BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 December, 2007, 14:02 GMT 19:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی رپورٹ، ایرانی ردعمل
ایک حالیہ امریکہ رپورٹ کے مطابق ایران نے اپنا جوہری پروگرام دو ہزار تین میں معطل کر دیا تھا۔ یہ اس رپورٹ پر کچھ ایرانیوں کا ردعمل ہے۔


مہرداد، تیل کمپنی میں ملازم، تہران:
مغرب نے ایران پر جتنے بھی الزامات لگائے ہیں، جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے میں نے ان پر کبھی بھی یقین نہیں کیا۔ مجھے شروع سے اپنے رہنماؤں پر یقین رہا ہے۔

مغرب میں لوگ زیادہ تر اسرائیلی سوچ سے متاثر ہیں۔ ذاتی طور پر میرا اسرائیلیوں سے کوئی تضاد نہیں ہے۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے پوری دنیا کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ ان کے خلاف بات کرنے والا ہمیشہ برا بن جاتا ہے۔

میرے خیال میں ایران کو جوہری ہتھیاروں کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ امریکہ کبھی ایران پر حملہ کرے گا۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ اس رپورٹ کو صدر احمدی نژاد کی وجہ سے کتنی تقویت ملی ہے۔ ان کے زیادہ تر اقدام یہاں ایران میں کافی متضاد رہے ہیں۔ میرے خیال میں ملک کی اکثریت ان کو پسند نہیں کرتی حالانکہ مجھے وہ پسند ہیں۔

یہ بات تو صاف ہے کہ اس رپورٹ سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ ایران کا موقف ہمیشہ صحیح تھا۔ اب تک بین الاقوامی برادری نے ایران کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔

ہاروت، مترجم، تہران:
اس رپورٹ سے مجھے کافی تشویش ہوئی ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ امریکہ عراق والی غلطیاں کبھی ایران میں دہرائے گا۔ مجھے تشویش ہے کہ اسرائیل اکیلے ہی ایران پر حملہ نہ کر دے۔

جب ہمارے حکمران کہتے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا، تو مجھے ان کی بات پر یقین نہیں ہوتا۔ بیس سال تک ایران کا جوہری پروگرام خفیہ تھا۔

ہو سکتا ہے کہ دو ہزار تین میں بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے جوہری پروگرام کو معطل کر دیا گیا ہو مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے دوبارہ شروع نہیں کیا جا سکتا۔

آخر ایران نے روس کی پیشکش کو کیوں ٹھکرا دیا؟ ہمارے پاس تیل اور گیس کی کمی نہیں، ہمیں جوہری توانائی کیوں چاہیے؟ ایران کو جوہری ہتھیاروں کی کیا ضرورت ہے۔ دو سال کے بچے کو کھیلنے کے لیے ماچس نہیں دی جاتی۔

مانا اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار ہیں، مگر پچھلے تیس سال میں انہوں نے ان کا استعمال کتنی بار کیا ہے؟

یہ کہنا مشکل ہے کہ اس رپورٹ سے احمدی نژاد کو مدد ملے گی یا نہیں۔ یہاں کا روایتی طبقہ بھی ان کی پالیسیوں سے پریشان ہے۔


رامن، اقتصادی تجزیہ کار، تہران:
میرے خیال میں یہ رپورٹ مغرب اور ایران کے درمیان تعلقات کے لیے ایک اہم موڑ ہے۔ اب ایران پر امریکی حملہ کا کوئی بھی جواز باقی نہیں رہ گیا ہے۔ یہاں تک کہ اب اقتصادی پابندیوں کے لیے بھی کوئی جواز نہیں۔ اب اس مسئلے کو ایک بار پھر آئی اے ای اے کے حوالے کر دیا جانا چاہیے۔

مجھے اپنے حکمرانوں کی بات پر بھروسہ ہے۔ واقعی جوہری ہتھیار بنانے سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں۔

مگر ہم آئی اے ای اے، اقوام متحدہ اور مغرب کے دوہرے معیاروں سے تنگ آچکے ہیں۔ایک طرف انڈیا، پاکستان اور اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار ہو سکتے ہیں، مگر ہمیں یورینیم کی افزودگی کرنے کی بھی اجازت نہیں؟

میرے خیال میں امریکہ ایران کو کنٹرول میں رکھنا چاہتا ہے کیونکہ پچھلے کچھ عرصے میں ایران خطے میں ایک سپر پاور کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ جوہری تنازعہ صرف ایک بہانہ ہے۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
سعید جلیلیمزید پابندیاں؟
جوہری مذاکرات ناکام، پابندیوں کا تیسرا مرحلہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد