یہ لائیو پیج اب اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
اس کے بعد کی خبروں کے لیے یہاں کلک کریں۔
چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کا کہنا ہے مسنگ پرسنز کے ایشو نے مجھے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ادھر ضلع کرم میں سکیورٹی فورسز نے مخالف گروہوں کے بنکرز مسمار کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔
اس کے بعد کی خبروں کے لیے یہاں کلک کریں۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے برطانیہ میں پاکستانی برادری کے بارے میں حالیہ نفرت آمیز بیانات پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ چند افراد کے افعال کی بنیاد پر ایسی بڑی اور متنوع کمیونٹی کو بدنام کرنا قابلِ مذمت ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ کی دوستی گرمجوشی، مستحکم تعاون اور اعتماد پر مبنی ہے اور کئی دہائیوں سے پروان چڑھتا یہ رشتہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک اہم ترجیح ہے۔
’باہمی گہرے و کثیر جہتی تعلقات تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، سلامتی، انسداد دہشت گردی، پارلیمانی تعاون اور عوام سطح کے روابط سمیت اہم شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں اور 1.7 ملین پاکستانی نژاد برطانوی شہری دونوں دوست ممالک کے درمیان مضبوط ترین ربط فراہم کرتے ہیں۔‘
شفقت علی خان کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں بڑھتی ہوئی نسل پرستانہ اور اسلامو فوبک تبصروں پر گہری تشویش ہوئی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں نے برطانیہ کی ترقی اور جمہوری آزادی میں کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے مسلمان فوجیوں کی ایک غیر معمولی بڑی تعداد نے برطانوی ہندوستان کی فوج میں خدمات انجام دیں اور دونوں عالمی جنگوں میں جمہوریت کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی نژاد برطانوی شہری آج برطانیہ کے صحت اور خدمات کے شعبوں میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور بہت سے اعلیٰ عوامی عہدوں پر بھی فائز ہیں۔
شفقت علی خان کا کہنا ہے کہ پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں میں سے سینکڑوں پارلیمنٹ کے ممبران، میئرز، کونسلرز، اور مقامی پولیس و میونسپل سروسز کے ممبران کے طور پر اپنی برادریوں کی خدمت کر رہے ہیں۔
ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں نے کھیلوں اور فنون لطیفہ میں مہارت حاصل کی ہے اور ان کے کھانوں اور موسیقی نے برطانوی ثقافت میں اہم حصہ ڈالا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چند افراد کے افعال کی بنیاد پر ایسی بڑی اور متنوع کمیونٹی کو بدنام کرنا قابلِ مذمت ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں حالات مسلسل کشیدہ ہیں اور آج مقامی انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز نے مخالف گروہوں کے دو بنکرز مسمار کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔
مقامی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے ایک ایک بنکر دونوں جانب سے مسمار کیے گئے ہیں ان میں ایک بنکر بالیش خیل اور دوسرا بنکر خار کلی میں مسمار کیا گیا ہے۔
لوئر کرم کے پولیس افسر نے بتایا کہ ایک ایک مورچہ مسمار کر دیا ہے اور باقی مورچے پھر کل مسمار کیے جائیں گے کیونکہ اب کافی اندھیرا ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ لوگ بنکرز گرانے کے حق میں نہیں تھے لیکن کوئی بڑی مخالفت سامنے نہیں آئی۔
ضلع کرم سے منتخب رکن قومی اسمبلی حمید حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک ایک بنکر دونوں جانب سے تباہ کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ علاقے لوئر کرم میں تحصیل صدہ کے قریب واقع ہیں۔ بالیش خیل اہل تشیع اور خار کلی اہل سنت کے علاقے ہیں۔
مقامی صحافی علی افضل نے بتایا کہ آج صبح سے ہی سیکیورٹی فورسز اور انتظامیہ کے اہلکار بھاری مشینری اور ایکسویٹرز کے ساتھ علاقے میں پہنچ گئے تھے۔ علاقے میں ہیلی کاپٹر بھی فضائی نگرانی کے لیے موجود تھے۔
اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر کے ساتھ دوپہر کے وقت رابطہ ہوا تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ جرگے میں مصروف ہیں ابھی بات نہیں کر سکتے۔
رکن قومی اسمبلی حمید حسین نے کہا کہ اگرچہ بنکرز مسمار کر دیے گئے ہیں لیکن علاقے میں حالات تاحال کشیدہ ہیں اور اب ایسا لگتا ہے کہ لوگ بھوک سے مرنا شروع ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ راستہ مسلسل بند ہے اور کھانے پینے کی اشیا کے علاوہ ادویات ، پیٹرول اور دیگر ضروری اشیا کی شدید قلت پائی جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ حکام کی جانب سے تسلیاں دی جا رہی ہیں اور ذرائع ابلاغ سے پیغام دیا جا رہا ہے کہ حالات ٹھیک ہیں، لیکن زمینی حقائق مختلف ہیں۔ یہاں لوگوں کے پاس کھانے پینے کی اشیا کی سخت قلت ہے۔
ضلع کرم میں بنکرز مسمار کرنے کے لیے ڈپٹی کمشنر کرم کی جانب سے ایک خط سنیچر کے روز جاری کیا گیا تھا جس میں لوئر اور لوئر سنٹرل کرم کے سی اینڈ ڈبلیو کے حکام سے کہا گیا تھا کہ 12 جنوری کو بلیش خیل اور خار کلی میں بنکرز مسمار کرنے کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں۔
اس خط میں کہا گیا تھا کہ تمام ضروری مشینری کا انتطام کریں اوروہ خود اور ان کے ساتھ عملے کے دس افراد بھی موقع پر موجود ہوں۔
گذشتہ روز اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا لیکن آج پیر کو شام سے تھوڑی دیر پہلے بنکرز مسمار کرنے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
ضدہ سے ایک مقامی ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایک یہ ایک مثبت کام شروع ہوا ہے لیکن اس علاقے میں صرف یہ ایک یا دو بنکرز نہیں ہیں بلکہ بے شمار بنکرز ہیں اور مقامی قبائل بنکرز مسمار کرنے کی مخالفت کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ بنکرز ان کی حفاظت کے لیے ضروری ہیں۔ دوسری جانب قبائلی کے درمیان حالات کشیدہ ہونے پر پھر انھی بنکرز سے مخالف دھڑوں پر ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی جاتی ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کا کہنا ہے مسنگ پرسنز کے ایشو نے مجھے ہلا کر رکھ دیا ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے سپریم کورٹ پریس ایسوسی ایشن کے ممبران نے ملاقات کی جس میں صحافیوں کو عدالتی کارروائی کے دوران پیش آنے والی مشکلات سمیت مختلف معاملات پر گفتگو کی۔
اس موقع پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا سپریم کورٹ کا ہر جج آزاد ہے، ججز کو بریکٹ نہیں کیا جانا چاہیے، ججز پر تنقید ہونی چاہیے لیکن یہ تعمیری تنقید ہو۔
چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں ریفارمز کے حوالے سے بہت سے اقدامات کیے جا چکے ہیں، ہائیکورٹ کی اتھارٹی کا بہت احترام ہے، ڈسٹرکٹ جوڈیشری ہائیکورٹ کے ماتحت ہے، براہ راست ہائیکورٹ کی اتھارٹی یا ماتحت عدلیہ میں مداخلت نہیں ہو گی،۔
ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی سمت کو تبدیل کر کے انصاف کی فراہمی بہتر کی جا سکتی ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میں کوئٹہ گیا تو پانچ بار ایسوسی ایشنز نے مسنگ پرسنزکے بارے میں شکایات کیں، مسنگ پرسنز کے ایشو نے مجھے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کے کیسز کو ٹیک اپ کیا جائے گا، بلوچ اور سندھی شہریوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے، سندھی اور بلوچ ججز کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔
چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا میرا وژن یہ ہے سپریم کورٹ میں کیس فائل ہو تو سائل کا ای میل ایڈریس اور واٹس ایپ نمبر لیا جائے، سائل کا واٹس ایپ اور ای میل ایڈریس لینے سے کیس کی فائلنگ سے فیصلے تک تمام آرڈرز ملتے رہیں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ارجنٹ درخواستوں کی سماعت کا مکینزم بھی بنا رہے ہیں، ہمارے ججز نے آٹھ ہزار کیسز مختصر وقت میں نمٹائے ہیں، کیس مینجمنٹ بہتر کرنے سے انضاف کی فراہمی میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا پاکستان کا کہنا تھا انتخابی عذر داریوں کو سننے کے لیے سپیشل بینچز بنائے جا چکے ہیں، فوجداری اور ٹیکس کے مقدمات کے لیے بھی سپیشل بینچز کام کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ مستحق سائلین کو ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں مفت وکیل کی سہولت دیں گے، جیلوں کے دوروں میں قیدیوں نے سالہہ سال کیسز کے فیصلے نہ ہونے کی شکایت کی، قیدیوں کی اس شکایت پر میں بہت شرمندہ ہوا۔
ان کا کہنا تھا سپریم کورٹ میں روزانہ پرانے دو تین کیسز کو سپیشل بینچز میں سنا جائے گا، سپریم جوڈیشل کونسل کو متحرک کردیا گیا ہے، سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف شکایات پر کارروائی چل رہی ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ اے ڈی آر پر جسٹس منصور علی شاہ نے بہت کام کیا ہے، جسٹس منصور علی شاہ کو اے ڈی آر پر کام پر سلام پیش کرتا ہوں، اے ڈی آر کا نظام کا آغاز اسلام آباد سے کیا جائے گا، اے ڈی آر کے نظام کو اسلام آباد کے بعد باقی اضلاع تک لے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا ہم سب ججز آپس میں بھائی ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ چیزیں ٹھیک ہوں گی، اپنی رائے کسی ساتھی دوست پر مسلط نہیں کرتا، میری رائے ہے مشترکہ دانش کے ساتھ آگے چلنا چاہیے، عدلیہ کے لیے گذشتہ تین چار سال مقدمات کی وجہ سے بڑے سخت تھے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا وہ وقت گزر گیا جب ججز نے ایک دوسرے کے خلاف پوزیشن لی ہوئی تھی اور ججز کسی الزام پر جواب نہیں دے سکتے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
لاس اینجلس میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کے لیے کئی طیارے لگاتار آگ پر گلابی رنگ کا مائع گراتے نظر آ رہے ہیں۔
یہ گلابی مادہ پانی، نمکیات، کیمیکلز اور کھادوں کا مرکب ہے۔ اس میں بنیادی طور پر امونیم فاسفیٹ کے ساتھ ملا ہوا محلول ہوتا ہے۔ دراصل یہ فائر ریٹارڈنٹ یعنی ایسا مادہ ہے جو آگ یا جلنے کے عمل کو سست کر دیتا ہے۔
آگ بجھانے کے لیے استعمال ہونے والے اس کیمیکل کو گلابی رنگ دیا جاتا ہے تاکہ فائر فائٹرز کو معلوم ہو کہ یہ کہاں استعمال ہوا ہے۔
اس کے علاوہ یہ رنگ آگ سے متاثرہ علاقے کو بھی واضح طور پر دکھاتا ہے جس سے لوگوں کو معلوم ہوتا ہے کہ کون سے علاقے آگ سے متاثر ہیں۔
امریکی ریاست کیلیفورنیا میں لاس اینجلس اور اس کے مضافاتی علاقوں کے جنگل میں لگنے والی آگ سے ہلاکتوں کی تعداد 24 تک پہنچ گئی ہے اور فائر ڈپارٹمنٹ نے خدشہ ظاہر کیا ہے اس پر قابو پانے کی کوششیں منگل اور بدھ کو تیز ہواؤں کی وجہ سے شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس وجہ سے آگ کے پھیلاؤ سے متعلق 'ریڈ فلیگ وارننگ' بدھ تک نافذ رہے گی۔
اس وقت لاس اینجلس میں تین مقامات پر آگ لگی ہوئی ہے جن میں سب سے بڑی پیلیسیڈز فائر پر 13 فیصد تک ہی قابو پایا جا سکا ہے۔
لاس اینجلس کاؤنٹی کے ڈپٹی شیرف نے کہا ہے کہ جنوبی کیلیفورنیا میں جنگل کی آگ نے شہر کے کچھ محلوں کو ایسا کر دیا ہے جیسے وہاں کوئی بڑی جنگ ہوئی ہو۔
این بی سی نیوز کے مطابق رابرٹ لونا نے تباہ شدہ محلوں میں واپس جانے کے منتظر لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایسا کرنے سے گریز کریں، خاص طور پر جب زمین پر اب بھی بجلی کے کھمبے اور تار گرے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ محفوظ نہیں ہے‘۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے اعلان کیا ہے کہ وہ لاس اینجلس میں مدد کے لیے کیلیفورنیا نیشنل گارڈ کے مزید ایک ہزار اہلکاروں کو تعینات کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اب تقریبا 2500 فوجی متحرک ہیں، جو 'آگ سے تباہ ہونے والے علاقوں کے لوگوں کو محفوظ رکھنے میں مدد جاری رکھیں گے۔'
اس آگ کے باعث اب تک اربوں ڈالر کی املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ اتوار کو موسم کی نگرانی کرنے والی ایک نجی کمپنی نے آگ لگنے سے ہونے والے معاشی نقصان کا تخمینہ تقریباً 250 ارب امریکی ڈالر لگایا ہے۔
مقامی حکام نے لاس اینجلس میں آگ لگنے کی وجہ تیز ہواؤں اور خشک موسم کو قرار دیا ہے۔ جس کی وجہ سے درخت اور پودے سوکھ گئے اور ان میں آگ پھیلنا آسان ہو گیا تاہم اب تیز ہوائیں اور بارش کی کمی موجودہ آگ کی وجہ بن رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نہ تو فیصلہ سنایا گیا اور نہ ہی عمران خان کمرہ عدالت پہنچے جس کے بعد ایک جانب تو یہ سوال پیدا ہوا کہ ایک بار پھر اس مقدمے کا فیصلہ کیوں موخر کیا گیا تو دوسری جانب حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے بیچ اس کی ٹائمنگ بھی اہمیت کی حامل ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے ایک بار پھر کہا ہے کہ کینیڈا کا امریکہ کی 51 ویں ریاست بننے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
انھوں نے کہا ’ایسا نہیں ہوگا۔‘
اتوار کے روز ایم ایس این بی سی کے پروگرام 'انسائڈ' میں وائٹ ہاؤس کی سابق پریس سیکریٹری جین ساکی سے گفتگو کرتے ہوئے ٹروڈو نے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بار بار دیے گئے اس بیان پر تبادلہ خیال کیا کہ کینیڈا امریکہ کا حصہ بن سکتا ہے۔
’میں جانتا ہوں کہ ایک کامیاب مذاکرات کار کی حیثیت سے وہ لوگوں کو توازن سے دور رکھنا پسند کرتے ہیں۔ 51 ویں ریاست، ایسا نہیں ہوگا۔‘
قومی انتخابات سے قبل وزیراعظم ٹروڈو کی مقبولیت کم رہو رہی ہے انھوں نے اعلان کیا کہ وہ مارچ میں اپنی لبرل پارٹی کے نئے رہنما کے انتخاب کے بعد عہدہ چھوڑ دیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کینیڈا کے الحاق کے بارے میں بار بار تبصرے کرکے اپنی مہم تیز کردی ہے۔
منگل کو فلوریڈا مار-اے لاگو میں اپنے گھر پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ 'آپ مصنوعی طور پر کھینچی گئی اس لکیر سے چھٹکارا حاصل کریں اور آپ دیکھیں کہ یہ کیسی نظر آتی ہے، اور یہ قومی سلامتی کے لیے بھی بہت بہتر ہوگا۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہاں تک کہ انھوں نے کینیڈا کے وزیر اعظم کو ’گورنر ٹروڈو‘ بھی کہہ دیا۔ یہ عہدہ عام طور پر امریکی ریاستوں کے رہنماؤں کے پاس ہوتا ہے۔
لیکن اتوار کے روز ٹیلی ویژن پر ٹروڈو نے کہا کہ وہ ان باتوں کو اہمیت نہیں دیتے۔
ان کا کہنا تھا کہ 'میں بنیادی چیزوں پر توجہ مرکوز کرتا ہوں، نہ کہ لوگوں پر جو میرے لیے عرفی ناموں کا انتخاب کرتے ہیں۔ میرا مطلب ہے کہ اگر میں اتنا جلد اثر لینے والا ہوتا تو شاید میں سیاست میں زیادہ دیر تک نہیں رہ پاتا۔'
ٹروڈو نے کہا کہ کینیڈا کے امریکہ میں شامل نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ کینیڈین ایسا نہیں کرنا چاہتے۔
ٹروڈو نے اپنی قومی شناخت کی وضاحت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ دوسری چیزوں کے علاوہ کینیڈین یہ کہیں گے کہ ’ہم امریکی نہیں ہیں۔‘
رواں ہفتے کے اوائل میں ٹروڈو نے دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کے ایک ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
انڈیا میں کمبھ میلے کی تقریب کو کسی ایک جگہ پر دنیا میں سب زیادہ لوگوں کے اجتماع کا نام دیا گیا ہے۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ دریائے گنگا، جمنا اور اساطیری ندی سرسوتی کے سنگم پر اس سال تقریباً 40 کروڑ عقیدت مندوں کی آمد متوقع ہے۔ اس میلے میں مذہبی رسومات کی ادائیگی کے ساتپھ ساتھ لوگوں کے لیے تفریح میں میسر ہوتی ہیں۔میلے کے پہلے دن کی کچط تصویری جھلکیاں:

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ ایک بار پھر موخر کرتے ہوئے احتساب عدالت نے سترہ جنوری کی تاریخ دے دی ہے۔
یاد رہے کہ احتساب عدالت نے فیصلہ 18 دسمبر 2024 کو محفوظ کیا تھا۔ احتساب عدالت نے فیصلہ سنانے کیلئے پہلے 23 دسمبر اور اس کے بعد 6 جنوری کی تاریخ مقرر کی تھی پھر تیسری 13 جنوری کی تاریخ دی۔
سوموار کے دن صبح گیارہ بجے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں ملزمان کی موجودگی میں فیصلہ سنانا تھا تاہم اس سے کچھ ہی دیر قبل جج کی جانب سے نئی تاریخ سامنے آ گئی۔
اس فیصلے کی وجہ بیان کرتے ہوئے جج ناصر جاوید نے ریمارکس دیے کہ دو گھںٹے انتظار کرتے رہے، ساڑے آٹھ بجے کمرہ عدالت میں موجود تھا، ملزم عمران خان کو دو مرتبہ پیغام بھجوایا گیا کہ وہ عدالت میں پیش ہوں لیکن وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔
شریک ملزمہ بشری بی بی بھی اڈیالہ جیل نہیں پہنچ سکی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ ان کے پاس تحریر شدہ فیصلہ موجود ہے اور وہ آج اس فیصلے کو سنانا چاہتے تھے لیکن ملزمان اور ان کے وکلا کے عدالت میں نہ پہنچنے پر فیصلہ سنانے کی تاریخ سترہ جنوری مقرر کر رہے ہیں۔
نیب کی پراسیکیوشن ٹیم کمرہ عدالت میں موجود تھی۔
’جج صاحب کو جلدی تھی، چلے گئے‘
تحریک انصاف چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں گیارہ بجے کا وقت دیا گیا تھا لیکن اس سے پہلے پتہ چلا کہ نئی تاریخ دی گئی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ اس کیس کا فیصلہ ہونا چاہیے۔
بشری بی بی کے وکیل فیصل فرید چوہدری نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گیارہ بجے فیصلہ سنانے کا وقت تھا لیکن جج صاحب کو بڑی جلدی تھی تو چلے گئے۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا کمرہ عدالت میں ملزمان کا فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر موجود ہونا ضروری ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’جی ہاں، ایک یہی وجہ ہو سکتی ہے بشری بی بی ابھی پیش نہیں ہوئی ہو سکتا ہے اس وجہ سے بھی فیصلہ موخر کیا گیا ہو۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں آگ لگنے کے واقعات میں کم از کم 16 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔ فی الحال شہر میں چار مقامات پر آگ پھیل رہی ہے جسے بجھانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ یہ شہر کی تاریخ کا سب سے تباہ کن اور نقصان دہ آتشزدگی کا واقعہ ثابت ہوا ہے۔
لاس اینجلس میں کتوں اور امدادی عملے کی مدد سے ملبے تلے دبے لوگوں کو بچانے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
خیال ہے کہ 35 ہزار گھروں اور کاروباروں کی بجلی منقطع ہے۔
پولیس نے لوٹ مار کے واقعات میں 20 سے زیادہ افراد کو گرفتار کرنے کی تصدیق کی ہے۔ ایک واقعے میں دو افراد کو فائر فائٹر کا روپ دھار کر گھروں میں داخل ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
پالیسڈس نامی مقام پر 20 ہزار سے زیادہ ایکڑ کا رقبہ آگ کی زد میں ہے۔ آگ پر قابو پانے میں فائر فائٹرز کو کچھ پیشرفت حاصل ہوئی ہے۔
یہ آگ مشرقی حصے میں پھیل رہی ہے جس کے پیش نظر برینٹ ووڈ نامی علاقے کو خالی کرا لیا گیا ہے۔
سنیچر تک یہ معلوم ہوا کہ لاس اینجلس کاؤنٹی میں ایک لاکھ 53 ہزار لوگوں کو گھروں سے نکلنے کا کہا گیا جبکہ ایک لاکھ 66 ہزار لوگوں کو انخلا کے لیے تیار رہنے کا کہا گیا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
12 ہزار سے زیادہ سٹرکچر منہدم ہوئے جن میں گھر، دفاتر کی عمارتیں، موبائل ہوم اور گاڑیاں شامل ہیں۔
زیادہ متاثرہ علاقوں میں حکام نے شام چھ سے صبح چھ بجے تک کے لیے کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔
جن 22 افراد کو گرفتار کیا گیا ان پر لوٹ مار، چوری، منشیات اور دیگر الزامات ہیں۔
نیشنل گارڈ کے 400 اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے جو سڑکوں کی بندش اور حساس عمارتوں کے تحفظ میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔
یہ امریکی تاریخ کی سب سے مہنگی آتشزدگی ہے جس میں ابتدائی اندازوں کے مطابق 150 ارب ڈالر تک کا نقصان ہوا ہے۔
جن پراپرٹیز کو نقصان پہنچا ہے ان میں سے اکثر قیمتی ہیں۔ انشورنس کی مالیت آٹھ ارب ڈالر سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ جن معروف شخصیات کے گھر تباہ ہوئے ان میں میل گبسن، ایڈم بروڈی اور پیرس ہلٹن شامل ہیں۔
اگرچہ بارشوں کی قلت اور تیز ہواؤں کے باعث آگ پھیل رہی ہے تاہم ماہرین کی رائے ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے حالات بدلے ہیں اور آگ لگنے کے امکان میں اضافہ ہوا ہے۔
لاس اینجلس کے شیرف رابرٹ لونا کا کہنا ہے کہ تفتیش کار ممکنہ وجوہات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
امریکہ میں آسمانی بجلی گِرنا آگ لگنے کی سب سے عام وجہ ہے تاہم متاثرہ علاقوں میں یہ نہیں ہوا۔ جبکہ اب تک آتشزنی کے کوئی شواہد نہیں ہیں۔
ماہرین کو خدشہ ہے کہ تیز ہواؤں کے سلسلے سے آگ پھیلنے کی رفتار بڑھ سکتی ہے۔
ایل اے کاؤنٹی فائر چیف انتھونی میرون کا کہنا ہے کہ تیز ہواؤں اور کم نمی کے باعث آگ کا خطرہ ’بہت زیادہ ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہKP Govt
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی خصوصی ہدایات پر کرم کے لئے صوبائی حکومت کی ہیلی کاپٹر سروس کا سلسلہ جاری ہے۔
ترجمان وزیر اعلی ہاوس کی جانب سے اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اتوار کے روز صوبائی حکومت کے ہیلی کاپٹر ایم آئی 17 کی کرم کے لئے پانچ پروازیں روانہ ہوئیں۔ جن میں سے پہلی پرواز کے ذریعے 1500 کلوگرام ادویات پشاور سے صدہ پہنچائی گئیں۔‘
بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ ’اتوار کے روز ان خصوصی پروازوں کی مدد سے تین افراد کو صدہ منتقل کیا گیا جبکہ چھ افراد کو صدہ سے علیزئی منتقل کیا گیا۔ تاہم ایک اور پرواز کی مدد سے 43 افراد کو علیزئی سے ٹل منتقل کیا گیا۔‘
ترجمان وزیر اعلیٰ ہاوس کے مطابق ’مجموعی طور پر اتوار کے روز صوبائی حکومت کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے 114 افراد کو ائیر ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کی گئی۔‘
واضح رہے کہ گزشتہ کئی روز سے پاڑہ چنار سے پشاور آنے والی اہم شاہراہ کے بند ہونے کی وجہ سے علاقے میں ادویات کے علاوہ کھانے پینے کی اشیا کی قلت کے علاوہ مریضوں کی منتقلی میں بھی مُشکلات کا سامنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 11 جنوری 2025 کو ضلع شمالی وزیرستان میں دو مختلف واقعات میں نو شدت پسند ہلاک ہوئے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز شمالی وزیرستان کے علاقے ڈوسالی میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر ایک آپریشن کیا تھا۔ آپریشن کے دوران پاکستانی فوج کی جانب سے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں چھ شدت پسند ہلاک جبکہ دو کو حراست میں لے لیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’انٹیلی جنس کی بنیاد پر دوسرا آپریشن ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے ایشام میں کیا گیا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد سکیورٹی فورسز نے تین شدت پسندوں کو ہلاک جبکہ دو کو زخمی کر دیا۔‘
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ان کارروائیوں کے دوران ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کی طرف سے 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن نہیں بنایا جاتا تو مذاکرات کا سلسلہ آگے نہیں بڑھ سکے گا۔
اتوار کو حکومت کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مشتمل مذاکراتی ٹیم نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی ہے۔
ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما حامد رضا کا کہنا تھا کہ یہ ’کنٹرولڈ ماحول میں ایک تفصیلی ملاقات تھی جہاں ہم نے خان صاحب کے آگے اپنا نقطۂ نظر رکھا۔‘
ان کے مطابق عمران خان نے کہا کہ نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر ’غیر جانبدار کمیشن تحقیقات کرے اور حقائق تک پہنچے تاکہ ذمہ داران کا تعین ہوسکے۔‘ انھوں نے تجویز دی کہ کمیشن کی سربراہی کسی غیر جانبدار جج کو دی جانی چاہیے۔
خیال رہے کہ 9 مئی 2023 کو عمران خان کی گرفتاری پر ملک کے کئی شہروں میں پُرتشدد احتجاج ہوا تھا جبکہ گذشتہ سال نومبر کے اواخر میں، تحریک انصاف کے بقول، عمران خان کی ’فائنل کال‘ کے موقع پر بھی اسلام آباد میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔
انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی ٹیم حکومت کو آگاہ کرے گی کہ وہ مذاکرات کے تیسرے اجلاس کے لیے تیار ہیں۔ ’انھیں کہا جائے گا کہ وہ جوڈیشل کمیشن سے متعلق ورکنگ کر کے آئیں۔‘
انھوں نے تسلیم کیا کہ اتنے ہفتے گزرنے کے باوجود مذاکرات میں پیشرفت نہیں ہوسکی ہے۔ اب تک حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے دو ادوار ہو چکے ہیں۔
حامد رضا نے کہا کہ ’عمران خان نے مذاکرات کے لیے 31 جنوری کی ڈیڈلائن دی ہے جس میں توسیع کسی پیشرفت کی صورت میں صرف عمران خان کریں گے۔‘
تحریک انصاف کی قیادت کا کہنا ہے کہ مذاکراتی عمل کے دوران انھوں نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے علاوہ جیلوں میں قید اپنے کارکنان اور رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کر رکھا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں حامد رضا کا کہنا تھا کہ اگر 12 جنوری کو 190 ملین پاؤنڈز کیس کا فیصلہ عمران خان کے خلاف آیا تو ’مذاکراتی عمل میں ہمارے رویے میں تلخی آئے گی۔
ان کے مطابق یہ نہیں ہوسکا کہ ’خان صاحب کو سزا سنانے کے بعد اچھے ماحول میں مذاکرات ہوں۔۔۔ صورتحال مزید خراب ہوگی لیکن مذاکرات کے حوالے سے خان صاحب نے 31 جنوری تک کا وقت دیا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے عمر ایوب کی سربراہی میں کمیٹی بنائی تھی اور انھیں پورا اختیار دیا گیا ہے۔
دوسری طرف وزیر دفاع خواجہ آصف نے اتوار کو کہا کہ انھیں امید ہے کہ 12 جنوری کو 190 ملین پاؤنڈز کیس کا فیصلہ تمام حقائق کی روشنی میں سنایا جائے گا۔
انھوں نے تحریک انصاف کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کا احتساب جاری رہے گا۔۔۔ جلد ساری حقیقت سامنے آ جائے گی۔‘
دریں اثنا اڈیالہ جیل کے باہر صحافی نے حامد رضا سے سوال کیا کہ ’کیا عمران خان آج این آر او پر دستخط کریں گے؟‘
اس پر حامد رضا نے پوچھا ’کیا آپ کے پاس این آر او کی کوئی اطلاع ہے؟ کیا آپ نے این آر او دیکھا ہے؟ مجھ سے شیئر کریں، این آر او عمران خان نہیں حکومت مانگ رہی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں اتوار سے تیز ہوائیں چلنے کے باعث جنگلات میں لگی آگ مزید پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
امکان ہے کہ شمال اور شمال مشرق کی جانب ’سانٹا اینا ونڈز‘ 96 سے 112 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔ جبکہ ساحلی علاقوں اور وادیوں میں 56 سے 88 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔
اتوار کی شب ساحلی علاقوں میں ہوائیں اپنا رُخ تبدیل کریں گی۔ منگل اور بدھ کو سانٹا اینا ونڈز کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگرچہ اس صورتحال کے حوالے سے غیر یقینی پائی جاتی ہے تاہم یہ خدشہ پایا جاتا ہے کہ ہواؤں کی رفتار گذشتہ دنوں کے مقابلے زیادہ ہوگی۔ گذشتہ منگل کو پالیسڈس کے مقام پر آگ اسی وقت پھیلنا شروع ہوئی تھی جب سانٹا اینا ونڈز کا آغاز ہوا تھا۔
بدھ کے بعد تیز ہواؤں کے سلسلے میں نمایاں کمی کا امکان ہے۔ تاہم اب تک یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ اگلے ہفتے کے دوران سانٹا اینا ونڈ کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لاس اینجلس کے میئر کا کہنا ہے کہ جنگلات میں آگ پھیلنے سے مشرقی مالیبو کا ایک تہائی حصہ مٹ چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تیز ہواؤں کے باعث فائر فائٹرز کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
لاس اینجلس میں آگ بجھانے کے لیے فائر فائٹرز اور طیارے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ جبکہ اطلاعات ہیں کہ امریکی ریاستوں ٹیکساس، نیو میکسیکو، کولوراڈو، یوٹا، نواڈا، ایریزونا، اوریگن اور واشنگٹن نے لاس اینجلس میں فائر گائٹرز کی ٹیمیں روانہ کی ہیں۔ امریکہ کے پڑوسی ممالک کینیڈا اور میکسیکو نے بھی اپنی ٹیمیں بھیجی ہیں۔
ایل اے کاؤنٹی کے فائر چیف انتھونی میرون کا کہنا ہے کہ تیز ہواؤں سے بدھ تک آگ پھیلنے کا خدشہ پایا جاتا ہے، یعنی یہ آگ جنگلات سے گنجان آباد علاقوں میں پھیل سکتی ہے جیسے گذشتہ ہفتے ہوا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
سنیچر کی شب امریکی شہر لاس اینجلس کے حکام نے پالیسڈس میں آگ پھیلنے کے خدشات کے باعث برینٹ ووڈ نامی علاقے کو بھی خالی کرانے کا حکم دیا ہے۔
یہاں اکثر زیادہ آمدن والے افراد کی رہائش گاہیں ہیں اور ادھر گیٹی سینٹر نامی آرٹ میوزیم بھی واقع ہے۔
برینٹ ووڈ میں امریکہ کی نائب صدر کملا ہیرس، باسکٹ بال سٹار لیبران جیمز، اداکار اور ریاست کیلیفورنیا کے سابق گورنر آرنلڈ شواسنیگر، ڈزنی کے سربراہ باب ایگر اور ریپر ڈاکٹر ڈرے کے گھر واقع ہیں۔
مقامی فائر چیف شاد اگستن کا کہنا ہے کہ رہائشیوں کو علاقہ چھوڑ دینا چاہیے اگر انھیں متنبہ کیا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نوبیل انعام یافتہ سماجی کارکن ملالہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ طالبان نے خواتین کو افغان معاشرے کے ہر پہلو سے حذف کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ وہ خواتین کو ’انسان نہیں سمجھتے۔‘
اسلام آباد میں لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق مسلم ورلڈ لیگ کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملالہ نے کہا کہ ’افغانستان میں لڑکیوں کی ایک پوری نسل سے ان کا مستقبل چھین لیا گیا۔۔۔ اگر ہم افغان لڑکیوں کی تعلیم پر بات نہیں کرتے تو یہ کانفرنس اپنے مقاصد حاصل نہیں کر پائے گی۔‘
انھوں نے کہا کہ افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں ’لڑکیوں پر چھٹی جماعت سے آگے تعلیم حاصل کرنے پر پابندی ہے۔‘
’گذشتہ ساڑھے تین سال کے عرصے میں طالبان نے افغان لڑکیوں سے تعلیم کا حق چھین رکھا ہے۔ انھوں نے ہمارے مذہب کو استعمال کر کے اس کا جواز پیش کیا ہے۔ طالبان روزمرہ زندگی کے ہر شعبے سے لڑکیوں اور خواتین کو حذف کرنا چاہتے ہیں اور انھیں معاشرے سے ختم کرنا چاہتے ہیں۔‘
ملالہ نے کہا کہ طالبان خواتین کے ساتھ اس ظلم پر مذہب اور سماج کا پردہ ڈال دیتے ہیں لیکن ہمیں واضح کر دینا چاہیے کہ ان اقدامات میں ’کچھ بھی اسلامک نہیں۔‘
’یہ پالیسیاں اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں درست نہیں بلکہ یہ ہمارے دین کے خلاف ہیں۔‘
دوسری طرف طالبان نے بارہا کہا ہے کہ سکولوں میں خواتین کو دوبارہ داخل کیا جائے گا جب یہ یقینی ہو جائے کہ نصاب ’اسلامی‘ ہے۔ تاہم ایسا نہیں ہوا ہے۔
دریں اثنا ملالہ نے غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’غزہ میں اسرائیل نے تعلیم کا نظام تباہ کر دیا ہے۔ اس نے تمام یونیورسٹیوں پر بمباری کی، 90 فیصد سکول تباہ کر دیے اور سکولوں کی عمارتوں میں پناہ لینے والے عام شہریوں پر بلاامتیاز فائرنگ کی۔‘
’اسرائیل نے انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی۔ فلسطینی بچوں نے اپنی جانیں اور مستقبل کھو دیا ہے۔ ایک فلسطینی لڑکی اس مستقبل کو حاصل نہیں کر سکتی جس کی مستحق ہے، اگر اس کے سکول پر بمباری کر دی جائے اور اس کا خاندان مارا جائے۔‘
’مسلم ممالک میں لڑکیاں مشکل صورتحال سے دوچار ہیں، جیسے یمن، سوڈان اور کئی ملکوں میں جہاں غربت، تشدد اور جبری شادیاں ہوتی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہInspectorate of Mines Balochistan
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نزدیک سنجدی میں کوئلے کی کان سے مزید سات کان کنوں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔
سرکاری حکام کے مطابق جمعرات کے روز شام چھ بجے کے قریب ایک نجی کان میں گیس بھر جانے سے دھماکے کے بعد 12 مزدور کان میں پھنس گئے تھے۔
جمعے کے روز 12 کان کنوں میں سے چار کی لاشیں نکال لی گئی تھیں۔ تاہم زیادہ گہرائی میں پھنسے ہونے کے باعث دیگر کان کنوں تک پہنچا نہیں جا سکا تھا۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) بلوچستان کی جانب سے جاری ایک اعلامیے کے مطابق متبادل راستے سے پی ڈی ایم اے، محکمہ مائنز اور کان کنوں پر مشتمل ٹیم کان میں 3900 فٹ کی گہرائی تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔
چیف انسپیکٹر مائنز عبدالغنی بلوچ نے بتایا کہ گذشتہ شب کان میں پھنسے مزدوروں میں سے سات کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اب صرف ایک کان کن رہ گیا ہے جس کی تلاش کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
دوسری جانب انسپیکٹوریٹ آف مائنز نے کان میں مزدوروں کی حفاظت کے لیے مناسب انتطامات نہ ہونے پر کان کے مالک اور دیگر ذمہ داران کے خلاف قانونی کاروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے ڈپٹی کمشنر کو مراسلہ بھیج دیا یے۔
دوسری جانب بلوچستان کے ضلع دکی میں بھی سنیچر کے روز کوئلے کی ایک کان میں تودہ گرنے سے ایک کان کن ہلاک ہو گیا۔
دُکی پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے کان کن محمد رمضان کا تعلق بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ سے تھا۔
بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے باعث ہر سال حادثات میں کان کنوں کی ایک بڑی تعداد ہلاک اور زخمی ہوتی ہے۔
پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل لالہ سلطان نے دعوی کیا ہے کہ بلوچستان میں سنہ 2024 کے دوران ایسے حادثات 129کان کن ہلاک ہوئے۔
تاہم چیف انسپیکٹر آف مائنز عبدالغنی بلوچ صوبے میں کان کنی کے دوران ہونے والے حادثوں میں ہلاکتوں کی تعداد 82 بتاتے ہیں۔
بلوچستان کے وزیر معدنیات میر شعیب نوشیروانی کا کہنا ہے کہ کانوں میں حفاظتی اقدامات نہ ہونے پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ کانوں میں حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ نئی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی ریاست لاس اینجلس کے جنگلات میں کئی مقامات پر لگنے والی آگ پر اب تک قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔
لاس اینجلنس کے میڈیکل ایگزامنر کے مطابق آتشزدگی کی وجہ سے اب تک 16 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 13 تاحال لاپتہ ہیں۔
اا ہلاکتیں ایٹون میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں ہوئیں جبکہ پانچ اموات پالیساڈیز میں لگنے والی آگ سے ہوئی ہیں۔
حکام کو خدشہ ہے کہ اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ہواؤں میں آتی تیزی کے پیشِ نظر فائر فائٹرز اور پانی گرانے والے جہازوں نے آگ پر قابو پانے کی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں۔ پیش گوئی ہے کہ آئندہ دنوں میں تیز ہوائیں مزید زور پکڑ سکتی ہیں جس سے آگ بجھانے کا عمل مزید متاثر ہو سکتا ہے۔
لاس اینجلیس میں حکام کو فی الوقت چار مقامات پر بڑی آتشزدگیوں کا سامنا ہے جن میں سب سے آگ تقریباً 23 ہزار چھ سو ایکڑ پر پھیلے پالیساڈیز میں لگی ہوئی ہے۔ یہاں اب تک 11 فیصد آگ پر قابو پایا جا چکا ہے۔
دوسری بڑی آتشزدگی شہر کے شمال میں 4 ہزار ایکڑ پر پھیلے ایٹون میں لگی آگ ہے۔ فائر فائٹرز اب تک یہاں 15 فیصد آگ پر قابو پانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
1052 ایکڑ پر پھیلے کینتھ فائر اور 799 ایکڑ پر پھیلے ہرسٹ فائر پر بالترتیب 90 اور 79 فیصد قابو پایا جا چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’مالیبو شہر کے مشرقی کنارے کا ایک تہائی حصہ تباہ ہو چکا ہے‘
مالیبو کے میئر ڈوگ سٹیورٹ کا کہنا ہے کہ شہر کے مشرقی کنارے کا ایک تہائی حصہ تباہ ہو چکا ہے۔
سنیچر کی شام ایک کمیونٹی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے سٹیورٹ کا کہنا تھا کہ گذشتہ تین ماہ میں مالیبو کو تین تین بڑی آتشزدگیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن پیلیسایڈیز کی آگ سب سے زیادہ تباہ ثابت ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پیسیفک کوسٹ ہائی وے کے ساتھ واقع ’خوبصورت گھر‘ تباہ ہو چکے ہیں جبکہ بگ راک کمیونٹی بھی ختم ہو گئی ہے۔
سٹیورٹ کے مطابق تعمیر نو کا ایک مشکل مرحلہ سامنے ہے لیکن اب تک آگ بجھانے کا عمل بھی ختم نہیں ہوا ہے۔