوزیانا، مغربی ٹینیسی کے ساتھ ساتھ الاباما اور آرکنساس کے کچھ حصوں میں سیلاب کی وارننگ بھی جاری کی گئی ہیں۔

    نیشنل ویدر سروس کا کہنا ہے کہ یہ طوفانی سیلاب جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔

    سنیچر کی رات الاباما بھر میں طوفان کی متعدد وارننگ جاری کی گئی تھیں۔

  7. امریکہ کے یمن میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے، 15 افراد ہلاک

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے سامنے آنے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف ’فیصلہ کن اور طاقتور‘ فضائی حملوں کا آغاز کر دیا ہے اور اس کی وجہ بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر مسلح گروہ کے حملے قرار دی گئی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایکس پر جاری اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ’ایران کی مالی معاونت سے حوثی باغیوں نے امریکی طیاروں پر میزائل داغے اور ہمارے فوجیوں اور اتحادیوں کو نشانہ بنایا۔‘

    حوثی باغیوں کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور 9 زخمی ہوئے ہیں۔

    غزہ میں اسرائیل اور حماس کی جنگ کے جواب میں بحیرہ احمر میں مال بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے گروپ نے کہا ہے کہ وہ پوری طاقت سے امریکی فضائی حملوں کا جواب دیں گے۔

    حوثی باغیوں نے سنیچر کی شام صنعا اور شمالی صوبے صعدہ میں سلسلہ وار دھماکوں کی اطلاع دی جو سعودی عرب کی سرحد پر باغیوں کا مضبوط گڑھ ہے۔

    ایران کے حمایت یافتہ باغی گروہ جو اسرائیل کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں، صنعا اور یمن کے شمال مغرب پر کنٹرول رکھتے ہیں، لیکن یہ ملک کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نہیں ہے۔

    غیر مصدقہ تصاویر میں صنعا کے ہوائی اڈے کے علاقے میں کالے دھوئیں کے بادل دکھائی دے رہے ہیں۔

    ایک بیان میں حوثی باغیوں نے یمن کے دارالحکومت صنعا کے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے کے لیے امریکہ اور برطانیہ کو مورد الزام ٹھہرایا ہے تاہم یہ سمجھا جاتا ہے کہ برطانیہ نے سنیچر کے روز حوثیوں کے ٹھکانوں پر امریکی حملوں میں حصہ نہیں لیا تھا لیکن اس نے امریکہ کو معمول کی ایندھن بھرنے کی حمایت فراہم کی تھی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ان حملوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب تک ہم اپنا مقصد حاصل نہیں کر لیتے ہم طاقت کا استعمال جاری رکھیں گے۔‘

    حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ صرف اسرائیل، امریکہ یا برطانیہ سے تعلق رکھنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    نومبر 2023 سے اب تک حوثیوں نے بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں درجنوں تجارتی بحری جہازوں کو میزائلوں، ڈرونز اور چھوٹی کشتیوں کی مدد سے نشانہ بنایا ہے۔

  8. ’جان لیوا قوت کا استعمال کیا جائے گا‘: امریکی صدر کا یمنی حوثیوں پر حملے کرنے کا اعلان، ایران کو تنبیہ, مالو کُرسینو، بی بی سی نیوز

    حوثی باغی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے یمن میں حوثی باغیوں پر ’فیصلہ کُن اور طاقتور‘ فضائی حملے کیے ہیں۔

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ایرن کی مالی مدد سے حوثی بدمعاشوں نے امریکی جہاز پر میزائل فائر کیے ہیں، ہمارے فوجیوں اور اتحادیوں کو نشانہ بنایا ہے‘ جس کے سبب نہ صرف ’اربوں ڈالر‘ کا نقصان ہوا ہے بلکہ انسانی جانوں کو بھی خطرہ لاحق ہوا ہے۔

    دوسری جانب حوثیوں کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں میں نو افراد ہلاک اور نو افراد ہی زخمی ہوئے ہیں۔

    حوثیوں کا گروہ غزہ پر اسرائیلی حملوں کی ابتدا کے بعد سے سمندری جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ان کے حملے اب بھی جاری رہیں گے۔

    امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایسے حملے ’برداشت نہیں کیے جائیں گے۔‘

    ’جب تک ہم اپنا مقصد حاصل نہیں کر لیتے تب تک جان لیوا قوت کا استعمال کیا جائے گا۔‘

    حوثی گروہ کو ایران کی حمایت حاصل ہے اور وہ اسرائیل کو اپنا دشمن سمجھتا ہے۔ غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کی ابتدا کے بعد حوثی گروہ نے بحیرہ احمر میں متعدد سمندری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    ابتدائی طور پر حوثی گروہ کا کہنا تھا کہ وہ صرف اسرائیل سے منسلک جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ تاہم جن سمندری جہازوں پر حملے کیے گئے ان میں سے متعدد کا اسرائیل سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے بھی کہا ہے کہ وہ حوثیوں کی حمایت ترک کر دے ورنہ امریکہ ’اس کا بھی احتساب کرے گا اور یہ اچھا نہیں ہوگا۔‘

    انھوں نے سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ پر ’کمزوری دکھانے‘ اور حوثیوں کو حملے کرنے کی اجازت دینے کا الزام بھی لگایا ہے۔

  9. پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت موجودہ سطح پر برقرار رکھ کر بجلی کی قیمت کم کریں گے: وزیرِ اعظم شہباز شریف

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ان کی حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو موجودہ سطح پر برقرار رکھتے ہوئے اس کا مالی فائدہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کر کے عوام کو منتقل کرے گی۔

    وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’یہ اقدام ان بہت سے دیگر اقدامات میں سے ایک ہے جو بجلی کے نرخوں میں بامعنی کمی کا باعث بنیں گے۔‘

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ ’عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں دروبدل کے فرق سے پیدا ہونے والی مالی گنجائش اور دیگر اقدامات سے بجلی کی قیمتوں میں عوام کو بڑا ریلیف دینے کا پیکج تیار ہے۔‘

    وزارتِ خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمتیں مزید 15 دن برقرار رکھنے کے حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق اگلے 15 روز کے لیے ڈیزل کی قیمت 258 روپے 64 پیسے فی لیٹر جبکہ پیٹرول کی قیمت 255 روپے 63 پیسے فی لیٹر کی موجودہ سطح پر برقرار رہیں گی۔

  10. کوئٹہ دھماکہ: ایک پولیس اہلکار ہلاک، پانچ افراد زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    کوئٹہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک بم کے دھماکے میں کم ازکم ایک پولیس اہلکار ہلاک اور تین پولیس اہلکاروں سمیت پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

    بروری پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ دھماکہ کرانی روڈ پر اینٹی ٹیررسٹ فورس (اے ٹی ایف) کی گاڑی کے قریب ہوا۔

    اہلکار کے مطابق دھماکے میں ابتدائی طور پر اے ٹی ایف کے چار اہلکاروں سمیت چھ افراد زخمی ہوگئے جنھیں قریب ہی واقع بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

    بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر سلطان لہڑی نے بتایا کہ ہسپتال میں زخمی اے ٹی ایف اہلکاروں میں سے ایک زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

    ہلاک ہونے والے اہلکار کی شناخت دلبرخان کے نام سے ہوئی ہے۔

    حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ دھماکے کی نوعیت کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔

    ادھر سرحدی ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے میں لیویز فورس کی ایک چوکی پر بھی دستی بم حملہ ہوا ہے، تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

  11. پشاور دھماکے میں کالعدم لشکرِ اسلام کے بانی مفتی منیر شاکر ہلاک، ’دولتِ اسلامیہ کی طرف سے دھمکیاں دی جا رہی تھیں‘: پولیس, بلال احمد، بی بی سی اردو پشاور

    مفتی منیر شاکر

    ،تصویر کا ذریعہFacebook/Mufti Munir Shakir

    پشاور کے تھانہ ارمڑ کی حدوود میں ایک بم دھماکہ کے نتیجے میں مذہبی شخصیت مفتی منیر شاکر ہلاک ہوگئے ہیں۔

    لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم کے مطابق مفتی منیر شاکر کو زخمی حالت میں ہسپتال لایا گیا تھا اور دھماکے میں ان کی ٹانگ شدید متاثر ہوئی تھی۔

    ہسپتال کے ترجمان کے مطابق زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے ہسپتال میں مفتی منیر شاکر کی موت واقع ہوئی ہے۔

    ارمڑ تھانہ کے ایس ایچ او نور محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ مفتی منیر شاکر عصر کی نماز کے لیے جیسے ہی مسجد میں داخل ہوئے اس وقت پہلے سے نصب شدہ دھماکہ خیز پھٹ گیا، جس کے سبب ابتدائی طور ہر مفتی منیر شاکر سمیت چار افراد زخمی ہوئے تھے جنہیں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

    دوسری جانب ایس ایس پی پشاور مسعود احمد نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا کہ ابتدائی تفتیش سے ایسا لگتا ہے کہ مفتی منیر شاکر پرحملہ دستی بم سے کیا گیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ مفتی منیر شاکر کی جان کو خطرہ تھا اور انھیں نام نہاد دولتِ اسلامیہ کی شاخ خراسان کی جانب سے دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔

    مفتی منیر شاکر نے چند روز پہلے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ انھیں وٹس ایپ پر دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور ان دھمکیوں کے سکرین شاٹس انھوں نے مقامی تھانے میں شواہد کے ساتھ جمع کروا دیے ہیں۔

    خیبر پختونخواہ میں گزشتہ چند ہفتوں سے مذہنی شخصیات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہے۔ کچھ ہفتے قبل اکوڑہ خٹک کی جامعہ حقانیہ میں ایک بم دھماکے میں مولانا حامد الحق کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    گذشتہ روز جنوبی وزیرستان میں جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا عبداللہ ندیم پر بھی مسجد میں حملہ کیا گیا تھا جس میں وہ زخمی ہوئے تھے۔

    مفتی منیر شاکر کون تھے؟

    مفتی منیر شاکر اس وقت منظر عام پر آئے جب انھوں نے کالعدم لشکر اسلام نامی تنظیم کی بنیاد رکھی تھی۔ اس کے بعد 2004 اور 2005 میں خیبر ایجنسی کے علاقے باڑہ میں کالعدم انصار الاسلام اور کالعدم لشکر اسلام کے مابین لڑائی شروع ہوئی اور منیر شاکر روپوش ہوگئے۔

    مفتی منیر شاکر

    ،تصویر کا ذریعہFacebook/Mufti Munir Shakir

    اس کے بعد لشکر اسلام کی قیادت منگل باغ کو سونپی گئی تھی۔ منگل باغ کی قیادت میں لشکر الاسلام اور انصار اسلام کے درمیان لڑائیاں اس کے بعد بھی جاری رہیں جس کے بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر آپریشن کیا گیا۔

    کچھ عرصہ روپوش رہنے کے بعد مفتی منیر شاکر نے ہنگو میں درس وتدریس کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا مگر بعد میں وہ پشاور کے علاقے ارمڑ منتقل ہوگئے۔

    مفتی منیر شاکر سوشل میڈیا کے ذریعے بھی کافی مشہور ہوئے تھے۔ ان کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر 93 ہزار فالورز موجود ہیں۔

    وزیر اعلی خیبر پختونخواہ علی امین گنڈاپور نے واقعے کی مذمت کی ہے اور پولیس حکام سے واقعے کی رپورٹ طلب کی ہے۔

  12. برطانیہ میں رجسٹرڈ فلاحی تنظیم کی ٹیم پر غزہ میں اسرائیلی حملہ، آٹھ افراد ہلاک, عامر نادر اور مالو کُرسینو، بی بی سی نیوز

    الخیر فاؤنڈیشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ میں رجسٹرڈ فلاحی تنظیم الخیر فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ میں اسرائیلی حملے میں اس کے کارکنان کی ٹیم کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    الخیر فاؤنڈیشن کے مطابق اسرائیلی حملے میں آٹھ فلاحی کارکنان ہلاک ہوئے ہیں جن میں فلاحی کاموں کی عکسبندی کرنے والے صحافی بھی شامل تھے۔

    فلاحی ادارے کا مزید کہنا تھا کہ یہ واقعہ سنیچر کو اس وقت پیش آیا جب فلاحی کارکنان کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے کو حماس نے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کی ’سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے ’ڈرون اُڑانے والے دو دہشتگردوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو کہ اسرائیل فوجیوں کے خطرہ تھے‘ اور اس کے بعد اس نے وہاں پہنچنے والے ’اضافی دہشتگردوں‘ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

    الخیر فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ اس کی ٹیم کا کوئی بھی رُکن دہشتگرد نہیں تھا۔ فلاحی ادارے کے چیئرمین قاسم راشد احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی ٹیم علاقے میں خیمے لگانے اور اپنی ادارے کی سرگرمیوں کی عکسبندی کے لیے گئی تھی۔

    قاسم راشد احمد کا کہنا تھا کہ ان کے دو کیمرا مین اپنی کار کی طرف واپس آ رہے تھے اور اسی وقت انھیں نشانہ بنایا گیا، جبکہ ٹیم کے دوسرے افراد جب موقع پر پہنچے تو انھیں بھی اسرائیلی ڈرون نے نشانہ بنایا۔

    غزہ میں حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اس حملے میں متعدد دیگر افراد بھی زخمی ہوئے ہیں جنھیں شمالی غزہ کے انڈونیشین ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

  13. خیبر پختونخوا میں دو آپریشنز کے دوران نو شدت پسند ہلاک: پاکستانی فوج

    پاکستانی فوج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دو آپریشنز کے دوران نو شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ ابلاغِ عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع مہمند میں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر کیے گئے آپریشن کے دوران سات شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ضلع مہمند میں شدت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کے دوران پاکستانی فوج کے دو اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔

    ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی شناخت حوالدار محمد زاہد اور سپاہی آفتاب علی شاہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک علیحدہ آپریشن میں دو مزید شدپ پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان کی وزارتِ داخلہ کے مطابق خیبر پختونخواہ کے ضلع لکی مروت میں پولیس نے دو تھانوں پر شدت پسندوں کے حملے ناکام بنائے ہیں۔

    وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے منسوب بیان میں کہا گیا ہے کہ تھانوں پر ہونے والے حملوں میں دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔

  14. پی ٹی آئی لانگ مارچ: سپریم کورٹ میں عمران خان کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست سماعت کے لیے منظور, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کرلی گئی ہے۔

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رُکنی آئینی بینچ نے عمران خان کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کی ہے۔

    توہینِ عدالت کی درخواست وفاقی حکومت کی جانب سے دائر کی گئی تھی ۔ یہ درخواست 25 مئی 2022 کو لانگ مارچ مقررہ مقام کے بجائے ڈی چوک تک آنے پر دائر کی گئی تھی۔

    بینچ 21 مارچ کو اس کیس کی سماعت کرے گا۔گزشتہ سماعت میں عدالت نے حکومت سے درخواست کی مزید پیروی کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے جواب مانگا تھا۔

    عمران خان کی جانب سے سلمان اکرم راجہ نے جواب جمع کروا رکھا ہے۔

    عدالت نے 2022 میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کے لیے گراؤنڈ مختص کرنے کا حکم دیا تھا اور عمران خان کے وکلا نے صرف مقررہ مقام تک لانگ مارچ کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

    تاہم عمران خان کی قیادت میں لانگ مارچ 26 مئی 2022 کو جناح ایونیو پہنچ کر اختتام پذیر ہوا تھا اور کارکنان نے ڈی چوک کے قریب درختوں کو آگ بھی لگائی تھی۔

  15. امریکہ کا حماس پر ’ناقابل عمل‘ مطالبات کا الزام، جنگ بندی میں توسیع کے لیے مذاکرات ناکام، فلسطینی عہدیدار کا دعویٰ

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ایک فلسطینی عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی میں توسیع کے لیے ہونے والی بات چیت کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہی ہے کیونکہ امریکہ نے حماس پر ’مکمل طور پر ناقابل عمل‘ مطالبات کا الزام عائد کیا ہے۔

    یکم مارچ کو عارضی جنگ بندی کا پہلا مرحلہ ختم ہونے کے بعد اب مذاکرات کار آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    امریکہ کی جانب سے پہلے مرحلے کو اپریل کے وسط تک بڑھانے کی تجویز پیش کی گئی، جس میں حماس کے زیر حراست اسرائیلی یرغمالیوں اور اسرائیل کے زیر حراست فلسطینی قیدیوں کا مزید تبادلہ بھی شامل ہے۔

    تاہم ایک فلسطینی عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اسرائیل اور حماس اس معاہدے کے ان اہم نکات پر متفق نہیں جو مشرق وسطیٰ میں امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف نے طے کیے تھے۔

    اس بارے میں اسرائیل کی جانب سے ابھی کوئی بیان سامنے نہیں آیا تاہم نیتن یاہو کے دفتر نے کہا ہے کہ انھیں اسرائیل کی مذاکراتی ٹیم کی جانب سے اس بارے میں رپورٹ سنیچر کو پیش کی جائے گی۔

    جمعے کے روز امریکہ کی نیشنل سکیورٹی کونسل اور سٹیو وٹکوف کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں یہ کہا گیا تھا کہ ’حماس بہت بری شرط لگا رہا ہے کہ وقت اس کے ساتھ ہے لیکن ایسا نہیں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’حماس ڈیڈ لائن سے اچھی طرح واقف ہے اور اسے جان لینا چاہیے کہ اگر یہ ڈیڈ لائن گزر جاتی ہے تو ہم اس کے مطابق جواب دیں گے۔‘

    بی بی سی نے حماس کے ایک ایسے بیان کو دیکھا ہے جس کے مطابق مذاکرات ختم ہو چکے ہیں۔

    یاد رہے کہ غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کے 15 ماہ بعد فریقین نے جنوری میں جنگ بندی کا معاہدہ کیا تھا۔

  16. دہشت گرد بھاگ کر افغانستان بھی جائیں گے تو وہاں بھی ان کا پیچھا کیا جائے گا: حنیف عباسی

    کوئٹہ سٹیشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ ’حکومتی سطح پر فیصلہ ہو چکا ہے کہ جتنے دہشت گرد پاکستان میں موجود ہیں ان کو نہیں چھوڑا جائے گا بلکہ اگر وہ بھاگ کر افغانستان بھی جائیں گے تو وہاں تک ان کا پیچھا کیا جائے گا۔‘

    لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب میں وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ دہشت گردی نے دوبارہ سر کیوں اٹھایا۔

    انھوں نے کہا کہ جعفر ایکسپریس میں خواتین اور بچے بھی تھے جو چھٹیاں منانے جا رہے تھے۔ سکیورٹی فورسز نے جب ٹرین کے اندرآپریشن کیا تو انھوں نے ایک بھی خودکش بمبار کو پھٹنے نہیں دیا۔

    ’جس طریقے سے فورسز نے اپنے لوگوں کو نکالا ایسا کوئی نہیں کر سکتا۔ ان کا ریسپانڈ ٹائم اور حکمت عملی بہت اچھی رہی۔‘

    حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ آگے والے دنوں میں بھی اتنی آسانیاں نظر نہیں آ رہیں۔ وقت ہے کہ سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر یکجا ہو جائیں۔

    انھوں نے ریلوے کی سکیورٹی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ریلوے پولیس کی یہ حالت ہے کہ ان کے پاس نہ نفری ہے نہ ان کے پاس ایکوپمنٹ جدید ہے۔ تاہم اب جتنے بھی سٹیشنز ہیں ان پر سیکیورٹی کیمرے لگنے کی بات ہو رہی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ سی پیک پوری دنیا کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے۔

  17. عراق اور امریکہ کے مشترکہ آپریشن میں نام نہاد دولت اسلامیہ کے اہم رہنما ہلاک

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عراقی وزیر اعظم محمد شیعہ السوڈانی کا کہنا ہے کہ عراق اور شام میں دولت اسلامیہ (داعش) کے ایک سینئر رہنما عراقی اور امریکی افواج کے ایک آپریشن میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

    وزیر اعظم محمد شیعہ السوڈانی کے مطابق عبد اللہ مکی مصلح الرفا عرف ابو خدیجہ کو ’عراق اور دنیا کے خطرناک ترین دہشت گردوں میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہماری فورسز نے انھیں بڑی دلیری سے نشانہ بنایا۔‘

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر اس حملے کی ایک ویڈیو جاری کی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ جمعرات کو عراق کے مغربی صوبہ الانبار میں کیا گیا تھا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ عبداللہ مکی مصلح الرفع داعش کے سب سے سینئر فیصلہ ساز ادارے کے سربراہ تھے اور عالمی سطح پر دولت اسلامیہ کی کارروائیوں، لاجسٹکس اور منصوبہ بندی کے ذمہ دار تھے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق عبداللہ مکی مصلح الرفع داعش کے ایک اور کارکن کے ساتھ مردہ پائے گئے۔ مزید یہ کہ دونوں دہشت گردوں نے خود کش جیکٹیں پہن رکھی تھیں اور ان کے پاس متعدد ہتھیار تھے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سینٹکام اور عراقی فورسز نے گزشتہ کارروائی کے دوران جمع کیے گئے ڈی این اے میچ کے ذریعے ان کی شناخت کرنے میں کامیاب ہوئیں جہاں وہ بال بال بچ گئے تھے۔

  18. پاکستان نے قرض پروگرام کی شرائط پر سختی سے عمل درآمد کیا: آئی ایم ایف

    IMF

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے جمعہ کے روز 7 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کا پہلا جائزہ مکمل ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے آئی ایم ایف کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’حکومتِ پاکستان نے اخراجات کے کنٹرول، خاص طور پر ترقیاتی پروگرام کے ذریعے مالی اہداف کو برقرار رکھنے کا عہد کیا۔‘

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کے ساتھ 7 ارب ڈالرز قرض پروگرام پر جائزے کے لیے بات چیت ہوئی، پاکستان نے موجودہ قرض پروگرام پر سختی سے عمل درآمد کیا۔‘

    آئی ایم ایف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کے ساتھ کلائمیٹ فنانسنگ کے لیے اور قرضوں کی ادائیگی کی مینجمنٹ پر بھی بات چیت ہوئی۔‘

    اعلامیے کے مطابق ’پاکستان کے ساتھ توانائی کے شعبے میں لاگت کم کرنے، بہتری، صحتِ عامہ کی بہتری، تعلیم کے فروغ، سماجی تحفظ اور معاشی ترقی کی شرح بڑھانے پر بھی گفتگو ہوئی۔‘

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کے ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے پر بھی تبادلہ خیال ہوا اور مزید بات چیت آن لائن جاری رہے گی۔‘

    آئی ایم ایف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کے ساتھ بات چیت مثبت رہی، پاکستان اور آئی ایم ایف نے سٹاف لیول معاہدے کے لیے نمایاں پیش رفت کی ہے، پاکستان نے قرض پروگرام کی شرائط پر سختی سے عمل درآمد کیا ہے۔‘

    آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان نے حکومتی قرضوں کو کم کرنے کے لیے سخت معاشی اقدامات کیے ہیں اور مہنگائی کم کرنے کے لیے سخت مانیٹری پالیسی اپنائی گئی ہے، بجلی کی پیداواری لاگت کو کم کرنے کے لیے بھی اصلاحات کی گئی ہیں۔

    عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ معاشی شرح نمو کو بڑھانے کے لیے اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کیا گیا ہے، کلائمیٹ ریفارمز ایجنڈے پر مذاکرات کیے گئے، پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ممکنہ طور پر فنڈز فراہم کیے جا سکتے ہیں، پاکستان اور آئی ایم ایف مذاکرات کو حتمی شکل دینے کے لیے ورچوئلی بات چیت جاری رکھیں گے۔

  19. یوکرین جنگ پر پوتن کے ساتھ ’نتیجہ خیز‘ بات چیت ہوئی: ٹرمپ

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یوکرین میں امریکہ کے مجوزہ جنگ بندی معاہدے پر روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو ’نتیجہ خیز‘ قرار دیا ہے۔

    پوتن اور امریکی سفیر سٹیو وٹکوف نے جمعرات کی شام ماسکو میں ملاقات کی تھی جس کے بعد کریملن نے کہا تھا کہ وہ امن عمل کے بارے میں امریکہ کی ’محتاط رہتے ہوئے امن کے لیے کوشش‘ سے اتفاق کرتا ہے۔

    ٹرمپ نے ایک سوشل پوسٹ میں کہا کہ بات چیت نے ’بہت اچھا موقع فراہم کیا ہے کہ یہ خوفناک، خونی جنگ بالآخر ختم ہوسکتی ہے۔‘

    تاہم یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے پوتن پر الزام عائد کیا کہ وہ جنگ جاری رکھنے کے لیے مذاکرات کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ سر کیئر سٹارمر نے کہا کہ روسی صدر کو جنگ بندی کی تجاویز کے ساتھ ’کھیل کھیلنے‘ کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    اس ہفتے کے اوائل میں یوکرین نے امریکہ کے مجوزہ جنگ بندی معاہدے کو قبول کر لیا تھا، جس پر روس نے ابھی تک اتفاق نہیں کیا ہے۔

    جمعرات کے روز پوتن نے کہا تھا کہ ’جنگ بندی کا خیال درست ہے اور ہم اس کی حمایت کرتے ہیں لیکن اس میں باریکیاں ہیں۔‘ تاہم اسی کے ساتھ انھوں نے امن کے لئے بہت سی سخت شرائط طے کیں، جس کے جواب کو یوکرین کے صدر زیلنسکی نے امن کے لیے روس کی کوششوں کو ’جوڑ توڑ‘ قرار دیا۔

    یوکرین کے صدر نے جمعے کے روز ایکس پر اپنے ایک تنقیدی بیان میں کہا کہ ’پوتن اس جنگ سے باہر نہیں نکل سکتے کیونکہ اس سے ان کے پاس کچھ نہیں بچے گا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’یہی وجہ ہے کہ اب وہ جنگ بندی سے پہلے ہی انتہائی مشکل اور ناقابل قبول شرائط طے کرکے سفارتکاری کو سبوتاژ کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’پوتن ہر ایک کو نا ختم ہونے والے مزاکرات اور بات چیت کے دور میں مصروف رکھیں گے۔ وہ بے معنی باتوں پر دن، ہفتے اور مہینے ضائع کر رہے ہیں جبکہ ان کی فوجیں معصوم لوگوں کو مار رہی ہیں۔‘

    لیکن وائٹ ہاؤس کا ماننا ہے کہ فریقین ’کبھی بھی امن کے قیام کے لیے اتنا قریب نہیں آئے۔‘