یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
18 اگست کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
قدرتی آفات سے نمٹنے والے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق خیبر پختونخوا میں کل 323 ہلاکتیں ہوئی ہیں جن میں سے 217 کا تعلق بونیر سے ہے۔ جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ 134 لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ سیلاب سے تباہ ہونے والے گھروں کو دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔ انھوں نے ضلع کے لیے ڈیڑھ ارب روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
18 اگست کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
خیبر پختونخوا کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق حالیہ بارشوں اور فلیش فلڈ کے باعث صوبے کے مختلف اضلاع میں ہونے والے حادثات میں اب تک 323 افراد ہلاک اور 156 زخمی ہو چکے ہیں۔
سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بونیر میں 217 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
مختلف اضلاع میں ہلاک ہونے والے افراد میں 273 مرد، 29 خواتین اور 21 بچے شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں 123 مرد، 23 خواتین اور 10 بچے شامل ہیں۔
یہ حادثات صوبے کے اضلاع سوات، بونیر، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام میں پیش آئے۔ شانگلہ میں 36، مانسہرہ میں 24، باجوڑ میں 21، سوات میں 17، لوئر دیر میں پانچ اور بٹگرام میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
بارشوں اور فلیش فلڈ سے مجموعی طور پر 336 گھروں کو نقصان پہنچا جن میں 230 گھروں کو جزوی اور 106 گھر مکمل طور پر منہدم ہوئے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق 17 سے 19 اگست تک شدید بارشوں کا امکان ہے جبکہ بارشوں کا سلسلہ 21 اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہ سکتا ہے۔
صوبائی حکومت نے متاثرہ اضلاع کی ضلعی انتظامیہ کے لیے 800 ملین روپے امدادی فنڈ جاری کیا ہے۔ سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بونیر کو 500 ملین روپے جاری کیے گئے ہیں۔

صحافی زبیر خان کے مطابق بونیر جہاں ہلاکتوں کی تعاد 217 ہے، وہاں کئی افراد لاپتہ ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ متوقع ہے۔
دوسرے نمبر پر شانگلہ کا ضلع ہے جہاں پر ہلاکتوں کی تعداد 36 بتائی گئی ہے۔ ضلع شانگلہ ریسکیو کے مطابق چھ افراد تاحال لاپتا ہیں۔
ریسیکو شانگلہ کے مطابق شانگلہ میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ تحصیل پورن علاہ گنبد غل بانڈہ ہے جہاں پر 20 لاشیں ملی ہیں جبکہ ایک اور علاقے شاقی درہ سے سات لاشیں ملی تھیں۔
ریسیکو شانگلہ کے مطابق شانگلہ کو سوات سے ملانے والا راستہ تاحال بند ہے جس پر کام ہورہا ہے اور ممکنہ طور پر رات کو یہ راستہ کھل سکتا ہے۔
شانگلہ کی تقریباً تمام ہی رابطہ سڑکیں بند ہیں جس وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلا ت کا سامنا ہے اور امدادی کارکناں کئی کئی گھنٹے چلنے کے بعد متاثرہ مقامات پر پہنچ رہے ہیں۔
ریسیکو شانگلہ کے مطابق مختلف علاقوں میں ذرائع مواصلات بھی کام نہیں کر رہے اور راستے بھی بند ہیں جس وجہ سے اطلاعات نہیں پہنچ پا رہی ہیں۔
پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ذریعے وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ اضلاع کے لیے امدادی ٹرک روانہ کر دیے ہیں جن میں دوائیاں، راشن، ٹینٹ اور دیگر ضروری سامان شامل ہے۔
نجی چینل جیو نیوز کے ساتھ بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ہم مکمل طور پر خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں اور جس جس چیز کی ضرورت ہے وہ تمام سامان وافر مقدار میں تواتر سے مقامی انتظامیہ کے حوالے کیا جا رہا ہے۔
عطا تارڑ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے وفاق وزرا کی ڈیوٹی لگائی ہے کہ تمام متاثرہ اضلاع میں موجود رہیں۔ وفاقی وزیر اویس لغاری اور امیر مقام سمیت دیگر افراد ریسکیو و ریلیف کی نگرانی کریں گے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم لمحہ بہ لمحہ صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں اور وفاقی حکومت اور فوج خیبر پختونخوا حکومت کی تمام ضروریات پوری کریں گے۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ کچھ ہفتے قبل این ڈی ایم اے میں ایک پیشگی وارننگ سسٹم قائم کیا گیا ہے اور این ڈی ایم اے تمام صوبوں کو وقتاً فوقتاً صورتحال بتا رہا ہے اور اس حوالے سے ہماری صوبوں کے ساتھ بہت اچھی ہم آہنگی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں کے لیے شدید بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کیا ہے۔ پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے متعدد علاقوں میں موسلادھار بارشوں اور سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے اور شہریوں سے غیر ضروری سفر سے گریز اور حفاظتی ہدایات پر عمل کی اپیل کی گئی ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق:
این ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور موسمی حالات سے باخبر رہیں۔ گاڑیوں کو محفوظ مقامات پر پارک کیا جائے اور درختوں، سائن بورڈز یا کمزور تعمیرات سے دور رہا جائے۔
برساتی نالوں، دریا کناروں اور لینڈ سلائیڈنگ والے حساس علاقوں کے سفر سے اجتناب کیا جائے۔ تیز بہاؤ کی صورت میں ندی نالوں، پلوں اور پانی میں ڈوبی سڑکوں سے گزرنے سے گریز کریں۔
این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ مقامی انتظامیہ کو نشیبی علاقوں سے پانی کی فوری نکاسی کے لیے مشینری اور پمپس تیار رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہFacebook/AliAminKhanGandapurPti
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے صوبے میں سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بونیر کا دورہ کیا، اس موقع پر انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت متاثرین کو اس مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑے گی اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا بھرپور ازالہ کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ سیلاب سے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے ترجیحی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عوام کو بلا تعطل سہولیات میسر ہوں۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ ہلاک ہونے والوں کے لواحقین اور زخمیوں کو معاوضوں کی ادائیگی بلا تاخیر کی جائے۔ اس مقصد کے لیے صوبائی حکومت نے ڈیڑھ ارب روپے جاری کر دیے ہیں۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی خصوصی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے متاثرہ اضلاع کو مجموعی طور پر 800 ملین روپے بھی جاری کر دیے ہیں جس میں سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بونیر کو 500 ملین روپے جاری کیے گئے ہیں۔
علی امین گنڈاپور نے ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں ایک اجلاس کی صدارت کی جس میں سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال اور ریلیف و بحالی کی سرگرمیوں پر غور کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کا کہنا تھا کہ متاثرین کو خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی وافر مقدار میں فراہمی یقینی بنائی جائے۔
صوبائی کابینہ اراکین سید فخر جہاں، نیک محمد، سہیل آفریدی، رکن صوبائی اسمبلی ریاض خان، ایم این اے بیرسٹر گوہر اور چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ اور ضلعی انتظامیہ کے حکام بھی اجلاس میں شریک تھے۔
اجلاس کے دوران ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ بونیر کی سات ویلج کونسلوں میں کلاوڈ برسٹ کے باعث 5380 مکانات کو نقصان پہنچا۔ اب تک 209 اموات رپورٹ ہوئی ہیں جبکہ 134 افراد لاپتہ اور 159 زخمی ہیں۔
ریسکیو اور ریلیف آپریشنز میں 10 ایکسکیویٹرز، 22 ٹریکٹرز، 10 ڈی واٹرنگ پمپس، 5 واٹر باوزرز اور 10 ڈوزرز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 223 ریسکیو اہلکار، 205 ڈاکٹرز، 260 پیرامیڈیکل سٹاف، 400 پولیس اہلکار، 300 سول ڈیفنس کے رضاکار اور فوج کی تین بٹالینز سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔
متاثرہ افراد کو خوراک، صحت کی سہولیات، ٹینٹ، کمبل، میٹرس اور دیگر ضروری اشیا فراہم کی جا رہی ہیں۔ پیر بابا کا چھ کلومیٹر اور گوکند کا 3.5 کلومیٹر روڈ کلیئر کر لیا گیا ہے جبکہ 15 مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کا ملبہ بھی ہٹایا جا چکا ہے۔
ضلع بونیر سمیت آٹھ متاثرہ اضلاع میں ریلیف ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے جبکہ سیلاب میں پھنسے 3500 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ فوج کے دستے بھی ریلیف سرگرمیوں میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ متاثرین کی بحالی میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے اور صوبائی حکومت اس مقصد کے لیے وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے گی۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر کے حکام کا کہنا ہے کہ بارشوں اور سیلاب سے جڑے حادثات کے باعث وہاں 209 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 200 سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔
حالیہ دنوں میں پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیلاب سے 300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر اموات پہاڑی صوبہ خیبر پختونخواہ میں ریکارڈ کی گئیں۔
سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بونیر میں ڈپٹی کمشنر آفس کے ترجمان جہانگیر خان نے بی بی سی کے عثمان زاہد کو بتایا کہ وہاں 200 سے زیادہ افراد اب بھی لاپتہ ہیں تاہم خدشہ ہے کہ یہ تعداد بڑھ سکتی ہے۔
بونیر کے ڈپٹی کمشنر آفس کے ترجمان جہانگیر خان نے کہا کہ ریسکیو ٹیموں نے آٹھ نامعلوم لاشوں کو دفن کر دیا ہے کیونکہ ان کا دعویٰ کرنے کے لیے خاندان کے کوئی فرد زندہ نہیں ملے تھے۔
انھوں نے مزید کہا کہ کچھ افراد اپنے رشتہ داروں کی لاشوں کا دعویٰ کرنے سے بھی قاصر ہیں کیونکہ سڑکوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ایک صوبائی ریسکیو ترجمان نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ’10 سے 12 مکمل دیہات‘ جزوی طور پر دب گئے ہیں۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ اسفندیار خٹک نے کہا کہ شانگلہ ضلع میں ’درجنوں‘ لوگ لاپتہ ہیں۔ جون اور ستمبر کے درمیان مون سون کی بارشیں جنوبی ایشیا کی سالانہ بارشوں کا تقریباً تین چوتھائی حصہ فراہم کرتی ہیں۔
جب کہ لینڈ سلائیڈنگ اور فلش فلڈز اس کے نتیجے میں عام ہیں، سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ان موسمی واقعات کو مزید شدید اور بار بار بنا رہی ہے۔
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں بھی طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی ہے، جس کے چند دن بعد سیلاب سے وہاں کم از کم 60 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
حکام نے بتایا کہ اس ہفتے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں نو ہلاک ہوئے، جبکہ شمالی گلگت بلتستان کے علاقے میں مزید پانچ ہلاک ہوئے۔
سرکاری پیشن گوئی کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ شمال مغرب میں 21 اگست تک شدید بارشیں متوقع ہیں، جہاں کئی علاقوں کو آفت زدہ زون قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان جون سے اس سال کے مون سون سیزن کی تباہی کا حساب لگا رہا ہے۔ اس سال اب تک کم از کم 650 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
جولائی میں، پنجاب، جو پاکستان کی 255 ملین آبادی میں سے تقریباً نصف پر مشتمل ہے، پچھلے سال کے مقابلے میں 73 فیصد زیادہ بارشیں اور پچھلے مون سون سیزن کے مقابلے میں زیادہ اموات ریکارڈ کی گئیں۔
شمالی پاکستان بھی خطے کے سب سے زیادہ برفانی علاقوں میں سے ایک ہے لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے یہ تیزی سے پگھل رہے ہیں اور سرک رہے ہیں یعنی چٹانیں، مٹی اور دیگر ملبے کو ہٹایا جا سکتا ہے۔
مون سون کی بارشیں پہاڑی چہروں کو مزید غیر مستحکم کر سکتی ہیں، لینڈ سلائیڈنگ کو بڑھاتی ہیں جو کبھی کبھی دریاؤں کو روکتی ہیں۔
اگرچہ حالیہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی اصل وجہ کا ابھی تک تعین نہیں کیا جا سکا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ برف پگھلنا ایک اہم عنصر ہے۔

،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA/MOHSIN NAQVI/FACEBOOK
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ مئی میں انڈیا نے جب پاکستان کے اندر حملے کیے تو اس کے جواب میں پاکستانی فضائیہ نے انڈیا کے چھ طیارے مار گرائے جن کی ویڈیوز بھی موصول ہوئیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ انڈیا کی طرف سے پاکستان کے فوجی اڈوں پر حملوں میں ایک ایئر بیس کے علاوہ کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ ان کے مطابق انڈیا کے تمام فیصلے، منصوبہ بندی اور ہر حرکت کی خبر ہمارے پاس پہنچ جاتی تھی کیونکہ ہماری انٹیلیجنس ایجنسیاں یہ سب ممکن بنا رہی تھیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے عالمی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر انڈیا پر حملہ کر کے اسے منھ توڑ جواب دیا۔ ان کے مطابق انڈیا میں آبادی کے بہت قریب پاکستان نے ایک فوجی تنصیب کو اس طرح نشانہ بنایا کہ ان کا بڑا تیل کا ڈبو تباہ ہو گیا مگر اس حملے میں کوئی عام شہریوں کا نقصان نہیں ہوا۔
وزیر داخلہ کے مطابق انڈیا یہ چاہتا تھا کہ عام شہریوں کے نقصان کا وہ فائدہ اٹھائے مگر پاکستان نے یہ موقع نہیں دیا۔ محسن نقوی کے مطابق پاکستان نے انڈیا میں 26 یا 36 اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ جب پاکستان نے انڈیا کے جہاز گرائے تو فیصلہ ہوا کہ یہ خبر اس وقت تک عام نہیں کرنی جب تک شواہد نہ سامنے آ جائیں۔
ان کے مطابق جب تمام ویڈیوز ہمیں مل گئیں تو پھر یہ خبر منظر عام پر لائی گئی۔ محسن نقوی نے کہا کہ یہ کام ہماری خفیہ ایجنسیوں کا تھا مگر ان کا ذکر زیادہ نہیں ہوتا۔
محسن نقوی نے کہا کہ ہماری افواج میں ایک ہم آہنگی تھی جبکہ انڈیا کی افواج میں واضح تقسیم نظر آ رہی تھی جس کا انھیں خمیازہ بھگتنا پڑا۔

،تصویر کا ذریعہKP
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا ہے کہ ان کے صوبے میں سیلاب سے تباہی شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کریں گے۔ علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ ’ریسکیو کے بعد بحالی کا کام شروع کریں گے اور پھر اعدادوشمار کی روشنی میں متاثرین کو معاوضہ دیں گے۔‘
ان کے مطابق ’آبادیوں کو پانی کے رستوں سے ہٹا کر نئی بستیاں آباد کریں گے۔ ہم گھر بنا کر دیں گے، سیلاب سے تباہ گھروں کی دوبارہ تعمیر کریں گے۔‘ وزیر اعلی کے مطابق انھوں نے یہ ہدایت دی ہے کہ بحالی کا کام جلد سے جلد کیا جائے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلی علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ’مجھ سے تمام وزرائے اعلی اور وزیراعظم نے رابطہ کیا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ان کے پاس دو ہیلی کاپٹرز تھے اور ایک ریسکیو میں تباہ ہو گیا۔‘
علی امین گنڈا پور نے کہا کہ انھوں نے 190 ارب روپے کا انڈومنٹ فنڈ قائم کر رکھا ہے جس سے صوبائی حکومت کو روزانہ ساڑھے آٹھ ارب روپے حاصل ہوتے ہیں اور اس فنڈ سے متاثرین کی بحالی کا کام کیا جا رہا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق اس وقت تک صوبے میں کل 314 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ حالیہ بارشوں میں سیلاب سے آنے والی تباہی سے 159 گھر جزوی طور پر یا مکمل تباہ ہو چکے ہیں جبکہ 57 سکول اور 22 دیگرعمارتیں تباہ ہوئی ہیں۔
بونیر میں 200 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل انعام حیدر نے کہا ہے کہ گذشتہ برس کی نسبت اس سال مون سون کی شدت 50 فیصد زیادہ ہے۔ اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے تباہی کی تفصیلات بتاتے ہوئے چیئرمین این ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ بونیر، باجوڑ اور سیلاب سے متاثرہ دیگر علاقوں میں لاپتا افراد کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے۔ ان علاقوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے تباہی ہوئی، جو ہر گزرتے وقت کے ساتھ پاکستان کو متاثر کر رہی ہے۔
چیئرمین لیفٹننٹ جنرل انعام حیدر کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں بارشوں کے نقصانات سے بچنے کے لیے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کے ساتھ مل کر نشیبی علاقوں کو خالی کرایا جائے گا۔
چیئرمین این ڈی ایم اے کا مزید کہنا تھا کہ تجاوزات اور واٹر ویز کے اندر آبادیوں کی وجہ سے نقصان زیادہ ہوتا ہے۔ ’ان نقصانات کو کم کرنے کی کوشش کریں گے۔‘ اُن کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کمیونٹیز کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔
خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر میں حکام کے مطابق بارشوں اور سیلاب سے 200 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ بونیر کے ڈپٹی کمشنر آفس کے ترجمان جہانگیر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ 200 سے زیادہ لاپتہ افراد ہیں جس کی وجہ سے مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ادھر این ڈی ایم اے نے سیاحوں کو غیر ضروری سفر نہ کرنے کی ہدایت دی ہے کیونکہ مزید لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں کا خطرہ ہے۔ سیلابی ریلوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بونیر ہے جہاں اب تک 209 ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے اور متعدد افراد کے لاپتہ ہونے کی وجہ سے اس تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔
علاقے میں 1500 سے زائد اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے، جن میں ریسکیو ورکرز، ڈاکٹرز، پیرا میڈکس، پولیس اور سول ڈیفنس کے اہلکار شامل ہیں جو امدادی کارروائیوں میں سرگرم عمل ہیں۔ فوج کی چار بٹالین بھی جاری امدادی کارروائیوں میں سول انتظامیہ کی مدد کے لیے پہنچ گئی ہیں۔
ریسکیو ٹیموں نے کم از کم آٹھ نامعلوم لاشوں کو دفنا دیا ہے کیونکہ ان کا دعویٰ کرنے کے لیے خاندان کا کوئی فرد زندہ نہیں ملا۔
کچھ رشتہ دار اپنے رشتہ داروں کی لاشیں لینے سے بھی قاصر ہیں کیونکہ سڑکوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
جہانگیر خان نے بتایا ہے کہ ’آج تک 22 مشینیں ملبے کو ہٹانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔‘
بے گھر ہونے والے افراد سرکاری سکولوں کی عمارتوں میں رہ رہے ہیں جبکہ 150 خیمے تقسیم کیے جا چکے ہیں اور ایک ہزار سے زائد افراد کی مدد کے لیے روزانہ کھانے پینے کی اشیا پہنچائی جا رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بابو سر ٹاپ سمیت گلگت بلتستان کی متعدد سڑکیں بند
سیلابی ریلوں اور بارشوں کے باعث زیادہ تر یہ حادثات صوبہ کے مختلف اضلاع سوات، بونیر ، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام میں پیش آئے۔
آج کے حوالے سے تازہ اعداد و شمار تاحال جاری نہیں کیے گئے تاہم سب سے زیادہ متاثرہ علاقے بونیر میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں جہاں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے اور درجنوں لوگ لاپتا ہے۔
این ڈی ایم اے کے اعلامیے کے مطابق سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث گلگت بلتستان میں سومرو پل، گانچھے، سالتورو پل، باغیچہ (سکردو) پل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
اعلامیے کے مطابق گلگت، جگلوٹ، گورو، نلتر روڈ، گلمت، گوجال سڑک بند ہے جبکہ بابوسر ٹاپ روڈ بھی مکمل بند ہے لہٰذا سیاح سفر سے اجتناب کریں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں تباہ کن بارشوں اور سیلابی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے قومی ادارے ’این ڈی ایم اے‘ کے مطابق ملک میں 10 ستمبر تک مون سون کے مزید دو سے تین سپیلز آنے کا امکان ہے۔
اسلام آباد میں نیوز بریفنگ میں این ڈی ایم اے حکام کا کہنا تھا کہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور سندھ میں مون سون سسٹم مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ اسلام آباد میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 70 ملی میٹر بارش ہو چکی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ 17 سے 22 اگست تک ملک میں مزید بارشوں کا امکان ہے جس سے لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی اور گوجرانوالہ سمیت مختلف شہروں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔
ٹیکنیکل ایکسپرٹ ڈاکٹر طیب شاہ کے مطابق ’خلیج بنگال کی جانب سے بارشوں کا نیا سلسلہ پاکستان کی جانب بڑھ رہا ہے۔ بارشوں کا موجودہ سپیل 22 اگست تک جاری رہے گا۔ ‘
اُن کے بقول ’10 ستمبر تک پاکستان میں مون سون کے دو سے تین سپیلز مزید آئیں گے۔ موجودہ مون سون سپیل 22 اگست تک جاری رہے گا جس میں مزید شدت آنے کا خدشہ ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ سے آنے والے لوگوں کے لیے تمام وزیٹر ویزے معطل کر رہا ہے۔
وزارت نے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ یہ معطلی اس لیے کی جا رہی ہے تاکہ حالیہ دنوں میں طبی و انسانی بنیادوں پر جاری کیے گئے عارضی ویزوں کے عمل اور طریقۂ کار کا ’مکمل اور تفصیلی جائزہ‘ لیا جا سکے۔
اس فیصلے پر فلسطینیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے چند گروپوں نے سخت مذمت کی ہے۔
فلسطینی چلڈرنز ریلیف فنڈ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ ’ہمارے لیے تباہ کن اور ناقابلِ تلافی اثرات رکھتا ہے، کیونکہ اس سے ہم غزہ کے زخمی اور شدید بیمار بچوں کی زندگی بچانے اور انھیں علاج کے لیے امریکہ لانے کے قابل نہیں رہیں گے۔‘
وزارتِ خارجہ کی پالیسی میں یہ تبدیلی اُس وقت سامنے آئی جب دائیں بازو کی کارکن لورا لومر نے ’ایکس‘ پر متواتر پوسٹس میں ویزا پروگرام کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا کہ 'اس لعنت کو ختم کریں۔'
سنیچر کے روز ’ایکس‘ پر اپنی اگلی پوسٹس میں لومر نے اس تبدیلی کا کریڈٹ خود کو دیا اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے عارضی طور پر ویزے روک دیے۔
پیلسٹائن چلڈرنز ریلیف فنڈ کے مطابق اس نے 2024 سے اب تک 169 بچوں کو غزہ سے نکالا ہے تاکہ انھیں علاج کے لیے بیرونِ ملک بھیجا جا سکے۔ ان بچوں کو مشرقِ وسطیٰ، یورپ، جنوبی افریقہ اور امریکہ منتقل کیا گیا ہے۔
7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے ڈھائی سال بعد غزہ کا بیشتر طبی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے اور اب یہ شدید غذائی قلت کا سامنا کر رہا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے الزام لگایا ہے کہ مارچ سے شروع ہونے والی اسرائیلی ناکہ بندی نے غیر سرکاری تنظیموں کو غزہ میں کافی مقدار میں خوراک پہنچانے سے روک رکھا ہے۔ اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ امداد پر اس کے ضابطے اس لیے ہیں تاکہ خوراک حماس کے ہاتھ نہ لگے۔
اقوامِ متحدہ کے تعاون سے چلنے والے غذائی تحفظ کے ادارے، انسانی ہمدردی کی تنظیمیں اور غزہ میں رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں فاقہ کشی اور قحط جیسی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔
جولائی کے آخر میں بی بی سی نے بین الاقوامی نیوز ایجنسیوں اے ایف پی، ایسوسی ایٹڈ پریس اور روئٹرز کے ساتھ ایک مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ غزہ میں صحافی بھوک سے مرنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
بیان میں لکھا گیا: ’کئی مہینوں سے یہ آزاد صحافی دنیا کے لیے غزہ کی آنکھیں اور کان بنے ہوئے ہیں۔ اب وہ خود انہی سنگین حالات کا سامنا کر رہے ہیں، جنھیں وہ رپورٹ کر رہے ہیں۔‘
جولائی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ غزہ میں ’حقیقی فاقہ کشی‘ موجود ہے، لیکن ان کی انتظامیہ اب بھی اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی پُر زور حمایت کر رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس کی جانب سے جنگ بندی سے انکار جنگ کے خاتمے کی کوششوں کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔
انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا: ’ہم دیکھ رہے ہیں کہ روس بار بار جنگ بندی کی اپیلوں کو مسترد کر رہا ہے اور ابھی تک یہ طے نہیں کیا کہ وہ کب قتل و غارت کو روکے گا۔ یہی چیز صورتحال کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔‘
سوموار کے روز یوکرین کے صدر واشنگٹن ڈی سی جا رہے ہیں، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ زیلنسکی پر زور دیں گے کہ وہ روس کے امن معاہدے پر متفق ہوں۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ یوکرین میں جنگ بندی کو نظرانداز کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کے بعد براہِ راست ایک مستقل امن معاہدے کی طرف جانا چاہتے ہیں۔
اپنے موقف میں بڑی تبدیلی لاتے ہوئے امریکی صدر نے جمعہ کے اجلاس کے بعد ’ٹروتھ سوشل‘ پر کہا کہ یہی ’روس اور یوکرین کے درمیان خوفناک جنگ کو ختم کرنے کا بہترین طریقہ ہے‘، اور اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ اکثر جنگ بندیاں ’زیادہ دیرپا نہیں ہوتیں۔‘
اجلاس کے بعد ٹرمپ سے فون پر بات کرتے ہوئے زیلنسکی نے حقیقی اور دیرپا امن کی اپیل کی، لیکن ساتھ ہی کہا کہ ’آگ بجھنی چاہیے‘ اور قتل و غارت کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
بعد میں سوشل میڈیا پر جاری بیان میں زیلنسکی نے ماسکو کے ساتھ ’ایک پائیدار اور قابلِ اعتماد امن‘ کے لیے اپنی شرائط بیان کیں جن میں ’مستند سلامتی کی ضمانت‘ اور ان بچوں کی واپسی شامل ہے جنھیں ان کے مطابق 'قابض علاقوں سے کریملن نے اغوا کیا ہے'۔
ٹرمپ کے یہ بیانات ان کے مؤقف میں ڈرامائی تبدیلی ظاہر کرتے ہیں۔ انھوں نے ابھی جمعہ کو اجلاس سے پہلے کہا تھا کہ وہ 'فوری طور پر' جنگ بندی چاہتے ہیں۔
یوکرین کا سب سے بڑا مطالبہ فوری جنگ بندی رہا ہے، تاکہ بعد میں طویل المدت تصفیے پر بات ہو سکے۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اجلاس سے پہلے یورپی رہنماؤں کو کہا تھا کہ ان کا مقصد جنگ بندی کا معاہدہ حاصل کرنا ہے۔
دوسری طرف اطلاعات ہیں کہ پوتن نے ٹرمپ کے سامنے ایک امن تجویز رکھی ہے جس کے مطابق یوکرین کو ڈونباس کے علاقے دونیتسک سے نکلنا ہوگا، اور اس کے بدلے میں روس زاپوریزیا اور خیرسون میں محاذوں کو ختم کر دے گا۔
روس نے 2014 میں غیر قانونی طور پر کریمیا پر قبضہ کیا، اور آٹھ سال بعد یوکرین پر مکمل حملہ کیا۔ روس ڈونباس کو اپنی زمین قرار دیتا ہے اور اس وقت لوہانسک کے بیشتر حصے اور دونیتسک کا تقریباً 70 فیصد حصہ اس کے قبضے میں ہے۔
امریکی صدر یہ بات پہلے کہہ چکے ہیں کہ کسی امن معاہدے میں 'علاقوں کا کچھ تبادلہ' شامل ہو سکتا ہے۔ انھوں نے مبینہ طور پر یہ تجویز زیلنسکی کو اجلاس کے بعد ہونے والی کال میں بتائی۔
چند روز پہلے ہی یوکرین کے صدر نے ڈونباس (لوہانسک اور دونیتسک پر مشتمل علاقہ) پر کنٹرول چھوڑنے سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ ایسا کوئی قدم روسی حملوں کے لیے اگلا پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔
بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یورپی سفارت کاروں کو خدشہ ہے کہ ٹرمپ پیر کو زیلنسکی پر دباؤ ڈال سکتے ہیں کہ وہ ان شرائط کو مان لیں جن پر انھوں نے پوتن کے ساتھ اجلاس میں بات کی تھی۔
سی بی ایس کے مطابق ذرائع نے کہا کہ ٹرمپ نے اجلاس کے بعد یورپی رہنماؤں سے فون پر کہا کہ پوتن 'کچھ رعایتیں دیں گے' لیکن انھوں نے وضاحت نہیں کی کہ وہ رعایتیں کیا ہوں گی۔
جمعہ کے اجلاس کے بعد فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ وہ یوکرینی صدر کو کیا مشورہ دیں گے، تو انھوں نے جواب دیا: ’معاہدہ کر لو۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’روس ایک بہت بڑی طاقت ہے اور وہ (یوکرین) نہیں ہے۔‘
ٹرمپ نے اس سے پہلے دھمکی دی تھی کہ اگر پوتن نے جنگ ختم کرنے پر اتفاق نہ کیا تو اس کے ’بہت سنگین نتائج‘ ہوں گے۔ گذشتہ ماہ انھوں نے ماسکو کو جنگ بندی کے لیے مہلت دی تھی اور کہا تھا کہ بصورتِ دیگر اسے سخت نئی پابندیوں، جن میں اضافی محصولات بھی شامل ہیں، کا سامنا کرنا پڑے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
غذائی قلت کے سبب شدید کمزوری کی حالت میں علاج کے لیے اٹلی منتقل کی جانے والی غزہ کی نوجوان خاتون ہسپتال میں دم توڑ گئیں۔
20 سالہ مریضہ کی شناخت مرح ابو زہری کے طور پر ہوئی ہے۔ وہ بدھ کی شب اپنی والدہ کے ساتھ اطالوی حکومت کے قائم کردہ منصوبے کے تحت رات کی پرواز سے پیسا پہنچی تھیں۔
پیسا یونیورسٹی ہسپتال نے کہا کہ جمعے کو دل کا دورہ پڑنے سے ان کی موت واقع ہو گئی۔ انھیں ہسپتال میں آئے ابھی 48 گھنٹے بھی نہیں ہوئے تھے۔
ہسپتال کے مطابق ان کا وزن اور پٹھوں کی طاقت بری طرح کم ہو چکی تھی۔ اطالوی خبر ایجنسیوں نے بتایا کہ وہ شدید غذائی کمی کا شکار تھیں۔
اقوام متحدہ نے غزہ میں بڑے پیمانے پر غذائی قلت کی وارننگ دی ہے۔ گذشتہ ماہ ادارے کی معاونت سے تیار کی جانے والی ماہرین کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ غزہ میں فاقہ کشی کی ’بدترین صورتحال‘ پیدا ہو گئی ہے۔
اسرائیل نے غزہ میں فاقہ کشی کی صورت حال کو مسترد کیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ اقوام متحدہ کی ایجنسیاں سرحد پر موجود امداد وصول نہیں کر رہیں اور نہ ہی پہنچا رہی ہیں۔
اب تک 180 سے زائد بچے اور بالغ افراد اسرائیل اور غزہ کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے علاج کے لیے اٹلی لائے جا چکے ہیں۔
رواں ہفتے 31 مریض اور ان کے ساتھ آنے والے افراد روم، میلان اور پیسا پہنچے۔ اطالوی وزارتِ خارجہ کے مطابق ان سب کو یا تو پیدائشی بیماریاں تھیں یا پھر شدید زخم تھے یا پھر ان کے بعض اعضا جاتے رہے تھے۔
دوسری طرف برطانوی ارکانِ پارلیمان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ کے بیمار اور زخمی بچوں کو ’فوری طور پر‘ برطانیہ لائے، حالانکہ کئی ہفتے پہلے برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے غزہ سے بچوں کو نکالنے کے منصوبے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس سے پہلے بچوں اور ان کے ساتھ آنے والوں کے لیے بایومیٹرک ٹیسٹ کو ضروری قرار دیا۔
اسرائیلی وزارت نے کہا کہ اتوار سے غزہ شہر کے مکینوں کو خیمے اور دیگر سامان فراہم کیے جائیں گے تاکہ انھیں 'محفوظ علاقوں' میں منتقل کیا جا سکے۔
یہ اعلان اسرائیلی حکومت کے غزہ شہر پر قبضہ کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس کے بعد شہر کے سب سے بڑے علاقے زیتون پر کئی دنوں تک شدید بمباری، گولہ باری اور مسماری کی کارروائیاں ہوئیں۔
میونسپلٹی کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ زیتون کی صورتحال 'انتہائی تباہ حال' ہے، کیونکہ چھ دن کی مسلسل اسرائیلی فضائی بمباری، گولہ باری اور تباہی کے بعد بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہو رہی ہے۔
غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ ہفتے کو اسرائیلی حملوں میں کم از کم 36 افراد ہلاک ہوئے۔
وزارتِ صحت نے یہ بھی کہا کہ مزید 11 افراد غذائی قلت سے مر گئے، جس کے بعد بھوک سے ہونے والی اموات کی تعداد 250 سے تجاوز کر گئی ہے۔
حماس کے زیر انتظام وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل اور غزہ کی جنگ کے آغاز سے اب تک 60 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہNDAM
خیبرپختونخوا میں سیلابی ریلوں میں 300 سے زیادہ ہلاکتوں، انفراسٹرکچر کی تباہی اور سڑکوں کی بندش کے باعث این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کیا ہے جس میں سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور مزید لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں کے خطرات سے آگاہ کیا ہے۔
پنجاب کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے نے کل (اتوار) سے 23 اگست کے دوران صوبے بھر میں فلیش، اربن اور ریورائن فلڈنگ (سیلاب) کے خدشات سے متعلق الرٹ جاری کیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق 17 سے 23 اگست تک پنجاب بھر میں شدید طوفانی بارشوں اور بالائی پنجاب میں کلاؤڈ برسٹنگ کا خدشہ ہے۔
این ڈی ایم اے کے اعلامیے کے مطابق تورغر، بٹگرام، شانگلہ، لوئر کوہستان، تتہ پانی، گلگت، ہنزہ اور سوات روڈ پر سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا شدید خطرہ موجود ہے۔ سیاحوں سے گزارش ہے کہ محتاط رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
دریائے چناب اور جہلم میں درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا امکان
پی ڈی ایم اے نے دریائے سندھ، ستلج، جہلم اور چناب میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کے خدشے سے آگاہ کیا ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق 17 سے 19 اگست کے دوران دریائے چناب اور جہلم میں درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔

،تصویر کا ذریعہRescue1122
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر تمام تر انتظامات پیشگی مکمل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں جبکہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریسکیو ٹیموں کو پیشگی حساس مقامات پر تعینات کرنے کی ہدایات کی گئی ہیں۔
اعلامیے کے مطابق کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ہسپتالوں میں عملہ کی موجودگی یقینی بنانے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔
دوسری جانب این ڈی ایم اے نے گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں کے خطرات سے متنہ کیا ہے اور سیاحوں کو ہدایات کی ہیں کہ وہ غیر صروری سفر سے مکمل گریز کریں۔
بابو سر ٹاپ سمیت گلگت بلتستان کی متعدد سڑکیں بند
این ڈی ایم اے کے اعلامیے کے مطابق سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث گلگت بلتستان میں سومرو پل، گانچھے، سالتورو پل، باغیچہ (سکردو) پل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
اعلامیے کے مطابق گلگت، جگلوٹ، گورو، نلتر روڈ، گلمت، گوجال سڑک بند ہے جبکہ بابوسر ٹاپ روڈ بھی مکمل بند ہے لہذا سیاح سفر سے اجتناب کریں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان حکومت نے صوبے بھر میں دفعہ 144کے نفاذ میں مزید 15یوم کی توسیع کر دی ہے۔
بی بی سی کے رابطہ کرنے پر حکومت بلوچستان کے ایک سینیئر عہدیدار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ توسیع 16 اگست سے کی گئی ہے۔
اس سے قبل یکم اگست کو بلوچستان بھر میں دفعہ 144کا نفاذ کیا گیا تھا۔ دفعہ 144کے تحت 15 دن تک موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی کے علاوہ عوامی مقامات پر چہرے کی شناخت کو چھپانے کے لیے مفلر، ماسک یا کسی اور چیز کے استعمال پر پابندی رہے گی۔
اعلامیے کے تحت پانچ یا پانچ سے زائد افراد کے اجتماع، دھرنوں اور احتجاج پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ دفعہ 144کے تحت اسلحے کی نمائش پر بھی پابندی رہے گی۔
جہاں اگست کے مہینے کے آغاز کے ساتھ بلوچستان بھر میں دفعہ 144نافذ کی گئی وہاں چھ اگست سے 31 اگست تک سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر موبائل انٹرنیٹ سروس کو بھی معطل کیا گیا جس سے صارفین کو پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
موبائل پر انٹرنیٹ سروس کی معطلی کے اقدام کو بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے ۔ گزشتہ روز اس سلسلے میں بلوچستان کنزیومر سوسائٹی کے چیئرمین لال محمد شاہین کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے بلوچستان ہائیکورٹ نے حکومت کو یہ ہدایت کی کہ وہ 31 اگست تک موبائل فون انٹرنیٹ سروس کی بندش کی معطلی کے فیصلے پر نظر ثانی کریں تاہم جن علاقوں میں سکیورٹی خدشات نہیں ہیں وہاں موبائل فون انٹرنیٹ سروس کو فوری طور پر بحال کی جائے۔

،تصویر کا ذریعہAndriy Yermak/Telegram
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کرنے سوموار کے روز واشنگٹن جائیں گے تاکہ جنگ کے خاتمے پر مذاکرات آگے بڑھیں۔
صدر زیلنسکی کا اعلان ٹرمپ کے ساتھ فون کال کے بعد سامنے آیا ہے۔
اپنے پیغام میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی صدر کے ساتھ ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو تقریبا ایک گھنٹہ جاری رہی جس میں ٹرمپ نے انھیں الاسکا میں ہونے والی سربراہی کانفرنس کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ بات چیت کے اہم نکات سے آگاہ کیا۔
زیلنسکی نے مزید کہا کہ ’پیر کو میں واشنگٹن ڈی سی میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کروں گا، جس میں جنگ اور قتل و غارت کے خاتمے سے متعلق تمام تفصیلات پر بات چیت کی جائے گی۔`

،تصویر کا ذریعہRESCUE 1122 SWAT
قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر این ڈی ایم اے کی ٹیم امدادی کاموں کی نگرانی کے لیے پشاور پہنچ گئی ہے۔
متاثرہ علاقوں میں پی ڈی ایم اے سمیت فوج، ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور مقامی رضاکار امدادی کاروائیوں میں مصروف ہیں۔
این ڈی ایم اے خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت اور پی ڈی ایم اے کو مکمل معاونت فراہم کر ے گا۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’محکمہ صوبائی حکومت کو امدادی سامان فراہم کر رہا ہے اور این ڈی ایم اے تمام متعلقہ سول اور عسکری اداروں کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے۔‘
این ڈی ایم اے کے بیان کے مطابق ’شمالی علاقہ جات میں ممکنہ بارشوں کی صورت میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ ‘
محکمے نے لوگوں کو بارشوں اور سیلاب کے دوران محتاط رہیں اور حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی اور سیاحوں سے کہا ہے کہ اگلے پانچ تا چھ روز تک شمالی علاقہ جات کا سفر کرنے سے گریز کریں۔

،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA
قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائئ ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں پچھلے 48 گھنٹوں کے دوران ہونے والی بارشوں اور سیلابی ریلوں سے کے باعث مختلف حادثات میں اب تک 307 افراد ہلاک اور 23 زخمی ہوئے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری تازہ رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 279 مرد، 15 خواتین اور 13 بچے شامل جبکہ زخمیوں میں 17 مرد، 4 خواتین اور دو بچہ شامل ہے۔
رپوٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث اب تک مجموعی طور پر 74 گھر وں کو نقصان پہنچا۔ جس میں 63 گھروں کو جزوی اور 11 گھر مکمل منہدم ہوئے ہیں۔
یہ حادثات صوبہ کے مختلف اضلاع سوات، بونیر ، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام میں پیش آئے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں اور فلش فلڈ كے باعث سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع باجوڑ اور بٹگرام ہیں۔
رپورٹ میں خبر دار کیا گیا ہے کہ شدید بارشوں کا موجودہ سلسلہ 21 اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔
محکمے کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی خصوصی ہدایت پر بارشوں اور فلش فلڈ كے باعث متاثرہ اضلاع كے لیے مجموعی طور پر50 کروڑ روپے کے امدادی فنڈز جاری کیے گئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بارشوں اور فلش فلڈكے باعث متاثرہ ضلع بونیر کو 15 کروڑ ،ضلع باجوڑ، بٹگرام اور مانسہرہ کو 10، 10 کروڑ اور سوات كو 5 كروڑ روپے جاری کیے گئے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم اے امدادی ٹیمیں اور ضلعی انتظامیہ آپس میں مكمل رابطے میں ہیں اور صورتحال كی نگرانی كی جا رہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کو پیشگی اقدامات کی ہدایات بھی کی گئی ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق تما م متعلقہ اداروں کو سیاحتی مقامات پر بند شاہراوں اور رابطہ سٹرکوں کی جلد بحالی کی ہدایات دی گئی ہیں۔ تاہم تمام سیاحوں خبر دار کیا گئا ہے کہ موسمی صورتحال سے آگاہ رہیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کوئی معاہدہ نہیں ہوا لیکن روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ یوکرین مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔
الاسکا میں تقریبا تین گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات کے بعد میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ’ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔‘
روسی صدر پوتن کا کہنا ہے کہ وہ اس تنازعے کو ختم کرنے میں ’خلوص دل سے دلچسپی‘ رکھتے ہیں، تاہم انھوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں دیں۔
دونوں صدور نے پریس کے سوالات کے جواب نہیں دیے۔
مذاکرات کے بعد ایک انٹرویو میں امریکی صدر ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پر زور دیا کہ وہ کوئی ’معاہدہ کرلیں‘۔
دونوں صدور نے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کی لیکن صحافیوں سے سوالات کا جواب نہیں دیے۔
ملاقات سے قبل دونوں صدور کے مابین ایئرپورٹ پر ہونے والی ملاقات میں کافی گرمجوشی دکھائی دی اور دونوں نے دو بار مصافحہ بھی کیا اور پھر دونوں ٹرمپ کی لیمو کار میں سوار ہو کر ملاقات کی جگہ کے لیے روانہ ہو گئے۔
دوسری جانب کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ٹرمپ اور پوتن کے درمیان ہونے والی ملاقات کو ’انتہائی مثبت‘ قرار دیا ہے۔
روسی خبر رساں ایجنسی آر آئی اے نووستی کی رپورٹ میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ دونوں رہنماؤں نے بات چیت کے بعد صحافیوں سے سوالات نہ لینے کا انتخاب کیوں کیا۔ پیسکوف کا کہنا ہے کہ دونوں نے ’مکمل بیانات دیے‘ اس لیے سوالات لینے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
بی بی سی کے شمالی امریکہ کے نمائندے کے مطابق ’وہ شخص جو خود کو ’امن ساز‘ اور ’ڈیل میکر‘ کے طور پر پیش کرنا پسند کرتا ہے بظاہر لگتا ہے کہ وہ الاسکا کو ان میں سے کوئی چیز حاصل نہیں کر پائیں ہیں۔‘
بی بی سی مانیٹرنگ میں روسی زبان کے ایڈیٹر وٹالی شیوچنکو لکھتے ہیں کہ سالوں کی کوششوں کے باوجود روسی صدر کے ذہن کو نہیں بدلا جا سکا۔
انھوں نے لکھا کہ کیئو میں چین کا سانس لیا گیا ہوگا کہ کوئی ’معاہدہ‘ نہیں ہوا اور یوکرین کے کسی علاقے کو نقصان نہیں پہنچا۔
واضح رہے کہ ولادیمیر زیلنسکی کو سربراہی اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا تھا لیکن روسی صدر سے ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا کہ اب یہ بات صدر زیلنسکی پر منحصر ہے کہ وہ یورپین ممالک کی شمولیت کے ساتھ کس طرح سے معاہدہ کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
10/10 ملاقات زبردست رہی: ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو
اس سے قبل انھوں نے کہا تھا کہ وہ بات چیت کے بعد یوکرین کے صدر اور یورپی رہنماؤں کو فون کریں گے۔
انھوں نے اپنی بات چیت کو دس میں سے دس نمبر دیے اور کہا کہ ’ہماری ملاقات زبردست رہی۔‘
انھوں نے کہا اب روس اور یوکرین کے درمیان بات چیت ہو گی جس میں پوتن اور زیلینسکی دونوں ہوں گے۔
ملاقات کے بعد فاکس نیوز پر نشر بات چیت میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ بظاہر معاہدہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے جس میں جنگی قیدیوں کا تبادلہ شامل ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ انھیں 50/50 کی امید ہے کیونکہ بہت سی چیزیں ہو سکتی ہیں۔' اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا: ’میرے خیال میں صدر پوتن اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میرے پاس ہزاروں لوگوں کی فہرست ہے جو انھوں نے مجھے آج پیش کی، (ان میں) ہزاروں قیدی ہیں، جو رہا ہو جائیں گے۔‘
میزبان ہینٹی نے پوچھا کہ کیا یہ وہ معاہدہ تھا جس پر آج اتفاق ہوا تو ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ ابھی تک زیر التواء ہے۔
تاہم انھوں نے کہا کہ ’انھیں اسے قبول کرنا ہوگا۔‘
انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ انھیں یہ بُک یعنی قیدیوں کی فہرست والی کتاب کس نے ’پیش کی‘، اور آیا قیدی روسی تھے یا یوکرینی؟
خیال رہے کہ فاکس نیوز کے ساتھ ان کا انٹرویو پہلے سے ریکارڈ کیا ہوا تھا۔ اس میں ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں یوکرین میں جنگ کیسے ختم ہو سکتی ہے، کیا زمین کے تبادلے کے ساتھ؟
جس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ان نکات پرپوتن کے ساتھ ملاقات کے دوران بات چیت ہوئی اور ان پر 'بہت حد تک' اتفاق کیا گیا۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ ایک 'بہت پُرجوش ملاقات' رہی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں 'ہم ایک معاہدے کے کافی قریب پہنچ گئے تھے۔' لیکن، ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ یوکرین کو کسی بھی معاہدے پر رضامند ہونا پڑے گا۔ 'شاید وہ نہیں بھی کہہ سکتے ہیں۔'
وہ یوکرین کے صدر زیلنسکی پر معاہدہ کرنے کے لیے زور دیتے نظر آتے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں اور فلیش فلڈ سے بڑے پیمانے پر ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر امریکہ اور فرانس کے سفارت خانوں نے اپنے علیحدہ علیحدہ پیغامات میں افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری پیغام میں پاکستان میں موجود فرانسیسی سفارت خانے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں ہونے والے المناک جانی نقصان پر گہرا دکھ ہوا ہے جہاں تباہ کن سیلاب نے ریسکیو ہیلی کاپٹر کے عملے سمیت متعدد قیمتی جانیں لی ہیں۔‘
پیغام میں مزید کہا گیا کہ ’بہت سے افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ ہمارے دل متاثرہ علاقوں میں خاندانوں کے لیے دکھی ہیں۔‘
مشکل گھڑی میں پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں: امریکی سفارت خانہ
دوسری جانب امریکی سفارت خانے نے آفیشل ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر جاری اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ ’آج سیلابی ریلوں اور بارش کے باعث ہونے والے المناک جانی نقصان اور تباہی پر گہرا دکھ اور افسوس ہے۔‘
پیغام میں کہا گیا کہ ’ہم اُن تمام خاندانوں سے دلی تعزیت کرتے ہیں جنھوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا۔ ہماری ٹیم اور میں اس مشکل گھڑی میں پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘