سکیورٹی اداروں اور سرکاری حکام کو دھمکانے کے مقدمے میں سابق وزیر اعلی گلگت بلتستان کو 34 سال قید

جولائی 2024 میں گلگت میں ایک احتجاج کے دوران سابق وزیر اعلی خالد خورشید خان نے چیف سیکرٹری، پولیس اہلکاروں، انٹیلی جینس اداروں کو دھمکیاں دی تھیں کہ اگر وہ دوبارہ بر سر اقتدار آئے تو کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔

خلاصہ

  • وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی ہمارے ذریعے اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کو تیار ہے لیکن ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
  • پاکستان کی وفاقی حکومت نے 'اڑان پاکستان' کے نام سے ایک قومی اقتصادی ٹرانسفارمیشن پروگرام لانچ کردیا ہے۔
  • عمران خان کا کہنا ہے کہ جب وہ مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں تو انھیں ڈیل کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
  • پاڑہ چنار کی صورتحال کے خلاف کراچی میں 13 مقامات پر دھرنے جاری ہیں۔
  • کیچ میں شہری ظریف عمر کی مبینہ تشدد سے ہلاکت کے خلاف سوموار کے روز تربت میں شٹر ڈائون اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی۔
  • موٹروے ایم 14 پر فتح جنگ کے قریب مسافر بس کو پیش آنے والے حادثے کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک جبکہ 7 زخمی ہوگئے۔
  • شام کے نئے باغی رہنما احمد الشرع نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ شام میں نئے انتخابات کے انعقاد میں چار سال تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    24 دسمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. پاڑہ چنار میں راستوں کی بندش کے خلاف احتجاج: کراچی پولیس نے نمائش چورنگی پر جاری دھرنا ختم کروا دیا, ریاض سہیل, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    نمائش

    کراچی میں پولیس نے نمائش چورنگی پر شیعہ تنظیموں کی جانب سے پاڑہ چنار کے عوام سے یکجہتی اور راستوں کی بندش کے خلاف دیا جانے والا دھرنا ختم کروا دیا ہے۔

    نمائش چورنگی پر جمعرات کے روز سے دھرنا جاری تھا۔

    گذشتہ شب صوبائی وزیر سعید غنی اور معاون خصوصی وقار مہدی نے مظاہرین سے مذاکرات کیے جو کامیاب نہ ہوسکے جس کے بعد منگل کو مغرب کے وقت پولیس کی ایک بڑی تعداد نے نمائش چورنگی پر پہنچ کر دھرنا ختم کروانے کی کوشش کی۔

    اس موقع پر مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔ پولیس کی جانب سے شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا گیا جبکہ مشتعل مظاہرین نے پولیس اہلکاروں کی تین موٹر سائیکلوں کو نذر آتش کردیا۔

    مظاہرین امام بارگاہ شاہ خراساں سے ملحقہ گلیوں سے پولیس پر پتھراؤ کرتے رہے جبکہ پولیس اہلکار ان پر آنسو گیس کے شیل فائر کرتے رہے۔

    یہ صورتحال کئی گھنٹوں تک جاری رہی اور اس دوران پولیس نے متعدد افراد کو حراست میں بھی لیا تاہم اس بارے میں پولیس حکام تفصیلات نہیں بتا رہے۔

    شیلنگ کے باعث دھرنے کی قیادت کرنے والے علامہ حسن ظفر کی طبیعت بگڑ گئی جس کے بعد انھیں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گاڑیوں اور موٹر سائیکل کو نذرِ آتش کرنے کا نوٹس لے لیا ہے۔

    وزیراعلیٰ کے ترجمان کے مطابق مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ شہری و سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ احتجاج کا حق سب کو ہے مگر اس طرح شہری املاک کو نقصان پہنچانا شرانگیزی ہے۔

    وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ انھوں نے مخصوص پلیٹ فارم پر دھرنوں کی اجازت دے رکھی ہے۔

    دوسری جانب مجلس وحدت مسلمین کے ترجمان کے مطابق مسلسل سات روز سے جاری دھرنوں میں کسی عوامی یا سرکاری املاک کو نقصان نہیں ہوا۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ پر امن مظاہرین خواتین اور بچوں کے ساتھ دھرنے میں بیٹھے تھے۔

    ان کے مطابق حکومتی شرپسندی کے باوجود عوام پر امن احتجاج کر رہے ہیں۔

  3. پاڑہ چنار امن معاہدے کے لیے گرینڈ جرگہ کل ہوگا: ’فریقین کا ایک نقطے کو چھوڑ کر تمام شرائط پر اتفاق ہو چکا ہے‘, بلال احمد، بی بی سی اردو پشاور

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کُرم کے صدر مقام پاڑہ چنار جانے والی رابطہ سڑکیں کھلوانے اور دیگر تنازعات کے حل کے لیے ہونے والا گرینڈ جرگہ بدھ کو ہو گا۔

    اس سے قبل سوموار کے روز صوبائی مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا تھا کہ منگل کے روز جرگہ منعقد ہوگا جس میں امن معاہدے پر دستخط کرلیے جائیں گے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے امن جرگے کے رکن ڈاکٹر عبدالقادر نے بتایا کہ صوبائی حکومت سمجھ رہی تھی کہ جرگہ منگل کو ہوگا حالانکہ ہم نے بدھ کا کہا تھا۔

    ان کا کہنا ہے فریقین کا ایک نقطے کو چھوڑ کر معاہدے کی تمام شرائط پر اتفاق ہو چکا ہے۔ ’ایک نقطہ جس پر ہم اب بھی کھڑے ہیں وہ یہ ہے کہ اگر مقررہ وقت تک اسلحہ جمع نہ کروایا گیا تو علاقے میں فوجی آپریشن کیا جائے اور اسی پر ڈیڈ لاک ہے۔‘

    ڈاکٹر عبدالقادر کا کہنا ہے کہ اگر کل بھی یہ مطالبہ معاہدے میں شامل نہیں کیا جاتا تو پھر ڈیڈلاک برقرار رہے گا۔

    ان کا کہنا ہے کہ ایپکس کمیٹی میں فیصلہ ہوا تھا کہ اسلحہ حکومت کے پاس جمع کروایا جائے گا ہم نے بھی ہم اس تجویز کی حمایت کی تھی تاہم دوسرے فریق کا کہنا ہے کہ اسلحہ قومی مشران کے پاس جمع کیا جائے۔

    ڈاکٹر عبدالقادر کا کہنا ہے ہماری جانب سے یہ بھی تجویز رکھی گئی ہے کہ اگر مقررہ وقت تک اسلحہ جمع نہ کروایا گیا تو فوری آپریشن کیا جائے تاکہ گھر گھر تلاشی لے کر اسلحہ جمع کیا جائے۔

  4. پاڑہ چنار کی صورتحال کے خلاف کراچی میں دھرنے: سندھ حکومت کا آٹھ مقامات سے دھرنے ختم کروانے کا دعوی

    مراد
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاڑہ چنار کی صورتحال پر کراچی میں مختلف مقامات پر دیے گئے دھرنوں کے متعلق بات کرتے ہوئے وزیرِ اعلی سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ منگل کے روز حکومت نے کارروائی کرتے ہوئے 12 میں سے آٹھ مقامات سے دھرنے ختم کروا دیے ہیں۔

    مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ آج صبح 8 بجے کے بعد ہم نے انتظامی کارروائی کی اور 12 میں سے آٹھ دھرنے ختم کروا دیے۔

    ’افرا تفری ہوگی لیکن ہمارا کسی کو تکلیف پہنچانے کا ارادہ نہیں ہے۔‘

    وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ دھرنا دینے والے چاہیں تو ہم ان کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں لیکن کسی کو تکلیف نہ پہنچائی جائے۔

    حب میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہمیں کہا گیا کہ نمائش چورنگی پر پرامن دھرنا دیا جائے گا تاہم بعد میں دھرنوں کی تعداد بڑھائی اور ٹریفک کو بھی روکنا شروع کردیا۔

    وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز سعید غنی، مرتضیٰ وہاب اور وقار مہدی نے دھرنے والوں سے ملاقات کی اور احتجاج ختم کرنے کا کہا۔

    ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ خیبر پختونخوا میں ہے اور حل بھی وہیں سے نکلے گا، یہاں لوگوں کو تکلیف پہنچانا ٹھیک نہیں ہے۔

    وزیر اعلی کے مطابق دھرنا دینے والوں نے احتجاج ختم کرنے کے لیے وقت مانگا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ان دھرنوں سے فائدے کے بجائے نقصان ہو رہا ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ کی جانب سے پر امن احتجاج کی ہر وقت اجازت ہے لیکن اگر لوگوں کو تکلیف ہوگی تو ازالہ کرنا حکومت کا کام ہے۔

    نمائش کراچی

    ،تصویر کا ذریعہX/MWM

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    احتجاجی دھرنے جاری رہیں گے: مجلس وحدت المسلمین

    مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کا کہنا ہے کہ پاڑہ چنار کے مرکزی احتجاجی دھرنے سے اظہار یکجہتی کے لیے کراچی میں منعقد پر امن احتجاجی دھرنے جاری رییں گے۔

    ایم ڈبلیو ایم نے شہر کے مختلف مقامات پر دھرنوں پر ’ریاستی جبر‘ کی مذمت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ عباس ٹاون میں پر امن احتجاج کرنے والی خواتین اور بچوں پر شیلنگ کی گئی اور انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا جو کہ نا قابل برداشت عمل ہے۔

    مجلس وحدت المسلمین کے رہنما علامہ حسن ظفر نقوی نے دعوی کیا ہے کہ شہر میں جاری تمام احتجاجی دھرنوں کے باوجود معمولات زندگی پر سکون طور پر جاری ہے۔

    انھوں نے الزام لگایا کہ سندھ حکومت کو شروع دن سے ہی ان کے پر امن احتجاج پر اعتراض ہے۔

    ’گذشتہ رات بھی حکومتی وفد کو واضح کیا کہ ہمارا احتجاج سیاسی نہیں۔‘

    ایم ڈبلیو ایم کا کہنا ہے کہ پولیس کریک ڈاون کے خلاف پورے صوبے بھر میں دھرنے دیے جائیں گے۔

    خیال رہے کہ کئی روز سے کراچی کے مختلف مقامات پر پاڑہ چنار کی صورتحال کی خلاف دھرنے جاری ہیں۔

    دوسری جانب گذشتہ روز اہلسنت والجماعت کی جانب سے بھی کراچی کے مختلف مقامات پر دھرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

    لسبیلہ چوک، شاہراہ فیصل اسٹار گیٹ، قیوم آباد چورنگی، مین ٹاور، کورنگی نمبر 5، اورنگی ٹاون اسلام چوک پر اہلسنت والجماعت کے دھرنے بھی جاری ہیں۔

  5. وفاقی حکومت نے قومی اقتصادی ٹرانسفارمیشن پلان ’اڑان پاکستان‘ لانچ کر دیا

    پاکستان کی وفاقی حکومت نے ’اڑان پاکستان‘ کے نام سے ایک قومی اقتصادی ٹرانسفارمیشن پلان لانچ کردیا ہے۔

    منگل کے روز قومی اقتصادی ٹرانسفرمیشن پلان کے متعلق بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کا مقصد پاکستان کی معیشت میں آنے والے استحکام کو پائیدار ترقی کی طرف لے جانا ہے تاکہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے ساتھ حالیہ پروگرام آخری ثابت ہو۔

    ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی پلان کے اہم ستونوں میں سے ایک ملک کی معاشی ترقی کا دارومدار ایکسپورٹ پر منتقل کرنا ہے تاکہ پاکستان کی معیشت ماضی کی طرح ’بوم اینڈ بسٹ‘ سائیکل میں نہ پھنسے۔

    بعد ازاں اڑان پاکستان کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تین، ساڑھے تین سال پہلے بھی پاکستان کی معیشت مستحکم ہوئی تھی لیکن کیونکہ ہماری معیشت کا انحصار برآمدات پر ہے اس لیے تب بھی ہم بوم اینڈ بسٹ سائیکل میں پھنس گئے اور ہمیں دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔

    ان کا کہنا تھا کہ نئے اقتصادی پروگرام کے تحت نجی شعبے کو قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔

    وزیرِ خزانہ کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے معیشت کے استحکام اور ملک کے معاشی نظام کے ڈھانچے کی اصلاحات کا جو سلسلہ شروع کیا گیا ہے اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

    اس سلسلے میں ٹیکس کے نظام میں بہتری، ایس او ای اصلاحات، توانائی کے شعبہ میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے علاوہ سرکاری اخراجات میں کمی کیلئے کیے جانے والے اقدامات کاسلسلہ جاری رہے گا۔

    وزیرخزانہ نے کہا کہ ’اڑان پاکستان‘ پروگرام آئندہ دوتین برسوں میں ہمیں ایسے مقام پر پہنچا دے گا جس سے موجودہ آئی ایم ایف پروگرام پاکستان کیلئے آخری پروگرام ثابت ہوگا۔

  6. سکیورٹی اداروں اور سرکاری حکام کو دھمکانے کے مقدمے میں سابق وزیر اعلی گلگت بلتستان کو 34 سال قید

    خالد خورشید

    ،تصویر کا ذریعہX/AbdulKhalidPTI

    پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سابق وزیر اعلی خالد خورشید خان کو سکیورٹی اداروں کو دھمکانے پر 34 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔

    خالد خورشید خان کے خلاف جولائی 2024 میں ایک احتجاج کے بعد اشتعال انگیزی اور دھشت گردی کے مقدمات درج کیے گئے تھے۔

    واضح رہے کہ دسمبر 2023 میں جعلی ڈگری کیس میں چیف کورٹ گلگت بلتستان نے وزیر اعلی خالد خورشید کو پانچ سال کے لیے نا اہل قرار دے دیا تھا جس کے بعد ان کی حکومت ختم ہوگئی تھی۔

    خالد خورشید پاکستان تحریک انصاف کے دور میں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان بنے تھے۔

    گلگت بلتستان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر ایک نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ استغاثہ کے مطابق خالد خورشید نے 26 جولائی 2024 کو گلگت میں ایک احتجاج کے دوران چیف سیکرٹری گلگت بلتستان، پولیس اہلکاروں، انٹیلی جینس اداروں کو دھمکیاں دیں کہ اگر وہ دوبارہ بر سر اقتدار آئے تو کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔

    مقدمے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ خالد خورشید نے حساس اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی کی۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد خالد خورشید خان کے خلاف ایک جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ جے آئی ٹی کی تحقیقات میں بھی خالد خورشید خان قصوروار پائے گئے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ خالد خورشید کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے متعدد بار نوٹسز بھجوائے گئے، مختلف ذرائع سے اطلاعات فراہم کی گئیں مگر وہ پیش نہیں ہوئے جس کے بعد انھیں سرکار کی طرف سے وکیل فراہم کیا گیا۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ دوران کاروائی استغاثہ خالد خورشید پر لگے الزامات ثابت کرنے میں کامیاب رہی جس کے بعد ان کو مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر 34سال قید اور جرمانوں کی سزا سنائی جاتی ہے۔

    فیصلے میں پولیس کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ خالد خورشید خان کو گرفتار کر کے ان کی سزا پر عمل در آمد کروائے۔

    عدالت کی جانب سے نادرہ کو حکم دیا گیا ہے کہ خالد خورشید کا شناختی کارڈ بلاک کردیا جائے۔

    واضح رہے کہ سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید اس وقت مفرور ہیں۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان نے عدالت کے اس فیصلے کو قبول کرنے سے انکار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جبر کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی۔

  7. پی ٹی آئی ہمارے ذریعے اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کو تیار ہے، محتاط رہنا چاہیے: خواجہ آصف

    BBC

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ ’ہم مذاکرات کے حق میں ہیں، میں اس کا مخالف نہیں ہوں لیکن اب (پی ٹی آئی کی) بے صبری دیکھیں کہ وہ ہمیں جنھیں وہ کسی بھی خاطر میں نہیں لاتے تھے اب اُن کے توسط سے اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔‘

    وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بانی پی ٹی آئی کا نام لیے بغیر کہا کہ ’میں بار بار پوچھ رہا ہوں کہ جو شخص ہم سے ہاتھ نہیں ملانا چاہتا تھا اس کو اب کیا ہوا ہے؟ اس شخص میں یہ تبدیلی کس طرح آئی ؟ یہ مکمل یوٹرن ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے پی ٹی آئی میں سنجیدگی کی کمی نظر آرہی ہے، میری دعا ہے کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوں، میں 100 فیصد مذاکرات کے حق میں ہوں۔ پی ٹی آئی ہمارے ذریعے اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کو تیار ہے میں نہیں کہہ رہا کہ مذاکرات نہ کریں لیکن محتاط ضرور رہنا چاہیے۔‘

    وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ’بیرون ملک پاکستانی اپنے وطن پیسے بھیجتے ہیں، میرے لیے یا پی ٹی آئی کیلئے نہیں بھیجتے، بانی پی ٹی آئی مینڈیٹ والی بات سے بھی پیچھے ہٹے ہیں، دیکھیں گے کہ پی ٹی آئی کے دو مطالبات پر کیا ہوتا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’بائیڈن انتظامیہ صیہونی ریاست کے زیادہ زیر اثر تھی، ہمیں اپنے دفاع کا مکمل حق ہے، ایٹمی اور میزائل پروگرام پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان اپنے دفاع اور سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتا کرے گا تہ یہ اُن کی خام خیالی ہے ایسا کبھی نہیں ہوگا اور ہم اپنے دفاع اور سلامتی کہ ہر حق کو محفوظ رکھتے ہیں۔‘

  8. دبئی میں 17 سالہ لڑکی کے ساتھ سیکس پر برطانوی لڑکے کو قید کی سزا

    مارکس فاکانا

    ،تصویر کا ذریعہDetained in Dubai

    ،تصویر کا کیپشنمارکس فاکانا

    ایک 18 سالہ برطانوی نوجوان، جسے دبئی میں 17 سالہ لڑکی سے سیکس کا قصوروار ٹھہرایا گیا، نے خود کو دبئی میں حکام کے حوالے کر دیا ہے۔

    ٹوٹنہم کے رہائشی مارکس فاکانا ستمبر میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ دبئی میں چھٹیوں پر تھے جب ان کا لندن کی ایک شہری کے ساتھ خفیہ رومانس شروع ہوا۔ لڑکی بھی اپنے اہل خانہ کے ساتھ دبئی آئی ہوئی تھی۔

    برطانیہ لوٹنے کے بعد جب لڑکی کی ماں نے مارکس اور اپنی بیٹی کی تصاویر اور ان کے درمیان ہونے والی بات چیت دیکھی تو انھوں نے اس بارے میں دبئی پولیس کو اطلاع دے دی۔

    دبئی میں 18 سال سے کم عمر فرد کے ساتھ سیکس قانوناً جرم ہے۔

    برطانیہ کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات میں نوجوان کو سہولت مہیا کر رہی ہے۔

    دبئی میں پھنسے افراد کی مدد کے لیے قائم برطانوی خیراتی ادارے ’ڈیٹینڈ ان دبئی‘ کے مطابق مارکس نے خود کو دبئی کے العویر جیل کے حکام کے حوالے کر دیا ہے جہاں وہ ایک سال قید کی سزا کاٹیں گے۔

    ستمبر میں گرفتاری کے بعد سے مارکس ضمانت پر تھے اور دبئی میں عارضی رہائش گاہ میں مقیم تھے جب کہ ان کے والدین لندن واپس چلے گئے تھے تاکہ دبئی میں اپنے بیٹے کے قیام کے اخراجات اٹھا سکیں۔

  9. روس اور یوکرین کے درمیان 300 جنگی قیدیوں کا تبادلہ

    یوکرین

    ،تصویر کا ذریعہVolodymyr Zelenskiy Official

    روس کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ روس اور یوکرین نے 300 جنگی قیدیوں کا تبادلہ کیا ہے۔

    دونوں ممالک کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے میں متحدہ عرب امارات نے ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔

    روس کا کہنا ہے کہ اپنے 150 فوجیوں کے بدلے انھوں نے یوکرین کے اتنے ہی فوجیوں کو رہا کیا ہے۔

    وزارتِ دفاع کے مطابق یوکرین کی قید سے رہائی پانے والے روسی فوجی اس وقت روس کے اتحادی ملک بیلاروس میں موجود ہیں جہاں انھیں طبی امداد دی جارہی ہے اور فوجیوں کا ان کے گھر والوں سے رابطہ کروایا جا رہا ہے۔

    اس سے پہلے رواں سال روس اور یوکرین کے درمیان محض 10 قیدیوں کا تبادلہ ہوا تھا۔

    بی بی سی روسی کے مطابق یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے سوموار کے روز دونوں ممالک کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کی تصدیق کی ہے۔

    تاہم صدر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین روس سے اپنے 189 قیدی رہا کروانے میں کامیاب رہا ہے۔

    ان کا کہنا ہے، ’روسی قید سے اپنے لوگوں کی واپسی ہمیشہ سے ہم سب کے لیے خوشی کا باعث ہوتی ہے۔ اور آج کا دن بھی ایسے ہی دنوں میں سے ایک ہے۔ ہماری ٹیم 189 یوکرینیوں کو وطن واپس لانے میں کامیاب رہی ہے۔‘

  10. ظریف عمر کی ہلاکت: ’گھر والوں کے سامنے میرے بھائی کو سکیورٹی اہلکار لے گئے، پھر ان کی لاش ملی‘

    تربت

    ،تصویر کا ذریعہAsad Baloch

    پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ضلع کیچ میں شہری ظریف عمر کی مبینہ تشدد سے ہلاکت کے خلاف سوموار کے روز ضلع ہیڈ کوارٹر تربت میں شٹر ڈائون اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی۔

    ہڑتال کی کال ظریف عمر کے رشتہ داروں اور بلوچ یکجہتی کمیٹی نے دی تھی جبکہ تربت شہر میں ظریف عمر کی ہلاکت کے خلاف دھرنا بھی جاری ہے۔

    ہڑتال کے سبب تربت شہر میں کاروباری مراکز بند رہے جبکہ مظاہرین کی جانب سے شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں جس سے شہر میں ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔

    ظریف عمر کے لواحقین اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کا الزام ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے تشدد سے ہلاک ہوئے ہیں۔

    تاہم سرکاری حکام اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔

    اس سے قبل جمعے کے روز ظریف عمر کی ہلاکت کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ڈی بلوچ چوک پر دھرنا دیکر تربت کو دیگر شہر وں سے ملانے والی شاہراہ کو بند کر دیا تھا۔

    تاہم بعد میں دھرنے کو تربت شہر کے اندر شہید فدا حمد چوک پر منتقل کیا گیا جہاں دھرنا اب بھی جاری ہے۔

    تربت

    ،تصویر کا ذریعہAsad Baloch

    ’میرا بھائی بے قصور تھا، اسے تشدد کرکے ہلاک کیا گیا‘

    37 سالہ ظریف عمر ضلع کیچ میں تمپ کے علاقے دازن کے رہائشی تھے۔ ان کے چار بچے ہیں جن میں تین بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔

    تربت میں دھرنے میں شریک ان کی بہن گل شین بلوچ نے الزام لگایا ہے کہ ظریف کو مبینہ ایف سی اہلکار 26 دسمبر کو رات ایک بجے ان کے گھر سے اٹھا کر لے گئے تھے۔

    ’انھیں سارے گھر والوں کے سامنے ایف سی اہلکار اٹھا کر لے گئے اور پھر ان کی لاش دازین میں ایک گھر کے صحن میں پھینک دی گئی۔‘

    ظریف کی لاش جمعرات کے روز ملی تھی۔

    گل شین بلوچ دعویٰ کرتی ہیں کہ جب ظریف کے لواحقین تمپ میں متعلقہ حکام کے پاس ان کے قتل کا مقدمہ درج کروانے گئے تو انھیں بتایا گیا کہ ایف آئی آر ایف سی کے خلاف نہیں بلکہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کی جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’میرا بھائی بے قصور تھا۔ اسے تشدد کرکے ہلاک کیا گیا۔‘

    گل شین بلوچ کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ظریف عمر کے قتل کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرکے ان کے خلاف کاروائی کی جائے۔

    ظریف عمر کی ہلاکت سے متعلق الرامات کے حوالے سے کمشنر مکران ڈویژن سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہوسکا جبکہ ڈپٹی کمشنر کیچ نے نہ کال وصولی اور نہ ہی واٹس ایپ پر بھیجے گئے پیغام کا جواب دیا۔

    تاہم سکیورٹی اداروں سے تعلق رکھنے والے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے ایف سی پر لگائے گَئے الزامات کو غلط اور بے بنیاد قرار دیا۔

    اہلکار نے دعویٰ کیا کہ ظریف کی موت آپسی لڑائی کی وجہ سے ہوئی ہے لیکن الزام ایف سی اور سکیورٹی اداروں پر لگایا جارہا ہے ۔

    ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اداروں میں احتساب کا نظام ہے اور ماضی میں ایسی نظیریں موجود ہیں کہ اگر سیکورٹی کے اداروں کے اہلکاروں پر کوئی الزام ثابت ہوئی ہے تو ان کے خلاف مقدمات بھی درج ہوئے اور کاروائیاں بھی ہوتی رہی ہیں۔

  11. نہ مجھے اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کرنی ہے نہ کوئی غیر ملک مجھے رہا کروا رہا ہے: عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی بہن علیمہ خان کے مطابق سابق وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ نہ انھیں اسٹیبلشمنٹ سے کوئی ڈیل کرنی ہے نہ کوئی غیر ملک انھیں رہا کروا رہا ہے۔

    سوموار کے روز راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت ہوئی۔ اس موقع پر عمران خان کو سپیشل جج سینٹرل شاہ رخ خان ارجمند کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

    مقدمے کی سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان پوچھتے ہیں کہ جب وہ مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں تو انھیں ڈیل کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

    علیمہ خان کے مطابق عمران خان کا کہنا ہے کہ انھوں نے جیل کا سامنا کیا ہے اور جب ان کے کیسز ختم ہو رہے ہیں تو اس نہج پر آکر وہ کوئی ڈیل نہیں کر رہے۔

    خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد مشیر رچرڈ گرینل نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں چاہوں گا کہ عمران حان جیل سے رہا کر دیے جائیں۔ ان پر ویسے ہی الزامات ہیں جیسے ڈونلڈ ٹرمپ پر لگائے گئے۔ پاکستان میں حکومت کرنے والی سیاسی پارٹی نے ان پر کرپشن کے جھوٹے الزامات لگا کر انھیں جیل میں بند کر رکھا ہے۔‘

    رچرڈ گرنیل کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان کے دفترِ خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا تھا کہ ’کسی ایک شخص کے بیانات پر میں کوئی رائے نہیں دے سکتی۔ امریکی حکام کے ساتھ بات چیت جاری رکھیں گے۔‘

    یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے بھی عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ انھیں ’ڈیل‘ کے نتیجے میں اڈیالہ جیل سے بنی گالہ میں واقع ان کے گھر میں نظربند کرنے کی پیشکش کی گئی تھی تاہم انھوں نے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا۔

    جمعرات کے روز عمران خان نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ کیس کی سماعت کے موقع پر عمران خان نے وکیلوں اور صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا تھا کہ ’مجھے پیغام ملا ہے کہ ہم سے ڈیل کریں، ہم آپ کی پارٹی کو سیاسی سپیس دیں گے لیکن آپ کو نظر بند کرکے بنی گالہ منتقل کردیں گے۔‘

    ’میں نے جواب دیا کہ پہلے باقی سیاسی قیدیوں کو رہا کریں۔ میں جیل میں رہ لوں گا لیکن کوِئی ڈیل قبول نہیں کروں گا۔ نظر بندی یا خیبرپختونخوا کے کسی جیل میں نہیں جاؤں گا۔‘

    یہ گفتگو ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی تھی تاہم اس پوسٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ عمران خان کو ’ڈیل‘ کی پیشکش کس نے کی تھی۔

    عمران خان، بشری بی بی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت دو جنوری تک ملتوی

    سوموار کے روز اڈیالہ جیل راولپنڈی میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف دائر توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت کے دوران ایف آئی اے کے گواہ کابینہ ڈویژن کے سیکشن افسر بن یامین نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔

    مقدمے کی سماعت اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ خان ارجمند نے کی۔

    گواہ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے وصول کیے گئے تحائف کی تفصیلات اور توشہ خانہ تحائف کی رجسٹریشن کا رجسٹر عدالت میں پیش کیا۔

    سماعت کے دوران عمران خان کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا جب کہ بشریٰ بی بی بھی سماعت کے لیے اڈیالہ جیل میں موجود تھیں۔

    بشریٰ بی بی کے وکیل ارشد تبریز نے ایف آئی اے کے گواہ پر ابتدائی جرح کی جس کے بعد عدالت نے مقدمے کی سماعت دو جنوری تک ملتوی کر دی۔

  12. پاڑہ چنار کی صورتحال کے خلاف کراچی میں 13 مقامات پر دھرنے: ’پاڑہ چنار کے عوام دھرنے ختم کردے تو ہم بھی کردیں گے‘, ریاض سہیل، کراچی

    کراچی نمائش چورنگی پاڑا چنار دھرنا

    ،تصویر کا ذریعہx.com/mwmpakofficial

    پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور صنعتی و تجارتی مرکز کراچی میں 13 مقامات پر پاڑہ چنار کے شہریوں کے ساتھ اظہارِ یکہجتی کے لیے احتجاجی دھرنے جاری ہیں جس سے شہر میں معمولات زندگی اور کاوباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

    خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں گزشتہ دو ماہ سے زیادہ عرصے سے حالات کشیدہ ہیں جس کی وجہ سے علاقے کا باقی ملک سے زمینی رابطہ منقطع ہے۔

    کرم میں راستوں کی بندش کے خلاف پاڑہ چنار سمیت ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج جاری ہے۔

    کراچی میں ان دھرنوں کا آغاز جمعرات کی شام کو ہوا جس کے بعد سے شہر کی مرکزی شاہراہ ایم اے جناح روڈ نمائش چورنگی کے مقام پر بند ہے۔ دونوں اطراف کی ٹریفک کو متبادل راستوں سے گذارا جارہا ہے۔

    ایم اے جناح روڈ پر کراچی کی ہول سیل مارکیٹس، الیکٹرانک مارکیٹس اور گاڑیوں کی اسپیئر پارٹس مارکٹس واقع ہیں جبکہ نصف درجن نجی اور سرکاری ہسپتال بھی اس سے ملحقہ سڑکوں پر موجود ہیں۔

    جس مقام پر دھرنا دیا گیا ہے اسی مقام پر بی آر ٹی گرین لائن کا آخری اسٹاپ بھی موجود ہے۔

    نمائش چورنگی کے علاوہ کامران چورنگی، جوہر موڑ، گلستان جوہر بلاک 19 اور 20، صفورہ چورنگی، ابو الحسن اصفہانی روڈ، فائیو اسٹار چورنگی، یونیورسٹی روڈ بقام میٹرو شاپنگ سینٹر، شمس الدین عظیمی روڈ ، انچولی شاہراہ پاکستان، نواب صدیق علی خان روڈ چورنگی ناظم آباد نمبر1، پاور ہاؤس چورنگی، عائشہ منزل چورنگی شاہراہ پاکستان پر دھرنے جاری ہیں جبکہ قومی شاہراہ پر ملیر پندہ کے مقام پر ٹرئفک کو کھول دیا گیا ہے۔

    ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور احتجاجی مظاہروں والے علاقوں میں جانے سے گریز کریں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شہری کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچنے کے لیے متبادل راستوں کا انتخاب کریں۔

    اگر پاڑہ چنار کی عوام دھرنے ختم کردے تو ہم بھی کردیں گے‘

    گزشتہ روز مجلس و حدت مسلمین کے رہنما علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا تھا کہ اگر پاڑہ چنار کی عوام دھرنے ختم کردے تو ہم بھی کردیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ کسی پارٹی کا دھرنا نہیں مظلوموں کا دھرنا ہے۔

    علامہ حسن ظفر نقوی نے دعویٰ کیا کہ شہر کے مختلف مقامات پر دیے گئے دھرنوں میں شرکا روڈ کے ایک طرف بیٹھے ہیں اور ایک طرف کا راستہ کھلا ہوا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پارا چنار میں بنیادی صحولیات کا فقدان ہیں۔ انھوں نے سوال کیا کہ کیا پانچ لاکھ کی آبادی کو ایک ہیلی کاپٹر سے غذا فراہم کی جاسکتی ہے؟

    دوسری جانب سندھ حکومت اور صوبے میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے کراچی میں جاری دھرنوں پر تحظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

    گزشتہ روز پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات شازیہ مری نے پاڑہ چنار کی صورتحال پر وفاقی اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وفاق اور خیبر پختونخواہ کی حکومتوں نے پاڑہ چنار کی عوام کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا ہے۔

    شازیہ مری کا کہنا تھا کہ یہ دھرنے کراچی کے بجائے خیبر پختونخواہ میں دینے کی ضرورت ہے۔

    اس سے قبل کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے کہا تھا کہ ان دھرنوں کا مقصد معمولات زندگی کو مفلوج کرنا اور کاروبار کو متاثر کرنا ہے جسے روکنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

    کراچی تاجر اتحاد کے رہنما عتیق میر کا دعویٰ ہے کہ ان دھرنوں کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ دھرنے والوں نے ڈبل روڈ کی ایک سڑک کھولی ہے لیکن دوسری سڑک بند ہے جس سے آمدرفت متاثر ہو رہی ہے۔

    عتیق میر کا کہنا تھا کہ انتظامیہ اس معاملے میں بالکل متحرک نظر نہیں آتی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دھرنے والے لوگ مقامی ہیں کہیں باہر سے نہیں آئے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ان سے مذاکرات کر کے ان مسائل حل کرنے چاہیئیں۔

  13. فتح جنگ کے قریب مسافر بس کے حادثے میں 10 افراد ہلاک

    Rescue 1122

    ،تصویر کا ذریعہRescue1122

    موٹروے ایم 14 پر فتح جنگ کے قریب مسافر بس کو پیش آنے والے حادثے کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک جبکہ 7 زخمی ہوگئے۔

    پیر کے روز ریسکیو 1122 کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی مسافر بس بہاولپور سے اسلام آباد جا رہی تھی۔ ادارے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مُمکنہ طور پر مسافر بس کو یہ حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش آیا ہے۔

    نیشنل موٹروے اینڈ ہائی وے پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مسافر بس کو یہ حادثہ مبینہ طور پر ڈرائیور کی لاپرواہی اور غفلت کی وجہ سے پیش آیا ہے۔

    فتح جنگ کے قریب پیش آنے والے اس حادثے میں مسافر بس کے اُلٹ جانے کی وجہ سے 10 افراد ہلاک جبکہ7 کے زخمی ہوئے ہیں۔

    Rescue1122

    ،تصویر کا ذریعہRescue1122

    ریسکیو 1122 کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں اور زخمیوں ٹی ایچ کیو ہسپتال فتح جنگ منتقل کر دیا گیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے فتح جنگ کے قریب مسافر بس کو پیش آنے والے حادثے پر دکھ کا اظہار کیا گیا ہے۔ اُن کی جانب سے انتظامیہ کو اس حادثے میں زخمی ہونے والے مسافروں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  14. شام میں نئے انتخابات کے انعقاد میں چار سال کا وقت لگ سکتا ہے: شامی باغی رہنما

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    شام کے نئے باغی رہنما احمد الشرع نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ شام میں نئے انتخابات کے انعقاد میں چار سال تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

    یہ پہلا موقع ہے جب انھوں نے شام میں ممکنہ انتخابات کے حوالے سے ٹائم لائن دی ہے کیونکہ ان کے گروپ ہیئت تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) نے سابق صدر بشار الاسد کو اقتدار سے بے دخل کرنے والے باغیوں کے حملے کی قیادت کی تھی۔

    اتوار کو سعودی عرب کے سرکاری نشریاتی ادارے العربیہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ نئے آئین کا مسودہ تیار کرنے میں تین سال لگ سکتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسد حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد شام عوام کو عوامی خدمات میں نمایاں تبدیلی اور بہتری دیکھنے میں ایک سال لگ سکتا ہے۔

    الشرع نے کہا کہ شام کو اپنے قانونی نظام کی تعمیر نو کی ضرورت ہے اور جائز انتخابات کے انعقاد کے لئے ایک جامع مردم شماری کرنا ہوگی۔

    اس ماہ کے اوائل میں بشار الاسد کی صدارت کے خاتمے کے بعد الشرع جو پہلے ابو محمد الجولانی کے نام سے جانے جاتے تھے اب ملک کے نئے حکمران کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    الشرع نے مزید یہ بھی کہا ہے کہ کہا کہ یہ گروپ، جو کبھی دولت اسلامیہ اور القاعدہ کے ساتھ منسلک تھا اور اقوام متحدہ اور بہت سے ممالک نے اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے، کو آئندہ قومی مذاکراتی کانفرنس میں ’تحلیل‘ کر دیا جائے گا، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

    یہ کانفرنس اس بات کا پہلا امتحان ثابت ہو گی کہ آیا شام کی نئی قیادت تیرہ سال کی خانہ جنگی کے بعد ملک کو متحد کرنے کے وعدے کے مطابق اپنے تہہ کردہ اہداف حاصل کر سکے گی یا نہیں۔

    واضح رہے کہ شام میں بہت سے نسلی اور مذہبی گروہ آباد ہیں جن میں کرد، آرمینیائی، مسیحی، شیعہ اور عرب سنی شامل ہیں۔

    تاہم الشرع کی تنظیم ہیئت تحریر الشام نے شامی عوام سے اس بات کا وعدہ کیا ہے کہ وہ یہاں آباد تمام تر گروہوں کے حقوق کا تحفظ کرے گی اور انھیں اُن کے عقائد کے ساتھ مکمل آزادی حاصل ہوگی۔

  15. ’جب میں ہوش میں آیا تو مجھے نکال لیا گیا تھا‘

    Crash

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جنوبی کوریا طیارہ حادثے میں بچ جانے والے جیجو ایئر لائن کے ایک فلائیٹ اٹینڈنٹ نے ڈاکٹروں کو بتایا ہے کہ جب انھیں ہوش آیا تب تک انھیں ملبے سے نکال لیا گیا تھا۔

    اس حادثے میں مسافر اور عملے کے چار ارکان سمیت 179 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اس حادثے کے بعد دو فلائیٹ اٹینڈنٹس کو ملبے سے زندہ نکال لیا گیا تھا۔

    بچ جانے والے 33 سالہ فلائیٹ اٹینڈنٹ کو پہلے ایئر پورٹ سے 25 کلومیٹر دور موکپو شہر میں ایک ہسپتال لے جایا گیا تاہم بعد میں انھیں دارالحکومت سیول کے ایوا ویمن یونیورسٹی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    ہسپتال کے ڈائریکٹر جو وونگ نے جنوبی کوریا کے خبر رساں ادارے یونہاپ کو بتایا فلائیٹ اٹینڈنٹ مکمل طور پر بات چیت کرنے کے قابل ہے۔

    ’فی الحال ایسے کوئی آثار نہیں کہ ان کی یادداشت پر کوئی اثر پڑا ہو۔‘

    خبر رساں ادارے کے مطابق حادثے میں ان کی ہڈیاں ٹوٹی ہیں اور فالج کے خدشے کے باعث ان کی خصوصی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔

  16. گزشتہ روز کی چند اہم خبریں

    گزشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر:

    • جنوبی کوریا کے جیجو ایئر لائن کے طارے کو پیش آنے والے حادثے میں 179 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جس میں 175 مسافروں اور عملے کے چار ارکان شامل ہیں۔ طیارے میں کل 181 افراد سوار تھے۔ ریسکیو آپریشن کے دوران دو فلائیٹ اٹینڈنٹ کو زندہ نکال لیا گیا تھا۔
    • پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اتوار کے روز سوسائیٹیز رجسٹریشن ترمیمی ایکٹ 2024 پر دستخط کر دیئے ہیں جس کے بعد مدارس کی رجسٹریشن کا بل قانون بن گیا ہے۔ قومی اسمبلی سیکریٹیریٹ کی انتظامیہ کی جانب سے اس قانون کا گزیٹ جاری کرنے کے لیے پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان کو خط لکھا جا چکا ہے۔اکتوبر 2024 کے آخری ہفتے میں جب پاکستان کی پارلیمان نے 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری دی تو اُس موقع پر جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو ’دینی حلقوں کے دو اہم مطالبات‘ پارلیمان سے منظور کروانے پر ملک کے متعدد مذہبی حلقوں اور گروہوں کی جانب سے تحسین پیش کی گئی۔
    • پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کُرم میں حالات بدستور کشیدہ۔ کرم کو مُلک کے دیگر حصوں سے ملانے والی اہم ترین شاہراہ تقریباً دو ماہ سے بند ہے جسے تاحال آمدورفت کے لیے نہیں کھولا جا سکا۔ کُرم کے حالات اور اہم شاہراہ کی بندش کے خلاف ایک مذہبی جماعت کی جانب سے ملک کے بڑے شہروں میں دھرے کی کال دی گئی جس کے بعد کراچی، اسلام آباد اور کوئٹہ سمیت ملک کے کئی شہروں میں متعدد مقامات پر دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے۔گذشتہ روز کرم کی صورتحال پر ہونے والا جرگہ بھی بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا۔ کمشنر کوہاٹ کے مطابق ’ایک فریق اہل تشیع کو قومی مشران کے پاس اسلحہ جمع کروانے پر اعتراض ہے جبکہ دوسرے فریق اہلسنت نے دو دن کا وقت مانگا ہے۔‘
  17. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔۔۔

    پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔