اب یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ اسلام
آباد کے دورے پر آئے ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے وزیر اعظم اور فوج کے
سربراہ سے ملاقاتیں کی ہیں۔
ایران نے ان ملاقاتوں کو دو طرفہ بات
چیت قرار دیا ہے، تاہم توقع یہی کی جا رہی ہے کہ ان کا تعلق جنگ سے ہے، جس میں
پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
کیا اس میں کسی قسم کی پیش رفت ہو
گی؟ اس حوالے سے اب تک کچھ واضح نہیں۔
اگر امریکی وفد آئندہ چند گھنٹوں میں
واشنگٹن سے روانہ ہوتا بھی ہے تو وہ اتوار سے پہلے اسلام آباد نہیں پہنچ سکے گا۔
ایرانی وفد نے پاکستان کے بعد عمان اور روس جانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا وہ امریکی ایلچیوں
کا انتظار کریں گے؟
امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران بالمشافہ
بات چیت چاہتا ہے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ براہ راست ملاقات کا کوئی منصوبہ
نہیں۔ اس وقت دونوں کے درمیان اعتماد اور اتفاق کی اس قدر کمی ہے کہ وہ اس نکتے پر
بھی یکساں رائے نہیں رکھتے۔
دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف پر سختی
سے قائم نظر آتے ہیں۔ بظاہر اس بات کا بھی کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ امریکہ ایرانی
بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے معاملے پر اپنے مؤقف میں نرمی لانے کو تیار ہے، یا
ایران اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں مؤقف تبدیل کرنے پر آمادہ ہے۔
ایسے
میں دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کرانے والے پاکستان کو کسی متفقہ نکتے کی تلاش
میں دباؤ کا سامنا ہے۔