آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کشمیر سمیت تمام تنازعات پر انڈیا کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں: شہباز شریف

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم مسئلہ کشمیر اور پانی جیسے تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں اور تجارت اور انسداد دہشت گردی پر بھی اپنے ہمسائے سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

خلاصہ

  • پاکستان کی سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے زیر سماعت نظر ثانی کیس میں جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں کیسے مل سکتی ہیں؟ جو سیاسی جماعت پارلیمنٹ میں نہ ہو اس میں کیسے آزاد امیدوار شامل ہو سکتے ہیں؟
  • انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ میں حکام نے تیل اور خطرناک مواد لے جانے والے بحری جہاز کے ساحل کے قریب ڈوبنے اور اس کے کارگو سے رساؤ کے بعد الرٹ جاری کر دیا ہے۔ یہ رساؤ لائبیریا کے جہاز سے ہو رہا ہے جو اتوار کے روز کیرالہ کے ساحلی شہر کوچی کے قریب ڈوبا تھا۔ یہ کارگو جہاز وزِنجم بندرگاہ سے کوچی کی طرف جا رہا تھا۔
  • غزہ میں وزارتِ صحت اور سول ڈیفنس کے حکام کا کہنا ہے اتوار اور پیر کی درمیانی شب ہونے والے دو اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 24 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حماس کے تحت چلنے والے سول ڈیفنس کے محکمے کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ غزہ شہر کے فہمی الجرگاوی سکول پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد بچوں سمیت 20 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ ان میں سے کئی لاشیں جھلسی ہوئی تھیں۔
  • وزیراعظم شہباز شریف کی ترکی کے صدر رجب طیب اُردوغان سے ملاقات، حالیہ کشیدگی میں پاکستان کی حمایت پر ترکی کا شکریہ ادا کیا
  • 'پوتن بالکل پاگل ہو گئے ہیں،' یوکرین پر روس کے بڑے فضائی حملے کے بعد صدر ٹرمپ کی ولادیمر پوتن پر تنقید
  • غزہ کا 77 فیصد علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے: غزہ کے دفترِ اطلاعات کا دعویٰ

لائیو کوریج

  1. امن کی خاطر کشمیر سمیت تمام تنازعات پر انڈیا سے بات چیت کے لیے تیار ہیں: وزیر اعظم شہباز شریف

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم مسئلہ کشمیر اور پانی کے مسئلے سمیت تمام تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں اور تجارت اور انسداد دہشت گردی پر بھی اپنے ہمسائے سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اگر انڈیا جارحانہ رویہ برقرار رکھنا چاہتا ہے تو پھر ہم اپنے مادر وطن کا دفاع کریں گے جیسا کہ ہم نےاللہ کے فضل و کرم سے کچھ روز قبل کیا تھا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اگر انڈیا میری امن کی یش کش قبول کرتا ہے تو پھر ہم دکھائیں گے کہ ہم خلوص نیت کے ساتھ امن چاہتے ہیں۔‘

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انھوں نے چند ہفتے قبل مجھے فون کیا اور خطے کی صورتحال پر اپنی تشویش اور پاکستان کے عوام کے لیے اپنے برادرانہ جذبات کا اظہار کیا، اور خواہش ظاہر کی کہ یہ بحران سنگین ہونے سے پہلے ختم ہونا چاہیے۔‘

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان ہماری فواج کی بہادری اور افواج کے لیے اپنے عوام کی بے مثل حمایت کی بدولت اس بحران سے فاتحانہ طور پر باہر نکل آیا، ہم خطے میں امن چاہتے تھے، امن چاہتے ہیں اور امن کے لیے مذاکرات کے ذریعے کوششیں جاری رکھیں گے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف تہران میں سعد آباد محل پہنچے، جہاں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ان کا استقبال کیا، دونوں ممالک کے قومی ترانے بھی بجائے گئے جبکہ وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

    ’ایران کو ہم اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں‘

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایران کو ہم اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایرانی صدرکے ساتھ تعمیری اورمفیدبات چیت ہوئی ہے جس میں باہمی دلچسپی اور تعاون کے تمام پہلووں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ گفتگو میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں برادر ممالک کو تجارت، سرمایہ کاری، کامرس میں تمام شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے گہرے ثقافتی، اور تاریخی روابطہ ہیں اور اب ہم نے ان روابط کو مختلف شعبہ دونوں ممالک کے مفاد میں مختلف ہائے زندگی تک وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ہم غزہ میں جاری ظلم کی شدید مذمت کرتے ہیں جہاں 50 ہزار سے زائد مسلمان شہید کیے جا چکے ہیں، یہ وقت ہے کہ عالمی برادری غزہ میں مستقبل جنگ بندی کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرے۔

    ایرانی صدر کا خطاب

    شہباز شریف نےکہا ہے کہ پاکستان کے عوام اپنے ایرانی بھائیوں کے ساتھ ہیں اور پاکستان عوامی اور پرامن مقاصد کے لیے ایران کے ایٹمی پروگرام کی حمایت کرتا ہے۔

    ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے رفقا کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے صدیوں پر محیط ثقافتی اور تاریخی تعلقات ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز اور ان کے وفد کے ساتھ گفتگو میں سیاست، معیشت، بین الاقوامی تعلقات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر بات ہوئی۔

    مسعود پزشکیان نے کہا کہ ’ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ دونوں ممالک کی مشترکہ سرحد پر کوئی بھی دہشتگردانہ اور مجرمانہ سرگرمی نہیں ہونی چاہیے، اور اس سلسلے میں سرحدی علاقوں میں تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔‘

  2. مودی کا گجرات ریلی میں پاکستانیوں کے لیے پیغام: ’دہشتگردی سے نجات کے لیے عوام کو آگے آنا ہوگا‘

    انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے پیر کی سہ پہر گجرات میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کو دہشتگردی کی بیماری سے نجات دلانے کے لیے پاکستان کے عوام کو آگے آنا ہوگا۔‘

    انڈین وزیراعظم نے کہا کہ ’پاکستان کے لوگوں کو کہنا چاہتا ہوں، آپ نے کیا پایا۔ انڈیا دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن گیا اور تمھارا کیا حال ہے آپ کی سرکار اور آپ کی فوج دہشتگردی کو پال رہی ہے۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’دہشتگردی پاکستان کی سرکار اور فوج کے لیے پیسہ کمانے کا ذریعہ بن گیا ہے۔‘

    پاکستان انڈیا کے ان دعوؤں کی تردید کرتا آ رہا ہے اور انڈیا پر ہندوتوا اور آر ایس ایس جیسی شدت پسندی کے الزامات عائد کرتا ہے۔

    انڈین وزیراعظم نے کہا کہ ’15 دن تک ہم نے انتظار کیا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف کوئی قدم اٹھائے گا لیکن شاید دہشتگردی ہی ان کی روزی روٹی ہے۔ جب انھوں نے کچھ نہیں کیا تو پھر میں نے ملک کی فوج کو کھلی چھوٹ دے دی۔‘

    واضح رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ پہلگام حملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں اور یہ کہ پاکستان اس سلسلے میں تعاون کے لیے تیار ہے۔

    وزیراعظم مودی نے کہا کہ ’انڈیا کے ٹارگٹ پر دہشتگردوں کے ہیڈ کوارٹر تھے۔۔۔ ہم نے دنیا کو دکھایا کہ ہم دہشتگردی کے اڈوں، ٹھکانوں کو یہاں بیٹھے بیٹھے مٹی میں ملا سکتے ہیں۔‘

    خیال رہے کہ پاکستان نے یہ کہا ہے کہ انڈیا نے مساجد اور عام آبادی پر حملے کیے اور اس میں جانی اور مالی نقصان بھی عام شہریوں کو پہنچا ہے۔

    مودی نے کہا کہ ’انڈیا کی کارروائی سے پاکستان کیسے بوکھلا گیا، یہ بھی ہم نے دیکھا ہے۔۔۔ نو تاریخ کی رات کو ہماری سرحد پر بھی ڈرون آئے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ان (پاکستان) کو لگتا تھا مودی گجرات کا ہے مگر ان کو 71 یاد نہیں رہا جب ہم نے انھیں دھول چٹائی تھی۔‘

    وزیراعظم مودی نے الزام عائد کیا کہ ’پاکستان نے معصوم شہریوں پر حملے کی کوشش کی۔ جب ان کے ڈرون دکھنے لگے تو ایک کے بعد ایک گرائے گئے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’انڈیا نے ان کی فوج پر دو گنی طاقت سے حملہ کیا۔ دنیا دھنگ رہ گئی جس طرح انڈیا نے حملہ کیا، پاکستان کانپ رہا تھا۔ ان کے سارے ائیربیسز آج بھی آئی سی یو میں پڑے ہیں، پاکستان سیز فائر کے لیے مجبور ہوگیا تھا۔

    وزیراعظم مودی نے دعویٰ کیا کہ ’کچھ ہی گھنٹوں میں پاکستان نے سفید جھنڈا لہرا دیا۔‘

    یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار یہ دعوی کر چکے ہیں کہ انھوں نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کرائی تھی۔

    مودی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’انڈیا کی لڑائی سرحد پار دشتگردی سے ہے، جو اس دہشتگردی کو پال رہا ہے۔ اس سے ہماری دشمنی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جو بھی بھارتیوں کا خون بہانے کی کوشش کرے گا، اس کو اس کی زبان میں جواب دیا جائے گا اور آپریشن سندور دہشتگردی کے خاتمے کا مشن ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’22 اپریل کے بعد میں کبھی چھپا نہیں، سینا تان کر بہار میں اعلان کیا تھا کہ میں دہشتگردی کے ٹھکانوں کو مٹی میں ملا دوں گا۔‘

    مودی نے پاکستان کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ’سکھ چین کی زندگی جیو، روٹی کھاؤ ورنہ میری گولی تو ہے ہی۔‘

    بی بی سی کو گذشتہ ہفتے دیے گئے انٹرویو میں پاکستانی فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اگرچہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، تاہم اگر جنگ مسلط کی جاتی ہے تو پاکستان ہر وقت اس کے لیے تیار ہے۔

    انڈیا اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جنگ سے متعلق بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انڈیا جس طرح سے گھمنڈ کا شکار ہے اور جس بیانیے کو فروغ دے رہا ہے تو تنازع تو موجود ہے جس میں ’چنگاری کسی بھی وقت ڈالی جا سکتی ہے۔‘

  3. ضلع ٹانک سے انسداد پولیو ٹیم کے دو کارکنان اغوا، بازیابی کی کوششیں جاری, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں تین روزہ انسداد پولیو مہم کے دوران نامعلوم افراد نے انسداد پولیو ٹیم کے دو کارکنان کو اغوا کر لیا ہے۔

    ایک مقامی پولیس افسر نے واقعے کی تصدیق کی ہے۔ پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ مغوی ورکرز کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

    گزشتہ دنوں ضلع ٹانک سمیت خیبر پختونخوا کے تمام حساس علاقوں میں پولیس نے انسداد پولیو مہم کے لیے مکمل سکیورٹی انتظامات کیے تھے اور ان انتظامات کے لیے مقامی پولیس افسران نے فول پروف سیکیورٹی پلان تشکیل دیا تھا۔

    ضلع ٹانک میں کچھ عرصے سے حالات انتہائی کشیدہ ہیں جہاں ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کے واقعات میں تیزی دیکھی جا رہی ہیں۔

    مقامی قبائلی رہنما اور سوشل ورکر پتو خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اغوا کے جو واقعات پیش آ رہے ہیں ان میں بیشتر پولیس اور ایف سی اہلکار ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ان مغویوں کے بازیابی کے لے مقامی سطح پر علما، قبائلی اور سیاسی رہنماؤں اور عمائدین پر مشتمل جرگہ بھر پور کوششیں کر رہا ہے اور گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کچھ مغویوں کو بازیاب بھی کرایا گیا۔

  4. وزیراعظم شہباز شریف دو روزہ دورے پر تہران پہنچ گئے

    پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف ترکی کا دو روزہ دورہ مکمل کرکے ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں۔ ان کے ساتھ وفد میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی ہیں۔

    تہران کے مہرآباد ایئر پورٹ آمد پر ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی، پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم، پاکستان کے ایران میں سفیر مدثر ٹیپو اور اعلیٰ سفارتی حکام نے وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی وفد کا استقبال کیا۔

    وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے پیر کو جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کومہرآباد ایئرپورٹ پر ایرانی فوج کے چاق و چوبند دستے نے سلامی دی۔

    وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ اور معاون خصوصی سید طارق فاطمی دورہ ایران میں وزیرِ اعظم کے ساتھ وفد میں شامل ہیں۔

    دورے کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے لیے سعدآباد پیلس تہران جائیں گے جہاں انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا جائے گا۔ اپنے اس سرکاری دورے میں وزیراعظم ایران کی اعلی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔

    اس سے پہلے وزیراعظم شہباز شریف نے اعلی وفد کے ساتھ ترکی کا دورہ کیا۔

    وزیر اعظم کے ترکی کے دورے کا مقصد ترک عوام اوربالخصوص صدر اردوغان کا حالیہ انڈو پاک کشیدگی میں بھرپورتعاون اورحمایت پر شکریہ ادا کرنا تھا۔

    ایران بھی ان ممالک میں شامل ہے جس نے اس تنازع میں ثالثی کی کوشش کی تھی۔

    واضح رہے کہ پاکستانی حکومت نے سابق وزیرِ خارجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں ایک وفد لندن، واشنگٹن اور برسلز بھیجنے کا عندیہ دیا ہے اور وزیرِ اعظم کے دفتر کے مطابق یہ وفد ’عالمی سطح پر انڈیا کے پراپیگنڈے اور مذموم سازشوں کو بے نقاب کرے گا۔‘

    دوسری جانب انڈیا کی حکومت اس ضمن میں بین الاقوامی سطح پر انتہائی بڑے پیمانے پر سفارتی مہم چلانے کے لیے امریکہ، یورپ، افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں پارلیمانی ارکان پر مشتمل سات مختلف وفود بھیج رہا ہے۔

    اس وقت انڈیا کا وفد امریکہ میں موجود ہے۔

  5. افواج پاکستان کی ہرممکن مدد کریں گے، بجٹ میں تنخواہ داروں پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کی کوشش کریں گے: وزیر خزانہ

    وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے جون کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کم کرنے اور پینشن اصلاحات کی بات کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت ہمیں معاشی محاذ پر بھی ایسے ہی قومی اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔

    اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ’افواج پاکستان کی ہر ممکن مدد کریں گے، یہ صرف افواج پاکستانی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ جیسا آپ نے دیکھا ہے یہ ملک کی ضرورت ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ انڈیا نے آئی ایم ایف بورڈ میں قرض پروگرام ڈی ریل کرنے کی کوشش کی، کوشش کی گئی اجلاس نہ ہو اور پاکستان کا ایجنڈا ڈسکس نہ ہو تاہم پاکستان کا کیس میرٹ پر ڈسکس ہوا۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف تمام اہداف پورے کیے، اگر پاکستان اہداف پورے نہ کرتا تو مشکل پیش آتی۔ انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام پر عمل جاری رکھیں گے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ ’آئی ایم ایف مشن واپس جا چکا ہے، وفد کے ساتھ تعمیری بات چیت ہوئی ہے، پاکستان کو آئی ایم ایف کی مکمل حمایت حاصل ہے۔‘

    وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ رواں ہفتے ورچوئل بات چیت جاری رہے گی، انھوں نے واضح کیا کہ سول ملٹری تنخواہوں کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے استفسار کیا کہ ’لوگ پوچھتے ہیں کہ پینشن اصلاحات پر کیا ہو رہا ہے تو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس پر بھی ہم کام کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس کے لیے مالیاتی نظم و ضبط لانا ہے اس سے قرضے لینا کم ہوں گے اور قرضوں کے بوجھ میں کمی ہوگی۔

    انھوں نے کہا کہ دنیا پاکستان کے مائیکرواکنامک استحکام سے مطمئن ہے۔ ان کے مطابق حکومت طویل المدتی اصلاحات کے لیے پرعزم ہے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ صرف آمدن اور اخراجات کا نام نہیں سٹریٹجی بنانا ہوگی، ہمیں معاشی محاذ پربھی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ قرضوں کے نظام کو ری سٹرکچر کریں گے اور اس آفس کو جدید خطوط پر چلائیں گے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ حکومت موجودہ تعمیری اصلاحات کے عمل کو جاری رکھے گی، جن میں ٹیکس نظام، توانائی کے شعبے، سرکاری اداروں کی اصلاحات اور وفاقی حکومت کی ساخت میں درستگی شامل ہیں، تاکہ پائیدار ترقی حاصل کی جا سکے۔

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ دنیا پاکستان کی معاشی بہتری کا اعتراف کر رہی ہے اور معاشی بہتری کی رفتار پر حیران ہے جبکہ شرح سود میں نمایاں کمی کے معیشت پرمثبت اثرات مرتب ہوئے۔

    انھوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل کو تیز کیا جائے گا۔

  6. سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کا معاملہ: جو جماعت پارلیمنٹ میں نہ ہو اس میں آزاد امیدوار کیسے شامل ہوسکتے ہیں؟ آئینی عدالت کے ریمارکس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد

    پاکستان کی سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے زیر سماعت نظر ثانی کیس میں جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں کیسے مل سکتی ہیں؟ جو سیاسی جماعت پارلیمنٹ میں نہ ہو اس میں کیسے آزاد امیدوار شامل ہو سکتے ہیں؟

    جبکہ بینچ میں موجود جسٹس شاہد بلال نے استفسار کیا، کیا جو جماعت فریق نہ ہو اسے نشستیں دی جاسکتی ہیں؟

    پیر کے روز سپریم کورٹ میں آئینی بنچ کی براہ راست سماعت میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 11 رکنی بینچ نے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظر ثانی درخواستوں پر سماعت کی۔

    درخواست گزار وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا آغاز کیا تو جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں پر کیسے دعوی کیا؟ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں کیسے مل سکتی ہیں؟ پارلیمنٹ میں آنے والی جماعت میں آزاد امیدوار شامل ہوسکتے ہیں، جو سیاسی جماعت پارلیمنٹ میں نہ ہو اس میں کیسے آزاد لوگ شامل ہوسکتے ہیں؟ آزاد ارکان نے جیتی ہوئی پارٹی میں شامل ہونا تھا۔

    اس پر مخدوم علی خان نے موقف اپنایا سنی اتحاد کونسل کے مطابق آزاد امیدوار ان کی ساتھ شامل ہوگئے تھے۔ جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کیا سنی اتحاد کونسل نے انتحابات میں حصہ لیا تھا؟ مخدوم علی خان نے کہا سنی اتحاد کونسل نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا، سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے خود آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا، سنی اتحاد کونسل نے عام الیکشن لڑا ہی نہیں۔ جسٹس جمال خان مندو خیل نے ریمارکس دیے سنی اتحاد کونسل مخصوص نشتوں کی حقدار نہیں، سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت بن سکتی تھی لیکن مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں۔

    مخدوم علی خان نے کہا سنی اتحاد کونسل کی اپیل کو متفقہ طور پر مسترد کیا گیا، مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان کو ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا، ارکان کو ڈی نوٹیفائی کرنے سے قبل کوئی نوٹس نہیں کیا گیا۔

    اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے عدالت نے الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکیشن کو کالعدم قرار دیا تھا، عدالت کے سامنے الیکشن کمیشن کا نوٹی فیکیشن تھا۔ مخدوم علی خان نے کہا نوٹی فیکیشن سے اگر کوئی متاثرہ ہوتا تھا تو عدالت کو نوٹس کرنا چاہیے تھا، عدالتی فیصلے میں آرٹیکل 225 کا ذکر تک نہیں ہے، آرٹیکل 225 کے تحت کسی الیکشن پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔

    اس پر جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا آرٹیکل 225 کا اس کیس میں اطلاق کیسے ہوتا ہے؟ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے یہ معاملہ مخصوص نشتوں کا معاملہ تھا، مخصوص سیٹیں متناسب نمائندگی پر الاٹ ہوتی ہیں۔

    مخدوم علی خان نے کہا مخصوص نشستوں کی فہرستیں الیکشن سے قبل جمع ہوتی ہیں، کاغذات نامزدگی پر غلطی پر معاملہ ٹریبونل کے سامنے جاتا ہے۔ جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیئے اگر آپکی دلیل مان لیں تو پشاور ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار نہیں تھا۔ مخدوم علی خان نے کہا اس وقت تک مخصوص ارکان کے نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوئے تھے، عدالتی فیصلہ موجود ہے کہ آئین و قانون سے برعکس فیصلہ ناقص ہو گا، عدالت کی ذمہ داری ہے اس غلطی کو درست کیا جائے۔

    دوران سماعت جسٹس شاہد بلال نے استفسار کیا کیا پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کے کیس میں فریق تھی؟ کیا جو جماعت فریق نہ ہو اسے نشستیں دی جاسکتی ہیں؟ مخدوم علی خان نے کہا جو سیاسی جماعت فریق نہ ہو اسے نشستیں نہیں مل سکتیں، جسٹس یحیی آفریدی نے کہا تھا پی ٹی آئی کیس میں فریق نہیں تھی۔

    دوران سماعت جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیئے مخدوم علی خان صاحب مجھے سمجھنے میں مسئلہ آرہا ہے، سنی اتحاد کونسل تو ایک نشست بھی نہیں جیت سکی تھی، سنی اتحاد کے چیئرمین حامد رضا نے تو خود اپنی جماعت سے الیکشن نہیں لڑا، تحریک انصاف تو فریق بھی نہیں تھی پھر کیسے نشستیں کیسے دی جاسکتی ہیں؟ مخدوم علی خان نے موقف اپنایا اکثریتی فیصلے میں مکمل انصاف کیساتھ نظریہ آئینی وفاداری بھی استعمال کیا گیا، آئین سے وفاداری کے نظریہ کی بات جذباتی لگتی ہے۔

    بعد ازاں عدالت نے مخصوص نشستوں کے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی اور کہا کہ سنی اتحاد کونسل کے وکیل کل دلائل دیں گے۔

  7. خطرناک مواد سے لدے کارگو جہاز کے ڈوبنے کے بعد انڈین ریاست کیرالہ میں الرٹ جاری

    انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ میں حکام نے تیل اور خطرناک مواد لے جانے والے بحری جہاز کے ساحل کے قریب ڈوبنے اور اس کے کارگو سے رساؤ کے بعد الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    یہ رساؤ لائبیریا کے جہاز سے ہو رہا ہے جو اتوار کے روز کیرالہ کے ساحلی شہر کوچی کے قریب ڈوبا تھا۔ یہ کارگو جہاز وزِنجم بندرگاہ سے کوچی کی طرف جا رہا تھا۔

    کیرالہ کا یہ ساحلی علاقہ حیاتیاتی تنوع سے مالا مال ہے اور ایک اہم سیاحتی مقام بھی ہے۔

    جہاز پر سوار عملے کے تمام 24 ارکان کو بچا لیا گیا ہے لیکن جہاز کے 640 کنٹینرز میں سے کچھ مبینہ طور پر ساحل کی طرف بہہ رہے ہیں، جس کی وجہ سے علاقے سے انخلا شروع ہو گیا ہے۔

    حکام کو خدشہ ہے کہ جہاز اور اس کے کارگو سے تیل، ایندھن اور دیگر نقصان دہ مواد کا اخراج وہاں کے رہائشیوں اور سمندری حیات کی صحت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

    ریاست کے وزیرِ اعلیٰ کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کیرالہ کے ساحل کے ساتھ ساتھ تیل بہہ کر کہیں بھی پہنچ سکتا ہے اس ہی لیے پوری ساحلی پٹی کے لیے الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

    حکام نے سمندر کے قریب رہنے والے افراد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پانی کے ساتھ بہہ کر آنے والے کسی بھی کنٹینر یا تیل کو ہاتھ نہ لگائیں جبکہ ماہی گیروں سے کہا گیا ہے کہ وہ ڈوبنے والے جہاز کے بہت قریب جانے سے گریز کریں۔

    انڈین کوسٹ گارڈ نے آلودگی پر قابو پانے کے آلات سے لیس ایک جہاز کو اس مقام پر تعینات کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ کوسٹ گارڈز نے علاقے کا سروے کرنے کے لیے اپنا ایک طیارہ بھی بھیجا ہے جس میں تیل کے اخراج کا پتہ لگانے کا نظام موجود ہے۔

  8. نو مئی جناح ہاؤس حملہ کیس کے ملزم علی رضا کی ضمانت منظور

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے نو مئی کو لاہور میں جناح ہاؤس (کور کمانڈر ہاؤس) حملہ کیس میں نامزد ملزم علی رضا کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

    سوموار کے روز مقدمے کی سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔

    دورانِ سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ ملزم پر کیا الزام ہے؟

    ملزم کے وکیل سمیر کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ ان مؤکل پر سب انسپکٹر کو پتھر مار کر زخمی کرنے کا الزام ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ علی رضا کے علاوہ ایک اور شخص زین العابدین پر بھی اس ہی پولیس والے کو زخمی کرنے کا الزام ہے تاہم شریک ملزم کی ضمانت منظور ہوچکی ہے۔

    جسٹس ہاشم کاکڑ نے سوال کیا کہ دو لوگ ایک ہی پولیس والے کو کیسے زخمی کر سکتے ہیں؟

    انھوں نے پراسیکیوٹر سے پوچھا کہ پولیس والے نے ایک ہی الزام دو لوگوں پر کیسے لگا دیا؟

    جسٹس کاکڑ کا کہنا تھا کہ اس پولیس اہلکار کا نام تو زخمی افراد کی فہرست میں بھی شامل نہیں۔

    پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی کا کہنا تھا کہ ملزم پر اور بھی کافی الزامات ہیں جس پر جسٹس کاکڑ نے کہا کہ الزامات تو آپ ہر روز کوئی نہ کوئی نیا لگا دیں گے۔

    پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ چار ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دے چکی ہے۔

    ملزم کے وکیل نے کہا کہ چار ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کے حکم کے بعد بھی ایک مہینے میں صرف فرد جرم عائد ہوئی ہے۔

    سمیر کھوسہ کا کہنا تھا کہ ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر نہیں ہو رہا اور عدالت نے ایک ہفتے کی تاریخ دی ہے۔

    جسٹس ہاشم کاکڑ نے پراسیکیوٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جونیئر وکیل کیس کر رہے ہوں تو زیادہ سختی نہ کیا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ بھی کبھی جونیئر وکیل رہے ہیں ضمانت ہونے دیں۔

    عدالت نے علی رضا کی ضمانت دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کرتے ہوئے انھیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

  9. غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 24 افراد ہلاک: ’ہر طرف آگ ہی آگ تھی، زمین پر جلی ہوئی لاشیں پڑی تھیں‘

    غزہ میں وزارتِ صحت اور سول ڈیفنس کے حکام کا کہنا ہے اتوار اور پیر کی درمیانی شب ہونے والے دو اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 24 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    حماس کے تحت چلنے والے سول ڈیفنس کے محکمے کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ غزہ شہر کے فہمی الجرگاوی سکول پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد بچوں سمیت 20 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ ان میں سے کئی لاشیں جھلسی ہوئی تھیں۔

    اس سکول میں اسرائیلی فوجی حملے کے نتیجے میں بیت لاہیا قصبے سے بے گھر ہونے والے سینکڑوں افراد پناہ لیے ہوئے تھے۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حماس کے ایک کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔

    سکول کے نزدیک رہائش پذیر ایک شخص رامی رفیق نے بی بی سی کو بتایا کہ، ’ہر طرف آگ ہی آگ تھی۔ میں نے زمین پر جلی ہوئی لاشیں پڑی دیکھی ہیں۔‘

    ’یہ خوفناک منظر دیکھ کر میرا بیٹا بیہوش ہو گیا۔‘

    آن لائن شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں سکول سے آگ کے شعلے اٹھتے دیکھے جا سکتے ہیں جب کہ بری طرح سے جھلسی ہوئی لاشیں بھی نظر آرہی ہیں۔

    مقامی میڈیا کے مطابق مرنے والوں میں شمالی غزہ میں حماس پولیس کے انویسٹی گیشن کے سربراہ محمد الکسیح اور ان کے بیوی بچے بھی شامل ہیں۔

    حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے مطابق، سکول پر حملے سے کچھ دیر قبل وسطی غزہ کے ایک گھر پر اسرائیلی فضائی حملے میں بھی چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

  10. وزیراعظم شہباز شریف کی ترک صدر سے ملاقات، حالیہ بحران کے دوران حمایت پر ترکی کا شکریہ

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ترک صدر رجب طیب اردوغان سے ملاقات کے دوران جنوبی ایشیا میں حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کی حمایت پر ترکی کا شکریہ ادا کیا۔

    وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق، وزیر اعظم شہباز شریف اتوار کے روز ترکی کے دو روزہ سرکاری دورے پر استنبول پہنچے جہاں ان کی ترک صدر رجب طیب اردوغان سے ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ تھے۔

    ملاقات کے دوران وزیرِ اعظم نے دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کی مضبوطی پر زور دیتے ہوئے جنوبی ایشیا میں حالیہ پیش رفت کے دوران پاکستان کی غیر متزلزل حمایت پر ترک حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔

    وزیرِ اعظم شہبار شریف نے دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون خاص طور پر مشترکہ منصوبوں اور قابل تجدید توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، دفاعی پیداوار سمیت باہمی دلچسپی کے اہم شعبوں میں دو طرفہ سرمایہ کاری میں اضافی پر زور دیا۔

    ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا اور سٹریٹجک شراکت داری کو مزید بلندیوں تک پہنچانے اور مسئلہ کشمیر سمیت ایک دوسرے کے بنیادی تشویش کے معاملات پر اصولی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    ترک صدر کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ ترکی اور پاکستان نے ہر شعبے میں تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے کا اعادہ کیا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ خدا پاکستان اور ترکی کے اتحاد، اتفاق اور بھائی چارے کو دائمی بنائے۔

  11. پاکستان میں سال 2025 کی تیسری انسدادِ پولیو مہم کا آغاز ہو گیا

    سوموار کے روز پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام تحت ملک میں سال 2025 کی تیسری قومی انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا۔

    وزیرِاعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو عائشہ رضا فاروق نے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر اسلام آباد میں منعقدہ افتتاحی تقریب کے دوران پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے اور وٹامن اے کی اضافی خوراک دے کر مہم کا افتتاح کیا۔

    26 مئی سے شروع ہونے والی ہفتہ وار قومی انسدادِ پولیو مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین فراہم کی جائے گی۔

    رواں سال پاکستان سے پولیو کے 10 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ، ملک بھر کے چاروں صوبوں اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے 127 مقامات سے حاصل کردہ 272 ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا ہے، جس سے اس سال پولیو سے متاثرہ اضلاع کی مجموعی تعداد 68 ہو گئی ہے۔

    خیبر پختونخوا میں انسداد پولیو مہم کے آغاز سے قبل سرچ آپریشنز

    بی بی سی کے نامہ نگار عزیزاللہ خان کے مطابق، سال کی تیسری انسداد پولیو مہم کے آغاز سے قبل خیبر پختونخوا کے حساس علاقوں بشمول ضلع کرم، کرک، لکی مروت، بنوں، ٹانک میں انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر پولیس نے سرچ آپریشنز کر کے مشتبہ افراد کو حراست میں لیا اور ان کے خلاف کارروائیاں کیں۔

    سکیورٹی کے حوالے سے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقے حساس بتائے جاتے ہیں جن میں پشاور اور جنوبی اضلاع بشمول قبائلی علاقے نمایاں ہیں۔

    پاکستان میں گزشتہ سال انسداد پولیو مہم کے عملے اور ان کی سکیورٹی پر معمور اہلکاروں پر حملوں میں ایک درجن سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس سال فروری میں بھی ضلع خیبر میں انسداد پولیو مہم پر تعینات اہلکار کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس طرح فروری میں ہی ضلع باجوڑ میں بھی انسداد پولیو مہم کے لیے تعینات اہلکار پر فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

    اس کے علاوہ لکی مروت میں رواں سال انسداد پولیو مہم کی مہم کو بائیکاٹ کا سامنا بھی رہا ہے۔ مقامی افراد نے قبول خیل منصوبے پر کام کرنے والے مغوی ملازمین کی عدم بازیابی پر احتجاج کرتے ہوئے انسداد پولیو مہم کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔ تاہم لکی مروت کے ڈپٹی کمشنر نے دعویٰ کیا تھا کہ انسداد پولیس مہم بیشتر علاقوں میں معلوم کے مطابق ہوئی اور بائیکاٹ کا بڑے پیمانے پر اثر نہیں ہوا۔

    سندھ میں پولیو ورکرز کی حفاظت کے پولیس کمانڈوز تعینات کرنے کا فیصلہ

    سندھ کے وزیرِ داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے کراچی سمیت سندھ بھر میں پولیو مہم کو ہر لحاظ سے محفوظ بنانے کے لیے انسدادِ پولیو مہم کے موقع پر یونین کونسلز کو کٹیگریز میں تقسیم کرکے سکیورٹی کے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

    وزیرِ داخلہ نے حکم دیا ہے کہ حساس یونین کونسلز میں پولیو سٹاف، لیڈی ہیلتھ ورکرز کی حفاظت کے لیے پولیس کمانڈوز تعینات کیے جائیں اور حصار حکمت عملی اختیار کی جائے۔

  12. روس کا یوکرین پر اب تک کا سب سے بڑا فضائی حملہ: ’پوتن بالکل پاگل ہو گئے ہیں‘، ڈونلڈ ٹرمپ

    روس کے یوکرین پر حالیہ حملے پر ردِ عمل دیتے ہوئے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے خوش نہیں۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا، ’انھیں کیا ہو گیا ہے؟ وہ بہت سے لوگوں کو مار رہے ہیں۔‘ بعد ازاں انھوں نے روسی صدر کو ’بالکل پاگل‘ قرار دے دیا۔

    سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب روس کی جانب سے یوکرین پر 367 ڈرونز اور میزائلوں سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور درجنوں افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ روس-یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد سے ماسکو کی جانب سے ڈرونز اور میزائلوں کا سب سے بڑا حملہ ہے۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روسی قیادت پر واقعی سخت دباؤ کے بغیر اس ظلم کو روکا نہیں جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’امریکہ کی خاموشی صرف پوتن کی حوصلہ افزائی کرے گی۔‘

    اتور کے روز نیو جرسی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا پوتن کے بارے میں کہنا تھا، ’میں انھیں ایک طویل عرصے سے جانتا ہوں اور ہمیشہ ان کے ساتھ اچھی بنی ہے لیکن وہ شہروں پر راکٹ داغ کر لوگوں کو ہلاک کر رہے ہیں، اور یہ مجھے بالکل پسند نہیں۔‘

    بعد ازاں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں لکھا کہ پوتن ’بالکل پاگل ہو گئے ہیں۔‘

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ سے کہتے آئے ہیں کہ صدر پوتن پورا یوکرین حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اب شاید یہ سچ ثابت ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ’اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو یہ روس کے زوال کا سبب بنے گا۔‘

    صدر ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جس طرح سے بات کر رہے ہیں اس سے وہ اپنے ملک کا کوئی فائدہ نہیں کر رہے۔

    ’ان کے منہ سے جو نکلتا ہے وہ مسئلے کا باعث بنتا ہے، یہ مجھے پسند نہیں اور اسے بند ہونا چا ہیے۔‘

  13. غزہ کا 77 فیصد علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے: غزہ کے دفترِ اطلاعات کا دعویٰ

    غزہ کے دفترِ اطلاعات کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اب غزہ کے 77 فیصد جغرافیائی علاقے پر اسرائیلی فوج کا کنٹرول ہے۔

    دفترِ اطلاعات کے مطابق، اسرائیلی فوج ’رہائشی اور شہری علاقوں میں اپنی افواج کی پوزیشننگ یا بھاری فائر کنٹرول جس کی وجہ سے فلسطینی اپنی املاک تک رسائی نہیں حصل کر سکتے‘ کے ذریعے غزہ کے بیشتر حصے پر کنٹرول قائم کیے ہوئے ہے۔

    فلسطینی حکام نے اسرائیل کے ’غزہ کے بیشتر علاقوں پر موثر کنٹرول‘ کے نتائج کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اسرائیل غزہ میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    اتوار کے روز ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے اعلان کیا کہ سنیچر کے روز غزہ میں کمیٹی کے ساتھ کام کرنے والے دو افراد اس وقت مارے گئے جب اسرائیلی فضائی حموں میںان کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔

    سوشل میڈیا ویب سائٹ پر ریڈ کراس کے اکاؤنٹ سے جاری ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’ہم اپنے عزیز ساتھیوں ابراہیم عید اور احمد ابو ہلال کی ہلاکت پر صدمے میں ہیں۔‘

    دوسری جانب خان یونس کے علاقے قزان النجار میں موٹر سائیکل پر سوار اسرائیلی ڈرون حملے میں تین فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد اتوار کی صبح سے غزہ پر جاری اسرائیلی بمباری میں مارے جانے والوں کی تعداد 21 ہو گئی ہے۔

  14. خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے آپریشنز میں نو شدت پسند ہلاک، آئی ایس پی آر

    پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں نو شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے دعوے کے مطابق یہ تمام انڈین سپانسرڈ شدت پسند تھے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں چار، ٹانک میں دو اور خیبر کے علاقے باغ میں کارروائی میں تین انڈین حمایت یافتہ شدت پسند مارے گئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق مارے گئے تمام شدت پسند دہشتگردی کی متعدد وارداتوں میں ملوث تھے۔ فوج کے مطابق مارے گئے شدت پسندوں سے اسلحہ و گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

  15. روس کا یوکرین پر بڑا فضائی حملہ، کم از کم 14 ہلاک اور متعدد زخمی

    روس نے یوکرین کے خلاف فوجی کارروائی کرتے ہوئے سنیچر کی رات کو کئیو سمیت متعدد مقامات پر ڈرونز اور میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔ اسے اب تک کا سب سے بڑا فضائی حملہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

    حکام نے بتایا ہے کہ ان حملوں میں تین بچوں سمیت کم از کم 14 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ یہ حملہ یوکرین کے دارالحکومت کئیو پر اب تک سب سے بڑے حملے کے ایک دن بعد ہوا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ روس مسلسل جنگ بندی کی کسی بھی کوشش کو نظر انداز کر رہا ہے۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ روسی قیادت پر واقعی سخت دباؤ کے بغیر اس ظلم کو روکا نہیں جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’امریکہ کی خاموشی صرف پوتن کی حوصلہ افزائی کرے گی۔‘ وہ اپنے بیان کے ذریعے امریکی صدر پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں جنھوں نے یہ دعوی کیا تھا کہ روسی صدر جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

    پوتن نے فروری 2022 میں یوکرین پر مکمل حملے کا آغاز کیا تھا اور ماسکو اس وقت یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قابض ہے۔ اس میں کریمیا، یوکرین کا جنوبی جزیرہ نما بھی شامل ہے جسے روس نے 2014 میں ضم کیا تھا۔

    یوکرینی صدر نے اتوار کی صبح ایک بیان میں کہا کہ ’بڑے پیمانے پر‘ کی جانے والی ہڑتال کے بعد امدادی کارکن 30 سے ​​زیادہ شہروں اور دیہاتوں میں کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ روس اس جنگ کو طول دے رہا ہے اور ہر روز عوام کو مار رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ دنیا بے شک ویکنڈ یعنی ہفتے اتوار کی چھٹیاں منا رہی ہو مگر یہ جنگ جاری ہے جو نہ یہ چھٹی کے دن رکتی ہے اور نہ ہفتے کے دوسرے دنوں میں کوئی وقفہ ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ’ان (حملوں) کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔‘

    سنیچر کی رات ہونے والا یہ اب تک کا یوکرین پر سب سے بڑا فضائی حملہ ہے۔

    یوکرین کی ایئرفورس کا کہنا ہے کہ سنیچر کی رات کو روس نے یوکرین پر مختلف اقسام کے 367 میزائلوں، یو اے ویز اور ڈرونز سے حملہ کیا۔

    یوکرین کی ایئرفورس کے مطابق اس نے روس کے 45 کروز میزائل اور 266 یو اے ویز مار گرائے ہیں۔ اس کے باوجود یوکرین کے کم از کم 22 مقامات کو روس نے اپنے حملوں میں کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔

    ابھی تک مختلف علاقوں سے اموات کی تفصیلات آ رہی ہیں۔

    روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ اس نے یوکرین میں 142 مقامات پر ملٹری ایئرفیلڈز، اسلحے کے ڈپوز اور الیکٹرک وارفیئر سٹیشنز پر حملے کیے ہیں۔

    یوکرین کے وزیر داخلہ کے مطابق روسی حملوں میں 13 مقامات پر حملے کیے گئے ہیں جن میں 70 لوگ زخمی ہوئے، 80 رہائشی عمارات تباہ ہوئی ہیں۔

    انھوں نے ان حملوں کو عام شہریوں پر بے رحمانہ حملے قرار دیا ہے۔

    یوکرین کی سرکاری ایمرجنسی سروس کے مطابق جو 12 لوگ مارے گئے ہیں ان میں تین کمسن شامل تھے جن کی عمریں 12 اور 17 برس کے درمیان تھیں۔ وزیر داخلہ اگور کلیمنکوف کے مطابق تینوں بچے ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے والدین ہسپتال میں تھے۔

    خارکیئو کے گورنر اولے سینی ہوبوف کے مطابق کوپیانسک کے علاقے میں ایک گھر ان حملوں کی زد میں آیا جس میں 85 اور 56 برس کی دو خواتین کی ہلاکت ہوئی۔

    کیئو میں چار لوگ ہلاک جبکہ 16 زخمی ہوئے ہیں، جن میں تین بچے بھی شامل ہیں۔

  16. ’ہم نے دنیا کو پیغام دیا کہ انڈیا دہشتگردی کے خلاف لڑائی کے لیے تیار ہے‘: نریندر مودی

    انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران ہماری افواج نے جو غیر معمولی شجاعت اور مہارت دکھائی اس نے ہر انڈین کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔

    اتوار کے روز اپنے پروگرام ’من کی بات‘ میں بات کرتے ہوئے نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ’جس انداز سے ہمارے بہادر جوانوں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، وہ نہ صرف قابلِ تعریف ہے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک پیغام ہے کہ انڈیا دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں نہ صرف سنجیدہ ہے بلکہ پوری طرح تیار بھی ہے۔‘

    نریندر مودی کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن محض ایک فوجی کارروائی نہیں تھا، بلکہ یہ نئے انڈیا کے عزم، حوصلے اور صلاحیت کی تصویر ہے۔ اس تصویر نے ملک بھر میں حب الوطنی کی ایسی لہر دوڑا دی ہے جو دلوں کو جوڑ رہی ہے، جذبوں کو بیدار کر رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ملک کے طول و عرض میں ایسی ریلیاں نکالی گئیں جن میں ہر طرف انڈین جھنڈے لہرا رہے تھے۔ شہروں، دیہاتوں اور قصبوں سے ہزاروں لوگ ہاتھوں میں انڈیا کا ترنگا لیے اپنے سپاہیوں کی تعظیم اور وطن سے محبت کے اظہار کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔

    مودی نے کہا کہ چنڈی گڑھ جیسے شہروں میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے سول ڈیفنس والنٹیئر بننے کا فیصلہ کیا۔ سوشل میڈیا پر ملی نغمے گونجنے لگے، نظمیں لکھی گئیں ’بیس دن پہلے جب میں بیکانیر گیا تو وہاں بچوں نے مجھے ایک دل کو چھو لینے والی پینٹنگ تحفے میں دی جو اُن کے جذبے کا آئینہ تھی۔‘

    مودی نے کہا کہ آپریشن سندور کی گونج صرف خبروں تک محدود نہ رہی، بلکہ کئی خاندانوں نے اسے اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا۔ بہار کے کٹیہار، یوپی کے کشی نگر اور دیگر شہروں میں جن بچوں کی پیدائش اس دوران ہوئی، ان کے نام ’سندور‘ رکھے گئے۔۔۔ یہ محض نام نہیں، بلکہ فخر اور محبت کا اظہار ہے۔

    انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنا ہمارے جوانوں کی بہادری کا ثبوت ہے لیکن یہ بھی یاد رکھیے کہ اس میں انڈیا میں تیار کردہ ہتھیاروں، آلات اور جدید ٹیکنالوجی کا اہم کردار تھا۔ یہ ہمارے انجینئرز، سائنس دانوں اور محنت کشوں کی برسوں کی محنت اور لگن کا نتیجہ تھا ’یہ ہے ’آتم نربھر بھارت‘ (خودانحصار انڈیا) کی زندہ مثال۔‘

    مودی نے مزید کہا کہ اسی جذبے نے ’ووکل فار لوکل‘ کی مہم کو ایک نئی روح دی ہے۔ کئی مثالیں دل کو چھو جاتی ہیں۔ ایک جوڑے نے کہا کہ اب وہ اپنے بچوں کے لیے صرف انڈیا میں بنے کھلونے ہی خریدیں گے تاکہ حب الوطنی کا جذبہ بچپن سے پروان چڑھے۔

    ’کچھ خاندانوں نے تہیہ کیا ہے کہ اپنی اگلی چھٹیاں انڈیا کے کسی خوبصورت گوشے میں گزاریں گے۔ کئی نوجوانوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ’میڈ اِن انڈیا‘ شادی کریں گے یعنی شادی، شاپنگ اور تقریب کے ہر پہلو میں انڈیا کے مقامی ہنر کو ترجیح دیں گے۔ کچھ افراد نے کہا کہ اب وہ جو بھی تحفہ دیں گے، وہ کسی انڈین ہنر مند کے ہاتھوں کا بنا ہوگا۔‘

    مودی نے کہا کہ یہی ہے انڈیا کی اصل طاقت، عوام کی شمولیت، اُن کا جذبہ، اُن کا فخر۔ آیئے، آج ہم سب ایک عہد کریں: ’جہاں جہاں ممکن ہو، ہم انڈیا میں بنی اشیا کو ترجیح دیں گے۔ یہ صرف ایک معاشی فیصلہ نہیں، بلکہ قومی تعمیر میں شرکت کا جذبہ ہے۔ ہمارا ایک چھوٹا سا قدم، انڈیا کی ترقی کی راہوں کو مضبوط بنا سکتا ہے۔‘

  17. لالو پرساد یادو نے بیٹے تیج پرتاپ کو پارٹی اور خاندان سے نکال دیا

    بہار کے سابق وزیر اعلیٰ اور راشٹریہ جنتا دل کے رہنما لالو پرساد یادو نے اپنے بڑے بیٹے تیج پرتاپ یادو کو چھ سال کے لیے پارٹی سے نکال دیا ہے۔

    لالو یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ہے کہ اب سے تیج پرتاپ کا پارٹی اور خاندان میں کسی قسم کا رول نہیں ہو گا۔

    انھوں نے ایکس پر لکھا ’نجی زندگی میں اخلاقی اقدار کو نظر انداز کرنا سماجی انصاف کے لیے ہماری اجتماعی جدوجہد کو کمزور کر دیتا ہے۔ بڑے بیٹے کی سرگرمیاں، عوامی طرز عمل اور غیر ذمہ دارانہ رویہ ہماری خاندانی اقدار اور روایات کے مطابق نہیں ہے۔‘

    لالو یادو نے لکھا ’ان حالات کی وجہ سے میں انھیں پارٹی اور خاندان سے نکالتا ہوں، اب سے ان کا پارٹی اور خاندان میں کسی قسم کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ انھیں چھ سال کے لیے پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔‘

    انھوں نے لکھا ’وہ خود اپنی ذاتی زندگی کے اچھے اور برے اور خوبیوں اور خامیوں کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو بھی اس کے ساتھ تعلقات رکھے گا اسے اپنی صوابدید پر فیصلہ کرنا چاہیے۔‘

    اس سے پہلے آر جے ڈی لیڈر تیج پرتاپ یادو کے فیس بک اکاؤنٹ سے ایک پوسٹ کی گئی تھی جس پر اپوزیشن نے آر جے ڈی کو نشانہ بنایا تھا۔

    اس کے بعد تیج پرتاپ یادو نے انسٹاگرام پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہیک ہو گیا ہے اور ان کی تصاویر کو غلط ایڈٹ کیا گیا ہے۔

  18. بریکنگ, یوکرین میں روس کے تازہ فضائی حملے، کم از کم 12 افراد ہلاک

    یوکرین میں روسی ڈرون اور میزائل حملوں میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

    سرکاری ایمرجنسی سروس نے بتایا کہ کیئو کے مغرب میں واقع زیتومیر میں تین بچے اور جنوبی شہر میکولائیف میں ایک 70 سالہ شخص ہلاک ہوا۔

    یہ ایسے وقت ہوا ہے جب ایک دن پہلے ہی روسی حملے کے آغاز کے بعد سے یوکرین کے دارالحکومت پر سب سے بھاری حملے کیے گئے۔

    سنیچر کے روز یوکرین میں ہونے والے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے اور یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب لڑائی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کے نتیجے میں قیدیوں کا تبادلہ ہوا ہے لیکن روس نے جنگ بندی کے مطالبے کو نظر انداز کر دیا ہے۔

    روسی صدر ولادیمیر پوتن نے فروری 2022 میں یوکرین پر حملے کا آغاز کیا تھا اور ماسکو اس وقت یوکرین کے تقریبا 20 فیصد علاقے پر قابض ہے۔

    اس میں یوکرین کا جنوبی جزیرہ نما کریمیا بھی شامل ہے جسے روس نے 2014 میں الحاق کیا تھا۔

    یوکرین کی فضائیہ کا کہنا ہے کہ اس نے سنیچر کے روز مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بج کر 40 منٹ سے اب تک 45 کروز میزائل وں کو مار گرایا ہے اور 266 بغیر پائلٹ کے یو اے ویز کو مار گرایا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ یوکرین کے زیادہ تر علاقے رات بھر ہونے والے حملوں سے متاثر ہوئے ہیں۔

    فضائیہ نے 22 مقامات پر حملے ریکارڈ کیے اور 15 علاقوں میں کروز میزائل اور یو اے وی مار گرائے گئے۔

    فیس بک پر ایک بیان میں خمیلنیٹسکی کے ریجنل ہیڈ سرہی تیورن نے کہا کہ چار افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا،’چھ نجی مکانات تباہ ہو گئے، اور دیگر 20 کو نقصان پہنچا۔‘

    یوکرین کی سرکاری ہنگامی سروس ڈی ایس این ایس نے کہا ہے کہ کیئو کے علاقے میں چار افراد ہلاک اور تین بچوں سمیت 16 زخمی ہوئے ہیں۔

    کیئو کے علاقائی سربراہ میکولا کلاشنک نے سوشل میڈیا پر روسی حملوں کے بعد کئی گھروں کو نذر آتش کیے جانے کی تصاویر پوسٹ کیں۔

    دارالحکومت میں مقامی حکام نے 11 افراد کے زخمی ہونے، متعدد مقامات پر آتشزدگی اور رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاع دی ہے جن میں ایک ہاسٹل بھی شامل ہے۔

    سینکڑوں افراد کو شہر کے میٹرو کے زیر زمین سٹیشنوں میں پناہ لیتے ہوئے دیکھا گیا۔

    ڈی ایس این ایس کا کہنا ہے کہ زیتومیر میں 8، 12 اور 17 سال کی عمر کے تین بچے ہلاک جبکہ 10 افراد زخمی اور مکانات تباہ ہوئے ہیں۔

    ڈی ایس این ایس کا کہنا ہے کہ میکولائیو میں ڈرون حملے کا نشانہ بننے والی پانچ منزلہ رہائشی عمارت سے ایک معمر شخص کی لاش نکالی گئی جبکہ مزید پانچ افراد زخمی ہوئے۔

    خارکیو میں علاقائی حکام نے تین افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔

    روسی علاقوں میں ڈررون حملے

    روس کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یوکرین کے ڈرون طیاروں نے آٹھ روسی علاقوں کو نشانہ بنایا۔

    روسی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ماسکو کے وقت کے مطابق 24 مئی کو مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے سے نصف شب تک ڈیوٹی پر موجود ایئر ڈیفنس یونٹس نے یوکرین کے 95 طیاروں کی طرز کی بغیر پائلٹ والی فضائی گاڑیوں کو تباہ کیا اور روکا۔

    ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانن نے بتایا کہ دارالحکومت کی طرف جانے والے 12 ڈرون مار گرائے گئے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ڈرون کے ملبے کے گرنے سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے ہنگامی خدمات کے عملے کو تعینات کیا گیا تھا۔

    مقامی گورنر دمتری ملیئیف نے بتایا کہ ماسکو کے جنوب میں تولا کے علاقے میں ڈرون کا ملبہ ایک رہائشی عمارت کے صحن میں گر کر تباہ ہوا جس کے نتیجے میں متعدد اپارٹمنٹس کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔

    مذاکرات اور قیدیوں کا تبادلہ

    یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب روس اور یوکرین ترکی میں دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کے بعد قیدیوں کا تبادلہ کر رہے ہیں۔

    جمعے کے روز یوکرین اور روس نے 390 فوجیوں اور شہری قیدیوں کو ایک دوسرے کے حوالے کیا جو فروری 2022 میں روس کی جانب سے مکمل حملے کے آغاز کے بعد سب سے بڑا واقعہ ہے۔

    سنیچر کے روز یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اعلان کیا تھا کہ کریملن کے ساتھ تبادلے کے معاہدے کے تحت مزید 307 یوکرینی قیدی وطن واپس آ گئے ہیں۔

    دونوں ممالک نے مجموعی طور پر ایک ہزار قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق کیا ہے اور اتوار کو ایک اور تبادلہ متوقع ہے۔

    یہ تبادلہ تین سالوں میں دونوں فریقوں کے درمیان پہلی بار آمنے سامنے ہونے والی بات چیت کے بعد کیا گیا ہے، جو ترکی میں ہوا تھا۔

    اس ہفتے کے اوائل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پوتن کے درمیان دو گھنٹے تک ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی تھی جس میں امریکہ کی جانب سے مجوزہ یوکرین جنگ بندی معاہدے پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ بات چیت بہت اچھی رہی ہے اور روس اور یوکرین فوری طور پر جنگ بندی اور جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات شروع کریں گے۔ تاہم پوتن نے صرف یہ کہا ہے کہ روس یوکرین کے ساتھ مل کر مستقبل میں ممکنہ امن کے لیے ایک یادداشت تیار کرے گا اور انھوں نے 30 روزہ جنگ بندی کو قبول نہیں کیا۔

  19. حکومت کا اسلام آباد میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف فوری آپریشن کا فیصلہ

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف فوری آپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔

    یہ بات انھوں نے اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اہم اجلاس میں کہی، جس میں چیف کمشنر اسلام آباد، آئی جی اسلام آباد پولیس، ڈپٹی کمشنر، ڈی آئی جیز، اور پولیس حکام نے شرکت کی۔

    وفاقی وزیر ِ داحلہ نے حکم دیا کہ بغیر منظور شدہ گھروں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔ جن میں غیر منظور شدہ ہاوسنگ سوسائٹیز کے خلاف کریک ڈاؤن بھی شامل ہو گا۔

    وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ متعلقہ افسران اس سلسلے میں زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

    محسن نقوی نے کہا کہ ’لینڈ انفارمیشن اینڈ مینجمنٹ سسٹم (لمز) کے ذریعے سیٹلائٹ میپنگ کرکے ہر قسم کی غیر قانونی تعمیرات کو روکا جائے۔

    وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ اسلام آباد میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر مؤثر کنٹرول یقینی بنایا جائے اور عیدالاضحی کے دنوں میں شہر کی صفائی کا خصوصی خیال رکھا جائے۔