یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا
بی بی سی کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج پر جانے کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورۂ اسلام آباد سے متعلق ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ’ایران کے مشاہدات پاکستان کو بتائے جائیں گے۔‘ ادھر وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ایران سے دوبارہ مذاکرات کے لیے امریکی نمائندوں سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پر مشتمل وفد سنیچر کو اسلام آباد روانہ ہو گا۔ مگر پاکستانی اور ایرانی حکام کے مطابق عراقچی صرف پاکستان کی اعلی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ شیڈول کے مطابق عراقچی پاکستان کے بعد روس اور عمان کے دورے بھی کریں گے۔
بی بی سی کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج پر جانے کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کچھ دیر قبل ایک وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے ہیں۔ ایرانی اور پاکستانی حکام کے مطابق وہ علاقائی امن و استحکام پر بات چیت کے لیے پاکستان کی اعلی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ عراقچی کی اب تک پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات ہوئی ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریوں کے سلسلے میں پاکستان کے دارالحکومت میں گذشتہ چھ روز سے بعض سڑکیں بند ہیں اور توسیع شدہ ریڈ زون بھی سیل ہے۔ یہیں واقع سرینا ہوٹل میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا۔
جمعے کو وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے ایران کا موقف جاننے کے لیے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ سنیچر کے روز روانہ ہوں گے۔
ادھر ایرانی وزارت خارجہ کا اصرار ہے کہ عراقچی کی امریکی وفد سے کوئی ملاقات متوقع نہیں بلکہ اس دورے کا مقصد باہمی امور ہیں اور قیام امن سے متعلق ’ایرانی مشاہدات پاکستان کو بتائے جائیں گے۔‘
امریکہ کے جانب سے اس بار مذاکرات کے لیے نائب صدر جے ڈی وینس کو پاکستان نہیں بھیجا گیا بلکہ وائٹ ہاؤس کے مطابق انھیں اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ’ضرورت پڑنے پر‘ اسلام آباد روانہ کیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران امریکہ کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے ایک منصوبہ پیش کرنا چاہتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ایران میں ان افراد سے بات چیت کر رہا ہے جو ’برسرِ اقتدار ہیں۔‘
امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران کی ’غیر قانونی تیل کی تجارت کو نقصان پہنچانے کے لیے فیصلہ کن اقدامات‘ کر رہا ہے۔
محکمے کے مطابق اس میں آج امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے ایک ’بڑی، آزاد چینی ریفائنری اور تقریباً 40 دیگر اہداف‘ پر عائد کی جانے والی پابندیاں بھی شامل ہیں جنھیں ایران کی تیل کی برآمدات کے لیے ’اہم مالی شہ رگیں‘ قرار دیا گیا ہے۔
محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ یہ پابندیاں ایران کے لیے آمدنی کے وہ ذرائع منقطع کرتی ہیں جو مشرقِ وسطیٰ میں ایرانی حکومت کی ’عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں‘ کی مالی معاونت کرتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’امریکہ ایران اور اس کی غیر قانونی توانائی تجارت کو سہارا دینے والے بین الاقوامی نیٹ ورک پر اقتصادی دباؤ میں اضافہ کرے گا جو ’آپریشن اکنامک فیوری‘ کا حصہ ہے۔‘
ٹرمپ انتظامیہ واضح طور پر ایران کے ساتھ اس بار مذاکرات میں محتاط انداز اپنا رہی ہے۔ گذشتہ دور کے برعکس اس بار نائب صدر جے ڈی وینس کو نہیں بھیجا جا رہا اور جیسا کہ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے کہا کہ مقصد صرف یہ ہے کہ ’ایرانیوں کا موقف سنا جائے۔‘
یہ اقدام اس فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جب صدر نے پاکستان کی درخواست پر ایران کے ساتھ جنگ بندی کی غیر معینہ مدت تک توسیع کی تاکہ تہران وہ چیز پیش کر سکے جسے ایک ’متفقہ تجویز‘ قرار دیا گیا۔
اس کے بعد آبنائے ہرمز پر کشیدگی مزید بڑھ گئی جہاں دونوں فریق ایک دوسرے کی کارروائیوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھ رہے ہیں۔
تاہم آبنائے ہرمز واحد تنازع نہیں۔ واشنگٹن اور تہران اب بھی ایران کی جوہری صلاحیتوں اور خطے میں ایران نواز قوتوں کے معاملے پر شدید اختلافات کا شکار ہیں۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اگر کسی قسم کی پیش رفت ہوتی ہے تو نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد جانے کے لیے تیار رہیں گے۔ لیکن اس مرحلے پر اس حوالے سے کوئی تفصیل موجود نہیں کہ ایران ممکنہ طور پر کیا پیشکش کر سکتا ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے دورے پر موجود عباس عراقچی کی امریکی وفد سے کوئی ملاقات متوقع نہیں ہے۔
ایکس پر ایک پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ ’ہم ایک سرکاری دورے پر پاکستان کے شہر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی خطے میں امن کی بحالی اور امریکہ کی جانب سے مسلط کی گئی جارحانہ جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی اور معاون کردار کے تناظر میں پاکستانی اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ’کسی ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں۔ ایران کے مشاہدات پاکستان کو بتائے جائیں گے۔‘
اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایکس پر ایک پیغام میں بتایا کہ انھوں نے اسلام آباد میں عراقچی کا استقبال کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ علاقائی امن و استحکام کے لیے باہمی روابط کے منتظر ہیں۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر سنیچر کو ایران سے مزید بات چیت کے لیے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔
ایوانکا ٹرمپ کے شوہر جیرڈ کشنر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد ہیں۔
وہ صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ان کے سینیئر مشیر رہے۔ اگرچہ اب ان کے پاس یہ عہدہ نہیں لیکن وہ اہم بین الاقوامی معاملات میں بدستور سرگرم رہے ہیں جن میں گذشتہ برس اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والے مذاکرات بھی شامل ہیں۔
سٹیو وِٹکوف ایک رئیل اسٹیٹ ڈویلپر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی دوست ہیں۔ انھیں صدر ٹرمپ کے دوسرے دور کے آغاز میں مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی مقرر کیا گیا تھا۔
وہ ٹرمپ انتظامیہ کے مرکزی بین الاقوامی مذاکرات کار اور مسائل حل کرنے والے نمائندے سمجھے جاتے ہیں۔ اس سے قبل وہ اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع کے ساتھ ساتھ یوکرین جنگ سے متعلق بات چیت میں بھی کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے ٹیلیگرام پر ایک پیغام میں لکھا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا پاکستان میں امریکہ سے ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ایک ’پُل‘ کا کردار ادا کر سکتا ہے تاکہ ’تنازع کے حل کے لیے ایران کے موقف‘ کو آگے پہنچایا جا سکے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس اس سے قبل کہہ چکا ہے کہ ٹرمپ نے سٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر کو اسلام آباد اس لیے بھیجا کیونکہ ایران براہ راست بات چیت‘ چاہتا ہے۔
عباس عراقچی جمعے کی شب پاکستان پہنچے۔ پاکستان میں ایرانی سفارت خانے کے مطابق وہ ایران اور پاکستان کے درمیان ’دو طرفہ معاملات پر تبادلہ خیال‘ کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ادھر اے بی سی نیوز نے ایک سینیئر پاکستانی سرکاری اہلکار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اس ہفتے کے آخر میں امریکی اور ایرانی وفود پاکستانی حکام سے الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق اگر یہ ملاقاتیں مثبت رہیں تو اتوار کے روز امریکی اور ایرانی عہدیدار براہِ راست ملاقات کریں گے۔
امریکی صدر ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا اصرار ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے امریکہ پر کوئی دباؤ نہیں۔
لیکن آنے والے دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے امکان نے ایک بار پھر ٹرمپ انتظامیہ کے عوامی سطح پر بیانات اور وائٹ ہاؤس کی پس پردہ جنگ ختم کرنے کی کوششوں کے بیچ تضاد کو واضح کیا ہے۔
پہلا اشارہ جمعے کو ملا تھا جب وائٹ ہاؤس نے کہا کہ خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر ایران کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کے لیے اسلام آباد جائیں گے۔
اس سے لگتا ہے کہ دونوں فریقین ٹرمپ کے متضاد بیانات اور تہران کے جارحانہ موقف کے باوجود اتفاق پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ دونوں ملک پاکستان میں کس حد تک پیشرفت حاصل کر پائیں گے۔
مذاکرات کے پہلے دور میں نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد اسلام آباد گیا تھا مگر دوسرے دور میں ان کی شراکت کی تاحال تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر وینس کو دوبارہ اسلام آباد بھیجا جا سکتا ہے۔
وینس کی عدم موجودگی کا مطلب ہوگا کہ دونوں ممالک بڑی پیشرفت کی امید نہیں کر رہے۔ لیکن بات چیت جاری رہنے سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ اور ایران درحقیقت ایک معاہدے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
امریکی وزارتِ خزانہ نے آج ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔
ان میں چینی پیٹروکیمیکلز کمپنی ہینگلی پیٹروکیمیکل (دالیان) ریفائنری کو بھی شامل ہے تاکہ ایران کا اس کمپنی کے ساتھ معاہدہ مرحلہ وار ختم کیا جا سکے گا۔
وزارتِ خزانہ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک دستاویز کے مطابق مزید تقریباً 40 کمپنیوں اور تیل بردار جہازوں کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
ایکس پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ امریکہ ’ایرانی حکومت سے جڑی تمام مالی شہ رگوں کو نشانہ بنائے گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ اس کے تحت وزارتِ خزانہ 34.4 کروڑ ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی کو بھی منجمد کر رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اس وقت ایران میں ان لوگوں کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے جو ’برسرِ اقتدار ہیں۔‘
خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے اور یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ آیا کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے یا نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے مطالبات پورے کرنے کے لیے ایران ایک منصوبہ پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ٹرمپ نے روئٹرز کو مزید بتایا کہ ’ایران ایک پیشکش کرے گا اور ہم اسے دیکھیں گے۔‘ تاہم امریکی صدر کو تاحال یہ معلوم نہیں کہ یہ پیشکش کیا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکہ کن افراد سے مذاکرات کر رہا ہے تو انھوں نے تفصیلات فراہم نہیں کیں لیکن یہ کہا کہ امریکہ ’ان لوگوں سے بات کر رہا ہے جو اس وقت اقتدار میں ہیں۔‘
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ جب اگلے ہفتے برطانیہ کے بادشاہ چارلس امریکہ کا دورہ کریں گے تو وہ ان کے ساتھ ایران کے معاملے پر بات چیت کریں گے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتوں کے لیے ایک وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔
اگرچہ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ عراقچی اپنے دورے کے دوران پاکستان کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے تاہم اس دورے کی مدت کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا۔ پاکستان آمد پر ایرانی وزیر خارجہ کا استقبال نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے کیا ہے۔
اس سے پہلے ایرانی حکام نے کہا تھا کہ عراقچی پاکستان کے علاوہ عمان اور روس کے دورے بھی کریں گے۔
ادھر اسلام آباد میں تہران کے سفارتخانے نے ایک بیان میں کہا کہ عباس عراقچی ’دو طرفہ معاملات کا جائزہ لینے اور علاقائی پیش رفت پر مشاورت کے لیے اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔‘
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق عراقچی جمعے کی رات سے اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کا سفر کریں گے تاکہ ’امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے معاملے پر پاکستانی، عمانی اور روسی حکام سے مشاورت کریں۔‘
اگرچہ وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ امریکی وفد پاکستان آمد پر ایران سے براہ راست مذاکرات کرے گا تاہم ایرانی میڈیا نے اس کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔
خود عراقچی نے ایکس پر پیغام میں کہا کہ ان کے دوروں کا مقصد دو طرفہ معاملات پر شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطہ قائم کرنا اور علاقائی پیش رفت پر مشاورت کرنا ہے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق اب تک ایرانی وزیر خارجہ کے اسلام آباد دورے کے ایجنڈے میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات شامل نہیں۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ عباس عراقچی کا اسلام آباد کا دورہ پاکستانی عہدیداروں کے ساتھ جنگ کے خاتمے سے متعلق ایران کے موقف پر بات چیت کے لیے ہے۔
صحافیوں کے ساتھ مختصر گفتگو کے دوران وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کا کہنا تھا کہ گذشتہ چند دنوں کے دوران امریکہ نے ’ایرانی کی جانب سے مثبت پیش رفت‘ دیکھی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی ’براہ راست بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔‘
لیویٹ نے مزید کہا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی بھی دنیا کے لیے ایک اور ’کامیابی‘ ہے اور انھیں امید ہے کہ وہ دن آئے گا جب امریکہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کا وائٹ ہاؤس میں استقبال کر سکے گا۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے معاملے پر ’لچک کا مظاہرہ کیا۔‘
ان کے بقول امریکی صدر نے اسی لیے سٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر کو اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ ’ایرانیوں کا موقف براہِ راست سن سکیں۔‘
لیویٹ نے کہا کہ ایرانی وفد براہ راست بات چیت چاہتا ہے اور صدر ’ہمیشہ سفارت کاری کو ایک موقع دینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو امید ہے کہ اس ملاقات سے مثبت پیش رفت سامنے آئے گی تاہم ’دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس ’سٹینڈ بائی‘ پر ہوں گے۔ ان کے مطابق امریکہ انھیں پاکستان بھیجنے کے لیے تیار ہو گا اگر اسے ان کے وقت کا صحیح استعمال سمجھا گیا۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے فاکس نیوز کو بتایا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے ساتھ ہونے والے نئے مذاکراتی دور میں شرکت نہیں کریں گے۔
لیویٹ کے مطابق اگرچہ اس مرحلے پر وینس امریکی نمائندوں کشنر اور وِٹکوف کے ساتھ شامل نہیں ہوں گے لیکن وہ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور دیگر عہدیداروں کے ساتھ انتظار میں رہیں گے کہ ’اگر ان کی موجودگی ضروری ہو جائے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’نائب صدر اس پورے عمل میں شامل ہیں اور وہ یہاں تیار رہیں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر ضرورت پڑی تو سب لوگ پاکستان جانے کے لیے تیار ہوں گے۔‘
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کا کہنا ہے کہ امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کے لیے پاکستان کے شہر اسلام آباد روانہ ہوں گے۔
انھوں نے یہ بات فاکس نیوز سے گفتگو کے دوران بتائی ہے۔
لیویٹ کا کہنا ہے کہ امریکی وفد میں شامل دونوں شخصیات مذاکرات کے لیے سنیچر کی صبح روانہ ہوں گی۔
اس سے قبل امریکی چینل سی این این، ایگزیوس اور خبر رساں ادارے روئٹرز نے امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ وٹکوف اور کشنر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کے لیے پاکستان کا دورہ کریں گے۔
دو امریکی اہلکاروں نے سی این این کو مزید بتایا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس فی الوقت ان مذاکرات میں شرکت کا منصوبہ نہیں رکھتے کیونکہ ایرانی کے پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف ان مذاکرات میں شامل نہیں ہو رہے۔
تاہم عہدیداروں نے بتایا کہ ’اگر بات چیت میں پیش رفت ہوتی ہے تو نائب صدر اسلام آباد کا سفر کرنے کے لیے تیار رہیں گے اور ان کے عملے کے ارکان پاکستان میں موجود ہوں گے اور مذاکرات میں شرکت کریں گے۔‘
پاکستانی اور ایرانی وزرائے خارجہ کے درمیان فون کال کی خبر کے ایک گھنٹے بعد مقامی میڈیا نے خبر دی کہ عباس عراقچی پاکستان کا دورہ کریں گے۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے ایک ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ عباس عراقچی کی سربراہی میں ایک وفد کے اسلام آباد پہنچنے کا امکان ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق عراقچی جمعے کی رات سے اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کا سفر کریں گے تاکہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے معاملے پر پاکستانی، عمانی اور روسی حکام سے مشاورت کریں۔
یہ واضح نہیں ہے کہ آیا عراقچی اسلام آباد میں امریکی حکام کے ساتھ بات چیت کریں گے۔ گذشتہ دنوں پاکستانی فوج کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف بھی امریکی حکام سے رابطے میں تھے۔
اُنھوں نے ٹرمپ کو آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اٹھانے پر آمادہ کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے تاکہ ایرانی وفد کے ارکان یہاں واپس آ سکیں۔ لیکن وہ اب تک کامیاب نہیں ہو سکے۔
لیکن ایرانی وزیر خارجہ کے دورے کی خبروں نے امیدیں پیدا کر دی ہیں کہ اسلام آباد میں مذاکرات کی طرف واپسی کا ایک اور موقع مل سکتا ہے۔ پچھلے دنوں کی طرح، تمام ہوٹل اب بھی وفود کے استقبال کے لیے تیار ہیں اور آئندہ مذاکرات کے لیے حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر نے کہا ہے کہ امریکہ نے تجارتی جہاز توسکا کو روک کر بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔
اس سے قبل امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے ایک نیوز کانفرنس میں کارگو جہاز توسکا کا نام لے کر کہا تھا کہ اسے ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کے ایک حصے کے طور پر قبضے میں لیا گیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ توسکا کو روکنے کے انتباہ کا جواب دینے میں ناکامی کے بعد روک دیا گیا تھا۔
اب ایران کے اقوامِ متحدہ کے مشن کا کہنا ہے کہ جب 19 اپریل کو اس پر پابندی عائد کی گئی تھی تو یہ جہاز ’ڈائلسس اور طبی سامان‘ لے کر جا رہا تھا۔
ایک بیان میں اُن کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ زبردستی اور غیر قانونی عمل زندگیوں کو خطرے میں ڈالتا ہے، نیویگیشن کی آزادی کو مجروح کرتا ہے، اور کمزور مریضوں کو شدید خطرے میں ڈالتا ہے۔‘