یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
20 اگست کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے نے کراچی سمیت سندھ میں شدید بارش اور ممکنہ سیلاب کی وارننگ جاری کی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی میں آج عام تعطیل کا اعلان کیا ہے اور عوام کو گھروں میں رہنے کا مشورہ دیا ہے۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
20 اگست کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت کراچی کی صورتحال پر ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ کو بریفنگ دی گئی کہ کراچی میں 12 گھنٹے کے دوران سب سے زیادہ 245 ملی میٹر بارش ہوئی،
وزیراعلیٰ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ’بارش کی صورتحال کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوا، تاہم اہم شاہراہیں کسی حد تک کلیئر کردی گئی ہیں۔‘
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کل یعنی بدھ کو کراچی میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے اور عوام کو گھروں میں رہنے کا مشورہ دیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے خبر دار کیا ہے کہ ’مزید بارش کا امکان ہے اس لیے عام تعطیل کی ہے تاکہ عوام کو تکلیف نہ ہو۔‘
اس اجلاس کے بعد وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی شہر کے دورے کیا۔ ان کے ہمراہ صوبائی وزرا ، میئر اور کمشنر کراچی بھی تھے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے تمام بلدیاتی اداروں اور انتظامیہ کو شہر میں بحالی کے کام جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
اس سے پہلے وزیراعلیٰ کو وزیراعظم شہباز شریف نے فون کر کے کراچی اور صوبے کے دیگر شہروں میں بارشوں کے حوالے صورتحال دریافت کی۔
انھوں نے بتایا کہ ’بارش میں کچھ قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جس کا شدید افسوس ہے۔‘
وزیراعظم نے وزیر اعلیٰ سندھ کو ہنگامی صورتحال میں ہرقسم کے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

تین دن بارشوں اور سیلاب کا امکان
یاد رہے کہ کراچی میں مون سون کے طوفانی سپیل کے تحت 100 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی۔ جبکہ این ڈی ایم اے نے سندھ میں شدید بارش اور ممکنہ سیلاب کی وارننگ بھی جاری کی ہے۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کی جانب سے جاری انتباہ میں کہا گیا ہے کہ ’سندھ کے مختلف اضلاع میں آئندہ 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران شدید بارش کا امکان ہے۔ اور کراچی، ٹھٹھہ، سجاول، بدین، تھرپارکر، حیدرآباد، نوابشاہ، دادو، خیرپور، سکھر، گھوٹکی، لاڑکانہ، شکارپور، جیکب آباد اور کشمور متاثر ہو سکتے ہیں۔‘
وارننگ میں کہا گیا ہے کہ ’بارشوں کا یہ سلسلہ اگلے دو سے تین دن تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ اور بارش کا یہ شدید موسم سندھ کے مختلف حصوں میں اچانک سیلاب کا باعث بن سکتا ہے۔ اور خاص طور پر کراچی، حیدرآباد اور دیگر ساحلی علاقوں، بشمول نشیبی اور ناقص نکاسی والے مقامات پر شہری سیلاب کا خطرہ ہو سکتا ہے۔‘
ادارے نے شہریوں کو نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی۔


،تصویر کا ذریعہGetty Images
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کارولن لیویٹ نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو توقع ہے کہ صدر ولادیمیر پوتن اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان دو طرفہ ملاقات ہو گی۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے اس بارے میں کچھ تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ یہ ملاقات کب، کہاں اور کیسے ہو سکتی ہے۔
لیویٹ کا کہنا ہے کہ پوتن اور زیلنسکی نے مذاکرات کے لیے براہ راست بات چیت پر آمادگی کا اظہار کیا ہے اور امریکی حکام اس ملاقات کے انتظام میں مدد کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ پیر کے روز پوتن اور زیلینکسی اور یورپی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کے بعد سامنے آیا ہے۔
’ان سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یہ ایک اچھی بات ہوگی اگر یہ دونوں رہنما ایک ساتھ بیٹھیں اور صدر کو ایسا ہونے کی توقع ہے۔‘
انھوں نے رپورٹر کو یقین دلایا کہ دونوں صدور کی رضامندی کے لیے ٹرمپ انتظامیہ اس ملاقات کو ممکن بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔
زیلنسکی اور پوتن کی ممکنہ ملاقات کے لیے کسی جگہ کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اور لیوٹ نے یہ نہیں بتایا کہ ماسکو اور بوڈاپیسٹ کو ممکنہ مقامات کے طور پر تجویز کیا گیا ہے یا نہیں۔
اگرچہ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ سکیورٹی گارنٹی کے طور پر یوکرین کے سرزمین پر کوئی امریکی فوجی نہیں جائے گا لیکن اس امکان کو مسترد نہیں کیا گیا ہے کہ امریکی پائلٹ یوکرین کی فضائی حدود میں گشت کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری لیویٹ کا کہنا ہے کہ امریکہ کا ماننا ہے کہ تنازعے کے خاتمے کے لیے ’دونوں فریقوں کو تھوڑی ناخوشگواری سہنے پڑے گی‘۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ٹرمپ نے اب سے کچھ دیر قبل امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز سے بات کی ہے۔
ٹرمپ سے جب یوکرین کو دی جانے والی سکیورٹی گارنٹی کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ فرانس، جرمنی اور برطانیہ جیسے ممالک ’فوجی بھیجنے کے خواہش مند ہیں‘، اور مزید کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ یہ کوئی مسئلہ ہوگا۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ یوکرین کے لیے سکیورٹی گارنٹی کے طور پر فوجی بھیجے گا، تو انھوں نے واضح طور پر اس امکان کو مسترد کر دیا۔
انھوں نے کہا: ’آپ کو میری طرف سے یقین دہانی ہے، اور میں صدر ہوں، میری کوشش صرف یہ ہے کہ لوگوں کی جانیں بچائی جائیں۔‘

،تصویر کا ذریعہPA Media
امریکی صدر ٹرمپ نے اب سے کچھ دیر قبل امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز سے بات کی ہے۔
امریکی صدر سے ممکنہ سہ فریقی ملاقات کے بارے میں پوچھا گیا جس میں ولادیمیر پوتن اور وولودیمیر زیلنسکی شامل ہوں گے۔
ٹرمپ نے بتایا کہ انھوں نے کل پوتن کو فون کیا تھا اور اُمید ظاہر کی کہ روسی صدر کا رویہ ’اچھا‘ ہوگا۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا، تو یہ ایک ’مشکل صورتحال‘ ہوگی۔
انھوں نے مزید کہا کہ وہ اُمید کرتے ہیں کہ زیلنسکی ’جو ضروری ہے وہ کریں گے‘ لیکن اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات میں انھیں ’لچک‘ کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہیں گے کہ زیلنسکی اور پوتن کبھی ’قریبی دوست‘ بن جائیں گے، لیکن یہ ضرور کہا کہ ’فیصلے ان ہی دونوں کو کرنے ہیں۔‘

خیبرپختونخوا کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے ) کا کہنا ہے کہ بارشوں اور فلیش فلڈ کے باعث صوبے کے مختلف اضلاع میں اب تک مختلف حادثات میں 365 افراد ہلاک اور 181 افراد زخمی ہوئے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 294 مرد، 41 خواتین اور 30 بچے شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں 144 مرد، 27 خواتین اور 10 بچے شامل ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں اور فلیش فلڈ کے باعث اب تک کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 782 گھر وں کو نقصان پہنچا جس میں 433 گھروں کو جزوی اور 349 گھر مکمل منہدم ہوئے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب سے زیادہ متاثرہ ضلع بونیر میں اب تک مجموعی طور پر 225 افراد ہلاک ہوئے۔
پی ڈی ایم کا کہنا ہے کہ یہ حادثات صوبہ کے مختلف اضلاع سوات، بونیر ، باجوڑ، مانسہرہ، شانگلہ , دیر لویر اور بٹگرام، صوابی میں پیش آئے۔
پی ڈی ایم اے نے 17 سے 19 اگست کے دوران شدید بارشوں کا امکان ظاہر کیا ہے جبکہ بارشوں کا موجودہ سلسلہ 21 اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔

سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات شرجیل انعام میمن نے شدید بارشوں کے پیش نظر شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں۔
ایک بیان میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ کراچی میں بارش کے دوران حکومت سندھ کی تمام مشینری فعال ہے اور نکاسی آب کا عمل جاری ہے۔
انھوں نے کہا کہ مختلف علاقوں میں اب بھی بارش کا سلسلہ جاری ہے اس لیے شہری بارش تھمنے کا انتظار کریں اور احتیاط برتیں۔
مزید یہ کہ کراچی کے تمام تعلیمی ادارے کل بند رہیں گے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ عوام کی جان اور حفاظت سب سے مقدم ہے اسی لیے شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے گھروں میں رہیں۔
انھوں نے کہا کہ برساتی نالوں کی صفائی، رکاوٹوں کے خاتمے، مشینری کے ذریعے پانی نکالنے اور ایمرجنسی راستوں کو کھلا رکھنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے ) نے سندھ میں شدید بارش اور ممکنہ سیلاب کی وارننگ جاری کی ہے۔
این ڈی ایم کے مطابق سندھ کے مختلف اضلاع میں آئندہ 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران شدید بارش کا امکان ہے۔
کراچی، ٹھٹھہ، سجاول، بدین، تھرپارکر، حیدرآباد، نوابشاہ، دادو، خیرپور، سکھر، گھوٹکی، لاڑکانہ، شکارپور، جیکب آباد اور کشمور متاثر ہو سکتے ہیں۔
این ڈی ایم اے کے مطابق بارش کا یہ سپیل اگلے دو سے تین دن تک جاری رہنے کا امکان ہے اور یہ شدید موسم سندھ کے مختلف حصوں میں اچانک سیلاب کا باعث بن سکتا ہے۔کراچی، حیدرآباد اور دیگر ساحلی علاقوں، خاص طور پر نشیبی اور ناقص نکاسی والے مقامات پر شہری سیلاب کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
این ڈی ایم اے نے شہریوں سے گزارش کی ہے کہ وہ نشیبی علاقوں سے دور رہیں۔ نکاسی آب یقینی بنائیں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہیں۔

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا ذریعہbbc

کراچی میں بارش کے بعد معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں اور شہر کی مرکزی شاہراہیں شاہراہ فیصل، ایم اے جناح روڈ اور آئی آئی چندریگر روڈ زیر آب آگئی ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے اور ہزاروں لوگ ٹریفک میں پھنس گئے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر امیر حیدر لغاری نے بی بی سی کو بتایا کہ ایئرپورٹ پر پچاس ملی میٹر اور کیماڑی پر تین بجے تک پچاس ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ وقفے وقفے سے بارشوں کا یہ سلسلہ بائیس اگست تک جاری رہے گا۔
موسلا دھار بارش کی وجہ سے بجلی کا نظام بھی متاثر ہوا ہے۔ کے الیکٹرک کے ترجمان کے مطابق 2100 میں سے 1630 فیڈرز سے بجلی کی فراہمی جاری ہے جبکہ نشیبی تجاوزات والے اور کنڈے والے علاقوں میں حفاظتی اقدام کے تحت فراہمی معطل کردی گئی ہے۔
کلفٹن انڈر پاس، ناظم آباد انڈر پاس، لیاقت آباد انڈر پاس، غریب آباد انڈر پاس بھی زیر آب آگئے ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک کو معطل کردیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا ذریعہgettyimages
عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ ریٹنگز نے پاکستان کے بینکنگ سیکٹر میں بہتر امکانات کی پیش گوئی کی ہے اور اس کی وجہ مستحکم ہوتے ہوئے معاشی اشاریے، گرتی ہوئی مہنگائی اور معاشی بحالی کو قرار دیا ہے۔
عالمی کریڈٹ ایجنسی کو توقع ہے کہ پاکستان کی جی ڈی پی مالی سال 2027 میں 3.5 فیصد بڑھے گی جبکہ مہنگائی اوسطاً پانچ فیصد رہے گی جو گذشتہ برسوں کے بحران اور بلند مہنگائی کے مقابلے میں ایک نمایاں تبدیلی ہے۔
اعلامیے کے مطابق فچ نے کہا ہے کہ بینک بہتر معاشی حالات سے فائدہ اٹھانے کی مضبوط پوزیشن میں ہیں کیونکہ معاشی رکاوٹیں کم ہو رہی ہیں۔ اس کے مطابق کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ شارٹ ٹرم میں بینکاری شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد کرے گا۔
یہ پیش گوئی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل کو اپ گریڈ کیا گیا ہے۔
اپریل 2025 میں فچ نے پاکستان کی لانگ ٹرم جاری کنندہ ڈیفالٹ ریٹنگ (آئی ڈی آر) کو ’CCC+‘ سے بڑھا کر ’B-‘ یا مستحکم کر دیا۔
یہ اپ گریڈ جاری اصلاحات، مالیاتی بہتری اور زیادہ معاشی لچک کی عکاسی کرتا ہے۔
ایجنسی نے نشاندہی کی کہ صارفین کے لیے روزمرہ اشیا کی قیمتوں میں اضافہ، جو مئی 2023 میں 38 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا، جولائی 2025 میں کم ہو کر 4.1 فیصد رہ گیا اور مئی 2024 سے پالیسی ریٹ آدھا ہو کر 11 فیصد ہونے نے بھی اس میں مدد دی۔
اس کے ساتھ ہی زیادہ مستحکم بیرونی پوزیشن نے پائیدار بحالی کی بنیاد رکھ دی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا، کاروبار کے دوران انڈیکس 1600 پوائنٹس اضافے کے بعد 150000 پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا جو ملکی تاریخ میں سٹاک مارکیٹ کی بلند ترین سطح ہے۔
مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر انڈیکس 1500 پوائنٹس اضافے کے بعد 149770 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا جو سٹاک مارکیٹ انڈیکس میں بلند ترین سطح ہے۔
اسٹاک مارکیٹ کے تجزیہ کار وں کے مطابق معاشی میدان میں ہونے والی چند پیشرفتوں کی وجہ سے مارکیٹ میں تیزی آئی ہے۔
تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سی کو بتایا کہ سب سے اہم مالیاتی نتائج کے اعلانات ہیں جو مارکیٹ میں کاروبار میں تیزی کی وجہ بنے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اسی طرح ملک میں شرح سود میں کمی کا امکان بھی تیزی کی وجہ ہے۔
جبران سرفراز نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان پر صرف 19 فیصد ٹیرف لگانے سے کچھ شعبوں میں برآمدات بڑھنے کے امکانات نے بھی مارکیٹ کو سپورٹ کیا ہے۔
جبران نے کہا کہ گذشتہ روز وزیر خزانہ نے کیپٹل مارکیٹ کے پوٹینشل کو استعمال کرنے کے لیے اقدامات کا اعلان کیا تھا جس کا آج کاروبار پر مثبت اثر ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہgettyimages
چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر کا کہنا ہے کہ حالیہ مون سون میں 670 ہلاکتیں اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ زیادہ لاشیں خیبرپختونخوا سے ملی ہیں اور جب تک لاپتہ افراد کے متعلق پتا نہیں چل جاتا یا ان کی لاشیں نہیں مل جاتیں، ہماری کارروائیاں جاری رہیں گی۔
وہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری کے ہمراہ ملک میں سیلاب اور مون سون بارشوں کے حوالے سے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے ٓ) میں میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ریسکیو اور ریلیف کے لیے مربوط حکمتِ عملی اور پلان موجود ہے۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے مزید بتایا کہ پاکستانی فوج، ریسکیو اور مقامی انتظامیہ مل کر ان کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں اور اب تک 25 ہزار افراد کو ریسکیو کیا جا چکا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اس سے قبل گلگت بلتستان اور شمالی علاقوں میں فلیش فلڈ کی وجوہات گلیشیئرز کا پگھلنا تھی۔ تاہم حالیہ تباہی کلاؤڈ برسٹ سے آئی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ بارشوں کا یہ سپیل 23 اگست تک چلے گا اور اس کے بعد اگست کے آخری ہفتے میں ایک اور سپیل متوقع ہے جو شمالی پنجاب، زیریں خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے کچھ علاقوں میں متوقع ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اس کی تفصیلات این ڈی ایم اے کی ایپ پر مسلسل اپ ڈیٹ ہو رہی ہیں۔
چیئرمین این ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ اگلے سپیل کے ختم ہوتے ہیں ان تمام علاقوں تک رسائی کو ممکن بنایا جائے جن سے رابطہ بارشوں اور سیلاب کے باعث کٹ چکا ہے اور اس کے بعد نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے ایک سروے کیا جائے گا۔
ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ شمالی علاقہ جات اور خیبرپختونخوا میں بارشوں کا سلسہ شروع ہوتے ہی فیلڈ مارشل کی ہدایت پر آرمی اور وہاں جو یونٹس موجود تھیں، ان کے علاوہ اضافی یونٹس کو بھی موبلائز کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت خیبرپختونخوا میں انفنٹری اور ایف سی کی آٹھ یونٹس جبکہ گلگت بلتستان میں ایک یونٹ (کل نو) سرچ اور ریسکیو اور فلڈ ریلیف میں حصہ لے رہی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں فوج کی انجینرئنگ بٹالین سڑکوں کو کھولنے کے کام کے لیے تعینات کر دی گئیں ہیں۔ اس کے علاوہ میڈیکل کی یونٹس تعینات کی گئی ہیں اور میڈیکل کیمپ آپریٹ ہو رہے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ آرمی ایویشن بھی تعینات ہے اور موسم کے مطابق ریسیکیو کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ذارئع مواصلات کی بحالی کے لیے اس وقت فوج کی سگنل یونٹس پی ٹی اے کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں اور اب تک 16 بی ٹی ایس ٹاروز کو رپیئر کیا جا چکا ہے۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ چند روز کے دوران ہونے والی بارشوں اور اس کے نتیجے میں آنے والے فلیش فلڈز کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ضلع بونیر میں 225 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور 118 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
بونیر میں سیلاب سے ہونے والی تباہی ان تصاویر میں دیکھی جا سکتی ہے۔







،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں حالیہ بارشوں اور فلیش فلڈ کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد 358 تک جا پہنچی ہے جبکہ سیلاب کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ضلع بونیر میں ہلاکتوں کی تعداد 225 تک جا پہنچی ہے جبکہ 118 افراد تاحال لاپتہ اور 120 افراد زخمی ہیں۔
قدرتی آفات سے نمٹنے والے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کی جانب سے صوبے میں ہونے والی حالیہ بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مختلف اضلاع میں اب تک ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق صوبے میں مختلف حادثات میں اب تک 358 افراد ہلاک اور 181 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث اب تک کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 780 گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔ جن میں 431 گھروں کو جزوی اور 349 گھر مکمل منہدم ہوئے ہیں۔
یہ حادثات صوبہ کے مختلف اضلاع میں پیش آئے ہیں جن میں سوات، بونیر، باجوڑ، مانسہرہ، شانگلہ, دیر لویر اور بٹگرام، صوابی شامل ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی محکمہ خارجہ نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی قانون کی خلاف ورزی اور مقررہ مدت سے زائد قیام کی وجہ سے 6,000 سے زائد بین الاقوامی طلبا کے ویزے محکمے کی جانب سے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ امیگریشن اور بین الاقوامی طالب علموں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھے ہوئے ہے۔
اگرچہ سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے یہ واضح نہیں کیا کہ ’دہشت گردی کی حمایت‘ سے کیا مراد ہے، لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے فلسطین کی حمایت میں احتجاج کرنے والے کچھ طالب علموں کو نشانہ بنایا ہے، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ انھوں نے یہود مخالف رویے کا اظہار کیا تھا۔
اب تک سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق تقریباً 4,000 طالب علموں کے ویزے ان کے غیر قانونی طویل قیام یا قانونی خلاف ورزیوں کی وجہ سے منسوخ کیے گئے، جیسے کہ چوری، نشے کی حالت میں گاڑی چلانا اور قاتلانہ حملے جیسے جرائم شامل ہیں۔ تاہم تقریباً 200 سے 300 ویزے ایسے افراد کے لیے منسوخ کیے گئے جن پر دہشت گرد تنظیموں کی حمایت یا ان سے وابستگی کا شبہ تھا۔
یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن اور قومی سلامتی پالیسیوں کا حصہ ہے، جس میں ویزا درخواست دہندگان کی سوشل میڈیا پر نگرانی اور سخت سکریننگ شامل ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مئی میں کابینہ کو بتایا تھا کہ ان کے اندازے کے مطابق جنوری سے اب تک ’ہزاروں‘ طلبہ کے ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں۔
وزیرِ خارجہ روبیو نے 20 مئی کو بتایا تھا کہ ’مجھے تازہ ترین اعداد و شمار کا علم تو نہیں ہے، لیکن شاید ہمیں مزید کام کرنا پڑے گا۔ ہم ان لوگوں کے ویزے منسوخ کرنا جاری رکھیں گے جو مہمان کے طور پر یہاں موجود تو ہیں مگر یہ تمام لوگ ہماری اعلیٰ تعلیم کی سہولیات میں خلل ڈال رہے ہیں۔‘
غیر ملکی طالب علموں کے اعداد و شمار جمع کرنے والی تنظیم اوپن ڈورز کے مطابق سنہ 2023 سے 2024 کے تعلیمی سال میں 210 سے زائد ممالک سے 11 لاکھ سے زائد بین الاقوامی طلبا نے امریکی تعلیمی اداروں میں داخلہ لیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے مختلف علاقوں میں جاری بارشوں کی وجہ سے مُلک کے مختلف دریاؤں میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے تاہم صوبائی سطح پر قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے پی ڈی ایم اے کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پنجاب کے دریاؤں میں بلخصوص پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 9 ہزار کیوسک ہے۔ کالا باغ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 40 ہزار کیوسک ہے۔ چشمہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 92 ہزار کیوسک اور درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال ہے اور تونسہ کے مقام پر درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال اور پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 89 ہزار کیوسک ہے۔
پی ڈی ایم کے جانب سے جاری بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 53 ہزار کیوسک ہے۔ شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 36 ہزار کیوسک اور بہاؤ نارمل سطح پر ہے۔ دریائے راوی میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران نچلے سے درمیانے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا اور سلیمانکی کے مقام پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاہم ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ گنڈا سنگھ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 64 ہزار کیوسک، سلیمانکی کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 71 ہزار کیوسک ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریاؤں کے اطراف میں موجود شہری فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں اور دریاؤں کے قریب جانے سے اجتناب کریں اسی کے ساتھ ساتھ بچوں کا خاص خیال رکھیں انھیں دریاؤں ندی نالوں میں ہرگز نہ نہانے دیں اور دریاؤں نہروں اور ندی نالوں کے اطراف سیرو تفریح سے گریز کریں۔
حکومت پنجاب کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دئیے گئے ہیں۔ فلڈ ریلیف کیمپس میں تمام تر بنیادی سہولیات اور ادویات فراہم کی جائیں گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی کے مطابق 30 سے 50 شدید بیمار اور زخمی فلسطینی بچوں کے ایک گروپ کو آنے والے ہفتوں میں علاج کے لیے غزہ سے برطانیہ منتقل کیا جائے گا۔
یہ غزہ سے آنے والے بچوں کا پہلا گروپ ہوگا کہ جنھیں دفتر خارجہ، ہوم آفس اور محکمہ صحت کے تعاون سے چلائے جانے والے حکومتی آپریشن کے حصے کے طور پر علاج کے لیے برطانیہ لایا جائے گا۔
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے اس فیصلے کا حق حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے لیے کام کرنے والے ڈاکٹروں کو دیا ہے کہ وہ جن بچوں کو علاج کے لیے برطانیہ بھیجنے کا انتخاب کریں گے ادارہ اُن کے اس فیصلے کی توثیق کرے گا۔
خیال رہے کہ کچھ ارکان پارلیمنٹ نے حکومت کو خط لکھ کر غزہ سے بیمار اور زخمی بچوں کو بغیر کسی تاخیر کے برطانیہ لانے پر زور دیا تھا۔
گزشتہ ہفتے ایک خط میں 96 ارکان پارلیمنٹ کے ایک گروپ نے متنبہ کیا تھا کہ غزہ میں صحت کا نظام تباہی کا شکار ہو چُکا ہے جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں بیمار اور زخمی بچوں کی ہلاکت کا خدشہ ہے اور ایسے میں انخلا میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔
پروجیکٹ پیور ہوپ (پی پی ایچ) نامی تنظیم کے ایک اقدام کے ذریعے غزہ کے کچھ بچوں کو پہلے ہی علاج کے لیے نجی طور پر برطانیہ لایا جا چکا ہے لیکن حکومت نے اب تک تنازع کے دوران اپنی سکیم کے ذریعے کسی کو بھی باہر نہیں نکالا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس سے قبل اگست میں حکومت نے کہا تھا کہ مزید بچوں کو علاج کے لیے برطانیہ لانے کے منصوبے پر تیزی سے کام کیا جا رہا ہے۔
معیاری کلینیکل پروٹوکول کے مطابق مریض کا علاج کرنے والے ڈاکٹر یا طبی ماہر کی جانب سے مریض کی زندگی بچانے، خصوصی توجہ اور دیکھ بھال کی اشد ضرورت والے مریضوں کو ترجیح دی جائے گی۔ اسی کے بعد غزہ میں وزارت صحت کی ریفرل کمیٹی کیس کا جائزہ کے گی اور مریض کے غزہ سے انخلا کا فیصلہ کرے گی اور اُنھیں بھیجنے کی منظوری دے گی۔
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق اکتوبر 2023 میں غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 50 ہزار سے زائد بچے ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔
جنگ کے آغاز سے ہی برطانیہ نے فنڈز فراہم کیے ہیں تاکہ غزہ کے زخمی باشندوں کا علاقے کے ہسپتالوں میں علاج کیا جا سکے اور وہ اردن کے ساتھ مل کر علاقے میں امداد پہنچانے کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہReuters
فلسطینی مسلح گروپ کے ایک ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حماس نے غزہ میں جنگ بندی اور اسرائیل کے ساتھ یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کے لیے علاقائی ثالثوں کی تازہ ترین تجویز سے اتفاق کیا ہے۔
مصر اور قطر کی جانب سے یہ تجویز امریکی سفیر سٹیو وٹکوف کی جانب سے جون میں پیش کیے گئے فریم ورک پر مبنی ہے۔
اس معاہدے کے نتیجے میں حماس 50 اسرائیلی یرغمالیوں میں سے تقریباً نصف کو دو گروہوں میں آزاد کرائے گی جن میں سے 20 کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ مستقل جنگ بندی پر بھی بات چیت ہوگی۔
تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ اسرائیل کا ردعمل کیا ہوگا، جیسا کہ وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے دفتر سے گزشتہ ہفتے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ وہ (اسرائیل) صرف اسی صورت میں معاہدے کو قبول کرے گا جب ’تمام یرغمالیوں کو ایک ساتھ رہا کیا جائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
حماس کی جانب سے ان خبروں کے سامنے آنے کے بعد جاری کی گئی ایک ویڈیو میں نیتن یاہو نے براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن کہا کہ ’ان سے آپ کو ایک تاثر مل سکتا ہے کہ حماس شدید دباؤ میں ہے۔‘
دریں اثنا اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے کہا ہے کہ یہ 22 ماہ سے جاری جنگ میں ایک اہم موڑ ہے اور اس میں غزہ شہر میں حماس کے خلاف حملوں کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
غزہ شہر میں عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی ٹینکوں نے فضائی اور توپ خانے کے حملوں کی مدد سے جنوبی سبرا کے علاقے میں اچانک پیش قدمی کی اور سکولوں اور اقوام متحدہ کے زیر انتظام ایک کلینک کا محاصرہ کر لیا جس میں سینکڑوں بے گھر افراد کو پناہ دی جا رہی ہے۔
توقع ہے کہ رواں ہفتے کے اواخر میں اسرائیلی کابینہ غزہ شہر پر قبضہ کرنے کے فوج کے منصوبے کی منظوری دے گی، جہاں اسرائیلی حملوں میں شدت نے پہلے ہی ہزاروں افراد کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گزشتہ جمعے کو الاسکا میں روسی صدر سے ملاقات کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور یورپی رہنماؤں سے ملاقات کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے الاسکا میں ملاقات میں جنگ بندی سے متعلق تو کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی تھی تاہم امریکی صدر کی جانب سے یہ بیان سامنے ضرور آیا تھا کہ ملاقات مثبت رہی۔
وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان دوستانہ ملاقات ہوئی جو فروری میں دونوں صدور کے درمیان اسی کمرے میں ہونے والی تلخ ملاقات سے قدرے مختلف تھی۔
یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی کوششوں پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے دونوں رہنما ہنستے ہوئے بھی دکھائی دیے۔
ٹرمپ کی جانب سے پرامید الفاظ اور ان کے یورپی شراکت داروں کی جانب سے کچھ خاص مثبت تاثرات کی عدم موجودگی باوجود پیر کی شب یوکرین کی سلامتی کی ضمانت یا امن معاہدے کی جانب اقدامات کے حوالے سے کوئی ٹھوس وعدے نہیں کیے گئے۔
سربراہی اجلاس کے بعد ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر پوسٹ کی جس میں اُن کا کہنا تھا کہ ’زیلنسکی اور پوتن کے درمیان ملاقات کے انتظامات شروع کر دیے گئے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اس کے بعد ایک اور سہ فریقی ملاقات ہوگی، جس میں وہ روسی اور یوکرائنی صدور کے ساتھ ملیں گے۔ٹرمپ نے کہا کہ اس طرح کے دو طرفہ معاہدے کے بعد، ایک ایسے مقام پر، جس کا تعین کیا جائے گا، ایک سہ فریقی اجلاس ہوگا جہاں امریکی صدر ان کے ساتھ شامل ہوں گے۔‘
پوتن کے ایک مشیر نے بعد میں بتایا کہ ٹرمپ اور پوتن نے پیر کو فون پر 40 منٹ تک بات چیت کی۔
یہ دیکھنا باقی ہے کہ فروری سنہ 2022 میں روس کے مکمل حملے کے آغاز کے بعد پہلی بار ایسے دو حریفوں کو مذاکرات کی میز پر آمنے سامنے لانا کتنا آسان ہوگا، کیونکہ ماسکو کی جانب سے بار بار پوتن اور زیلنسکی کے درمیان ملاقات کے خیال کو مسترد کیا گیا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات سے قبل جنگ بندی کی ضرورت کو مسترد کر دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ماضی میں یوکرین کا یہ ایک اہم مطالبہ رہا ہے جس نے واضح کیا ہے کہ وہ روس کے ساتھ مزید بات چیت اور بالآخر، طویل مدتی تصفیے کے لئے لڑائی کے خاتمے کو ایک شرط کے طور پر دیکھا جائے۔
مکمل امن معاہدے کے مقابلے میں جنگ بندی پر اتفاق کرنا بھی قدرے آسان ہوسکتا ہے جس کے لئے مذاکرات میں کئی ماہ لگیں گے ، جس کے دوران یوکرین پر روس کا حملہ جاری رہے گا۔
دونوں مُمالک کے درمیان جنگ بندی کے تناظر میں بات کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’مُجھے نہیں لگتا کہ جنگ بندی ضروری ہے۔‘
جرمن چانسلر فریڈرک میرز کی جانب سے اس کی سخت ترین تردید کی گئی اور کسی حد تک یورپی رہنما پیچھے ہٹتے نظر آئے۔
میرز نے مزید کہا کہ ’میں تصور نہیں کر سکتا کہ اگلی ملاقات جنگ بندی کے بغیر ہوگی۔ لہٰذا آئیے اس پر کام کریں اور روس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کریں۔‘
ٹرمپ نے اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتے ہوئے جنگ بندی کے بجائے براہِ راست امن معاہدے پر زور دیا ہے تاہم ناقدین کے مطابق یہ مؤقف پوتن کے مؤقف سے قریب تر ہے، جس پر یورپی اتحادی کچھ خدشات کا شکار ہیں۔
جب زیلنسکی سے بات کرنے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے جنگ بندی کے اپنے سابقہ مطالبے کا اعادہ نہیں کیا۔
ٹرمپ نے زیلنسکی سے کہا کہ امریکہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی معاہدے میں یوکرین کی سلامتی کی ضمانت دینے میں مدد کرے گا۔
امریکی صدر نے یوکرین میں امریکی فوج کو بھیجنے سے متعلق تو کوئی واضح بیان نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ ’دفاع کی پہلی لائن‘ ہے لیکن ’ہم اپنی کوشش جاری رکھیں گے۔‘
تاہم ایک موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم انھیں اچھا تحفظ فراہم کریں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سلامتی کی ضمانتوں کے معاملے پر ٹرمپ کی جانب سے یہ اب تک کا سب سے فیصلہ ردِعمل سامنے آیا ہے، جسے عام طور پر روس کے ساتھ کسی بھی قسم کے معاہدے کے لیے سب سے اہم سمجھا جاتا ہے۔
زیلینسکی نے اس ملاقات کو ’اہم مذاکرات‘ قرار دے کر شکریہ ادا کیا۔ یورپی رہنماؤں قدرِ احتیاط کے ساتھ اس پیش رفت کو سراہا ہے۔ مگر ناقدین کے مطابق ٹرمپ کا رویہ پوتن کے بیانیے کو تقویت دیتا ہے۔