لائیو, امریکی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں اگر وہ دشمنی کا مظاہرہ نہ کریں، ایرانی نائب وزیرِ خارجہ
ایران کے نائب وزیرِ خارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ امریکی بحری جہاز بھی آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں تاقتیکہ وہ کوئی دشمنی پر مبنی طرزِ عمل اختیار نہ کریں۔ اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی نقل و حمل کے معاملے میں ’بہت خراب کام‘ کر رہا ہے اور ’یہ وہ معاہدہ نہیں جو ہمارے درمیان طے ہوا تھا۔‘
خلاصہ
پاکستان کا ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے آنے والے مندوبین اور صحافیوں کے لیے 'ویزا آن ارائیول' کا اعلان
عالمی آبی راستوں سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول نہیں کیا جا سکتا، برطانوی وزیرِ خارجہ
ایران آبنائے ہرمز کے معاملے میں 'بہت خراب کام' کر رہا ہے، یہ وہ معاہدہ نہیں جو طے ہوا تھا: ڈونلڈ ٹرمپ
ایرانی صدر کا اسرائیل پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام
صدر ٹرمپ اسلام آباد مذاکرات کے نتیجے میں ایران کے ساتھ امن معاہدے کے لیے 'پُرامید'
اسلام آباد مذاکرات کے لیے شہر میں سکیورٹی انتظامات اور تیاریوں کا سلسلہ جاری
لائیو کوریج
جنگ بندی کی صورت میں اسرائیل سے مذاکرات کریں گے: لبنان
،تصویر کا ذریعہReuters
لبنان کے صدارتی دفتر کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ اگر پہلے جنگ بندی نافذ ہو جائے تو لبنان آئندہ ہفتے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات میں شرکت کرے گا۔ اہلکار کے مطابق ملاقات کی تاریخ اور وقت کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست مذاکرات ماضی میں بھی کبھی کبھار ہوئے ہیں، لیکن یہ ایک غیر معمولی عمل سمجھا جاتا ہے۔ عموماً دونوں ممالک کے درمیان رابطہ امریکی ثالثی کے ذریعے ہوتا ہے۔
نومبر 2024 میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے مذاکرات کی بحالی کی کوششیں جاری ہیں، اور امریکی نمائندے اس دوران دونوں فریقوں کے درمیان بالواسطہ بات چیت کی سہولت فراہم کرتے رہے ہیں۔
لبنان میں جنگ بندی صرف نام کی رہ گئی، لڑائی بدستور جاری, بی بی سی نیوز کے فرینک گارڈنرکا تجزیہ
،تصویر کا ذریعہReuters
لبنان میں جاری صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ جنگ بندی ’صرف نام کی‘ رہ گئی ہے، کیونکہ اس پر عملدرآمد میں متعدد خامیاں سامنے آ رہی ہیں۔ اگرچہ بمباری میں کمی آئی ہے، لیکن فائرنگ اور جھڑپیں مکمل طور پر نہیں رکیں، جبکہ کویت نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ چند گھنٹوں میں اسے ایرانی ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب لبنان میں جنگ شدت اختیار کر رہی ہے۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی اس پر لاگو نہیں ہوتی، جبکہ پاکستان اور ایران اسے قابلِ عمل سمجھتے ہیں۔
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، بدستور کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اسی دوران سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنے معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اگرچہ اس جنگ میں فوجی نقصان اٹھا چکا ہے اور اس کے متعدد میزائل اور ڈرون تباہ کیے گئے ہیں، لیکن وہ انھیں دوبارہ تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے روس اور چین جیسے ممالک سے مزید مدد بھی مل سکتی ہے۔
چونکہ ایران اس جنگ میں نقصانات کے باوجود بچ نکلا اس لیے مبصرین کے مطابق وہ خطے میں اپنی روایتی حدود سے باہر نکل آیا ہے اور اس کی پوزیشن پہلے سے زیادہ مضبوط دکھائی دیتی ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
’ایران جغرافیے کو استعمال کرتے ہوئے اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے‘
موجودہ صورتحال میں ایران اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کو استعمال کرتے ہوئے خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔ چھ ہفتے قبل تک ایران پابندیوں کے باعث محدود تھا اور آبنائے ہرمز کو نشانہ نہیں بنا رہا تھا، لیکن جنگ کے بعد اس کی پوزیشن تبدیل ہوئی ہے۔
اب ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دے رہا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کی فوج کو جہازوں کے کارگو کی جانچ کا اختیار حاصل ہو۔ خلیجی ممالک کے لیے یہ مطالبات قابلِ قبول نہیں، لیکن ایران اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کی بنیادی وجہ اس کا جغرافیہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر طاقت کے ذریعے کھلا رکھنا تقریباً ناممکن ہے۔ اس علاقے میں بے شمار چھوٹے راستے، غاریں اور ساحلی مقامات ہیں، جہاں ایران صرف ایک میزائل چھپا کر بھی حملے کے خطرے کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ یہی خطرہ کافی ہے کہ انشورنس کمپنیاں جہاز رانی کو انتہائی مہنگا یا غیر محفوظ قرار دے دیں۔
اسی لیے ایران کو اپنی بحریہ کی ضرورت نہیں پڑتی، اس کے لیے اس کا ساحل ہی کافی ہے۔
پاکستانی اور فرانسیسی وزرائے خارجہ کا لبنان میں ’سنگین جنگ بندی کی خلاف ورزیوں‘ پر اظہارِ تشویش
،تصویر کا ذریعہReuters
پاکستان اور فرانس کے وزرائے خارجہ نے لبنان میں جنگ بندی کی مبینہ سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار اور فرانسیسی وزیرِ خارجہ ژاں نوئل بارو کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو میں خطے کی صورتحال اور جاری کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان میں جنگ بندی کا مکمل احترام اور اس پر عمل درآمد علاقائی امن کے لیے ناگزیر ہے۔
فرانسیسی وزیرِ خارجہ نے گفتگو کے دوران کہا کہ فرانس خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات اس ہفتے کے آخر میں پاکستان میں متوقع ہیں، تاہم اب بھی واضح نہیں کہ یہ مذاکرات طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوں گے یا نہیں۔
آبنائے ہرمز میں جہاز رانی محدود، جنگ بندی کے باوجود مال بردار بحری ٹریفک بحال نہ ہو سکی, ڈین آئزیکس، بی بی سی نیوز
امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے باوجود آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر نہیں آ سکی، اور جہاز مالکان اب بھی گزرگاہ کو غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں۔
بحری ٹریفک کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ میرین ٹریفک کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اب تک صرف 15 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں، جبکہ تنازع سے قبل یہاں سے روزانہ تقریباً 140 جہاز گزرتے تھے۔
ان 15 جہازوں میں سے چار ٹینکر تھے جو تیل، گیس یا کیمیکلز لے جا رہے تھے، جبکہ باقی مختلف اقسام کے کنٹینر بردار جہاز تھے۔
اگرچہ جنگ بندی کے معاہدے میں ’محفوظ گزرگاہ‘ کی شق شامل ہے، تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ جو جہاز بغیر اجازت آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کریں گے انھیں ’نشانہ بنا کر تباہ‘ کیا جا سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے سخت نگرانی، پیشگی منظوری کے تقاضے اور سکیورٹی خدشات کی وجہ سے بیشتر جہاز مالکان رسک لینے سے گریز کر رہے ہیں۔
شپنگ انٹیلیجنس فرم ’لائیڈز لسٹ‘ کا کہنا ہے کہ تنازع کے آغاز کے بعد ایران کی مؤثر ناکہ بندی کے نتیجے میں تقریباً 800 جہاز خلیج میں پھنسے ہوئے ہیں، جن میں سے زیادہ تر مال بردار ہیں اور کئی ہفتوں سے اپنی منزل تک پہنچنے کے منتظر ہیں۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے عالمی سپلائی چین، تیل کی قیمتوں اور شپنگ انشورنس پر نمایاں دباؤ ڈالا ہے، اور ٹریفک کی مکمل بحالی میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔
’آپریشن سندور‘ کے دوران انڈین فوج نے نماز کے اوقات میں حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا: انڈین آرمی چیف
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
انڈیا کے آرمی چیف
جنرل اُپندر دویدی کا کہنا ہے کہ ’آپریشن سندور‘ کے دوران انڈین فوج نے
نماز کے دوران حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
بدھ کے روز شائع
ہونے والے ایک انٹرویو کے دوران ایک سوال کے جواب میں جنرل دویدی کا کہنا تھا کہ
آپریشن کے دوران ایک موقع پر ہم اپنے اہداف کو تباہ کرنے کے وقت کا تعین کر رہے
تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ حملے کا وقت دو بجے، چار بجے یا کوئی بھی بھی وقت ہو سکتا
تھا۔
’لیکن
ہم نے یہ یقینی بنایا کہ ہم اس وقت عسکریت پسندوں کے کیمپوں پر حملہ نہ کریں جب
وہاں لوگ نماز پڑھ رہے ہوں کیونکہ سب کا خدا ایک ہی ہے۔
جنرل دویدی نے مزید کہا، ’اسی لیے ہم نے وہ وقت چنا جب ہمیں معلوم تھا کہ نماز ادا نہیں کی جا
رہی ہوگی۔‘
امریکی بحری جہاز بھی آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں، ایرانی نائب وزیرِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
ایران کے نائب وزیرِ خارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ امریکی بحری جہاز بھی آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں تاوقتیکہ وہ کوئی دشمنی پر مبنی طرزِ عمل اختیار نہ کریں۔
بی بی سی فارسی کے مطابق خطیب زادہ نے ایرانی میڈیا کو بتایا کہ ’آبنائے ہرمز کھلی ہوئی ہے تاہم تکنیکی وجوہات کے باعث جہازوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایرانی افواج کے ساتھ رابطہ رکھیں۔‘
ایرانی وزیر کا کہنا تھا ہم آبنائے ہرمز میں موجود اپنے محفوظ راستوں کے ذریعے ان کے محفوظ سفر کو یقینی بنائیں گے۔
اس سے قبل امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی نقل و حمل کے معاملے میں ’بہت خراب کام‘ کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ وہ معاہدہ نہیں جو ہمارے درمیان طے ہوا تھا۔‘
یاد رہے کہ گذشتہ روز ایران کے سرکاری میڈیا میں شائع ہونے والے ایک بیان میں پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کا ارادہ رکھنے والے بحری جہازوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ’بحری حفاظت کے اصولوں پر عمل کریں اور سمندری بارودی سرنگوں سے محفوظ رہنے کے لیے متبادل راستے اختیار کریں۔‘
پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں متبادل راستوں کا تعین کرنے کے ساتھ ساتھ ایک نقشہ بھی جاری کیا ہے۔
نقشے کے مطابق بحیرہ عمان سے داخل ہونے والے بحری جہاز لاراک جزیرے کے شمال کی طرف جا سکیں گے اور پھر وہاں سے خلیج فارس کی طرف اپنا سفر جاری رکھ سکیں گے۔
دوسری سمت جانے والے بحری جہاز خلیج فارس سے نکلتے ہوئے جزیرہ لاراک کے جنوب سے گزر کر بحیرہ عمان کی طرف جا سکتے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہIRGC
حزب اللہ کا جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں کے ایک گروپ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فورسز نے جمعے کے روز علی الصبح اسرائیلی فوجیوں کے ایک گروپ پر حملہ کیا ہے۔
مسلح تنظیم کے مطابق اسرائیلی فوجیوں کو جنوبی لبنان کے قصبے الخیام کے نزدیک نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے اس بارے میں تاحال کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔
ایران جنگ کے دوران عمان نے اپنے عرب ہمسایوں سے مختلف رویہ کیوں اپنایا؟, اومنیہ النجار، بی بی سی مانیٹرنگ
،تصویر کا ذریعہGallo Images/Orbital Horizon/Copernicus Sentinel Data 2026
،تصویر کا کیپشن13 مارچ کو لی گئی اس سیٹلائیٹ تصویر میں عمان کی سلالہ تیل تنصیب پر ایرانی حملے کے بعد دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔
امریکہ اور
اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران تہران کے حوالے سے خلیجی
تعاون کونسل کے بیشتر ممالک کے مؤقف میں سختی آئی ہے۔ مگر عمان کا معاملہ مختلف
ہے۔
واشنگٹن اور تہران
کے درمیان طویل عرصے سے ثالث کا کردار ادا کرنے والا یہ ملک اس جنگ کے دوران بھی
غیر جانبدار رہا ہے اور خطے میں اپنی ایک منفرد حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
جہاں دیگر خلیجی ممالک
نے ایران کے خلاف زیادہ جارحانہ اور دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا ہے، وہیں عمان نے
اپنی روایتی خارجہ پالیسی قائم رکھتے ہوئے ’سب کا دوست، کسی کا دشمن نہیں‘ کے اصول پر عمل پیرا رہا۔
اس مؤقف کے باعث عمان
خیلج تعاون کونسل میں امریکی اور اسرائیلی مہم کے ناقد کے طور پر سامنے آیا اور
اسے ’غیر
قانونی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کا مطالبہ کرتا آیا ہے۔
عمان کونسل کا وہ
واحد ملک ہے جس نے اپنی سرزمین پر حملے کے بعد بھی واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ
اس جنگ میں شامل نہیں ہوگا۔
اپنے اس رویے کے باعث
عمان خطے میں تہران کے ساتھ جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے آخری قابلِ اعتماد سفارتی
راستہ رہ گیا ہے۔
عالمی رہنماؤں کی ایران، امریکہ جنگ بندی ختم ہونے سے قبل تیل کی سپلائی یقینی بنانے کی کوشش
دنیا بھر کے رہنما
ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی دو ہفتے کی جنگ بندی ختم ہونے سے قبل تیل
اور ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جاپانی میڈیا
رپورٹس کے مطابق جاپان نے تصدیق کی ہے کہ وہ آئندہ ماہ تک اپنے تیل کے ذخائر میں
سے 20 دن کا سٹاک جاری کر دے گا جبکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمدورفت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
اسی دوران
آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانیز سنگاپور کے دورے پر ہیں جہاں وہ اپنے ملک کے
لیے ایندھن کی سپلائی کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکی نائب صدر
جے ڈی وینس بھی سنیچر کے روز سے شروع ہونے والے ایران کے ساتھ امن مذاکرات کی
قیادت کے لیے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی
وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنی کابینہ کو لبنان کے ساتھ امن معاہدے پر بات
چیت شروع کرنے کی تیاری کرنے کا کہنا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی
ہے جب بدھ کے روز اسرائیلی فضائی حملوں میں لبنان میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان رات بھر جھڑپیں, ڈینیئل ڈی سیمون, یروشلم
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
رات بھر اسرائیل
اور حزب اللہ کے درمیان تازہ جھڑپیں ہوتی رہیں جس کے دوران ایران نے لبنان پر فضائی
حملے کیے جبکہ مسلح گروہ کی جانب سے اسرائیل کی جانب راکٹ داغے گئے جس کے باعث تل
ابیب سمیت کئی علاقوں میں ہنگامی الرٹس جاری کیے گئے۔
ایران اور امریکہ
کے درمیان جنگ بندی معاہدے میں لبنان کی مبینہ حیثیت تنازع کا باعث بن رہی ہے اور
اس سے رواں ہفتے کے آخر میں پاکستان میں ہونے والے طے شدہ امن مذاکرات سے پہلے
کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اسرائیل کا کہنا
ہے کہ اس نے رات بھر لبنان میں ان مقامات کو نشانہ بنایا جہاں سے اس کے مطابق حزب
اللہ راکٹ داغ رہا تھا۔
دوسری جانب ایران
کی حمایت یافتہ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیل کے متعدد علاقوں پر راکٹ فائر
کیے ہیں۔
یہ تازہ جھڑپیں ایک
ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں اسرائیل کی جانب سے لبنان
میں کارروائیوں میں کمی لانے کا عندیہ دیا تھا۔
بدھ کے روز اسرائیل
کے لبنان پر حملوں میں 300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ایران کے سرکاری
ٹی وی پر نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب ایک بیان نشر کیا گیا جس میں کہا
گیا ہے کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اپنے ملک اور کے اتحادیوں پر حملوں
کا ’بدلہ
لینے کا حق محفوظ‘ رکھتے ہیں۔
جیفری اپسٹین نے ڈونلڈ ٹرمپ سے نہیں ملوایا: میلانیا ٹرمپ کی افواہوں کی تردید
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنسنہ 2000 میں لی گئی ایک تصویر میں جس میں ڈونلڈ ٹرمپ، ملانیا ٹرمپ، جیفری ایپسٹین اور گیلین میکسویل کو ایک ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ اس وقت میلانیا ٹرمپ کی گرل فرینڈ تھیں۔
امریکی خاتونِ اول
میلانیا ٹرمپ نے جنسی مجرم جیفری اپسٹین سے کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کی ہے۔
میلانیا ٹرمپ نے وائٹ
ہاؤس میں صحافیوں کو بتایا کہ ان کے اور ایپسٹین کے درمیان رابطوں کے بارے میں
پھیلی افواہیں ’آج ہی ختم ہو جانی چاہیئیں۔‘
جمعرات کے روز کیے
جانے والے غیر متوقع اعلان میں امریکی خاتونِ اول نے اپسٹین کے جنسی جرائم کے متاثرین
کے لیے کانگریس میں سماعتوں کا مطالبہ کیا۔
انھوں نے آن لائن پھیلی
ان افواہیں کی بھی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایپسٹین نے انھیں ڈونلڈ
ٹرمپ سے ملوایا تھا۔ میلانیا ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ افواہیں ان کی ’ساکھ کو نقصان پہنچانے کی بدنیتانہ
کوششیں‘ ہیں۔
تاحال یہ واضح
نہیں کہ انھیں یہ اعلان کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
انھوں نے کہا کہ
وہ ایپسٹین کے جرائم کی متاثرہ نہیں اور یہ کہ ان کا ایپسٹین سے سنہ 2000 میں مختصر تعارف ہوا تھا۔
میلانیا ٹرمپ نے
اپسٹین کی ساتھی اور سزا یافتہ گیلین میکسویل سے تعلقات کی بھی تردید کی۔
انھوں نے اپسٹین
فائلز میں شامل سنہ 2002 کی اپنی اور میکسویل کے درمیان ایک ای میل کا حوالہ دیتے
ہوئے اسے محض ’غیر رسمی خط و کتابت‘ اور ’شائستہ جواب‘ قرار دیا۔
میلانیا ٹرمپ جس
ای میل کا حوالہ دے رہی تھیں وہ بظاہر ’’جی‘‘ کے نام لکھی گئی تھی جو غالباً گیلین
میکسویل کے لیے استعمال ہوا تھا۔ اس ای میل میں ’جے ای‘ کے متعلق نیو یارک
میگزین میں شائع ہونے والی ایک تحریر کی تعریف بھی کی گئی ہے۔ اس تحریر کے ساتح ’جی‘ کی ایک تصویر شائع
ہوئی تھی۔
پاکستان کا ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے آنے والے مندوبین اور صحافیوں کے لیے ’ویزا آن ارائیول‘ کا اعلان
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پاکستان نے اسلام آباد
میں ہونے والے ایران اور امریکہ مذاکرات میں شرکت کے لیے آنے والے مندوبین اور صحافیوں
کے لیے ’ویزا آن اراول‘ کا اعلان کیا ہے۔
جمعہ کی صبح ایکس
پر جاری ایک پیغام میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا
کہنا ہے کہ مذاکرات کے لیے آسلام آباد آنے والے تمام مندوبین، بشمول شریک ممالک کے صحافیوں، کا
خیرمقدم کیا جائے گا۔
ڈار کا کہنا ہے کہ
’اس مقصد کے لیے تمام ایئرلائنز سے
درخواست کی جاتی ہے کہ وہ ایسے تمام افراد کو بنا ویزا بورڈنگ کی اجازت دیں۔‘
’پاکستان میں امیگریشن حکام ان افراد کو ویزا
آن ارائیول جاری کریں گے۔‘
عالمی آبی راستوں سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول نہیں کیا جا سکتا، برطانوی وزیرِ خارجہ
برطانیہ کی وزیرِ
خارجہ یوویٹ کوپر کا کہنا ہے کہ برطانیہ اس تنازع کے ’فوری حل‘ اور اس کے بعد کے مرحلے کے لیے
ایک منصوبے پر کام کر رہا ہے۔
برطانوی وزیر کا
کہنا ہے کہ سب سے اہم آبنائے ہرمز کا ’دوبارہ کھلنا‘ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ملک اس آبی گزرگاہ کو بند نہیں
کر سکتا کیونکہ یہ بین الاقوامی سمندری قوانین کے خلاف ہے۔
کوپر کا کہنا ہے
کہ آبنائے ہرمز مکمل اور غیر مشروط طور پر کھولے جانے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ نہ
صرف موجودہ جنگ بندی بلکہ خطے کے طویل المدتی مستقبل کا بھی اہم جزو ہے۔
برطانوی وزیر کے مطابق
کوئی بھی فریق کسی بحری گزرگاہ سے گزرنے کا بنیادی حق یکطرفہ طور پر سلب نہیں کر سکتا
اور نہ ہی انھیں کسی انفرادی خریدار کو فروخت کیا جا سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا
ہے کہ ’عالمی
آبی راستے پر ٹول کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔‘
تازہ اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد لبنان میں تباہی کے مناظر
جنوبی لبنانی شہر شوکین کے ایک گاؤں کی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے تازہ فضائی حملوں کے بعد گاؤں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا ہے۔
اسرائیلی فضائیہ نے ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ وہ علاقے میں ’دہشت گردوں‘ کی تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہے۔
بیان میں کہا گیا اسرائیلی فضائیہ نے لبنان میں ان مقامات کو نشانہ بنایا ہے جہاں سے حزب اللہ اسرائیل پر راکٹ داغے تھے۔
لبنان کے سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے کئی دیگر شہروں کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ مکانات بھی تباہ ہوئے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران آبنائے ہرمز کے معاملے میں ’بہت خراب کام‘ کر رہا ہے، یہ وہ معاہدہ نہیں جو طے ہوا تھا: ڈونلڈ ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
امریکہ کے صدر
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی نقل
و حمل کے معاملے میں ’بہت خراب کام‘ کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ وہ معاہدہ نہیں جو ہمارے درمیان طے ہوا تھا۔‘
اپنے سوشل میڈیا
ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر جاری پیغام میں صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایسی خبریں سامنے آئی
ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ٹینکروں سے فیس وصول کر رہا ہے۔
امریکی صدر کا کہنا
ہے ایران کو ایسا نہیں کرنا چاہیے ’اور اگر وہ کر رہے ہیں تو فوراً بند کر دیں۔‘
میرین ٹریفک ڈیٹا کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ منگل کی رات جنگ بندی کے
اعلان کے بعد سے کم از کم نو بحری جہاز آبنائے ہرمز عبور کر چکے ہیں۔ ان میں دو
آئل اور کیمیکل ٹینکرز بھی شامل ہیں۔
ملٹی نیشنل جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر کے اعداد و شمار کے
مطابق، جنگ سے پہلے ہر روز اوسطاً 138 بحری جہاز یہاں سے گزرتے تھے۔ لیکن تنازع کی
وجہ سے یہاں ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے اور لگ بھگ 800 بحری جہاز خطے میں پھنسے
ہوئے ہیں۔
برطانوی وزیرِ اعظم اور امریکی صدر کے درمیان آبنائے ہرمز کھلوانے کے حوالے سے گفتگو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانوی وزیرِ اعظم کے دفتر کے مطابق برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر سٹامر اور امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے کسی حل تک پہنچنے کے عمل کے ’اگلے مرحلے‘ میں داخل ہو چکے ہیں۔
کیئر سٹامر ابھی قطر پہنچے ہیں، جہاں سے امریکی صدر کے ساتھ ان کی فون پر گفتگو ہوئی ہے۔
برطانوی وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سٹامر نے ٹرمپ کو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے راستے کو کھولنے کے لیے ’قابلِ عمل منصوبے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے شراکت داروں کو اکٹھا کرنے کی برطانیہ کی کوششوں‘ سے آگاہ کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے: ’انھوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اب جبکہ جنگ بندی نافذ ہو چکی ہے اور آبنائے کو کھولنے پر اتفاق رائے موجود ہے، ہم کسی حل تک پہنچنے کے اگلے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سٹامر اور ٹرمپ نے ’جہاز رانی کو جلد از جلد دوبارہ بحال کرنے کے لیے ایک عملی منصوبے کی ضرورت پر گفتگو کی ہے‘
ایرانی کی مذاکراتی ٹیم اسلام آباد نہیں پہنچی، لبنان پر اسرائیلی حملے رُکنے تک مذاکرات معطل ہیں: خبر ایجنسی
ایران میں پاسدارانِ انقلاب سے منسلک نیوز ایجنسی تسنیم نے ایرانی وفد کے اسلام آباد پہنچنے سے متعلق خبروں کی تردید کی ہے۔
تسنیم نیوز ایجنسی نے ایک ’باخبر ذرائع‘ کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ: ’ایرانی مذاکراتی ٹیم کے امریکہ سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد، پاکستان پہنچنے سے متعلق کچھ میڈیا اداروں کی خبریں مکمل جھوٹی ہیں۔‘
خبر رساں ادارے کے مطابق ذرائع نے اسے بتایا کہ جب تک امریکہ لبنان پر اسرائیلی حملے رکوانے کا اپنا وعدہ پورا نہیں کرتا، تب تک مذاکرات معطل رہیں گے۔
لبنان میں جنگ بندی نہیں ہوئی، مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہے: وزیرِ اعظم نیتن یاہو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے ملک کے شمالی علاقے کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’لبنان میں جنگ بندی نہیں ہوئی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم حزب اللہ پر پوری طاقت کے ساتھ حملے کر رہے ہیں اور آپ کی سکیورٹی بحال ہونے تک رُکیں گے نہیں۔‘
اسرائیلی وزیرِ اعظم کے مطابق ان کا مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اور ’اسرائیل اور لبنان کے درمیان ایک تاریخی اور دیرپا امن معاہدے کا حصول ہے۔‘
وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ دیر پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران اسرائیل لبنان پر حملوں میں ’کمی‘ کرے گا۔
صدر ٹرمپ اسلام آباد مذاکرات کے نتیجے میں ایران کے ساتھ امن معاہدے کے لیے ’پُرامید‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی نشریاتی ادارے این
بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان
مذاکرات سے قبل اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو لبنان پر حملوں میں ’کمی‘
کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے فون پر این بی
سی نیوز کو بتایا کہ ’میں نے بی بی (نیتن یاہو) سے بات کر لی ہے اور وہ حملوں میں
کمی کریں گے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ
’پُرامید‘ ہیں کہ اسلام آباد میں مذکرات کے دوران امن معاہدہ ہو جائے گا۔
ٹرمپ کے مطابق ایران ’نے
ان تمام چیزوں سے اتفاق کرلیا ہے جس پر اسے اتفاق کرنا تھا‘ اور اس کے عہدیدار جب میڈیا
سے بات نہیں کرتے تو ’مناسب نظر آتے ہیں۔‘
اس جنگ کا ’فاتح‘ ایران ہے: رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب بیان
ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب ایک بیان ملک کے سرکاری میڈیا پر وسیع پیمانے پر نشر کیا جا رہا ہے۔
جیسا کہ اس سے پہلے بھی ہوتا رہا ہے، یہ ایک تحریری بیان ہے۔ جنگ کے آغاز میں اپنے والد کی وفات کے بعد ملک کے رہبرِ اعلیٰ بننے کے بعد سے اب تک مجتبیٰ خامنہ ای عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں۔
پیغام میں انھوں نے کہا ہے کہ ایرانی عوام جنگ کے ’فاتح فریق‘ ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس جنگ کا ’فاتح‘ ایران ہے۔