لائیو, لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع، ٹرمپ کو ایران کے ساتھ معاہدے کی ’کوئی جلدی نہیں‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کر دی گئی ہے۔ ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت اوول آفس میں اسرائیلی اور لبنانی حکام کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے۔

خلاصہ

  • ٹرمپ کا اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کا اعلان
  • امریکی صدر کا ایران میں ’سخت گیروں‘ اور ’اعتدال پسندوں‘ کے درمیان اختلافات کا دعویٰ، قالیباف اور پزشکیان سمیت ایرانی قیادت کی تردید
  • اسرائیلی وزیرِ دفاع کی ایران کو ’تاریکی اور پتھر کے دور‘ میں دھکیلنے کی دھمکی
  • جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے کے دوران صحافی امل خلیل کی ہلاکت، آخری رسومات کے دوران ہزاروں افراد کی شرکت
  • امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 33 بحری جہازوں کو روکا گیا ہے

لائیو کوریج

  1. ضلع خیبر میں سکیورٹی فورسز کا انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، 22 شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر

    سکیورٹی فورسز کا آپریشن

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 21 اپریل 2026 کو خیبر ضلع میں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے آپریشن کیا جس میں 22 شدت پسند ہلاک کر دیے گئے ہیں۔

    بیان کے مطابق ’آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے اور اپنی فورسز کی مؤثر کارروائیوں کے دوران شدت پسندوں نے اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں دس سالہ بچہ جان سے گیا۔

    بیان کے مطابق شدت پسندوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا، جو علاقے میں متعدد دہشت گردانہ سرگرمیوں میں سرگرم طور پر ملوث رہے تھے۔

    بیان کے مطابق علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    دوسری جانب وزیرداخلہ محسن نقوی نے شدت پسندوں کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے 10 سالہ بچے کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا ہے۔

  2. جنگ ​​کے دوران تہران کے 83 آثار قدیمہ کو نقصان پہنچا: ایرانی حکام

    ایران کے آثار قدیمہ

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    تہران سٹی کونسل کی ثقافتی ورثہ کمیٹی کے سربراہ احمد علوی نے کہا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے دوران صوبہ تہران میں 83 تاریخی مقامات اور عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے جن میں 36 مقامات قومی ورثے کی فہرست میں شامل ہیں۔

    سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے تہران سٹی کونسل کی ثقافتی ورثہ کمیٹی کا حوالے دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ ان میں سے وہ عمارتیں جن کی بحالی کی جا سکتی ہے، وہاں کام شروع کر دیا گیا ہے۔

    احمد علوی نے واضح کیا کہ متاثرہ مقامات میں سے 36 عمارتیں قومی نوادرات کی فہرست میں درج ہیں اور 45 تاریخی عمارتیں ہیں جب کہ چھ مقامات مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ان میں سے بہت سی عمارتیں فوجی، سکیورٹی اور انتظامی تنصیبات کے قریب واقع ہیںآ یاد رہے کہ ایرانی وزارت ثقافتی ورثہ کے مطابق تقریباً 39,000 آثار قدیمہ ملک کے قومی ورثے کی فہرست میں شامل ہیں۔

  3. جنگ نے ایران میں ’بے قصور‘ لوگوں کی پوری آبادی کو متاثر کیا: پوپ لیو

    پوپ لیو

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پوپ لیو نے امریکہ اور ایران پر جنگ کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس تنازع نے ’ایران میں بے قصور لوگوں کی ایک پوری آبادی کو متاثر کیا ہے۔‘

    ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پوپ پر ایک طویل تنقیدی پیغام جاری ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    یاد رہے کہ پوپ ایران میں امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائی کی کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں۔

    چار افریقی ممالک کے دورے کے بعد روم واپسی کی پرواز میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میں امن کے لیے مکالمے کے تسلسل کی حوصلہ افزائی کروں گا، تاکہ تمام فریق امن کے فروغ، جنگ کے خطرے کے خاتمے اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’میں سب کو اس بات کی ترغیب دینا چاہتا ہوں کہ وہ نفرت اور تقسیم کے بجائے امن کی ثقافت سے جنم لینے والے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کریں۔!

    انھوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے ساتھ لبنان کے ایک مسلمان بچے کی تصویر رکھتے ہیں جسے گزشتہ سال وہاں کے دورے کے دوران ’ویلکم پوپ لیو‘ کا پلے کارڈ تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

    پوپ نے کہا کہ ’جنگ کے اس حالیہ مرحلے میں وہ بچہ ہلاک ہو گیا۔‘

  4. اسرائیل لبنان جنگ بندی میں توسیع کے باوجود تیل کی قیمتوں میں تاحال کمی نہ آ سکی

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں پر دباؤ میں کمی کی توقع کی جا رہی تھی تاہم جمعے کے روز ایشیا میں تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ سامنے آیا۔

    عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کی قیمت میں 0.7 فیصد اضافہ ہوا جو تقریباً 105.80 ڈالر فی بیرل ہے جبکہ امریکہ میں فروخت ہونے والے تیل کی قیمت 0.6 فیصد بڑھ کر 96.50 ڈالر ہو گئی۔

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ نے امریکہ اور ایران کے درمیان نازک جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ امریکہ اس وقت تک حملے روکے رکھے گا جب تک ایران ’متفقہ تجویز‘ پیش نہیں کرتا۔

    ان حالات میں تیل کی قیمتیں مسلسل اوپر کی جانب جا رہی ہیں۔ یاد رہے کہ اس دوران آبنائے ہرمز سے ترسیلات اب بھی بڑی حد تک معطل ہیں، جس کے باعث عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔

  5. ایران پر ورلڈ کپ میں شرکت کی پابندی نہیں: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران پر ورلڈ کپ میں شرکت کی پابندی نہیں تاہم اگر ایران شرکت نہیں کرتا تو یہ اس کا اپنا فیصلہ ہوگا۔

    اوول آفس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے کسی بھی ایرانی کھلاڑیوں کو یہ نہیں کہا گیا کہ وہ اس موسمِ گرما میں امریکا بھر میں ہونے والے ورلڈ کپ میچوں میں شرکت نہیں کر سکتے۔

    مارکو روبیو کے مطابق یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ ایران شاید ورلڈ کپ میں شرکت نہ کرے اور اس کی جگہ اٹلی شامل ہو جائے،

    انھوں نے مزید کہا کہ کہا کہ ورلڈ کپ میں ایران کی شرکت کا مسئلہ اس کے کھلاڑی نہیں بلکہ وہ کچھ افراد ہیں جنھیں وہ اپنے ساتھ لے کر آئے گا۔

    انھوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’جس چیز کی ان پر پابندی ہے وہ یہ ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے دہشت گردوں کے ایک گروہ کو صحافی اور ایتھلیٹک ٹرینرز ظاہر کرتے ہوئے ہمارے ملک میں لائیں۔‘

  6. لبنان میں مکمل جنگ بندی نہیں، اقوام متحدہ میں اسرائیلی مندوب کا دعویٰ

    اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیرڈینی ڈینن نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنانی حکومت کا حزب اللہ پر کوئی کنٹرول نہیں ہے اور نئی توسیع شدہ جنگ بندی کے باوجود لبنان حزب اللہ کے حملوں کو مکمل طور پر نہیں روک سکے گا۔

    سی این این کے ساتھ ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’حزب اللہ جنگ بندی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش میں راکٹ داغ رہی ہے جس کے جواب میں اسرائیل کو جوابی کارروائی کرنا ہوتی ہے۔ جب بھی ہمیں کوئی خطرہ نظر آتا ہے، ہم کارروائی کرتے ہیں۔‘

    ان کے یہ تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں کہ جب امریکا میں اسرائیل اور لبنان کے سفیروں نے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی جہاں ٹرمپ نے 10 روزہ جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کا اعلان کیا۔

    انھوں نے نئے معاہدے کے حوالے سے کہا کہ ’یہ سو فیصد نہیں ہے۔ مجھے امید ہے کہ لبنانی فوج اس جنگ بندی کو حقیقت میں نافذ کرنے اور اس پر عمل کرانے کے قابل ہو گی۔‘

  7. اسرائیلی فوج کا لبنان کی جانب سے کیے گئے حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان کی جانب سے کیے گئے حملوں کو ناکام بنا دیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق اس کی فضائیہ نے لبنان سے داغے گئے کئی گولوں کو روک لیا اس دوران شٹولا کے علاقے میں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔

    یاد رہے کہ حزب اللہ نے ٹیلیگرام پر اپنے پیغام میں شٹولا پر راکٹ حملے کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

    یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب لبنانی قومی میڈیا کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن ڈی سی میں مذاکرات جاری تھے۔

    تاہم بعد میں اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے شٹولا کی جانب داغے جانے والے راکٹ لانچر کو نشانہ بنایا ہے۔

  8. اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے۔

    جمعے کے روز خبروں کا سلسلہ آگے بڑھانے سے قبل ہم گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصے پر نگاہ ڈالتے چلیں۔

    • ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور مرکزی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ایرانی قیادت سخت گیروں اور اعتدال پسندوں میں بٹی ہوئی نہیں ہے بلکہ یہ متحد ہے۔یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب اس سے چند گھنٹے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی قیادت دھڑوں کی اندرونی کشمکش کا شکار ہے۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھیں ایران کے ساتھ معاہدے کی ’کوئی جلدی نہیں‘ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایران میں جوہری ہتھیار استعمال نہیں کریں گے کیونکہ امریکہ اپنے فوجی اہداف روایتی ہتھیاروں سے حاصل کر چکا
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کر دی گئی ہے۔
    • اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے اور اسے ’تاریکی اور پتھر کے دور‘ میں واپس دھکیل سکتا ہے۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق اپنی دھمکیوں کے بارے میں بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’میں جو کچھ بھی کر رہا ہوں، اس کے نتائج بظاہر بہت اچھے آ رہے ہیں۔ نیٹو کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ کو ’ان کی بالکل ضرورت نہیں تھی‘، لیکن یہ کہ انھیں ’وہاں ہونا چاہیے تھا‘۔
    • لبنان میں ہلاک ہونے والی صحافی امل خليل کی آخری رسومات میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ ان کا تابوت لبنانی پرچم میں لپٹا ہوا تھا اور وہاں ان کی نیلی ہیلمٹ اور جیکٹ بھی پڑی تھی جن پر پریس درج تھا۔
    • ایرانی ذرائع ابلاغ نے دارالحکومت تہران میں فضائی دفاعی نظام کی طرف سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاع دی ہے۔ ارنا کے مطابق ’طیارہ شکن فائرنگ‘ کی اطلاعات تہران کے مغربی اور مشرقی دونوں حصوں سے موصول ہوئی ہیں۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ انھوں نے امریکی بحریہ کو حکم دیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کے شبہ میں کسی بھی چھوٹی کشتی کو ’نشانہ بنا کر تباہ‘ کر دیا جائے، اور اس حوالے سے کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہ برتی جائے
    • امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد سے اس نے 31 جہازوں کو واپس مڑنے یا بندرگاہ لوٹنے کا حکم دیا ہے
  9. ٹرمپ کا لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کا اعلان

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کر دی گئی ہے۔

    ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت اوول آفس میں اسرائیلی اور لبنانی حکام کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے۔

    اس ملاقات میں نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو بھی شریک تھے۔ اپنے اعلان میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ ملاقات ’انتہائی کامیاب‘ رہی۔

    انھوں نے لکھا ’امریکہ لبنان کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ اسے حزب اللہ سے تحفظ حاصل کرنے میں مدد دی جائے۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ اس ’نہایت تاریخی ملاقات‘ میں شریک ہونا ان کے لیے ’بڑے اعزاز‘ کی بات ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ مستقبل میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون کی میزبانی کے منتظر ہیں۔

  10. وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کی لبنانی اور اسرائیلی نمائندوں سے ملاقات متوقع

    ایک امریکی اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جلد وائٹ ہاؤس میں لبنانی اور اسرائیلی نمائندوں سے ملاقات کریں گے۔ ٹرمپ انتظامیہ کو امید ہے کہ اس ملاقات کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی میں توسیع ہو گی۔

    وائٹ ہاؤس متعدد مرتبہ کہہ چکا ہے کہ وہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان کسی بھی جنگ بندی کو ایران کے تنازع سے الگ سمجھتا ہے۔ اس کے برعکس ایران نے یہ عندیہ دیا ہے کہ وہ لبنان کو کسی بھی مذاکراتی عمل کا ایک اہم حصہ تصور کرتا ہے۔

    ملاقات کو آخری وقت میں وائٹ ہاؤس منتقل کیا گیا۔ یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ انتظامیہ نے مذاکرات کے دوسرے مرحلے کو خاص اہمیت دی ہے۔ اس سے قبل صدر کی موجودگی، حتیٰ کہ مختصر طور پر بھی، متوقع نہیں تھی۔

    ٹرمپ پہلے ہی اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کو اپنی نظر میں ختم کی گئی 10ویں جنگ قرار دے چکے ہیں۔ تاہم اس دعوے پر وسیع پیمانے پر اختلاف پایا جاتا ہے۔

    یہ بھی واضح نہیں ہے کہ اس ملاقات کا کیا نتیجہ نکلے گا، خاص طور پر اس تناظر میں کہ حزب اللہ اس ملاقات پر ناراضی کا اظہار کر چکی ہے اور اسرائیلی فوج اب بھی جنوبی لبنان کے بعض علاقوں پر قابض ہے۔

    تاہم درست سمت میں اٹھایا جانے والا کوئی بھی مثبت قدم اس وقت ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایک کامیابی کے طور پر پیش کیے جانے کا امکان رکھتا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ ایران کے ساتھ اس کے آئندہ مذاکرات کب ہوں گے یا جنگ بندی کب تک برقرار رہے گی۔

  11. ایران میں جوہری ہتھیار استعمال نہیں کروں گا: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران میں جوہری ہتھیار استعمال نہیں کریں گے کیونکہ امریکہ اپنے فوجی اہداف روایتی ہتھیاروں سے حاصل کر چکا ہے۔

    جب ایک رپورٹر نے ان سے پوچھا کہ آیا وہ ایران میں جوہری ہتھیار استعمال کریں گے تو ٹرمپ نے کہا ’مجھے اس کی ضرورت ہی کیوں پڑے گی؟‘۔ انھوں نے اس سوال کو ’احمقانہ‘ قرار دیا۔

    انھوں نے مزید کہا ’میں جوہری ہتھیار کیوں استعمال کروں جب ہم نے روایتی طریقے سے، اس (جوہری ہتھیاروں کے) کے بغیر ہی، انھیں مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے؟‘

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا ’جوہری ہتھیار کسی کو بھی استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔‘

    اس کے بعد صدر نے دیگر موضوعات پر بھی کئی سوالات کے جواب دیے جس کے بعد صحافیوں کو اوول آفس سے باہر جانے کو کہا گیا۔

  12. ٹرمپ کو ایران کے ساتھ معاہدے کی ’کوئی جلد نہیں‘

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جنگ کی مدت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے ایرانی نظام اور اب تک کے تنازع سے متعلق اپنے پہلے سے دہرائے جانے والے نکات ہی دوبارہ بیان کیے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انھیں ایران کے ساتھ معاہدے کی ’کوئی جلدی نہیں‘ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنے 75 فیصد اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے تاہم جنگ بندی کی وجہ سے کارروائی روک دی گئی ہے۔ ان کے مطابق ایرانی بندرگاہوں کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی 100 فیصد موثر رہا ہے۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جنگ بندی میں توسیع کے ذریعے امریکہ ایران کو اس کے اندرونی ’انتشار‘ کو سلجھانے کے لیے اضافی وقت دے رہا ہے۔ ان کے مطابق وہ تنازعے کے خاتمے کے لیے کسی دباؤ میں نہیں اور ایران کے ساتھ ’بہترین معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو امریکہ کنٹرول کرتا ہے اور جب ایران معاہدہ کرے گا تو یہ اہم تجارتی گزرگاہ کھول دی جائے گی۔ صدر نے مزید کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ جنگ بندی کے دوران ایران تیل کی فروخت سے سینکڑوں ملین ڈالر کمائے۔

    ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا امریکی شہریوں کے لیے پیٹرول کی قیمت بڑھے گی۔

    صدر نے اس سوال کا براہِ راست جواب نہیں دیا اور کہا ’اور آپ جانتے ہیں کہ بدلے میں انھیں کیا ملتا ہے؟ آپ جانتے ہیں کہ انھیں اس کے بدلے کیا ملتا ہے؟ ایک ایسا ایران جس کے پاس جوہری ہتھیار نہیں اور جو ہمارے کسی شہر کو یا پورے مشرقِ وسطیٰ کو اڑانے کی کوشش نہ کرے۔‘

    اس کے بعد انھوں نے گفتگو کا رُخ سٹاک مارکیٹ کی طرف موڑ دیا اور پھر دوبارہ تیل کی قیمتوں پر آ گئے۔

    ان کا کہنا تھا ’میں نے سوچا تھا کہ تیل شاید 200 ڈالر فی بیرل تک چلا جائے گا اور تیل کی قیمت کسی بھی اندازے سے بالکل مختلف رہی ہے۔ درحقیقت اس ملک میں قیمتیں کہیں کم ہیں کیونکہ ہمارے پاس ضرورت سے کہیں زیادہ تیل موجود ہے۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ اب دنیا بھر سے جہاز تیل حاصل کرنے کے لیے امریکہ آ رہے ہیں۔

  13. بریکنگ, ایران کے پاس وقت کم ہے: ٹرمپ

    امریکی صدر ٹرمپ نے ذرائع ابلاغ میں ایسی اطلاعات کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ جنگ ختم کرنے کے لیے ’بے چین‘ ہیں۔

    انھوں نے ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں لکھا کہ ’میرے پاس دنیا جہاں کا وقت ہے لیکن ایران کے پاس نہیں۔ وقت کم ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ معاہدہ اسی صورت ہو گا اگر یہ امریکہ، اس کے اتحادیوں اور پوری دنیا کے لیے ’اچھا‘ اور ’مناسب‘ ہو گا۔

  14. لاہور کے بِگ سٹی ٹاور میں آگ لگنے کے بعد آپریشن جاری

    لاہور کے بِگ سٹی ٹاور میں آگ لگنے کے بعد آپریشن جاری

    ،تصویر کا ذریعہRESCUE 1122

    پاکستان میں صوبہ پنجاب میں ریسکیو سروسز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ لاہور کے علاقے گلبرگ میں لبرٹی چوک کے قریب بگ سٹی ٹاور پر لگنے والی آگ کو محدود کر لیا گیا ہے۔

    ایک بیان میں فاروق احمد کا کہنا تھا کہ بگ سٹی ٹاور کی 12ویں منزل پر فائر کی کال موصول ہونے کے بعد سے وہاں آپریشن جاری ہے۔ ’ریسکیو 1122 کی 14 فائر و ایمرجنسی وہیکل، سپشلائزڈ سنارکل اور 50 فائر فائٹرز آپریشن میں مصروف ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ 12ویں منزل پر ریسکیور خصوصی سنارکل سے فائر و ریسکیو آپریشن کر رہے ہیں۔

    تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

  15. بریکنگ, تہران میں فضائی دفاعی نظام کی طرف سے فائرنگ کی اطلاعات

    ایرانی ذرائع ابلاغ نے دارالحکومت تہران میں فضائی دفاعی نظام کی طرف سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاع دی ہے۔

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ’طیارہ شکن فائرنگ‘ کی اطلاعات تہران کے مغربی اور مشرقی دونوں حصوں سے موصول ہوئی ہیں۔

    پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ خبر رساں ایجنسی مہر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’تہران کے بعض علاقوں میں دشمن اہداف کے مقابلے کے لیے فضائی دفاعی نظام کی آوازیں سنی گئیں۔‘

    بی بی سی نے بھی تہران میں موجود افراد سے بات کی ہے جنھوں نے بتایا کہ انھوں نے ایسی آوازیں سنیں جنھیں وہ فضائی دفاعی نظام سے منسوب کرتے ہیں۔

    فی الحال صورتحال واضح نہیں ہے۔ تاہم جیسے ہی مزید معلومات سامنے آئیں گی ہم آگاہ کریں گے۔

  16. قالیباف اور پزشکیان کی جانب سے ٹرمپ کے دعوے کی تردید: ’ایرانی قیادت سخت گیروں اور اعتدال پسندوں میں منقسم نہیں‘

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور مرکزی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور مرکزی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ایرانی قیادت سخت گیروں اور اعتدال پسندوں میں بٹی ہوئی نہیں ہے بلکہ یہ متحد ہے۔

    یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب اس سے چند گھنٹے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی قیادت دھڑوں کی اندرونی کشمکش کا شکار ہے۔

    اس سے پہلے ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا کہ ایران کو یہ طے کرنے میں ’بہت مشکل پیش آ رہی ہے کہ اس کا لیڈر کون ہے۔‘

    ٹرمپ نے لکھا کہ ’وہ بس جانتے ہی نہیں‘ اور دعویٰ کیا کہ ملک میں ’انتہائی پاگل پن‘ پر مبنی اندرونی لڑائی جاری ہے جس میں ’سخت گیر‘ اور ’اعتدال پسند‘ دھڑے آمنے سامنے ہیں۔

    پزشکیان اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر قالیباف کہتے ہیں کہ ایران میں ’نہ کوئی انتہا پسند ہیں اور نہ ہی اعتدال پسند۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے ’ہم سب ’ایرانی‘ اور ’انقلابی‘ ہیں، قوم و حکومت کی فولادی یکجہتی کے ساتھ اور رہبر اعلیٰ کی مکمل اطاعت کے ساتھ۔‘

    بیان کے مطابق ’ہم جارحیت کرنے والے مجرم کو اس کے اقدامات پر پچھتانے پر مجبور کر دیں گے۔‘

  17. لبنان: اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والی صحافی کی آخری رسومات میں ہزاروں افراد کی شرکت, ہیوگو بچیگا، بی بی سی

    لبنان: اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والی صحافی کی آخری رسومات میں ہزاروں افراد کی شرکت

    ،تصویر کا ذریعہEPA/SHUTTERSTOCK

    لبنان میں ہلاک ہونے والی صحافی امل خليل کی آخری رسومات میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ ان کا تابوت لبنانی پرچم میں لپٹا ہوا تھا اور وہاں ان کی نیلی ہیلمٹ اور جیکٹ بھی پڑی تھی جن پر پریس درج تھا۔

    گھروں کی چھتوں اور بالکونیوں سے سیاہ لباس میں ملبوس خواتین نے پھول نچھاور کیے۔ صحافی برداری نے ’اسرائیل کے ہاتھوں مارے جانے والی‘ ایک اور صحافی کا سوگ منایا۔

    جنوبی لبنان کے علاقے بَیصاریّہ میں اس جنازے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ لوگ ان کی مسکراتی ہوئی تصویر والے پوسٹر اٹھائے ہوئے تھے، دعائیہ کلمات پڑھ رہے تھے اور رو رہے تھے۔ فائرنگ اور آتش بازی کے ذریعے ان کی زندگی کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

    لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے امل خلیل کو جان بوجھ کر اس وقت نشانہ بنایا جب وہ جنوبی لبنان میں ایک فضائی حملے کے بعد پناہ تلاش کر رہی تھیں۔ اور یہ کہ اس کے بعد اسرائیلی فوج نے ’دانستہ طور پر ایک ایمبولینس کو بھی نشانہ بنایا تاکہ وہ ان تک نہ پہنچ سکے۔‘ اسرائیل ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ صحافیوں کو نشانہ نہیں بناتا اور اس معاملے کا جائزہ لے رہا ہے۔

    کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق اس جنگ کے دوران لبنان میں اسرائیل کم از کم سات دیگر صحافیوں کو ہلاک کر چکا ہے جبکہ اس سے قبل یہاں اور غزہ میں درجنوں صحافی مارے جا چکے ہیں۔

    خلیل کے دوست اور ساتھی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ان کے مطابق ماضی میں لبنان میں اسرائیل کے ہاتھوں مارے جانے والے صحافیوں کے لیے کبھی انصاف نہیں مل سکا۔

    لبنان میں صحافیوں کی یونین کی سربراہ ایلسی موفرّج نے کہا کہ ’امل ایک غیر معمولی صحافی تھیں۔ ہم اس ناانصافی کو محسوس کرتے ہیں جو صحافیوں کو نشانہ بنانے کے ان تمام واقعات میں درج ہے۔ ہم اب بھی انصاف کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں لیکن اب تک ہمیں انصاف نہیں ملا۔‘

    آخری مرتبہ تالیاں بجانے کے بعد امل کی میت اسی سرزمین میں دفن کی گئی جس سے وہ محبت کرتی تھیں۔ وہی زمین جہاں ایک اسرائیلی حملے نے ان کی جان لی۔

  18. ایران کے خلاف امریکی ناکہ بندی: ’اب تک 33 جہازوں کو واپس بھیجا گیا‘

    ایران کے خلاف امریکی ناکہ بندی

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے آغاز سے اب تک اس نے مجموعی طور پر 33 بحری جہازوں کا رُخ موڑا ہے۔

    یہ تازہ معلومات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کی گئی ہیں۔ اس سے قبل جمعرات کے روز امریکی فوج نے کہا تھا کہ اس وقت تک 31 جہازوں کو واپس موڑا جا چکا ہے۔

    امریکہ نے آج یہ بھی اعلان کیا ہے کہ اس نے پابندیوں کی زد میں آنے والے ایک بحری جہاز کو روکا اور اس کی تلاشی لی ہے۔ اس کے بقول یہ جہاز ایران سے تیل منتقل کر رہا تھا۔

  19. اسرائیل امریکہ کی اجازت کا منتظر ہے، ایران کو پتھر کے دور میں بھیج دیں گے: اسرائیلی وزیر دفاع

    اسرائیل کاٹز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے اور اسے ’تاریکی اور پتھر کے دور‘ میں واپس دھکیل سکتا ہے۔

    اسرائیل کاٹز کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج ’امریکہ کی جانب سے گرین لائٹ کا انتظار کر رہی ہے، سب سے بڑھ کر خامنہ ای خاندان کے مکمل خاتمے کے لیے۔‘

    خیال رہے کہ ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای جنگ کے پہلے دن امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔

    انھوں نے ایران میں توانائی اور معاشی ڈھانچے پر حملہ کر کے ایران کو ’تاریکی اور پتھر کے دور‘ میں بھیجنے کی بھی دھمکی دی۔

    کاٹز کے مطابق ’اس بار حملہ مختلف اور مہلک ہوگا۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ مقامات پر تباہ کن ضربیں لگائی جائیں گی جو اس کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیں گی اور انھیں منہدم کر دیں گی۔‘

    یہ بیان اپریل کے اوائل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس دھمکی جیسا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اگر ایران جنگ کے خاتمے کے لیے کسی ’قابلِ قبول‘ معاہدے تک نہ پہنچا تو اس پر بمباری کر کے اسے ’پتھر کے دور‘ میں بھیج دیا جائے گا۔

  20. تہران میں پیسوں کی کمی ہے اور روزمرہ زندگی پر دوبارہ جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں, لیز ڈوسٹ، بی بی سی تہران

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تہران میں ایک روشن بہار کے دن، سنیعی غزنوی سٹریٹ، جہاں کریانے اور گھریلو سامان بیچنے والی دکانیں فاسٹ فوڈ اور پھولوں سے بھری ہیں، ایک معمول کی جگہ دکھائی دیتی ہے۔

    ایسے ملک میں جہاں زندگیاں طویل عرصے سے بحرانوں کی زد میں رہی ہیں، یہ اس عوام کی ایک جھلک ہے جو محض دن گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ ان کا مستقبل ان قوتوں کے ہاتھ میں ہے جو ان کے قابو سے باہر ہیں۔

    محمد کے لیے، جو ٹی شرٹ اور جینز میں ملبوس ہیں، اپنے خاندان کی جوتوں کی دکان کا دھاری دار سائبان اوپر اٹھانا بھی امید کا ایک عمل ہے۔

    جب ہم ان کی چھوٹی سی دکان میں داخل ہوتے ہیں جہاں فرش سے چھت تک بڑے اور چھوٹے سپورٹس جوتوں کی شیلفیں لگی ہیں، وہ ہمیں بتاتے ہیں ’یہاں ہونا مجھے خوشی دیتا ہے۔ اتنے زیادہ لوگوں نے اپنی نوکریاں کھو دی ہیں اور کام نہیں کر رہے۔‘

    اور گاہک بھی بہت کم ہیں۔

    ان کے والد مصطفیٰ افسردگی سے شکوہ کرتے ہیں، ’پہلے ہمارے پاس بہت سے گاہک ہوتے تھے‘ اور فخر سے بتاتے ہیں کہ یہ کاروبار چالیس برس سے ان کے خاندان میں ہے۔

    ایک ایرانی ویب سائٹ، عصرِ ایران، نے حال ہی میں ایک غیر سرکاری اندازے کا حوالہ دیا جس کے مطابق جنگ اور حکومت کی جانب سے تقریباً مکمل انٹرنیٹ بندش کے مشترکہ اثر سے چالیس لاکھ تک نوکریاں ختم ہو چکی ہیں یا متاثر ہوئی ہیں۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قریبی کونے کی دکان کے باہر، شہلا، ایک معمر خاتون جو ہلکے رنگ کا سکارف پہنے ہوئے ہیں، خریداری کی فہرست کو تھامنے والے کلپ بورڈ پر روٹی کا تھیلا رکھے ہوئے ہیں، جس کے ساتھ نوٹوں کی ایک گڈی بھی رکھی ہے۔

    وہ ہمیں گزرتے دیکھ کر ٹھٹھک جاتی ہیں اور اپنی رائے پیش کرتی ہیں۔

    وہ شکوہ کرتی ہیں، ’اب لوگ ایک روٹی کے لیے تین گنا زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں، لوگ صرف روٹی خریدنے کے لیے جہنم سے گزر رہے ہیں۔‘

    شہلا واضح کرتی ہیں، ’جو لوگ خوشحال ہیں، ان کے لیے تو ٹھیک ہے، لیکن کم آمدنی والوں کے لیے حالات بہت مشکل ہیں۔‘

    جب میں ان سے مذاکرات کاروں کے لیے پیغام پوچھا تو وہ کہتی ہیں: ’بس اب بہت ہو گیا۔ اسے روک دیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس سے ہمارے لیے کچھ اچھا نکلے گا، کیونکہ ٹرمپ تو بس لوگوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔‘

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA