یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ فوج میں موجود ’کڑے احتسابی نظام پر عملدرآمد ادارے کے استحکام کے لیے لازم ہے۔‘
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہISPR
آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ فوج کے احتساب کے عمل سے کوئی فرد بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔
منگل کو پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے کور کمانڈرز کانفرنس کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔
اس کے مطابق فورم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ’فوج غیر متزلزل عزم سے ایک مضبوط اور کڑے احتساب کے ذریعے اپنی اقدار کی پاسداری کرتی ہے جس میں کسی قسم کی جانبداری اور استثنیٰ کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔‘
’فوج میں موجود کڑے احتسابی نظام پر عملدرآمد ادارے کے استحکام کے لیے لازم ہے اور کوئی بھی فرد اس عمل سے بالاتر اور مستثنیٰ نہیں ہو سکتا۔‘
دریں اثنا اعلامیے کے مطابق آرمی چیف نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ فوج ’دہشت گردوں، انتشار پسندوں اور جرائم پیشہ مافیاز کے خلاف ضروری اور قانونی کارروائی کرنے میں حکومت، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جامع تعاون فراہم کرتی رہے گی۔‘
ایک طرف اس فورم نے ’سائبر سکیورٹی اقدامات کے ذریعے قومی سائبر سپیس کے تحفظ پر زور دیا‘ تو دوسری طرف ’دہشت گرد نیٹ ورکس کی ملی بھگت سے چلنے والی غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف جاری کوششوں پر بھی اطمینان کا اظہار‘ کیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق فورم نے ’ملک میں، خصوصاََ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سرگرم ملک دشمن قوتوں، منفی اور تخریبی عناصر اور ان کے پاکستان مخالف اندرونی اور بیرونی سہو لت کاروں کی سرگرمیوں اور اس کے تدارک کے لیے کیے جانے والے متعدد اقدامات پر بھی غور کیا۔‘

،تصویر کا ذریعہPA Media
فرانس کے وزیر داخلہ گیرالڈ درمانن کا کہنا ہے کہ انگلش چینل میں پناہ گزینوں کی ایک کشتی الٹنے سے کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ وزیر داخلہ نے ایکس پر لکھا کہ اس خوفناک حادثے میں دو افراد ابھی تک لاپتہ ہیں جبکہ متعدد زخمی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ایمرجنسی سروسز لاپتہ افراد کی تلاش جاری رکھیں گی اور اس حادثے کے متاثرین کا خیال رکھیں گی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
فرانس کے کوسٹ گارڈز کا کہنا ہے کہ کشتی میں سوار دس لوگوں کی حالت تشویشناک ہے۔ ابھی تک 53 افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔
فرانس کے کوسٹ گارڈ کے مطابق وہ سرچ اور ریسکیو آپریشن سے متعلق جلد معلومات شیئر کریں گے۔
فرانسیسی حکام کے مطابق اس کشتی سے 50 سے زیادہ لوگوں کو ریسکیو آپریشن میں بچایا جا چکا ہے۔ کوسٹ گارڈ کے مطابق ان لوگوں میں سے اکثر کو فوری علاج کی ضرورت ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس کشتی پر کل کتنے مسافر تھے۔ فرانس کے وزیر داخلہ کا چند گھنٹوں میں اس جگہ پر دورے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ فرانس کے مقامی میڈیا کے مطابق اس علاقے کے سے عوامی نمائندے نارڈ پاس دی کلائس بھی جائے حادثہ کی طرف آ رہے ہیں۔
اس برس 20,000 سے زائد پناہ گزین انگلش چینل عبور کیا
سمن جونز کا تجزیہ

،تصویر کا ذریعہPA Media
یہ انگلش چینل میں تازہ ترین حادثہ ہے۔
لوگ بے چینی سے شمالی فرانس سے ایسی کشتیوں پر برطانیہ جانے کی کوشش کر رہے ہیں جو ناقص ہیں اور ان پر حد سے زیادہ لوگ سوار ہو جاتے ہیں۔
اس حادثے سے قبل رواں برس انگلش چینل میں 25 پناہ گزینی کے خواہاں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ گذشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہلاکتیں ہیں۔
لوگ برطانیہ پہنچنے کے لیے سنگین خطرات مول لیتے ہیں۔
رواں برس 20,000 سے زیادہ لوگوں نے انگلش چینل عبور کیا ہے۔ اب یہ چیز نئی حکومت پر دباؤ بڑھا رہی ہے جس کا کہنا ہے کہ وہ اس پر سختی سے قابو پا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یوکرین کے وزیر دفاع دیمترو لازتکن کا کہنا ہے کہ ملک کے مشرقی شہر پولتاوا میں روس کے حملے میں مرنے والوں کی تعداد 49 ہو گئی ہے جبکہ اس حملے میں 219 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ابھی بھی 18 لوگ ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں۔
سرچ کی ٹیمیں اس جگہ پر موجود ہیں۔ اس مقام پر رہائشی عمارتیں بھی تباہ ہوئی ہیں۔
یوکرین کے صدر نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ابتدائی رپورٹ سے یہ پتا چلا ہے کہ روس نے پولتاوا شہر پر بیلسٹک میزائل سے دو حملے کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق جہاں حملہ کیا گیا ہے وہ ایک تعلیمی ادارے کی جگہ ہے اور اس کے قریب ایک ہسپتال بھی واقع ہے۔ ان کے مطابق اس ادارے کی ایک عمارت جزوی طور پر تباہ بھی ہو گئی ہے۔
یوکرین کے صدر کی اہلیہ خاتون اول اولینا زیلنکسا کا کہنا ہے کہ روسی حملوں میں پولتاوا میں مرنے والوں کی تعداد 47 ہو گئی ہے جبکہ 206 افراد زخمی ہیں۔ انھوں نے اس حملے کو ایک ٹریجڈی قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ روس ہمیشہ ہم سے ہماری قیمتی میراث۔۔ جینے کا حق۔۔ چھین لیتا ہے۔
روس نواز ایک ٹیلیگرام چینل نے یہ خبر نشر کی ہے کہ اس حملے میں ایک تربیتی مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ہلاک اور زخمی ہونے والے فوجی کیڈٹس ہیں۔

متعدد چینلز یہ خبر نشر کر رہے ہیں کہ یہ حملہ کم فاصلے پر مار کرنے والے بیلسٹک اسکندر میزائلوں سے حملہ کیا گیا ہے۔ بی بی سی ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
پولتاوا کے ایک مقامی رہنما فلپ پرونین نے اس حملے میں مرنے والوں کے خاندانوں سے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ٹیلیگرام پر ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ منگل کا دن پولتاوا کے لوگوں کے لیے بہت صدمے والا دن ہے۔ انھوں نے شہر میں تین دن سوگ کا اعلان کیا ہے۔
انھوں نے لوگوں سے زخمی افراد کے لیے خون کا عطیہ دینے کی بھی اپیل کی ہے۔
روس نے پولتاوا پر کیوں حملہ کیا؟
پال کربی کا تجزیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ تو ہمیں معلوم ہو گیا کہ یہ یوکرین کے لیے ایک سیاہ دن ہے۔ روس کے حملے میں مرنے اور زخمی ہونے والے کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اس روسی حملے کا ہدف یوکرین کا شہر پولتاوا تھا جو کہ فرنٹ لائن سے بہت دور یوکرین کے وسط مشرقی حصے میں واقع ہے۔
وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یہ بیلسٹک میزائلوں سے کیا جانے والا حملہ تھا لہٰذا روس کو یہ واضح تھا کہ انھوں نے کیا کرنا تھا۔

پولتاوا شہر روس کی سرحد سے کوئی 140 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ شہر اور اس کے علاقے میزائل حملوں کا نشانہ بنتے رہے مگر اس طرح کی بمباری یہاں کبھی نہیں ہوئی جو مشرقی فرنٹ پر واقع علاقوں میں ہوتی آئی ہے۔
اس شہر کی آبادی تین لاکھ سے زائد ہے۔ یہاں روسی حملوں سے بچ کر آنے والوں کی بڑی تعداد آباد ہے۔ اس سے قبل گرمیوں کے آغاز پر رس نے پولتاوا کے ایک ایئرفیلڈ پر حملہ کیا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس حملے میں یوکرین کے جنگی جہازوں کو تباہ کیا گیا۔
آج کے حملے میں شہر کو ہدف بنایا گیا، جس میں ایک عمارت تباہ ہوئی ہے اور متعدد لوگ ملبے میں دب گئے۔
اس حملے کے لیے پیشگی کوئی اطلاع نہیں دی گئی اس وجہ سے یہاں عمارت میں موجود لوگوں کو باہر نکلنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔

،تصویر کا ذریعہRIZWAN TABASSUM
بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے نام لکھے گئے استعفے میں سردار اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان کے موجودہ حالات نے انھیں یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس ایوان کی طرف سے ’ہمارے صوبے کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہر گزرتے دن کے ساتھ ہمیں دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے جس سے ہمیں اب اپنے رول کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔‘
سردار اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان کے لیے میری جیسی آوازیں اب کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں لا پا رہی ہیں۔
بلوچستان کے عوام کے لیے ان کی آواز نہیں سنی جا رہی ہے اور ان کے احتجاج کو بھی قبول نہیں کیا جاتا۔ انھیں خاموش کیا جاتا ہے، غدار قرار دیا جاتا ہے اور سب سے بدترین یہ کہ انھیں قتل تک کر دیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان حالات میں تو میں اس ایوان کا حصہ رہنا ناممکن ہو گیا ہے کیونکہ میں اپنے عوام کے حقوق کی حفاظت نہیں کر پا رہا ہوں۔
سردار اختر مینگل کے سیاسی کریئر پر ایک نظر

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سردار اختر مینگل بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ سردار عطا مینگل کے بیٹے ہیں۔ وہ بلوچستان اسمبلی کی نشست این اے 256 خضدار سے رواں سال ہونے والے عام انتخابات میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔
اختر مینگل نے عام انتخابات میں بیک وقت قومی اسمبلی کی تین نشستوں سے انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ اخترمینگل کے مطابق فارم 45 کے مطابق وہ تینوں نشستوں سے کامیاب ہوئے تھے لیکن ان کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن صرف ان کی آبائی نشست خضدار سے جاری کیا گیا اور باقی نشستیں ہارنے والے امیدواروں کو دی گئیں۔
اخترمینگل پہلی مرتبہ 1988سے ضلع خضدار میں وڈھ کی نشست سے رکن بلوچستان اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ سنہ 2002 میں گریجوایشن کی شرط اور سنہ 2008 کے عام انتخابات کی بائیکاٹ کی وجہ سے انھوں نے عام انتخابات میں حصہ نہیں لیا جبکہ باقی عام انتخابات میں وہ رکن بلوچستان اسمبلی اور رکن قومی اسمبلی منتخب ہوتے رہے۔
سنہ 1997 میں وہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ بھی منتخب ہوئے۔
سردار اختر مینگل نے 2018 کے عام انتخابات سے بلوچستان اسمبلی کی نشست کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی کے انتخابات میں بھی حصہ لینا شروع کیا اور وہ سنہ 2024 کے عام انتخابات میں دوسری مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔
سنہ 2008 کے عام انتخابات میں ان کی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی کی قومی اسمبلی میں چار جبکہ بلوچستان اسمبلی میں دس نشستیں تھیں لیکن سنہ 2024 کے عام انتخابات میں ان کی پارٹی کو قومی اور بلوچستان اسمبلی کی ایک ایک نشست ملی تھی۔
بی این پی نے گذشتہ ہفتے کوئٹہ میں وزیر اعظم کی جانب سے طلب کردہ سیاسی جماعتوں کے اجلاس میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ حالیہ عام انتخابات میں ان کی مینڈیٹ کو بلوچستان سے لاپتہ افراد کے مسئلے پر بات کرنے کے باعث چھین لیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBNP

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد میں اضافے سے متعلق بل کو مؤخر کر دیا ہے۔
پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں سپریم کورٹ کے ججزکی تعداد میں اضافے کے بل کی تحریک حکومتی جماعت کے رکن اسمبلی دانیا عزیز نے پیش کی تھی۔
اننھوں نے اپنے بل میں یہ تجویز دی تھی کہ عدالت عظمیٰ میں ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 23 کر دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ہماری آبادی 25 کروڑ سے زائد ہے، سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 54 ہزار سے بھی زیادہ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ترمیمی بل کا مقصد فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بل کی مخالفت کی۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آئین کے تحت ایسی ترمیم صرف حکومت لا سکتی ہے، پرائیویٹ ممبر بل میں سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد پر قانون سازی نہیں ہو سکتی۔ انھوں نے کہا کہ ججز کی تعداد بڑھانے سے قومی خزانے پر بوجھ بڑھے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سپریم کورٹ سال میں 155 دن کام کرتی ہے، انڈیا میں سپریم کورٹ 190 دن کام کرتی ہے۔ بیرسٹر گوہر نے تجویز دی کہ ’ہمیں مقدمات کے التوا کے خاتمے کے لیے سپریم کورٹ کے کام کرنے والے دنوں کو بڑھانا چاہیے۔‘
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ عدلیہ کو چھٹیوں میں کمی کے حوالے سے سوچنا ہو گا۔ ان کے مطابق کل سینیٹ نے بالکل ایسا ہی بل قائمہ کمیٹی کو بھیجا ہے۔
سینیٹ میں ججز کی تعداد میں اضافے کا بل، ’جوڈیشل مارشل لا کی تیاری ہو رہی ہے‘

،تصویر کا ذریعہyoutube/@SCPProceedings
پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں سپریم کورٹ ججز کی تعداد میں اضافے کا ترمیمی بل پیر کو پیش کیا گیا۔ اس وقت چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 17 ہے اور اس کے علاوہ دو ایڈہاک ججز بھی کام کر رہے ہیں۔ اگر یہ ترمیم منظور ہو گئی تو پھر یہ تعداد 21 ہو جائے گی۔
سینیٹ اجلاس میں بل سینیٹر عبدالقادر نے پیش کیا جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد چیف جسٹس کےعلاوہ 20 کی جائے۔ سینیٹر عبدالقادر کے پیش کردہ بل کی پی ٹی آئی نے مخالفت کی اور کہا کہ جوڈیشل مارشل کی تیاری ہو رہی ہے۔
سینیٹر عبدالقادر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں 53 ہزار سے زیادہ کیس زیر التوا ہیں، سپریم کورٹ میں کیس آنے میں دو دو سال لگ جاتے ہیں، میرے خیال میں تو 16 ججز بڑھنے چاہیے، سپریم کورٹ میں آئینی معاملات بہت آ رہے ہیں، لارجر بینچ بن جاتے ہیں اور ججز آئینی معاملات دیکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اربوں روپے کے کیس سپریم کورٹ میں پھنسے ہیں، سپریم کورٹ کے پاس ٹائم نہیں کہ وہ ایسے کیس سنیں، ہمارا عدلیہ کا نظام نیچے سے ٹاپ پر ہے۔
اس پر وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت کی باتیں ہیں، سزائے موت کے کیس زیر التوا ہیں، عمر قید کی سزا 25 سال سے زیادہ نہیں ہو سکتی، ایک شخص اپیل التوا ہونے کی وجہ سے 34 سال جیل میں گزار کر گیا، 2015 سے سزائے موت کی اپیلیں زیر التوا ہیں۔
وزیر قانون نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ نے دس ججز کا اضافہ مانگا ہے، وہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، وہ ججز انھیں دے رہے ہیں، بل کمیٹی کوبھیج دیں۔
پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ یہ قانون ایک دم سے آیا ہے کہ ججز کی تعداد بڑھا دی جائے، جوڈیشل مارشل لا کی کوشش کی جارہی ہے، اس لیے سات ججز مانگے جا رہے ہیں، ہم دو ججز کی تعداد بڑھانے کو تیار ہیں، اگر آپ کو ججز کی تعداد بڑھانی ہے تو پہلے ماتحت عدلیہ سے بڑھائیں۔
سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ جب سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ہے پی ٹی آئی کو مخصوص نشست دینے کا فئصلہ دیا ہے تب سے یہ ججز کی تعداد بڑھانے کی بات کر رہے۔ ایمل ولی نے کہا کہ جب فیصلے کہیں اور سے ہوں تو ایسے ہوتا ہے، ماتحت عدلیہ کے لیے تفصیلی اصلاحات لا رہے ہیں، ایوان زیریں کو پھر استعمال کیا جا رہا ہے، میڈیا میں خبریں آ رہی ہیں کہ اضافی ججز کس کو چاہیے۔
چیئرمین سینیٹ نے بحث کے بعد بل ایوان کی متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے نو مئی کے مقدمات میں ملٹری کورٹ میں ٹرائل کے لیے فوج کی تحویل میں دیے جانے کے خدشے کے پیشِ نظر اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔
عمران خان کی جانب سے وکیل عزیر کرامت بھنڈاری کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں سیکریٹری قانون، سیکریٹری داخلہ اور وفاق کو فریق بنایا گیا ہے۔
آئی جی اسلام آباد، آئی جی پنجاب، ڈی جی ایف آئی اے اور آئی جی جیل خانہ جات کو بھی درخواست میں فریق بنایا گیا ہے۔
عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ 25 جولائی کو لاہور ہائی کورٹ نے 9 اور 10 مئی سے متعلق کیسز میں ان کا جسمانی ریمانڈ غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔ تب سے 9 اور 10 مئی متعلق تمام کیسز میں یا تو وہ ضمانت پر ہیں یا ان کا جسمانی ریمانڈ معطل کیا جا چکا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق وزیرِ اعظم کو نو مئی سے متعلق کیسز کے حوالے سے فوج کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کچھ ہفتے قبل ایک سینیئر فوجی اہلکار کو حراست میں لیا گیا ہے جس کے بعد سے یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ انھیں سابق وزیرِ اعظم کے خلاف وعدہ معاف گواہ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس بنا پر عمران خان کو فوج کی تحویل میں دیا جا سکتا ہے۔
عمران خان نے اپنی درخواست میں استدعا کی ہے کہ عدالت انھیں فوجی تحویل میں دیے جانے سے روکے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ سویلین عدالتوں اور انتظامیہ کی تحویل میں رہیں۔
نو مئی 2023 کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد شروع ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران مشتعل افراد نے عسکری تنصیبات پر حملے کیے اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا۔
دو روز تک جاری رہنے والے توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت بشمول عمران خان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے تھے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے شہری ڈاکٹر عثمان کے لاپتہ بیٹے کو پانچ ستمبر تک بازیاب کرانے کا حکم دے دیا ہے۔
منگل کے روز ہونے والی سماعت کے دوران درخواست گزار ڈاکٹر عثمان کی جانب سے ہادی علی چٹھہ جسٹس بابر ستار کی عدالت میں پیش ہوئے۔
دورانِ سماعت عدالت نے ڈاکٹر عثمان سے استفسار کیا کہ کون لوگ ان کے بیٹے کو لینے آئے تھے۔
درخواست گزار نے جواب دیا کہ گھر کے باہر گاڑیوں میں تقریباً 10 سے 15 لوگ آئے تھے جس میں پولیس کا کوئی اہلکار شامل نہیں تھا۔
عدالت نے درخواست گزار سے استفسار کہ کیا انھوں نے آنے والے افراد سے یہ نہیں پوچھا کہ ان کا تعلق کس ادارے سے ہے۔
درخواست گزار کا کہنا تھا، ’میرے سوال پر بتایا گیا کہ آپ وہ رہنے دیں کہ ہم کہاں سے ہیں۔‘
عدالت نے ڈاکٹر عثمان سے استفسار کیا کہ انھیں کیا لگتا ہے کہ کون لوگ تھے؟
انھوں نے جواب دیا، ’میرے اندازے کے مطابق آئی ایس آئی کے لوگ تھے۔‘
عدالت کے سوال پر کہ درخواست میں آئی ایس آئی کو فریق کیوں نہیں بنایا گیا، درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ انھوں نے وزارت دفاع کو فریق بنایا ہے۔
ڈاکٹر عثمان نے عدالت کو بتایا کہ وہ افراد دو دن تک ان کے گھر اور انسٹیٹیوٹ آتے رہے اور پوچھ گچھ کرتے رہے۔
انھیں بتایا گیا کہ ان کے بیٹے کا لاہور میں مقیم ان کے داماد سے رابطہ ہے جو مبینہ طور پر ایک کالعدم تنظیم سے منسلک ہے۔
عدالت نے پوچھا کہ درخواست گزار کا داماد گرفتار ہے یا انھیں بھی اٹھایا گیا ہے جس پر ہادی علی چٹھہ کا کہنا تھا کہ وہ بھی لاپتہ ہیں۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ان کے گھر آنے والوں نے انکے بیٹے سے جہاد کے بارے پوچھا۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے نے ان سے کہا کہ وہ سٹوڈنٹ ہے اور جہاد اس کا نہیں آرمی اور حکومت کا کام ہے۔
ڈاکٹر عثمان نے عدالت کو بتایا کہ انھیں دھمکی دی گئی تھی کہ اگر انھوں نے قانون یا میڈیا سے رابطہ کیا تو ان کے بچے کی خیر نہیں ہے۔
درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کی دو ماہ گزر گئے لیکن ان کا بیٹا ابھی تک واپس نہیں آیا ہے۔
عدالت نے آئی ایس آئی سیکٹر کمانڈر کو آئی جی اسلام آباد کی معاونت کا حکم دیتے ہوئے آئی جی پولیس کو مغوی کا فون نمبر اور گاڑی ٹریس کرنے کی ہدایت کردی۔
عدالت نے مغوی کو بازیاب کو پانچ ستمبر تک بازیاب کروانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت جمعرات تک ملتوی کردی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ نے اسرائیل کو کچھ ہتھیاروں کی فروخت معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ اسے خدشہ ہے کہ اس کی جانب سے مہیا کیے جانے والے ہتھیار بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
سیکرٹری خارجہ ڈیوڈ لیمی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو اسلحہ فروخت کرنے کے 350 لائسنسوں میں سے 30 کو معطل کیا جا رہا ہے۔
ان لائسنسوں کی معطلی سے لڑاکا طیاروں، ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز کے پرزے کی فروخت متاثر ہوگی۔
تاہم ڈءوڈ لیمی کا کہنا تھا کہ برطانیہ اب بھی اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان لائسنسوں کی معطلی کا مطلب اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی نہیں ہے۔
دوسری جانب ایک اسرائیلی وزیر کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے اس فیصلے سے ’غلط پیغام‘ جا رہا ہے۔
ریڈیو 4 سے بات کرتے ہوئے اسرائیل کے وزیر برائے تارکین وطن امیچائی چکلی کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ایسے ’نازک موقعے‘ پر سامنے آیا جب اسرائیلی حماس کی سرنگوں میں ہلاک ہونے والے چھ افراد کو دفنا رہے تھے۔
بی بی سے کے پروگرام ورلڈ ٹونائٹ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ، القاعدہ اور حماس کے خلاف جنگ، مغربی تہذیب اور بنیاد پرست اسلام کے درمیان ایک ہی جنگ کی مختلف روپ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو حماس کی جانب سے لاحق خطرہ اور برطانیہ کو درپیش اندرونی خطرہ ایک ہی ہے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز نے برطانیہ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل بین الاقوامی قوانین کے مطابق کام کرتا ہے۔
تاہم ایمنسٹی انترنیشنل کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی طرف سے لاگو کچھ ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی کافی نہیں اور اس میں کافی خامیاں ہیں۔
برطانیہ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے چیف ایگزیکٹیو ساشا دیشمکھ کہتے ہیں کہ اس فیصلے کا مطلب ہے کہ اگرچہ وزرا بظاہر یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اسرائیل غزہ میں جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے، اس کے باوجود برطانوی حکومت غزہ میں اسرائیلی افواج کے جنگی جرائم، نسل پرستی - اور ممکنہ نسل کشی - کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا خطرہ مول لے رہی ہے۔
اسرائیل غزہ کی پٹی میں حماس کے خلاف جس طرح جنگ لڑ رہا اس کو لے کر مغربی حکومتوں پر اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیدرلینڈز کی ایک عدالت نے انتہائی دائیں بازو کے سیاسی رہنما گیرٹ وائلڈرز کے قتل پر اُکسانے کے الزام میں تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد حسین رضوی سمیت دو پاکستانی مذہبی رہنماؤں کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق، سواموار کے روز شروع ہونے والے مقدمے میں دوسرے نامزد ملزم مولانا اشرف آصف جلالی ہیں۔ اشرف جلالی پہلے ٹی ایل پی کے ساتھ وابستہ تھے تاہم بعد ازاں انھوں نے اپنی پارٹپی بنا لی تھی۔
ایمسٹرڈیم کے قریب ہونے والی سماعت کے دوران اشرف جلالی اور سعد رضوی دونوں ہی عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے۔
دورانِ سماعت استغاثہ کی جانب سے اشرف جلالی پر الزام لگایا گیا کہ انھوں ایک مذہبی رہنما کے طور پر اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنے پیروکاروں کو وائلڈرز کو قتل کرنے پر اکسایا تھا۔ استغاثہ نے عدالت سے انھیں 14 سال کی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
سعد رضوی پر شبہ ہے کہ انھوں نے پاکستانی کرکٹر خالد لطیف کو وائلڈرز کے قتل پر اکسانے کے جرم میں سزا سنائے جانے کے بعد اپنے پیروکاروں کو وائلڈرز کو قتل کرنے کی ترغیب دی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ستمبر 2023 میں نیدرلینڈز کی ایک عدالت نے خالد لطیف کو گیرٹ وائلڈرز کے قتل کرنے پر اُکسانے کے جرم میں 12 برس قید کی سزا سُنائی تھی۔ انھوں نے گیرٹ وائلڈرز کے قتل پر 30 لاکھ روپے انعام کی پیشکش کی تھی۔
سواموار کے روز استغاثہ نے عدالت سے سعد رضوی کو چھ سال قید کی سزا سنانے کی درخواست کی ہے۔
اشرف جلالی اور سعد رضوی دونوں ہی نیدرلینڈز میں موجود نہیں ہیں اور نہ ہی پاکستان اور ہالینڈ کے درمیان ملزمان کی حوالگی کا کوئی معاہدہ موجود ہے۔ اس سے قبل خالد لطیف بھی اپنے خلاف چلنے والے مقدمے میں پیش نہیں ہوئے تھے۔
استغاثہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے پاکستانی حکام کو دونوں ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی میں مدد کے لیے درخواستیں بھیجی تھی تاہم ان پر عمل درآمد نہیں ہوا۔
خیال رہے کہ 2018 میں گیرٹ وائلڈرز نے پیغمبر اسلام کے خاکوں کا مقابلہ کروانے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ان کے خلاف پاکستان میں شدید احتجاج ہوا تھا۔
بعد ازاں گیرٹ وائلڈر نے قتل کی دھمکیوں اور ان کے عمل سے دوسروں کی زندگیوں کو لاحق خطرات کے سبب مقابلہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اپنے بیان میں انھوں نے کہا تھا کہ ’اسلامی تشدد کے خطرات کے سبب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب خاکے بنانے کا مقابلہ نہیں ہو گا۔‘

،تصویر کا ذریعہPirdhan Baloch
بلوچستان اسمبلی نے 25 اور 26 اگست کی درمیانی شب بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے وفاقی اوربلوچستان حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان گھناؤنی کارروائیوں کے لیے اُکسانے والے مجرموں، ان کی سہولت کاروں اور حوصلہ افزائی کرنے والے ملک دشمن عناصر اور شدت پسندوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے فوری اقدامات کو یقنی بنائیں۔
اسمبلی نے پیر کی شب اس سلسلے میں ایک قرارداد منظور کی جسے حکومتی اراکین نے مشترکہ طور پر پیش کیا۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا تھا کہ 25 اور 26 اگست کی درمیان مسافر بسوں اور ٹرکوں سے 23 نہتے اور بے گناہ شہریوں کو اتار کر بے دردی سے ہلاک کیا گیا جبکہ 35 گاڑیوں کو بھی نذرآتش کیا گیا۔
قرارداد کے مطابق ان واقعات کی پورے دنیا میں مذمت کی جا رہی ہے۔ یہ شدت پسند بچوں کو ورغلا کر دہشت گردی کرواتے ہیں جس میں ان کے والدین کو علم تک نہیں ہوتا جس کی مثال ماہل بلوچ کے والد کا حالیہ بیان ہے جس میں انھوں نے کہا کہ انھیں یہ سن کر حیرت ہوئی کہ ان کی بیٹی کو شدت پسندوں نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا۔
قرار داد میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ بی وائی سی آئے روز دھرنے اور احتجاج کرتی ہے اور سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلاتی ہے مگر اتنے مظلوم لوگوں کے قتل جن میں بلوچ سمیت ہر قوم کے لوگ شامل تھے اس پر خاموش ہے۔
قرار داد میں بلوچ یکجہتی کمیٹی پر الزام عائد کیا گیا کہ ’یہ شدت پسندوں کی لیجیٹیمٹ آواز بنی ہوئی ہے۔ ان کی ایسی سفاکیت اور دہشت گردی پر خاموشی معنی خیز ہے‘۔ قرار داد میں شدت پسند تنظیم بی ایل اے اور پورے بلوچستان میں روڈ بلاک ہونے سے علاقے کے لوگوں اور مریضوں کو اذیت کا سامنا کرنے پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ قرار داد میں سکیورٹی فورسز کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ انھوں نے کامیابی سے عسکریت پسندوں کے عزائم کو ناکام بنایا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں سپریم کورٹ ججز کی تعداد میں اضافے کا ترمیمی بل پیش کر دیا گیا ہے۔ اس وقت چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 17 ہے اور اس کے علاوہ دو ایڈہاک ججز بھی کام کر رہے ہیں۔ اگر یہ ترمیم منظور ہو گئی تو پھر یہ تعداد 21 ہو جائے گی۔
سینیٹ اجلاس میں بل سینیٹر عبدالقادر نے پیش کیا جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد چیف جسٹس کےعلاوہ 20 کی جائے۔ سینیٹر عبدالقادر کے پیش کردہ بل کی پی ٹی آئی نے مخالفت کی اور کہا کہ جوڈیشل مارشل کی تیاری ہو رہی ہے۔
سینیٹر عبدالقادر کا کہنا تھاکہ سپریم کورٹ میں 53 ہزار سے زیادہ کیس زیر التوا ہیں، سپریم کورٹ میں کیس آنے میں دو دو سال لگ جاتے ہیں، میرے خیال میں تو 16 ججز بڑھنے چاہیے، سپریم کورٹ میں آئینی معاملات بہت آرہے ہیں، لارجر بینچ بن جاتے ہیں اور ججز آئینی معاملات دیکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اربوں روپے کے کیس سپریم کورٹ میں پھنسے ہیں، سپریم کورٹ کے پاس ٹائم نہیں کہ وہ ایسے کیس سنیں، ہمارا عدلیہ کا نظام نیچے سے ٹاپ پر ہے۔
اس پر وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت کی باتیں ہیں، سزائے موت کے کیس زیر التوا ہیں، عمر قید کی سزا 25 سال سے زیادہ نہیں ہو سکتی، ایک شخص اپیل التوا ہونے کی وجہ سے 34 سال جیل میں گزار کر گیا، 2015 سے سزائے موت کی اپیلیں زیر التوا ہیں۔
وزیر قانون نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ نے دس ججز کا اضافہ مانگا ہے، وہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، وہ ججز انھیں دے رہے ہیں، بل کمیٹی کوبھیج دیں۔
پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ یہ قانون ایک دم سے آیا ہے کہ ججز کی تعداد بڑھا دی جائے، جوڈیشل مارشل لا کی کوشش کی جارہی ہے، اس لیے سات ججز مانگے جا رہے ہیں، ہم دو ججز کی تعداد بڑھانے کو تیار ہیں، اگر آپ کو ججز کی تعداد بڑھانی ہے تو پہلے ماتحت عدلیہ سے بڑھائیں۔
سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ جب سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ہے پی ٹی آئی کو مخصوص نشست دینے کا فئصلہ دیا ہے تب سے یہ ججز کی تعداد بڑھانے کی بات کر رہے۔ ایمل ولی نے کہا کہ جب فیصلے کہیں اور سے ہوں تو ایسے ہوتا ہے، ماتحت عدلیہ کے لیے تفصیلی اصلاحات لا رہے ہیں، ایوان زیریں کو پھر استعمال کیا جا رہا ہے، میڈیا میں خبریں آ رہی ہیں کہ اضافی ججز کس کو چاہیے۔
چیئرمین سینیٹ نے بحث کے بعد بل ایوان کی متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا ہے۔
بل میں کیا کہا گیا ہے؟
یہ سپریم کورٹ ایکٹ 1997 میں ایک ترمیمی بل ہے جس میں سپریم کورٹ کے ججز کی موجودہ تعداد 17 سے بڑھا کر 21 کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
اس بل کے اغراض و مقاصد میں یہ لکھا ہے کہ سپریم کورٹ کو متعدد نوعیت کے مقدمات کو سننا ہوتا ہے اس وجہ سے عدالت میں ججز کی موجودہ تعداد کافی نہیں ہے اور اس وقت جو مقدمات کا انبار ہے اسے کم کرنے کے لیے اس تعداد میں مزید اضافے کی ضرورت ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
جرمنی کی امیگریشن مخالف انتہائی دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹو فار جرمنی (اے ایف ڈی) مشرقی ریاست تھورینگیا میں ہونے والے انتخابات میں اپنی بڑی ’تاریخی کامیابی‘ پر جشن منا رہی ہے۔
اس ریاست میں اے ایف ڈی نے تقریباً ایک تہائی ووٹ حاصل کر کے قدامت پسند سی ڈی یو سے نو پوائنٹ آگے ہے اور جرمنی پر حکومت کرنے والی تینوں جماعتوں سے انتخابی دوڑ میں بہت آگے ہے۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد سے یہ پہلی بار ریاست میں پارلیمانی انتخابات میں دائیں بازو کی جماعت کو اتنی اکثریت حاصل ہوئی ہے۔ تاہم اس جماعت کے اس ریاست میں حکومت سازی کی امید بہت کم ہے کیونکہ دوسری جماعتوں کے اے ایف ڈی کے ساتھ کام کرنے کے امکانات بہت کم ہیں۔ اتوار کے دوسرے بڑے ریاستی انتخابات میں زیادہ آبادی والی پڑوسی ریاست سیکسنی میں اے ایف ڈی دوسرے نمبر پر رہی۔
اس ریاست میں سی ڈی یو کو 31.9 فیصد ووٹ کے ساتھ کچھ ہی ووٹوں سے اے ایف ڈی سے آگے ہے۔ اب سی ڈی یو بھی یہاں تینوں حکومتی جماعتوں سوشل ڈیموکریٹس، گرینز اور لبرل ایف ڈی پی سے سبقت لے چکی ہے۔
نتائج ’تلخ‘ ہیں، سیاسی جماعتیں دائیں بازو سے اتحاد نہ کریں: چانسلر

چانسلر اولاف شولز نے اس انتخابی نتائج کو ’تلخ‘ قرار دیا ہے اور دوسری جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ دائیں بازو سے اتحاد کیے بغیر ہی ان ریاستوں میں حکومت سازی کریں۔ چانسلر نے اس جماعت کو حکومت سازی سے روکنے کے لیے اس کے خلاف خلاف ’فائر وال‘ کا بھی اعلان کیا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کو ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’اے ایف ڈی جرمنی کو تباہ کر رہی ہے۔ یہ معیشیت کو کمزور کر رہی ہے، معاشرے میں تقسیم پیدا کر رہی ہے اور ہمارے ملک کی ساکھ کو داؤ پر لگا رہی ہے۔‘
تھورنگیا میں اے ایف ڈی کے سرکردہ نمائندے ’بیورن ہوکے‘ جرمنی میں بہت متنازع شخصیت ہیں نے اسے ایک ’تاریخی فتح‘ قرار دیا ہے اور اس پر بہت خوشی کا اظہار کیا ہے۔ وہ براہ راست تو انتخابات میں کامیابی حاصل نہ کر سکے مگر پارٹی کی طرف سے سرفہرست امیدوار ہونے کی وجہ سے ریاستی اسمبلی تک پہنچ گئے ہیں۔
بیورن کی جماعت کو دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت قرار دیا جاتا ہے اور نازی نعرے لگانے پر ان پر جرمانہ بھی ہو چکا ہے۔ تاہم تاریخ کے سابق استاد اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ انھوں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے۔

جرمنی کے مشہور زمانہ ہولوکاسٹ سے زندہ بچ جانے والی شالٹ نابلوک کا کہنا ہے کہ ’دوسری عالمی جنگ چھڑنے کے 85 برس بعد یہ انتخابات ہوئے ہیں۔ اور ان کے نتائج نے ملک کو خطرے میں ڈال دیا ہے، جس سے یہ مزید غیرمستحکم، سرد سے سرد تر اور غریب ہو گا، رہنے کے لیے کم محفوظ بن کر رہ جائے گا۔‘
دوسری جماعتوں کے تعاون کے بغیر تھورنگیا میں اے ایف ڈی کی حکومت نہیں بن سکتی اور سی ڈی یو یہ پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ وہ انتہائی دائیں بازو سے مل کر حکومت سازی نہیں کرے گی۔
اب حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے کے لیے قدامت پسندوں کو بائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت کی ضرورت ہو گی۔
اے ایف ڈی کا بڑا ایشو امیگریشن ہے۔ جس میں سے خاص طور پر پناہ گزین اور پناہ دینے کی پالیسی ہے۔
اے ایف ڈی کو ووٹ دینے والے مائیکل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سیاستدانوں نے آج تک خاص طور پر ہم سے مائیگریشن اور غیرملکیوں سے متعلق بہت وعدے کیے۔ مگر ابھی تک ان پر عمل ممکن نہ ہو سکا۔ ان جماعتوں کی طرف سے صرف زبانی وعدے ہی سامنے آئے ہیں۔ اب میری اپنی جماعت ہے اور میں اپنے فیصلے پر ڈٹ کر کھڑا ہوں۔‘
ان کی ساتھی منیولا ان سے متفق ہیں اور وہ کہتی ہیں کہ لوگ اب تبدیلی چاہتے ہیں۔
سیاسی پناہ کا معاملہ ووٹنگ سے ایک ہفتے پہلے بہت زیر بحث رہا اور اس دوران مغربی جرمنی میں ایک فیسٹیول میں تین قتل بھی ہوئے۔ ملک بدری کا سامنا کرنے والے ایک مصری شخص کو اس حملے کے شبے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے علاقے کلاچی کے لیفٹیننٹ کرنل خالد کی بازیابی کے بعد آج صبح سویرے فرنٹیئر کانسٹبلری کے تین اہلکار اور چار سکیورٹی گارڈز بھی بازیاب ہو گئے ہیں اور اس میں ضلع ٹانک کے امن جرگے نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تمام سات اہلکاروں کو ٹانک میں امن کمیٹی کے رہنماؤں کی کوششوں سے بازیاب کر لیا گیا ہے۔ ان ساتوں اہلکاروں کو دو مختلف واقعات کے دوران مسلح افراد نے اغوا کیا تھا۔
ٹانک کے قریب کوٹ اعظم کے علاقے سے فرنٹیئر کانسٹبلری کے تین اور ادھر ڈیرہ اسماعیل کے قریب سگو کے علاقے سے نجی سکیورٹی کمپنی کے چار گارڈز کو مسلح افراد نے اغوا کر لیا تھا۔ پولیس رپورٹ کے مطابق فرنٹیئر کانسٹبلری کے تین اہلکاروں حوالدار امنتیاز، لانس نائک خالد، سپاہی شمس اللہ کو 9 جولائی کو مسلح افراد نے ٹانک آتے ہوئے راستے میں اغوا کر لیا تھا۔
ٹانک کے پولیس افسر محمد نواز خان نے بتایا کہ فرنٹیئر کانسٹبلری کے تینوں اہلکار واپس آ گئے ہیں اور وہ اپنے متعلقہ افسران کے ساتھ ہیں۔ فرنٹیئر کانسٹبلری کے تین اہلکار راشن لینے کے لیے ایف سی قلع سر کمر سے ٹانک کے لیے گاڑی میں سوار ہوئے تھے جنھیں راستے میں مسلح افراد اسلحے کے زور پر اغوا کر کے ساتھ لے گئے تھے۔ جس پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑی میں یہ تینوں اہلکار سوار ہوئے تھے اس کے ڈرائیور نے پولیس کو بتایا تھا کہ وہ معمول سے روانہ ہوئے تھے کہ راستے میں مسلح افراد نے گاڑی روکی اور تمام لوگوں کے شناختی کارڈ دیکھے، جن میں سے ایف سی کے تین اہلکاروں کو اسلحے کی زور پر اپنے ساتھ قریب جنگل کی جانب لے گئے۔
یہ واقعہ اس پبلک ٹرانسپورٹ کے مقامی ڈرائیور محمد اولیا نے ٹانک پولیس کو رپورٹ میں بتایا ہے۔ انسداد دہشت گردی کے محکمے کے تھانے میں اس واقعہ کی ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ ٹانک، کلاچی، درابن، یارک، پیزو اور دیگر علاقے شہری علاقے یعنی ’سیٹلڈ‘ علاقے ہیں اور ان علاقوں میں مسلح شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں۔
ان علاقوں سے ایسی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر دیکھی جاتی ہیں جس میں سڑکوں پر مسلح افراد گھومتے، گاڑیوں اور موٹر سایکلوں کو روکتے ان سے پوچھ گچھ کرتے دیکھے جاتی ہیں۔
دوسرا واقعہ 21 اگست کو ڈیرہ اسماعیل خان کی حدود میں پیش آیا تھا جب مسلح افراد نے ایک بینک کی گاڑی کو لوٹ لیا تھا اور اس میں سوار نجی سکیورٹی ایجنسی کے چار سکیورٹی گارڈز کو ساتھ لے گئے تھے۔
ان ساتوں افراد کی اغواکاروں سے بازیابی کو ٹانک کی سطح پر بڑی کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔ ان افراد کی بازیابی کے بعد امن کمیٹی کے رہنما مولانا کبیر نے ایک مختصر ویڈیو پیغام بھی جاری کیا ہے، جس میں انھوں نے کہا ہے کہ یہ آل ڈسٹرکٹ ٹانک کی سطح پر جو جرگہ قائم کیا گیا تھا۔ انھوں نے دن رات محنت کی ہے جس سے یہ تمام ساتوں افراد رہا ہو گئے ہیں۔
ٹانک کلاچی اور ڈیرہ اسماعیل خان سے کچھ عرصے کے دوران تشدد کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں جن میں سکیورٹی اہلکاروں کو دن دہاڑے اسلحے کی نوک پر اغوا کیا گیا ہے۔
27 اگست کو کلاچی سے ایک لیفٹیننٹ کرنل کو ان کے دو بھائیوں اور ایک بھانجے سمیت اس وقت اغوا کر لیا گیا تھا جب وہ والد کی تدفین کے بعد مسجد میں فاتحہ خوانی اور دعا کے لیے بیٹھے تھے۔
لیفٹیننٹ کرنل خالد کو سنیچر کی شام بازیاب کرا لیا گیا تھا اور کہا جاتا ہے کہ ان کی بازیابی کے لیے مقامی عمائدین نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
گذشتہ روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور اپنے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان کے دورے پر تھے جہاں مغوی سکیورٹی گارڈز کے رشتہ داروں اور اہل علاقہ نے احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے اپنے 54 روز سے اغوا ہیں لیکن ان کو بازیاب نہیں کرایا جا رہا جبکہ کلاچی کے مغویوں کو فوری طور پر بازیاب کر لیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’نو مئی ان (حکومت) کی انشورنس پالیسی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اگر 9 مئی ختم ہوا تو ان کی حکومت اور سیاست دونوں ختم ہو جائیں گی۔‘ جمہوریت کی باتیں کرنے والے بُوٹ کو عزت دینے لگ گئے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ نو مئی کی تحقیقات کرنی ہے تو اس کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔
عمران خان نے کہا کہ ’مجھے اغوا کرنے کا جس نے حکم دیا اور جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج غائب کی نو مئی کی سازش اسی نے کی۔‘
ایک سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ جب بھی مذاکرات کی بات ہوتی ہے یہ 9 مئی کا شور مچاتے ہیں اور یہ 9 مئی پر معافی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کی حکومت سے بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔ بات ان کے ساتھ ہوگی جو با اختیار ہیں جو ان کو لے کر آئے ہیں، جن کے فیصلے کی قابلیت ہے۔ براہ راست مذاکرات سے متعلق سوال پر عمران خان نے کہا کہ ’ان سے بات کرنا الیکشن میں ان کے ڈاکے کو تسلیم کرنا ہے۔‘
’آکسفورڈ کا چانسلر بننا پاکستان کا اعزاز ہو گا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عمران خان نے کہا کہ ’آکسفورڈ یونیورسٹی کا چانسلر بننا پاکستان کے لیے اعزاز ہو گا، اگر چانسلر نہ بن سکا تو بھی کوئی بات نہیں۔‘
سابق وزیر اعظم کے مطابق ’پاکستان میں کرکٹ کی تاریخ میں اس مقام تک کوئی نہیں پہنچا، جہاں میں پہنچا ہوں۔ پاکستان میں سب سے بڑا مخیر میں ہی ہوں، ہم نے دو ہسپتال بنائے، دو یونیورسٹیاں بنائیں اور ایک یونیورسٹی ابھی زیر تعمیر ہے۔‘
کمرہ عدالت میں موجود صحافی رضوان قاضی کے مطابق ملک کے سیاسی منظر نامے پر بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’اگر نو مئی ختم ہو گیا تو موجودہ حکومت اور ان کی سیاست ختم ہو جائے گی۔‘
انھوں نے کہا کہ گینز بُک میں دو نئی انٹریاں ہونے والی ہیں: ایک انٹری اس یوٹرن کی ہوگی جس میں اڑھائی برس تک ووٹ کو عزت دو کا کہہ کر اور مارشل لا پر تنقید کر کے بُوٹ کو عزت دی گئی۔
عمران خان کے مطابق دوسری انٹری یہ ہو گی کہ ’نواز شریف چاروں امپائروں کو ملا کر کھیلا پھر بھی ہار گیا جبکہ دوسری پارٹی کو میچ کھیلنے ہی نہیں دیا گیا۔‘
انھوں نے کہا کہ انتخابات پر نظر رکھنے والے آزاد ادارے پتن کی رپورٹ کے مطابق نواز شریف کو لاہور میں یاسمین راشد سے جتوانے کے لیے 74 ہزار ووٹ ڈلوائے گئے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’ہمارے 8 ستمبر کے جلسے کے تین مقاصد ہیں: ایک مقصد چوری کیا ہوا مینڈیٹ پی ٹی آئی کو واپس کیا جائے، دوسرا مقصد قبضہ گروپ سے ملک کو حقیقی آزادی دلانی ہے اور تیسرا مقصد ملک میں آزاد عدلیہ ہے۔
عمران خان نے کہا کہا کہ ’قاضی فائز عیسیٰ کو لانے کے لیے عدلیہ پر حملہ کیا جا رہا ہے۔‘ عمران خان نے کہا کہ خواجہ آصف نے فوج کو جتنا برا بھلا کہا کسی نے نہیں کہا۔ سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ احسن اقبال نے پہلی مرتبہ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا بتایا اوراحسن اقبال نے فوج سے متعلق کہا تھا یہ ریاست کے اندر ریاست ہے۔
انھوں نے کہا کہ احسن اقبال یہ بھی کہتے رہے کہ پاکستان میانمار بننے جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حماس کی قید سے یرغمالیوں کی رہائی کی خاطر جنگ بندی معاہدے کے لیے اسرائیل میں ہڑتال جاری ہے جس سے کاروبار زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں۔
کچھ شہروں اور وہاں کی انتظامیہ نے اس ہڑتال سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے مگر اسرائیل کے متعدد اضلاع میں نظام زندگی معطل ہو کر رہ گیا ہے۔
کئی ہسپتال بہت کم سروسز کے ساتھ کھلے ہیں جبکہ بینک بند پڑے ہیں۔ تاہم کچھ نجی کاروبار کھلے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کچھ نجی کمپنی کے مالکان اپنے عملے کو اس ہڑتال میں حصہ لینے کی اجازت دے رہے ہیں۔ ٹریڈ یونین ہستادروت کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اس وقت اسرائیل کے بین گورین ایئرپورٹ پر سوٹ کیسز کی بڑی تعداد دیکھی جا سکتی ہے۔ کچھ پروازوں کو آج صبح منسوخ کیا گیا ہے۔
بس اور لائٹ ریل سروسز کو کچھ علاقوں میں بند کر دیا گیا یا پھر بہت کم تعداد میں یہ چل رہی ہیں۔
حیفہ کی مرکزی کاروباری بندرگاہ پر بھی احتجاج کر رہے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل کی ٹریڈ یونین کے سربراہ ارنن بر ڈیوڈ کا کہنا ہے کہ آج ہونے والی عام ہڑتال شام چھ بجے ختم ہو جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حماس کے ہاتھوں یرغمالیوں کی رہائی میں ’اسرائیلی حکومت کی ناکامی‘ کے خلاف مظاہروں کے بعد اسرائیل میں عام ہڑتال کی جا رہی ہے۔
اسرائیل کی ٹریڈ یونین ’ہستادروت‘ نے پیر کو عام ہڑتال کی کال دی ہے جبکہ دوسری طرف اسرائیل کے وزیر دفاع یاہو گیلنٹ نے اپنے وزیر اعظم نتن یاہو سے مغویوں کی رہائی کے لیے معاہدے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس سے قبل اسرائیل کے اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے بھی عوام سے عام ہڑتال میں شریک ہونے کی اپیل کی تاکہ اسرائیلی حکومت پر جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھایا جا سکے۔
واضح رہے کہ آج بھی اسرائیل میں مغوی کی رہائی کے لیے مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اس ہڑتال کا مقصد اسرائیل کی حکومت کو غزہ میں مغویوں کی رہائی کے لیے مذاکرات پر مجبور کرنا ہے۔
اتوار کو اسرائیل بھر میں ہزاروں افراد نے سڑکوں پر احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مناسب اقدامات نہیں کر رہے ہیں۔
قبل ازیں اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے کہا ہے کہ ’اسرائیل ذمہ داروں کو پکڑنے تک آرام سے نہیں بیٹھے گا۔‘ پیر کی صبح انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’جس نے بھی یرغمالیوں کا قتل کیا ہے وہ معاہدے کا حقدار نہیں ہے۔‘
پیر کی صبح سے ہی ملک بھر میں ہڑتال جاری ہے تاہم یہ ابھی تک واضح نہیں کہ یہ کس حد تک کامیاب رہے گی کیونکہ چند شہروں اور میونسپلیٹیز نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس ہڑتال کا حصہ نہیں ہوں گے۔
تاہم ملک بھر میں زیادہ تر کاروبار، بینک اور حکومتی وزارتیں بند ہیں۔ جن میں قبل قدر اسرائیل بزنس فورم شامل ہیں جو ملک کے نجی شعبے کی کارکنوں کی نمائندہ تنظیم ہے۔
پرائمری اور مڈل سکول دن پونے بارہ بجے تک کھلے رہے گے جبکہ ہسپتالوں میں محدود عملہ کام کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی کی درخواست پر سماعت کے دوران ان کے وکیل کلائیو سمتھ کو ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایک ہفتے میں عافیہ صدیقی رحم کی اپیل کا مسودہ پاکستانی حکومت کے ساتھ شئیر کریں۔‘
پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی حکام میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو کہے ہم سمتھ کے ساتھ کھڑے ہیں۔
عدالت کے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آرہی حکومت کو خوف کیا ہے؟
اس موقع پر درخواست گزار فوزیہ صدیقی کے وکیل عمران شفیق اور عدالتی معاون زینب جنجوعہ بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے جبکہ اس موقع پر فوزیہ صدیقی کے امریکی وکیل کلائیو سمتھ بھی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت کے سامنے موجود تھے۔
سیکرٹری خارجہ سائرس سجاد قاضی بھی عدالتی حکم پر کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
یاد رہے کہ عدالت نے جمعہ کو وزارت خارجہ میں اے اے جی اور ڈائریکٹر (امریکہ) سے کہا تھا کہ وہ اگلی سماعت پر ڈاکٹر عافیہ کی رہائی سے متعلق ایمیکس بریف دائر کرنے کے اصولی معاہدے کو روکنے کی ٹھوس وجہ بتائیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر وہ اس متعلق ہدایات لے کر نہیں آتے تو اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ سیکرٹری خارجہ امور جواب دینے کے لیے عدالت میں ذاتی طور پر حاضر ہوں کہ کس طرح مجوزہ ایمیکس بریف کسی بھی طریقے سے فائل کرنا حکومت کی پوزیشن کو متاثر کرتا ہے۔
سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت سے کہا کہ وزارت خارجہ عدالت کی معاونت جاری رکھے گا، میں یا ایک ڈویژن یہ فیصلہ نہیں کر سکتا یہ وفاقی حکومت کا پالیسی فیصلہ ہو گا۔
انھوں نے عدالت کو بتایا کہ حکومت مستقل بنیادوں پر فوزیہ صدیقی کو سپورٹ کر رہی ہے جب کوئی پالیسی سطح کا فیصلہ کرنا ہو تو اس میں کچھ وقت لگتا ہے۔
عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ’کیا آپ رحم کی اپیل کی پٹیشن میں وائٹ ہاؤس کو لکھ رہے ہیں یا نہیں یہ جواب دیں۔‘
عدالت نے عافیہ صدیقی کیس کی مزید سماعت 13 ستمبر تک ملتوی کر دی ہے۔
عافیہ صدیقی کون ہیں؟
ڈاکٹر عافیہ کو جولائی 2008 میں افغان پولیس نے کیمیائی اجزا اور ایسی تحریریں رکھنے پر گرفتار کیا تھا جن میں نیویارک پر حملے کا ذکر تھا جس میں بھاری جانی نقصان ہو سکتا تھا۔
حکام کے مطابق ڈاکٹر عافیہ نے کیمیائی اجزا اور نیویارک میں حملے کے بارے میں تحریروں کی برآمدگی کے بارے میں سوال پوچھے جانے پر رائفل اٹھا کر فوجیوں پر گولیاں چلائیں۔ اس حملے میں کوئی امریکی زخمی نہیں ہوا تھا۔
ڈاکٹر عافیہ کے وکلا نے موقف اختیار کیا کہ عافیہ نے بدحواسی کی کیفیت میں رائفل چھینی اور فائرنگ کی۔ ان کا موقف تھا کہ عافیہ کے اس عمل کا دہشت گردی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بنتا۔
عافیہ صدیقی کو ایک امریکی عدالت نے افغانستان میں امریکی فوج اور حکومت کے اہلکاروں پر مبینہ طور قاتلانہ حملے اور قتل کی کوشش کرنے کے سات الزامات میں مجرم قرار دیا تھا اور انھیں 86 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
انھوں نے خود پر عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے ہتھیار پکڑنے یا اسلحے کے استعمال سے واقفیت رکھنے سے انکار کیا تھا۔
پاکستان کی حکومت کے مطابق اکتوبر 2020 میں امریکی جیل میں قید پاکستانی شہری عافیہ صدیقی نے اپنی رحم کی اپیل پر دستخط کر دیے تھے جس کے بعد اُن کی اپیل امریکی جیل حکام کے ذریعے امریکی صدر کو بھجوا دی گئی تھی۔
عافیہ صدیقی کے اہل خانہ اور حامیوں کا دعویٰ ہے کہ انھیں پاکستان میں گرفتار کیا گیا تھا اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے حوالے کیا گیا تھا جنھوں نے انھیں امریکی تحویل میں دے دیا تھا، تاہم امریکی اور پاکستانی حکام دونوں کا دعویٰ ہے کہ انھیں افغانستان میں گرفتار کیا گیا تھا۔
عافیہ صدیقی نے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور برینڈیز یونیورسٹی سے حیاتیات اور نیورو سائنس میں ڈگریاں حاصل کر رکھی ہیں جب کہ وہ 1991 اور جون 2002 کے درمیان امریکہ میں مقیم رہیں۔ افغانستان سے ملنے سے قبل وہ مبینہ طور پر پانچ سال تک لاپتا رہی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہPunjab Police
پنجاب کے ضلع میانوالی میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گردوں نے راکٹ اور دستی بموں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک اہلکار زخمی ہو گیا۔
پنجاب پولیس کے مطابق حملہ میانوالی کے علاقے عیسیٰ خیل میں قبول خیل پولیس چیک پوسٹ پر کیا گیا جبکہ پنجاب پولیس نے مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے اس حملے کو ناکام بنا دیا ہے۔
ترجمان پنجاب پولیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 12 سے 14 دہشت گردوں نے چیک پوسٹ پر راکٹ اور دستی بموں سے حملہ کیا، حملے میں پولیس کا ایک اہلکار معمولی زخمی ہوا۔
پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ مفرور دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور نے دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنانے پر پولیس چیک پوسٹ قبول خیل کے اہلکاروں کو سراہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ چند ماہ میں پنجاب پولیس پر دہشت گردوں کا یہ نواں حملہ تھا جسے ناکام بنایا گیا۔
جبکہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی میانوالی میں چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنانے پر پولیس کو شاباش دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنانے والے پولیس اہلکاروں کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور دلیری کو سراہتا ہوں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے انڈین وزیر خارجہ کے کشمیر کے تنازع سے متعلق بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کا تنازع یک طرفہ طور پر حل کرنے کے دعوے ناصرف گمراہ کن ہیں بلکہ زمینی حقائق کو نظر انداز کرتے ہیں۔
ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے انڈین وزیر خارجہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے لہٰذا انڈیا اپنے زیر انتظام کشمیر کے بارے میں اشتعال انگیز بیانات سے گریز کرے۔
انھوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے اس دیرینہ تنازعےکا حل ناگزیر ہے اور اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ پاکستان واضح طور پر ہر اس بیانیے کو مسترد کرتا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ جموں و کشمیر کا تنازع یک طرفہ طور پر حل کیا گیا ہے یا کیا جاسکتا ہے، اس طرح کے دعوے نہ صرف گمراہ کن ہیں بلکہ زمینی حقائقکے منافی ہیں۔
انھوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جموں و کشمیر میں انڈیا کے یکطرفہ اقدامات اس حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتے۔
ممتاز زہرہ بلوچ نے مزید کہا کہ اگرچہ پاکستان سفارتکاری اور بات چیت کے لیے پرعزم ہے لیکن وہ کسی بھی جارحیت کا غیر متزلزل عزم کے ساتھ بھرپور جواب دے گا۔
دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ پاکستان انڈیا سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ جموں کشمیر کے تنازع کے منصفانہ، پرامن، دیرپا حل اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے بامعنی مذاکرات کرے۔
یاد رہے کہ دو روز قبل انڈین وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ جہاں تک جموں و کشمیر کا تعلق ہے تو آرٹیکل 370 ختم ہو چکا ہے تو یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔انھوں نے مزید کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ بلاتعطل بات چیت اور مذاکرات کا دور ختم ہو گیا ہے کیونکہ ہر عمل کے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔