امریکی رپورٹ، ایرانی ردعمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک حالیہ امریکہ رپورٹ کے مطابق ایران نے اپنا جوہری پروگرام دو ہزار تین میں معطل کر دیا تھا۔ یہ اس رپورٹ پر کچھ ایرانیوں کا ردعمل ہے۔
مغرب میں لوگ زیادہ تر اسرائیلی سوچ سے متاثر ہیں۔ ذاتی طور پر میرا اسرائیلیوں سے کوئی تضاد نہیں ہے۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے پوری دنیا کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ ان کے خلاف بات کرنے والا ہمیشہ برا بن جاتا ہے۔ میرے خیال میں ایران کو جوہری ہتھیاروں کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ امریکہ کبھی ایران پر حملہ کرے گا۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ اس رپورٹ کو صدر احمدی نژاد کی وجہ سے کتنی تقویت ملی ہے۔ ان کے زیادہ تر اقدام یہاں ایران میں کافی متضاد رہے ہیں۔ میرے خیال میں ملک کی اکثریت ان کو پسند نہیں کرتی حالانکہ مجھے وہ پسند ہیں۔ یہ بات تو صاف ہے کہ اس رپورٹ سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ ایران کا موقف ہمیشہ صحیح تھا۔ اب تک بین الاقوامی برادری نے ایران کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔
جب ہمارے حکمران کہتے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا، تو مجھے ان کی بات پر یقین نہیں ہوتا۔ بیس سال تک ایران کا جوہری پروگرام خفیہ تھا۔ ہو سکتا ہے کہ دو ہزار تین میں بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے جوہری پروگرام کو معطل کر دیا گیا ہو مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے دوبارہ شروع نہیں کیا جا سکتا۔ آخر ایران نے روس کی پیشکش کو کیوں ٹھکرا دیا؟ ہمارے پاس تیل اور گیس کی کمی نہیں، ہمیں جوہری توانائی کیوں چاہیے؟ ایران کو جوہری ہتھیاروں کی کیا ضرورت ہے۔ دو سال کے بچے کو کھیلنے کے لیے ماچس نہیں دی جاتی۔ مانا اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار ہیں، مگر پچھلے تیس سال میں انہوں نے ان کا استعمال کتنی بار کیا ہے؟ یہ کہنا مشکل ہے کہ اس رپورٹ سے احمدی نژاد کو مدد ملے گی یا نہیں۔ یہاں کا روایتی طبقہ بھی ان کی پالیسیوں سے پریشان ہے۔
مجھے اپنے حکمرانوں کی بات پر بھروسہ ہے۔ واقعی جوہری ہتھیار بنانے سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں۔ مگر ہم آئی اے ای اے، اقوام متحدہ اور مغرب کے دوہرے معیاروں سے تنگ آچکے ہیں۔ایک طرف انڈیا، پاکستان اور اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار ہو سکتے ہیں، مگر ہمیں یورینیم کی افزودگی کرنے کی بھی اجازت نہیں؟ میرے خیال میں امریکہ ایران کو کنٹرول میں رکھنا چاہتا ہے کیونکہ پچھلے کچھ عرصے میں ایران خطے میں ایک سپر پاور کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ جوہری تنازعہ صرف ایک بہانہ ہے۔ |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||