امریکی صدر، قطری وزیرِ اعظم کی حماس اور اسرائیل کے درمیان یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی معاہدے کی تصدیق

قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان التھانی اور امریکی صدر جو بائیڈن نے قطر میں پریس کانفرنس کے دوران تصدیق کی ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان یرغمالیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ معاہدے کا آغاز اتوار 19 جنوری سے ہو گا اور اس کی مخصوص ٹائمنگ پر تاحال فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

خلاصہ

  • قطری وزیر اعظم کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے جاری بیان میں مصر اور قطر، اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور یرغمالیوں کے تبادلے کے معاہدے کی تصدیق کی گئی ہے۔
  • قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان التھانی نے قطر میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ معاہدے کا آغاز اتوار 19 جنوری سے ہو گا اور اس کی مخصوص ٹائمنگ پر تاحال فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
  • امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’(اسرائیلی) یرغمالیوں سے متعلق ڈیل ہو گئی ہے‘ اور یہ کہ ’انھیں (یرغمالیوں کو) جلد ہی رہا کر دیا جائے گا۔‘

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

    پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں کو جاننے کے لیے اب آپ اس لنک پر کلک کریں۔

  2. جلد ہی یرغمالی اپنے گھروں میں خاندان والوں کے ساتھ ہوں گے: جو بائیڈن

    biden

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر جو بائیڈن نے نائب صدر کملا ہیرس اور وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ’جلد ہی یرغمالی اپنے گھروں میں خاندان والوں کے ساتھ ہوں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ معاہدے میں مکمل جنگ بندی، اسرائیلی فوجوں کے غزہ سے انخلا اور حماس کی جانب سے یرغمالیوں کی رہائی شامل ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اسرائیل بدلے میں فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔

    بائیڈن کا مزید کہنا تھا کہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں فلسطینی اپنے علاقوں میں اپنے گھروں کو لوٹ سکیں گے اور غزہ کی پٹی پر انسانی امداد کی فراہمی بڑھائی جائے گی۔

    وہ کہتے ہیں کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات میں دوسرے مرحلے میں جنگ کے مکمل خاتمے کے حوالے سے ضروری تیاروں پر بات ہو گی۔ اگر یہ مذاکرات چھ ہفتوں سے زیادہ عرصے تک جاری رہتے ہیں تو جنگ بندی جاری رہے گی۔

    بائیڈن کا کہنا ہے کہ تیسرے مرحلے میں بقیہ یرغمالیوں کو اپنے خاندانوں تک پہنچانا ہو گا اور غزہ میں تعمیر نو کا کام شروع ہو گا۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس معاہدے تک پہنچنا ’آسان نہیں تھا اور ان کے تجربے کے مطابق یہ سب سے مشکل مذاکرات میں سے ایک تھے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ایران گذشتہ دہائیوں کے مقابلے میں خاصا کمزور ہے اور حزب اللہ بھی ’بری طرح کمزور ہو چکا ہے۔‘

    بائیڈن کا کہنا تھا کہ 15 ماہ کی جنگ کے بعد حماس کے سینیئر رہنما ہلاک ہو چکے ہیں، ہزاروں جنگجو بھی مارے گئے ہیں اور اب یہ آپریشنل اعتبار سے کمزور ہو چکی ہے اس لیے اس نے معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی ٹیم نے ’ایک ٹیم‘ کے طور پر ان مذاکرات میں کردار ادا کیا ہے۔

  3. بریکنگ, صدر جو بائیڈن نے بھی اسرائیل اور حماس کے درمیان یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی کے معاہدے کی تصدیق کر دی

    BBC

    امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے جاری بیان میں مصر اور قطر، اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور یرغمالیوں کے تبادلے کے معاہدے کی تصدیق کی گئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں ’غزہ میں لڑائی رک سکے گی، فلسطینی شہریوں کو انسانی امداد کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی اور یرغمالیوں کو ان کے خاندانوں کے ساتھ 15 ماہ کی قید کے بعد ملنے کا موقع ملے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں نے 31 مئی 2024 کو اس منصوبے کا ڈھانچہ بنایا تھا جس کے بعد اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے اس کی توثیق کی تھی۔‘

    بائیڈن کا کہنا ہے کہ ’یہ نہ صرف اس دباؤ کا نتیجہ ہے جو حماس پر تھا بلکہ خطے کی بدلتی صورتحال کا بھی اس میں عمل دخل ہے جس میں لبنان میں جنگ بندی اور کمزور ہوتا ایران شامل ہے۔ اس کے علاوہ یہ بہترین امریکی سفارتکاری کا بھی نتیجہ ہے۔ میری سفارتکاری کبھی بھی اس کو حتمی نتیجے تک پہنچانے سے پیچھے نہیں ہٹی۔‘

  4. بریکنگ, قطری وزیرِ اعظم کی حماس اور اسرائیل کے درمیان یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی معاہدے کی تصدیق

    BBC

    قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان التھانی نے قطر میں پریس کانفرنس کے دوران تصدیق کی ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان یرغمالیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ معاہدے کا آغاز اتوار 19 جنوری سے ہو گا اور اس کی مخصوص ٹائمنگ پر تاحال فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’امید ہے کہ یہ جنگ کے اختتام کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔‘

  5. امریکی یرغمالیوں کے اہل خانہ نے جنگ بندی معاہدے پر بائیڈن اور ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ہے

    غزہ میں یرغمال بنائے گئے امریکی شہریوں کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ ’انتہائی شکر گزار‘ ہیں کہ معائدے کے نتیجے میں ’اُن کے پیارے وطن واپس آرہے ہیں‘۔

    ایک بیان میں امریکی یرغمالیوں کے اہل خانہ نے صدر جو بائیڈن، نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیموں کی کوششوں پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل، مصر، قطر، امریکہ اور دیگر فریقین کے درمیان جاری رہنے والی کوششوں اور تعاون کے نتیجے میں آج معاملات یہاں تک پہنچے ہیں۔

    انھوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ اس وقت تک جنگ بندی کے معاہدے پر قائم رہیں جب تک کہ تمام یرغمالی اپنے اپنے گھروں تک واپس نہیں پہنچ جاتے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں تمام یرغمالی اپنے وطن واپس آئیں گے۔

  6. چھ ہفتوں کی جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی سے آغاز: اسرائیل اور حماس میں ممکنہ ڈیل کی تفصیلات, جونا فشر، نمائندہ یروشلم

    اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کی بہت سی لیک ہونے والی تفصیلات سامنے آ چکی ہیں۔

    جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں ابتدائی طور پر چھ ہفتوں کی جنگ بندی کی جائے گی۔ اِن چھ ہفتوں کے دوران حماس اُن 33 یرغمالیوں کو رہا کرے گی جنھیں اس نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر کیے گئے حملے کے دوران پکڑا تھا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ اِن 33 یرغمالیوں میں سے کتنے ابھی تک زندہ ہیں۔

    رہا ہونے والے ہر یرغمالی کے بدلے اسرائیل درجنوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔

    اس معاہدے کے تحت اسرائیل غزہ کی پٹی کے زیادہ گنجان آباد علاقوں میں موجود اپنے فوجیوں کو نکال کر غزہ کی مشرقی جانب واقع بفر زون میں منتقل کرے گا۔

    معاہدے کے بعد مزید امدادی ٹرکوں اور ایندھن سے بھرے ٹینکروں کو غزہ داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی اور غزہ سے بے گھر ہونے والے 20 لاکھ فلسطینوں میں سے کچھ کی اپنے گھروں کو واپسی کا انتظام کیا جائے گا۔ یا، ممکنہ طور پر، اس ملبے تک واپسی کا انتظام جو کبھی فلسطینیوں کے گھر ہوا کرتے تھے۔

    پہلے چھ ہفتوں میں 33 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی شنید ہے جس کے بعد حماس کے قبضے میں اسرائیلی یرغمالیوں کا ایک گروپ بدستور موجود رہے گا۔ اِن یرغمالیوں کی قسمت مذاکرات اور بات چیت کے اگلے دور سے منسلک ہے، یہ مذاکرات جنگ بندی کے آغاز کے 16 دن بعد شروع ہو گی۔

    اس کے بعد غزہ کے مستقبل کے بارے میں اہم سوالات، جیسا کہ غزہ پر کون حکومت کرے گا اور کیا اسرائیل مکمل طور پر یہاں سے باہر نکل جائے گا، کے جواب ڈھونڈے جائیں گے۔

  7. ’94 یرغمالی اب بھی غزہ میں قید ہیں جن میں سے 34 کے بارے میں خیال ہے کہ انھیں ہلاک کیا جا چکا ہے‘, ایما پینگیلی، جیمی رائن، ایلکس مرے، بی بی سی ویریفائی

    israel

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بی بی سی ویریفائی کی تحقیق کے مطابق سات اکتوبر 2023 کو جن 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا ان میں سے 94 کے باقی رہ جانے والوں میں سے خیال ہے کہ 60 زندہ ہیں جبکہ 34 ہلاک ہو چکے ہیں۔

    چار ایسے یرغمالی بھی ہیں جنھیں سنہ 2014 اور 2015 کے درمیان یرغمال بنایا گیا تھا اور ان میں سے دو کے حوالے سے یہ اطلاعات ہیں کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔

    آئی ڈی ایف کی جانب سے تحقیقات کے بعد کیے گئے اعلانات، کیبوتزم اور خاندانوں کی نمائندگی کرنے والی تنظیموں کے بیانات کی روشنی میں یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ سات اکتوبر کو یرغمال بنائے گئے 34 یرغمالی ہلاک ہو چکے ہیں۔

    بقیہ 60 یرغمالیوں کے بارے میں اب یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ اب بھی زندہ ہیں لیکن سات اکتوبر کے بعد سے حماس کی جانب سے زیادہ یرغمالیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا جاتا رہا ہے۔ ہم تاحال اس حوالے سے تصدیق نہیں کر سکے۔

    کُل 109 یرغمالیوں کو مذاکرات کے ذریعے رہا کروایا گیا ہے جن میں سے کچھ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر اور کچھ 24 سے 30 نومبر 2023 کی عارضی جنگی بندی کے نتیجے میں رہا کیے گئے۔

    آئی ڈی ایف کی جانب سے آٹھ یرغمالیوں کو ریسکیو بھی کیا گیا ہے۔

    آئی ڈی ایف نے غزہ سے 40 یرغمالیوں کی لاشیں اٹھائی ہیں جن میں تین ایسے بھی تھے جنھیں آئی ڈی ایف نے 15 دسمبر 2023 کو غلطی سے ہلاک کیا تھا۔

  8. معاہدے میں ابھی بھی حل طلب شقیں ہیں: اسرائیل

    دنیا کی نظریں اِس وقت اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے پر مرکوز ہیں اور لوگ اس سے متعلق مزید جاننے کے لیے انتظار کر رہے ہیں، تاہم اسی دوران اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کے دفتر سے ایک تازہ ترین بیان جاری ہوا ہے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم کے آفس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ اور مصر کے درمیان واقع فلاڈیلفی کوریڈور پر افواج کی تعیناتی کے حوالے سے حماس ’پیچھے ہٹ گئی ہے۔‘

    وزیر اعظم آفس کا مزید کہنا ہے کہ معاہدے میں ’ابھی بھی کئی غیر حل شدہ شقیں‘ ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے- تاہم اس کے ساتھ وزیر اعظم آفس نے اِس امید کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ آنے والے گھنٹوں میں تفصیلات کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔

    خیال رہے کہ اسرائیلی فوج اسے فلاڈیلفی کوریڈور کا نام دیتی ہے جبکہ فلسطینی اسے ’صلاح الدین محور‘ کہتے ہیں۔ یہ تنگ پٹی مصر کے ساتھ غزہ کی سرحد کے ساتھ گزرتی ہے اور عسکری حکمت عملی کے لحاظ سے بہت اہم ہے۔ اس راہداری پر رفح کراسنگ بھی ہے جو غزہ پٹی کو مصر سے ملاتی ہے۔ یہ غزہ کی واحد کراسنگ ہے جس پر اسرائیل کا براہ راست کنٹرول نہیں ہے۔ یہ مصر سے اہم رسد کے لیے واحد زمینی راستہ بھی ہے۔

    یہ 12.6 کلومیٹر طویل سرحد مصری سرحد کے ساتھ کریم شالوم سے بحیرۂ روم تک جاتی ہے۔

  9. اسرائیل میں جنگ بندی کے معاہدے کی خبروں کے بعد جشن

    جنگ بندی کے معاہدے کی خبریں سامنے آنے کے بعد تل ابیب میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور اسرائیلی یرغمالیوں کی جلد واپسی کی اطلاعات پر جشن منا رہے ہیں۔

    تل ابیب سے موصول ہونے والے چند تصاویر:

    تل ابیب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تل ابیب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تل ابیب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تل ابیب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  10. غزہ میں جنگ بندی معاہدے پر فلسطینیوں کا جشن

    جنگ بندی کی خبر سامنے آتے ہی غزہ کی پٹی میں فلسطینی سڑکوں پر اس معاہدے کا جشن منا رہے ہیں۔

    وسطی غزہ میں دیر البلاح سے ہمیں موصول ہونے والی کچھ تصاویر یہ ہیں:

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    خان یونس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  11. ’ٹرمپ کے انتخاب نے جنگ بندی مذاکرات کو ایک بامعنی ڈیڈلائن دی‘, تجزیہ: ٹام بیٹمین، نامہ نگار برائے امریکی وزارت خارجہ

    میرے خیال میں یہاں اہم نکتہ یہ رہا ہے کہ ٹرمپ کی امریکی صدارتی انتخاب میں کامیابی اور اُن کی حلف برداری کی تاریخ (یعنی 20 جنوری) نے اسرائیل اور حماس کے درمیان ثالثوں کی موجودگی میں ہونے والے مذاکرات کو ایک بامعنی ڈیڈ لائن دی ہے۔

    دونوں فریق (اسرائیل اور حماس) جانتے تھے کہ 20 جنوری یعنی ٹرمپ کے حلف اٹھا لینے کے بعد انھیں ایک غیریقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔

    اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں تھی کہ نئی انتظامیہ (ٹرمپ انتظامیہ) آپ (اسرائیل اور حماس) کو وہی ضمانتیں دیتی جو بائیڈن انتظامیہ نے مذاکرات کے عمل کے دوران دیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی ترجیحات میں تبدیلی ہو سکتی تھی۔

    پانچ دن کے بعد ٹرمپ انتظامیہ اس معاملے کو لے کر آگے بڑھے گی لیکن اس سے قبل بائیڈن انتظامیہ اس معاہدے کے نفاذ کے لیے کام کرے گی۔

  12. اسرائیلی صدر کی ریڈ کراس کے سربراہ سے ملاقات

    red cross

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی صدر اسحاق ہیرزوگ کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے انھوں نے یرغمالیوں کے تبادلے سے قبل انٹرنیشنل ریڈ کراس کے صدر میرجانا سپولجارک سے ملاقات کی ہے۔

    صدر کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کچھ لمحات قبل کہا گیا ہے کہ اجلاس کے دوران ہیرزوگ نے ’ْمشن کی اہمیت اور حساسیت پر زور دیا۔‘

    ریڈکراس کی ٹیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے صدر کو یرغمالیوں کے تبادلے کی تیاریوں کے بارے میں بریف کیا اور یہ بھی بتایا کہ اس دوران کیا ’چیلنجز پیش آ سکتے ہیں۔‘

    خیال رہے کہ ریڈکراس کی جانب سے گذشتہ برس بھی اس نوعیت کے تبادلے کے انتظامات کیے گئے تھے۔

  13. یرغمالیوں کو جلد ہی رہا کر دیا جائے گا: ڈونلڈ ٹرمپ

    اگرچہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کی اہم تفصیلات ابھی سامنے آنا باقی ہیں تاہم امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ہم مشرق وسطیٰ میں یرغمالیوں سے متعلق ڈیل حاصل کر چکے ہیں۔‘

    ٹروتھ سوشل پر جاری کردہ اپنے ایک پیغام میں اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم مشرق وسطیٰ میں یرغمالیوں سے متعلق ڈیل حاصل کر چکے ہیں۔ انھیں جلد ہی رہا کر دیا جائے گا۔ تھینک یو۔‘

  14. مذاکرات کی کوششوں کے دوران اب تک کیا ہوتا رہا؟

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نومبر سنہ 2023 میں اسرائیل اور حماس کے درمیان عارضی جنگ بندی کے معاہدے کے ساتویں روز ہی ختم ہو جانے کے بعد اب ذرائع نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ 15 ماہ کی جنگ کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔

    تاہم اس سب کے دوران کیا ہوتا رہا آئیے اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

    31 مئی 2024: امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کے جنگ بندی معاہدے کے مسودے کا خاکہ پیش کیا۔

    9 نومبر: کئی ماہ کے مذاکرات کے بعد معاملہ اُس وقت تعطل کا شکار ہوا جب قطر نے ثالث کے طور پر اپنی کوششیں جاری رکھنے سے انکار کر دیا۔ قطر کی جانب سے ایسا اس وجہ سے کیا گیا کیونکہ اُس کا کہنا تھا کہ ’اسرائیل اور حماس کو مذاکرات دوبارہ شروع کرنے سے پہلے اپنا موقف تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔‘

    20 نومبر: امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ جنگ بندی کی ایک علیحدہ قرارداد کو یہ کہتے ہوئے روک دیا کہ اس سے جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے درمیان تعلق کی ضرورت کو ’نظر انداز یا ترک‘ کر دیا گیا ہے۔

    27 نومبر: اسرائیل نے حماس کے اہم اتحادی مسلح گروپ حزب اللہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے لبنان کے ساتھ جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ جس کے بعد غزہ میں جنگ بندی کی اُمید بھی پیدا ہوئی۔

    28 نومبر: امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ امریکہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

    17 دسمبر: کئی ماہ کے تعطل کے بعد ایک سینئر فلسطینی عہدیدار نے کہا کہ بالواسطہ مذاکرات ’فیصلہ کن اور آخری مرحلے‘ میں ہیں جبکہ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ معاہدہ پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے۔ چند دن بعد بی بی سی کو پتہ چلا کہ یہ معاہدہ 90 فیصد تک ہونے کے قریب ہے۔

    4 جنوری: قطر میں بالواسطہ جنگ بندی مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے۔

    13 جنوری: بی بی سی کی جانب سے یہ اہم رپورٹ سامنے آئی کہ اسرائیل اور حماس جنگ بندی کے معاہدے کے بہت قریب پہنچ چُکے ہیں۔

  15. فلاڈیلفی کوریڈور یا صلاح الدین محور کیا ہے جس پر ’معاہدے کے آخری لمحات میں اختلاف ہوا‘

    بی بی سی کے امریکہ میں نیوز پارٹنر سی بی ایس نیوز کی جانب سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ معاہدے میں فلاڈیلفی کاریڈور سے متعلق آخری لمحات پر ہونے والے اختلاف کا بھی حل نکال لیا گیا تھا۔

    خیال رہے کہ اسرائیلی فوج اسے فلاڈیلفیا کوریڈور کا نام دیتی ہے جبکہ فلسطینی اسے صلاح الدین محور کہتے ہیں۔یہ تنگ پٹی مصر کے ساتھ غزہ کی سرحد کے ساتھ گزرتی ہے اور عسکری حکمت عملی کے لحاظ سے بہت اہم ہے۔

    اس راہداری پر رفح کراسنگ بھی ہے جو غزہ پٹی کو مصر سے ملاتی ہے۔ یہ غزہ کی واحد کراسنگ ہے جس پر اسرائیل کا براہ راست کنٹرول نہیں ہے۔ یہ مصر سے اہم رسد کے لیے واحد زمینی راستہ بھی ہے۔

    یہ 12.6 کلومیٹر طویل سرحد مصری سرحد کے ساتھ کریم شالوم سے بحیرۂ روم تک جاتی ہے۔

    نقشہ
  16. جنگ بندی کا معاہدہ غزہ کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟, رشدی ابولوف، نمائندہ بی بی سی برائے غزہ

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی کے اس معاہدے کے نتیجے میں غزہ شہر اور جنوبی غزہ سے بیدخل ہونے والے لاکھوں بے گھر افراد کو اپنے گھروں، دیہاتوں اور قصبوں میں واپس جانے کا موقع ملے گا۔

    فلسطینیوں کے لیے اہم یہ ہو گا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں ابتدائی طور پر امدادی اور طبی سامان سے لدے 600 ٹرکوں کو رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ میں جانے کی اجازت دی جائے گی۔ اس امدادی سامان میں ٹینٹ بھی شامل ہوں گے۔

    اس معاہدے کے نتیجے میں پیٹرول اور ایندھن کے 50 ٹینکر بھی غزہ پہنچ پائیں گے۔ غزہ میں مکمل تباہی سے بچ جانے والے ہسپتالوں، بجلی گھروں، سیوریج اور پانی کے ترسیل کے نظام کی مرمت کی جائے گی، اور ساتھ ساتھ اُن تمام مسائل کے حل کے تلاش کرنے کا عمل شروع ہو پائے گا جن کا سامنا غزہ کے رہنے والوں کو بہت عرصے سے ہے۔

  17. بریکنگ, غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ طے پا گیا ہے: ذرائع کی بی بی سی کو تصدیق

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    غزہ جنگ بندی کے معاہدے سے متعلق مذاکرات کی معلومات جاننے والے ذرائع کی جانب سے بی بی سی کو تصدیق کی گئی ہے کہ ’قطری وزیرِ اعظم کی حماس اور اسرائیلی مذاکراتی کمیٹی سے علیحدہ ملاقاتوں کے بعد غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدہ طے پا گیا ہے۔‘

  18. جی ایچ کیو حملہ کیس: عدالت میں ثبوت کے طور پر مجسموں کے ٹکڑے، پیٹرول بم اور ماچس پیش

    راولپنڈی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    راولپنڈی کے اڈیالہ جیل میں 9 مئی 2024 کو پاکستانی فوج کے ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) پر حملے سے متعلق کیس کا باقاعدہ ٹرائل شروع ہوگیا ہے اور مقدمے کی پہلی سماعت کے دوران استغاثہ نے چار گواہان اور دیگر ثبوت بھی پیش کیے۔

    بدھ کو اڈیالہ جیل میں انسدادِ دہشگردی کی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے مقدمے کی سماعت کی۔

    استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے گواہان میں ایک اے ایس آئی اور تین کانسٹیبل شامل تھے جنھوں نے ملزمان سے برآمد ہونے والا سامان بھی عدالت میں پیش کیا۔

    عدالت میں پیش کیے گئے سامان میں اینٹی رائٹ پولیس سے چھینا گیا ہیملٹ، شہدا کے مجسموں کے ٹکڑے، موبائل فون, ماچس، ڈنڈے، پی ٹی آئی کی ٹوپیاں، جھنڈے اور پیٹرول بم بھی شامل تھے۔

    دورانِ سماعت گواہان نے شہادت ریکارڈ کروانے کے دوران کمرہ عدالت میں موجود پی ٹی آئی رہنما راجہ بشارت سمیت دیگر ملزمان کی نشاندہی بھی کی۔

    گواہان کا کہنا تھا کہ راجہ بشارت نے جی ایچ کیو کے باہر احتجاج کی قیادت کی اور مظاہرین کو احتجاج پر اُکسایا۔

    وکلا صفائی کی جانب سے عدالت میں پیش کیے گئے ثبوتوں پر اعتراض اُٹھاتے ہوئے کہا کہ شواہد سیل نہیں ہیں۔

    گواہان کی شہادت ریکارڈ ہونے کے دوران سابق وزیرِ اعظم عمران خان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

    عدالت نے مقدمے کی سماعت 18 جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے پانچ مزید گواہان کو طلب کر لیا۔

  19. انٹرنیٹ پر ’ہتک آمیز‘ مواد شیئر کرنے کا معاملہ: عمران ریاض اور شہباز گِل سمیت پانچ افراد کے خلاف مقدمات درج

    مریم نواز

    ،تصویر کا ذریعہPML-N Digital/X

    پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سوشل میڈیا پر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر محمد بن زاید النہیان اور پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کے خلاف آرٹیفشل انٹیلیجنس (اے آئی) کی مدد سے بنایا گیا ’انتہائی ہتک آمیز‘ مواد شیئر کرنے پر پانچ مزید افراد کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں۔

    بی بی سی کو دستیاب ایف آئی آرز کے مطابق مقدمات میں نامزد کیے جانے والے افراد میں یوٹیوبر عمران ریاض خان اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شہباز گِل بھی شامل ہیں۔

    ایف آئی اے حکام نے تصدیق کی ہے کہ مقدمات میں نامزد دیگر تین ملزمان کو لاہور، ملتان اور فیصل آباد سے گرفتار کر کے ان کے موبائل فون قبضے میں لے لیے گئے ہیں۔

    ملزمان کے خلاف درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ان افراد کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ’جان بوجھ کر اے آئی سے تیار کردہ تصاویر اور ویڈیوز شیئر کی گئیں جس کا مقصد پاکستان اور بین الاقوامی طاقتوں کے اچھے تعلقات کو خراب کرنا تھا جس سے ہمارے ملک کے قومی مفادات کو ناقابِل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘

    واضح رہے کہ چند روز قبل وزیر اعلیٰ مریم نواز نے ایک سرکاری دورے کے دوران متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی تھی۔

    مریم نواز کے معاون خصوصی نے اُن کی یو اے ای کے صدر کے ساتھ تصویر اپنے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کی تھی جس میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

    اس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ایسی مہم شروع کی گئی جس میں مذکورہ تصویر کو کچھ صارفین نے قابل اعتراض ایڈیٹنگ کر کے وائرل کیا تھا۔

  20. حکومت نے ای وی چارجنگ سٹیشنز کے لیے بجلی کے ٹیرف میں 45 فیصد کمی کر دی

    پاکستان کے وزیرِ توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے الیکٹرک وہیکل (ای وی) چارجنگ سٹیشنز کے قواعد و ضوابط بنا لیے ہیں اور وہ چاہیں گے کہ ملک کے ہر محلے میں چارجنگ سٹیشن ہوں۔

    بدھ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے ای وی چارجنگ سٹیشن کے لیے بجلی کے ٹیرف میں 45 فیصد کمی کی گئی ہے۔

    وفاقی وزیر توانائی کے مطابق حکومت ای چارجنگ سٹیشنز کے لیے بجلی کے ٹیرف کو 71 روپے 10 فی یونٹ سے کم کر کے 39 روپے 70 پیسے کر رہی ہے۔

    اویس لغاری کا مزید کہنا تھا کہ کاروبار کو آسان بنانے کے لیے حکومت صرف 15 دن میں چارجنگ سٹیشن لگانے کی اجازت دے گی۔