آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

غزہ پر حملے حد سے تجاوز کر گئے، امداد تقسیم کرنے کے نئے اسرائیلی اور امریکی ماڈل کی حمایت نہیں کر سکتے: یورپی یونین

یورپی یونین کی اعلیٰ سفارت کار کاجا کیلس نے کہا ہے کہ ’غزہ میں اسرائیلی حملے حماس سے لڑنے کے لیے ضروری حد سے بڑھ گئے ہیں‘ کیونکہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین نے امریکہ اور اسرائیل کی حمایت یافتہ امداد کی تقسیم کے نئے ماڈل کی حمایت نہیں کی جو اقوام متحدہ اور دیگر انسانی تنظیموں کو نظر انداز کر کے کی جا رہی ہے۔

خلاصہ

  • وزیر اعظم شہباز شریف نے ترکی اور آذر بائیجان کی پاکستان کے لیے حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا نے پہلگام واقعے کی آڑ میں جارحیت کا راستہ اختیار کیا۔
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر اور آذر بائیجان کے وزیر دفاع کے درمیان ملاقات ہوئی ہے جس میں علاقائی سلامتی اور دو طرفہ تعلقات کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
  • انڈیا کے نوجوان نفرت کی سیاست کو مسترد کریں: انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان پر پاکستانی وزارتِ خارجہ کا ردِعمل
  • جنوبی وزیرستان میں مبینہ کواڈ کاپٹر حملے میں 23 افراد زخمی

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    29 مئی کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. نیتن یاہو کا دعویٰ: حماس کے غزہ چیف اور یحییٰ سنوار کے بھائی محمد سنوار کو ہلاک کر دیا گیا

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا دعویٰ ہے کہ ان کی فوج نے حماس کے غزہ چیف محمد سنوار کو ’ہلاک کر دیا ہے‘، جو اسرائیل کے سب سے مطلوب افراد میں سے ایک اور حماس کے سابق رہنما یحییٰ سنوار کے بھائی تھے۔

    رپورٹس کے مطابق محمد سنوار 13 مئی کو جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں واقع یورپی ہسپتال کے صحن اور اطراف میں کیے گئے ایک بڑے اسرائیلی فضائی حملے کا ہدف تھے۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں حماس کا ’زیرِ زمین انفراسٹرکچر‘ تباہ کر دیا گیا۔

    غزہ میں حماس کے زیرِ انتظام سول ڈیفنس ادارے کے مطابق اس حملے میں 28 افراد ہلاک ہوئے۔ تاہم، حماس نے محمد سنوار کی ہلاکت کی نہ تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید۔

    یاد رہے کہ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یحییٰ سنوار 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے منصوبہ ساز تھے۔ وہ اکتوبر میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔

    حماس کے اسرائیل پر حملے میں لگ بھگ 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 251 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔

    تقریباً 600 روز قبل ہونے والے حملے کے جواب میں اسرائیل نے غزہ پر فضائی حملوں اور فوجی کارروائی کا آغاز کیا جس میں اب تک کم از کم غزہ میں 54,084 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے محمد سنوار کی ہلاکت کا اعلان منگل کے روز کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) کے ایک خصوصی اجلاس کے دوران کیا۔ یہ اجلاس حزبِ اختلاف کی جانب سے بلایا گیا تھا تاکہ ’حکومت کی جنگ کے اہداف، تمام یرغمالیوں کی واپسی اور حماس کو شکست دینے میں مکمل ناکامی‘ پر بحث کی جا سکے۔

    تنقید کے جواب میں نیتن یاہو نے اسرائیل کی کامیابیاں گنوانا شروع کیں۔

    ان کا کہنا تھا: ’وار آف ریوائول یا احیائے نو کی اس جنگ کے 600 دنوں میں ہم نے واقعی مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ بدل دیا ہے۔ ہم نے دہشتگردوں کو اپنی سرزمین سے نکالا، طاقت کے ساتھ غزہ کی پٹی میں داخل ہوئے، ہزاروں دہشتگردوں کو ہلاک کیا اور محمد الضیف، اسماعیل ہنیہ، یحییٰ سنوار اور محمد سنوار کو انجام تک پہنچایا۔‘

  3. ٹرمپ اور امریکی یونیورسٹیوں کا تنازع: ’غیر ملکی حکومتوں اور حکام نے امریکی کمپنیوں اور شہریوں کو سینسرشپ کا ہدف بنایا‘

    امریکی انتظامیہ نے سفارت خانوں کو غیر ملکی طلبا کو سٹوڈنٹ ویزے جاری کرنے سے روکتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سٹوڈنٹ ویزے کے درخواست دہندگان کی سوشل میڈیا پروفائل کی جانچ کا عمل مزید وسیع کر رہی ہے۔

    یہ احکامات ایک ایسے وقت میں جاری کیے گئے ہیں جب ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکہ کے کچھ اعلیٰ ترین تعلیمی اداروں کے ساتھ تنازع جاری ہے۔ امریکی صدر کا خیال ہے کہ ان کالجوں اور یونیورسٹیوں کا بائیں بازو کی جانب بہت زیادہ جھکاؤ ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان میں سے کچھ اداروں نے ’یہود مخالف رویے‘ کو فروغ دیا اور امتیازی داخلہ پالیسیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    امریکی محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری میمو میں امریکی سفارت خانوں کو ہدایت جاری کی گئی ہے وہ ویزے کے خواہشمند طلبا کے لیے مزید ویزا اپوائنٹمنٹ جاری نہ کریں۔ تاہم جو ویزا اپوائنٹمنٹ پہلے سے طے شدہ ہیں وہ معمول کے مطابق ہوں گے۔

    سفارتی کیبل میں یہ بھی کہا گیا کہ محکمہ خارجہ تمام سٹوڈنٹ ویزا درخواستوں پر لاگو ’ضروری سوشل میڈیا سکریننگ اور جانچ‘ کے پروگرام میں توسیع کی تیاری کر رہا ہے۔

    عام طور پر امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند غیر ملکی طلبا کو منظوری سے قبل اپنے آبائی ملک میں کسی امریکی سفارت خانے میں انٹرویو کا وقت لینا پڑتا ہے۔

    امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں امریکی آئین آزادی اظہار رائے کا حق دیتا ہے وہیں ان کے یہ بات نوٹس میں آئی ہے کہ غیرملکی حکومتیں اور حکام نے امریکہ کو ہی ہدف بنانا شروع کر دیا ہے۔

    ان کے مطابق کچھ واقعات میں تو غیرملکی حکام نے امریکہ کی مواصلاتی کمپنیوں اور شہریوں کے خلاف ہی نازیبا سینسرشپ شروع کر رکھی ہے جس کا انھیں کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی خود مختاری پر آنچ نہ آنے دے اور اس کی حفاظت یقینی بنائے۔

  4. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گرمی میں برف باری، کلاؤڈ برسٹ، تیز بارشیں، ہلاکتیں اور گھروں کی تباہی, نصیر چوہدری، صحافی

    کشمیر میں موسمی اثرات، مئی جون جیسے شدید گرم موسم میں گرمی کے ساتھ ایک طرف بلند پہاڑوں پر برفباری، دوسری جانب کلاؤڈ برسٹ نے تباہی مچا دی۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع مظفرآباد کے گاؤں بلگراں میں اچانک موسم کی تبدیلی نے ایسی تباہی مچائی کہ گاوں کا نقشہ ہی بدل گیا۔ وہیں پہلی بار ایسا دیکھنے میں آیا مئی جون کے ماہ میں جب سخت گرمی پڑتی وہاں آج پہاڑوں پر برفباری دیکھنے کو مل رہی ہے۔

    دوسری جانب کلاؤڈ برسٹ اور اچانک سیلاب نے چار افراد کی جان لے لی جن میں تین خواتین اور ایک مرد شامل ہیں۔ مرد کی لاش ابھی تک نہیں مل سکی اور کئی درجن مال مویشی بھی اس سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں جن کے نشانات تک نہیں مل رہے۔

    علاقے میں گذشتہ روز شام تین بجے کے قریب غیر معمولی موسم دیکھنے آیا اچانک تیز ہوائیں چلیں، اور پھر چند ہی لمحوں میں کلاؤڈ برسٹ نے پورے گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ گاؤں کے 25 مکانات سمیت ایک مسجد بھی سیلابی پانی کی نذر ہو گئی۔ لوگوں نے بمشکل اپنی جان بچائی۔

    گاؤں بلگراں کی رہائشی زائدہ بیگم نے بتایا میں نماز پڑھ رہی تھیں، کچھ سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملا، بس ایک دم تیز آندھی اور پھر سیلاب آگیا چند سیکنڈ میں پانی گھروں کے اوپر سے گزرنے لگا۔ ان کے مطابق ’ہم نے بہت مشکل سے اپنی جان بچائی، رات مشکل سے گزاری، ہم جب صبع آئے تو ہمارے گاوں کا نقشہ ہی بدل چکا تھا۔‘

    ان کے مطابق ’ہمارے گھر کہاں تھے کچھ پتہ نہیں، ایسا لگتا یہاں کبھی گھر تھے ہی نہیں، اسی گاؤں کی ایک اور خاتون کا کہنا تھا کہ پہلے کبھی ایسا طوفان نہیں دیکھا عام طور پر موسم بدلنے میں وقت لگتا تھا مگر کل ایک دم سیلاب آ گیا۔

    ان کے مطابق ’جو بچے، خواتین بھاگ سکتے تھے، وہ بچ گئے دو خواتین پانی میں بہہ گئیں جن کی لاشیں بعد میں نکالی گئیں۔

    گاؤں کے ایک اور رہائشی عاشق حسین نقوی نے بتایا کہ ’ہمیں نہ راشن چاہیے، نہ امداد ہمیں صرف محفوظ جگہ پر منتقل کیا جائے تاکہ ہم دوبارہ اپنی زندگی شروع کر سکیں، یہاں اب رہنا خطرناک ہے، کل جس طرح قدرتی آفت آئی اس کے بعد ایسی تنگ جگہ پر رہنما ہمارے لیے اب مشکل ہے۔

    ان کے مطابق ’کوئی پتہ نہیں کب کیا ہو جائے، یہاں چار سو سال پرانی مسجد تھی، اخروٹ کے باغ تھے، زرعی زمین تھی، آج پتھروں کا ڈھیر ہے تو ہم اب باقی زندگی یہاں کیسے گزار سکتے ہیں۔‘

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اچانک اور شدید موسمی تغیرات موسمیاتی تبدیلی کا واضح اشارہ ہیں، جس کے باعث مستقبل میں ایسے واقعات کی شدت اور تعداد میں اضافہ متوقع ہے۔

  5. وفاقی وزیر پاور ڈویژن اویس لغاری کی جانب سے نیپرا کے فیصلوں سے بجلی صارفین پر بوجھ اور سرمایہ کاری پر منفی اثر ات کے خدشات کا اظہار, تنویر ملک، صحافی

    وفاقی وزیر پاور ڈویژن اویس لغاری نے بجلی شعبے کے ریگولیٹری ادارے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا ) کی جانب سے لیے گئے فیصلوں پر خدشات کا اظہار کیا ہے جس سے بجلی شعبے میں سرمایہ کاری کے متاثر ہونے کے ساتھ صارفین پر بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پیغام میں انھوں نے کے الیکٹرک کے لیے جاری فیصلوں پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے فیصلے آئندہ ملٹی ائیر ٹیرف دورانیہ میں سرمایہ کاری کو متاثر کر سکتے اور فیصلے کے وفاق کی سبسڈیز یکساں ٹیرف نظام میں طویل مدتی اثرات آئیں گے۔

    انھوں نے کہا پاور ڈویژن نیپرا کی جانب سے کے الیکٹرک کے لیے جاری ملٹی ائیر ٹیرف کا جائزہ لے گا۔ انھوں نے کہا پرانے جنریشن ٹیرف کے بارے میں فیصلے پر نظرثانی کے لیے نیپرا کی کے منتظر ہیں جس کے لیے دسمبر 2024 میں کہا گیا تھا۔

    انھوں نے کہا اس نظر ثانی فیصلے میں تاخیر سے پاور سیکٹر پر سنگین مالیاتی اثرات آرہے اور اگر ایسے معاملات پر توجہ نہ دی گئی تو ریگولیٹری نظام متاثر ہوگا۔ اویس لغاری نے کہا ایسے اقدامات بجلی کی تقسیم کے شعبے میں نجی شعبے کو راغب کرنے کی کوششوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔

  6. غزہ پر اسرائیلی حملے ضروری حد سے بڑھ گئے ہیں، امداد تقسیم کرنے کے نئے ماڈل کی حمایت نہیں کر سکتے: یورپی یونین

    یورپی یونین کی اعلیٰ سفارت کار، کاجا کیلس نے کہا ہے کہ ’غزہ میں اسرائیلی حملے حماس سے لڑنے کے لیے ضروری حد سے بڑھ گئے ہیں‘ کیونکہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    کاجا کیلس نے یہ بھی کہا کہ یورپی یونین نے امریکہ اور اسرائیل کی حمایت یافتہ امداد کی تقسیم کے نئے ماڈل کی حمایت نہیں کی جو اقوام متحدہ اور دیگر انسانی تنظیموں کو نظر انداز کر کے کی جا رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم انسانی امداد کی تقسیم کی نجکاری کی حمایت نہیں کرتے۔ انسانی امداد کو ہتھیار نہیں بنایا جا سکتا۔‘

    حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ مارچ میں جنگ بندی کے بعد دوبارہ جنگ شروع کرنے کے بعد سے اسرائیلی فضائی حملوں اور دیگر فوجی کارروائیوں میں 3,924 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حماس کو تباہ کرنے اور گروپ کے زیر قبضہ یرغمالیوں کو واپس لینے کے لیے کارروائی کر رہا ہے۔

    اسرائیل کی حالیہ بمباری میں بڑی تعداد میں عام شہری مارے گئے ہیں۔ گذشتہ جمعے کو خان ​​یونس میں ایک فضائی حملے میں ایک فلسطینی ڈاکٹر کے 10 بچوں میں سے نو ہلاک ہو گئے تھے۔

    پیر کی رات شمالی غزہ میں بے گھر خاندانوں کو پناہ دینے والی ایک سکول کی عمارت میں کم از کم 35 افراد ہلاک ہو گئے۔

    کیلاس کے ریمارکس کے بعد جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے بھی بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ غزہ میں اسرائیل کے مقاصد کو ’اب نہیں سمجھ پا رہے ہیں‘۔

    انھوں نے کہا کہ جس طرح سے شہری آبادی متاثر ہوئی ہے۔۔ حماس کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مزید جواز نہیں بنایا جا سکتا۔

    یورپی یونین غزہ کے لیے انسانی امداد کے سب سے بڑے عطیہ دہندگان میں سے ایک ہے، اس کے باوجود کاجا کیلس نے کہا کہ ان کا زیادہ تر حصہ فی الحال فلسطینیوں تک نہیں پہنچایا جا رہا ہے، جنھیں اس کی ضرورت ہے۔ اسرائیل نے مارچ میں غزہ کی مکمل ناکہ بندی کر دی تھی اور صرف 11 ہفتوں کے بعد ہی امداد کی اجازت دینا شروع کر دی تھی۔

    کاجا کیلس نے کہا کہ ’غزہ کو زیادہ تر امداد یورپی یونین فراہم کرتی ہے لیکن یہ لوگوں تک نہیں پہنچ رہی ہے کیونکہ یہ اسرائیل کی طرف سے اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔‘

  7. ’سیاحت کو فروغ دینے کا عزم‘، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پہلگام کے بعد گلمرگ پہنچ گئے

    پہلگام حملے کے بعد انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت اس وادی میں حالات کو معمول پر لانے میں مصروف ہے۔ اس خطے کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے گلمرگ میں صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم جموں و کشمیر میں سیاحت کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو عمل 22 اپریل کے بعد رک گیا تھا، ہم یہاں سے ان (سیاحوں) کو پیغام دینا چاہتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس سے پہلے کہ ملک بھر سے لوگ یہاں آنا شروع کریں، ہمیں خود یہاں آنا چاہیے۔ کل ہم نے پہلگام میں کابینہ کی میٹنگ کی اور آج ہم نے گلمرگ میں تمام انتظامی سیکریٹریز اور محکموں کے سربراہوں کے ساتھ میٹنگ کی۔‘

    وزیر اعلیٰ عبداللہ نے کہا کہ ’ہماری کوشش ہے کہ یہاں کچھ سرگرمیاں بڑھائیں اور اس کی کچھ تشہیر بھی کریں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’میں نے وزیر تعلیم سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ سکول اور کالج کے بچوں کو گلمرگ اور پہلگام میں پکنک کے لیے لانا شروع کریں، تاکہ حالات معمول پر آسکیں۔‘

    واضح رہے کہ پہلگام حملے کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ 22 اپریل 2025 کو پہلگام کی وادی بائیسران میں شدت پسندوں نے فائرنگ کر کے 26 سیاحوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

    یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب جموں و کشمیر میں سیاحت کے دوبارہ پٹری پر آنے کی خبریں آنا شروع ہو گئی تھیں۔

    انڈیا نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تاہم پاکستان نے نہ صرف اس الزام کی تردید کی بلکہ آزاد اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔

  8. ’یہاں احمدی خاتون کی لاش کیوں رکھی‘، مقامی افراد نے کولڈ سٹوریج باکس کو آگ لگا دی

    پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر ناوروال کی تحصیل شکر گڑھ میں نامعلوم افراد نے اس کولڈ سٹوریج باکس کو آگ لگا دی جس میں اہل علاقہ کے مطابق احمدی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کی لاش کو رکھا گیا تھا۔

    یہ واقعہ تحصیل نارووال کے گاؤں کلا میں پیش آیا۔

    مقامی صحافی میاں شاہد اقبال کے مطابق چند روز قبل ایک خاتون فوت ہو گئی تھیں اور ان کی تدفین میں اس لیے تاخیر تھی کیونکہ ان خاتون کے رشتہ داروں نے ملک کے دوسرے شہروں سے آنا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ ان کے علاقے میں یہ روایت ہے کہ اہل علاقہ کے تعاون سے ایک کولڈ سٹوریج باکس خریدا جاتا ہے تاکہ گرمیوں میں اگر علاقے میں کوئی وفات پا جائے اور اس کی تدفین میں تاخیر ہو تو لاش کو کولڈ سٹوریج بارکس میں رکھا جاتا ہے تاکہ لاش خراب نہ ہو۔

    انھوں نے کہا کہ جب علاقے کے لوگوں کو معلوم ہوا کہ اس کولڈ سٹوریج باکس میں ایک خاتون کی لاش کو بھی رکھا گیا تھا جس کا تعلق احمدی کمیونٹی سے ہے تو کچھ نامعلوم افراد نے اس کولڈ سٹوریج باکس کو آگ لگا دی۔

    میاں شاہد اقبال کے مطابق مقامی تھانے میں اس واقعہ سے متعلق ابھی تک کوئی درخواست نہیں دی گئی۔

  9. غزہ میں امداد کی تقسیم کے دوران ہجوم پر فائرنگ، 47 افراد زخمی: اقوام متحدہ

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ منگل کے روز غزہ میں ایک امدادی مرکز پر ہجوم کے اوپر ہونے والے حملے میں 47 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    یہ نیا امدادی مرکز امریکہ اور اسرائیل کی حمایت یافتہ ایک نئے گروہ کی جانب سے چلایا جا رہا ہے۔

    اقوام متحدہ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق ادارہ اب بھی اس حوالے سے معلومات اکھٹا کر رہا ہے تاہم اب تک کی معلومات کے مطابق اس میں زیادہ تر زخمی گولیوں کی وجہ سے ہوئے ہیں اور یہ ممکنہ طور پر اسرائیلی فوج کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ تھی۔‘

    غزہ کی حماس کے زیر انتظام وزارت صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ کہ اس حملے میں ایک شخص ہلاک اور 48 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق وہ ابھی ان اطلاعات کی جانچ کر رہا ہے۔ ایک ترجمان نے کہا کہ فوجیوں نے جنوبی شہر رفح میں غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) کی سائٹ کے باہر کے علاقے میں ہوائی فائرنگ کی لیکن انھوں نے لوگوں پر فائرنگ نہیں کی۔

    جی ایچ ایف کا امداد کی تقسیم کا نظام اقوام متحدہ کے بجائے امریکی سکیورٹی کنٹریکٹرز کو استعمال کرتا ہے۔ ای ایچ ایف نے ان الزامات کو غیر اخلاقی اور ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

    امریکہ اور اسرائیل کی حکومتوں نے کہا ہے کہ وہ حماس کی جانب سے امداد چوری ہونے سے روک رہے ہیں جس کی مسلح گروپ حماس تردید کرتا ہے۔

    اقوام متحدہ کے اداروں نے متنبہ کیا ہے کہ غزہ کی 21 لاکھ کی آبادی کو تقریبا تین ماہ سے جاری اسرائیلی ناکہ بندی کے بعد جان لیوا بھوک کا سامنا ہے۔

    منگل کے روز امداد کے لیے بے چین ہزاروں فلسطینیوں نے رفح میں واقع جی ایچ ایف ڈسٹری بیوشن سینٹر کا رخ کیا جو مکمل طور پر اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے۔

    سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دوپہر کے وقت ہزاروں مرد، خواتین اور بچے ٹوٹی پھوٹی زمین اور باڑوں سے گزرتے اس مقام پر داخل ہو رہے ہیں۔

    ایک ویڈیو کلپ میں کچھ لوگ دوڑتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں اور گولیوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

    فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے بدھ کے روز کہا تھا کہ اسے اطلاع ملی ہے کہ اس واقعے کے دوران تقریبا 47 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    اجیت سنگھے نے جنیوا میں نامہ نگاروں کو بتایا ’اس دوران گولیوں کا استعمال ہوا ہے ہم اس بات کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ زخمیوں کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ ہم جو جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ آئی ڈی ایف کی طرف سے فائرنگ کی گئی تھی۔‘

    غزہ کی وزارت صحت کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ایک شخص سلیم ابو موسیٰ امدادی مرکز میں گولی لگنے سے ہلاک ہو گیا۔انھیں ابتدائی طور پر رفح کے ریڈ کراس فیلڈ اسپتال لے جایا گیا جہاں انھیں خان یونس کے ناصر اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ وہ اقوام متحدہ سے معلومات اکھٹا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    آئی ڈی ایف کے ترجمان کرنل اولیور رافووچ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’اس وقت تک ہمارے پاس اس معاملے پر کوئی جامع معلومات نہیں ہیں۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوجیوں نے جی ایچ ایف مرکز کے باہر کے علاقے میں ’ہوائی فائرنگ‘ کی ہے اور کسی بھی صورت میں لوگوں پر فائرنگ نہیں کی۔‘

    جی ایچ ایف نے منگل کے روز کہا کہ ایک موقع پر ان کی ٹیم ’غزہ کے باشندوں کی ایک چھوٹی تعداد کو محفوظ طریقے سے امداد لینے اور ختم ہونے کی اجازت دینے کے لیے پیچھے ہٹ گئی۔ یہ جانی نقصان سے بچنے کے لیے جی ایچ ایف پروٹوکول کے مطابق تھا۔‘

  10. انڈیا نے پہلگام واقعے کی آڑ میں جارحیت کا راستہ اختیار کیا، ہم کل بھی امن چاہتے تھے اور آگے بھی امن کے خواہاں رہیں گے:شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے انڈیا کےساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران ترکی اور آذر بائیجان کی پاکستان کے لیے حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا نے پہلگام واقعے کی آڑ میں جارحیت کا راستہ اختیار کیا۔ ہم کل بھی امن کے خواہاں تھے، آج بھی ہیں اور مستقبل میں بھی امن کو ترجیح دیں گے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے یہ بات آذربائیجان کے شہر لاچین میں پاکستان، ترکی اور آذربائیجان کے سہ فریقی اجلاس میں خطاب کے دوران کہی۔

    پاکستان کے سرکاری ٹی وی پی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ترکی اور آذربائیجان کے صدور کے ہمراہ آذر بائیجان کے یوم آزادی کے حوالے سے تقریب میں بھی شرکت کی۔

    اس تقریب سے خطاب کے دوران شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان مسائل کو مذاکرات کی میز پر حل کرنا چاہتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا نے بغیر شواہد پاکستان پر الزام عائد کیا اور پہلگام واقعے سے متعلق کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔

    ’ہم نے انڈیا کو پیشکش کی کہ اس کی تحقیقات میں تعاون کرنے کو تیار ہیں۔ تاہم انڈیا نے اسے مسترد کیا۔ انڈیا پاکستان کا پانی روکنا چاہتا ہے اور پاکستان کے حصے کے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہ رہا ہے تاہم اس کا یہ خواب ہم پورا نہیں ہونے دیں گے۔ یہ پانی ہمارے 24 کروڑ عوام کی لائف لائن ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس ساری صورت حال میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کا دنیا میں سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جس میں 90 ہزار سے زیادہ جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہمارا عزم غیر متزلزل ہے۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ سہہ فریقی اجلاس ہمیں یکسوئی کے ساتھ آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ پاکستان خوش قسمت ہے کہ اس کے ترکی اور آدربائیجان جیسے سچے دوست موجود ہیں۔ شہباز شریف نے آذربائیجان کی حکومت اور عوام کو ان کے یوم آزادی پر مبارکباد پیش کی۔‘

    آذر بائیجان کا پاکستان میں دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان

    آذربائیجان میں جاری پاکستان، ترکی، آذربائیجان سہ فریقی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آذربائیجان الہام علیوف نے کہا ہے کہ پاکستان،ترکی اور آذربائیجان مشترکہ تاریخ اور ثقافت میں بندھے ہوئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ 2020 میں ہونے والی جنگ میں ترکی اورپاکستان نے ہماری بھرپور مدد کی، پاکستان، ترکی اور آذربائیجان مشترکہ اہداف کے حصول کےلیے مل کر آگے بڑھ رہے ہیں۔

    صدر الہام علیوف نے کہا کہ ’آذربائیجان پاکستان میں دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا اور اس حوالے سے سرمایہ کاری کے منصوبوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘

    آذربائیجان کے آزاد ہونے والے علاقوں میں ترقی اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہوگا: ترک صدر

    سہ فریقی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوغان نے کہا کہ تینوں ملکوں کے تعلقات باہمی احترام اور اعتماد پرمبنی ہیں اور تینوں ملکوں کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری کومضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔

    طیب اردوغان کا کہنا تھا یقین ہے کہ آذربائیجان کے آزاد ہونے والے علاقوں میں ترقی اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہوگا۔

  11. فیلڈ مارشل عاصم منیر اور آذر بائیجان کے وزیر دفاع کی ملاقات میں دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق

    فیلڈ مارشل عاصم منیر اور آذر بائیجان کے وزیر دفاع کے درمیان ملاقات ہوئی ہے جس میں علاقائی سلامتی اور دو طرفہ تعلقات کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے اعلامیے کے مطابق فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے آذربائیجان کے دورے کے دوران یہ ملاقات ہوئی ہے۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے اعلامیے کے مطابق آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط دوطرفہ تعلقات کو سراہا اور آذربائیجان کے ساتھ دفاعی تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے پاکستان کے عزم پر بھی زور دیا ہے۔

  12. بڑھتے سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر ایشیا پیسفک ممالک کے دفاعی بجٹ میں اضافہ

    لندن میں قائم بین الاقوامی ادارہ برائے سٹریٹیجک سٹڈیز (آئی آئی ایس ایس) کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ سالانہ ایشیا پیسفک ریجنل سکیورٹی اسسمنٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ ایشیائی ممالک ممکنہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر دفاعی بجٹ میں اضافہ کر رہے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق، دفاعی شعبے میں غیر ملکی شراکت داری اب بھی اہم ہے جب کہ یہ ممالک اس شعبے میں خود انحصاری حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’یوکرین اور مشرق وسطیٰ میں حالیہ تنازعات، امریکہ اور چین کے درمیان سٹریٹیجک مقابلے اور ایشیا پیسیفک کے سکیورٹی منظر نامے میں تنزلی دفاعی صنعتی شراکت داری میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق، ابھرتے تنازعات فوجی صلاحیتوں میں اضافے کے رجحان کو فروغ دے رہے ہیں۔

    2022 اور 2024 کے درمیان جنوب مشرقی ایشیا کے اہم ممالک انڈونیشیا، ملائیشیا، فلپائن، سنگاپور، تھائی لینڈ اور ویتنام کا دفاعی خریداری اور تحقیق پر اخراجات 2.7 ارب ڈالرز اضافے کے ساتھ 10.5 بلین ڈالر تک پہنچ گئے۔

    ان ممالک نے 2024 میں دفاع پر اپنی جی ڈی پی کا اوسطاً 1.5 فیصد خرچ کیا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ ممالک اب بھی آبدوزوں اور جنگی طیاروں سے لے کر ڈرونز، میزائلوں اور انٹیلی جنس اکٹھا کرنے کے جدید الیکٹرانک آلات جیسے اہم دفاعی سازوسامان کے لیے درآمد پر انحصار کرتے ہیں۔

  13. انڈیا کے نوجوان نفرت کی سیاست کو مسترد کریں، نریندر مودی کے ’افسوسناک‘ بیان پر پاکستان کی وزارتِ خارجہ کا ردِ عمل

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے منگل کے روز کی جانے والی تقریر کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا کے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ نفرت کی سیاست کو مسترد کریں۔

    وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ انڈین وزیرِ اعظم کا پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے متعلق حالیہ بیان ان کی بین الاقوامی اصولوں سے دوری اور خطے میں انڈیا کے طرز عمل اور اس کے اعلان کردہ عالمی عزائم کے درمیان موجود تضاد کی عکاسی کرتا ہے۔

    منگل کے روز ریاست گجرات کے اپنے دورے کے دوسرے دن گاندھی نگر میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انڈین وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ 1960 میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت انڈیا جموں کشمیر میں ندیوں پر بنے ڈیموں کی صفائی کا کام نہیں کر سکتا اور نہ ہی ڈیمز کے گیٹ کھول سکتا ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان آبی ذخائر کی گنجائش دو سے تین فیصد تک آ گئی۔ ’کیا میرے ملک کے لوگوں کا پانی پر حق نہیں ہے؟ کیا ہمارے لوگوں کو اُن کے حق کا پانی نہیں ملنا چاہیے کیا؟ اور ابھی تو میں نے (اس ضمن میں) کچھ زیادہ کیا نہیں ہے۔ ابھی تو ہم نے کہا ہے کہ ہم نے (سندھ طاس معاہدے کو) اسے معطل کیا ہے، وہاں (پاکستان) پسینہ چھوٹ رہا ہے۔ اور ہم نے ڈیم کے گیٹ تھوڑے تھوڑے کھول کر صفائی شروع کی، اتنے سے ہی وہاں سیلاب آ جاتا ہے۔‘

    پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم مودی کا بیان افسوسناک مگر غیر متوقع نہیں۔

    پاکستان نے انڈیا پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی نظام کے بنیادی اصولوں بشمول دوسروں کے خود مختاری کے حق کا احترام کرے اور معاہدوں کے تحت اپنے اوپر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کو نبھائے اور اس کے ساتھ ساتھ زبان اور عمل دونوں میں تحمل پیدا کرے۔

    وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ حقیقی معنوں میں بین الاقوامی احترام کی متلاشی کوئی بھی قیادت پہلے اپنے گریبان میں جھانکتی ہے اور ’دوسروں کو دھمکیاں دینے سے پہلے اپنے ضمیر کو صاف کرنے کی کوشش کرتی ہے۔‘

    وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایک ایسی ریاست جو کشمیر میں منظم جبر کرتی آئی ہے اب خود کو مظلوم بنا کر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

  14. جنوبی وزیرستان میں مبینہ کواڈ کاپٹر حملے میں 23 افراد زخمی, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    خیبر پختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان میں مبینہ کواڈ کاپٹر حملے میں کم سے کم 23 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں چار کی حالت تشویشناک ہے۔

    مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ کواڈ کاپٹر سے دھماکہ خیز مواد گِرنے کا یہ واقعہ جنوبی وزیرستان کی تحصیل برمل کی مرکزی شاہراہ کے قریب اُس وقت پیش آیا جب مقامی افراد والی بال کا میچ کھیل رہے تھے۔

    شہریوں کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے ڈرون جیسی چیز کو فضا میں اُڑتے دیکھا اور اس کے بعد دھماکہ ہوا۔ جس مقام پر یہ واقعہ پیش آیا وہاں کچھ دکانیں اور ساتھ ہی والی بال کا گراؤنڈ ہے۔

    اس بارے میں ریجنل پولیس افسر ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن اشفاق انور اور جنوبی وزیرستان لوئر کے ضلعی پولیس افسر خان خیل سے رابطے کی کوشش کی گئی تاہم اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

    ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال وانا کی جانب سے جاری کی گئی فہرست کے مطابق اس واقعے میں مجموعی طور پر 23 افراد زخمی ہوئے۔ ہسپتال کے مطابق چار زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جن میں سے دو کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان ہسپتال ریفر کر دیا گیا ہے۔

    ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال وانا کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر جان محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ بہت سے زخمیوں کو ڈسچارج کر دیا گیا تاہم اُس وقت پانچ زخمی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ زخمیوں کو مختلف قسم کے زخم آئے ہیں جبکہ دو شدید زخمی جن کے سینے پر گہرا زخم تھا اور ان کا زیادہ خون بہہ چکا تھا کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان ہسپتال روانہ کر دیا گیا تھا۔

    ایک سرکاری اہلکار کا دعویٰ ہے کہ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اس وقت مبینہ طور پر علاقے میں مسلح شدت پسند موٹر سائیکل پر جا رہے تھے، تاہم اُن کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا اور مزید تفتیش جاری ہے۔

    جنوبی وزیرستان میں جماعت اسلامی کے امیر اسد اللہ بہیر نے بی بی سی کو بتایا کہ اِس حملے میں بے گناہ افراد زخمی ہوئے ہیں اور اس حوالے سے مقامی سطح پر سخت غم اور غصہ پایا جاتا ہے۔

    اس بارے میں ریجنل پولیس افسر ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن اشفاق انور اور جنوبی وزیرستان لوئر کے ضلعی پولیس افسر خان خیل سے رابطے کی کوشش کی گئی اور انھیں میسج بھی کیے گئے لیکن ان کی طرف سےاب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

    یاد رہے کہ اِس سے قبل 19 مئی کو شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی کے گاؤں ہرمز میں ایک مبینہ ڈرون حملے میں چار بچے ہلاک جبکہ پانچ افراد زخمی ہوئے تھے۔

    اس واقعہ کے بعد مقامی سطح پر بچوں کی لاشوں کو سڑک پر رکھ کر آٹھ روز تک احتجاج اور دھرنا دیا گیا اور گذشتہ روز (27 مئی) ہی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کے بعد یہ دھرنا ختم کر کے لاشوں کی تدفین کی گئی تھی۔ دھرنا منتظمین کے ترجمان مولانا بیت اللہ کا دعویٰ ہے کہ انھیں حکام کی جانب سے یہ یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ آئندہ ڈرون حملے اور شہری علاقوں میں گولہ باری وغیرہ نہیں کی جائے گی۔

    دوسری جانب سرکاری اہلکاروں کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ ان علاقوں میں موجود مسلح شدت پسند بھی اب ڈرون اور کواڈ کاپٹرز کا استعمال کر رہے ہیں، تاہم فی الحال اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

  15. ایران نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک شخص کو پھانسی دے دی

    ایران نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک شخص کو پھانسی دے دی ہے۔

    ایرانی عدلیہ سے وابستہ میزان نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے لیے ’جاسوسی‘ کے الزام میں سزائے موت پانے والے پدرم مدنی کی سزا پر عملدرآمد کر دیا گیا ہے۔

    ایرانی عدلیہ کے مطابق پدرم مدنی کو 2020 میں ’اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے جاسوسی کرنے‘ اور ’غیر قانونی ذرائع سے دولت حاصل کرنے‘ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

    میزان نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ دستیاب دستاویزات کی بنیاد پر پتہ چلا ہے کہ پدرم مدنی نے محفوظ مواصلاتی ذرائع کی مدد سے موساد کے ایک افسر تک خفیہ معلومات پہنچانے کی کوشش کی تھی۔

    سزائے موت پر عمل درآمد حتمی فیصلہ جاری ہونے کے بعد کیا گیا۔

    گذشتہ روز پدرم مدنی کی والدہ نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ ان کے بیٹے خلاف مقدمہ ’ابہام اور مسائل‘ سے بھرا ہوا ہے۔

    اس سے قبل، ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم نے اطلاع دی تھی کہ پدرام مدنی کو اتوار کے روز ایون جیل سے قزل حصار جیل منتقل کر دیا گیا تھا اور ان کے اہل خانہ کو آخری ملاقات کے لیے قزل حصار جانے کا کہنا گیا تھا۔

  16. ’دی غزہ ہیومنیٹیرین فاؤنڈیشن‘ کی جانب سے امدادی سامان کی تقسیم کے دوران بھگدڑ، اسرائیلی فوج کی فائرنگ

    منگل کے روز متنازع امریکی و اسرائیلی حمایت یافتہ امدادی تنظیم کی جانب سے راشن تقسیم کے دوران اس وقت بھگدڑ مچ گئی جب ہزاروں افراد امدادی سامان حاصل کرنے غزہ کے شہر رفح میں تنظیم کے مرکز پہنچ گئے۔

    ’دی غزہ ہیومنیٹیرین فاؤنڈیشن‘ (جی ایچ ایف) نامی تنظیم نے ایک روز قبل ہی اعلان کیا تھا کہ اس نے غزہ میں امداد فراہم کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔

    ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ غزہ کے جنوبی شہر رفح میں ہجوم رکاوٹیں توڑ کر جی ایچ ایف کے احاطے میں داخل ہو گیا۔

    متنازع امدادی گروپ کا کہنا ہے کہ ایک موقع پر اس کی ٹیم پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئی کیونکہ امداد کے حصول کے لیے آنے والوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس ہجوم کو خبردار کرنے لیے گولیاں چلائیں۔

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ رفح سے سامنے آنے والی ویڈیوز ’دل دہلا دینے والی‘ ہیں اور اس کے پاس غزہ کے لوگوں امداد فراہم کرنے کا ایک جامع منصوبہ تیار ہے۔

    جی ایچ ایف مسلح امریکی سکیورٹی کنٹریکٹرز کا استعمال کرتی ہے اور یہ غزہ میں 21 لاکھ فلسطینیوں کو امداد فراہم کرنے والی تنظیم کے طور پر اقوام متحدہ کی جگہ لینا چاہتی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 11 ہفتوں تک جاری رہنے والی اسرائیلی ناکہ بندی کے بعد غزہ میں قحط کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

    اقوام متحدہ اور دیگر امدادی گروہوں نے جی ایچ ایف کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جی ایچ ایف کے منصوبے انسانی حقوق سے متصادم ہیں اور ’امداد کو بطور ہتھیار‘ استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

  17. ’آپ بتائیں عمران خان کیا چھوڑے تو آپ اس کو رہا کریں گے؟‘: علیمہ خان

    پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان کا کہنا ہے کہ اگر آپ کچھ لو، کچھ دو کے تحت معاملہ طے کرنا چاہتے ہیں تو بتا دیں کہ عمران خان کیا چھوڑے تو آپ اس کو رہا کر دیں گے۔

    منگل کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ پیچھے بیٹھے ہوئے جو بھی ہاتھ ہیں جنھوں نے 26ویں ترمیم بنائی یا کوئی اور ہاتھ ہیں، وہ پیچھے سے کام نہ کریں۔

    ’آپ آ کر بتائیں، ہمارے بھائی کے ساتھ آپ کو مسئلہ ہے کیا؟ صرف یہ بتا دیں ہمارے بھائی نے آپ کا کیا بگاڑا ہے؟ً‘

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ ساری زندگی مجھے جیل میں رہ لیں گے لیکن سر نہیں جھکائیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آپ کو اگر بات کرنی ہے تو ہم بہنیں آپ کے ساتھ ہیٹھ جاتی ہیں۔ ’سامنے آ کر بات کریں۔ پیچھے سے یہ چیزیں نہ کریں، آپ ججوں کو نہ دھمکائیں، آپ اراکینِ پارلیمنٹ کو نہ دھمکائیں۔ اثر ختم ہو گیا ہے، اب کوئی نہیں ڈر رہا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ دو سال میں آج تک ہمیں یہ نہیں پتا چلا کہ آپ کو ہمارے بھائی سے چاہیے کیا۔ ’وہ تو قانون کی عملداری اور جمہوریت کے لیے کھڑا ہے۔ آپ بتائیں وہ کیا چیز چھوڑے تو آپ اس کو رہا کریں گے؟‘

    علیمہ خان کا مزید کہنا تھا کہ آپ ہمارے ساتھ میز پر بیٹھیں، ہم تیار ہیں۔ ’ہم پیچھے چھپ چھپ کر باتیں کرنے نہیں لگے۔‘

  18. آندھی، تیز بارشوں اور بادل پھٹنے سے پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں سات افراد ہلاک

    پاکستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ منگل کے روز آندھی، تیز بارش، بادل پھٹنے اور آسمانی بجلی گرنے کے واقعات کے نتیجے میں ملک بھر میں سات افراد ہلاک جبکہ 20 سے زائد زخمی ہوئے۔

    آندھی اور تیز بارشوں سے خیبر پختونخوا میں تین افراد ہلاک

    خیبر پختونخوا کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ منگل کے روز آندھی، تیز بارش اور آسمانی بجلی گرنے کے واقعات کے نتیجے میں صوبے بھر میں تین افراد ہلاک جبکہ سات زخمی ہوئے۔

    پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق، صوابی میں تیز بارش کے نتیجے میں ایک گھر کو جزوی نقصان پہنچا جس کے باعث ایک خاتون ہلاک جبکہ ایک خاتون اور ایک بچہ زخمی ہوئے۔

    شنگلہ میں بھی تیز بارشوں کے باعث گھر منہدم کے ایک واقعے میں ایک شخص ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے۔

    خیبر پختونخوا کے علاقے ہری پور میں آندھی کے باعث دیوار گرنے کا واعہ پیش آیا۔ پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق اس واقعے میں ایک شخص ہلاک جبکہ دو بچے زخمی ہوئے۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بارش اور آندھی کے باعث صوبت بھر میں مجموعی طور پر نو گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔

    مظفر آباد میں بادل پھٹنے سے ماں بیٹی سمیت تین خواتین ہلاک، ایک شخص لاپتہ

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے بلگراں میں کلاؤڈ برسٹ یعنی بادل پھٹنے سے تین خواتین ہلاک ہو چکی ہیں۔ ہلاک ہونے والی خواتین میں میں 75 سالہ زیور جان اور ان کی 35 برس کی بیٹی شرینا بی بی اور 27 برس کی گوری بی بی شامل ہیں۔

    سٹیٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے بلگراں کلاوڈ برسٹ سے ہونے والے نقصانات کی تفصیل جاری کرتے ہوئے بتایا کہ بلگراں میں کلاؤڈ برسٹ سے جہاں تین خواتین ہلاک ہوئی ہیں وہیں گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر کوٹلی ناصر رفیق کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع کوٹلی میں بھی طوفانی بارش کے دوران مختلف مقامات پر چھ افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں۔

    پنجاب میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک شخص جاں بحق

    ریسکیو 1122 کا کہنا ہے کہ منگل کے روز پنجاب بھر میں طوفان اور بارش کے نتیجے میں پیش آنے والے واقعات کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہو گئے۔

    ریسکیو 1122 پنجاب کے ترجمان فاروق احمد کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ میانوالی میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک شخص ہلاک ہو گیا جبکہ دیوار گرنے اور سولر پلیٹ لگنے سے دو افراد زخمی ہو گئے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ راولپنڈی میں چھت سے سامان گرنے کی وجہ سے 2 بچے زخمی ہو گئے جبکہ ایک شخص سیڑھی سے گر کر زخمی ہو گیا۔

    اٹک، گوجرانوالہ اور تونسہ شریف میں تین خواتین زخمی ہوگئیں۔

    خیال رہے کہ محکمہ موسمیات کی جانب سے 27 مئی سے خیبر پختونخوا سمیت ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں شدید بارش، آندھی اور ژالہ باری کی پیشگوئی کی گئی تھی۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق شدید بارش، آندھی اور ژالہ باری کا سلسلہ 27 مئی سے 31 مئی تک وقفے وقفے سے جاری رہے گا۔ منگل کے روز ہونے والی تیز آندھی، بارش اور ژالہ باری کی وجہ سے پشاور، مردان، خیبر، صوابی، سوات، ایبٹ آباد، ہری پور اور دیگر بالائی علاقے متاثر ہوئے۔

  19. لیورپول میں ہجوم کو گاڑی سے کچلنے پر قاتلانہ حملے کے الزام میں ایک شخص گرفتار

    برطانیہ کے شہر لیورپول کی پولیس کا کہنا ہے کہ ہجوم پر گاڑی چڑھانے پر ایک شخص کو قاتلانہ حملے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

    گرفتار کیے گئے 53 سالہ شخص کا تعلق لیورپول کے ہی ایک علاقے سے ہے۔ ان پر نشے کی حالت کار چلانے کا بھی الزام ہے۔

    مرسی سائیڈ پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں زخمی ہونے والے 11 افراد ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ مجموعی طور پر اس واقعے میں 50 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے تھے۔

  20. انڈیا کے ساتھ کشیدگی کے دوران پاکستان کی حمایت پر آذربائیجان کا شکریہ ادا کرتے ہیں: شہباز شریف

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے آذربائیجان کے صدر الہام علییوف سے ملاقات کی ہے۔

    منگل کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق ’ملاقات دونوں رہنماؤں اور ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کی عکاس ہے۔ وزیر اعظم نے آذربائیجان کے یوم آزادی کے موقع پر صدر علییوف اور آذربائیجان کے عوام کو پرتپاک مبارکباد پیش کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ آذربائیجان کے عوام کا پاکستانی عوام کے ساتھ لازوال رشتہ ہے۔‘

    اس کے مطابق شہباز شریف نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے دوران ’پاکستان کی غیر متزلزل حمایت پر آذربائیجان کے صدر الہام علییوف کا شکریہ ادا کیا اور برادر ملک آذربائیجان کی قیادت اور عوام کی جانب سے اظہار یکجہتی کو سراہا۔‘

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ انڈیا کے خلاف ’معرکہ حق میں پاکستان کی کامیابیوں پر آذر بائیجان میں جشن منایا گیا تھا۔‘

    ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے ’پاکستان-آذربائیجان شراکت داری کو مزید گہرا کرنے اور دوطرفہ اور علاقائی سطح پر مشترکہ مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔‘