خیبر پختونخوا میں سیلاب کی تباہ کاری سے ہلاکتیں 300 سے زائد: ’گھر والوں سے فون پر کہا کہ گھر سے نکل جاؤ مگر جب وہاں پہنچا تو کُچھ باقی نہیں بچا تھا‘

Noor ul Islam

،تصویر کا ذریعہNoor ul Islam

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

صوبہ خیبر پختونخوا میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب سے شروع ہونے والی بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث پیش آنے والے حادثات میں اب تک تقریباً 307 افراد ہلاک اور 23 زخمی ہوئے ہیں۔

پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری تازہ رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 279 مرد، 15 خواتین اور 13 بچے شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں 17 مرد، چار خواتین اور دو بچے شامل ہے۔

رپوٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث اب تک مجموعی طور پر 74 گھر وں کو نقصان پہنچا ہے۔ جس میں 63 گھروں کو جزوی اور 11 گھر مکمل منہدم ہوئے ہیں۔‘

یہ حادثات صوبہ کے مختلف اضلاع سوات، بونیر ، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام میں پیش آئے۔

سیلابی ریلوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بونیر ہے جہاں اب تک 184 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے اور متعدد افراد کے لاپتہ ہونے کی وجہ سے اس تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

Noor ul Islam

،تصویر کا ذریعہNoor ul Islam

خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر کی تحصیل پیر بابا کے گاؤں بیشونٹری میں ایک سیلابی ریلا آنے کی اطلاع ملی تو یہاں کے ایک مقامی امام مسجد مولانا عبدالصمد نے اپنے گاؤں کے دیگر لوگوں کی طرح اہلِ خانہ سے فوراً گھر خالی کر دینے کو کہا لیکن کُچھ دیر بعد جب وہ واپس گھر پہنچے تو سیلابی ریلا ان کے گھر سمیت کئی دیگر گھروں کا نام و نشان مٹ چکا تھا۔

سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے گھر میں مولانا عبدالصمد کے خاندان کے پانچ افراد رہتے تھے جن کے بارے میں اب تک کوئی کُچھ نہیں جانتا۔

پیر بابا صاحب کے سابق تحصیل ناظم اشفاق احمد اسلام آباد میں موجود تھے جب انھیں گھر سے اطلاع ملی کہ سیلابی پانی کا ایک بڑا ریلا آ رہا ہے۔ انھوں نے گھر والوں کو کہا کہ فوراً کسی محفوظ مقام کی جانب روانہ ہو جائیں تاہم گھر والوں کی خیریت معلوم کرنے کے لیے جب چند ہی منٹ بعد انھوں نے دوبارہ کال کی تو پورے پشوڑی گاؤں میں کسی کا نمبر نہیں مل رہا تھا اور جب وہ اس بے چینی کے عالم میں اپنے گاؤں پہنچے تو وہاں ہر جانب قیامت کا سا منظر تھا۔

ان کے گھر سمیت کوئی بھی گھر سلامت نہیں تھا۔ ہر طرف تباہی پھیلی ہوئی تھی۔ جو لوگ پانی میں بہہ جانے سے بچ گئے تھے وہ شدید زخمی تھے۔

سیلابی ریلے کے وقت اشفاق احمد کے گھر میں 14 افراد تھے جن میں سے چار افراد کی لاشیں ملی ہیں جبکہ 10 ابھی تک لاپتا ہیں۔

ایک خاندان کے دو افراد بچ گئے تھے کیونکہ سیلابی ریلے کے وقت وہ درخت پر چڑھ گئے تھے جب کہ باقی نو افراد کا کچھ پتا نہیں چل سکا ہے۔

Noor ul Islam

،تصویر کا ذریعہNoor ul Islam

’لاتعداد لوگ لاپتا ہیں‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ریسکیو 1122 بونیر کے بھی مطابق محتاط اندازے کے مطابق بیشونٹری گاؤں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے مقامات میں شامل ہے۔

بیشونٹری گاؤں کے لوگوں کے جنازے اور کفن دفن کا انتظام بھی اپنے گاؤں میں کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ یہ سب انتظامات بھی قریب کے گاؤں کے لوگوں نے انجام دیے۔ جس میں بونیر کی کاروباری شخصیت نور اسلام کے علاوہ بیرونِ ملک میں ملازمت کرنے والے اور چھٹیوں پر آبائی علاقے میں موجود محمد اسلام بھی شامل تھے۔

نور اسلام کہتے ہیں کہ ’میں بیشوڑی گاؤں میں تقریباً ایک بجے پہنچا تھا وہاں پر کوئی گھر سلامت نہیں ہے۔ مغرب تک میں اپنے دوستوں اور علاقے کے لوگوں کے ساتھ مل کر کئی جنازوں میں شامل ہوا۔ جن کی مجھے تعداد بھی یاد نہیں ہے جبکہ چھ قبریں کھودنے میں بھی میں نے خود مدد کی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے واقعے کی اطلاع گیارہ بجے ملی۔ اس کے ساتھ علاقے میں مساجد میں اعلانات شروع ہو گئے تھے۔ جس کے بعد میں دیگر لوگوں کے ہمراہ بیشونٹری کی طرف چل پڑا۔‘

نور اسلام بتاتے ہیں کہ ’بیشونٹری پیر بابا صاحب سے چار سے پانچ کلومیٹر دور ہے مگر سیلابی ریلے کے باعث راستے بند تھے۔ جگہ جگہ ملبہ پڑا ہوا تھا۔ جس وجہ سے میں دیگر لوگوں کے ہمراہ تقریباً ایک بجے متاثرہ مقام پر پہنچا۔‘

نور السلام کا کہنا تھا کہ ’ہم سے پہلے بھی وہاں پر کچھ لوگ موجود تھے۔ جو امدادی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ وہاں پر عجیب منظر تھا۔ زخمی جگہ جگہ پڑے ہوئے تھے، ان زخمیوں کو وہاں پہنچنے والے لوگ اٹھا کر ہسپتال پہنچا رہے تھے جبکہ کئی لوگ ملبے تلے سے لاشیں نکال رہے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’بیشونٹری کی مقامی مسجد کے امام مولانا عبدالصمد کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ جب سیلابی ریلا آرہا تھا تو زیادہ بڑا نہیں تھا۔ میں نے گھر والوں کو ہدایت کی کہ علاقے کے مختلف لوگوں کی طرح وہ بھی اپنا ضروری سامان لیں اور نکلیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے سابق تحصیل ناظم پیر بابا اشفاق احمد کے گھر والوں کی قبریں کھودنے میں مدد کی ہے۔ اشفاق احمد حادثے کے وقت خود اسلام آباد میں تھے۔ ان کے خاندان کے دس افراد ابھی بھی لاپتا ہیں۔‘

نور السلام کا کہنا تھا کہ ’وہاں پر شاید ہی کوئی گھر ایسا بچا ہو جس کا کوئی فرد لاپتا نہیں ہے۔ بظاہر زیادہ تر خواتین اور بچے لاپتا ہیں۔‘

ریسیکو 1122 بونیر کے مطابق کئی لوگوں نے اپنے گھر والوں زیادہ تر خواتین اور بچوں کے لاپتا ہونے کی شکایت کی ہے۔ جن کے بارے میں کچھ پتا نہیں چل رہا ہے۔

Noor ul Islam

،تصویر کا ذریعہNoor ul Islam

’ایسا منظر پہلے نہیں دیکھا‘

ریسیکو 1122 بونیر کے مطابق بیشونٹری گاؤں کی آبادی تقریباً ایک ہزار ہے۔

محمد اسلام کہتے ہیں کہ ’میں تقریباً اڑھائی بجے بیشونٹری گاؤں پہنچا۔ گاؤں میں ہر طرف ویرانی اور موت کا سایہ تھا۔ وہاں پر گھر مٹ چکے تھے اور جو لاشیں ملبے کے نیچے سے نکالی جا رہی تھیں ان کے رکھنے کے لیے بھی کوئی مناسب جگہ نہیں تھی۔‘

’سینکڑوں لوگ مدد کے لیے پہنچ گئے تھے اور مغرب تک لوگ قبریں کھودتے رہے اور لاشوں کو تلاش کرتے رہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میرے ایک رشتہ دار کے خاندان میں سے صرف دو لوگ بچے ہیں۔ وہ بھی اس وجہ سے کہ وہ درخت پر چڑھ گئے تھے جبکہ انھوں نے ہمیں بتایا کہ ملبے تلے چھ لاشیں موجود ہیں۔ وہ لاشیں ہم نے تلاش کرنے کی کوشش کی مگر نہیں مل سکیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میرے ایک اور دوست صاحبزادہ اشفاق احمد جو خود اسلام آباد ہوتے ہیں ان کے بھائی محمد زبیر اور اہل خانہ میں 13 لوگ ہیں جن میں سے اب تک چار کی لاشیں ملی ہیں، بچے اور خواتین لاپتا ہیں، ان کا کچھ پتا نہیں چل رہا ہے۔ اس خاندان کو میں نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کفن دفن کا انتظام کرنے میں مدد فراہم کی تھی۔‘

ریسیکو 1122 بونیر کے عبدالرحمن کے مطابق بیشونٹری کے علاوہ کچھ اور گاؤں بھی متاثر ہیں۔

’وہاں پر ہماری ٹیمیں پہنچ چکی ہیں جبکہ صوبے کے دیگر علاقوں سے بھی ٹیمیں پہنچ رہی ہیں۔ مگر صورتحال انتہائی گھمیبر ہے۔‘

عبدالرحمن کا کہنا تھا کہ ’رات کے اندھیرے میں ریسکیو میں مشکلات درپیش ہیں۔ موبائل سگنل کے علاوہ بجلی کا نظام درھم برہم ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہسپتالوں میں متواتر لاشیں اور زخمی پہنچائے جا رہے ہیں اور ہر تھوڑی دیر بعد ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘

بارشوں کی تباہی سے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع

BBC

پی ڈی ایم اے کے مطابق یہ حادثات صوبے کے مختلف اضلاع سوات، بونیر، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام میں پیش آئے۔

ادارے نے تیز بارشوں اور فلیش فلڈ كے باعث سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع باجوڑ اور بٹگرام کو قرار دیا ہے۔

پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ضلع باجوڑ اور بونیر کے امدادی کاموں کے لیے ہیلی کاپٹرز بھی روانہ کر دیے گئے ہیں جہاں ریسکیو آپریشن جاری ہے

املاک کو پہنچنے والا نقصان

پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بارشوں اور فلیش فلڈ کے باعث اب تک کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 45 گھروں کو نقصان پہنچا ہے جس میں 38 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ سات گھر مکمل منہدم ہوئے۔

پی ڈی ایم اے کےمطابق امدادی ٹیمیں اور ضلعی انتظامیہ آپس میں مكمل رابطے میں ہیں اور صورتحال كی نگرانی كی جا رہی ہے جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی خصوصی ہدایت پر تمام متعلقہ اداروں كو امدادی سرگرمیاں تیز كرنے كی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایت پر بارشوں اور فلیش فلڈ كے باعث متاثرہ اضلاع كے لیے مجموعی طور پر 50 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں اور فلیش فلڈ كے باعث متاثرہ ضلع بونیر کو 15 کروڑ، ضلع باجوڑ، بٹگرام اور مانسہرہ کو10، 10 کروڑ اور سوات كو پانچ كروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے اعلامیے کے مطابق تمام متعلقہ اداروں کو سیاحتی مقامات پر بند شاہراوں اور رابطہ سٹرکوں کی بحالی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ محکمہ موسمیات نے شدید بارشوں کا موجودہ سلسلہ 21 اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

پی ڈی ایم اے نے تمام سیاحوں کو موسمی صورتحال سے آگاہ کرنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

Rescue 1122

،تصویر کا ذریعہRescue 1122

کلاٰوڈ برسٹ یا بادل پھٹنا کیا ہے؟

محکمہ موسمیات کے مطابق اگر کسی چھوٹے علاقے (ایک سے دس کلومیٹر کے اندر) میں ایک گھنٹے میں 10 سینٹی میٹر یا اس سے زیادہ شدید بارش ہوتی ہے تو اس واقعے کو ’بادل کا پھٹنا‘ کہا جاتا ہے۔

بعض اوقات ایک جگہ پر ایک سے زیادہ بادل پھٹ سکتے ہیں۔ ایسے میں جان و مال کا بہت نقصان ہوتا ہے جیسا کہ سنہ 2013 میں انڈیا کی ریاست اتراکھنڈ میں ہوا تھا لیکن شدید بارش کے ہر واقعے کو بادل پھٹنا نہیں کہا جا سکتا۔

یہاں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ صرف ایک گھنٹے میں 10 سینٹی میٹر کی تیز بارش سے زیادہ نقصان نہیں ہوتا لیکن اگر قریب ہی کوئی دریا یا جھیل ہو اور وہ اچانک زیادہ پانی سے بھر جائے تو قریبی رہائشی علاقوں میں زیادہ نقصان ہوتا ہے۔