نو مئی مقدمات میں ’رحم کی اپیل‘ کرنے والے 67 مجرمان میں سے 19 کی سزائیں معاف: آئی ایس پی آر

پی ٹی آئی کی جانب سے زبانی طور پر عمران خان اور دیگر افراد کی رہائی اور 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن بنانے کے دو مطالبات پیش کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی نے عمران خان سے ملاقات، مشاورت اور رہنمائی کے لیے وقت بھی مانگ لیا ہے۔

خلاصہ

  • پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ نو مئی 2023 کے تحریکِ انصاف کے مظاہروں کے دوران عسکری املاک کو نقصان پہنچانے کے جرم میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزائیں معاف کر دی گئی ہیں۔
  • پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان حکومت نے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کو افغانستان میں کسی مغربی صوبے میں بسانے کے لیے 10 ارب روپے مانگے تھے۔
  • ضلع کرم کی ابتر صورتحال پر فریقین میں معاہدے کے بعد مجلس وحدت مسلمین نے احتجاجی دھرنے ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
  • بیرون ملک غیر قانونی تارکین وطن کی کشتی کے حادثے میں پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے بعد ایف آئی اے کے 35 اہلکاروں کو نوکری سے برطرف کر دیا گیا ہے۔
  • امریکہ کی ریاست لوزیانا کے شہر نیو اورلینز میں نئے سال کے موقع پر ایک گاڑی سے ہجوم پر ہونے والے حملے میں اب تک 15 افراد ہلاک اور کم از کم 35 زخمی ہو چکے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. یہ لائیو پیج اب اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!

    اس کے بعد کی خبروں کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات: عمران خان کی رہائی، 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہNA Secretariat

    حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان دوسرا مذاکراتی دور جمعرات کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس میں پی ٹی آئی کی جانب سے زبانی طور پر عمران خان اور دیگر افراد کی رہائی اور 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن بنانے کے دو مطالبات پیش کیے گئے۔

    اسی کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات میں آگے بڑھنے کے لیے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات، مشاورت اور رہنمائی کے لیے وقت بھی مانگا گیا۔

    پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’پی ٹی آئی کی جانب سے کمیٹی کے سربراہ عُمر ایوب اور دیگر اراکین نے تفصیل سے اپنا نکتہِ نظر پیش کیا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو ضمانتوں کے حصول میں حائل نہیں ہونا چاہیے۔ انھوں نے 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ حقائق پور طرح سامنے آئیں۔‘

    جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’پی ٹی آئی کمیٹی نے آج اگاہ کیا کہ تحریری طور پر چارٹر آف ڈیمانڈز پیش کرنے کے لیے انھیں اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات مشاورت اور رہنمائی حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔‘

    حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سینٹر عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ ’اپوزیشن نے کہا ہے کہ عمران خان نے مذاکراتی عمل شروع کرنے کی اجازت دی ہے، اپوزیشن کے مطابق مذاکرات مثبت طریقے سے جاری رکھنے کے لیے ان کی ہدایات بہت ضروری ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کمیٹی عمران خان سے مشاورت اور رہنمائی کے بعد اگلی میٹنگ میں چارٹر آف ڈیمانڈ باقاعدہ تحریری شکل میں پیش کرے گی۔‘

    عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ ’ہمیں یعنی حکومت کو پی ٹی آئی رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقات اور سہولت لینے پر کوئی اعتراض نہیں، تحریک انصاف نے ایک ہفتے کا مزید وقت مانگا ہے جس کے بعد بات چیت کا تیسرا دور آئندہ ہفتے ہوگا۔ اپوزیشن کے مطالبات اگر تحریری شکل میں آئیں گے تو ہم دیکھیں گے وہ کیا چاہتے ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی رہنماؤں نے ملک میں جمہوری استحکام کی بات کی ہے، اپوزیشن کا لہجہ سخت نہیں اور بہت سی چیزوں کو ان کی جانب سے سراہا گیا ہے، بات چیت کا خوشگوار ماحول میں ہونا بھی ایک مثبت پیش رفت ہے۔‘

    Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہParliament House

    دوسری جانب مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے صوبے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کہ کہنا تھا کہ ’جب مذاکرات کے لیے کمیٹیاں بنی ہیں تو ظاہر ہے کہ رویہ تو ایسا ہے کہ حکومت مسائل کا حل چاہتی ہے۔‘

    ایک سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ بات بھی ظاہر ہے کہ حکومت تمام اداروں کی آمادگی کے ساتھ ہی پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اب وقت آچُکا ہے کہ معاملات اور مسائل کو بات چیت کی مدد سے اور سیاسی اور جمہوری طریقے سے حل کرنا چاہیے۔ سب باتوں پر عمران خان کا ہی اختیار ہے، عمران خان کے ہی حکم پر یہ مذاکرات شروع ہوئے ہیں تو اب آگے بھی عمران خان ہی اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ اب آگے کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے۔‘

    واضح رہے کہ ان مذاکرات میں پی ٹی آئی کی جانب سے عمر ایوب، خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ جبکہ ان کے علاوہ سنی اتحاد کونسل کے حامد رضا اور وحدت المسلمین کے راجہ ناصر عباس شامل تھے۔

    جبکہ دوسری جانب حکومتی وفد میں ن لیگ کی جانب سے سینٹر عرفان صدیقی، اسحاق ڈار اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ، پیپلز پارٹی سے نوید قمر اور راجہ پرویز اشرف، ایم کیو ایم سے فاروق ستار کے علاوہ اعجاز الحق، خالد مگسی اور علیم خان شامل ہوئے۔

  3. سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی سربراہی میں پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جاری

    Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اس وقت پارلیمنٹ ہاؤس میں جاری ہے۔

    ان مذاکرات میں پی ٹی آئی کی جانب سے عمر ایوب، خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ جبکہ ان کے علاوہ سنی اتحاد کونسل کے حامد رضا اور وحدت المسلمین کے راجہ ناصر عباس شامل ہیں۔

    دوسری جانب حکومتی وفد میں ن لیگ کی جانب سے سینٹر عرفان صدیقی، اسحاق ڈار اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ، پیپلز پارٹی سے نوید قمر اور راجہ پرویز اشرف، ایم کیو ایم سے فاروق ستار کے علاوہ اعجاز الحق، خالد مگسی اور علیم خان شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی سربراہی میں ہونے والے یہ مذاکرات آج صبح 11:30 بجے ہونا تھے تاہم گذشتہ روز وقت میں تبدیلی کی گئی تھی۔

    سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت حکومت اور اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹی کے درمیان دوسرا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں جاری ہے۔

    سپیکر قومی اسمبلی نے دوسرے اجلاس کے موقع اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ ’آج ہماری مذاکراتی کمیٹی کا دوسرا اجلاس ہے۔ پہلے اجلاس میں زیرِ بحث آنے والے امور پر عملدرآمد کیا گیا ہے۔ میرا کردار بطور ایک سہولت کار ہے۔ اُمید کرتا ہوں کہ مذاکراتی کمیٹی میں شریک فریقین مذاکرات کو مثبت انداز میں چلائیں گے۔‘

    اُن کا مزید کہا تھا کہ ’میری کوشش ہے کہ ملک کو درپیش دہشتگردی، معیشت سمیت دیگر اہم معاملات کو بھی اسی کمیٹی میں زیر غور لایا جائے۔ ہم سب پاکستانی ہیں، پاکستان کے مسائل کو حل کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ملک کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے ہم سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہو گا۔‘

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 23 دسمبر کو ہوا تھا۔ اجلاس کے اعلامیے کے مطابق دونوں کمیٹیوں نے مذاکرات جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے آئندہ اجلاس دو جنوری کو بلانے پر اتفاق کیا تھا جس میں حزب اختلاف ’اپنے مطالبات تحریری صورت میں حکومت کو دے گی۔‘

    PTI

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریکِ انصاف کے مطالبات کیا ہیں؟

    سابق سپیکر قومی اسمبلی اور پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اسد قیصر کے مطابق پی ٹی آئی کہ دو مطالبات ہیں جن میں سر فہرست بانی پی ٹی آئی عمران خان سمیت تمام رہنماؤں اور کارکنان کی رہائی جبکہ دوسرا مطالبہ نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے سینیئر ججز پر مشتمل جوڈیشل کمیشن کی تشکیل شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل عمران خان کی جماعت کے چار مطالبات تھے جن میں 26 ویں آئینی ترمیم کا خاتمہ، جمہوریت اور آئین کی ’بحالی،‘ ’چوری شدہ مینڈیٹ‘ کی واپسی اور تمام ’بے گناہ‘ سیاسی قیدیوں کی رہائی۔

  4. انڈیا کی جانب سے ’ماورائے علاقہ قتل اور اغوا کا نیٹ ورک‘ عالمی سطح پر پھیل چکا ہے: ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستان نے کہا ہے کہ انڈیا کی جانب سے ’ماورائے علاقہ قتل اور اغوا کا نیٹ ورک‘ اب عالمی سطح پر پھیل چکا ہے۔

    یہ بات پاکستان کے دفترِ خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ پر تبصرے کے دوران کہی۔

    واشنگٹن پوسٹ میں بدھ کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق ’انڈیا کی خفیہ ایجنسی را نے پاکستان میں اجرتی قاتلوں کا استعمال کرتے ہوئے کم از کم چھ افراد کو ہدف بنا کر ہلاک کروایا۔‘

    اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ را نے تین برس قبل پاکستان میں موجود افراد کو نشانہ بنانے کی خفیہ مہم شروع کی جس میں کئی پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔‘

    خیال رہے کہ گذشتہ دو برس کے دوران پاکستان میں ’سابق جہادی کمانڈروں‘ کو پراسرار طور پر ہلاک کیے جانے کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں اور یہ افراد جن مذہبی تنظیموں سے تعلق رکھتے ہیں ان کی جانب سے اس کا الزام انڈیا پر عائد کیا جاتا رہا ہے۔

    ہفتہ وار بریفنگ کے دوران اس بارے میں ایک سوال کے جواب میں ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ ’پاکستان نے بارہا انڈیا کی جانب سے ماورائے علاقہ و ماورائے عدالت قتل عام کی بات کی اور اب یہ معاملہ عالمی سطح پر پھیل چکا ہے‘۔

    ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کئی دیگر ممالک نے اس حوالے سے پاکستان کے موقف کی تائید بھی کی۔

    گذشتہ برس برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ نے بھی ایک رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ انڈیا ’غیر ملکی سرزمین پر رہنے والے ریاست مخالف عناصر‘ کو ختم کرنے کی ایک وسیع حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے اور اس ضمن میں اس نے سنہ 2020 سے اب تک پاکستان میں بھی متعدد کارروائیاں کی ہیں۔

    اسی رپورٹ سے متعلق جب انڈیا کے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ سے مقامی میڈیا میں ایک انٹرویو کے دوران سوال پوچھا گیا تو انھوں نےاس بات کی تصدیق یا تردید تو نہیں کی تھی مگر یہ ضرور کہا تھا کہ ’اگر کسی پڑوسی ملک سے کوئی دہشت گرد انڈیا کو پریشان کرنے یا یہاں دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے مناسب جواب دیا جائے گا۔‘

  5. کرم کی صورتحال پر امن معاہدے پر اتفاق کے باوجود ضلع کے دو الگ الگ مقامات پر دھرنے جاری, بلال احمد، بی بی سی پشاور

    خیبرپختونخوا کے ضلع کرم کی ابتر صورتحال پر گرینڈ جرگے کے بعد فریقین کے درمیان امن معاہدے پر اتفاق تو ہو گیا ہے لیکن اس کے باوجود ضلع کے دو الگ الگ مقامات پر دھرنے جاری ہیں۔

    اس وقت ایک دھرنا کرم کے صدر مقام پاڑا چنار میں جبکہ لوئر کرم کے علاقے بگن کے متاثرین کا دھرنا ٹل پاڑا چنار روڈ پر جاری ہے۔

    تحصیل چیئرمین کرم مزمل آغا کے مطابق امن معاہدہ اور دھرنا دو الگ چیز ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ سڑک کو کھولا جائے۔ انھوں نے کہا کہ ’اس معاہدے سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں جب تک کہ سڑک محفوظ نہ ہو اور اسے کھولا نہیں جائے گا۔‘

    بگن بازار یونین کمیٹی کے ممبر شاہین گل کا کہنا ہے کہ امن معاہدے میں بگن بازار کا ذکر تک نہیں۔ انھوں نے کہا کہ امن معاہدے میں بگن کے متاثرین کے معاوضوں کا اعلان کرنا چاہیے تھا، جن افراد نے بگن بازار میں گھروں اور دکانوں کو جلایا، ان افراد کے خلاف کارروائی کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

    ’ہمارے نمائندے حاجی کریم نے بار بار اصرار کیا کہ بگن بازار کے جانی و مالی نقصانات کا ذکر اور مجرمان کے خلاف کارروائی معاہدے میں شامل کی جائے مگر ایسا نہیں کیا گیا اور اسی وجہ سے حاجی کریم نے معاہدے پر ابھی تک دستخط نہیں کیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ کل قومی سطح پر جمعہ نماز بگن بازار میں ادا کی جائے گی اور مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا، لہذا فی الحال ہمارا دھرنا ابھی جاری ہے۔

    دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مرکزی شاہراہ کو محفوظ بنانے کے لیے 400 پولیس اہلکاروں کو بھرتی کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد دھرنوں کا اب کوئی جواز نہیں رہا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’سڑک کی بندش کے باعث حکومت کو مسائل کا پوری طرح ادراک تھا۔ صوبائی حکومت کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے 700 سے زائد افراد کو ائیر لفٹ کیا گیا اور پندرہ ٹن ادویات پہنچائی گئی ہیں۔‘

    متاثرین کو معاوضے کے حوالے سے بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ محکمہ ریلیف نے متاثرہ گاؤں کا سروے مکمل کیا ہے اور جلد معاوضہ دینے کا عمل شروع کیا جائے گا۔

  6. عام شہریوں کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہونا چاہیے: بیرسٹر گوہر

    نو مئی کے مظاہروں میں عسکری املاک کو نقصان پہنچانے کے جرم میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزائیں معاف ہونے پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’ہمارا موقف یہ ہی ہے کہ عام شہریوں کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہو سکتا۔‘

    دیگر مجرمان کو سزا پر ریلیف کے حوالے سے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آئین کے مطابق سب کو ریلیف ملے گا لیکن ہمارا موقف یہ ہی ہے کہ سویلینز کا ملٹری ٹرائل نہیں ہو سکتا اور اس معاملے پر سپریم کورٹ فیصلہ کرے گی۔

    اس موقع پر بیرسٹر گوہر نے سابق وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید خان کی سزا کی بھی مذمت کی۔

    واضح رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان کی انسداد دہشت گردی عدالت نے کچھ روز پہلے سابق وزیر اعلی خالد خورشید خان کو سکیورٹی اداروں کو دھمکانے پر 34 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

    جولائی 2024 میں گلگت میں ایک احتجاج کے دوران سابق وزیر اعلی خالد خورشید خان نے چیف سیکرٹری، پولیس اہلکاروں، انٹیلیجنس اداروں کو دھمکیاں دی تھیں کہ اگر وہ دوبارہ بر سر اقتدار آئے تو کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔

  7. بریکنگ, نو مئی مقدمات میں ’رحم کی اپیل‘ کرنے والے 67 مجرمان میں سے 19 کی سزائیں معاف: آئی ایس پی آر

    police

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ نو مئی 2023 کے تحریکِ انصاف کے مظاہروں کے دوران عسکری املاک کو نقصان پہنچانے کے جرم میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزائیں معاف کر دی گئی ہیں۔

    ان تمام 19 مجرمان کو دو سال قید کی سزا سنائی گئی تھی اور انھیں مردان، دیر، گوجرانوالہ اور فیصل آباد میں عسکری املاک پر کیے گئے حملوں میں سزائیں دی گئی تھیں۔

    خیال رہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی نو مئی 2023 کو گرفتاری کے بعد ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران عسکری املاک پر حملوں کے الزام میں متعدد گرفتاریاں کی تھیں۔

    گذشتہ برس 21 دسمبر کو پہلے مرحلے میں 25 مجرمان کو مختلف مدت کے لیے قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ مزید 60 کی سزاؤں کا اعلان 26 دسمبر کو کیا گیا۔

    سزاؤں کا اعلان 13 دسمبر کو پاکستان کی عدالت عظمی کی جانب سے فوجی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات میں سے مزید 85 ملزمان کے مقدمات کے فیصلے سنانے کی مشروط اجازت کے بعد کیا گیا تھا۔

    خیال رہے کہ جن 19 افراد کو معافی دی گئی ہے ان میں سے 15 ان 60 افراد میں سے ہیں جنھیں 26 دسمبر کو سزا سنائی گئی تھی جبکہ چار ان 25 افراد میں سے ہیں جنھیں 21 دسمبر کو سزا سنائی گئی تھی۔

    یہ واضح نہیں کہ انھیں کس موقع پر گرفتار کیا گیا تاہم ان میں زیادہ تر افراد اپنی سزا کا بڑا حصہ پہلے ہی کاٹ چکے تھے۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جمعرات کو جاری اعلامیے کے مطابق ’سزاؤں پر عملدرآمد کے دوران مجموعی طور پر 67 مجرمان نے قانونی حق استعمال کرتے ہوئے رحم کی پٹیشنز دائر کیں۔

    ’ان میں سے 48 پٹیشنز کو قانونی کارروائی کے لیے کورٹس آف اپیل میں نظرثانی کے لیے ارسال کیا گیا اور 19 مجرمان کی پٹیشنز کو خالصتاً انسانی بنیادوں پر قانون کے مطابق منظور کیا گیا۔‘

    اعلامیے کے مطابق دائر کی گئی دیگر رحم کی پٹیشنز پر عملدرآمد مقررہ مدت میں قانون کے مطابق کیا جائے گا جبکہ رحم کی اپیل منظور ہونے پر 19 مجرمان کو ضابطے کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد رہا کیا جا رہا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق ’دیگر تمام مجرمان کے پاس بھی اپیل کرنے اور قانون اور آئین کے مطابق دیگر قانونی حقوق برقرار ہیں۔

    ’سزاؤں کی معافی ہمارے منصفافہ قانونی عمل اور انصاف کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔ یہ نظام ہمدردی اور رحم کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انصاف کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔‘

    اعلامیے کے مطابق ’اس سے قبل اپریل 2024 میں قانون کے مطابق انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 20 مجرمان کی رہائی کا حکم صادر کیا گیا تھا۔‘

  8. افغان طالبان نے پاکستان سے 10 ارب روپے مانگے تھے: خواجہ آصف

    taliban

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان حکومت نے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغانستان میں کسی مغربی صوبے میں بسانے کے لیے 10 ارب روپے مانگے تھے

    جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’جب ان سے کہا گیا کہ کیا وہ اس حوالے سے گارنٹی دیں گے کہ ٹی ٹی پی واپس نہیں آئے گی تو اس پر وہ خاموش ہو گئے۔‘

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان کے دفاع کو اندرونی خطرات ہیں، ہم باہر کے خطرات کا مقابلہ کر سکتے ہیں اس کے لیے ہم پوری طرح تیار ہیں۔ دہشت گردی کی بڑی وجہ وہ لوگ ہیں جو لا کر بسائے گئے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں اسمبلی میں تھا جب بریفنگ دی گئی کہ ان کو بسانے کا فیصلہ بہتر ہے۔ عمران خان کا بیان تھا کہ 40 سے 45 ہزار لوگ آئیں گے، اب یہ لوگ خیبرپختونخوا میں بیٹھے ہوئے ہیں اور لوگوں کی جانیں جا رہی ہیں۔‘

    خواجہ آصف نے کہا کہ ’پی ڈی ایم حکومت بننے کے بعد میں افغانستان گیا تھا، افغان طالبان کے وزیردفاع اور دیگر قیادت سے ملاقات ہوئی تھی، میں نے ان کو کہا تھا کہ دہشت گردوں کو نہ روکا گیا تو ہم مجبور ہو جائیں گے پھر گلہ نہ کریں۔‘

  9. کرم معاہدے کے بعد مجلس وحدت مسلمین کا کراچی سمیت مختلف شہروں میں دھرنوں کے خاتمے کا اعلان

    کرم کی صورتحال پر فریقین میں معاہدے کے بعد مجلس وحدت مسلمین نے دھرنے ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایم ڈبلیو ایم نے ان دھرنوں کا اہتمام پاڑا چنار کے عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے ملک کے مختلف شہروں میں کیا تھا۔

    کراچی میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ ایم ڈبلیو ایم علامہ راجا ناصر عباس نے کرم میں فریقین کے درمیان ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد پر زور دیتے ہوئے کراچی، اسلام آباد سمیت ملک بھر میں جاری تمام دھرنے ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    گذشتہ روز کراچی کے علاقے نمائش چورنگی پر دھرنے کے دوران صورتحال پولیس اور مشتعل مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے باعث کشیدہ ہوگئی تھی۔

    خیال رہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم کی ابتر صورتحال پر جاری گرینڈ جرگہ اختتام پذیر ہو گیا ہے جبکہ فریقین نے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔

    بدھ کے روز کوہاٹ کے جی او سی آفس میں فریقین نے معاہدے کے تمام نکات پر رضا مندی ظاہر کی۔

    امن معاہدے کے حوالے سے اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے کہا کہ اس سے کرم میں امن اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہو گا اور معمولات زندگی جلد اور مکمل طور پر بحال ہو جائیں گے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ڈھائی ماہ سے ضلع کرم کا پاکستان کے دیگر علاقوں سے رابطہ منقطع ہے، جس کے خلاف ملک بھر میں دھرنے بھی جاری ہیں۔ کرم کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والی مرکزی شاہراہ بند ہونے کی وجہ سے ضلع میں خوردنی اشیا اور دیگر اجناس کی بھی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے پر دستخط سے کرم کا زمینی راستہ کھلنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے اور کوشش ہے کہ ضلع کے عوام کو درپیش مسائل جلد حل ہوں اور وہاں معمولات زندگی بحال ہوں۔

  10. امریکی شہر نیو اورلینز میں ٹرک ڈرائیور نے 10 افراد کو کچل دیا، کم از کم 35 افراد زخمی

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہAP

    امریکہ کے شہر نیو اورلینز میں نئے سال کی صبح ایک پک اپ ٹرک ڈرائیور نے 10 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

    نیو اورلینز کی مشہور بوربن سٹریٹ پر نئے سال کے لیے گہما گہمی تھی، جب پک اپ ٹرک ڈرائیور نے ہجوم پر گاڑی چڑھا دی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور 35 زخمی ہوئے ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ڈرائیور نے جان بوجھ کر ٹرک کو ہجوم پر چڑھایا اور پھر گاڑی کے اندر سے فائرنگ شروع کر دی۔

    امریکی میڈیا کے مطابق مشتبہ کار ڈرائیور کو بھی پولیس نے گولی مار دی۔

    مقامی پولیس کے سربراہ این کرک پیٹرک نے کہا کہ مشتبہ شخص پک اپ ٹرک کو بہت تیز رفتاری سے چلا رہا تھا اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کچلنے کی کوشش کر رہا تھا۔

    ان کے مطابق ’یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق صبح 3.15 بجے پیش آیا۔ زخمیوں میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔‘

    ایف بی آئی نے اس واقعے کی تحقیقات اپنے ہاتھ میں لے لی ہیں اور پورے معاملے کی جانچ دہشت گردی کے واقعہ کے طور پر کی جا رہی ہے۔

    ایف بی آئی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ٹرک ڈرائیور اب زندہ نہیں اور اس معاملے کی دہشت گردی کے واقعے کے طور پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔‘

    ایف بی آئی کی سپیشل ایجنٹ التھیا ڈنکن اس کیس کی تحقیقات کر رہی ہیں۔ التھیا ڈنکن نے کہا کہ جائے وقوعہ سے دھماکہ خیز مواد ملنے کا امکان ہے اور افسران اس امکان کا تجزیہ کرنے میں مصروف ہیں۔

    نیو اورلینز کے میئر لا ٹویا کینٹریل نے کہا ہے کہ واقعے کے بارے میں درست اور تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ امریکی صدر کے دفتر اور لوزیانا کے گورنر سے رابطے میں ہیں۔

    دریں اثنا امریکی صدر جو بائیڈن کو اس واقعے سے آگاہ کر دیا گیا۔ امریکی صدارتی دفتر وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر مدد فراہم کرنے کے لیے مقامی میئر سے رابطے میں ہیں۔

  11. کُرم کی ابتر صورتحال پر گرینڈ جرگے میں فریقین نے امن معاہدے پر دستخط کر دیے, بلال احمد، بی بی سی پشاور

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم کی ابتر صورتحال پر جاری گرینڈ جرگہ اختتام پذیر ہو گیا ہے جبکہ فریقین نے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔

    بدھ کے روز کوہاٹ کے جی او سی آفس میں فریقین نے معاہدے کے تمام نکات پر رضا مندی ظاہر کی۔

    امن معاہدے کے حوالے سے اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے کہا کہ اس سے کرم میں امن اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہو گا اور معمولات زندگی جلد اور مکمل طور پر بحال ہو جائیں گے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ڈھائی ماہ سے ضلع کرم کا پاکستان کے دیگر علاقوں سے رابطہ منقطع ہے، جس کے خلاف ملک بھر میں دھرنے بھی جاری ہیں۔ کرم کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والی مرکزی شاہراہ بند ہونے کی وجہ سے ضلع میں خوردنی اشیا اور دیگر اجناس کی بھی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے پر دستخط سے کرم کا زمینی راستہ کھلنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے اور کوشش ہے کہ ضلع کے عوام کو درپیش مسائل جلد حل ہوں اور وہاں معمولات زندگی بحال ہوں۔

    جرگہ ممبر حاجی ملک عبدالولی خان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ کہ جن نکات پر ڈیڈلاک تھا اس پر تمام فریقین راضی ہو گئے اور باقاعدہ دستخط ہو گئے ہیں۔

    عبدالولی کے مطابق جن تین نکات پر تحفظات تھے، ان پر آج آمادگی ظاہر کی گئی، جن کے مطابق تمام فریقین اپنا اسلحہ حکومت کے پاس جمع کروائیں گے اور حکومت اس حوالے سے طریقہ کار پندرہ دن میں جاری کرے گی۔

    عبدالولی کے مطابق دوسرا یہ کہ علاقے میں بنکرز کا خاتمہ کیا جائے گا جبکہ تیسرا اہم نکتہ علاقے میں موجود تمام کالعدم تنظیموں کے خاتمے سے متعلق ہے۔

    عبدالولی کے مطابق ان نکات کے بعد کسی فریق کو کوئی اعتراض نہیں تھا اور معاہدے پر اتفاق کر لیا گیا۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ چند ایک ارکان آج جرگہ میں حاضر نہیں ہو سکے جن کے دستخط ایک دو دن میں لے لیے جائیں گے۔

  12. پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور کل ہو گا

    پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور کل 2 جنوری بروز جمعرات کو ہو گا۔

    قومی اسمبلی سیکریٹریٹ سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق یہ مذاکرات کل دن ساڑھے تین بجے پارلیمان ہاؤس میں ہوں گے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے یہ مذاکرات صبح 11:30 بجے ہونا تھے تاہم اب وقت میں ردوبدل کی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 23 دسمبر کو ہوا تھا جس میں حکومت کی طرف سے نامزد کردہ مذاکراتی کمیٹی کے تقریباً تمام اراکین اس اجلاس میں موجود تھے تاہم دوسری جانب پی ٹی آئی کی طرف سے صرف تین اراکین اسد قیصر، صاحبزادہ حامد رضا اور راجہ ناصر عباس شامل تھے جبکہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب، سلمان اکرم راجہ، حامد خان اور صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلٰی علی امین گنڈاپور اجلاس میں شامل نہیں تھے۔

    اجلاس کے اعلامیے کے مطابق دونوں کمیٹیوں نے مذاکرات جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے آئندہ اجلاس دو جنوری کو بلانے پر اتفاق کیا تھا جس میں حزب اختلاف ’اپنے مطالبات تحریری صورت میں حکومت کو دے گی۔‘

    اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ اجلاس 'سازگار ماحول میں ہوا اور دونوں اطراف نے بات چیت کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

  13. کراچی کی سڑکوں کو یرغمال بنانے نہیں دے سکتے: وزیر داخلہ سندھ

    سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے کہا ہے کہ کراچی کی سڑکوں کو یرغمال بنانے نہیں دے سکتے، قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا کام کریں گے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کریں گے۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ پارا چنار کے واقعے پر افسوس ہے اور متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کراچی کی سڑکیں بند کردی جائیں۔

    ’دھرنے والے کہتے ہیں کہ وہ پر امن ہیں لیکن موٹر سائیکل جلا دیے گئے، ہمارے اہلکار شدید زخمی ہوئے، ایسا کرنے والوں کو پر امن نہیں کہا جا سکتا۔‘

    واضح رہے کہ پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع کُرم میں مرکزی شاہراہ کی بندش سے متاثرہ افراد سے اظہار یکجہتی کے لیے ملک کے دیگر شہروں اور کراچی میں مختلف مقامات پر کئی روز سے دھرنے جاری ہیں۔

    وزیر داخلہ سندھ نے کراچی میں ٹریفک جام کی تصاویر دکھاتے ہوئے کہا کہ شہر کے یہ حالات ہیں، ہم نے عوام کو تکلیف سے بچانے کے لیے سڑکیں خالی کروانے کے لیے کارروائی کی۔

    انھوں نے کہا کہ علمائے کرام کی جانب سے احتجاج کی کالز دے دی گئیں، اس کے بعد حکومت کہاں کھڑی ہے؟

    ’پہلے دن ہمیں کہا گیا کہ احتجاج والے سڑکیں بند نہیں کریں گے لیکن تین دن بعد دھرنے کو شہر کے مختلف مقامات تک پھیلا دیا گیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’شہر میں تشدد کی اجازت نہیں دے سکتے اور نہ ہی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ سکتے۔ دھرنے والوں کو ایک دوسرے مقام کی آفر کرتے ہیں لیکن سڑکیں بلاک کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’معلوم نہیں کون سی قوتیں کراچی کا امن خراب کرنا چاہتی ہیں؟ ہم مسئلے کا پر امن حل تلاش کرنا چاہ رہے تھے لیکن ہمیں کارروائی کرنا پڑی۔ جو ہماری رٹ چیلنج کرے گا، اس کے خلاف کارروائی ہو گی۔‘

  14. بیرون ملک کشتی حادثے میں پاکستانی شہریوں کی ہلاکت: ایف آئی اے کے 35 اہلکار نوکری سے برطرف

    بیرون ملک غیر قانونی تارکین وطن کی کشتی کے حادثے میں پاکستانی شہریوں کی اموات کے بعد ایف آئی اے کے 35 اہلکاروں کو نوکری سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ انسانی سمگلنگ میں ملوث 13 اہلکاروں کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔

    جن اہلکاروں کو نوکری سے فارغ کیا گیا، ان میں، چار انسپیکٹرز، 10 سب انسپیکٹرز، دو اے ایس آئی، پانچ ہیڈ کانسٹیبل اور 14 کانسٹیبل شامل ہیں۔

    ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے احمد اسحاق جہانگیر نے کہا ہے کہ کشتی حادثات میں غفلت اور لاپروائی برتنے میں ملوث اہلکاروں کی ادارے میں کوئی جگہ نہیں اور ملوث اہلکاروں کے خلاف انضباطی کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔

    ڈی جی ایف آئی اے نے یہ بھی کہا کہ ’معصوم شہریوں کے استحصال میں ملوث اہلکار کسی رعایت کے مستحق نہیں اور ادارے میں احتسابی عمل سے ہی انسانی سمگلنگ کا خاتمہ ممکن ہو گا۔‘

    واضح رہے کہ 13 دسمبر کو یونان کے قریب ایک کشتی کو پیش آنے والے حادثے کے باعث کئی پاکستانی شہری بحیرۂ روم کے پانیوں کے سپرد ہو گئے جبکہ کچھ کو ریسکیو کر لیا گیا جنھیں اب یونان کے حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ نے غیر قانونی تارکین وطن کے تین کشتیوں پر سوار ہو کر یورپ پہنچنے کی کوشش کے دوران یونان میں پیش آئے حادثے کے نتیجے میں پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی۔

    اس حادثے میں ہلاک اور زندہ بچ جانے والوں کا تعلق صوبہ پنجاب کے وسطی علاقوں سے ہے۔ ان علاقوں میں جو بچے ہلاک ہوئے اُن کی عمریں 12 سے 16 سال کے درمیان تھیں اور اُن میں سے اکثریت کا تعلق متمول گھرانوں سے تھا۔

  15. پاڑہ چنار میں راستوں کی بندش کے خلاف احتجاج: کراچی میں متعدد مقامات پر دھرنے تاحال جاری, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اکثر دھرنے ختم ہو گئے ہیں تاہم نصف درجن کے مقامات پر اس وقت بھی دہرنے جاری ہیں مجلس وحدت المسلمین نے گزشتہ روز پولیس کارروائی کے خلاف بدھ کو یوم سوگ کا اعلان کیا ہے۔

    نمائش چورنگی پر گزشتہ شب پولیس نے دہرنے ختم کرا دیا تھا جس کے دوران پولیس نے شیلنگ اور لاٹھی چارج بھی کیا تاہم یہ دھرنا دوبارہ شروع کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ شیعہ آبادی والے علاقوں ابو الحسن اصفہانی روڈ پر عباس ٹاؤن، کامران چورنگی، انچولی پر بھی احتجاجی دھرنے جاری ہیں۔

    دوسری جانب مجلس وحدت المسلمین نے آج یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے، پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت المسلمین کے رہنما علامہ صادق تقوی دھرنے جاری ہیں اور روڈیں کھولی ہوئی ہیں۔

    علامہ مبشر حسن نے کہا کہ نمائش چورنگی پر پولیس کی جانب سے ظلم کیا گیا ملیر میں آپریشن کیا گیا، پولیس نے پر امن شرکاء پر گولیاں برسائیں مولانا اصغر شہیدی سمیت درجنوں بے گناہ گرفتار ہیں۔

    دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے آئی جی سندھ غلام نبی میمن کے ہمراہ آغا خان ہسپتال کراچی کا دورہ کیا اور احتجاجی دھرنوں کے دوران زخمی ہونیوالے پولیس اہلکاروں کی عیادت کرتے ہوئے انکی خیریت دریافت کی۔

    وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار اور آئی جی سندھ نے زخمی پولیس افسر واہلکاروں کی ہسپتال میں عیادت کی اور خیریت دریافت کی۔

    آئی جی سندھ کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کے مطابق پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم میں 9 پولیس اہلکاروں سمیت 15 اہلکار زخمی ہوئے تھے، ان میں سے ایک پولیس افسر اور 06 اہلکار نمائش چورنگی جبکہ 02 ملیر 15 کے علاقے میں زخمی ہوئے۔

    دوسری جانب کالعدم جماعت اہل سنت وجماعت کی جانب سے جانب پراچا چوک گلبائی، قیوم آباد اور اورنگی ہونے پانچ میں دھرنے جاری ہیں۔

    خیال رہے کہ کئی روز سے کراچی کے مختلف مقامات پر پاڑہ چنار کی صورتحال کی خلاف دھرنے جاری ہیں۔

  16. بلوچستان میں سنہ 2024 کے دوران 19 خواتین کو ’غیرت کے نام‘ پر قتل کیا گیا: عورت فاؤنڈیشن, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سنہ 2024 میں ’غیرت‘ کے نام پر 19 خواتین کو قتل کیا گیا۔

    یہ بات عورت فاؤنڈیشن کی جانب سے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سال 2024 کے دوران خواتین پر ہونے والی تشدد سے متعلق رپورٹ میں شامنے آئی ہے۔

    خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم عورت فاؤنڈیشن کے مطابق بلوچستان میں گزشتہ سال خواتین پرتشدد کے جو واقعات رپورٹ ہوئے ان میں ہلاک ہونے والی خواتین کی مجموعی تعداد 43 تھی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال بلوچستان میں غیرت کے نام پر قتل کے جو واقعات رپورٹ ہوئے ان میں ہلاک ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 34 تھی جن میں 19 خواتین اور 14 مرد شامل تھے۔

    غیرت کے نام پر قتل کے سب سے زیادہ 7 کیسز نصیرآباد، 6 واقعات جھل مگسی اور 5 واقعات کوئٹہ سے رپورٹ ہوئے۔

    رپورٹ کے مطابق سنہ 2024 میں خواتین پر مجموعی طور پر مختلف نوعیت کے تشدد کے 73 واقعات رپورٹ ہوئے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دیگر واقعات میں بلوچستان میں 4 خواتین نے گھریلو حالات سے تنگ آکر خودکشی کی، ایک خاتون کو ہراساں کیا گیا، 2 خواتین پر گھریلو تشدد کیا گیا جبکہ 7 خواتین کے ساتھ زیادتی اور 2 خواتین کے اغوا کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

  17. نادرا کا 10 سال سے زائد عمر کے بچوں کے لیے خصوصی سکیورٹی فیچرز والے ’ب فارم‘ متعارف کرانے کا فیصلہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    پاکستان کے ادارے نیشنل ڈیٹا رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی جانب سے اب پہلی بار 10 سال سے زائد عمر کے بچوں کے لیے خصوصی سکیورٹی فیچرز کے حامل ’ب فارم‘ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    نئے سکیورٹی فیچرز کے تحت 10 سال سے زائد عمر کے بچوں کی انگلیوں کے نشانات اور تصویر کو ’ب فارم‘ کا لازمی حصہ بنا دیا گیا ہے۔

    خصوصی ’ب فارم‘ کا اجرا مرحلہ وار 15 جنوری سے کیا جائے گا پاسپورٹ کے اشتراک سے 10 سال سے زائد عمر کے بچوں کی انگلیوں کے نشانات اور تصویر کو ’ب فارم‘ میں شامل کیا جائے گا۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق ان اقدامات سے بچوں کی شناختی معلومات کی چوری اور غلط استعمال کو روکنے میں مدد ملے گی یہ اقدامات بچوں کے جعلی شناختی کارڈز، غیر قانونی پاسپورٹ کے حصول اور انسانی سمگلنگ جیسے جرائم کی روک تھام میں معاون ثابت ہونگے۔

    ترجمان وزارت داخلہ کہنا ہے کہ ’پہلے مرحلے میں 10 سال سے زائد اور 18 سال سے کم بچوں کے 15 جنوری سے نادرا سینٹر میں انگلیوں کے نشانات اور تصویریں لی جائیں گی۔ ان بچوں کے ساتھ والدین میں سے کسی ایک یا قانونی سرپرست کا آنا لازم ہے انھیں اپنے ہمراہ اپنا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ لانا ہو گا بچے کا یونین کونسل یا ٹاؤن کمیٹی سے جاری شدہ کمپیوٹرائزڈ پیدائش سرٹیفکیٹ بھی لانا ہوگا۔‘

    ترجمان وزارت داخلہ کے مطابق نادرا میں ضروری کارروائی کے بعد بچے کی تصویر والا ’ب فارم‘ جاری کیا جائے گا۔ 10 سال سے زائد اور 18سال سے کم عمر کے بچوں کو نئے پاسپورٹ کے لیے یہی ’ب فارم‘ استعمال کریں گے پرانا ’ب فارم‘ جس میں تصویر اور انگلیوں کے نشانات شامل نہیں مذکورہ بالا عمر کے بچوں کے لیے قابل قبول نہیں ہوگا۔‘

    ترجمان وزارت داخلہ کے مطابق ’والدین نادرا سے دس سال سے زائد العمر بچے کی تصویر اور انگلیوں کے نشانات والا نیا ’ب فارم‘ بنوائیں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس پاسپورٹ کی درخواست پر کارروائی کے دوران نادرا کے ڈیٹا بیس سے بچے کی تصویر اور انگلیوں کے نشانات کی تصدیق کرے گا۔ اگلے مراحل میں مزید اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی۔یونین کونسل میں آنکھوں کے نشانات یعنی آئرس سکین، تصویریں اور انگلیوں کے نشانات حاصل کرنے کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔‘

    ترجمان وزارت داخلہ کے مطابق ’نادرا کے شناختی نظام کو صوبوں کے سول رجسٹریشن مینجمنٹ سسٹم کے ساتھ ضم کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے نادرا کی پاک آئی ڈی موبائل ایپ پر پہلے سے بہتر خدمات کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گےتمام پاکستانی شہریوں کو ڈیجیٹل ائی ڈی کا اجراء کیا جائے گا۔‘

  18. زمبابوے میں ’سزائے موت‘ کے خاتمے کا اعلان

    Death Penalty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    زمبابوے کے صدر ایمرسن منانگاگوا نے جنوبی افریقی ریاست میں سزائے موت کو فوری طور پر ختم کرنے والے قانون کی منظوری دے دی ہے۔

    انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس فیصلے کو ’خطے میں امید کی کرن قرار دیا ہے تاہم تنظیم کی جانب سے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ جس میں زمبابوے کی حکومت کا کہنا ہے کہ ’ہنگامی حالات کے دوران سزائے موت کو بحال کیا جا سکتا ہے۔‘

    نانگاگوا کا یہ اقدام دسمبر کے اوائل میں زمبابوے کی پارلیمنٹ کی جانب سے سزائے موت کو ختم کرنے کے حق میں ووٹنگ کے بعد سامنے آیا ہے۔

    زمبابوے میں آخری بار 2005 میں پھانسی دی گئی تھی لیکن اس کی عدالتیں قتل جیسے سنگین جرائم میں سزائے موت سناتی رہیں۔

    زمبابوے کے وزیر انصاف و قانون زیامبی زیامبی نے کہا کہ ’سزائے موت کا خاتمہ قانونی اصلاحات سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ انصاف اور انسانیت کی خدمت کی جانب حکومت کی کوششوں اور اُس کی سنجیدگی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ اقدام نہ صرف زمبابوے کے لیے ’بڑی اور اہم پیش رفت‘ ہے بلکہ ’اس انتہائی ظالمانہ، غیر انسانی اور ذلت آمیز سزا‘ کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی کوششوں میں بھی ایک ’اہم سنگ میل‘ ہے۔‘

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق دنیا کے 113 ممالک جن میں افریقہ کے 24 ممالک بھی شامل ہیں نے سزائے موت کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔

    انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ سنہ 2023 میں سب سے زیادہ سزائے موت دینے والے پانچ ممالک چین، ایران، سعودی عرب، صومالیہ اور امریکہ تھے۔

  19. حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری

    Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزارتِ خزانہ کی جانب سے یکم جنوری 2025 سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔

    وزارت کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول 56 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا گیا ہے جس کے بعد اب اس کی نئی قیمت 252 روپے 66 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

    تاہم نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 2 روپے 96 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اب اس کی نئی قیمت 258 روپے 34 پیسے مقرر کر دی گئی ہے۔

    petrol

    ،تصویر کا ذریعہ@Financegovpk

    وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے اثرات کے پیش نظر سال 2025 کے ابتدائی 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔

  20. اسرائیلی حملوں نے غزہ میں صحت عامہ کے نظام کو ’تباہی کے دہانے‘ پر پہنچا دیا ہے: اقوام متحدہ

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں اور اس کے ارد گرد اسرائیلی حملوں نے غزہ کے صحت عامہ کے نظام کو ’مکمل تباہی کے دہانے‘ پر پہنچا دیا ہے۔ اسی کے ساتھ ادارے کی جانب سے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے بارے میں سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے۔

    ادارے کی جانب سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ میں ہسپتالوں کو نشانہ بنائے جانے سے متعلق کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ہسپتالوں کا محاصرہ کیا، اُن پر حملے کیے بلکہ انھیں زبردستی خالی کرایا، جس کے نتیجے میں مریضوں کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہوئی۔

    ادارے کی اس رپورٹ میں اُن اسرائیلی الزامات کا بھی ذکر موجود ہے کہ ان ہسپتالوں کو فلسطینی مسلح گروہوں نے استعمال کیا تاہم ادارے کا کہنا ہے کہ اس بارے میں شواہد ’غیر واضح یا مبہم‘ ہیں۔

    جنیوا میں اسرائیلی مشن کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے اسرائیل کے بارے میں سیاسی جنون کا اظہار ہے اور اس میں حماس کے صحت کے حکام کی معلومات پر انحصار کیا گیا ہے۔ بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ اسرائیلی افواج بین الاقوامی قوانین کے مطابق کام کرتی ہیں اور ’کبھی بھی بے گناہ شہریوں کو نشانہ نہیں بنائیں گی۔‘