یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔۔۔
ٹرمپ اور زیلنسکی کا ٹیلیفونک رابطہ، ہم بالکل درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں: امریکی صدر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان فون پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ ٹروتھ سوشل میں ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس فون کال کو ’بہت اچھا‘ قرار دیا ہے۔
خلاصہ
- یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان فون پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ ٹروتھ سوشل میں ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس فون کال کو 'بہت اچھی‘ گفتگو قرار دیا ہے۔
- روس اور یوکرین نے جنگی قیدیوں کی رہائی پر اتفاق کر لیا ہے۔ روس نے یوکرین کے 175 جنگی قیدی رہا کر دیے ہیں۔
- پاکستان اور افغانستان کی طورخم سرحد 25 روز بند رہنے کے بعد آج جزوی طور پر بڑی گاڑیوں کے لیے کھول دی گئی ہے۔
- روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی ہم منصب کے ساتھ فون پر بات چیت میں یوکرین میں فوری طورپر جنگ بندی کو مسترد کر دیا ہے تاہم وہاں توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ نہ بنانے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔
- غزہ کی پٹی میں بدھ کی صبح اسرائیلی فضائیہ نے پھر سے حملے کیے جن میں میڈیارپورٹس کے مطابق کم از کم نو افراد ہلاک ہوئے۔
- ڈسٹرکٹ جیل اٹک سے رات گئے پی ٹی آئی کے 75 کارکنوں کو انسداد دہشتگردی عدالت کے حکم پر رہا کر دیا گیا۔
- غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے 'بڑے پیمانے' پر فضائی حملوں میں حماس کے وزارت صحت کے مطابق 400 سے زائد فلسطینی ہلاک، حملوں کا آغاز اس وقت ہوا جب مکین سحری کی تیاری کر رہے تھے۔
لائیو کوریج
قلات میں نامعلوم مسلح افراد کا موٹروے پولیس کے اہلکاروں سے ’اسلحہ اور گاڑیاں چھیننے کا واقعہ‘, محمد کا کاظم، بی بی سی اردو
بلوچستان کے ضلع قلات میں نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے موٹروے پولیس کے اہلکاروں سے ’اسلحہ اور گاڑیاں چھیننے‘ کا واقعہ پیش آیا ہے۔
قلات میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ ضلع کے علاقے منگیچر کے قریب پیش آیا۔
اہلکار نے بتایا کہ موٹروے پولیس کے اہلکار منگیچر کے قریب کوئٹہ کراچی ہائی وے پر معمول کے فرائض سرانجام دے رہے تھے کہ وہاں دو موٹر سائیکلوں پر سوار چھ افراد آئے اور انھوں نے ان پر اسلحہ تان لیا۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ اس کے بعد مزید سات سے آٹھ مسلح افراد وہاں آئے اور موٹروے پولیس کے اہلکاروں سے دو کلاشنکوف، چار پستولیں، چار موبائل اور دو ٹوڈی کاریں چھین کر لے گئے۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ اس بات کا تعین ہونا باقی ہے کہ موٹروے پولیس کے اہلکاروں سے اسلحہ چھیننے والے کون تھے۔ انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ اس واقعے کا مقدمہ لیویز تھانہ منگیچر میں درج کیا گیا ہے۔
تاحال اس واقعے کے ذمہ داری کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔ خیال رہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں رواں سال کے دوران سکیورٹی اہلکاروں سے اسلحہ چھیننے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
حقوق دے کر ہی لوگوں کا دل جیتیں گے، عید کے بعد بلوچستان میں کیمپ لگاؤں گا: صدر زرداری کا دورۂ کوئٹہ پر خطاب, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

،تصویر کا ذریعہBalochistan Govt.
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ دہشت گرد عناصر کو ہر قیمت پر شکست دیا جائے گا۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے بلوچستان میں امن و امان سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اجلاس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی شرکت کی۔ بلوچستان میں مسافر ٹرین پر حملے کے واقعے کے بعد اس اجلاس میں شرکت کے لیے صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری دو الگ الگ پروازوں سے کوئٹہ پہنچے۔
ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ ’دہشت گرد قوم کو تقسیم کرنا چاہ رہے ہیں۔ صورتحال واضح ہے ریاست نے رہنا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنی ہے۔‘
صدر زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ’انسداد دہشت گردی ونگ کو جدید اسلحہ فراہم کریں گے۔‘
بعد ازاں بلوچستان اسمبلی میں پارلیمانی جماعتوں کے رہنمائوں سے بات کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں سے دلی لگاؤ اور دیرینہ تعلقات ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے بلوچستان سمیت صوبوں کو خود مختاری دی۔ بحیثیت پاکستانی ہم نے قومی یکجہتی سے وطن عزیز کو آگے لے کر جانا ہے۔ ہم سب کو ان کا حق دینا چاہتے ہیں حقوق چھیننا نہیں چاہتے۔
صدر نے کہا کہ ’حقوق دے کر ہی لوگوں کا دل جیتیں گے۔ بلوچستان کے لیے عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کو بار آور بنایا جائے گا۔‘
صدر نے کہا کہ ’عید کے بعد بلوچستان میں کیمپ لگاؤں گا، تفصیل سے ہر کسی کو سنوں گا۔‘
ٹرمپ اور زیلنسکی کا ٹیلیفونک رابطہ، ’ہم بالکل درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنٹروتھ سوشل میں ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس فون کال کو ’بہت اچھا‘ قرار دیا ہے۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان فون پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔
ٹروتھ سوشل میں ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس فون کال کو ’بہت اچھا‘ قرار دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس فون کال پر زیادہ تر ان موضوعات پر بات ہوئی ہے جو گذشتہ روز ان کی اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان فون پر یوکرین اور روس سے متعلق امور زیربحث آئے تھے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ہم بالکل درست سمت پر جا رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ جن امور پر گفتگو ہوئی ہے ان سے متعلق تفصیلات جلد جاری کر دی جائیں گی۔
واضح رہے کہ 28 فروری کا دن وائٹ ہاؤس میں امریکہ اور یوکرین کے بیچ تعلقات کے لیے انتہائی اہم تھا مگر دونوں ملکوں کے صدور کی ملاقات دیکھتے ہی دیکھتے تکرار میں بدل گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصبِ صدارت پر براجمان ہونے کے بعد سے ہی مختلف اوقات میں اُن کی جانب سے یوکرین کے لیے ایک سخت موقف دیکھنے میں آیا تھا۔
روس اور یوکرین جنگی قیدیوں کے تبادلے پر رضامند
روس اور یوکرین نے جنگی قیدیوں کی رہائی پر اتفاق کر لیا ہے۔ روس نے یوکرین کے 175 جنگی قیدی رہا کر دیے ہیں۔
اس پیشرفت کی تصدیق یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ روس نے ان قیدیوں کے علاوہ 22 شدید زخمی یوکرینی فوجی قیدی بھی رہا کر دیے ہیں جن کا علاج ابھی جاری ہے۔
انھوں نے کہا کہ ان قیدیوں کو ضروری طبی اور نفسیاتی مدد بہم پہنچائی جا رہی ہے۔
پاکستان اور افغانستان کی سرحد 25 روز کی بندش کے بعد جزوی طور پر کھل گئی, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور

پاکستان اور افغانستان کی طورخم سرحد 25 روز بند رہنے کے بعد آج جزوی طور پر بڑی گاڑیوں کے لیے کھول دی گئی ہے۔ یہ سرحد دونوں اطراف سے تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھولنے کے بعد پاکستان کی طرف سے طورخم سے پہلی گاڑی افغانستان روانہ ہو گئی ہے۔
بی بی سی کے عثمان زاہد کے مطابق مریضوں کو لانے والی گاڑیوں کو بھی آمدورفت کی اجازت مل گئی جبکہ عام لوگوں کوجمعے سے آمدورفت کی اجازت ہوگی۔
دونوں ممالک کے درمیان قبائلی عمائدین، علما اور تاجروں پر مشتمل جرگوں کے بعد آج سرحد پر تعینات بارڈر فورسز کی فلیگ میٹنگ ہوئی۔
اس میٹنگ کے بعد سرحد کھولنے کے لیے انتظامات کیے گئے۔
سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ کسٹم کے عملے کو آج صبح سے ہی حاضری کے لیے کہہ دیا گیا تھا جبکہ پیدل جانے والے افراد کے لیے ایف آئی اے کے کنٹینر میں سکینر کی مرمت کا کام شروع کیا گیا۔ اس سکینر کی مرمت کے بعد پیدل افراد کے لیے سرحد کھول دی جائے گی۔
خیال رہے کہ مقامی عمائدین، علما اور چیمبر آف کامرس کے اراکین اور افغانستان کے نمائندہ جرگے نے اس عرصے میں دو مرتبہ باقاعدہ ملاقاتیں کی ہیں اور سرحد کھولنے کے لیے اعتماد سازی کے لیے اقدامات تجویز کیے تھے۔
پاکستانی وفد میں شامل ملک تاج الدین اور شاہ خالد شنواری نے بتایا تھا کہ افغان حکام سے کہا گیا تھا کہ اعتماد سازی کے لیے فائر بندی کی جائے، اس کے علاوہ متنازع مقام پرچیک پوسٹ کی تعمیر کا کام روک دیا جائے اور اس کے بعد سرحد کھول دی جائے۔
اس پر افغان حکام نے کابل میں حکومت سے رابطے اور ان کی رائے حاصل کرنے کے لیے دو مرتبہ وقت مانگا لیکن جرگے کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا جس کے بعد آج دونوں ممالک کی بارڈر فورسز کی فلیگ میٹنگ میں سرحد کھولنے کے لیے بات چیت ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہVideo grab
اس سرحد کی بندش سے مقامی لوگوں اور تاجروں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ تاجروں کے مطابق انھیں سامان اور گاڑیوں کی خرابی ڈرائیوروں اور مزدوروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مقامی رہنما ملک تاج الدین نے بی بی سی کو بتایا اس سرحد سے روزانہ کی بنیاد پر برآمدات کی مد میں 25 لاکھ ڈالر کا نقصان ہوتا ہے جبکہ درآمدات کی مد میں 50 کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ وہ بچپن سے دیکھتے آئے ہیں کہ اس سرحد اگر کھلی ہو تو یہاں جیسے زندگی رواں دواں ہوتی ہے اور جب سرحد بند ہو جائے تو زندگی رک جاتی ہے۔
اس سرحد سے بڑے تاجروں یا صنعتکاروں کو ہی نہیں عام شہریوں کا کاروبار اور مزدوروں کی روزانہ کی آمدن کا انحصار بھی ہوتا ہے۔
طورخم سرحد پر کشیدگی کیا تھی
پاکستان افغانستان سرحد پرگذشتہ ماہ کی 22 تاریخ کو اس وقت کشیدگی شروع ہوئی جب افغانستان کی جانب ایک چوکی پر تعمیراتی کام شروع کیا گیا تھا۔
پاکستان کی جانب سے کہا گیا تھا کہ افغانستان متنازع مقام پر تعمیر کر رہا ہے جس وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا اور دونوں جانب سے چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کر دی گئی تھی۔
ان جھڑپوں میں پاکستان میں تین اہلکار زخمی ہوئے جبکہ افغانستان کی جانب ہلاکتوں کی اطلاع بھی موصول ہوئی ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان نے افغانستان میں 6 چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا تھا جن میں جنگل پوسٹ، کمانڈو پوسٹ، بیراج پوسٹ، خوارہ پوسٹ، شیراز پوسٹ اور خامسری پوسٹ شامل ہیں۔ ان میں ایک پوسٹ پر تنازع ہے جس پر پاکستان کا موقف ہے کہ یہ پوسٹ پاکستان کی حدود میں تعمیر کی جا رہی ہے۔
سرحد پر کشیدگی سے بارڈر پر واقع گاؤں باچا مینہ سے لوگوں نے ہی نقل مکانی کر لی تھی اور ان لوگوں نے اپنے رشتہ داروں اور جاننے والوں کے ہاں لنڈی کوتل میں پناہ حاصل کی ہے۔
پاک افغان سرحد پر طورخم کے مقام پر کشیدگی ایسے وقت میں شروع ہو گئی جب خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے افغانستان کے ساتھ اعتماد سازی کے لیے وفود بھیجنے کے لیے کوششیں شروع کی گئیں۔
خیبر پختونخوا حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبے میں جاری تشدد کے واقعات پر قابو پانے کے لیے افغانستان کے ساتھ بامقصد مذاکرات ضروری ہیں۔
تیز ترین انصاف کی فراہمی ترجیح اول قرار، ’میں جسٹس یحییٰ آفریدی چیف جسٹس آف پاکستان آپ سے مخاطب ہوں‘

،تصویر کا ذریعہSCP
،تصویر کا کیپشنچیف جسٹس نے کہا کہ ’اس لیے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ آپ کو یقین دلاؤں کہ اگر آپ کا کوئی مقدمہ سپریم کورٹ میں دائر ہے تو اس کا فیصلہ بہت جلد میرٹ کی بنیاد پر ہو جائے گا۔‘ سپریم کورٹ میں انسداد بدعنوانی سے متعلق ایک ’ہاٹ لائن‘ قائم کرتے ہوئے پاکستان کے چیف جسٹس نے اعلان کیا ہے کہ تیز ترین انصاف کی فراہمی ان کی اولین ترجیح ہے۔
چیف جسٹس نے عوام سے ایک واٹس ایپ نمبر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی رشوت طلب کرے تو فوری اس نمبر پر اطلاع کریں اور آپ کا نام صیغہ راز میں رکھ کر متعلقہ افسر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اس ہاٹ لائن سے متعلق بتایا گیا ہے کہ اس کا مقصد انصاف کی بلا روکاٹ تیز ترین فراہمی یقینی بنانا ہے۔
اپنے ایک ’پیغام‘ میں چیف جسٹس نے عوام کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں جسٹس یحییٰ آفریدی چیف جسٹس آف پاکستان آپ سے مخاطب ہوں۔ نظامِ عدل اور بلخصوص سپریم کورٹ میں تیز ترین انصاف کی فراہمی میری اولین ترجیح ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’پچھلے تقریباً پانچ مہینوں میں دائر ہونے والے 7633 نئے مقدمات کے مقابلے میں آپ کی سپریم کورٹ نے 11779 مقدمات کا فیصلہ کیا۔ نئے ججوں کے آنے کے بعد مقدمات کے فیصلوں میں مزید تیزی آئے گی۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ ’اس لیے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ آپ کو یقین دلاؤں کہ اگر آپ کا کوئی مقدمہ سپریم کورٹ میں دائر ہے تو اس کا فیصلہ بہت جلد میرٹ کی بنیاد پر ہو جائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہSC
چین میں جاسوسی کے الزام میں ایک انجینیئر کو سزائے موت سنا دی گئی

،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنوزارت نے بدھ کو شائع ہونے والے مضمون میں کہا کہ اس طرح راتوں رات امیر ہونے کے خواب دیکھنے والے بے چینی کے شکار افراد کو نتائج بھگتنا ہوں گے چینی حکام نے بتایا کہ ایک چینی تحقیقی ادارے کے ایک سابق انجینیئرکو غیر ملکی جاسوسی ایجنسیوں کو خفیہ مواد فروخت کرنے کے جرم میں موت کی سزا سنا دی گئی ہے۔
چین کی وزارتِ مملکت کی سلامتی کی طرف سے بدھ کو شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ انسٹی ٹیوٹ سے مستعفی ہونے کے بعد ریسرچر ’لیو‘ نے غیر ملکی ایجنسیوں کو انٹیلی جنس فروخت کرنے کے لیے ایک ’بہت محتاط انداز اختیار کر کے‘ منصوبہ بنایا۔
وزارت نے لیو کے سابق تحقیقاتی ادارے یا ان غیر ملکی گروپوں کا نام نہیں لیا جنھوں نے مبینہ طور پر ان سے مواد خریدا تھا۔ اس سے قبل چین نے متعدد بار خبردار کیا تھا کہ غیرملکی ادارے ان کے شہریوں کو جاسوسی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
وزارت نے بدھ کو شائع ہونے والے مضمون میں کہا کہ اس طرح راتوں رات امیر ہونے کے خواب دیکھنے والے بے چینی کے شکار افراد کو نتائج بھگتنا ہوں گے۔
وزارت نے کہا کہ اگر یہ درست بھی مان لیا جائے کہ اس انجینیئرکے ساتھ تحقیقاتی ادارے میں اچھا سلوک روا نہیں رکھا گیا مگر یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ لیو نے مستعفی ہونے سے قبل اپنے پاس بڑی تعداد میں مواد جمع کیا اور پھر اسے انھوں نے بدلہ لینے اور بلیک میلنگ کے حربے کے طور پر استعمال کرنا تھا۔
مضمون کے مطابق مستعفی ہونے کے بعد لیو نے ایک سرمایہ کاری والی کمپنی میں شمولیت اختیار کی مگر انھیں یہاں بھی کوئی کامیابی نہ مل سکی بلکہ وہ قرض کے بوجھ تلے دب گئے، جس کے بعد انھوں نے بہت کم قیمت پر اپنے پاس مواد کو ایک غیرملکی جاسوس کمپنی کو فروخت کر دیا۔
وزارت نے مزید کہا کہ اس ایجنسی نے بعد میں لیو سے رابطہ منقطع کر دیا اور اس کے بعد انھوں نے اہم معلومات بیرون ملک فروخت کرنے کی کوشش کی۔
مضمون میں کہا گیا ہے کہ ’ایک آدھے سال میں انھوں نے خفیہ طور پر کئی ممالک کا سفر کیا اور چین کے راز افشا کیے۔‘
چینی حکام کے مطابق گرفتاری کے بعد اعتراف جرم کرنے والے لیو سے تاحیات سیاسی حقوق چھین لیے گئے ہیں۔
طور خم باڈر: 26 روز بند رہنے کے بعد پاک افغان سرحد آج کھولی جا رہی ہے, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو

،تصویر کا ذریعہHIJRAT ALI
پاک افغان سرحد طور خم کے مقام پر 26 روز بند رہنے کے بعد آج بڑی گاڑیوں کے لیے کھولی جا رہی ہے۔ پیدل اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے سرحد ایک دو روز بعد کھولی جائے گی۔
دونوں ممالک کے درمیان قبائلی عمائدین، علما اور تاجروں پر مشتمل جرگوں کے بعد آج سرحد پر تعینات بارڈر فورسز کی فلیگ میٹنگ ہوئی ہے۔
اس میٹنگ کے بعد سرحد کھولنے کے لیے انتظامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ کسٹم کے عملے کو آج صبح سے ہی حاضری کے لیے کہہ دیا گیا تھا جبکہ پیدل جانے والے افراد کے لیے ایف آئی اے کے کنٹینر میں سکینر کی مرمت کا کام شروع کیا جا رہا ہے۔ اس سکینر کی مرمت کے بعد پیدل افراد کے لیے سرحد کھول دی جائے گی۔
خیال رہے کہ مقامی عمائدین، علما اور چیمبر آف کامرس کے اراکین اور افغانستان کے نمائندہ جرگے نے اس عرصے میں دو مرتبہ باقاعدہ ملاقاتیں کی ہیں اور سرحد کھولنے کے لیے اعتماد سازی کے لیے اقدامات تجویز کیے تھے۔
پاکستانی وفد میں شامل ملک تاج الدین اور شاہ خالد شنواری نے بتایا تھا کہ افغان حکام سے کہا گیا تھا کہ اعتماد سازی کے لیے فائر بندی کی جائے، اس کے علاوہ متنازعہ مقام پرچیک پوسٹ کی تعمیر کا کام روک دیا جائے اور اس کے بعد سرحد کھول دی جائے۔
اس پر افغان حکام نے کابل میں حکومت سے رابطے اور ان کی رائے حاصل کرنے کے لیے دو مرتبہ وقت مانگا لیکن جرگے کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا جس کے بعد آج دونوں ممالک کی بارڈر فورسز کی فلیگ میٹنگ میں سرحد کھولنے کے لیے بات چیت ہوئی ہے۔
اس سرحد کی بندش سے مقامی لوگوں اور تاجروں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ تاجروں کے مطابق انھیں سامان اور گاڑیوں کی خرابی ڈرائیوروں اور مزدوروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مقامی رہنما ملک تاج الدین نے بی بی سی کو بتایا اس سرحد سے روزانہ کی بنیاد پر برآمدات کی مد میں روزانہ 25 لاکھ ڈالر کا نقصان ہوتا ہے جبکہ درآمدات کی مد میں 50 کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ وہ بچپن سے دیکھتے آئے ہیں کہ اس سرحد اگر کھلی ہو تو یہاں جیسے زندگی رواں دواں ہوتی ہے اور جب سرحد بند ہو جائے تو زندگی رک جاتی ہے۔
اس سرحد سے بڑے تاجروں یا صنعتکاروں کو ہی نہیں عام شہریوں کا کاروبار اور مزدوروں کی روزانہ کی آمدن کا انحصار بھی ہوتا ہے۔
سرحد کی دونوں جانب اس وقت سینکڑوں گاڑیاں ، ٹرک اور کنٹینر رکے ہوئے ہیں جن میں ایسے ٹرک شامل ہیں جن میں خوراک بھی ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ خراب ہو گئی ہے یا ہو رہی ہے۔
پاک افغان سرحد پرگذشتہ ماہ کی 22 تاریخ کو اس وقت کشیدگی شروع ہوئی جب افغانستان کی جانب ایک چوکی پر تعمیراتی کام شروع کیا گیا تھا۔
پاکستان کی جانب سے کہا گیا تھا کہ افغانستان متنازعہ مقام پر تعمیر کر رہا ہے جس وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا اور دونوں جانب سے چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کر دی گئی تھی۔
ان جھڑپوں میں پاکستان میں تین اہلکار زخمی ہوئے جبکہ افغانستان کی جانب ہلاکتوں کی اطلاع بھی موصول ہوئی ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان نے افغانستان میں 6 چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا تھا جن میں جنگل پوسٹ، کمانڈو پوسٹ، بیراج پوسٹ، خوارہ پوسٹ، شیراز پوسٹ اور خامسری پوسٹ شامل ہیں۔ ان میں ایک پوسٹ پر تنازعہ ہے جس پر پاکستان کا موقف ہے کہ یہ پوسٹ پاکستان کی حدود میں تعمیر کی جا رہی ہے۔
سرحد پر کشیدگی سے بارڈر پر واقع گاؤں باچا مینہ سے لوگوں نے ہی نقل مکانی کر لی تھی اور ان لوگوں نے اپنے رشتہ داروں اور جاننے والوں کے ہاں لنڈی کوتل میں پناہ حاصل کی ہے۔
پاک افغان سرحد پر طورخم کے مقام پر کشیدگی ایسے وقت میں شروع ہو گئی جب خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے افغانستان کے ساتھ اعتماد سازی کے لیے وفود بھیجنے کے لیے کوششیں شروع کی گئیں۔ خیبر پختونخوا حکومت کا موقف ہے کہ صوبے میں جاری تشدد کے واقعات پر قابو پانے کے لیے افغانستان کے ساتھ بامقصد مذاکرات ضروری ہیں۔

،تصویر کا ذریعہHIJRAT ALI
یوکرین کے معاملے پر مذاکرات کا نیا دور اتوار کو سعودی عرب میں ہو گا: امریکہ

،تصویر کا ذریعہEPA
روسی صدر پوتن نے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 30 روز کے لیے مکمل جنگ بندی کی تجویز پر آمادگی ظاہر نہیں کی لیکن دونوں رہنماؤں نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف نے فاکس نیوز کو بتایا کہ مذاکرات کا نیا دور اتوار کو سعودی عرب میں ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز مذاکرات کے اس دور میں امریکی وفد کی سربراہی کریں گے۔ تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ مذاکرات میں کس سے بات ہو گی امریکہ سے یا یوکرین سے۔
خیال رہے کہ روس اور یوکرین نے امریکی اور روسی صدور کے مابین ٹیلی فونک رابطے کے کچھ گھنٹوں کے بعد رات گئے ایک دوسرے کے انفرانسٹرکچر پر فضائی حملے کیے ہیں۔
بلوچ قوم پرستوں سے بات چیت کے بجائے فوجی آپریشن کی جانب جانا تباہی کا آغاز ہو گا: افراسیاب خٹک

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا ہے کہ بلوچ قوم پرستوں سے بات چیت کر کے اس کا سیاسی حل نکالنے کے ایک اور فوجی آپریشن کی جانب جانا تباہی کا آغاز ہو گا۔
انھوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا ’مجھے یاد ہے کہ جب نیشنل عوامی پارٹی نے مشرقی بنگال میں فوجی آپریشن کی مخالفت کی تھی تو جنرل یحییٰ خان نے نومبر 1971 میں اس پر پابندی لگا دی تھی اور پاکستان دسمبر میں ٹوٹ گیا تھا۔
خیال رہے کہ افراسیاب خٹک نے ان خیالات کا جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد سکیورٹی صورتحال پر قومی سلامتی کے اجلاس کے بعد کہی ہے۔
قومی سلامتی کے اجلاس میں ’نیشنل ایکشن پلان اور عزم استحکام کی حکمتِ عملی پر فوری عمل درآمد پر زور دیا گیا ہے۔‘
اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کمیٹی نے ریاست کی پوری طاقت کے ساتھ اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے سٹریٹیجک اور متفقہ سیاسی عزم پر زور دیتے ہوئے انسداد دہشت گردی کے لیے قومی اتفاق کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ تاہم اس اجلاس میں تحریک انصاف سمیت چند جماعتیں شریک نہیں تھیں۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
کیا غزہ میں جنگ بندی ختم ہو گئی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر گذشتہ روز شروع ہونے والے حملوں کے بارے میں ابھی تک واضح نہیں ہے کہ آیا یہ مذاکرات کے ایک حصے کے طور پر حماس پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک محدود اسرائیلی کارروائی ہے، یا یہ جنگ کی بحالی کا آغاز ہے۔
اسرائیل نے حماس پر جنگ بندی میں توسیع اور یرغمالیوں کی رہائی کی تجاویز کو ’بار بار‘ مسترد کرنے کا الزام لگایا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان اورین مارمورسٹین نے کہا کہ اب سے اسرائیل حماس کے خلاف فوجی شدت کے ساتھ کارروائی کرے گا۔‘
مارمورسٹین نے مزید کہا کہ اسرائیل نے جنگ بندی میں توسیع کے لیے ٹھوس تجاویز پر اتفاق کیا تھا، لیکن ’حماس نے انکار کر دیا، اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا‘ اور غزہ پر اپنے فضائی حملے شروع کر دیے۔
جب مارمورسٹین سے پوچھا گیا کہ کیا ان حملوں کی وجہ سے جنگ بندی کی بات چیت ’ختم‘ ہوئی ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی ڈھائی ہفتے پہلے ختم ہو گئی تھی۔
انھوں نے کہا کہ ’42 دنوں کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا۔ معاہدے کے تحت، ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں خود کار طریقے سے منتقلی نہیں ہوتی۔‘
اسرائیلی وزیر دفاع نے پیر کو کہا تھا کہ فوج غزہ میں اس وقت تک لڑائی جاری رکھے گی جب تک کہ یرغمالیوں کی واپسی اور جنگ کے تمام مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے۔
حماس نے اپنی طرف سے مطالبہ کیا کہ ثالث اسرائیل کو ’جنگ بندی کی خلاف ورزی اور اسے ختم کرنے‘ کے لیے ’مکمل طور پر ذمہ دار‘ ٹھہرائیں۔
تاہم اب بھی امید ہے کہ ثالث دونوں فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لا سکتے ہیں۔
غزہ میں بی بی سی عربی کے نامہ نگار عدنان البرش کے مطابق حماس مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے متعدد زندہ اسرائیلی یرغمالیوں اور متعدد مقتول یرغمالیوں کی لاشوں کو اسرائیل کے حوالے کرنے پر آمادہ ہو سکتی ہے۔
اٹک جیل سے پی ٹی آئی کے 75 کارکنان رہا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
ڈسٹرکٹ جیل اٹک سے رات گئے پی ٹی آئی کے 75 کارکنوں کو انسداد دہشتگردی عدالت کے حکم پر رہا کر دیا گیا۔
رہا ہونے والوں کو حکومت کی ہدایات اورڈی پی او اٹک ڈاکٹر غیاث گل خان کے حکم 26 نومبر 2024 کو اسلام آباد سے واپسی پرگرفتار کیا گیا تھا۔
ضلع اٹک کے مختلف تھانوں میں درجن سے زائد ایف آئی آر درج کی گئیں۔
ہر ایف آئی آر میں ایک ہی طرح کی تحریردہشت گردی قتل، اقدام قتل سمیت 20 سے 22 سنگین دفعات جن میں جلاؤ گھیراؤ، توڑپھوڑ، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا، پولیس پر پتھراؤ اور دیگر ناقابل دفعات شامل ہیں درج کی گئیں۔
جیل کے باہر کارکنوں کولینےکےلیےان کےورثا موجود تھے۔
غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی جانب سے مزید بمباری کے نتیجے میں نو ہلاکتیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
غزہ کی پٹی میں بدھ کی صبح اسرائیلی فضائیہ نے پھر سے حملے کیے جن میں میڈیارپورٹس کے مطابق کم از کم نو افراد ہلاک ہوئے۔
بی بی سی عربی کے نامہ نگار کے مطابق منگل کی صبح اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی کے بیشتر شہروں پر فضائی حملے کیے، ان میں غزہ کی پٹی کے شمالی علاقے، دیر البلاح، خان یونس اور رفح شامل ہیں۔
غزہ میں وزارت صحت کے مطابق غزہ کی پٹی میں ایک روز میں ہونے والے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 404 ہو گئی ہے جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں۔
زخمیوں کی تعداد کم سے کم 562 بتائی گئی ہے۔
غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد ضقوت نے بی بی سی کے غزہ ٹوڈے پروگرام میں تصدیق کی کہ غزہ کی پٹی کے تمام علاقوں سے زخمی اب بھی ہسپتالوں میں پہنچ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جنھیں کیمپ قرار دیا گیا ہے۔
غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد ضقوت نے بتایا کہ اسرائیل نے مبینہ طور پر شہریوں پر آگ لگانے والے اور بھاری بم برسائے، جس سے مرنے والوں کی تعداد دوگنی ہوگئی۔
ان[وں نے مزید کہا کہ غزہ کی پٹی میں جنگ میں 22 سے زیادہ سرکاری اور خیراتی ہسپتالوں کو تباہ کر دیا ہے، اس مشکل اور غیر متوقع صورتحال میں صرف سات ہسپتال کام کر رہے ہیں۔‘
جنوبی غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے ایک فلسطینی نے بی بی سی کے غزہ ٹوڈے کے پروگرام کو بتایا کہ وہ اور اس کے اہل خانہ نے منگل کو صبح کے وقت ان ’خوفناک‘ لمحات کا تجربہ کیا جب وہ سحری کھانے کے لیے تیار ہوتے ہوئے اسرائیلی فضائی حملوں کی آوازوں سے حیران رہ گئے۔
غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے ایک اور فلسطینی نے مزید کہا کہ ’بمباری کی شدت نے انہیں اپنے گھروں کی دیواروں کے پیچھے پناہ لینے پر مجبور کیا۔‘
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں اور گولہ باری پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
ترک نے ایک بیان میں کہا کہ ’گذشتہ رات غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں اور گولہ باری سے میں خوفزدہ ہوں، جس میں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس سے المیے میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اسرائیل کی جانب سے مزید فوجی طاقت کا استعمال فلسطینی عوام کے مصائب میں اضافہ کرے گا، جو پہلے ہی تباہ کن حالات سے دوچار ہیں۔‘
ریڈ کراس نے خبردار کیا کہ غزہ کی پٹی پر حالیہ اسرائیلی بمباری کے بعد غزہ میں بہت سی طبّی سہولیات ’انتہائی دباؤ‘ کا شکار ہیں، جب کہ عالمی ادارہ صحت نے ادویات کی کمی کی اطلاع دی ہے۔
روس، یوکرین میں مکمل سیز فائر کے بجائے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے نہ کرنے پر آمادہ

،تصویر کا ذریعہReuters
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی ہم منصب کے ساتھ فون پر بات چیت میں یوکرین میں فوری طورپر جنگ بندی کو مسترد کر دیا ہے تاہم وہاں توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ نہ بنانے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔
روسی سربراہ نے ایک ماہ کے لیے جنگ بندی کے اس جامع معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کیا ہے جس پر صدر ٹرمپ کی ٹیم یوکرین کے ساتھ سعودی عرب میں کام کرتی رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک جامع معاہدہ اسی صورت میں کارآمد ہو سکتا ہے اگر یوکرین کو ملنے والی غیر ملکی فوجی امداد اور انٹیلیجنس شیئرنگ کو ختم کر دیا جائے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل یوکرین کے یورپی اتحادیوں نے اس قسم کی شرائط ماننے سے انکار کیا تھا۔
خیال رہے کہ تین سال سے جاری جنگ میں روس نے حال ہی میں کرسک نامی علاقے کا کنٹرول واپس حاصل کیا ہے جسے چھ ماہ قبل یوکرین نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔
حالانکہ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مشرق وسطیٰ میں فوری طور پر مزید امن مذاکرات ہوں گے تاہم منگل کو ٹرمپ اور پوتن کے درمیان ہونے والی بات چیت کا نتیجہ امریکا کا اپنی اس پوزیشن سے پیچھے ہٹنے کے مترادف لگتا ہے جہاں وہ ایک ہفتہ پہلے کھڑا تھا۔
جب یوکرین سے امریکی وفد جدہ میں گذشتہ منگل کو ملا تھا تو انھوں نے اسے 30 روز کے لیے فضائی، بحری اور بری سطح پر ہونے والی لڑائی بند کرنے کی تجویز پر آمادہ کر لیا تھا۔
دوسری جانب یوکرین کے صدر زیلنسکی جو کہ اس وقت فن لینڈ کے سرکاری دورے پر ہیں نے صدر ٹرمپ کی روسی ہم منصب سے ہونے والی بات چیت کے بعد اپنے بیان میں کہا ہے کہ یوکرین انرجی انفسرا سٹرکچر پر حملے نہ کرنے کے معاہدے کے لیے تیار ہے لیکن ہمیں پہلے اس حوالے سے مزید تفصیلات دی جائیں۔
روس کی جانب سے کیے جانے والے تازہ ڈرون حملوں کے بعد زیلنسکی نے پوتن پر الزام لگایا کہ انھوں نے سیز فائر کو مسترد کر دیا ہے۔
یوکرین کے رہنما نے کہا کہ جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا ان میں سومی میں ایک ہسپتال اور سلویانسک میں بجلی کی فراہمی شامل ہے۔
زیلنسکی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر کہا کہ ’بدقسمتی سے، خاص طور پر سویلین انفراسٹرکچر پر حملے ہوئے ہیں، آج پوٹن نے مکمل جنگ بندی کی تجویز کو مؤثر طریقے سے مسترد کر دیا۔
اس سے قبل ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ روسی رہنما کے ساتھ ان کی بات چیت ’بہت اچھی اور نتیجہ خیز‘ تھی اور ’امن کے معاہدے کے بہت سے عناصر پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔‘
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ 'ہم نے توانائی اور انفراسٹرکچر پر فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے اور اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ہم مکمل جنگ بندی کے لیے تیزی سے کام کریں گے اور بالآخر روس اور یوکرین کے درمیان اس خوفناک جنگ کا خاتمہ کریں گے۔‘
زیلنسکی نے گذشتہ ستمبر میں کہا تھا کہ یوکرین کی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کا تقریباً 80 فیصد روسی بموں سے تباہ ہو چکا ہے۔
جواب میں یوکرین نے روسی علاقے میں تیل اور گیس کی تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملے کیے۔
گذشتہ ہفتے جدہ میں ہونے والی بات چیت میں جب یوکرین نے جنگ بندی کے لیے واشنگٹن کی تجویز قبول کی تھی تو اس کے بعد وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ بال اب روس کی کورٹ میں ہے۔
لیکن منگل کو ٹرمپ اور پوٹن کی بات چیت کے بعد وائٹ ہاؤس کے بیان میں یوکرین کے ساتھ اس معاہدے کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا۔ اس کے بجائے دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ’امن کی تحریک توانائی اور بنیادی ڈھانچے کی جنگ بندی سے شروع ہوگی۔‘
مزید کہا گیا کہ اس کے بعد ’بحیرہ اسود میں سمندری جنگ بندی، مکمل جنگ بندی اور مستقل امن‘ پر بات چیت ہوگی۔
لیکن کریملن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کیئف کے ساتھ کسی بھی معاہدے کو نافذ کرنے کے بارے میں ’اہم معاملات کا ایک سلسلہ‘ تھا۔
یہ بھی کہا گیا کہ یوکرین کے لیے غیر ملکی حمایت اور انٹیلیجنس کا خاتمہ روس کے لیے 'اہم شرط' ہے۔
صدر ٹرمپ اور پوٹن نے طویل مدتی تصفیے کے لیے فوری طور پر تکنیکی سطح کے مذاکرات پر اتفاق کیا، جس کے بارے میں کریملن کا کہنا ہے کہ یہ 'پیچیدہ، مستحکم اور طویل مدتی نوعیت کا ہونا چاہیے۔‘
کریملن کے مطابق 19 مارچ کو روس اور یوکرین 175 جنگی قیدیوں کا تبادلہ کریں گے جبکہ روس میں زیرِ علاج 23 یوکرینی فوجی، جو شدید زخمی ہیں، کو بھی یوکرین منتقل کیا جائے گا۔
کریملن نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ 30 روزہ جنگ بندی کے دوران یوکرینی افواج کی طرف سے کوئی صف بندی نہ کی جائے۔
کریملن نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ نے امریکی اور روسی کھلاڑیوں کے درمیان آئس ہاکی میچوں کے انعقاد کے لیے پوٹن کے خیال کی حمایت کی۔
خیال رہے کہ روس کو 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد بیرون ملک آئس ہاکی مقابلوں سے روک دیا گیا تھا۔
صدر پوتن اس سے قبل اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ روس کو یوکرین کے زیر قبضہ علاقے کا کنٹرول برقرار رکھنا چاہیے اور کسی بھی ممکنہ امن معاہدے کے حصے کے طور پر مغربی پابندیوں میں نرمی کا مطالبہ کیا ہے۔
ادھر جرمن چانسلر اولاف شولز نے برلن میں فرانسیسی صدر کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محدود جنگ بندی کا منصوبہ ایک اہم پہلا قدم ہے تاہم انھوں نے ایک بار پھر مکمل جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا۔
برطانوی وزیر اعظم سٹارمر نے ٹرمپ اور پوٹن کی بات چیت کے بعد صدر زیلنسکی سے بات کی اور برطانیہ کی مکمل متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
ژوب میں دھماکے سے سکیورٹی فورسز کے دو اہلکار ہلاک
بلوچستان کے سرحدی ضلع ژوب میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں سکیورٹی فورسز کے ایک افسر سمیت دو اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
ژوب ڈویژن کے ایک سینیئر اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ ضلع کے علاقے سمبازہ میں پیش آیا۔
اہلکار نے بتایا کہ اس علاقے میں سرچ کے دوران بارودی سرنگ کا دھماکہ ہوا اور دھماکے میں سکیورٹی فورسز کے میجر سعد اور سپاہی ساجد شدید زخمی ہوگئے۔
سینیئر اہلکار نے بتایا کہ دونوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں دونوں زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔
اہلکار نے بتایا کہ دھماکے میں زندگی کی بازی ہارنے والے میجر کا تعلق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے تھا۔
ژوب بلوچستان کا افغانستان سے متصل سرحدی ضلع ہے۔ اس ضلع کی شمال مشرق میں سرحد خیبر پختونخوا کے سرحدی ضلع جنوبی وزیرستان سے لگتی ہے۔ اس ضلع کی آبادی مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے۔
اگرچہ منگل کو پیش آنے والے واقعے کی تاحال کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم ماضی میں ژوب اور اس سے متصل دیگر علاقوں میں سنگین بدامنی کے متعدد واقعات کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہیں۔
اسرائیل نے غزہ میں پوری قوت سے دوبارہ لڑائی شروع کر دی ہے: نتن یاہو

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے عزہ میں ’پوری قوت کے ساتھ‘ دوبارہ لڑائی شروع کر دی ہے۔
غزہ میں جنوری کے دوران جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا تاہم اب اسرائیل نے دوبارہ حملے شروع کیے ہیں۔ حماس کے مطابق حملوں کی نئی لہر میں 400 سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں۔
نتن یاہو نے ان حملوں کا حوالے دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ صرف شروعات ہے‘ اور ان کے مطابق لڑائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اسرائیل اپنے اہداف حاصل نہیں کر لیتا۔
اسرائیل نے اپنے تمام یرغمالیوں کی غزہ سے واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ اسرائیل کا خیال ہے کہ اب بھی غزہ میں 59 یرغمالی موجود ہیں جن میں سے 24 کے بارے میں خیال ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ جنگ بندی معاہدے کے دوران حماس نے کئی یرغمالیوں کو رہا کیا تھا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے الزام لگایا کہ حماس جنگ بندی میں کی گئی پیشکش سے انکاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اب مذاکرات صرف آگ تلے ہوں گے۔‘
انھوں نے اسرائیلیوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ’ہم مشرق وسطیٰ کو بدل رہے ہیں۔ ہم جیتیں گے۔‘
دریں اثنا حماس نے اسرائیل پر بے گناہ شہریوں پر حملوں کا الزام لگایا اور کہا کہ غزہ میں ان ہلاکتوں کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق غزہ میں بمباری سے قبل اسرائیل نے امریکہ کو بریفنگ دی تھی۔
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر ڈوروتھی شی نے دوبارہ لڑائی شروع ہونے پر حماس کو قصوروار ٹھہرایا اور کہا کہ اس نے حالیہ ہفتوں کے دوران جنگ بندی کی پیشکش اور ڈیڈلائن کو ٹھکرایا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاحال اس پیشرفت پر تبصرہ نہیں کیا ہے۔
اسرائیلی یرغمالیوں کے خاندانوں نے پارلیمان کے باہر احتجاج میں الزام لگایا کہ حکام نے غزہ میں دوبارہ بمباری شروع کر کے یرغمالیوں کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔
ٹرمپ اور پوتن کے درمیان 90 منٹ کی کال میں کیا بات طے ہوئی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک طویل فون کال کے بعد اگلے 30 روز تک یوکرین میں توانائی کے اہداف پر حملے روکنے پر اتفاق کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ اور پوتن کے درمیان یوکرین میں جنگ بندی اور ’امن کی ضرورت‘ پر بات ہوئی اور انھوں نے خطے میں پائیدار امن پر اتفاق کیا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں فریقین نے اتفاق کیا کہ بحیرہ اسود میں سمندری جنگ بندی پر عملدرآمد کے لیے بات چیت شروع کی جائے گی۔ جبکہ انھوں نے اس بارے میں بھی بات چیت کی کہ ’سٹریٹیجک ہتھیاروں کی روکا جائے۔‘
تاہم روی صدر نے مکمل جنگ بندی پر ہچکچاہٹ ظاہر کی ہے۔ کریملن کا کہنا ہے کہ اس 90 منٹ کی فون کال کے دوران ’کئی اہم نکات‘ اٹھائے گئے۔‘
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ یوکرین میں قیام امن کے لیے جلد مشرق وسطیٰ میں مذاکرات شروع ہوں گے۔ تاحال یوکرین نے توانائی کے اہداف سے متعلق اس جنگ بندی کی پیشکش پر ردعمل نہیں دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکہ اور روس کا خیال ہے کہ ’ایران کبھی ایسی پوزیشن پر نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اسرائیل کو تباہ کر سکے۔‘
کریملن کے مطابق 19 مارچ کو روس اور یوکرین 175 جنگی قیدیوں کا تبادلہ کریں گے جبکہ روس میں زیرِ علاج 23 یوکرینی فوجی، جو شدید زخمی ہیں، کو بھی یوکرین منتقل کیا جائے گا۔
کریملن نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ 30 روزہ جنگ بندی کے دوران یوکرینی افواج کی طرف سے کوئی صف بندی نہ کی جائے۔
پاکستان کو ایک ہارڈ سٹیٹ بنانا ہو گا، ہم گورننس کے گیپس کو کب تک افواجِ پاکستان اور شہدا کے خون سے بھرتے رہیں گے: آرمی چیف

،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو ایک ہارڈ سٹیٹ بنانے کی ضرورت ہے ہم گورننس کے گیپس کو کب تک افواجِ پاکستان اور شہدا کے خون سے بھرتے رہیں گے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری آرمی چیف کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہمیں بہتر گورننس کے ساتھ پاکستان کو ایک ہارڈ سٹیٹ بنانے کی ضرورت ہے، ہم کب تک سافٹ سٹیٹ کی طرز پر بے پناہ جانوں کی قربانی دیتے رہیں گے۔‘
خیال رہے کہ آج قومی اسمبلی کے سپیکر کی زیر صدارت پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، پارلیمانی کمیٹی کے ارکان، سیاسی قائدین، آرمی چیف جنرل عاصم منیر، اہم وفاقی وزرا اور فوج اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
پاکستان تحریکِ انصاف اور قوم پرست جماعتوں بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی جانب سے اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا گیا تھا۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اس سے قبل اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ ’نیشنل ایکشن پلان اور عزم استحکام کی حکمتِ عملی پر فوری عمل درآمد پر زور دیا گیا ہے۔‘
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے یہ بھی کہا کہ ’ملک کی سلامتی سے بڑا کوئی ایجنڈا نہیں، کوئی تحریک نہیں، کوئی شخصیت نہیں۔ پائیدار استحکام کے لیے قومی طاقت کہ تمام عناصر کو ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا ہو گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ ہماری اور ہماری آنے والی نسلوں کی بقا کی جنگ ہے۔ علما سے درخواست ہے کے وہ خوارج کی طرف سے اسلام کی مسخ شدہ تشریح کا پردہ چاک کریں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر یہ ملک ہے تو ہم ہیں، لہٰذا ملک کی سلامتی سے بڑھ کر ہمارے لئے کوئی چیز نہیں۔ پاکستان کے تحفظ کے لیے یک زبان ہو کر اپنی سیاسی اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک بیانیہ اپنانا ہو گا۔‘
آرمی چیف کے بیان کے مطابق ’جو سمجھتے ہیں کہ وہ پاکستان کو ان دہشتگردوں کے ذریعے کمزور کر سکتے ہیں آج کا دن ان کو یہ پیغآم دیتا ہے کہ ہم متحد ہو کر نہ صرف ان کو بلکہ ان کے تمام سہولتکاروں کو بھی ناکام کریں گے۔‘
پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا ’نیشنل ایکشن پلان اور عزم استحکام کی حکمتِ عملی پر فوری عمل درآمد پر زور‘، پی ٹی آئی اور قوم پرست جماعتوں کا بائیکاٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات کا جائزہ لینے کے لیے پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس میں ’نیشنل ایکشن پلان اور عزم استحکام کی حکمتِ عملی پر فوری عمل درآمد پر زور دیا گیا ہے۔‘
قومی اسمبلی کے سپیکر کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، پارلیمانی کمیٹی کے ارکان، سیاسی قائدین، آرمی چیف جنرل عاصم منیر، اہم وفاقی وزرا اور فوج اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کمیٹی نے ریاست کی پوری طاقت کے ساتھ اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے سٹریٹجک اور متفقہ سیاسی عزم پر زور دیتے ہوئے انسداد دہشت گردی کے لیے قومی اتفاق کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
خیال رہے کہ اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی اور قوم پرست جماعتوں نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پی ٹی آئی کی جانب سے یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ اجلاس میں شرکت کے لیے عمران خان کو پیرول پر رہا کریں۔
خیال رہے کہ یہ اجلاس جعفر ایکسپریس پر عسکریت پسندوں کے حملے، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں گذشتہ دو ہفتوں کے دوران متعدد حملوں اور ہلاکتوں کے بعد منعقد ہوا ہے۔
اعلامیے کے مطابق ’کمیٹی نے پروپیگنڈا پھیلانے، اپنے پیروکاروں کو بھرتی کرنے اور حملوں کو مربوط کرنے کے لیے دہشت گرد گروہوں کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کیا اور اس کی روک تھام کے لیے اقدامات پر زور دیا۔‘
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’کمیٹی نے دہشت گردوں کے ڈیجیٹل نیٹ ورکس کے سدباب کے لیے طریقہ کار وضع کرنے پر بھی زور دیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ دشمن قوتوں کے ساتھ ملی بھگت سے کام کرنے والے کسی بھی ادارے، فرد یا گروہ کو پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اعلامیے میں کمیٹی نے حزب اختلاف کے بعض اراکین کی عدم شرکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اعادہ کیا کہ اس بارے میں مشاورت کا عمل جاری رہے گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سات اپریل 2023 کو منعقد ہونے والے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ملک میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے ایک نیا جامع آپریشن شروع کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔
